قدرت الہی کا عطا کردہ قیمتی تحفہ انسان کی متنازع سرگرمیوں کے سبب تباہ کن اور ہلاکت خیز بننے لگا ہے
آٹھ سالہ لورین مزے سے آرام و سکون کی نیند لے رہی تھی۔وہ آج ہی ’’کیمپ مائسٹیک ‘‘(Camp Mystic)نامی سمر کیمپ میں ڈیرھ دو ماہ قیام کرنے آئی تھی۔امریکی ریاست ٹیکساس کے وسط میں واقع یہ کیمپنگ سائٹ ایک امریکی فٹ بال کھلاڑی نے تقریباً صدی قبل دریائے گوادلوپ کے کنارے ۲۹۳ہیکٹر رقبے پر تعمیر کی تھی۔مقصد یہ تھا کہ سات تا سترہ سالہ لڑکیاں موسم گرما کی چھٹیاں ایک دوسرے کی سنگت میں ہنستے کھیلتے گذاریں۔ہمہ اقسام کے کھیل کھیلیں۔مل جل کر ہم نصابی سرگرمیاں انجام دیں۔یوں انھیں نت نئی کام سیکھنے کا سنہرا موقع ملے گا اور اعلی انسانی اقدار سے شناسائی بھی ہو گی۔
لورین ۳ جولائی ۲۵ء کی صبح والدین کے ہمراہ کیمپ مائسٹیک پہنچی تھی۔دن بھر وہ متنوع سرگرمیوں میں محو رہی۔کبھی دریا کے کنارے مچھلیاں پکڑیں۔ کبھی دریا میں کشتی چلائی۔ اردگرد سیر کر کے نباتات کا مطالعہ کیا۔پھر ہم جولیوں کے ساتھ مختلف کھیل کھیلے۔تب تک کیمپ مائسٹیک میں ۷۵۰ لڑکیاں جمع ہو چکی تھیں۔
دن بھر موسم خوشگوار رہا تھا۔ہوا میں خنکی تھی جس نے گرمی کو مار بھگایا ۔دن بھر مصروف رہنے نے لورین کو تھکا دیا تھا۔ یہ خوبصورت سی معصوم بچی اب کیمپ مائسٹیک کی دریا کنارے بنی ایک عمارت کے آرام دہ کمرے میں چین کی نیند سو رہی تھی۔ افسوس، ننھی نہیں جانتی تھی کہ اس کی زندگی برقرار رکھنے کے لیے آب حیات جیسی حیثیت رکھتا پانی عنقریب اُسے موت کے منہ میں پہنچا دے گا۔
ہوا یہ کہ تاریکی چھاتے ہی وسطی ٹیکساس میں بادل بننے لگے۔بحراوقیانوس سے آتی آبی بخارات سے لدی پھندی ہوائوں نے انھیں خوب نمی فراہم کی۔ جلد موسلادھار بارش شروع ہو گئی اور جھکڑ چلنے لگے۔ کیمپ مائسٹیک کی انتظامیہ جانتی تھی کہ موسم گرما میں وقتاً فوقتاً طوفانی بارشیں ہوتی ہیں۔ اس لیے وہ زیادہ پریشان نہ ہوئی ۔پھر اس نے حفاظتی اقدامات بھی کر رکھے تھے۔اس کے وہم وگمان میں نہ تھا کہ یہ بارش پچھلی نصف صدی میں اندرون امریکہ جنم لینے والے خوفناک ترین سیلاب کو جنم دے ڈالے گی۔
چار گھنٹے جاری رہنے والی بارش نے علاقے میں اتنا زیادہ پانی انڈیل ڈالا جو عموماً ’’چار ماہ ‘‘کی بارشوں سے آتا تھا۔ اس تباہ کن بارش نے دیکھتے ہی دیکھتے دریائے گوادلوپ کی سطح صرف پنتالیس منٹ میں ۱۰ فٹ سے۳۰ فٹ بلند کر دی۔ یوں دریا میں تیزرفتار سیلابی ریلے ( flash flood ) نے جنم لیا جو اپنی راہ میں آتی ہر شے کو خس وخاشاک کی طرح ملیامیٹ بڑھنے لگا۔
سیلابی ریلے نے دفعتہً کیمپ مائسٹیک کی عمارتوں کو جا لیا اور وہاں خوابیدہ کئی لڑکیوں کو بہا لے گیا۔ ان میں سے اکثر کنارے پر لگے درختوں سے لپٹ کر زندہ بچ گئیں مگر کیمپ میں مقیم ۲۷ لوگ بدقسمت رہے۔پانی میں ڈوب کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔انہی میں لورین بھی شامل تھی جو دنیا میں محض سات برس گذار چکی اور پیاروں کو روتا چھوڑ کر واپس اپنے رب کے پاس چلی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ خوفناک بارش ’’عالمی گرمائو ‘‘یا گلوبل وارمنگ کے عجوبے سے پیدا ہوتی عالمگیر آب و ہوائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ تھی۔ طرفہ تماشا یہ کہ امریکہ کے موجودہ صدر، ڈونالڈ ٹرمپ کا دعوی ہے، عالمی گرمائو کوئی وجود نہیں رکھتا ، یہ صرف سائنس دانوں کا ڈراما ہے۔ مگر وسطی ٹیکساس میں جنم لینے والی خوفناک بارش اور پھر اس سے پیدا شدہ زبردست سیلابی ریلے نے ثابت کر دیا کہ عالمی گرمائو تصوراتی تباہی نہیں، ایک حقیقت ہے۔ یہ سیلابی ریلا کل ۱۳۵ افراد کو نگل گیا، آٹھ اب تک لاپتا ہیں۔
مہلک سیلاب
اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کا کہنا ہے ، دنیا بھر میں آنے والے مہلک سیلاب اشارہ کرتے ہیں کہ اب ان کی فوری خبر دینے والا وسیع تر انتباہی نظام وجود میں لایا جائے۔ پچھلے ماہ جولائی میں ہمالیہ سے لے کر دیہی ٹیکساس تک آنے والے مہلک سیلابوں نے نہ صرف سینکڑوں افراد ہلاک کیے بلکہ ابتدائی انتباہی نظام میں موجود خطرناک خلابھی بے نقاب کر ڈالے۔
سیلابی ریلے جنم لینے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی گرمائو کی وجہ سے بڑھتا درجہ حرارت سمندروں، دریائوں، جھیلوں وغیرہ سے زیادہ نمی فضا میں پہنچا رہا ۔ ماہرین کی رو سے گرمی کا ہر اضافی ڈگری درجہ ہوا میں تقریباً ۷ فیصد زیادہ پانی کے بخارات شامل کر دیتا ہے۔ چناں چہ بادل آبی بخارات سے لد جاتے ہیں۔ اور جب بارش ہو تو وہ اتنی زوردار اور خوفناک ہوتی ہے کہ پانی کی زیادتی اس جگہ سیلابی ریلا پیدا کر ڈالتی ہے۔اس لیے شدید بارشیں اور گلیشیئر پھٹنے والے سیلاب تیزی سے بڑھ رہے۔ان کے باعث انسانی بستیاں تباہی کے گھیرے میں آ رہی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم سے منسلک موسمیاتی سائنس داں، اسٹیفن اوہلن بروک کہتے ہیں’’ سیلابی ریلے جنم لینا کوئی نئی بات نہیں لیکن ان کی تعداد اور شدت بہت سے خطّوں میں شہری کاری، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور بدلتی آب و ہوا کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔‘‘
سیلابوں کے باعث ہر سال ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور کثیر مالی نقصان ہوتا ہے۔ اس سال بھی یہ حملہ جاری ہے۔ صرف حالیہ جولائی میں جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مون سون کی بارشوں سے لے کر برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلابوں سے مہلک واقعات کا سلسلہ دیکھا گیا۔ بھارت اور پاکستان میں مون سون کی شدید بارشوں نے ٹرانسپورٹ روابط منقطع کر دیے، مکانات بہہ گئے اور لینڈ سلائیڈنگ شروع ہو گئی۔ پاکستان نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ امدادی مشنوں کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر تعینات کیے گئے۔
جمہوریہ کوریا کو ۱۶ تا ۱۷ جولائی کے درمیان ریکارڈ توڑ بارشوں کا سامنا کرنا پڑا، کچھ مقامات پر ۱۱۵ ملی میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ بارش ہوئی۔ کم از کم ۱۸ افراد ہلاک اور تیرہ ہزار سے زائد افراد کو نقل مکانی کرائی گئی۔جنوبی چین میں حکام نے ۲۱ جولائی کو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ الرٹ جاری کیا۔ ٹائفون وِفا نے ہانگ کانگ کو تباہ کر ڈالا۔
اُس ماہ تمام سیلاب بارش کی وجہ سے نہیں آئے۔ نیپال کے راسووا ضلع میں ۷ جولائی کو ایک سپرگلیشیل جھیل جو گلیشیئر کی سطح پر بنی تھی، اچانک پھٹنے سے ہائیڈرو پاور پلانٹس، ایک بڑا پل اور تجارتی راستے بہہ گئے۔ کم از کم گیارہ افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد لاپتہ ہیں۔عالمی تنظیم، انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (ICIMOD) کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہندوکش۔ہمالیہ کے علاقے میں برفانی نژاد سیلاب دو دہائیوں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آ رہے ہیں۔اب ہر پانچ سے دس سال بعد ایک بڑا حملہ ہو سکتا ہے۔ صرف مئی اور جون ۲۰۲۵ء میں تین برفانی طوفانوں نے نیپال، افغانستان اور پاکستان کو متاثر کیا۔۷ جولائی کو نیپال میں مزید دو سیلاب آئے۔ اگر گرمی بڑھتی رہی تو صدی کے اختتام تک اس طرح کے سیلاب آنے کا خطرہ تین گنا بڑھ سکتا ہے۔
وطن عزیزکو درپیش چیلنج
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی گرمائو سے جنم لیتی تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہو رہے۔ ستم ظریفی یہ کہ امریکہ اور دیگر امیر و بڑے ملکوں میں جنم لیتی انسانی سرگرمیوں نے ہی اس بین الاقوامی عجوبے کو جنم دیا مگر ان کے بد اثرات کا نشانہ پاکستان جیسے غریب و ترقی پذیر ملک بنے ہوئے ہیں۔
عالمی گرمائو اب ایک بڑھتا ہوا خطرہ نہیں رہا بلکہ “خوفناک حقیقت” بن چکا جو پاکستان جیسی کمزور قوموں کو شدید متاثر کرنے لگا ہے۔ یہ ملک کی ماحولیات اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ حقیقتاً آب و ہوائی تبدیلیاں انسانیت کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکیں۔ اکیسویں صدی شروع ہوتے ہی پاکستان میں ہر چند سال بعد خوفناک سیلاب آنے لگے ہیں جن سے ملک کا کثیر حصہ ڈوب جاتا ہے۔لاکھوں انسان بے گھر ہوتے ہیں۔ مویشی مارے جاتے ہیں اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ سیلاب عالمی گرمائو کے خطرات کی واضح مثال بن چکے ۔
یہ یاد رہے، پاکستان،سات ہزار سے زیادہ گلیشیئرز کا گھر ہے اور یہ عالمی گرمائو کی وجہ سے ماضی کی نسبت زیادہ تیزی سے پگھلنے لگے ہیں۔ اس غیر قدرتی عمل سے دریائے سندھ کے نظام کو براہ راست خطرہ لاحق ہو چکا جو پاکستان کی ۹۰ فیصد زرعی پیداوار کے لیے پانی فراہم کرتا ہے۔ گویا ہماری غذائی تحفظ کی بنیاد ہی خطرے میں ہے۔
ترقی یافتہ ممالک نے وعدہ کیا ہے، وہ عالمی گرمائو سے متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے سالانہ ۱۰۰ ارب ڈالر کی امداد دیں گے۔ متاثرہ ترقی پذیر ممالک اس امداد کو خیرات نہیں بلکہ عالمی مساوات کے حصول کی جانب ایک ضروری قدم سمجھتے ہیں۔معنی یہ کہ یہ کوئی احسان نہیں، ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ہے۔ امیر و بڑے ممالک کے فطرت دشمن اقدامات کی وجہ سے ہی غریب ملک سیلابوں، قحط اور دیگر قدرتی آفات کا نشانہ بنے ہیں۔
غربت میں اضافہ
حکومت پاکستان نے عالمی گرمائو کے خطرے سے نمٹنے کی خاطر پالیسیاں بنائی ہیں مگر اصل بات یہ ہے ، ان پر عمل درآمد بھی کیا جائے۔ یہ خطرہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں بستے نچلے و متوسط طبقوں کے اربوں انسانوں کو زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق آب و ہوائی اور موسمیاتی تبدیلیاں دنیا بھر میں غربت بڑھا رہی ہیں۔ ان کی وجہ سے ۲۰۵۰ء تک سوا چار کروڑ اضافی انسان انتہائی غربت کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ تخمینوں سے پتا چلتا ہے کہ تب دنیا بھر انتہائی غریبوں کی تعداد پندرہ کروڑ تک بڑھ سکتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں ۳۰۲۰ء تک ان کی تعداد پانچ کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ تبدیلیاں صحارا افریقہ، جنوبی ایشیا،لاطینی امریکہ اور کیریبین میں زیادہ منفی اثرات ڈالیں گی جہاں حکومتی انتظامی نظام کمزور ہے۔
بنی نوع انسان کی ناکامی
افسوس ناک امر یہ کہ عالمی گرمائو کی منفی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بہت کم حکومتیں سنجیدہ ہیں۔ حکمرانوں کی بیشتر توانائی اپنی کرسیاں بچانے پر صرف ہو جاتی ہیں، عوام دوست منصوبے کم ہی بنتے ہیں۔ سالانہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (COP30) چند ماہ کی دوری پر ہے۔ اقوام متحدہ سے تعلق رکھنے والے تمام ۱۹۷ ممالک نے اس سال فروری تک اقوام متحدہ کو تازہ ترین آب و ہوا کے قومی منصوبے جمع کرانے تھے۔ یہ منصوبے اس بات کا خاکہ پیش کرتے ہیں کہ بین الاقوامی پیرس معاہدے کے مطابق ہر ملک قانونی طور پر پابندہے، گرین ہاؤس گیسوں کا اپنا اخراج وہ کس طرح کم کرے گا۔ یہ معاہدہ تمام دستخط کنندگان کو محدود کرتا ہے:’’ وہ ایسے اقدام کریں کہ صنعتی انقلاب کے بعد زمین کے درجہ حرارت میں زیادہ سے زیادہ ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوسکے۔‘‘
حکومتوں کو اپنے نئے اپڈیٹ شدہ آب و ہوا کے قومی ایکشن پلان بھی عالمی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں پیش کرنے ہیں۔نیز بتانا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کیسے ختم کیے جائیں گے لیکن اب تک صرف ۲۵ ممالک نے ، جو سبز مکانی گیسوں کے تقریباً ۲۰ فیصد عالمی اخراج کا احاطہ کرتے ہیں، اپنے منصوبے پیش کیے ہیں اور جنہیں قومی طور پر ’’طے شدہ شراکت‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی مسلسل بلند سطح نے کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ کی فضا میں مقدار بڑھا دی ہے۔ نتیجہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے جو تیزی سے ممالک کا کاربن بجٹ کھا رہا ہے ۔ جیسا کہ بتایا گیا، بنی نوع انسان نے سابقہ کانفرنسوں میں طے کیا تھا کہ زمین کا درجہ حرارت ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں بڑھے گا مگر یہ منصوبہ ناکام ہوچکا۔ انسانی سرگرمیوں کی موجودہ رفتار سے عالمی درجہ حرارت کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔ شاید ہم مستقبل میں ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ کی حد واپس لا سکیں مگر یہ ایک طویل اور مشکل راستہ ہو گا۔
مہنگی ہوتی خوراک
اسی دوران بارسلونا سپر کمپیوٹنگ سینٹر، اسپین کی ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے ، عالمی گرمائو کے نتیجے میں جنم لیتی موسمیاتی تبدیلیاں دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہیں جس سے غذائی تحفظ اور صحت عامہ کوخطرات لاحق ہو چکے۔ سپر کمپیوٹنگ سینٹر کے محقق، میکسیملین کوٹز کی سربراہی میں ایک تحقیقی ٹیم نے ۲۰۲۲ء اور ۲۰۲۴ء کے درمیان اٹھارہ ممالک کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ سائنسدانوں نے خوراک کی قیمتوں پر سیلاب، خشک سالی اور گرمی کی لہروں کے اثرات کو دیکھا۔ نتائج سے انکشاف ہوا، عالمی گرمائو کی تبدیلیاں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بن چکیں ۔
صرف برطانیہ میں ۲۰۲۴ء کے اوائل میں ریکارڈ بارش کے بعد آلو کی قیمتوں میں ۲۲ فیصد اضافہ ہوا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی کیلیفورنیا اور ایریزونا ریاستوں میں خشک سالی کی وجہ سے سبزیوں کی قیمتوں میں ۸۰ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ سپین میں خشک موسم کی وجہ سے زیتون کے تیل کی قیمتوں میں ۵۰ فیصد اضافہ ہوا۔
۲۰۲۴ء میں ایشیا کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جنوبی کوریا میں گوبھی کی قیمتوں میں ۷۰ فیصد، جاپان میں چاول کی قیمتوں میں ۴۸ فیصد اور چین میں سبزیوں کی قیمتوں میں ۳۰ فیصد اضافہ ہوا۔ ایتھوپیا میں طویل خشک سالی کے بعد خوراک کی قیمتوں میں ۴۰ فیصد اضافہ ہو گیا۔
محققین نے یہ بھی پایا کہ ایک خطے میں موسمیاتی جھٹکے دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر گھانا اور آئیوری کوسٹ میں شدید گرمی اور خشک سالی کے بعد کوکو کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئیں۔ برازیل اور ویتنام میں بھی ایک جیسے موسمی حالات کے بعد کافی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح بعض ممالک میں دودھ کی پیدوار میں بھی کمی دیکھی گئی۔
میکسیملین کوٹز کہتے ہیں ’’جب تک ہم سبز مکانی گیسوں کا اخراج کم نہیں کرتے، موسم مزید خراب ہونے لگیں گے۔ لیکن یہ پہلے ہی فصلوں کو نقصان پہنچا رہے اور پوری دنیا میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کر چکے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں،عالمی گرمائو کے منفی اثرات میں شدید گرمی کے بعد خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہی ان کی زندگیوں کو متاثر کرنے لگا ہے۔‘‘
تحقیق کرتے ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر حکومتوں نے عالمی گرمائو سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو اس عجوبے کے بطن سے جنم لیتے منفی واقعات زیادہ عام اور شدید ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کو نقصان پہنچے گا کیونکہ خوراک تک ان کی رسائی کم ہو گی۔ نتیجے میں غذائی قلت اور بیماری کا خطرہ بڑھے گا۔
مثبت طرز ِفکر
اس ماہ قوم آزادی ِ پاکستان کی ۷۸ ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ عالمی گرمائو کے حوالے سے دیکھا جائے تو وطن عزیز مشکلات کا شکار ہے۔ اس کو بڑھتے درجہ حرارت، بے ترتیب بارشوں، سیلابوں اور خشک سالی جیسے زیادہ شدید موسمی واقعات کا سامنا ہے۔ یہ تبدیلیاں ملکی معیشت، غذائی تحفظ اور صحت عامہ کے لیے اہم خطرے بن رہی ہیں۔
عالمی سائنسی تنظیموں کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس ممالک میں شامل ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے اور زراعت جیسے حساس شعبوں پر انحصار کی وجہ سے خطرات میں اضافے کا امکان ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلیاں ’’خطرہ بڑھائو‘‘ کے طور پر کام کرتی اور پانی کی کمی، خوراک کے عدم تحفظ اور سیاسی عدم استحکام جیسے موجودہ چیلنجوں کو بڑھاتی ہیں۔
یہ وقت کی پکار ہے کہ مستقبل کے خطرات کا بخوبی مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم متحد ہو جائے اور فروعی و وقت ضائع کرتے اختلافات سے چھٹکارا پائے۔ یہ وطن ہی ہماری پہچان و جائے پناہ ہے جس کا قیام ہمارے بزرگوں نے بے پناہ قربانیاں دے کر ممکن بنایا۔ بھارتی مسلمانوں کی حالت زار دیکھیے جن سے اکثریتی ہندو غلاموں سے بھی بدتر سلوک کرنے لگے ہیں۔پاکستانی قوم کی ذہن سازی نفرت کی بنیاد نہیں اس نہج پر ہونی چاہیے کہ بقول شاعر:
اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے
