دریائے جہلم کے کنارے آباد علمی و تاریخی قصبے کی روح پرور اور معلومات افروز روداد
بھیرہ شہر سے ملاقات حقیقی طور پر چونکانے والی اور روحانی و جمالیاتی حسیات بیدار کرنے والی تھی ۔
’’ ادارہ ہست و نیست‘‘ لاہور نے یہ سیاحتی دورہ ترتیب دے کر اپنے ہم وطنوں کو اپنی تاریخ و تہذیب اور زمین سے جوڑنے کے عمل کو اور آگے بڑھایا ہے ۔ ان کی کوششوں کوبہت سلام ممنونیت ۔
میرے ذہن میں بھیرہ کا سب سے بڑا تاثر ’’سنگم‘‘لفظ کے تحت آیا ۔سنگم یعنی دو وجودوں یا کیفیات کو ملانے کا عمل ۔ آپ سطح مرتفع سے اتر کر ہموار میدانوں سے ملاقات کرتے ہیں تو ’’بھیرہ‘‘ اس سنگم پر آپ کا استقبال کرتا ہے۔
جہلم دریاخود بھی اس سنگم کی علامت ہے کہ ’’معدوم‘‘اور’’ معلوم‘‘ بھیرہ میں حد فاصل ہے ۔
بھیرہ موٹروے ریسٹ ایریا سے آپ صرف دس منٹ میں اپنے آپ کو بھیرہ شہر میں پاتے ہیں ۔ موجودہ بھیرہ دریائے جہلم کے بائیں کنارے پر آباد ہے اور اسے غالباشیر شاہ سوری نے آباد کیا تھا۔
البتہ قدیم بھیرہ جس کے اب صرف جہلم کے
دائیں کنارے پر آثار ملتے ہیں،سکندر اعظم کے دور میں بھی آباد تھا۔
شیر شاہ سوری کے نام سے موسوم ایک عظیم مسجد بھیرہ کی زینت ہے۔ یاد رہے کہ یہ پانچ سو سال پرانی مسجد ،عالمگیری مسجد لاہور سے پہلے تعمیر ہوئی تھی۔
مسجد سے منسلک بگویہ لائبریری، آڈیٹوریم اور علمی ادارہ ایک علمی خانوادے کی عظیم جدوجہد کی داستان سناتے ہیں۔ اس خاندان کے ایک قابل فرزند، ڈاکٹر انوار احمد بگوی صاحب ( کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ) کی کئی جلدوں میں تصنیف کردہ ’’تذکار بگویہ‘‘ اس داستان کا تحریری ثبوت پیش کرتی ہے۔
مسجد کے وسیع ہال میں کھڑے ہو کر تیمور خان کے اس کے طرز تعمیر پر تبصرہ سننا ازخود ایک منفرد علمی تجربہ تھا۔ مسجد کے گنبد کی گولائی کس طرح نیچے اترتے ہوئے ایک آٹھ سمتی ہشت پہلو (octagon)کی شکل اختیار کرتی ہے اور پھر مزید نیچے یہ ہشت پہلو ایک مربع کا روپ دھارتا ہے….فن تعمیر کے اس معجزے پر دل عش عش کر اٹھتا ہے ۔
ہمارے تعلیمی قافلے کا ایک اہم پڑائوخانقاہ کرم شاہ/ دار العلوم محمدیہ غوثیہ تھا۔ یہ جگہ ہمارے خطے کے معروف صوفی بزرگ، جید عالم دین اور مفسر قرآن ( معروف تفسیر ضیاءالقرآن کے مصنف ) حضرت پیر کرم شاہ صاحب الازہری اور ان کے بزرگوں کی لگ بھگ سو برس کی علمی و روحانی جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔
دارالعلوم کی انتہائ دلکش طرز تعمیر کی حامل مسجد میں جسٹس پیر کرم شاہ صاحب کے صاحبزادے جناب فاروق شاہ صاحب نے دورے کے ارکان کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ ان کے ادارے کے تحت پورے ملک میں تین سو سے زائد علمی مدرسے کام کر رہے ہیں اور ان کے لیے کسی بھی بیرونی ملک سے امداد قبول نہیں کی جاتی۔
فاروق شاہ نے بتایا کہ ان کے دادا بزرگوار نے اپنی علمی لگن کے تحت تنگ و ترش حالات کے باوجود اپنے ایک بیٹے کو الازہر یونیورسٹی مصر اور دو بیٹوں کو علی گڑھ یونیورسٹی ہندوستان بھیجا۔ روانگی سے قبل انھوں نے نوجوان کرم شاہ کو ایک سربمہر خط دیا ،اس ہدایت کے ساتھ کہ اسے مصر پہنچ کر کھولا جائے۔
طویل بحری سفر کے بعد جب مصر پہنچ کر خط کھولا گیا تو اس میں تحریر تھا کہ کرم شاہ ، اگر دوران تعلیم تمہیں میری موت کی بھی خبر ملے تو بھی تعلیم مکمل کئے بغیر واپس نہ آنا۔اس عظیم جذبے کا نتیجہ ہم سب دیکھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے تھا۔
بھیرہ کے گلی کوچوں میں پھر کر پرانی عمارتوں کے طرز تعمیر اور نقش و نگار دیکھنا ایک نادر تجربہ تھا۔ ٹوٹا ہوا ویران پولیس اسٹیشن اور پوسٹ آفس، قدیم بھیرہ کے دروازے ، ہندو مندر، محلہ پراچگان میں سو سال پراناعیسی ہائوس اور چوبیس کنال رقبے میں بھیرہ کا سب سے بڑا گھر اس کی چند جھلکیاں تھیں۔
اس تاریخی سیر کے دوران ہلکی ہلکی بوندا باندی نے ارکان سیاحتی دورے کوذہنی طور پر کسی اور ہی عہد اور ماحول میں پہنچا دیا۔
چنیوٹ کی طرح بھیرہ بھی لکڑی کے منقش و مرصع فرنیچر، دروازوں اور دیگر مصنوعات مثلالکڑی کی کنگھیوں وغیرہ کے لیے اپنی مثال آپ رہا ہے۔
کشمیر سے اعلی پائے کا دیارجہلم دریا میں تیرتا پنپتاہوا بھیرہ پہنچتا اور یہاں ہنر مند ہاتھ اس پر نقشکاری کا ایسا معجزہ برپا کرتے کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ۔ محلہ پراچگان، محلہ خواجگان، محلہ شیخاں و محلہ آبکاری وغیرہ میں ایسے کئی فن پارے آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں ۔
رنگ ہو یا خشت و سنگ ، چنگ ہو یا حرف و صوت
معجز ہ فن کی ہے خون جگر سے نمود
( اقبال)
ہمارے گائیڈ، حافظ عرفان نے اپنے دلکش انداز میں بھیرہ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ قیام پاکستان کے وقت قصبے میں ہندو آبادی ستر فیصد اور مسلم آبادی تقریبا”تیس فیصد تھی۔ انھوں نے بتایا کہ مغربی ملکوں میں آباد بہت سے ہندو سیاح ( مثلا معروف کوہلی ہندو خانوادہ) بھیرہ میں اپنے اور اپنےآباو اجداد کے گزارے ہوئے ایام کی یادیں تازہ کرنے آتے ہیں اور ہر گلی کوچے میں آنسووں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
بھیرہ کے دورے کا ایک دلچسپ حصہ ایک پرانےہندو مندر سے ملحقہ احاطے میں بنے اکھاڑے میں دیسی کشتی دیکھنے کا تجربہ تھا۔ اکھاڑے کے استاد، یسین پہلوان بظاہر غیر تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ہماری روایتی دانائی کی دولت سے مالامال تھے ۔
انھوں نے دیسی کشتی کے فن کی پس پردہ نظریاتی سوچ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہم اس فن کو سنت پیغمبر صل اللہ علیہ وسلم اور روایت سیدنا علی مرتضیؓ شیر خدا کے طور پر اپناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اکھاڑے کو ایک مقدس جگہ تصور کرتے اور جوتے سمیت اس میں داخل ہونے کو گناہ سمجھتے ہیں۔
استاد یسین نے مزید کہا، اس فن کا ایک بابرکت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے اور اسی طرح کی بہت سے دوسرےصحت مندانہ کھیلوں سے منسلک ہو کر نوجوان نشہ آور اشیاء اور بہت سی دوسری بری عادات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ انھوں نے نئے شاگرد بنانے کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ شاگرد بننے کے لیے اور چند شرائط کے علاوہ اکھاڑے میں بیٹھ کر خاص حصے تک قرآن پاک پڑھنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
رخصت ہونے سے پہلے استاد صاحب نے اپنے شاگرد کے ساتھ کشتی کے چند داو پیچ کا عملی مظاہرہ بھی دکھایا اور بہت دلچسپ انداز میں معروف بیوروکریٹ کامران لاشاری سے کشتی چیلنج کا احوال بھی سنایا ۔
بھیرہ کے دورے کا نقطہ عروج جہلم کنارے شام کے آخری مسحورکن لمحات گزارنا اور سورج غروب ہونے کے منظر کو اپنے دل کے البم میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنا تھا۔
جناب تیمور خان ممتاز کی دلآویز صحبت ، مسحورکن مسکراہٹ اور تعمیراتی فن پر معنی خیز تبصرے”ہست و نیست “کے تمام پروگراموں کی طرح اس دورے کی بھی جان تھے۔ وہ جس جذبے اور لگن سے ان تمام پروگراموں کی باریکیاں ترتیب دیتے ہیں اور ان کے سامنے اپنے ہم وطنوں کو اپنی مٹی اور تہذیب سے آگاہ کرانے کا جو عظیم مقصد واضح ہے،وہ انتہائی قابل ستائش ہے۔ میں سب اہل ذوق ہم وطنوں کی طرف سے انہیں اس عظیم مساعی پر سلام پیش کرتا ہوں۔
ہمارے گائیڈ حافظ عرفان کی معلومات اور انداز بیان اور معاون جناب ماجد کی کمپنی نے اس دورے کی افادیت کو بہت افزوں کر دیا۔
اگر آپ بھیرہ جائیں اور بھیرہ کی کسی سوغات سے لطف اندوز ہونا چاہیں توپھینیوں کو ہرگز نہ بھولیں جو کل بھی مزے دار تھیں اور آج بھی من پسند ہیں۔
آخر میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ قدیم بھیرہ آج پھر شیر شاہ سوری کی یاد میں ایک جدید فاتح کی طرح ہمارے دل کی سرزمین پر اپنا قوی نقش چھوڑ چکا ہے ۔
یہ تحریر سینئر سائیکاٹرسٹ جناب کرنل مسعود صاحب کی فرمائش پر لکھی گئی،ان کا حوصلہ افزائی کا شکریہ ۔
(مصنف ماہر نفسیات و امراض ذہن کے طور پر واپڈا ہسپتال لاہور سے منسلک ہیں
