function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

وقت کی بات

رضیہ جمیل | اردو ادب

دالان میں مدھم سی روشنی تھی۔ ناصرہ رات سوتے وقت سارے گھر کی بتیاں بجھا کر دالان میں چھوٹی بتی جلتی رہنے دیتی۔ آج بھی جب بڑی بیٹی اور دونوں چھوٹے بیٹے اپنے کمروں میں چلے گئے، تو وہ ساری فالتو بتیاں بجھا چھوٹی بتی روشن کر کے اپنے کمرے میں آ گئی۔ سلیم ابھی ٹی وی لائونج میں تھے۔ کوئی پروگرام چل رہا تھا، وہی دیکھ رہے تھے۔ پروگرام ختم ہوا، تو انھوں نے اٹھ کر ٹی وی بند کیا۔ دروازے دیکھے بھالے اور بتی بجھا دالان میں آ گئے۔ نیم روشنی میں اچانک اُن کا پائوں کسی شے سے الجھا اور وہ گرتے گرتے بچے۔ ایک ہاتھ سے انھوں نے دیوار تھام لی پھر جھک کر دیکھا کہ پائوں کس چیزسے اُلجھا ہے۔

یہ ٹیلی فون کی تار تھی۔ وہ تار ہاتھ میں لیتے ہوئے حیرانی سے دیکھنے لگے۔ ٹیلی فون دالان کے سرے پر لمبوتری اونچی میز پہ رکھا رہتا تھا۔ لیکن تار ان کی بیٹی‘ عامرہ کے کمرے میں جا رہی تھی۔ ٹیلی فون اپنی مخصوص جگہ میز پر نہیں تھا۔ ’’ٹیلی فون عامرہ کے کمرے میں؟‘‘ انھوں نے حیران ہو کر اپنے آپ سے سوال کیا۔ پھر سوال سے سوال بنا: ’’اس وقت کسے فون کر رہی ہے؟‘‘ فون کسی وقت بھی کسی کو کیا جا سکتا تھا۔ لیکن بعض اوقات انسان کی چھٹی حس اچانک بیدار ہو جاتی ہے اور خطرے کی گھنٹیوں کے الارم بجنے لگتے ہیں۔

سلیم چند لمحے تار پکڑے عامرہ کے کمرے کے بند دروازے کو تکتے رہے۔ پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے دروازے کے قریب آئے۔ دروازہ کھٹکھٹانے کو ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ہاتھ رک گیا۔ اندر سے عامرہ کی آواز آ رہی تھی۔ وہ ہولے ہولے بول رہی تھی جیسے سرگوشیوں میں باتیں کر رہی ہو۔ یقینا وہ فون پر کسی سے ہمکلام تھی۔ باتیں کرنے کا دھیما اور چھپا چھپا انداز بتا رہا تھا کہ وہ جس سے باتیں کر رہی ہے، اسے منکشف ہونے سے بچانا مقصود ہے۔
جوان لڑکی چھپ چھپ کر جب سرگوشیوں میں فون پر بات کرے، تو اس کا مخاطب یقینا اور یقینا… سلیم احمد اپنی سوچ سے گھبرا گئے۔ برداشت نہ کر پائے اور دروازے پر زور سے ہاتھ مارا۔

’’کون؟ اندر سے عامرہ کی کچھ گھبرائی سی آواز آئی۔ اس نے فون پر جلدی سے کچھ کہا۔ پھر پکارا ’’کون ہے؟‘‘ ’’میں ہوں دروازہ کھولو۔‘‘ ’’ابو۔‘‘ ’’ہاں کھولو دروازہ۔‘‘ عامرہ نے فون جلدی سے پلنگ کے نیچے رکھ دیا۔ اچھل کر پلنگ سے نیچے اتری اور دروازہ کھولتے ہوئے بولی ’’ابو آپ۔‘‘ سلیم نے اس کے سراپے پر نگاہ ڈالی۔ عامرہ نہیں جانتی تھی کہ ابو اس سے فون کے متعلق کوئی استفسار کرنے والے ہیں۔ اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ وہ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی ’’ابو جی… کوئی کام۔‘‘ ’’تم کیا کر رہی ہو؟‘‘ ’’پڑھ رہی ہوں۔‘‘ ’’فون یہاں کیوں آیا ہے؟‘‘

’’وہ… وہ ابو جی… میری ایک سہیلی… وہ… اس نے کہا تھا… فون… ہاں فون کروں گی۔‘‘ ’’آیا فون؟‘‘ ’’نہیں ابھی تک تو نہیں آیا۔ شاید آ جائے… اس لیے… میں فون… فون کمرے میں لے آئی تھی۔ ابو پتا نہیں کس وقت فون کر دے۔‘‘ ’’ہوں۔‘‘ ’’جی ابو۔‘‘ ’’اور ابھی کس سے باتیں کر رہی تھیں؟‘‘ سلیم کے آہنی لہجے سے عامرہ بوکھلا گئی۔ رنگ فق ہو گیا۔ بار بار زبان ہونٹوں پر پھیرنے لگی۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے باپ کو دیکھا… اس کی ٹانگیں لرزنے لگیں اور ہاتھوں میں نمی آ گئی۔ ’’کسے فون کر رہی تھیں؟‘‘ سلیم احمد نے پھر سرسری انداز میں پوچھا۔ وہ ہکلاتے ہوئے بولی ’’ابو… ایک سہیلی… اس کا فون تھا… میں، میں بتانا بھول گئی تھی کہ وہ…‘‘

سلیم احمد نے پھر رک کر آرپار ہوجانے والی نگاہ بیٹی پر ڈالی اور گمبھیر لیکن سخت لہجے میں بولے ’’چلو اٹھائو فون… اور جا کر اس کی جگہ پر رکھو… آئندہ فون اس کمرے میں نہیں آئے۔‘‘ عامرہ کے چہرے پر ویرانی کی دھول پھیل گئی۔ سر جھکائے بولی ’’اچھا ابو جی!‘‘ سلیم احمد کمرے سے نکل گئے۔ وہ بوجھل قدموں سے چلتے اپنے کمرے میں آئے۔ خطرے کے الارم اب بھی بج رہے تھے۔ انہونی کے ہونے کا احساس دل و دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا۔ وہ پلنگ پر لیٹ گئے۔ انھیں سخت ذہنی دھچکا لگا تھا۔ انیس سالہ عامرہ ان کی بڑی بیٹی تھی۔ بیٹی کو انھوں نے شرافت اور پاکیزگی کے جس معیار پر رکھا تھا، اس بظاہر معمولی سے واقعے سے اُس معیار سے وہ گرتی محسوس ہوئی۔

وہ بہت مضطرب اور بے چین تھے۔ بار بار کروٹیں بدلتے سوچتے اور پریشان ہو رہے تھے۔ کئی بار جی چاہا کہ برابر میں سوئی ناصرہ کو جھنجھوڑ کر جگائیں اور اس سارے واقعے‘ ساری افتاد کا ذکر کر دیں۔ لیکن پتا نہیں کیوں انھوں نے ناصرہ کو نہیں جگایا۔ آنکھیں تو ان کی سونا ہی بھول گئی تھیں۔ وہ سوچوں میں ڈوبے بار بار کروٹیں بدل رہے تھے۔ کئی بار خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہو سکتا ہے، عامرہ کی کسی ہم جماعت، کسی سہیلی کا فون ہو۔ وہ رات کی خاموشی کے باعث کھسرپھسر کے انداز میں اس سے باتیں کر رہی ہو۔ لیکن اس یقین کو وہ خود ہی جھٹلا دیتے۔ عامرہ کا چہرہ، حرکات اور ہکلانا اتنے بڑے ثبوت تھے کہ خود یقین بھی بے یقین ہوا جا رہا تھا۔ یہ بات سو فیصد پکی تھی کہ ناصرہ کسی لڑکے سے باتیں کر رہی تھی۔ سلیم احمد سوچ رہے تھے اور ان کی سوچیں ایک ایسے ہی چہرے پر آ کر ٹھہر گئیں۔ بیس سال پہلے کا چہرہ، رابعہ کا چہرہ… ان کی بہن کا چہرہ۔

٭٭

رابعہ بھی ان دنوں عمر کے اسی دور میں تھی‘ جوان اور خوش شکل۔ بی اے کے آخری سال میں تھی۔ ایک دن کالج جاتے وقت وہ صحن میں ان کے قریب سے گزری‘ تو اس کی کتاب سے ایک رقعہ گر گیا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ سلیم احمد نے رقعہ اٹھاتے ہوئے سرسری انداز میں پوچھا۔ جواب دینے کے بجائے رابعہ کا رنگ فق ہو گیا۔ آنکھیں پھٹ جانے کی حد تک کھل گئیں۔ ٹانگیں لرزنے لگیں اور کانپتا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے سلیم کے رقعہ کھولنے سے پہلے ہی لے کر کہا ’’کچھ نہیں… بھائی… جان… یہ … یہ ہم… میری… میری… ایک سہیلی کا رقعہ ہے۔ اس نے لکھا تھا‘ شہ شہ شاہینہ کا… رقعہ ہے… وہ…؟‘‘

بات ختم کیے بغیر وہ تیزی سے قدم اٹھاتی ڈیوڑھی کی طرف دوڑ گئی۔ تب بھی سلیم کی چھٹی حس نے انھیں چونکایا‘ انہونی کے ہونے کا یقین دلایا۔ وہ بہت مضطرب، بڑے بے چین ہو گئے۔ پاکیزگی اور شرافت کا معیار‘ تو ان دنوں آج کل سے کہیں اونچا اور کڑا تھا۔ سلیم کو رابعہ اس معیار سے نیچے گرتی دکھائی دی۔ اس وقت وہ غصے میں بھر گئے۔ نس نس میں چنگاریوں کی جلن ہونے لگی۔ جوش دبائے نہیں دبا، تو سیدھے ماں کے پاس باورچی خانے میں گئے۔ ’’کیا بات ہے سلیم؟‘‘ اماں ناشتے کے برتن سمیٹتے ہوئے بولیں۔ ’’آپ‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئے۔ ’’کیا ہے۔‘‘ ’’رابعہ۔‘‘ ’’کیا ہوا رابعہ کو؟‘‘ ’’کالج چلی گئی۔‘‘ ’’وہ تو مجھے پتا ہے۔ ناشتا کر کے ہی گئی ہے۔‘‘
’’اماں!‘‘ ’’ہوں۔‘‘ ’’رابعہ کو کالج سے اٹھا لو۔‘‘ ’’کیا؟‘‘ ’’ہاں اماں اس کی پڑھائی آج سے بند۔‘‘ ’’مگر کیوں؟‘‘ ’’بس کہہ دیا نا میں نے، وہ کالج نہیں جائے گی۔‘‘ اماں سارا کام چھوڑ چھاڑ اس کے پاس آن کھڑی ہوئیں ’’کیا کہہ رہا ہے تو… کیاہوا کوئی خاص بات ہو گئی۔‘‘

’’ہاں خاص بات ہی ہو گئی۔‘‘ ’’کچھ بتائے گا بھی؟‘‘ ’’بتائوں گا۔‘‘ سلیم خود بھی سمجھ نہ پا رہے تھے کہ ماں سے کیا کہیں؟ رقعہ اور رابعہ کی حالت دونوں غماز تھیں کہ سلیم نے جو سوچا وہ سو فیصد درست ہے۔ پھر بھی زبان زیب نہ دیتی تھی کہ وہ ماں سے یہ سب کچھ کہہ دیں۔ بات گول مول کر کے ٹال دی اور یہی کہا ’’رابعہ کالج سے آجائے‘ تو بتائوںگا۔‘‘ اس دن سلیم اتنے بے چین اور پریشان تھے کہ وہ دفتر بھی نہ جا سکے۔ نئی نویلی دلھن ناصرہ نے بھی پریشانی بھانپ کر وجہ پوچھی تو ٹال گئے۔ رابعہ کالج سے آئی، تو خوفزدہ تھی۔ کترائی کترائی سی اپنے کمرے میں جانے لگی‘ تو سلیم نے اماں کے سامنے اسے بلایا۔ اماں کلیجہ تھام کر بیٹھی تھیں۔ سلیم کا چہرہ آہنی تاثرات لیے تھا۔ رابعہ قصور وار تھی، اس لیے ماں اور بھائی کی عدالت میں پیش ہوتے بے حد گھبرا رہی تھی۔ ’’رابعہ‘‘ سلیم نے سخت لہجے میں کہا۔

’’جی۔‘‘
’’وہ رقعہ کہاں ہے؟‘‘
’’جی… جی، وہ… میں نے پھاڑ دیا۔‘‘
’’کس کا تھا؟‘‘
’’م… مم…میری… سہیلی…‘‘
’’جھوٹ… مت بولو…سچ سچ بتائو۔‘‘

رابعہ کے تن بدن میں سوئیاں سی چبھنے لگیں۔ سنساہٹ سی رگوں میں ہونے لگی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا لہرانے لگا۔ سلیم ایک دم غرایا ’’کون ہے وہ جس نے تمھیں رقعہ لکھنے کی جسارت کی؟‘‘ ’’وہ… وہ…‘‘ وہ ہکلائی۔
سلیم نے بھبکی ماری ’’خبردار جھوٹ بولا، سچ سچ بتائو‘ کس سے خط کتابت ہوتی ہے… تمھاری۔‘‘ رابعہ چکرائی۔ پھر ماں کی گود میں گرتے ہوئے منہ چھپا کر بے اختیار رونے لگی۔ ماں تو جیسے پتھرا سی گئی۔ سلیم غصے سے لال بھبوکا ہوتے ہوئے بولا ’’سمجھ آ گئی اماں؟ صبح میں یہی بات تمھیں بتانا چاہتا تھا۔ پوچھ اس سے کون ہے وہ۔‘‘ اماں نے بات سمجھتے ہوئے رابعہ کی طرف دیکھا جو اس کی گود میں منہ چھپائے روئے جا رہی تھی۔ ایک دم وہ غصے سے بھر گئیں۔ دماغ جیسے پھک سے اڑ گیا۔ یہ بات تو کبھی اس کے وہم و گمان میں بھی نہ آئی تھی کہ بیٹی کسی سے آنکھ مٹکا کرے گی۔

انھوں نے رابعہ کے بالوں میں مٹھی بھر کر سر جھٹکے سے اونچا کیا۔ خود بھی اٹھیں اور اسے گھسیٹتے ہوئے چارپائی پر دھکا دے گرایا۔ ’’حرام خور… ذلیل تیری ایسی جرأت… خون نہ پی لیا‘ تو کہنا!‘‘ اماں نے لاتوں گھونسوں مکوں سے رابعہ کو اتنا پیٹا کہ خود ہی بے حال ہو گئیں۔ جب بے حال ہوئیں‘ تو وہیں پھسکامار بیٹھتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ کر بین کرتے رونے لگیں۔ سلیم دروازے میں کھڑا پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ ناصرہ ڈری سہمی دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔

اماں کا رونا دھونا بڑھا‘ تو ناصرہ ڈرتے ان کے قریب آ کر بولی ’’اماں حوصلہ کریں۔ میں رابعہ کو سمجھا دوں گی۔ آپ اس طرح کریں گی، تو بات محلے میں پھیل جائے گی۔ آپ صبر سے کام لیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ اماں کو تسلی دلاسا دے کر وہ رابعہ کی طرف آئی، اسے کندھے سے پکڑ کر اٹھایا اوراپنے ساتھ کمرے میں لے گئی۔ پہلے اسے چپ کرایا اور پھر پیار سے اگلوایا… رقعہ جمشید کا تھا۔ جمشید متوسط گھرانے کا پڑھا لکھا لڑکا تھا۔ ایم ایس سی کے بعد کسی تحقیقی ادارے سے وابستہ تھا۔ اچھی تنخواہ تھی۔ چند مہینے پہلے ایک اسٹور میں دونوں کا اچانک ٹکرائو ہوا۔ جوانی دیوانی تو ہوتی ہے۔ پسند کا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔ جمشید کو رابعہ اچھی لگی۔ رابعہ کے من کو جمشید بھایا۔ دونوں دوسری دفعہ کالج کے راستے میں ملے اور پھر ملنے لگے۔ جب نہ مل پاتے، رقعوں سے احوال دل کہہ لیتے۔

جمشیدرابعہ سے شادی کا خواہش مند تھا۔ لیکن من پسند لڑکی سے شادی کی راہ میں کچھ مشکلات حائل تھیں۔ سب سے بڑی مشکل اس کی اپنی منگنی تھی جو اماں نے بھتیجی کے ساتھ بچپن ہی میں کر دی تھی۔ جمشید ان رکاوٹوں اور مشکلوں سے نپٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ’’رابعہ شادی کروں گا‘ تو صرف تم سے… نہیں‘ تو کسی سے بھی نہیں۔ تم میرا انتظار ضرور کرنا۔‘‘ وہ اکثر اس سے کہا کرتا۔ رابعہ خوش آئند تصور سے خوش ہو جاتی۔ اسے اپنی محبت پر ایمان کی حد تک یقین تھا۔ یہی یقین اسے جمشید پر بھی تھا۔ دنیا بدل سکتی تھی‘ لیکن جمشید بدلنے والا نہیں تھا۔ ناصرہ نے ساری کہانی سنی۔ پھر بولی ’’تو نے اچھا نہیں کیا رابعہ۔‘‘

’’بھابی۔‘‘ ’’زندگی کے فیصلے ماں باپ کے ایما پر ہی ہونے چاہئیں۔‘‘ ’’جمشید اپنے ماں باپ کو رضا مند کر رہا ہے۔ وہ انھیں لے کر اماں کے پاس آئے گا۔‘‘ ’’وہ رضا مند نہ ہوئے‘ تو۔‘‘ رابعہ نے گھبرا کر ناصرہ کو دیکھا۔ اس نے ہلکے پھلکے انداز میں رابعہ کو ڈانٹا۔ حالات سمجھائے۔ اماں اور سلیم کی سماجی حیثیت کا احساس دلایا۔ اپنے طبقے کی سوچ و فکر سے آگاہ کیا۔ لیکن رابعہ کسی بات کا اثر لیے بغیر بولی ’’بھابی جمشید بہت اچھا انسان ہے۔‘‘
’’تیری آنکھوں پر پٹی بندھی ہے رابعہ، تُو اس کی اچھائی ہی دیکھے گی۔ برائی تک تو تیری نظر جا ہی نہیں سکتی۔ وہ تجھ سے اپنی ہر برائی چھپائے گا تبھی تو اس پر اندھا اعتماد کرے گی۔‘‘ ’’نہیں بھابی نہیں، وہ ایسا نہیں ہے۔ بہت عظیم بہت مخلص ہے وہ۔‘‘

’’تیری عمر اتنی نہیں ہوئی کہ تو ان باتوں کو جانچ پرکھ سکے۔ کیا اپنے آپ اور خاندان کو بدنامی کی تباہی سے ہمکنار کرنا ہے؟ سلیم تو جانے غصے کو کیسے قابو کر رہے ہیںاور اماں… مر جائے گی غم سے جو تو نے اپنی روش نہ بدلی۔‘‘ ناصرہ اسے ڈراتی‘ ڈانٹتی‘ دھمکاتی اور چمکارتی رہی۔ اماں تو جیسے اس اچانک صدمے سے زندہ ہی مر گئی۔ سلیم جانے غصے کو کیسے دباتا رہا۔ اس دن کے بعد سلیم نے رابعہ پر نگاہ تک نہیں ڈالی۔ رابعہ کو کالج سے اٹھا لیا گیا۔ گھر سے نکلنے پر پابندی لگا دی گئی۔ وہ روئی دھوئی‘ چیخی چلائی‘ احتجاج کیا۔ پڑھائی جاری رکھنے کے لیے منت سماجت کی‘ لیکن کسی نے اس کی نہ سنی۔

رابعہ کئی دن کالج نہ گئی۔ جمشید سے نہ ملی اور نہ ہی کوئی رقعہ لکھا‘ تو وہ بے کل اور بے چین ہو گیا۔ اس تک رسائی کے راستے نکالنے کی بہت کوشش کی۔ اس کی ایک سہیلی ڈھونڈ نکالی۔ اس کے ذریعے پیغام بھجوایا۔ لیکن اماں نے سہیلی کی جو درگت بنائی، اس نے آئندہ نامہ و پیام لانے سے صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ کانوں کو ہاتھ لگائے۔ جمشید کی پریشانی انتہا کو پہنچ گئی۔ اس نے تو رابعہ کو بڑے خلوص سے چاہا تھا۔ وہ ان چاہتوں میں ابدیت کا رنگ بھرنے کی کوشش میں تھا۔ ماں باپ کو سمجھا بجھا رہا تھا۔ لیکن اب جو رابعہ پر پابندی لگی، تو ماں باپ سے اپنی بات زبردستی منوانے پر ڈٹ گیا: ’’اگر آپ یہ رشتہ قبول نہیں کریں گے تو میں گھر چھوڑ دوں گا۔ میں نے شادی صرف اور صرف رابعہ سے کرنی ہے۔ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے میرا فیصلہ نہیں بدلے گا۔‘‘

اس کی ضد بڑھی، بغاوت پر آمادہ ہوا۔ گھر چھوڑنے کیا دنیا چھوڑنے کی دھمکی بھی دے دی، تو ماں کا دل پسیج گیا۔ جن گھرانوں میں ماں اور باپ ایک اکائی بن کر جی رہے ہوں، وہاں ماں کا دل پسیج جائے‘ تو باپ کا خودبخود معاملے کے حق میں فیصلہ ہو جاتا ہے۔ جمشید نے ان سے بالآخر بات منوا ہی لی اور دونوں کو رشتے کی بات کرنے رابعہ کے گھر بھیجا۔ لیکن ان دنوں ہر بات عزت کا مسئلہ بنا لی جاتی تھی۔ خاص طور پر لڑکی کی پسند کی جسارت کو معاف نہ کیا جاتا۔ سلیم اور اماں تو خاصے دقیانوسی خیالات کے مالک تھے۔ رابعہ کو مار پیٹ اور گالیاں بک بک کر بھی دل کی بھڑاس نہ نکلی تھی۔ ذلت کا احساس ختم نہیں ہوا تھا۔ جمشید اور رابعہ کے تعلقات بھلے خلوص پر ہی ٹکے ہوں‘ لیکن گھر والوں کے نزدیک جرم قابل معافی نہیں تھا۔

رشتہ آیا جسے انتہائی بیدردی، ذلت اور تحقیر آمیز رویے سے رد کر دیا گیا۔ یہ رشتہ کرنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔ لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں۔ اور اس محبت کو قبول کر کے ازدواجی زندگی کا بندھن باندھ دیا جائے۔ اماں اور سلیم یہ سبکی، یہ ذلت گوارہ کر ہی نہیں سکتے تھے‘ لہٰذا انکار کر دیا گیا۔ رابعہ اب ایک بار تھی جسے اتار پھینکنے کے لیے اماں تگ و دو میں مصروف ہو گئیں۔ رشتے کی تلاش تو پہلے بھی کر رہی تھیں، اب اور تیز کر دی۔ ہر ملنے والے سے کہا، ہر عزیز رشتہ دار کو رشتہ تلاش کرنے کی تلقین کی۔ وچو لنوں سے رجوع کیا اور پھر ایک عام سے گھر کا کلرک لڑکا مل ہی گیا۔

رابعہ بارود کی گٹھڑی گھر میں پڑی تھی۔ کیا خبر کس وقت پھٹ پڑے، تباہی و بربادی پھیلا دے۔ پھٹنے سے پہلے ہی اسے دوسرے گھر کی کرنا تھا۔ اسی لیے جھٹ رشتہ طے کیا اور مہینے کے اندر اندر شادی کر لی۔ رابعہ کو وداع کر کے اماں اور سلیم نے اپنے گھر کی دیواریں تو محفوظ کر لیں، اب بارود پھٹے بھی‘ تو نقصان رابعہ اور اس کے نئے گھر کو ہو سکتا تھا۔ لیکن اب اس کا امکان نہیں تھا۔ بارود سیلا ہو جائے تو پھسپھسا ہو جاتا ہے۔ اس کی طاقت باقی نہیں رہتی۔ دھماکا کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ شادی ہو جانے سے رابعہ بھی سیلا بارود بن کر رہ گئی۔

وہ روتے دھوتے زندگی کے دن گزارنے لگی اور اب تک گزار رہی تھی۔ اب محبت نہیں مالی حالات کا رونا تھا۔ پانچ بچے تھے۔ شوہر کلرک سے ہیڈ کلرک ہو چکاتھا اور بس۔ جمشید مالی طور سے مستحکم‘ تعلیمی لحاظ سے برتر اور اخلاقی اعتبار سے اس کلرک شوہر سے کہیں اونچا تھا۔ لیکن کسی نے یہ نہیں دیکھا اور مستقبل کا نہیں سوچا۔ رابعہ کو محبت کرنے کی ایسی سزا دی جو اسے ساری عمر بھگتنا تھی۔

٭٭

’’اوہ میرے خدا…‘‘ سلیم احمد سوچوں کے تانے بانے میں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے بڑبڑائے پھر پلنگ میں اٹھ کر بیٹھ گئے۔ ’’عامرہ… عامرہ نے بھی وہی کیا جو رابعہ کر چکی۔‘‘ آنکھیں بند کر کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے سلیم احمد نے سر کو دو تین جھٹکے دیے۔ تبھی پلنگ ہلنے سے ناصرہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کروٹ بدلی۔ ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا، کمرے میں مدھم سی روشنی تھی اور سلیم کانوں پر ہاتھ رکھے، بستر میں بیٹھے تھے۔ اس نے پوری آنکھیں کھول کر انھیں دیکھا۔ حیران سی ہوئی۔ آنکھیں جھپکائیں پھر پوری طرح بیدار ہوتے ہوئے گھبرا کر اٹھی۔ ’’سلیم… آپ… سوئے نہیں، کیا ہوا… طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ اس نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔

 ’’کچھ نہیں، کچھ نہیں، سو جائو تم۔‘‘ سلیم نے عجلت سے کہا۔ وہ کمبل پرے ہٹا اس کے قریب آ کر بولی ’’کیا بات ہے؟ پریشان کیوں ہیں؟ سوئے نہیں ابھی تک؟‘‘  وہ ٹکر ٹکر اس کی طرف تکنے لگے۔ عامرہ کے فون کرنے سے وہ اتنے پریشان اور متوحش تھے کہ بات زبان سے نکل ہی نہ سکی۔ ناصرہ بھی پریشان ہو گئی۔ بار بار پوچھنے لگی‘ تو سلیم نے افسردہ لہجے میں ساری بات بتائی۔ ناصرہ کی جان میں جان آئی۔ شوہر کو سرزنشی انداز میں دیکھتے ہوئے بولی ’’بات کا بتنگڑ بنا لیا۔ ضروری تو نہیں کہ وہ کسی لڑکے ہی کو فون کر رہی ہو۔‘‘

’’مجھے یقین ہے۔‘‘ ’’کوئی بات سنی آپ نے جس سے یقین ہوا؟‘‘ ’’سنی تو نہیں۔‘‘ ’’تو پھر؟‘‘ ’’دیکھی ہے۔‘‘ ’’کیا؟‘‘ ’’ناصرہ… میں پورے یقین سے کہہ رہا ہوں۔ میں اس کے کمرے میں گیا، تو وہ بری طرح گھبرا گئی۔ اس کا لہجہ، اڑی رنگت، کانپتی آواز… یقین کرو ناصرہ وہ سہیلی نہیں کسی لڑکے کو فون کر رہی تھی۔ اس کی بالکل وہی حالت تھی جو آج سے بیس برس پہلے رابعہ کی تھی۔‘‘ ’’ہوں۔‘‘ ناصرہ اپنے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے سوچ میں ڈوب گئی۔ ’’میں اس وقت سے پریشان ہوں ناصرہ۔ سوچ رہا ہوں کیا تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرائے گی۔‘‘ ناصرہ چند لمحے سرجھکائے متفکر سی بیٹھی رہی۔ پھر بولی ’’آپ اتنے پریشان نہ ہوںاور نہ ہی عامرہ سے کچھ کہیں۔ میں خود اس سے پوچھ لوں گی۔ وہ میری بیٹی ہی نہیں اچھی دوست بھی ہے۔ مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولے گی نہ ہی کچھ چھپائے گی۔ آپ معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں سب ٹھیک کر لوں گی۔

بس آپ بات کو یہیں ختم کر دیں۔‘‘ سلیم نے بیوی کی طرف دیکھا۔ ناصرہ نے سراثباتی انداز میں ہلایا۔ سلیم کے دل کا بوجھ بیوی سے باتیں کرنے پر کچھ ہلکا ہو گیا۔ ناصرہ نے بار بار سو جانے کے لیے کہا‘ تو وہ بستر پر لیٹ گئے۔ رات کا بہت سا حصہ پریشانی کے عالم میںجاگتے گزارا تھا، اس لیے تھوڑی ہی دیر میں نیند نے آ لیا۔ وہ سو گئے، تو ناصرہ جاگنے لگی۔ ذہنی دھچکا اسے بھی لگا تھا۔ عامرہ سے اسے ایسی امید نہ تھی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ عامرہ نے اس سے یہ بات چھپائی تھی حالانکہ اسے اپنی بیٹی پر پورا اعتماد تھا۔ وہ اپنی تربیت پر نازاں تھی۔ اس کی بیٹی کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتی تھی لیکن یہ بات… یہ بات اس نے چھپائی تھی۔ اس نے کسی لڑکے کو پسند کر لیا‘ اسے محبت کرنے لگی‘ تو اشارۃً کنایتاً ماں سے بھی کہہ دیتی۔ رات کا بقیہ حصہ اس نے آنکھوں ہی میں کاٹا۔ کئی بار جی چاہا کر ابھی جا کر عامرہ سے پوچھے کہ قصہ کیا ہے؟

صبح اس نے عامرہ کو دیکھا، محسوس کیا، جانچا، تو وہ بھی اس نتیجے پر پہنچی جس پر سلیم پہنچے تھے۔ عامرہ باپ سے کترائی کترائی تھی۔ ناشتا بھی ان کے ساتھ نہیں کیا۔ باورچی خانے ہی میں کھڑے کھڑے چائے پی کر کالج چلی گئی۔ گھبراہٹ اور خوف اس پر مسلط تھا۔ ایک ماں یہ بھانپ سکتی تھی۔ ’’دیکھا۔‘‘ سلیم نے عامرہ کے کالج جانے کے بعد دکھ اور پریشانی سے کہا۔ ’’ہوں‘‘ وہ بولی۔ ’’ناصرہ… میں… میں یہ سب برداشت نہیں کروں گا۔‘‘ وہ غصے سے بولے۔ ناصرہ نے جلدی سے کہا ’’میں نے کہا نا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں۔ کیوںخوامخواہ بات مشتہر کرنا چاہتے ہیں… میں سب ٹھیک کر لوںگی۔ آپ اطمینان رکھیں… میں آج عامرہ سے حقیقت اگلوا لوں گی۔ پھر دیکھوں گی کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔‘‘ سلیم خاموش ہو گئے۔

عامرہ کالج سے آ کر سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ کھانا کھانے بھی نہیںآئی۔ گھنٹا ڈیڑھ گھنٹا گزر گیا، تو ناصرہ اس کے کمرے میں گئی۔ وہ لباس تبدیل کیے بغیر بستر پر چت پڑی تھی۔ پریشانی، ڈر اور خوف اب بھی اس کے چہرے سے عیاں تھا۔ ماں کو دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔ ناصرہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی ’’آج یونیفارم نہیں بدلا اور نہ ہی کھانا کھایا، کیا بات ہے؟‘‘ عامرہ نے ماں کی طرف دیکھا ’’کیا ابو نے امی کو کچھ نہیں بتایا۔‘‘اس نے سوچا۔ ناصرہ اس کی نظروں کا سوال جانچ چکی تھی۔ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ ملائمت سے بولی ’’عامرہ! میں تمھیں بیٹی سے زیادہ دوست سمجھتی ہوں۔‘‘ ’’جی… جی…امی۔‘‘ ’’ایک بات پوچھوں، سچ سچ بتائو گی۔‘‘
اس نے سر اثبات میں ہلایا لیکن دل دھک دھک کر رہا تھا۔ ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے تھے۔ ’’رات گئے کسے فون کر رہی تھیں؟‘‘ ’’امی۔‘‘ ’’ڈرو نہیں، گھبرائو بھی نہیں۔ میں تمھاری ماں اور دوست ہوں۔ تم اپنی کوئی بات مجھ سے نہیں

چھپاتیں۔ یہ بھی کہہ دو، کون تھا وہ… ہوں… مجھ پر بھروسا کرو۔‘‘ ناصرہ نے تسلی دی، پیار کیا اور بات اگلوا لی… عامرہ ماں سے جھوٹ نہ بول سکی۔ اس کی گودمیں سر رکھتے ہوئے بولی ’’امی عمیر کا فون تھا۔ میری دوست پنکی کو آپ جانتی ہیں نا… اس کا بھائی ہے۔‘‘ ناصرہ نے دم سادھے سادھے پوچھا ’’تم دونوں ایک دوسرے کو کب سے جانتے ہو؟‘‘ ’’جب سے وہ امریکا سے ایم بی اے کر کے آیا ہے۔‘‘ ’’تجھے یقین ہے کہ وہ تجھ سے شادی کرے گا؟‘‘

’’ہاں امی… اس کے امی ابو مجھے بہت پیار کرتے ہیں۔ پنکی بھی اور عمیر تو…‘‘ وہ آگے کچھ نہ بولی۔ ماں کی گود میں منہ چھپائے پڑی رہی۔ ناصرہ کئی لمحے سوچتی رہی۔ پھر آہستگی سے بولی ’’تو جانتی ہے، ان کی حیثیت ہم سے کتنی بلند ہے۔‘‘ وہ چپ رہی۔ ناصرہ اسے نشیب و فراز سمجھانے لگی۔ ماں باپ کی عزت… لوگوں کی باتیں… لڑکی کی پوزیشن، ناکامی کی صورت میں تاریک مستقبل… بہت کچھ کہا، بڑا سمجھایا۔ عامرہ اسی طرح اس کی گود میں منہ دیے رہی۔ ایک لفظ نہ بولی۔

ماں خاموش ہوئی تو صرف یہی کہا ’’ایسی کوئی بات نہیں امی… عمیر کے ممی ڈیڈی ہمارے ہاں رشتہ لے کر آنے کا سوچ رہے ہیں… آپ … آپ نہ تو نہیں کریں گی نا… ہم دونوں… پیار کرتے ہیں امی… عمیر بہت اچھا ہے… آپ ان سے مل کر تو دیکھیں۔‘‘ ناصرہ پھر عمیر سے ملی اور اس کے امی ابو سے بھی۔ ان کا عندیہ معلوم کیا۔ وہ سب واقعی عامرہ کو بہت چاہتے تھے۔ عمیر کی پسند انھیں پسند تھی۔ وہ دونوں کو شادی کے بندھن میں باندھنے پر رضا مند تھے۔

ناصرہ چند دن معاملے کی نزاکت اور اونچ نیچ کو سوچتی رہتی۔ اس دوران سلیم سے بھی معاملے پر کوئی خاص بات چیت نہیں ہوئی۔ سلیم کی پریشانی ظاہر تھی، وہ گم صم سے ہو گئے تھے۔ عامرہ سے تو بات تک نہیںکرتے۔ کسی کسی وقت تو اسے دیکھ کر خون کھولنے لگتا۔ تاریخ دہرائے جانے سے وہ بہت دکھی اور مضمحل تھے۔ کبھی کبھی تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ضرور ہے، لیکن چشم بصیرت وا ہو، تواس سے سبق سیکھا جا سکتا ہے یہ سبق سلیم تو نہ سیکھ سکے ہاں ناصرہ نے ضرور سیکھ لیا۔ اس نے جمشید اور رابعہ کی طرح دونوں کو ہمیشہ کے لیے تنہائیوں کی کھٹنائیوں میں پھینک دینے کے بجائے مثبت نتیجے پر عمل کیا۔ اس دن جب ناصرہ نے اپنا فیصلہ سلیم کو سنایا‘ تو وہ ششدر رہ گئے۔ جرم محبت پر سزا دینے کے بجائے ناصرہ ان سے عمیر اور عامرہ کے بیاہ کی بات کر رہی تھی۔

’’وہ لوگ کل رشتہ لے کر آ رہے ہیں۔ میں نے عمیر اوراس کے گھر والوںکے متعلق پوری تسلی کر لی ہے۔ وہ بہت اچھے اور بڑے خواہش مند ہیں۔ عامرہ کی خوشی بختی ہے جو اونچے گھرانے والے لوگ اُسے اپنا رہے ہیں۔‘‘
’’لیکن… یہ…یہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ ’’کیوں نہیں ہو سکتا؟‘‘ ’’یہ بے غیرتی ہے… عامرہ عمیر سے۔‘‘ ’’بس بس سلیم صاحب… بیس سال پہلے والے انداز میں مت سوچیے۔ اندھے جذبات کی رو میں بہ کر آپ نے رابعہ کی زندگی برباد کر دی۔ اب میں عامرہ کو رابعہ بننے نہیں دوں گی۔ وقت کے تقاضے دیکھیں اور آنکھیں کھولیں۔ جذبات مشتعل کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ناصرہ نے سلیم کو قائل کرنے کے لیے لمبی چوڑی تقریر کرڈالی۔ سلیم خالی نظروں سے ناصرہ کو تکنے لگے‘ وہ کہہ رہی تھی ’’وقت وقت کی بات ہے۔ اس وقت لوگوں کی سوچ و فکر اور تھی۔ تب لوگ اپنے لیے کم اور دوسروں کے لیے زیادہ جیتے تھے۔ اب لوگوں نے اپنے لیے جینا بھی سیکھ لیا ہے۔ اب لوگ کشادہ ذہن ہو چکے۔ بیٹے کی پسند اور محبت دیکھتے ہوئے جب عمیر کے والدین اس بندھن پر آمادہ ہیں، تو پھر بیٹی کے جذبات سے آگہی ہوتے ہوئے بھی ہم کیسے آنکھیں موند کر اس کی زندگی‘ اس کا مستقبل اپنے پیدا کردہ حالات کی سولی پر لٹکا دیں؟ پھر ہمارے دین نے بھی حکم دیا ہے کہ لڑکی کی پسند کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ وہ لوگ کل آ رہے ہیں۔ ہم ان کا خوشدلی سے خیرمقدم کریں گے۔ ٹھیک ہے۔‘‘ ناصرہ نے سلیم سے پوچھا۔

سلیم منہ سے تو کچھ نہیں بولے‘ البتہ ہولے سے سراثبات میں ہلا دیا۔ ان کے ذہن میں خستہ حال رابعہ کا سراپا گھوم رہا تھا۔ کاش انھوں نے اس وقت بھی جذبات کی رو میں بہ کر فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ گہری سانس چھوڑتے ہوئے انھیں ناصرہ کی بات سچ مانتے ہوئے دل میں سرگوشی کرنا پڑی کہ واقعی وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔