function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

عالمی دن

محمد خلیل چودھری | اپریل-2014
universal day in urdu

عالمی دن

یوں

تو عام دنوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ اہم ہے لیکن بعض دن کسی خاص وجہ سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جمعتہ المبارک ہمارے لیے ایک مقدس دن کی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اگر جمعتہ المبارک کو 14اگست کی تاریخ آ جائے تو پھر اس دن کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ 14اگست پاکستان کی آزادی کا دن ہے۔ اسلامی نظریاتی مملکت کی آزادی کا دن ہے۔ اِسی طرح بہت سے دن اور تاریخیں کسی ایک ملک یا تمام ممالک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
موجودہ سائنسی ترقی کے دور میں انسان مشینی زندگی میں اِس درجہ منہمک ہے کہ اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ آج کون سا دن ہے یا کون سی تاریخ ہے۔ اگر دنیا کے باشندے تمام دنوں یا تاریخوں کو ایک جیسا خیال کرکے اپنی ہی دُھن میں مگن رہیں تو ہم سب کا جینا دوبھر ہوجائے۔ اسی لیے اقوامِ متحدہ اور دیگر تنظیمیں اور ادارے ہر سال مخصوص تاریخوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر ممکن سعی کرتی ہیں تاکہ دنیا کے باسی اس خاص دن یا تاریخ کے پسِ منظر کو ذہن میں رکھ کر دنیا کی صورتِ حال پر نظر ڈالیں۔ تاکہ یہ دنیا خوب صورتی کے ساتھ ساتھ ہر ایک کے رہنے کے قابل رہے۔ عالمی دن دنیا بھر میں مشترکہ طور پر منائے جاتے ہیں اور یہ اُن ایام، مواقع، خیالات یا نظر انداز ہونے والی باتوں کو بخوبی یاد دلاتے ہیں۔  یہ ایام ہمیں کس بات، سوچ، فکر اور عمل کا احساس دلاتے ہیں۔ اس تحریر کے لیے اس بات کی تحقیق و جستجو کی گئی ہے۔
31جنوری: جذام کا عالمی دن
یہ دن دنیا بھر میں جذام کے عالمی دن کے طور پر

منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی توجہ جذام کے موذی مرض کی طرف مبذول کرانے کے ساتھ ساتھ ان میں یہ احساس بیدار کرنا کہ جذام کی بیماری کے علاج کے سلسلے میں لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی کسی حد تک ضرورت ہے۔ اِسی ضرورت کے پیشِ نظر 1952ء میں جذام کا عالمی دن منانے کی ابتدا ہوئی۔
22فروری: سکاؤٹنگ کا عالمی دن
اسکاؤٹوں یا اسکاؤٹ تحریک کا عالمی دن اِس تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اسکاؤٹ تحریک کا آغاز یوں تو لارڈ بیڈن پاؤل آف گلول نے 1907ء میں انگلستان کے ”براؤن سی“ نامی جزیرے میں بیس لڑکوں کے گروپ کا پہلا بوائے اسکاؤٹ کیمپ قائم کرکے کیا تھا۔ اِس دن کے منائے جانے کا مقصد نوجوانوں بالخصوص طلبہ میں اسکاؤٹنگ کے حوالے سے مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا اور اس کا شعور اُجاگر کرنا ہے۔
22فروری: سوچنے کا عالمی دن
سوچنے کا عالمی دن(World Thinking Day)  منانے کا آغاز سب سے پہلے1926ء میں چوتھی گرل گائیڈ بین الاقوامی کانفرنس امریکا میں ہوا۔ اِس کانفرنس میں موجود لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ایک خاص دن ہونا چاہیے جب  گرل گائیڈز اور گرل اسکاؤٹس پوری دنیا میں ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرسکیں اور ایک دوسرے کو سراہا جاسکے۔ اور پھر آخرکار 22فروری کا دن منتخب ہوا۔ اِس دن کو منتخب کرنے کی بھی ایک وجہ تھی۔ یہ دن لارڈ بیڈن پاؤل (بوائے اسکاؤٹ تحریک کے بانی) اور ان کی بیوی اولیو (ورلڈ چیف گائیڈ) کی سالگرہ کا دن تھا۔ چناں چہ ہم ہر سال 22فروری کو سوچ کا دن مناتے ہیں۔ اور اِس سوچ کو منانے کے لیے ایک عنوان تجویز کیا جاتا ہے۔
21فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن
انسانی معاشرے میں نقلمکانی مختلف تہذیبوں کی جانب ہجرت اور آبادکاری ایک طرف تہذیبوں کے ملاپ کا باعث بنی تو دوسری جانب اِس ادغام سے رفتہ رفتہ کئی تہذیبوں کا خاتمہ بھی ہوا۔ جس کا اثر وہاں بولی جانے والی زبانوں پر بھی پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بولی جانے والی 6912زبانوں میں سے 516ناپید ہوچکی ہیں۔ زمانے کی جدت اور سرکاری زبانوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مادری زبانوں کی اہمیت ماند پڑ رہی ہے۔ عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان چینی جبکہ سرکاری سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان انگریزی ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ 48فیصد افراد پنجابی اور 8 فیصد اُردو بولتے ہیں۔ جبکہ انگریزی سرکاری سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔
8مارچ: خواتین کا عالمی دن
سماجی، اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں خواتین کے حقوق پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ہر سال اِس تاریخ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا اعلان 1975ء میں میکسیکو سٹی میں ہونے والی خواتین کے عالمی سال کی عالمی کانفرنس کی سفارش کی بنا پر کیا گیا تھا۔
20فروری: سماجی انصاف کا عالمی دن
اِس دن کو منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کی طرف سے غربت کے خاتمے اور روزگار کے بھرپور اوریکساں مواقع پیدا کرنے پر کیے گئے اقدامات کو اُجاگر کرنا ہے۔ نومبر 2007ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی

نے قرارداد منظور کرتے ہوئے 20فروری کو باقاعدہ طور پر اِس دن کو منانے کا اعلان کیا اور 2009ء میں پہلی مرتبہ اِس دن کو بین الاقوامی سطح پر منایا گیا۔
3مارچ: کان کے امراض اور سماعت کی نگہداشت کا عالمی دن
کان کے امراض اور سماعت کی نگہداشت کے متعلق آگاہی کے لیے گزشتہ سال 2013ء میں پہلی بار عالمی ادارہ صحت نے یہ دن منانے کا اعلان کیا۔ عالمی ادارہ صحت (W.H.O)کے مطابق 642 ملین افراد سماعت کی کمی کا شکار ہیں جن میں 275ملین افراد سماعت سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ میڈیکل سائنس نے جدید علاج سے محرومیئ سماعت کو قابل علاج مرض قرار دیا ہے۔
21مارچ: نسلی امتیاز کے خاتمے کا عالمی دن
1960ء میں جنوبی افریقا کے قصبے شارپ ویل میں پولیس کے ہاتھوں برائن افریقی مظاہرین کا جو قتل عام ہوا تھا اِس کی یاد تازہ کرنے کے لیے جنرل اسمبلی کی 1966ء کی ایک قرار داد کے تحت 21مارچ کو نسلی امتیاز کے انسداد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
21مارچ: شاعری کا عالمی دن
اِس دن کو منانے کا مقصد شاعروں کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور معیاری ادب کی تخلیق کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر (یونیسکو) نے 21مارچ کو عالمی سطح پر اس دن کو منانے کا اعلان 1999ء میں کیا۔ شاعری ایک کائناتی حیثیت رکھتی ہے اور کوئی بھی فن اِس کے بغیر نامکمل ہے۔
23مارچ: موسمیات کا عالمی دن
1950ء میں اسی تاریخ کو موسمیات کا عالمی کنونشن معرض وجود میں آیا اور پھر موسمیات کے عالمی ادارے کا قیام عمل میں آیا۔ اسی لیے 23مارچ موسمیات کے عالمی دن کے طور پر تمام دنیا میں منایا جاتا ہے۔
27مارچ: تھیٹر کا عالمی دن
27مارچ کو تھیٹر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ تھیٹر کو فنونِ لطیفہ کی سب سے مشکل اور بہترین صنف قرار دیا جاتا ہے۔ شائقین کے سامنے براہِ راست پرفارم کرنے کا لُطف صرف وہی فنکار جانتا ہے جو اپنی بہترین پرفارمنس سے لوگوں کو تالیاں بجانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
7اپریل: صحت کا عالمی دن
1948ء میں یہی دن تھاجس روز عالمی ادارہ صحت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ہر سال صحت کے کسی خاص موضوع کے تحت تمام دنیا کے ممالک اِس دن کو مناتے ہیں۔
29اپریل: رقص کا عالمی دن
ورلڈ ڈانس ڈے کا آغاز 29اپریل 1982ء کو انٹرنیشنل ڈانس کمیٹی نے کیا۔ اِس دن کو منانے کا مقصد عام لوگوں کو رقص سے روشناس کروانا اور انسانی زندگی میں رقص کے اہم کردار سے آگاہ کرنا بھی ہے۔ اِس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اپنی خوشیوں کو بھرپور انداز سے منانے کے لیے رقص کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں کے روایتی رقص ہیں۔
یکم مئی: مزدوروں کا عالمی دن
یہ د ن مزدوروں کے حقوق طلب کرنے کا دن ہے۔ جو بین الاقوامی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ مئی 1886ء میں امریکا کے شہر شکاگو میں مزدوروں نے آجروں کے ظالمانہ اور انسانیت سوز طرزِ عمل کے

خلاف اجتماعی طور پر جدوجہد میں اپنا خون شامل کیا تھا۔
17مئی: مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا عالمی دن
اس دن کو ٹیلی مواصلات کا عالمی دن اِس لیے قرار دیا ہے کہ 1865ء اِسی روز پہلا عالمی ٹیلی گرافک کنونشن پیرس میں منعقد ہوا۔ جس میں بیس ملکوں نے شرکت کی اور ٹیلی مواصلات کے بنیادی اصول اور ضابطے طے کیے گئے۔
12مئی: نرسنگ کا عالمی دن
یہ دن نرسنگ کی بانی فلورنس نائٹنگیل کی دیرینہ خدمات کے حوالہ سے منایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں 6مئی سے12مئی تک نرسوں کا ہفتہ منایا جاتا ہے۔ نرسوں کی بین الاقوامی کونسل 1965ء سے ہر سال یہ دن منا رہی ہے۔ جبکہ 1974ء میں باضابطہ اعلان کیا گیا کہ نرسوں کا عالمی دن 12مئی کو منایا جائے گا۔
5جون:ماحولیات کا عالمی دن
یہ دن انسانی ماحول کے تحفظ، فضائی آلودگی اور زمین کو لاحق دیگر خطرات سے متعلق مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے1972ء کو سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں ہونے والی اقوام متحدہ کی پہلی کانفرنس برائے انسانی ماحول کے یوم افتتاح کی سالگرہ ہے اور عالمی یومِ ماحول کے طور پر منایا جاتا ہے۔
6جون: روسی زبان کا عالمی دن
روسی زبان کا عالمی دن اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے عظیم روسی شاعر الیگزینڈر پشکن کے یوم پیدائش پر روسی زبان کا دن منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سائنس تعلیم اور ثقافت کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً26کروڑ افراد روسی زبان بولتے ہیں۔ اس زبان نے ایسے ناول اور لٹریچر پیش کیا۔ جس نے عالمی ادب پر دیر پا اور دور رس اثرات مرتب کیے۔ روسی زبان کے عظیم شاعروں الیگزینڈر پشکن،، الیگزینڈر ٹالسٹائی، اینتانوف اور ناول نگاروں لیوٹا لسٹائی، فیودر دوستویوسکی، چیخوف اور میکسم گور کی نے عالمی ادب پر گہرے نقوش مرتب کیے۔
17جون:قابل کاشت اراضی کو بنجر ہونے سے بچانے کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں قابل کاشت اراضی کو بنجر ہونے سے بچانے کے لیے ہر سال دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے دسمبر 1994ء میں 17جون کو یہ دن منانے کا فیصلہ کیا اور اس دن سے اب تک یہ دن منایا جا رہا ہے۔
21جون: باپ کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں والد کی عظمت کا دن جون کے تیسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اِس دن کے منانے کا مقصد اولاد کے لیے باپ کی قربانیوں، شفقتوں کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کرنا اور باپ کی عظمت کو اُجاگر کرنا ہے۔
23جون:سرکاری ملازمین کی عوامی خدمت کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں پبلک سروس (سرکاری ملازمین کی عوامی خدمت) کا دن اِسی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 20دسمبر 2002ء کو قرارداد نمبر57/277منظور کی تھی۔ جس کے تحت 23جون کو ہر سال بپلک سروس کا دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اِس دن کے منانے کا مقصد اچھی طرزِ حکمرانی اور ترقی کے عمل میں سرکاری ملازمین کے کردار کی ضرورت

و اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔
24اپریل: تجربہ گاہوں کے جانوروں کا عالمی دن
سائنسی تحقیق کے لیے استعمال ہونے والے جانوروں کا عالمی دن 24اپریل کو منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد سائنس کے نام پر لاکھوں جانوروں کو پہنچنے والی تکالیف کے بارے میں تصور اُجاگر کرنا ہے۔ تحقیقی عمل سے متاثرہ جانوروں کے بارے میں حقائق کو پوشیدہ رکھا جا رہا ہے۔ زیادہ تر لوگ اِس عمل میں استعمال ہونے والے جانوروں کی اقسام اور ان کی تعداد سے ناواقف ہیں۔ کیونکہ لوگوں کو اس کے طریقہ کار کا پوری طرح علم نہیں۔ مختلف جانوروں پر تجربات کرکے ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں جانوروں کے ساتھ انسانوں کے لیے بھی دوائیاں بنائی جاتی ہیں۔
یکم جولائی: امداد باہمی کا عالمی دن
یہ دن ہر سال جولائی کے پہلے ہفتہ کے روز منایا جاتا ہے۔ اِس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں امداد باہمی بارے شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے اور دنیا بھر میں سماجی و اقتصادی ترقی کو تیز کرنے اور اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لیے باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور امداد کو فروغ دینا ہے۔
2جولائی: خلائی مخلوق کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں خلائی مخلوق کا دن منایا جاتا ہے۔ 2جولائی 1947ء کی ایک طوفانی رات کو امریکی قصبے رو زویل میں کئی لوگوں نے کسی چیز کو آسمان میں اڑتے دیکھا۔ امریکی حکومت تک یہ بات پہنچی تو لوگوں کو بتایا گیا کہ یہ دھات کے ٹکڑے ہیں جو دراصل موسمیاتی غبارے کے ہیں۔ 30سال بعد اِس حادثے کی تحقیق میں شامل ریٹائرڈ میجر جیسی مارسل نے بتایا کہ دھات کے ٹکڑے کسی اور دنیا کے تھے۔
25جولائی: والدین کا عالمی دن
اِس دن کے منانے کا مقصد بچوں کی بہتر پرورش کرنے والے ماں باپ کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ یوم والدین کا آغاز 1992ء سے ہوا جب امریکی کانگریس نے ایک بِل منظور کیا۔
30جولائی: دوستی کا عالمی دن
دوستی کا عالمی دن منانے کا مقصد دوستی کے رشتوں کے ذریعے امن کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔ 2011ء میں اقوام متحدہ نے یہ دن اِس عزم کے ساتھ منایا کہ لوگوں، ممالک اور مختلف ثقافتوں کے مابین دوستی سے امن کی کوششوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ اور مختلف قومیتوں کے مابین معاملات سمیٹے جاسکتے ہیں۔
9اگست: قدیم مقامی باشندوں کا عالمی دن
پاکستان سمیت پوری دنیا میں قدیم مقامی باشندوں کا عالمی دن 9اگست کو منایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال 2013ء میں اِس دن کا موضوع قدیم مقامی باشندوں میں اتحاد تھا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر1994ء میں 1995ء سے 2004ء تک کا عشرہ بین الاقوامی سطح پر قدیم مقامی باشندوں کا عشرہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اِس دن کو منانے کا مقصد ریاستوں کے درمیان معاہدوں اور تعلقات میں قدیم باشندوں کا کردار اُجاگر کرنا ہے۔
9اگست: محتاجوں کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں محتاجوں کا عالمی دن 9اگست کو منایا جاتا ہے۔ اِس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں محتاجوں کے حقوق کا تحفظ اور اُن کی دیکھ بھال کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ محتاجوں کے عالمی دن کا

آغاز 1994ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک قرار داد کی منظوری کے بعد ہوا۔
19اگست: عالمی یوم انسانیت
تاریخ میں پہلی مرتبہ19اگست کو عالمی یوم انسانیت منایا گیا۔ اِس دن کو منانے کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008ء کے اہم اجلاس میں دی تھی۔ جس کے بعد مذکورہ دن کو منانے کے لیے اقوام متحدہ اور تمام ممبر ممالک کی سطح پر خصوصی اقدامات کیے گئے۔
29اگست: جوہری تجربوں کے خلاف عالمی دن
جوہری تجربوں کے خلاف پہلا بین الاقوامی دن 29 اگست 2010ء کو منایا گیا۔ اِس دن کا مقصد لوگوں کی توجہ اس جانب دلانا ہے کہ کئی دہائیوں سے ہونے والے جوہری تجربوں نے لوگوں اور ماحولیات کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ اِس دن کو منانے کی تجویز قازقستان نے پیش کی تھی۔ کیونکہ اکسٹھ سال پہلے سویت یونین نے اس سرزمین پر سب سے پہلا جوہری تجربہ کیا تھا۔
30اگست: لا پتا افراد کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 30اگست کو لا پتا افراد اور خفیہ حراست میں لیے جانے والے افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن پہلی بار لاطینی امریکا کے ملک کو سٹاریکا میں خفیہ حراست کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کی جانب سے 1981ء میں منایا گیا۔ جس کے بعد ہر سال 30اگست کو یہ دن منایا جاتا ہے۔
8ستمبر: شرح خواندگی کا عالمی دن
اِس دن کو منانے کا مقصد خصوصاً بچوں میں شرح خواندگی کا اضافہ کرکے ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسکو نے 17نومبر 1965ء کو شرح خواندگی کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا اور 1966ء کو پہلی مرتبہ اِس دن کو منایا گیا۔ یونیسکو رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 79کروڑ 60لاکھ بالغ افراد میں ہر پانچواں فرد لکھنا پڑھنا نہیں جانتا جبکہ چھے کروڑ 74لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے۔
21ستمبر: امن کا عالمی دن
نومبر1981ء میں جنرل اسمبلی کی ایک قرار داد کی رو سے ہر سال ستمبر کا تیسرا منگل امن کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اِس کے ذریعے حکومتوں اور قوموں کے درمیان امن کے تصورات کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
یکم اکتوبر: معمر افراد کا عالمی دن
اِس دن کے منانے کا مقصد بوڑھے افراد کے حقوق کی طرف توجہ دلانا ہے اور عوام کو معاشرے کے معمر افراد کی دیکھ بھال اور ان کے حقوق سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔   اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14دسمبر1990ء کو یکم اکتوبر کو معمر افراد کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا تھا اور 1991ء اور 2002ء میں اِس حوالے سے قرار دادیں بھی منظور کی جاچکی ہیں۔
اکتوبر:بچوں کا عالمی دن
یہ دن منانے کی تجویز سب سے پہلے ایک غیر سرکاری تنظیم ”بچوں کی بہبود کے لیے بین الاقوامی یونین“نے 1952ء میں پیش کی اور سب سے پہلے یہ دن اسی تنظیم کے زیرِ اہتمام اکتوبر 1953ء میں دنیا کے 40ممالک میں منایا گیا۔ 1954ء میں اِس دن کو منانے کے لیے اقوام متحدہ نے ایک قرار داد پاس کر دی۔ جس کی رو سے اس دن کو منانے کا مقصد بچوں کی

بہبود کے لیے بڑوں کو یاد دہانی کرانا ہے۔ تاکہ وہ خود کو بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور ان کی خوشی اور فلاح و بہبود کی خاطر کام کرنے کے لیے وقف کر دیں۔ یہ دن ہر سال اکتوبرکے پہلے پیر کو منایا جاتا ہے۔
9اکتوبر: ڈاک کا عالمی دن
1874ء میں اِس دن سوئٹزر لینڈ کے شہر ”برن“ کے مقام پر عالمی ڈاک سے متعلق کانفرنس ہوئی۔ جس میں ”جنرل پوسٹل یونین“ نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی۔ اِس معاہدے کو 22ملکوں نے منظور کیا اور یکم جولائی1875ء سے نافذالعمل ہوا۔ یونین یکم جولائی1948ء کو اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی بنی۔ اِس کا مقصد تمام ممالک میں ڈاک کی ترسیل کی ترقی اور ڈاک کے نظام کی بہتری ہے۔
11اکتوبر: بچیوں کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچیوں کا عالمی دن11اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ ان دنوں معصوم بچیوں سے زیادتی کے واقعات کی بنا پر بچیاں زیادہ توجہ طلب ہوچکی ہیں۔ بیٹی سے ظلم و زیادتی کی تاریخ جتنی قدیم ہے۔ خاتون کے روپ میں اس کے عزم و ہمت کی داستان بھی اتنی انمٹ نقوش لیے ہے۔
15اکتوبر: بصارت کا عالمی دن
15اکتوبر دنیا بھر میں نابیناؤں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن جسے سفید چھڑی کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ نابیناؤں کی بین الاقوامی فیڈریشن کے تحت ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے کو بصارت سے محروم لوگوں کے مسائل اور مشکلات کا احساس دلانا ہے۔ تاکہ ان لوگوں کی تعلیم و تربیت اور روزگار اور ان کے تحفظ کا مناسب انتظام کیا جاسکے۔
16اکتوبر: خوراک کا عالمی دن
عالمی خوراک کے مسئلے سے متعلق عوام میں بیداری پیدا کرنے اور بھوک، ناقص غذا اور غربت کے خلاف جدوجہد میں اتحاد کو مستحکم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ممبر ممالک اس تاریخ کو عالمی یوم خوراک کے طورپر مناتے ہیں۔ 16 اکتوبر 1945ء کو کینیڈا میں کوٹیبک کے مقام پر ادارہ خوراک وزراعت کے قیام کی سالگرہ منانے کے لیے ادارہ کی کانفرنس کی جانب سے 28نومبر 1979ء کو اس دن کے منانے کی قرار داد منظور ہوئی۔
20اکتوبر: فضائی ٹریفک کنٹرول کرنے والوں کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھرمیں فضائی ٹریفک کنٹرول کرنے والے ”ائیر ٹریفک کنٹرول کرنے والے“ ”ائیر ٹریفک کنٹرولر“ کا عالمی دن 20اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اِس دن کے منانے کا مقصد فضائی سفر کے دوران ائیرٹریفک کنٹرولر کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر ائیرٹریفک کنٹرولر کے اعزاز میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
24اکتوبر: ترقیاتی کاموں سے آگاہی کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ترقیاتی کاموں کے بارے معلومات اور اطلاعات کی فراہمی کا دن 24 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ جس کے منانے کا مقصد ترقیاتی کاموں کے حوالے سے درپیش مسائل سے آگاہی اور اس ضمن میں عوامی رائے عامہ کی توجہ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت و اہمیت کی طرف مبذول کروانا ہے۔

24 اکتوبر:

اقوام متحدہ کا عالمی دن1945 ء میں اقوام متحدہ کے منشور کے نافذالعمل ہونے کی سالگرہ کی یاد تازہ کرنے کے لیے تمام ممبر ممالک

ہر سال یہ دن ”یوم اقوام متحدہ“ کے طور پر مناتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کے مقاصد اور کارناموں سے متعارف کرایا جائے۔ اور پھر اِس عالمی ادارے کے کام کے لیے ان کی حمایت حاصل کی جائے۔
17نومبر: طلبہ کا عالمی دن
پاکستان اور دنیا بھر میں طلبہ کا عالمی دن ہر سال 17نومبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن چیکوسلواکیہ پر جرمنی کے قبضہ کے خلاف 17نومبر 1939ء کو دارالحکومت پراگ کی سڑکوں پر مزاحمت کرنے والے طلبہ کی یاد میں منایا جاتا ہے اور اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا باقاعدہ اعلان سترہ نومبر 1941ء کو لندن انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کونسل نے کیا تھا۔ تب سے یہ دن منایا جا رہا ہے۔
21نومبر: ٹیلی ویژن کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ورلڈ ٹی وی ڈے 21نومبر کو منایا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے لفظی معنی دور سے دیکھنے کے ہیں۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز میں پہلی بار امیجز کو فیکس مشین کے ذریعے احساسات کا ترجمان بتایا گیا۔ اور یہ ایجاد 1926ء میں ٹی وی کی صورت میں سامنے آئی جسے اسکاٹ لینڈ کے باشندے جان لوگی بئیرڈ نے ایجاد کیا۔ 1930ء کے آغاز سے ٹی وی معلومات دینے کا اہم ذریعہ بن گیا۔
21نومبر: ماہی گیری اور مچھلیوں کی افزائش کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21نومبر کو ماہی گیری اور مچھلیوں کی افزائش کے بارے میں عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اِس کا مقصد ماہی گیروں کو درپیش مختلف مسائل کو اُجاگر کرنا اور ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لینا ہے۔ ماہی گیروں کی بڑی تعداد سندھ میں رہائش پذیر ہے جن کو

8فروری: شادی کا عالمی دن
یہ دن فروری کے دوسرے اتوار کو”شادی کا عالمی دن“ تجدید محبت کے جذبات کے ساتھ ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ عالمی یوم عروس منانے کا مقصد اِس بات کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ کہ میاں بیوی نہ صرف خاندان کے سربراہ ہیں۔ بلکہ معاشرے کے بنیادی یونٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس دن کی مناسبت سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے اس شعبہ سے وابستہ رہ سکیں۔
29نومبر: فلسطینی عوام سے اظہار یک جہتی کا عالمی دن
فلسطینی عوام کے ساتھ اتحاد و یک جہتی کا عالمی دن جنرل اسمبلی کی 2دسمبر 1977ء کی ایک قرار داد کے تحت تمام ممبر ممالک اِس تاریخ کو مناتے ہیں۔
یکم دسمبر: ایڈز سے بچاؤ کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز سے بچاؤ کا عالمی دن یکم دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ ایڈز کا عالمی دن دنیا بھر میں پہلی مرتبہ 1987ء میں منایا گیا۔ عالمی ادارہئ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 33ملین سے زائد افراد ایچ آئی وی ایڈز کے وائرس کا شکار ہیں جن میں دو ملین سے زائد بچے بھی ایڈز زدہ ہیں۔
10دسمبر: انسانی حقوق کا عالمی دن
حقوق انسانی کے عالمی منشور کی منظوری کی سالگرہ کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہر سال اس روز دنیا بھر میں یوم حقوق انسانی منایا جاتا ہے۔ جنرل اسمبلی کی جانب سے اس منشور کی منظوری 10دسمبر 1948ء کو دی گئی تھی۔ 1950ء میں جنرل اسمبلی نے تمام ممبر ممالک اور متعلقہ اداروں کو اِس بات کی دعوت دی کہ وہ اِس دن کو عالمی یوم حقوق انسانی کی حیثیت سے منائیں۔