function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

شاہِ افغانستان کی واپسی

پروفیسر محمد فاروق قریشی | کردار سازی

ِ افغانستان کے لیے جنگوں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ ہم تین سو سال قبل احمد شاہ ابدالی سے شروع کرتے ہیں۔ اس کا تعلق افغانستان کے سیدوزئی قبیلے سے تھا۔ اس نے ایران کے جنگجو بادشاہ نادر شاہ کے زیرِ سایہ ترقی کی منازل طے کیں۔ 1747ء میں نادر شاہ کے قتل کے بعد اس نے شاہ کے زرو جواہرات پر قبضہ کر لیا۔ یہ جواہرات دہلی پر حملے کے دوران لوٹے گئے تھے اور ان میں مغلوں کا شاہکار ہیرا کوہِ نور بھی شامل تھا۔
احمد شاہ ابدالی نے اس دولت کو استعمال کرتے ہوئے قندھار، کابل اور لاہور کو فتح کیا، درانی کا لقب اختیار کر لیا اور ایک وسیع و عریض درانی سلطنت قائم کی جس میں خراسان، نیشاپور، بلوچستان، سندھ، پنجاب اور کشمیر کے علاقے شامل تھے۔ درانی سلطنت کی سرحد مغلوں کے دارالحکومت دہلی پر دستک دے رہی تھی۔ یہ کامیابی اس کو شمال میں ازبک، مغرب میں صفوی اور جنوب میں مغل سلطنت کے زوال کے باعث حاصل ہوئی۔ 1772ء میں وہ سرطان کے مرض میں مبتلا ہو

کر انتقال کر گیا تو اس کا بیٹا تیمور شاہ تخت نشین ہوگیا۔ اس نے پشتونوں کی سرکشی سے بچنے کے لیے دارالحکومت قندھار سے کابل منتقل کر لیا۔لیکن ایسا کرنے میں ایران اور ہندوستان کے سرحدی علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔ 1793ء میں اس کی وفات کے بعد اس کے چوبیس بیٹوں میں جا نشینی کی لڑائیاں شروع ہوگئیں۔ پہلے شاہ زمان تخت نشین ہوا۔اس کو بادشاہت کی مسند پر فائز کرنے میں بارک زئی قبیلے کے طاقتور سردار پایندہ خان کا ہاتھ تھا۔ وہ ایک بادشاہ گر تھا۔ وہ

چھے سال تک شاہ زمان کے دربار میں وفادار وزیررہا۔ بعد میں دونوں کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ شاہ زمان کو شک ہوگیا کہ پایندہ خان اس کے خلاف بغاوت کی سازش کر رہا ہے چناں چہ اس نے اپنے محسن پایندہ خان کو قتل کر وا دیا۔ اس کے نتیجے میں افغانستان کے دو سرکردہ قبائل کے درمیان ایسا خونی جھگڑا شروع ہوگیا جس نے آیندہ پچاس سال تک اقتدار کی کشمکش پرگہرے اثرات ڈالے۔پایندہ خان کے اکیس بیٹے تھے۔ یہ سب سیدوزئی حکمرانوں کے جانی دشمن ہوگئے۔

1800ء میںشاہ زمان کے سوتیلے بھائی شاہ محمود نے اُس کے دشمن بارک زئی قبیلے سے مل کر اسے نہ صرف اقتدار سے محروم کیا بلکہ اس کو اندھا کروایا اور قید خانے میں بند کر دیا۔ تین سال بعد شاہ زمان کے حقیقی بھائی شاہ شجاع نے اقتدار کی اس جنگ میں شاہ محمود کو قصرِ شاہی سے نکال باہر کیا۔ تاہم اس نے رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو اندھا نہیں کروایا بس اس کو ایک مکان میں نظر بند کر دیااور اپنے بھائی شاہ زمان کو قید سے رہائی دلائی۔
شجاع نے بارک زئی قبیلے کے ساتھ خونی جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے بارک زئی بھائیوں وزیر فاتح خان اور دوست محمد خان کو دربار میں جگہ دی اور ان کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے ان کی بہن وفا بیگم سے شادی بھی کر لی، تاہم یہ اتحاد عارضی ثابت ہوا۔ کشمیر کی بغاوت کو دبانے کے لیے 15000آدمیوں پر مشتمل جو مہم بھیجی گئی تھی وہ بری طرح ناکام ہوگئی۔ زیادہ تر سپاہی مارے گئے یا دشمن سے جا ملے۔ صرف 3000آدمی جانیں بچا کر واپس آسکے۔ شاہی خزانہ خالی تھا، فوج منتشر اور قبائلی سردار سرکش تھے۔ اس لیے شجاع کا اقتدار عدم استحکام کا شکار تھا۔ تاہم 1809ء میں شاہ شجاع کو دو اچھی خبریں ملیں۔ پہلی خبر یہ تھی کہ اس کے گمشدہ خاندانی جواہرات کوہِ نور اور پکھراج واپس مل گئے۔ دوسری یہ کہ ہندوستان کے انگریز گورنر جنرل نے تاریخ میں پہلی مرتبہ افغانستان کے لیے برطانوی سفیر کا تقرر کیا اور سفارتی قافلہ دہلی سے روانہ ہوچکا تھا۔
مائونٹ اسٹیوارٹ الفنسٹون کی سربراہی میں سفارتی قافلہ دو سو گھڑ سواروں، چھے سو اونٹوں، ایک درجن ہاتھیوں اور چار ہزار پیادہ فوج پر مشتمل تھا۔ تقریباً چھے ماہ کے سفر کے بعد یہ قافلہ پشاورپہنچا۔ اس زمانے میں پشاور کافی بڑا، گنجان آباد اور دولت مند شہر تھا۔ یہ درانی سلطنت کا سرمائی صدر مقام اور پشتون ثقافت کا بڑا مرکز تھا۔ یہ شہر دو عظیم شاعروں خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کا وطن بھی تھا۔ رحمان بابا کو سرحد کا رومی کہا جاتا ہے وہ کہتا ہے ؎
پھول بو دو تمھارا ماحول گلستان بن جائے گا
کانٹے مت بوئو تمھارے پائوں چھلنی ہوجائیں گے
خوشحال خان خٹک ایک حریت پسند شاعر تھا اور مغل شہنشاہ اورنگ زیب کا سخت مخالف۔ الفنسٹون اس کا موازنہ سکاٹش حریت پسند ولیم ویلیس(William Wallace) سے کرتا ہے۔ خوشحال خان خٹک کے پشتوکلام کو علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں یوں پیش کیا ہے۔
کہوں تم سے اے ہم نشین دل کی بات
وہ مدفن ہے خوشحال خاں کو پسند
اڑا کر نہ لائے جہاں بادِ کوہ
مغل شہسواروں کی گردِ سمند
شاہ شجاع کے ساتھ الفنسٹون کی پہلی ملاقات کو ولیم فریزر نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ’’شوخ رنگ وردی پوش محافظ، انگریز افسروں کو اپنی حفاظت میں لے کر پشاور کے بازاروں سے گزرے۔ انھوں نے افغان آدمیوں کو لمبے چوغے پہنے ہوئے اور خواتین کو سفید برقعوں میں ملبوس دیکھا۔ ان کو پشاور کے قلعے بالاحصار میں لے جایا گیا جہاں شاہ کے ہاتھی اور شیر موجود تھے۔ آخر وہ دربار کے سامنے بڑے صحن میں پہنچ گئے۔ درمیان میں فوارے چل رہے تھے۔ سامنے

رنگ و روغن سے مزین ایک شاندار دو منزلہ عمارت تھی جس کے مرکز میں ایک گنبد نُما سائبان تھا۔ اس سنہرے گنبد کے نیچے ایک بلند تخت پر بادشاہ جلوہ افروز تھا۔ دو خدمت گار پنکھا جھل رہے تھے۔ منظر تصوراتی ایشیائی بادشاہتوں جیسا تھا۔ جب ہم داخل ہوئے تو ہم دستور کے مطابق تین مرتبہ ہیٹ اُتار کر اور جھک کر آدابِ شاہی بجا لائے اور ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ دربار کے دونوں طرف جو مسلح دستے قطار باندھے کھڑے تھے ان کو جانے کا حکم دیا گیا اور وہ

باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے باہر چلے گئے۔ ایک افسر الفنسٹون کے آگے کھڑے ہو کر بلند آواز میں پکارا، ’یہ فرنگی سفیر مسٹر الفنسٹون بہادر ہیں۔خدا ان پر رحمت کرے‘۔ اسی طرح دوسرے افسران کے نام پکارے گئے۔ شاہ نے بلند آواز میں کہا ’’خوش آمدید۔‘‘ اس کے بعد شاہ شجاع اپنے تخت سے نیچے اترا اور ایک نچلے تخت پر بیٹھ گیا۔ سفارت کار اس کے سامنے قیمتی قالینوں پر جا کر کھڑے ہوگئے۔ بادشاہ نے خاموشی کو توڑتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا شاہِ برطانیہ اور اس کی قوم

بخیریت ہیں۔ پھر کہا کہ انگریز اور افغان قوم کے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں اور ہم اعتماد رکھتے ہیں کہ ایسے ہی رہیں گے۔ اس پر الفنسٹون نے جواب دیا۔ ’اگر خدا کو ایسا منظور ہے۔‘ اس کے بعد گورنر جنرل کا خط شجاع کے سامنے پیش کیا گیا۔ الفنسٹون نے اپنی سفارت کے اسباب اور مقاصد بیان کیے۔ شجاع نے بہت مثبت اور خوش آمدانہ جواب دیا۔ شاہ کی طرف سے برطانوی مہمانوں کو خلعت ہائے فاخرہ عنایت کی گئیں جن کو پہن کر وہ رخصت ہوئے۔
ولیم فریزر لکھتا ہے کہ بادشاہ کی قدوقامت 5فٹ 6اِنچ کے قریب تھی۔ اس کا رنگ گورا لیکن سرخی کے بغیر تھا۔ اس کی ڈاڑھی سیاہ تھی۔ اس کے ابرو بلند اور سیدھے تھے۔ آنکھوں میں سُرمہ لگا ہوا تھا۔ اس کی شخصیت رُعب دار اور باوقار تھی۔ شاہ کا لباس بڑا شاندار اور جواہرات سے مزین تھا۔ اس کے تاج کا فریم مخمل

کا تھا۔ اس پر خوب صورت پَر، سونا، قیمتی پتھر خصوصاً زمرد، یاقوت اور موتی جڑے ہوئے تھے اور غیرمعمولی جسامت کے تھے۔ اس کے سینے اور دونوں رانوں پر ہیروں سے جڑی ہوئی پلیٹیں تھیں۔ بازوئوں پر زمرد اور دوسرے قیمتیپتھروں کے بند تھے۔ ایک بازو پر کوہِ نور بھی دمک رہا تھا۔ اس کا تاج و تخت الف لیلوی داستانوں کا رومانوی نقشہ پیش کر رہا تھا۔ جس جگہ ہم کھڑے تھے وہ عام دربار تھا جہاں وہ اپنی رعایا کی فریادیں سنتا تھا۔ اس جگہ انعامات بھی دیے جاتے تھے اور سزائیں بھی۔ اس کی آواز صاف اور شاہانہ تھی۔
شاہ شجاع برطانوی سفیر کی آمد پر بہت خوش تھا کیونکہ اس کو ایسے مضبوط اتحادی کی ضرورت تھی۔ لیکن برطانوی سفیر کو اپنی آمد کے بعد جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ حکومت پر شجاع کی گرفت کمزور ہوچکی تھی۔ مقامی سردار آزاد اور سرکش ہوچکے تھے۔ سڑکیں غیر محفوظ اور امن و امان کی حالت دگرگوں تھی۔ ان حالات میں برطانوی سفیر اور ان کے ساتھیوں نے شاہ شجاع سے رخصت کی اجازت لی اور واپس دہلی کی طرف روانہ ہوگئے۔ کابل پر بارک زئی بھائیوں وزیر

فاتح خان اور دوست محمد خان کاقبضہ ہوچکا تھا۔ شجاع کا سوتیلا بھائی شاہ محمود حراست سے فرار ہو کر شجاع کے دشمن بارک زئیوں سے جا ملا تھا اور شجاع کو نہایت طاقتور حریفوں کا سامنا تھا۔ ان حالات میں اس نے اپنے سیدوزئی حرم کو اپنے بھائی شاہ زمان اور اپنی بیوی وفا بیگم کی قیادت میں ہندوستان روانہ کر دیا۔ اُنھوں نے لاہورپہنچ کر پنجاب کے سکھ حکمران رنجیت سنگھ کی پناہ حاصل کر لی۔ شاہ محمود اور بارک زئی جنگجوئوں کی مزاحمت کے لیے شاہ شجاع اپنی بچی

کھچی فوج کے ساتھ نملا کے مقام پر پہنچا تو گھات میں بیٹھے ہوئے دشمنوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ شجاع کا جرنیل اور بیشتر فوجی مارے گئے اور وہ خود اپنے محافظ دستے سے الگ ہوگیا۔ فطرت کے عناصر بھی پوری شدت سے حملہ آور ہوگئے اور جب برق و باراں کے ایک طوفان نے شکست خوردہ فوج کو آلیا۔ شاہ شجاع بڑی مشکل سے اپنے گھوڑے سمیت طوفانی دریا کو عبور کرنے میں کامیاب ہوسکا۔ شاہِ افغانستان مکمل طور پر تنہا تھا اور رات کی تاریکی میں کسی

محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں سرگرداں۔ کئی ماہ تک وہ اپنے سابق اتحادیوں سے رابطے کرنے میں مصروف رہا تاکہ ان کی مدد سے وہ شاہ محمود سے اپنا کھویا ہوا تخت بازیاب کرا سکے۔ اس کے ایک سابق درباری عطا محمد نے اس کو اٹک کے قلعے میں آنے کی دعوت دی۔میزبانوں نے میٹھے تربوز کھانے کے لیے پیش کیے۔ کھانے کے بعد انھوں نے تربوز کے چھلکے ایک دوسرے پر پھینکنے شروع کر دیے۔ یہ کھیل جلد ہی بدتمیزی اور تضحیک میں بدل گیا۔ شجاع کو احساس

ہوگیا کہ اس کو گرفتارکیا جا چکا ہے۔ پہلے اس کو اٹک کے قلعے میں رکھا گیا پھر سخت نگرانی میں کشمیر بھیج دیا گیا۔ چونکہ اس کا انتہائی قیمتی ہیرا کوہِ نور بھی اس کے قبضے میں تھا، اس کے دشمن اسے حاصل کرنے کے لیے دھمکیوں اور تشدد سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔
اُدھر شاہ شجاع کی دانش مند اور بہادر بیوی وفا بیگم نے رنجیت سنگھ سے مذاکرات کیے کہ اگر وہ اس کے شوہر شجاع کو کشمیر کی قید سے رہائی دلائے تو کوہِ نور اس کو دیا جائے گا۔ رنجیت سنگھ رضا مند ہوگیا۔ 1813ء میں اس نے فوجی دستے کشمیر بھیجے جنھوں نے وہاں کے گورنر کو شکست دی اور شاہ شجاع کو لاہور لے آئے۔ لاہور میں شجاع کو اس کی بیگم سے الگ مبارک حویلی میں زیرِحراست رکھا گیا اور مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی بیگم کے وعدے کو پورا کرے۔ شجاع کے تامل پر اس کو ایک پنجرے میں بند کر دیا گیا اور اس کے بڑے بیٹے پرنس تیمور کو اس کے سامنے اذیت کا نشانہ بنایا گیا حتیٰ کہ اس نے اپنا قیمتی ہیرارنجیت سنگھ کے حوالے کر دیا۔ وفا بیگم کے اس وعدے کی تکمیل کے باوجود شاہ شجاع کو رہا نہ کیا گیاکیونکہ رنجیت سنگھ اس کو بھی ایک قیمتی سیاسی متاع سمجھتا تھا۔
شاہ شجاع اپنی کتاب ’’واقعاتِ شاہ شجاع‘‘میں ’’یک چشم‘‘گل رنجیت سنگھ کو اس بدعہدی اور کمینگی پر تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ قید کے دوران اپنی بے بسی پر شجاع بہت دل گرفتہ تھا۔ اپنے وطن کی آزاد فضائوں کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے (ترجمہ):
طائرِ دل وطن کی یاد میں ماتم کناں ہے
گلستاں سے ُدور عندلیب مبتلائے دردِ ہجراں ہے
چند ماہ کے بعد رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع کے قبضے میں باقی ماندہ زر و جواہر کو بھی ہتھیانے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے اُس نے ایک چال چلی۔ اس نے شجاع کو دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ پشاور چلے جہاں اس کے برادرِ نسبتی وزیر فاتح خان کو تخت حاصل کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ جب شجاع ان کے ساتھ لاہور سے باہر چلا گیا تو اچانک اس مہم کو منسوخ کر دیا گیا۔ لیکن اس کی غیر حاضری میںآدھی رات کے وقت مسلح ڈاکوئوں نے لاہور میں اس کے

حراستی کیمپ کو لوٹ لیا۔ ڈاکوان کے قیمتی موتی، طلائی زیورات، سونے کے سکوں کے صندوق، عثمانی اور سندھی بندوقیں، عمدہ ایرانی تلواریں، جواہرات سے مزین پستول، عمدہ اونی اور ریشمی شالیں اور ملبوسات سب کچھ لے گئے۔ جب ایک افغان محافظ نے ایک ڈاکو کو پکڑا تو اس نے انکشاف کیا کہ وہ رنجیت سنگھ کے آدمی ہیں۔ شجاع کہتا ہے کہ وہ ان سکھ کتوں کے ظلم اور فریب پر حیران رہ گیا۔ شجاع نے واپسی پر رنجیت سنگھ کو لکھا۔ ’’یہ گھٹیا اور شرمناک حرکتیں بند

کرو اور جو کچھ کرنا چاہتے ہو کھل کر کرو۔‘‘ وہ مزید لکھتا ہے ’’جب ہمیں پتا چلا کہ اس ڈکیتی کے پس پردہ رنجیت سنگھ ہے تو ہمیں اس مکار اور ظالم شخص سے کسی بھلائی کی توقع نہ رہی۔ لیکن چونکہ ہماری خواتین لاہور میں اس کی یرغمال تھیں اس لیے ہم نے دل پر جبر کرکے اس ظلم و ستم کو برداشت کیا۔‘‘ تاہم شاہ نے جلدہی اس قید سے بچ نکلنے کا منصوبہ بنا لیا۔ سراج التواریخ میں تحریر ہے۔
’شاہ شجاع نے گھوڑوں کے ایک پشتون تاجر، کچھ لاہوری تاجروں اور ہندوستانی عورتوں کی مدد سے خفیہ طور پربگھیاں خریدیں اور وفا بیگم اور دوسری خواتین کو ہندو عورتوں کے روپ میں لاہور سے باہر سمگل کروا دیا۔ ان کو پنجاب کی سکھ ریاست کے سرحد پار لدھیانہ پہنچا دیا گیا جو انگریزوں کی عملداری میں تھا۔ وہاں انگریز افسروں نے مہمان نوازی اور فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے شکست خوردہ شاہ کی تنہا اور بے سہارا ملکہ کو سیاسی پناہ دے دی۔ جب رنجیت سنگھ کو افغان خواتین کے بچ کر نکل جانے کی اطلاع ملی تو وہ غضب ناک ہوگیا۔ اس نے شجاع کی نگرانی سخت کر دی۔ محافظوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا جو اکثر

اس کو اذیت اور تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ شاہ اور اس کے ساتھی ان ظالم سکھوں سے نجات کے لیے قرآن کی آیات پڑھتے رہتے تھے۔آخرکار شجاع کے وفادار ساتھیوں اور خدمت گاروں نے زیرِ زمین سُرنگ کھو دی جس میں ان کو تین ماہ کا عرصہ لگا۔ شجاع نے سکھ بھگت کا روپ دھارا اور دو ساتھیوں سمیت سُرنگ کے راستے فرار ہوگیا۔ شہر کے بیرونی دروازوں پر محافظوں کا سخت پہرہ تھا۔ مجبوراً وہ ایک خشک لیکن تنگ و تاریک نالی کے راستے گھِسٹتے ہوئے باہر نکلے

جہاں دریا پر اس کے آدمی کشتی کے ساتھ موجود تھے۔ انھوں نے دریا پار کیا اور بے سرو سامانی کی حالت میں نامعلوم منزل کی طرف چل دیے۔
رنجیت سنگھ کی قید سے رہائی کے بعد چند ماہ کے اندر شجاع نے کشمیر پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کا اِرادہ تھاکہ وہ رنجیت سنگھ کے مخالف راجائوں کی مدد سے ایک مختصر فوج منظم کرے گااور کشمیر پر اچانک حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلے گا۔ بظاہر یہ منصوبہ بہت عمدہ تھا۔ لیکن اس کو پہلا صدمہ اس وقت

ہوا جب اس نے اپنا ڈیڑھ لاکھ روپیہ بازیاب کرنے کی کوشش کی جو اس نے لاہور کے منی چینجرز کے پاس جمع کروا رکھا تھا۔ رنجیت سنگھ کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے اس کی بھنک پڑگئی اور اس نے رقم پر قبضہ کرکے اسے اپنے خزانے میں جمع کر لیا۔شجاع کو وفا بیگم کے جواہرات کے بدلے معقول رقم کا بندوبست کرنے اور فوج تیار کرنے میں کافی وقت لگا اور مہم جوئی کا موسم گزر گیا۔ کشمیر کے گورنر کو دِفاع کی تیاری کا مناسب وقت مل گیا۔ اس کے باوجود

شجاع نے موسم بہار تک انتظار کرنے کے مشورے کو در خورِ اعتنا نہ سمجھا۔ چناں چہ وہ موسم سرما کے آغاز میں اپنی فوج کے ساتھ ایک غیر معروف راستے سے سری نگر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ایک پہاڑی چوٹی پر اس کی فوج خراب موسم اور برفباری کے طوفان میں گھر گئی۔بہت سے فوجی سردی کی تاب نہ لا کر موت کا شکار ہوگئے۔ ایک برطانوی مصنف کے مطابق بدقسمتی اس شہزادے کے تعاقب میں تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے مقدر سے جنگ لڑ رہا ہے۔

نپولین کا مشہور قول ہے کہ ایک جرنیل کے لیے سب سے اہم خوبی خوش قسمتی ہے اور شجاع اس خوبی سے محروم تھا۔ آخرکار وہ لدھیانہ کے قریب برطانوی سلطنت کی سرحد پر پہنچ گیا۔ وہاں انگریز افسر ولیم فریزر نے اس کا اِستقبال کیا اور اس کو اپنے ساتھ لدھیانہ لے گیا جہاں اُس کا ملاپ اپنے حرم سے ہوگیا اور جلا وطنی کے کئی سالوں میں پہلی بار اس نے خوف کے بغیر سکون اور محبت سے بھرپور رات گزاری۔
ولیم فریزر (William Fraser) کہتاہے کہ سات سال کی شکست، اذیت اور قید کی ذلت نے شاہ پر کافی اثر ڈالا تھا۔ اس کے باوجود اس کی توقعات بلند تھیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے شاہانہ مرتبے کا خیال رکھا جائے۔ اگرچہ اس کی حیثیت ایک بھگوڑے شاہ سے زیادہ نہ تھی اور وہ مایوس کن صورت حال کا شکار تھا۔ پھر بھی اس نے اپنے اتحادی انگریز حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ اس کو ایک بہتر، فراخ اور محفوظ رہائش گاہ فراہم کی جائے۔اس نے یہ بھی واضح کر دیا کہ وہ زیادہ عرصہ یہاں قیام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ جلا وطنی کے مصائب اور کشمیر کی مہم میں شکست کے باوجود وہ ’’خراسان کی مملکت‘‘ کو دوبارہ فتح کرنے کے لیے مضطرب اور پر اُمید تھا۔ وہ کہتا ہے:
اے شجاع!
جب تک زندہ ہو گھوڑے پر سوار رہو
منزل پر پہنچنے کی اُمید کبھی نہ چھوڑو
اے شجاع!
سو مرتبہ ناکامی ہو اس کی پروا نہیں
خدا کے فضل سے کچھ بھی ناممکن نہیں
چناںچہ لدھیانہ آمد کے صرف ایک سال بعد وہ افغانستان پر حملے کا ایک اور منصوبہ تیار کر چکا تھا۔ 1817ء میں افغانستان کے دونوں بڑے قبائل سیدوزئی اور بارک زئی میں ایک خونی جھگڑا اُٹھ کھڑا ہوا۔ بارک زئی بھائیوں وزیر فاتح خان اور دوست محمد کو شاہ محمود نے ہرات کے باغی گورنر کی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ یہ کام انھوں نے کامیابی سے سرانجام دیا۔ لیکن فتحکی خوشی میں لوٹ مار کے دوران انھوں نے ہرات میں سیدوزئی حرم کوبھی لوٹ لیا اور ایک شہزادی کو

بے آبرو کر دیا۔ یہ بات وہ بھول گئے کہ وہ شہزادی شاہ محمود کی بھتیجی تھی۔ اس پر شاہ محمود کے بیٹے پرنس کامران نے ہرات پہنچ کر ایک عظیم الشان دعوت کا اہتمام کیا جس میں اوروں کے علاوہ بارک زئی بھائیوں کو بھی مدعو کیا۔ دعوت میںشراب و کباب کا وسیع بندوبست کیا گیا تھا۔ جب بارک زئی بھائی زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے ہوش و حواس کھو بیٹھے تو وزیر فاتح خان کے ہاتھ پائوں باندھ دیے گئے۔ پہلے اس کی آنکھوں میں نوکدار ہتھیار چبھوئے گئے۔ پھر اس کے

کان، ناک اور پائوں کاٹ دیے گئے۔ آخر میں اس کا سر تن سے جُدا کر دیا گیا۔ پایندہ خان کے بعد بارک زئی قبیلے کا یہ دوسرا قتل تھا جو سیدوزئی حکمرانوں کے ہاتھوںہوا۔ وزیر فاتح خان کے بھائیوں نے شاہ محمود سے انتقام لینے کی غرض سے اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ شاہ شجاع ایسے ہی کسی موقع کے انتظار میں تھا۔ اس نے وفا بیگم کے مالی تعاون سے ایک کرائے کی فوج تیار کی اور کچھ کرایہ دار انگریز فوجی افسروں کو بھی ساتھ ملایا۔ یہ گورکھا فوج شاہ شجاع کی

قیادت میں سندھ کے شہر شکارپور کے لیے روانہ ہوگئی۔ وہاںشجاع نے ہندو ساہو کاروں سے قرض لیا، مزید فوجی دستے تیارکیے اور چند ہفتوں میں اپنے پرانے مرکز پشاور پر قبضہ کر لیا۔ تاہم اس کے متکبرانہ رویے اور شاہانہ شان و شوکت اور روایتی درباری آداب پر اصرار کے سبب علاقے کے قبائلی راہنما اس کے خلاف ہوگئے اور جلد ہی ان کے اور شجاع کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ ایک گولا، بارود کے شاہی ذخیرے پر آ گرا اور زبردست دھماکے کے ساتھ سب کچھ جل کر راکھ ہوگیا۔ اس کے فوجیوں کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے اور شاہ کو بھاگ کر خیبر کے پہاڑوں میں پناہ لینا پڑی۔ طاقتور بارک زئی بھائیوں نے اس کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ واپسی کے دوران سندھ کے صحرا میں ریت کے طوفان نے اس کی فوج میں مزید تباہی پھیلا دی۔
لدھیانہ واپس پہنچ کر شاہ شجاع نے ایک پرشکوہ عمارت میں روزانہ اپنا دربار لگانا شروع کر دیا۔ اکثر وہ روایتی جلوس میں چوبداروں اور شاہ کی آمد کا اعلان کرنے والے خدمت گاروں کے جلوس میں غیر حاضر عوام کے سامنے فرضی بادشاہت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزرتا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے اس درباری سرکس کو برداشت کرتے ہوئے 50,000روپے کا سالانہ وظیفہ بھی ادا کیا جاتا تھا۔ ایک مورخ نے گھریلو خدمت گاروں اور خادمائوں پر شاہ شجاع کے مظالم کا

بھی ذکر کیا ہے۔ اکثر ان کی کسی غلطی پر ان کے کان، ناک یا کوئی اور عضو کاٹ دیا جاتا تھا۔ ایک مسلمان افریقی غلام خواجہ مائیکا کو غلطی کی پاداش میں اس کے مردانہ عضو سے محروم کر دیا گیا۔ اب یہ مخنث شاہ کے افرادِ خانہ کا انچارج تھا۔ وسطی ایشیا کا ایک سیاح گاڈفرے کہتا ہے کہ شاہ ایک سلیم الفطرت شخص تھا۔ اس نے اپنے متعلقین کے لیے اسکول بھی قائم کر رکھا تھاجس میں تین ہزاربچے زیرِ تعلیم تھے۔
اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ شاہ شجاع نے افغانستان کا تخت حاصل کرنے کے لیے کتنی ناکام کوششیں کیں اور آخرکار اس کے ہاتھ میں وہ الہٰ دین کا چراغ کیسے آیا جس کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں کو شکست دے کر کابل کے تخت پر بحال ہوگیا۔ اگر آپ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ شاہ شجاع کو اس کے منہ بولے بیٹے نے کب اور کیوں قتل کیا تو انتظار کیجیے۔ اپریل کے شمارے میں دوسری قسط پڑھنا مت بھولیے۔
٭٭٭

1834ء میں شاہ شجاع نے افغانستان کا تخت حاصل کرنے کی ایک اور ناکام کوشش کی۔ اس تیسری شکست کے بعد بھی شجاع کی اہمیت انگریز حکمرانوں کے لیے کم نہ ہوئی کیونکہ افغانستان میں روس کے غلبے کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کو ایک طاقتور مہرے کی حیثیت حاصل تھی۔
انیسویں صدی کے اوائل میں روس اور برطانیہ کے درمیان گریٹ گیم (Great Game)کا آغاز ہوچکا تھا۔ برطانیہ ہندوستان پر روس کے ممکنہ حملے سے بچائو کے لیے افغانستان میں اپنی اتحادی حکومت چاہتا تھا جبکہ روس جنوب مغربی ایشیا میں توسیع کے لیے افغانستان کو اپنے زیرِ اثر رکھنے کا متمنی تھا۔ جب روسی حکومت نے کیپٹن وکی وچ کو 1838ء میں سفیر بنا کر کابل روانہ کر دیا۔ کابل میں روسی سفیر کی آمد نے برطانوی حکومت کو روس کے خوف

(Russophobia) میں مبتلا کر دیا۔ برطانوی کرنل ڈی لیسی ایونز(Col. De Lacy Evans) کی کتاب ’’برطانوی ہند پر حملے کا امکان‘‘ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ برطانیہ کے وزیر ہند لارڈ ایلن (Lord Ellenoroug)نے کہا، ’’ایشیا میں ہماری پالیسی کا ایک ہی ہدف ہے اور وہ ہے روس کی پیش قدمی کو روکنا۔‘‘ ان حالات میں ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ آک لینڈ(Lord Aukland)نے افغانستان میں اپنی حامی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور 1839ء میں افغانستان پر قبضہ کر کے جلا وطن شاہ شجاع کو تخت پر بحال کر دیا لیکن افغانستان پر برطانیہ کے قبضے کے صرف دو سال بعد پورے ملک میں مزاحمت اور بغاوت نے سر اُٹھا لیا۔
بالآخر 1842ء میں برطانوی فوج کو شکست کی ذلت اُٹھا کر کابل سے پسپا ہونا پڑا۔ پسپا ہوتی ہوئی ساری برطانوی فوج کو پہاڑی دروں میں گھات لگا کر افغان مزاحمت کاروں نے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اس طرح برطانیہ جیسی عالمی طاقت کو افغانستان میں تباہ کن ہزیمت کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ اپریل 1842ء کو شاہ شجاع کو قتل کر دیا گیا اور امیر دوست محمد خان نے دوبارہ اقتدار سنبھال لیا۔ اس طرح افغانستان سے برطانیہ کے عمل دخل کا خاتمہ ہوگیا۔ افغانستان میں شاہ شجاع کو انگریزوں کا پِٹھو اور افغان قوم کا غدار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی موت پر شاعر اس کے قاتل اور منہ بولے بیٹے شجاع الدولہ بارک زئی کی زبان میں کہتا ہے۔(ترجمہ):
اس ملک نے تمھیں شاہ کا منصب عطا کیا
تم نے اس پر ہلاکت اور بربادی کا سایہ ڈالا
تم نے اسلام کی سرزمین کو کافر ستان بنا ڈالا
اسے بے وفائی اور غداری کی منڈی بنا دیا
دسمبر 1979ء میں روس نے بڑی تعداد میں سرخ افواج کابل میں اتار دیں اور افغان کمیونسٹ پارٹی کے جلا وطن راہنما ببرک کارمل کو سربراہِ حکومت بنا دیا گیا۔ ایک لاکھ بیس ہزار روسی فوج کی حمایت کے باوجود ببرک کارمل کی حکومت کابل تک محدود تھی۔ ملک بھر میں افغان مجاہدین کمیونسٹ حکومت اور روسی حملے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ جہاد کی پکار پر ساری دنیا سے مسلم جنگجو افغان مجاہدین کی مدد کے لیے اُمڈ پڑے۔ امریکا نے کمیونزم کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ذریعے مجاہدین کو ڈالروں اور ہتھیاروں سے دل کھول کر امداد دی اور جنگی تربیت بھی فراہم کی۔ اس جنگ میں افغان مجاہدین کو پاکستانی حکومت،آئی ایس آئی اور سعودی عرب کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔
مئی 1986ء میں کارمل حکومت کی ناکامی کے بعد غیر ملکی افغان خفیہ ایجنسی ’’خاد‘‘ کے سابق سربراہ نجیب اللہ کو اقتدار میں لے آئے۔ افغان جہادی مزاحمت نے روسی افواج کے دانت کھٹے کر دیے۔ خوفناک فوجی طاقت اور تمام تر وسائل کے باوجود افغانستان پر قبضے کا روسی خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور روسی افواج افغان مجاہدین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کھا کر واپسی پر مجبور ہوگئیں۔ روس اور افغانستان کی اس جنگ میں 14500روسی فوجی مارے گئے اور دس لاکھ افغان موت کا شکار ہوئے ۔ 60لاکھ افغان مہاجرین نے سرحد عبور کرکے ایران اور خصوصاً پاکستان میں پناہ لی اور عشروں تک مہاجر کیمپوں میں مقیم

رہے۔ افغانستان روسی ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کا قبرستان بن گیا۔ عالمی طاقت روس کی عزت اور دبدبہ خاک میں مل گیا۔عالمی طاقت روس طویل افغان جنگ اور شکست کے منفی اثرات کے ملبے تلے دب گئی اور چند سال کے اندر اس کا شیرازہ بکھر گیا۔ وسطی ایشیا کی تمام ریاستیں آزاد ہوگئیں اور روسی اشتراکی نظام کا آفتاب غروب ہوگیا۔
نئے عالمی نظام میں امریکا واحد سُپر پاور کے طور پر سامنے آیا۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی مخالف یا مزاحمت کا اندیشہ پیدا ہوا اس کی سرزنش اور پیشگی حملے کا اختیار اس نے از خود حاصل کر لیا۔ اقوام متحدہ محض ایک نمائشی اور تابع مہمل ادارہ بن گیا۔ اب افغانستان پر چڑھ دوڑنے کی امریکا کی باری تھی۔ اور اس کو اس کا جواز بھی جلد مل گیا۔ 1994ء میں افغانستان میں پشتون پس منظر رکھنے والے طالبان نے طاقت حاصل کر لی۔ پاکستان اور سعودی عرب کی فوجی، مالی

اور سیاسی مدد سے انھوں نے ایک کے بعد دوسرا شہر فتح کر لیا۔ بالآخر انھوں نے 1996ء میں کابل پر قبضہ کر لیا۔ ملّا عمر کی قیادت میں طالبان حکومت نے ملک کے اکثر صوبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ ان کی حکومت کو بیرون ملک تسلیم کر لیا گیا۔ روس کے خلاف جہاد میں سعودی شہری اسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم ’’القاعدہ‘‘ نے بھی سرگرم حصہ لیا تھا۔ وہ طالبان حکومت کے دوست اور مہمان کی حیثیت سے افغانستان میں مقیم تھا۔ افغانستان القاعدہ کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تھی جہاں سے اسامہ بن لادن اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف خفیہ کاررائیوں کو کنٹرول کرتا تھا۔
11ستمبر2001ء کو القاعدہ کے جنگجوئوں نے امریکا کے مسافر طیارے اغوا کرکے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ساتھ ٹکرا دیئے۔ ایک مسافر طیارہ واشنگٹن میں پینٹاگون کی عمارت سے بھی ٹکرایا۔ ان حملوں میں ہزاروں بے گناہ شہری لقمۂ اجل بن گئے۔ القاعدہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی۔ امریکا نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھیوں کو افغانستان سے نکال دیں اور بین الااقوامی دہشت گردوں کی حمایت بند کر دیں۔ جب طالبان حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے 7اکتوبر2001ء کو افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور طالبان حکومت کے فوجی اور سیاسی مراکز پر حملے شروع کر دئیے۔
13نومبر2001ء کو اتحادی افواج نے کابل کو فتح کر لیا۔ طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور اُس کے بیشتر ارکان زیرِ زمین چلے گئے۔ اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام طالبان مخالف گروپوں کو دسمبر2001ء میں جرمنی میںاکٹھا کیا گیا اور بون معاہدے کے تحت ایک عبوری افغان انتظامیہ قائم کی گئی جس کا سربراہ پوپلزئی قبیلے کے حامد کرزئی کو بنایا گیا۔ دسمبر 2004ء کو لویہ جرگہ سے آئین کی توثیق کے بعد ملک کا نام اسلامی جمہوریہ افغانستان رکھا گیا۔ حامد کرزئی کو صدر بنا دیا

گیا۔ حسبِ روایت امریکی نیٹو افواج اور افغان فوج کے خلاف زبردست مزاحمت پیدا ہوگئی۔ وہ تمام جہادی گروپ جنھیں امریکا نے ڈالر اور ہتھیار دے کر روس کے خلاف لڑایا تھا اب اتحادی افواج کے خلاف صف آرا ہوگئے لیکن امریکا نے ان سب کو دہشت گرد اور امریکا کا دشمن قرار دے کر ان کے خلاف جنگ کی۔ القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے ٹھکانوں پر زبردست بمباری کی۔ تورا بورا کے پہاڑوں پر ڈیزی کٹر بم گرائے۔ مقامی جنگجو سرداروں اور شمالی اتحاد کے

جنگجوئوںکو طالبان اور القاعدہ مزاحمت کاروں کے خلاف استعمال کیا۔ بارہ سال تک جاری رہنے والی اس امریکا افغان جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔ بے شمار مفرور اور زیرِ زمین پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ جمہوری چہرے کے باوجود کرزئی حکومت کی خامیاں اور کرپشن کی کہانیاں زبان زدِ خاص و عام ہیں۔ افغانستان سے اتحادی افواج کے 2014ء میں واپس چلے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ امریکا نے افغان نیشنل آرمی اور پولیس کو تربیت اور

ہتھیاروں سے مسلح کیا ہے۔ اس کے باوجود طالبان کی واپسی کا خوف امریکی حکومت کے اعصاب پر سوار ہے۔ آج بھی بڑے شہروں کے سوا افغانستان کے وسیع علاقے طالبان کے زیرِ اثر ہیں جہاں طالبان کی شیڈوحکومت بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔ انہی خدشات کے پیشِ نظر امریکا نے ایک طرف افغان حکومت کے ساتھ فوجی سیکیورٹی کا دس سالہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت کرزئی حکومت کے تحفظ کے لیے اتحادی افواج کی واپسی کے بعد بھی امریکی فوج افغان اڈوں پر

موجود رہے گی۔ دوسری طرف امریکا افغان طالبان کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں مصروف ہے۔ تاکہ ان سے موجودہ حکومتی بندوبست کی بقا کے لیے سودے بازی کی جا سکے۔ لیکن طالبان نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین پر غیر ملکی افواج موجود ہیں وہ کسی قسم کے امن مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس وقت امریکا کا دردِ سر یہ ہے کہ ابھی تک مجوزہ سیکیورٹی کے معاہدے کو لویہ جرگہ اور افغان پارلیمنٹ کی منظوری حاصل نہیں ہوئی جبکہ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کا وقت سر پر آ پہنچا ہے۔
مصنف کے تجزیے کے مطابق افغان عوام نے اپنی دیرنہ روایت کے مطابق ہر مرتبہ غیر ملکی حملہ آور کی سخت مزاحمت کی اور جلد یا بدیر اس کو واپسی کا راستہ دکھایا اور نتیجتاً وہ ذلت آمیز شکست کے زخم چاٹتا ہوا افغانستان کو پہلے سے بدتر بحرانوں میں چھوڑ کر چلتا بنا۔ افغانستان کے شہر، دیہات صحرا اور پہاڑ کئی مرتبہ تباہ و برباد ہوئے۔ افغان قوم نے وسیع پیمانے پر ہلاکتوں اور ہجرتوں کے صدمے برداشت کئے۔ تشدد اور قید و بند کی صعوبتوں کو بھی سہہ لیا لیکن نادار، جفاکش اور خود دار افغانوں نے کبھی غلامی کو قبول نہیں کیا۔ بقول اقبال

فطرت کے اصولوں کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہستانی