function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

زادِ راہ

شاہدہ ناز قاضی | اردو ادب

سیڑھیوں پر آہستہ آہستہ کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ دروازہ ہولے سے چرچرایا۔ بوڑھے کی پشت دروازے کی سمت تھی لیکن اس کے حواس چوکنا تھے۔ وہ بستر پہ ایسے ساکت پڑا تھا جیسے گہری نیند میں ڈوبا ہو۔ اس کی کمزور ٹانگوں پر کمبل لپٹا ہوا تھا جس کا کچھ حصہ زمین پر لٹک رہا تھا۔ کمرے میں دوائوں اور پیشاب کی ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔

بوڑھا اپنی میلی گدلی آنکھیں کھولے بظاہر دیوار پر کسی نامعلوم نکتے کو دیکھ رہا تھا۔ لیکن وہ اپنی پشت پر آنے والے نووارد سے پوری طرح باخبر تھا۔ اس کے سامنے دیوار پر آنے والے کے جسم کا سایہ لرز رہا تھا۔
یہ اس کا تیرہ سالہ پوتا تھا۔ وہ کچھ دیر کمرے میں کھڑا رہا۔ اس کے جسم سے پھوٹتی خوشبو نے جیسے سارا کمرا معطر کر دیا۔ بوڑھے کو لگا جیسے یہ مہک محبت کی خوشبو کی ہے جسے اس کی روح محسوس کر رہی ہے۔ محبت کا سیل رواں بوڑھے کے سینے میں شعلے کی طرح لپکا۔ مگر دوسرے ہی لمحے اپنی بے بسی کا احساس اس کی گدلی آنکھ کا آنسو بن کر گال پر بہ نکلا۔

کاش وہ اپنی فالج زدہ زبان سے اسے آواز دے سکتا۔ اپنے رعشہ زدہ ہاتھوں سے اسے چھو پاتا۔ کاش وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھتا اور اپنے لاڈلے پوتے کا سر سینے سے لگا لیتا… بوڑھے کے دل میں شدید خواہش ابھری کہ کاش وہ خود ہی قریب آ جائے، بستر کے قریب! اس کے ننھے ہاتھ دادا کے جسم کو پیار سے چھو لیں… وہ اس کے خوبصورت ہاتھوں کا لمس محسوس کرنا چاہتا تھا… لیکن پوتا چند منٹ خاموش کھڑا رہا اور پھر خاموشی سے پلٹ گیا۔

بوڑھے نے سوچا‘ شاید سوچتا ہو گا‘ دادا ابو سو رہے ہیں۔ کاش وہ میرے قریب آ کر مجھے دیکھ لیتا۔ میری آنکھیں اس کے معصوم چہرے کو چوم لیتیں… آہ! اس دنیا میں ایک وہی ہے جس کا دل اپنے بیمار اور کمزور دادا کے لیے دھڑکتا ہے۔ ورنہ مجھ بدنصیب بوڑھے کے مقدر میں اللہ نے اولاد تو لکھ دی مگر اولاد کا سکھ نہیں لکھا۔ بوڑھے کا ذہن سوچوں کے گرداب میں الجھ گیا۔ماضی، حال اور مستقبل آپس میں ریشمی دھاگوں کی طرح الجھ گئے۔
آہ میں موت کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سن رہا ہوں… مجھے ڈاکٹری رپورٹ کے بارے میں بھی معلوم ہے… میرے دماغ کی رسولی روزبروز بڑھ رہی ہے… میں موت سے خوفزدہ نہیں، ہرگز نہیں! لیکن موت کے اس انتظار نے مجھے تین سال سے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ کبھی کبھی جب مجھے رات بھر نیند نہ آئے، تو مجھے اپنا آپ اس قیدی کی طرح لگتا ہے جسے پھانسی کا حکم ہو چکا ہو… اور وہ اپنی باری کا منتظر ہو۔ میرے سوا اور کون جان سکتا ہے کہ موت کے انتظار نے مجھے کتنے کرب ناک دکھ اور اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ میں پل پل اندر سے کٹتا جا رہا ہوں۔

میرا گزرا ہوا زمانہ… میرا ماضی آج میرے سامنے کھڑا ہے۔ آہ! میںنے عمر بھر کبھی موت کا تصور بھی نہیں کیا تھا‘ مگر آج… آج مجھے موت سے بڑھ کر دنیا کی کوئی حقیقت نظر ہی نہیں آتی۔ اب جبکہ میری زندگی کے دن ایک ایک کر کے گنے جا رہے ہیں، تو میرے کمرے کی گھڑی ٹک ٹک کرتے مجھے وقت کے گزرنے کا احساس اور بھی زیادہ شدت سے دلانے لگی ہے۔ میں جو عمر بھر اثاثے اکٹھے کرتا اور مٹھیاں بھر بھر سمیٹتا رہا، آج وہی مال و دولت اور اثاثہ میرے لیے باعث آزار ہو چکا۔

میں نے اولاد کی خاطربہت کچھ کمایا، بنایا اور حلال حرام کی تمیز تک مٹا دی۔ اللہ بخشے میری بیوی مجھے منع ہی کرتی رہتی… وہ کتنی سچی تھی۔ آہ! اب وہی اولاد جائداد کے پیچھے کتوں کی طرح آپس میں لڑ رہی ہے۔ وہ ان کوٹھیوں، پلاٹوں اور زرعی زمین پر جھگڑ رہے ہیں جس کے لیے میں نے دن رات محنت کی، چکر چلائے، رشوت لی اور ہیرا پھیری کی۔ جہاں جہاں سے اور جس جس طریقے سے دولت مل سکتی تھی، اکٹھی کی۔ آہ! میں نے سرکاری عہدے کا جی بھر کے فائدہ اٹھایا، کیسے تھے وہ دن؟… آہ! میں عمر بھر ان لوگوں کو بے وقوف، نکما، بزدل اور پرلے درجے کا احمق سمجھتا رہا جو حق حلال، حق حلال کی گردان کیے۔سخت تنگی ترشی میں بھی گزارا کیے جاتے تھے۔ لیکن کیا آج اس لمحے سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور تنگی ترشی ہو سکتی ہے؟

یہ جائداد، یہ مال و دولت میرے دل و دماغ اور ضمیر کا بوجھ بن کر کچلے دے رہی ہے۔ میں نے اپنی جائداد پانچوں بیٹوں اور تینوں بیٹیوں میں بڑے حساب سے تقسیم کر دی تھی۔ لیکن یہ تقسیم انھیں گوارا نہیں۔ وہ جب بھی اکٹھے ہوں، جائداد پر جھگڑتے ہیں۔ ان کے لڑنے جھگڑنے کی آوازیں مجھے اوپر کمرے تک پہنچتی ہیں۔ سوچتا ہوں، کاش میں غریب ہی ہوتا۔ میرا کوئی پلاٹ، زمین جائداد نہ ہوتی اور یہ بیٹے متوسط درجے کے عام سے شہری ہوتے۔ تب یہ جب اکٹھے بیٹھتے، تو آپس میں دکھ سکھ کی باتیں کرتے۔ مجھ بوڑھے بیمار باپ کی خیریت طلب کرتے۔ ان کے دل آپس میں جڑے ہوتے۔

آہ! میں ان اونچی، تیز، تلخ اور جھگڑتی آوازوں کو اس وقت بھی سن رہا ہوں جو میرے کانوںمیں تیر کی طرح گھسی چلی آ رہی ہیں۔ ’’نہیں، تم آم کے باغات نہیں لے سکتے، وہاں میں نے محنت کی ہے‘ اس پر میرا حق ہے۔‘‘
’’تم پہلے ہی ڈھیر ساری زمین لے چکے… اب بھی پیٹ نہیں بھرا تمھارا۔‘‘ ’’یہ جو تم ماڈل ٹائون والی بڑی سی کوٹھی میں بیٹھے ہو‘ اس کی قیمت معلوم ہے کتنی ہے؟‘‘ ’’اچھا! تو تمھاری آنکھوں میں یہ کوٹھی بھی کانٹا بنی ہوئی ہے۔ خبردار! تم نے آئندہ اس کا ذکر بھی کیا تو…‘‘ ’’تم دھمکیاں دے رہے ہو… اور تم بڑے بھائی، ہوش کرو… پٹرول پمپ اور یہ کوٹھی۔ اس پر پہلا حق میرا ہے۔ وہ میں کسی کو نہیں دوں گا۔ اگر کسی نے جرأت کی، تو میں اس سے نمٹ لوں گا۔‘‘

’’ابا جی نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ صرف ایک کوٹھی؟‘‘ ’’تمھیں پتا ہے کتنے کنال پر ہے… پھر وہ جگہ کمرشل ہو کر کتنی مہنگی ہو چکی۔‘‘ ملی جلی آوازوں کا شور اس کے اعصاب کچلنے اور روندنے لگا۔ وہ تو اپنے کان بند کر لینے پر بھی قادر نہ تھا۔ بیٹوں کے ساتھ بہوئوں کے تیز تیز بولنے اور جھگڑنے کی آوازیں بھی آنے لگی تھیں۔ ’’شہریار سچ کہہ رہے ہیں۔ آپ کو تو جائداد کی اتنی ضرورت ہی نہیں! آپ کا ایک ہی بیٹا ہے جو امریکا چلا گیا۔ ہمیں دیکھو‘تین تین بیٹیوں کا بوجھ سر پر پڑا ہے۔‘‘

’’اور جو امریکا گیا ہے اس کے تعلیمی اخراجات کا تمھیں اندازہ ہے، کتنا خرچ ہو رہا ہے ہر ماہ اس پر؟‘‘ ’’ابا جی نے ناانصافی کی ہے… سراسر ناانصافی۔ ہماری مرضی کے بغیر جائداد بانٹ کر انھوں نے اچھا نہیں کیا۔‘‘
’’تو پھر پھاڑ دو ابا جی کی وصیت… ابھی وہ زندہ ہیں، نئی لکھوا لو…‘‘ ’’وہ ہوش و حواس میں کب ہیں… جو کرنا ہے ہمیں ہی مل جل کر کرنا ہے۔‘‘ ’’نہ مل جل کر یہاں کون رہنا چاہ رہا ہے؟ یہاں تو سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ اب اگر کوئی فیصلہ نہ کیا گیا، تو کورٹ میں لے جائوں گا سارا معاملہ!‘‘ ’’اور اگر تم نے جائداد بیچنے کی کوشش کی، تو میں حق شفعہ کر دوں گا۔‘‘ منجھلا بیٹا غراتے ہوئے بول رہا تھا۔ آوازیں شور شرابے میںبدل گئیں۔ وہ سب ایک دوسرے سے شاکی ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کا حصہ زیادہ لگ رہا ہے۔ ان کے طمع والے پیٹ بہت پھول چکے۔

آہ! میں نے اپنی اولاد کو نازونعم سے پالا‘ مگر آج انھیں میرے پاس بیٹھنے اور میری خیریت معلوم کرنے کے بجائے جائداد کے جھگڑوں ہی سے فرصت نہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اوپر ایک بوڑھا باپ ان کی شکلیں دیکھنے اور آوازیں سننے کے لیے ترس رہا ہے۔ اپنے پوتے پوتیوں سے محبت کرنے کو بلک رہا ہے۔ بیٹیاں ماں کی طرح صابر ہیںورنہ اس جھگڑے میں وہ بھی موجود ہوں۔ ناشکرے‘ ندیدے‘ اتنا کچھ حاصل کر کے بھی شکر گزار نہیں۔ ھل من مزید کی ہوس نے انھیں آپس کی محبت سے بھی محروم کر دیا۔ آہ! ایک مرتے ہوئے بوڑھے کے لیے اس سے بڑھ کر اذیت کیا ہو گی کہ اولاد باپ کی چھوڑی جائداد پر خوش ہونے کے بجائے آپس میں دشمنی، کینہ، بغض، حسد اور لالچ میں ڈوب گئی۔

وہ بچے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اداروں کے پروردہ ہیں، آج ان کی چیختی چلاتی آوازیں میرے لیے سوہان روح بن چکی۔ میں ان کی دہاڑتی، گرجتی، برستی، غصیلی آوازیں سنوں، تو میرے دماغ کی رگیں چٹخنے لگتی ہیں۔ ہاتھ پائوں سرد ہونے لگتے ہیں۔ لڑنے جھگڑنے سے فرصت پا کر کبھی کبھار میرے بیٹے سرسری انداز میں میری خیریت پوچھنے آئیں بھی، تو اچانک انھیں اپنے کئی کام یاد آ جاتے ہیں… اور پھر وہ ایک ایک کر کے شدید مصروفیت کا بہانہ بنا کر چل دیتے۔ میرے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی آئیں، تو میری ہکلاہٹ، بے بسی اور میرے کمرے سے اٹھتی بساند سے گھبرا کر جلد پلٹ جاتے ہیں… اور میں درودیوار سے لپٹی اداسی کو سینے سے لگائے، دکھ کے اندھے غار میں پاتال تک گرتا چلا جاتا ہوں… میرا سانس گھٹنے لگتا ہے۔ سینے کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ تبھی ماضی کی یادیں آ کر مجھے تھام لیتی ہیں۔ میرے بچھڑے ہوئے لمحات، دوست احباب، والدین، بہن بھائی، میرا بچپن اور میری جوانی، سب یادوں کے موتی بن کر آنسوئوں کی دھند میںاترتے چلے جاتے ہیں۔

آہ! اب میں اپنے بچوں کو اپنی مرضی سے روک بھی نہیں سکتا۔ انھیں اپنے پاس بیٹھنے پر مجبور بھی نہیں کر پاتا۔ اب خاموش رہنا میرا مقدر بن چکا۔ میں جو کبھی شیر کی طرح دہاڑا کرتا تھا۔ اپنے محکمے میں جس کی دھوم تھی، جس نے کبھی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دی تھی۔ جس کے کلف شدہ لباس ہر وقت الماری میں تیار لٹکے رہتے تھے… اب گندگی کی پوٹ بن چکا، نوکر صفائی کرتے ہوئے ناک بھوں چڑھاتے ہیں… اور نوکر چھٹی پر چلا جائے‘ تو ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے… آہ اولاد سے کیسی کیسی باتیں سنتا ہوں۔ بہوئوں کے تبصرے میرے کانوں میں انگارے کی طرح گرتے ہیں۔

’’پتا نہیں ابا جی نے کون سے گناہ کیے تھے جن کی سزا انھیں ایسی صورت میں بھگتنا پڑ رہی ہے… اٹھ کر پانی بھی نہیں پی سکتے۔‘‘ ’’سنا ہے ابا جی بڑے غصے والے تھے۔ پتا نہیں کس کی آہ لگ گئی۔ توبہ توبہ… ایک تو بڑھاپا، اوپر سے معذوری۔ اللہ کسی کا یہ حال نہ کرے… ورنہ اس عمر میں تو بوڑھے اللہ سے لو لگا لیتے اور نماز روزہ کرتے ہیں۔‘‘ ’’نماز روزہ کبھی جوانی میں یاد نہیں آیا… تبھی تو اللہ نے بڑھاپے میں بھی اس کی توفیق چھین لی۔‘‘ ’’توبہ استغفار۔ اللہ بڑھاپا دے تو عزت کا۔ موت دے، تو عزت کی۔‘‘

’’اپنی بیوی کو سخت تنگ رکھا…‘‘ ’’ہش چپ کرو، کچھ اور بھی داستانیں مجھے معلوم ہیں… بس توبہ ہی کرو۔‘‘ ایسے ڈھیروں جملے میں بے بسی سے سنتا۔ نوکر چاکر جو مجھے صاف کرنے آتے‘ ان کے کھردرے ہاتھوں اور چلتی زبانوں پر بھی یہی ذکر ہوتا۔ ’’اللہ ایسی زندگی سے تو موت بھلی، کتنا جی لیا ہے بابا جی… اتنی بے بسی سے اور کتنا جئیں گے۔‘‘ میرے دل سے ہوک اٹھ کر میرا احاطہ کر لیتی۔آہ! یہ کیسا وقت ہے؟ یہ کیسا لمحہ آن لگا؟ اگر یہ وہی استھان اور زمین ہے، تو پھر یہ انقلاب، یہ گردشیں کہاں سے حملہ آور ہو گئیں؟ یہ دولت جب بارش کی طرح برس رہی تھی تب لوگ کہتے تھے: ’’فراز بہت سیانا ہے… ’’فراز بہت خوش قسمت ہے… وہ مٹی میں بھی ہاتھ ڈالے تو سونا بن جاتی ہے۔‘‘

آہ! تب امارت تھی اور دولت، رعب‘ دبدبہ اور شان تھی‘ چہل پہل تھی… لوگوں سے مراسم اور رتبے کو سلام تھے! دوستیاں تھیں، مگر… اب سب کچھ تتر بتر ہو چکا۔ آج وہی فراز‘ نشیب بن چکا۔ اب نہ دوستیاں رہی ہیں نہ شان و شوکت۔ اب بیٹوں کے اپنے دوست اور حوالے ہیں اور ان حوالوں میں میرا کہیں گزر نہیں… سارا کروفر ماضی کی گردبن کر اڑ چکا۔ آہ! اس تنہائی اور کرب انگیز حالت میں صرف میرا پوتا ہی مجھے دیکھنے چلا آتا ہے۔ وہ کئی کئی منٹ چپ چاپ کھڑا رہتا ہے۔ شاید اس کا ننھا سا دل میری محبت سے لبریز اور میری بیماری کے سانحے سے دکھ میں ڈوبا ہوا ہے… وہ آنکھوں کے سامنے اپنے دادا کو مرتے دیکھ رہا ہے…

آہ! کبھی میں بھی اس عمر کا تھا، تب میرے دادا جان بستر مرگ سے جا لگے۔ میں بہت دکھ سے سوچا کرتا کہ اگر دادا جان مٹی کے نیچے چھپ گئے‘ ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو گئے، تو مجھے ’’چَن پُتر‘‘ کہہ کر کون پکارے گا؟ کون مجھے مزے مزے کی کہانیاں اور زندگی کے قصّے سنائے گا؟ کون قدم قدم پر میرا خیال رکھے گا؟ میرا بچپن ان کے شفیق سینے سے لگ کر کہانیاں سنتے گزرا تھا… میری ان سے بڑی دوستی تھی… وہ مجھے دعائیں دیا کرتے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے کام کر کے مجھے بہت خوشی ہوتی۔

میرا پوتا احسن شاید میری طرح بہت حساس ہے۔ شاید وہ بھی میرے بارے میں اسی طرح سوچتا ہے جس طرح میں اپنے دادا کے لیے سوچا کرتا تھا۔ میرے مرنے کے بعد شاید اس بے وفا لالچی گھرانے میں وہ واحد ایسا فرد ہو گا جس کے آنسو بے ریا ہوں۔ وہ میری مغفرت کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے گا، تو اس میں دنیاداری اور دکھاوا نہیں ہو گا۔ اس کی سچی محبت میری قبر کو روشن رکھے گی۔ زندگی بھر انسان بھاگ دوڑ کرتا، کماتا اور کماتا ہی چلا جاتا ہے۔ لیکن جو اصل کمائی ہے‘ اس کا اسے خیال ہی نہیں آتا۔ لیکن آج جب زندگی کی شام کی دہلیز پر بیٹھا گنی چنی گھڑیاں گزار رہا ہوں، تو مجھے شدت سے احساس ہو رہا ہے… کاش میں نے نیکی کا کوئی کام ایسا کیا ہوتا، جو اپنے ساتھ لے جا سکتا۔ کاش میری عمر اس طرح نہ گزرتی جیسے گزر گئی۔

لیکن شاید میرا پوتا میرے لیے بخشش کا ذریعہ بن جائے۔ اس کے سچے دل سے نکلی دعائیں مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو کر دیں۔ میں نے کبھی اللہ کے بارے میں اس طرح نہیں سوچا تھا۔ لیکن اب میری سوچیں صرف اسی لفظ کے گرد جمع ہیں۔ مجھے دنیا چھوڑنے کے احساس نے لرزا رکھا ہے۔ آہ! میری عمر بھر کی کمائی، رشوت، دھاندلی، ہیراپھیری سب میرے لیے زہریلا سودا بن گئی ہیں۔ میں نے خسارے کا سودا خوب سمیٹا اور آج میرا دل غم سے پھٹا جا رہا ہے۔ اپنے والدین کی باتیں اور مولوی صاحب کی نصیحتیں، دل میں تاسف اور پچھتاوے کے سیکڑوں ناگ بن کر ڈس رہی ہیں۔

آہ، میرا بستر بدبودار اور گیلا ہو چکا۔ لیکن مجھے صبح تک ملازم کے آنے تک اسے برداشت کرنا ہے… یااللہ میں تیری عبادت اور تیرے حضور توبہ کرنا چاہتا ہوں… میرے دامن میں آج پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں… میرا ذہن زندہ ہے، مرنے سے پہلے تو مجھے معاف فرما دے۔

٭٭

آج پھر مجھے اپنے پوتے کے قدموں کی خوبصورت آہٹ سنائی دی۔ وہ مجھے دیکھنے آ رہا ہے… آج میرا چہرہ دروازے کی سمت ہے، نوکر جاتے ہوئے مجھے اس طرف کروٹ دلوا گیا تھا۔ شکر ہے کہ آج میں جی بھر کے اپنے پوتے کو دیکھ سکوں گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میری آنکھیں کھلی دیکھ کر وہ بے تابی سے آ کر مجھ سے لپٹ جائے۔ میرے پاس بیٹھے‘ مجھ سے باتیں کرے… تب میں اشاروں سے اسے اپنی محبت کا یقین دلائوں گا۔ اس سے کہوں گا، وہ میری بخشش کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ میرے بیٹے تو جائداد کے جھگڑوں میں بدنصیب باپ کو یکسر فراموش کر چکے۔

آہ، میں ان سے کس قدر مایوس ہوں۔ مگر میرے پیارے پوتے، میری جان‘ میرے جگر کے ٹکڑے، میری آئندہ نسل کے امین، میں تم سے مایوس نہیں۔ بوڑھے کی منتظر اور پیاسی آنکھیں دروازے کی سمت جمی تھیں۔ اس کا دل آنے والے کو دیکھنے کے لیے شدید بے چین تھا۔ وہ اس کے پاکیزہ ذہن و زبان سے اپنے لیے محبت کے کلمات سننے کا تمنائی تھا۔ تبھی دروازہ دھیمی سی آواز کے ساتھ کھلا… تیرہ چودہ سالہ لڑکے نے اندر جھانکا… اس کے ساتھ اسی کی عمر کا ایک لڑکا بھی تھا، غالباً ہم جماعت! ’’اچھا تو یہ ہے تمھارے دادا جان کا کمرا؟ بہت خوب۔‘‘ بوڑھے دادا کی التجا بھری نظریں پوتے کے چہرے کو حسرت و یاس سے دیکھ رہی تھیں۔ دادا کی آنکھوں میں اُمید کے جگنو چمک رہے تھے… جبڑوں کے اندر زبان کانپ رہی تھی۔ وہ اسے دل میں پکار رہا تھا: ’’میرے پاس آئو… آئو میرے پاس بیٹھو۔ مجھے اپنے نرم گرم ہاتھوں کا لمس دے دو۔‘‘

بوڑھے کے چہرے کی جھریوں میں الوہی مسکراہٹ اور خوشی کی کرنیں جگمگا رہی تھیں۔ مگر اس کا پوتا اپنے دوست کے ساتھ باتوں میں مگن تھا… اس نے سرسری نگاہ سے دادا کو دیکھا، لیکن شاید وہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ نیم وا آنکھوں کے اندر سے پھوٹتی روح کی کرن اسے بہت پیار، شفقت، محبت و حلیمی اور حسرت سے دیکھ کر اس کی بلائیں لے رہی ہے۔ ان آنکھوں میں حسرت بھری پکار ہے، ایک عجیب پکار‘ اپنی طرف متوجہ کرنے کی پکار۔ ایک ڈوبتے ہوئے انسان کی پکار… ایک مرتے ہوئے بوڑھے کی چیخ۔

’’ہاں کمرا ٹھیک ٹھاک ہے۔ کافی بڑا ہے۔‘‘ اجنبی لڑکا بڑے شوق سے کمرے کا جائزہ لے رہا تھا۔پوتے نے آگے بڑھ کر کھڑکیوں سے پردے ہٹا دیے۔ پھر بولا ’’اور دیکھو، یہاں سے باہر کا منظر کتنا خوبصورت نظر آتا ہے۔‘‘
’’اوہ بہت خوب… رئیلی ویری نائس…‘‘ ’’میں کئی روز سے اس کمرے کا جائزہ لے رہا ہوں۔ ماما نے کہا ہے، دادا کی ’’ڈیتھ‘‘ کے بعد تم اپنا کمپیوٹر اس کمرے میں سیٹ کر لینا۔ میرا خیال ہے، میں اسے اپنا ’’اسٹڈی‘‘ روم بنا لوں۔ ماما نے کہا ہے اس کمرے میں وہ مجھے نیا فرنیچر اور نئے پردے لگوا کر دیں گی۔‘‘ ’’اوہ ویری گڈ… پھر تو ہم سب دوست تمھارے اس کمرے میں خوب مزے کیا کریں گے۔‘‘ ’’وائے ناٹ‘‘ (کیوںنہیں۔) وہ دونوں اس کی طرف دیکھے بغیر نیچے اترتے چلے گئے۔ بوڑھے کو لگا جیسے چاروں طرف اچانک گھٹاٹوپ اندھیرا چھا گیا۔ جیسے ساری عمر رائیگاں چلی گئی… جیسے سب حاصل، لاحاصل ہو چکا۔

ذہن کی سلیٹ پر لفظ کسی بھٹکی روح کی طرح نمودار ہوئے اور قبرستانوں میں سرسراتی ہوائوں اور سوکھے پتوں کے ساتھ مل کر بین کرنے لگے۔ میری قبر کے راستے پر گھاس اُگنے لگے لگی تو میں یہ سمجھوں گا اس شہر میں میرا کوئی نہیں… کوئی نہیں میری قبر پر اندھیری رات کو جب کوئی ستارہ ٹمٹائے گا اور مجھ سے پوچھے گا، کیا کوئی ہاتھ ایسا نہ تھا جو چراغ ہی جلا دیتا تو میں کہوں گا… نہیں، اب اس دنیا میں میرا کوئی نہیں، کوئی نہیں

میرا کتبہ بھی کسی جھکڑ سے ٹوٹ کر گر جائے گا
تو اس بے نشان قبر کو دیکھنے کوئی نہیں آئے گا
تو میں سمجھوں گا، میرا کوئی نہیں… میرا کوئی نہیں

دکھ بادل کی طرح چاروں طرف سے امڈ آیا۔ غم بارش کی طرح دل کے آس پاس برسنے لگا۔ آنسوئوں کے بے وقعت قطرے آنکھوں سے بہ کر کانوں کی لو تک چلے گئے۔ تبھی دروازے پہ دستک ہوئی۔ اس نے آنسوئوں کی دھند کے پار دیکھا… دو سائے پلنگ کے قریب آتے محسوس ہوئے۔

’’سلام صاحب جی۔‘‘ ’’السلام علیکم صاحب‘‘ دونوں آوازیں اجنبی سی تھیں۔ پھر کسی نے بہت پیار سے اس کے لرزتے رعشہ زدہ ہاتھوں کو تھاما اور اس کی ابھری رگوں والے ہاتھ کی پشت پر پیار سے بوسہ ثبت کیا۔ اس بوسے میں عقیدت اور محبت کے سارے جذبے پوشیدہ تھے۔اس کی خشک زبان تیزی سے گردش کرنے لگی۔ وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے؟ جو اتنا مہربان ہے… جس کے ہاتھوں میں محبت کی گرمجوشی ہے۔ تبھی آنے والے نے خود ہی تعارف کروا دیا۔

’’صاحب جی، میں ہوں‘ آپ کا ملازم خادم حسین۔‘‘ ’’خ…خ…خ…‘‘ اس نے بولنے کی کوشش کی۔ ’’صاحب جی، یہ میرا بیٹا ہے جی میرے ساتھ، نذیر حسین، نذیرحسین‘ سلام کر صاحب کو۔‘‘ بوڑھے نے گیلی آنکھیں جھپک جھپک آنسوئوں کی دھند صاف کر کے دیکھا۔ اس کا پرانا ملازم اپنی تمام تر تابعداری، فرماں برداری، عقیدت اور محبت کے جذبوں کے ساتھ پلنگ کے ساتھ زمین پر بیٹھا تھا۔ ’’صاحب جی! آپ کی بیماری کا پتا ہی بہت دیر سے لگا۔ وہ ہے نا جی ہمارے گائوں کا حاکم دین جو ڈرائیوری کرتا تھا آپ کی کار کی… وہ آج کل دبئی گیا ہوا ہے۔ اس کے جاننے والے سے پتا چلا ورنہ میں آپ کی خدمت میں بہت پہلے حاضر ہو جاتا جی۔‘‘

بوڑھے کے کمزورکانپتے ہوئے ہاتھ گرمجوشی اور محبت بھرے ہاتھوں سے حصار میں عجیب سکون محسوس کر رہے تھے۔ اور یہ گرمجوشی عہد رفتہ کی یاد دلا رہی تھی… وہ عہد رفتہ جو اب کھنڈر ہو چکا۔ اس نے اپنے ملازم کو پہچان لیا جس نے پندرہ برس گھر کام کیا تھا۔ ’’صاحب جی جس دن سے آپ کی بیماری کا پتا چلا ہے، میری بیوی، بچیاں اور بہو آپ کی صحت کے لیے قرآن شریف کا ختم کر کے دعائیں مانگ رہی ہیں۔ اللہ آپ کو حیاتی دے۔‘‘
خادم حسین نے بوڑھے مالک کے سر کے نیچے دوسرا تکیہ رکھ کر سر اٹھا دیا تاکہ وہ انھیں صاف طور پر دیکھ سکے۔ ’’آپ کے تو ہم پر بہت احسان ہیں جی۔ آپ کی نیکی کون بھلا سکتا ہے۔ نذیر حسین کی فیس کے پیسے جب بھی کم پڑ جاتے، تو صاحب آپ ہی سے مانگے۔ آپ نے کبھی انکار نہیں کیا۔آج یہ اللہ کے فضل سے ڈاکٹر بن گیا ہے۔ آپ کی یہ نیکی ہم کبھی نہیں بھلا سکتے۔ پھر صاحب جی میری بیٹی کی شادی آپ نے اپنے خرچے پر کروائی… بیوی کے آپریشن کے لیے رقم آپ نے دی۔ میرا سارا کنبہ آپ کو دعائیں دیتا ہے۔ آپ کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں سب نے!‘‘ وہ بول رہا تھا۔ اس کی آواز مالک کے احسانات یاد کرتے ہوئے بھرا سی گئی۔ تبھی وہ بولتے بولتے ٹھٹکا:

’’صاحب جی، صاحب جی۔‘‘ بوڑھے کی آنکھیں اپنے ملازم کے چہرے پر ایسے جمی تھیں جیسے آبلہ پا، پیاسے، صحرا نورد انسان کو اچانک ٹھنڈا میٹھا چشمہ نظر آ گیا ہو۔ اس کے چہرے پر الوہی سکون آ کر ٹھہر گیا تھا۔
خادم حسین اپنے مالک کی ساکت آنکھیں دیکھ کر چونکا، پریشان ہوا اور پھر بے اختیار اسے آوازیں دینے لگا۔ لیکن اس کے مالک کی تاسف بھری روح ایسی ہی کسی نیکی کی منتظر تھی جو ابد کے راستوں کا زاد راہ بن سکے۔ ملازم تڑپتا رہا اور بوڑھا اپنی ہتھیلی پہ نیکی کا یہ چھوٹا سا دیا رکھے ابدکے سفر پر روانہ ہو گیا۔