[et_pb_section fb_built=”1″ _builder_version=”4.9.2″ _module_preset=”default”][et_pb_row _builder_version=”4.9.2″ _module_preset=”default”][et_pb_column type=”4_4″ _builder_version=”4.9.2″ _module_preset=”default”][et_pb_text _builder_version=”4.9.2″ _module_preset=”default” text_font=”noori-nastaleq||||||||” text_font_size=”20px” header_text_align=”right”]
’’اماں… او اماں! آج باجی کی شادی ہے ناں؟‘‘ دس سالہ میرب نے سسکتی ماں سے سوال کیا تھا۔
’’مجھے نہیں پتا میرو! مجھے تنگ نہ کر۔ چلی جا یہاں سے۔‘‘
ماں چولہے کے پاس بیٹھی لکڑیوں کے دھوئیں کے ساتھ اپنے آنسو اپنے دل کی ہرٹیس کو دھواں ہوتے دیکھ رہی تھی۔
خیراں نے کبھی میرو کو اسے نہ ڈانٹا تھا۔ جانے کیوں آج وہ اسے پریشان سی دکھائی دی۔
’’ہونہہ نہ بتا اماں! میں باجی سے پوچھتی ہوں۔‘‘
وہ ایسی ہی تھی نہ ہارنے والی۔ عجب سناٹا ہے۔ اکیلی میرو سارے گھر میں شور مچاتی ہے اور عجب شادی ہے نا مایوں نہ مہندی، گجرے نہ پھولوں کا زیور، نہ قمقموں سے سجا گھر۔ یہ ساری چیزیں ہی تو میرو کے لیے حیران کن تھیں۔ کتنے اَرمان تھے باجی کی شادی کے اُس کے دل میں۔ پر یہ کیسی شادی ہے؟ جانے یہ کیسی شادی ہے جو ڈھولک تک نہ سُنی اُس نے۔
’’باجی… او باجی! تیری شادی ہے ناں آج؟ کتنا مزہ آئے گا۔‘‘
کمرے کی ہر کھڑکی کو سفید پردے سے سجایا گیا تھا۔ کمرے میں بچھی چار پائی پر بھی سفید چادر بچھائی گئی تھی۔ میرو کی باجی آمنہ کا کمرا آج معمول سے ہٹ کر دکھائی دے رہا تھا۔
’’آمنہ باجی! یہ کب؟‘‘ اچانک میرو کی نظر کمرے کے چاروں اطراف گئی تھی۔
’’یہ کیسی شادی ہے باجی؟ جس میں تمہارا کمراسفید…ہا…ہائے کمرا تو کمرا، تُو نے آج کپڑے بھی سفید پہن رکھے ہیں۔‘‘
کمرے کے سفید پردوں سے اُس کی نظر بہن کے کپڑوں پر ٹھہری تھی۔
’’بول باجی! یہ تیرے ہاتھوں پر مہندی ہے نہ تیرے تن پر سُرخ جوڑا۔ یہ کیسی شادی ہے باجی؟ بول… بول نہ۔‘‘
آمنہ کی خاموشی اور کمرے کا رنگ روپ میرو کی وحشت بڑھا گیا۔ وہ اپنی بہن کے چہرے کو ہاتھوں میں لیے سوال کر رہی تھی۔ آمنہ اُس کے ہر سوال پر خاموش تھی۔ وہ دلہن تو کہیں سے نہ لگ رہی تھی۔ سفیدجوڑے میں ملبوس بےسُدھ سے بال اُس کے چہرے پر بکھرے تھے۔ میرو کے سوالات اُس کے اندر ایک شورش بپا کر گئے۔ اُس کے اندر کے زخم اور گہرے ہو گئے تھے۔
’’چپ کر جا میرو، خدا کے واسطے چُپ کر جا۔‘‘
اُس نے اشک فشانی کرتے ہوئے میرو کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا۔
’’جا…چلی جا میرے کمرے سے باہر۔ جب بڑی ہو جائے گی تو سب سمجھ جائے گی۔‘‘ اب کی بار آمنہ غضبناک ہو کر چیخی۔
میرو خوفزدہ ہو کر کمرے سے بھاگتی ہوئی باہر صحن میں آ گئی۔ سامنے بابا سائیں( آمنہ اور میرو کے والد ) اور اَدّا سائیں جلال اور اَدّا رمضان آتے دکھائی دیے۔ وہ تینوں کی لاڈلی تھی۔ آمنہ کو بھی دونوں بھائیوں اَور باپ نے اسی لاڈ سے ہی تو پالا تھا۔ دونوں بھائیوں کے پیچھے مولوی صاحب بھی تھے۔ جانے کیوں وہ بھی خوفزدہ سے لگ رہے تھے۔
’’آمنہ بیٹی! پردہ کر لو۔ نکاح خواہ آئے ہیں۔‘‘
بابا سائیں کے جملے پر میرو نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ پر بے سوُد۔ دلہا کہیں نہ تھا۔ وہ خاموشی سے کھڑی رہی۔ پھر بابا سائیں اور اَدّا سائیں آمنہ کے کمرے میں چلے گئے۔ کچھ دیر بعد وہ کمرے سے نکل کر باہر چل دیے۔ میرو کی سمجھ میں اب بھی کچھ نہ آیا تھا۔ وہ پھر سے آمنہ کے کمرے میں چلی گئی۔ اب منظر تھوڑا بدلا ہوا تھا۔ آمنہ کے ہاتھ میں سبز غلاف والا قرآن پاک تھا اور اس کے سفید لباس میں سر پر سفید ہی چادر تھی۔
’’تیرا… تیرا دلہا کدھر ہے باجی؟‘‘ وہ آہستہ سے اُس کے قریب بیٹھ کر حیرت سے اُسے سر تا پا دیکھ کر گویا ہوئی تھی۔
’’میرو!‘‘ وہ پتھر کی سی مورت بنی بیٹھی قرآن پاک پر نظریں گاڑے بولی۔
’’بول باجی۔‘‘ میرو بھی ہمہ تن گوش ہوئی ۔
’’بھاگ جا…ہاں! سچ کہتی ہوں۔ بھاگ جا یہاں سے۔‘‘ وہ آنکھیں پھاڑے پاگلوں کی طرح میرو کو بھاگ جانے کا کہہ رہی تھی۔
’’بھاگ جا! اعلان بغاوت کر دے، کردے اعلان۔‘‘
وہ تڑپ تڑپ کر روتی ہوئی قرآن پاک پر ہی ڈھیر ہو گئی تھی۔ اُس کی آواز آنا بند ہوئی تو میرو بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
’’اماں۔ اماں۔‘‘ میرو کی سانس اکھڑی ہوئی تھی۔ ’ماں‘ جو پہلے ہی دلِ سوختہ لیے اشکِ غم بہا رہی تھی، میرو کو اس طرح دیکھ کر بے ساختہ آمنہ کے کمرے کی جانب بھاگ کھڑی ہوئی۔
’’آمنہ…آمنہ! ہائے میرے بچی۔ آمنہ اُٹھ جا پتر، قرآن پاک پر سر رکھے وہ اس دنیا سے بہت دُور جا چُکی تھی۔ لاچار ماں کی آہ و پکار نے سارے گاوں کو خبر کر دی کہ آمنہ اس دنیا میں نہیں رہی۔ جوانی کی عمر میں پہنچتے ہی موت نے اچک لیا۔
’’ہائے میری لاڈلی، میری آمنہ، میری دھی۔‘‘ بے چاری ماں کے بین تو کسی بھی پتھر کو موم کر دیتے پر نہ جانے یہ باپ اور بھائی کیسے انسان تھے جو نہ روئے نہ نادم ہوئے۔
’’ادا سائیں… باجی کو کیا ہوا ہے؟ کیا… کیا وہ مر گئی ہے ادا؟‘‘ میرو نے بڑئے بھائی سے معصومیت سے پوچھا تھا۔
’’نہ میرے پُتر! ایسا نہیں کہتے۔ آمنہ دھی نے تو تیرے اَدا سائیں اور بابا سائیں کا سر فخر سے اُونچا کر دیا ہے۔ مری نہیں ہے وہ، جنت میں گئی ہے…جنت۔‘‘ اَدا سائیں نے محبت سے میرو کو سمجھایا تھا۔
’’جنت؟‘‘ میرو نے سفید کفن میں لپٹی بہن کو غور سے دیکھا اور ننھے سے دماغ پر روز دیتے ہوئی سوچتی رہی کہ آخر ماں کو بیٹی کے جنت جانے کی خوشی کیوں نہیں؟ اس ماں کے پاس تو مجالِ شکوہ بھی نہ تھی۔ جوان بیٹی کی قبر پر پھولوں کی چادر ڈال کر ماں تو آدھی مر گئی تھی پر بھائیوں اور باپ کی صحت پر کوئی اَثر نہ ہوا تھا۔ یہ وڈیروں کی دنیا ہے، جہاں عورت خاک بے پر کی مانند ہی ہے، جسے جینے کا حق رب قادر تو دے پر وڈیرے سائیں نہ دیں تو عورت کو کوئی حق نہیں جینے کا۔
٭٭٭
اس واقعہ کو آج دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ میرو اب آمنہ ہی کی عمر کو پہنچ چکی تھی۔ سارے گھر میں چہچہاتی ہر کسی کو ہنساتی زندگی سے بھرپور میرو نے آمنہ کے دُکھ کو کچھ کم کر دیا تھا۔ حویلی کے بڑے سے صحن میں کبھی آنکھ مچولی کھیلتی تو کبھی سکھیوں کے ساتھ پکڑن پکڑائی۔ آج بھی وہ آنکھیں باندھ کر سہلیوں کو تلاش کر رَہی تھی جب سامنے اُونچی پگڑی والے بابا سائیں آن کھڑے ہوئے۔
’’پکڑ لیا۔‘‘ بابا سائیں کے بازو تھام کر اس نے جھٹ سے آنکھوں سے آنکھوں سے پٹی اُتار دی تھی۔
’’ارے میری دھی۔‘‘ بابا سائیں کھلکھلا کر ہنس دیے تھےاور وہ بھی لاڈ سے اُن کے گلے لگ گئی۔
میرو ہر رات آمنہ باجی کے آخری جملے سوچتی رہتی کہ آخر اتنے پیار کرنے والے بابا سائیں سے کس بات کی بغاوت کرنی ہے اَور کیوں ؟
مزید کئی سال تو پر لگائے اُڑ گئے۔
’’کیا بات ہے اماں؟‘‘ آج کی شام کچھ عجیب سی ہی تھی۔ بابا سائیں نے سب کو اکٹھا کیا تھا۔ شاید کوئی اہم فیصلہ سنانے والے تھے وہ، جو آج اس طرح سب کو خاص طور پر بلوایا گیا تھا۔ سورج بادلوں کی اَوٹ میں چھپ گیا تھا۔ شام سیاہ قبا پہنے نمودار ہوئی تھی۔ حویلی کے بڑے سے صحن میں دونوں بھائی، باپ اَور ایک لاچار ماں اپنی دوسری زندہ بچنے والی بیٹی کو بازوؤں کے حصار میں لیے پھر سے نئی تُربت بننے کا فیصلہ سننے کے لیے بیٹھی تھی۔
’’کیا بات ہے اماں؟ تم آج پریشان سی لگ رہی ہو۔‘‘
میرونے سہمی ہوئی ماں سے اُس کا چھپا دَرد جاننے کی کوشش کی تھی۔
’’آج تیرے بابا سائیں کوئی فیصلہ کرنے والے ہیں۔ مجھے، مجھے ڈر ہے کہیں یہ فیصلہ مجھ سے میری زندگی کی باقی جمع پونجی نہ چھین لے میرو۔‘‘ تڑپتی ماں نے روتے ہوئے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔
شام کی سیاہی اور گہری ہوئی تو بابا سائیں میرو کے کمرے میں آئے۔ میرو کمرے کی کھڑکی میں کھڑی چاند کو دیکھ رہی تھی جو آج کچھ مدھم سا لگ رہا تھا۔
’’میری لاڈو۔‘‘ بابا سائیں نے محبت سے میرو کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’ارے بابا جانی آپ… اس وقت…‘‘
’’ہم آج اپنی بیٹی سے کچھ مانگنے آئے ہیں۔ اُمید کرتا ہوں میری بیٹی مجھے مایوس نہیں کرے گی۔ ہے ناں؟‘‘
’’بابا سائیں! یہ کیا بات ہوئی؟ ایسی کیا چیز ہے جو آپ کو مجھ سے مانگنے کی ضرورت پڑ گئی؟‘‘ میرو نے محبت سے بابا سائیں کے ہاتھ تھام لیے۔
’’شاباش میرو دھی۔ میں نے تیری زندگی کے بارے میں اہم فیصلہ کیا ہے۔ تجھے بس میری پگڑی کی لاج رکھنی ہے۔‘‘ کھڑکی کے سامنے کھڑے کھڑے شاید آج بابا سائیں ساری بات مکمل کرنے کے موڈ میں تھے۔
’’ہم نے تیری شادی کا فیصلہ کیا ہے میرو بیٹی شادی۔‘‘
میرو نے چونک کر بابا سائیں کو دیکھا۔
’’ہاں شادی۔ ویسی ہی شادی جو تیری آمنہ باجی کی ہوئی تھی۔ اُس میری بیٹی نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا تھا۔ مجھے یقین ہے تم بھی میری عزت کی لاج رکھو گی۔‘‘
’’پر بابا سائیں! باجی کی تو شادی ہوئی ہی نہیں۔ مجھے یاد ہے اُس کا دلہا تو آیا ہی نہیں تھا۔ تو… تو شادی کیسے ہو گئی؟‘‘ میرو نے حیرت سے سوال کیا تھا۔
’’دلہا تھا میرو دھی! لگتا ہے تیری ماں نے تجھے کچھ نہیں بتایا۔‘‘ بابا سائیں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے قرآن پاک کے پاس ٹھہرے اور قرآن پاک اُٹھا کر میرو کے سامنے لے آئے۔
’’یہ ہے تیرا دلہا۔‘‘
’’کک کیا…؟‘‘ میرو کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔
’’پر بابا سائیں…‘‘
’’شش…‘‘
’’اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، بابا سائیں نے غضبناک آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اُسے خاموش کروا دِیا۔
’’بیٹیاں صرف سر جھکاتی ہیں، زبان نہیں چلاتیں۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد نکاح ہے تمہارا۔ بات ختم۔‘‘
میرو حیران کُن نظروں سے بابا سائیں کو جاتے دیکھتی رہی۔ جانے یہ خوشی کی وعید تھی یا موت کی خبر؟ اس کا تو سِن ادراک ٹھہر سا گیا تھا۔ کچھ بھی تو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ وہ ہاتھوں میں قرآن تھامے بُت بنی کھڑی تھی۔
’’قرآن سے شادی…کیسے؟ کیوں…؟ ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ کیسے مان لوں بابا کی بات؟ یہ نا ممکن ہے۔ مجھے نہیں رہنا اس قفس خانے میں۔ بابا سائیں تو مجھ سے اتنا پیار کرتے تھے پھر…؟‘‘
وہ خود ہی سے سوالات کر رَہی تھی۔ ’’میں آمنہ باجی نہیں ہوں۔ یہ پاک کلام پڑھ کر عمل کرنے کے لیے ہے ناکہ شوہر بنانے کے لیے۔ (استغفراللہ)
اُس نے قرآن پاک کو تعظیم سے چوم کر اُونچی جگی پر رَکھ دیا۔ صبح کا سورج طلوع تو ہوا تھا پر ایک ماں کی زندگی غروب کر گیا تھا۔ ماں سے دوسری بیٹی کی زیست کا ظالمانہ فیصلہ برداشت نہ ہوا، اس لیے وہ تمام مصیبتوں سے جان چھڑا کر خاموشی سے اَگلے جہان چلی گئی۔ ملنے جلنے والے خاموش بت بنی میرو سے افسوس کر رَہے تھے مگر اُس کی آنکھ سے اشک ٹپکا نہ اُس کی زبان سے کوئی لفظ ادا ہوا۔
’’بابا سائیں۔‘‘ اُس کی زبان سے یہ لفظ با مشکل ادا ہوا تھا۔
’’کیا اب بھی میری شادی قرآن سے ہی ہو گی؟‘‘ اُس نے ماں کے جنازے کو دیکھتے ہوئے باپ سے سوال کیا تھا۔
’’ہاں دھی رانی! یہ ہم تینوں باپ بیٹوں کی پگڑی کا سوال ہے۔ مجھے یقین ہے تُو ہمیں مایوس نہیں کرے گی۔ ہے نا؟‘‘
بابا سائیں اپنے فیصلے پر قائم تھے۔ میرو خاموش بیٹھی ماں کے جنازے کو دیکھتی رہی۔
’میری ماں بھی کمزور تھی، میری بہن بھی، تو کیا میں بھی مر جاؤں؟ کیوں؟ میرے اللہ نے میرے اسلام نے تو میرے بارے میں ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ بابا سائیں اور ادا سائیں کی پگڑیاں ہم ماں بیٹیوں کے جنازے اونچی کریں گے؟ نہیں ہر گز نہیں۔ میں جانتی ہوں میرا رَب میرے لیے کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالے گا۔ میں اس طح اپنی تُربت بننے نہیں دوں گی۔ میں اس نظام سے، اپنے بابا سائیں کے فیصلے سے بغاوت کروں گی۔ اگر مرنا لکھا ہے تو لڑ کے مروں گی۔ ایسے نہیں۔‘
اُس کے اندر بغاوت کی آگ بھڑک گئی تھی۔
بغاوت… آمنہ باجی کا وہ آخری جملہ آج اس کی سمجھ میں آ گیا تھا۔ ایک شام سکوت لیے نمودار ہوئی تھی۔ بابا جانی بڑے پیار سے میرو کے لیے سفید سوٹ لائے تھے۔ اس کے کمرے کو بھی بالکل ایسے ہی سجایا گیا جیسے کبھی آمنہ کا کمرا سجا تھا۔
’’کب تک تیار ہو جائے گی ہماری بیٹی؟‘‘ بابا سائیں نے بڑے لاڈ سے اُس کے سر پرہاتھ رکھ کر پوچھا تھا۔
’’دوگھنٹے بابا۔‘‘ میرو نے آہستہ آواز میں کہا تھا۔
’’ٹھیک ہے میری لاڈو! ہم اب چلتے ہیں۔ تُو معتبر ہو جائے گی بیٹی اس نکاح کے بعد۔ آج کے بعد اَب تُو بس اسی کمرے میں رہا کرنا۔ تیرے لیے نوکروں کا انتظام میں کروں گا۔‘‘یہ اَدا سائیں تھے جن کی وہ سگی بہن تھی۔
میرو نے خاموش رہنے پر اکتفا کیا۔ رات سیاہ قبا اوڑھے اندھیرے کے پر پھیلائے سناٹے کے ترانوں کی دھن کے ساتھ اُفق پر چھا گئی تھی۔ اس کے اندر کے زخموں سے خون بری طرح رَس رہا تھا۔ وہ اَندر سے ٹوٹ سی گئی تھی۔ رات کے سناٹے میں بھی اس کے اندر عجب شورش بپا تھی۔
’ایک عورت، ایک بہن، ایک ماں، ایک بیٹی کی بساط صرف اتنی ہے …‘ وہ آہ سرد بھر کر رہ گئی۔ کھڑکی میں نظر آتا مہتاب روز کی طرح پر کشش تھا لیکن اسے آج بے رنگ و بےکیف سا لگ رہا تھا۔ ایک فیصلہ کر کے وہ سکون سے اُٹھی اور دبے پاؤں کمرے سے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔
٭٭٭
اسے گھر سے نکلے دو گھنٹے گزر چکے تھے۔ وہ پاک آرمی کی لگی چوکی کے عین سامنے کھڑی تھی۔
’’میری…میری مدد کریں۔‘‘ وہ بھاگتی ہوئی یہاں تک آئی تو سانس لینا محال تھا۔
٭٭٭
’’میرو بیٹی! چلو مولوی صاحب آگئے ہیں۔ پردہ کر لو۔‘‘
بابا سائیں نے کمرے کے باہر سے آواز لگائی تھی۔
’’چلیے اندر چلیں مولوی صاحب۔‘‘
میرو کے کمرے کا منظر سب کے لیے حیران کن تھا۔ وہ کمرے میں موجود نہ تھی ،ہاں البتہ قرآن پاک کے برابر میں ایک خط چھوڑ گئی تھی۔
’’بابا سائیں! جیسے آپ میرا شوہر بنانا چاہتے ہیں، وہ میرے نبیﷺ پر نازل ہونے والا پاک کلام ہے جس میں عورت کے بہت سے حقوق لکھے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اور ادا سائیں نے اُس قرآن پاک کو پڑھ کر غور کرنے کے بجائے اپنی جائیداد بچانے کے لیے میرا شوہر بنا دینے کا سوچ لیا۔ حالانکہ جائیداد میں میرا حصہ ایک فیصد ہے وہ بھی اسی قرآن میں لکھا ہے۔ مجھے مگر آپ کی جائیداد میں کوئی حصّہ نہیں چاہیے۔ میں نے معاف کیا اور سمجھ لیجیے کہ باجی اور ماں کی طرح آج میں بھی دفن ہو گئی لیکن میں آپ کے کھوکھلے اصولوں سے بغاوت کرتی ہوں۔ اگر آپ مجھے ڈھونڈھ کر مار بھی دیں تو مجھے افسوس نہیں ہو گا۔ کم از کم اتنا سکون تو ہو گا کہ میں لڑ کر مری…حالات سے ہار کر نہیں۔ میں آج کی عورت ہوں بابا سائیں۔ کمزور اور لاچار نہیں۔ بھلے زمانہ اب بھی آپ جیسے مردوں کا ہے لیکن قانون اب میرا بھی ہے۔ میں زندہ رہی تو آپ کے قانون کو پاش پاش کر کے دم لوں گی۔ تاکہ آنے والی نسلیں اس ظلم سے بچ سکیں۔ آپ کی لاڈو۔‘‘
٭٭٭
خط کا ایک ایک لفظ بابا سائیں اور دونوں بھائیوں کو انگاروں پر لٹِا گیا۔
’’گاڑی نکالو۔‘‘ بابا سائیں چیخ کر بولے۔
اس سے پہلے کہ وہ گاڑی نکالتے، کچھ فوجی ایک نقاب پوش عورت کے ساتھ حویلی میں داخل ہوئے۔
’’جی کہیے۔‘‘ اَدا سائیں آگے بڑھے۔
’’آپ تینوں کو ہمارے ساتھ چلنا ہو گا۔‘‘
’’خیریت؟ کیوں کیا ہوا؟‘‘
فوجی جوان ادا سائیں سے سوال پر سوال کر رَہے تھے۔
’’یہ بی بی بتا رَہی ہیں کہ آپ نے چند سال پہلے اس کی بہن کو قتل کر دیا تھا اور کچھ دن پہلے اس کی ماں کو۔‘‘
’’دیکھیے جناب! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ہم لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہیں، نہ کہ کسی کو قتل کرتے پھرتے ہیں۔ یہ بی بی ہماری دشمن ہو گی جو آپ کو ورغلا رہی ہے۔‘‘ بابا سائیں غرّا کر بولے۔
’’آپ زندگیوں کے نہیں، موت کے فیصلے کرتے ہیں بابا سائیں۔‘‘
سامنے کوئی اور نہیں بلکہ اُن کی میرو کھڑی تھی۔ ایک مضبوط عورت جو اپنے اور آنے والی نسل کے جائز حق کے لیے کمر کس کر اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا…بے غیرت…‘‘
ادا سائیں بندوق تانے کھڑے تھے۔ اس سے پہلے کہ اَدا سائیں کوئی قدم اُٹھاتے، ایک فوجی جوان آگے بڑھا اور ان سے بندوق چھین لی۔
’’میں دس سالہ پُرانی آمنہ نہیں ہوں اَدا۔ مجھے میرے حقوق پتا ہیں۔ میری دعا ہے تمہاری پہلی اولاد بیٹی ہو اور وہ بھی میری بہن کی طرح جنت جائے۔ تم ویسے ہی اُس کا نکاح کرو جیسے میری بہن کا کیا تھا۔‘‘
’’نہیں کبھی نہیں۔ میں اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ ادا سائیں تڑپ ہی تو اُٹھے تھے۔‘‘
’’ہونہہ …دیکھا بابا سائیں! وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گے، مگر افسوس در افسوس… آپ نے بیٹوں کی خاطر بیٹی قربان کر دی۔‘‘ وہ بابا سائیں کے قریب کھڑی اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی بولتی گئی۔
بابا سائیں کی نگاہ ندامت سے جھک گئی تھی۔
’’مجھے کسی محفوظ جگہ پر پہنچا دیجیے سر۔ مجھے ان سے جان کا خطرہ ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ فوجی دستے کے ہمراہ چل دی۔
وہ اسلام سے ہٹ کر بنائے ہر اُصول سے بغاوت کرنے پر آمادہ تھی اور پُر حوصلہ بھی۔ اس کی مضبوط قوتِ ارادیت اس کے لیے راہ ہموار کیے ہوئے تھی۔
٭٭٭
[/et_pb_text][/et_pb_column][/et_pb_row][/et_pb_section]