function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

رمضی میاں نے سودا خریدا

غزالہ محمود | طنز و مزاح

وہ  خود تو کبھی سودا خریدنے نہیں گئے مگر ملازم کی لائی ہر چیز میں کیڑے نکالنا گویا ان کا فرضِ اولین بن چکا تھا۔ خاص طور پر چھٹی والے دن مچان لگا کر برآمدے میں بیٹھ جاتے۔ ادھر کلّو غریب سودا لے کر ہانپتا سائیکل سے اترا، اُدھر رمضی میاں کے سوالات کا آغاز ہوتا:

’’یہ گوشت کہاں سے اٹھا لیا کم بخت۔‘‘ پہلے گوشت کی باری آتی۔
’’میاں ایک ہی تو قصائی ہے جو اپنے گھر گوشت دیتا ہے۔‘‘
’’مجھے تو لگتا ہے کتے کا گوشت ہے۔‘‘
’’خدا کا نام لیں میاں، کتے وہاں کہاں سے آ گئے۔ روزانہ تازہ بکرے کرتا ہے اپنا قصائی۔‘‘

’’آج ہی اخبار میں خبر آئی ہے کہ مارکیٹ میں سرعام کتے کا گوشت فروخت ہو رہا ہے۔‘‘ رمضی میاں نے فتویٰ صادر کر دیا۔ ’’یہ گوشت بلیوں کتوں کو کھلا دو۔‘‘
ان کا یہ ارشاد سن کر اندر سے بیگم چلاتی ہوئی نکل آئیں۔ ’’کیا خبط ہو گیا ہے تمھیں، گوشت بلیوں کو کیوں ڈلوا رہے ہو! دماغ تو ٹھکانے پر ہے تمھارا!‘‘
’’ذرا اس گوشت کا حلیہ تو دیکھو۔ بھلا بکرے کا گوشت ایسا ہوتا ہے! ضرور یہ کہیں اور سے گندا گوشت اٹھا لایا ہے۔ بھلا بنارس قصائی ایسا گوشت بناتا ہے!‘‘
’’میاں خدا کی قسم، بنارس سے ہی بنوا کر لایا ہوں۔‘‘ کلّو نے فریاد کی۔

’’چپ کر بے… ایک چپت لگائوں گا…‘‘ رمضی میاں غرّائے۔ اس دوران بیگم گوشت کا لفافہ اٹھا باورچی خانے جا چکی تھیں۔
اب رمضی میاں نے سبزی کی طرف رخ کر لیا: ’’یہ گو بھی کیا کوڑے سے لایا ہے! اور یہ ٹماٹر سِرکہ ہو رہے ہیں…‘‘
کلّو روہانسا ہو کر بولا: ’’اسی شبراتی منحوس کی دکان سے لایا ہوں میاں… اب اور کدھر جائوں!‘‘
’’سودا جہاں سے بھی لے… ذرا آنکھیں کھلی رکھا کر مردار!… تُو تو لگتا ہے وہاں پیسے پھینکنے جاتا ہے۔‘‘ رمضی میاں نے کچوکے دیے۔
’’میاں آپ خود جا کر لے آیا کریں سودا! میں بھلا اب کیا کروں، اس سے اچھا سودا پوری مارکیٹ میں نہیں ہے۔‘‘

رمضی میاں کی غیرت کو تازیانہ لگا، بولے ’’اچھا تو تیرا خیال ہے میں سودا نہیں خرید سکتا…‘‘ ’’ارے برخوردار… میں تو ایسا سودا خریدتا ہوں کہ دکاندار کا کلیجہ نکال لاتا ہوں۔‘‘
کلو مجرم بنا کھڑا تھا۔ بولا ’’ میاں میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ میں تو یہ کہہ رہا تھا…‘‘
’’میں خوب سمجھتا ہوں تجھے… آج کے بعد تو یہیں گھر پررہنا… میں خود سودا لے کر آیا کروں گا۔‘‘

بیگم گوشت سنبھال کر اب سبزی لینے آرہی تھیں۔ میاں کے ارادے بھانپ کر بولیں ’’اب اکیلے گھر سے مت نکل کھڑے ہونا۔ کلو کو ساتھ لے کر جانا… بازار میں بہت ہجوم ہوتا ہے۔ یہ نہ ہو کہیں منہ کے بل جا گرو۔‘‘

رمضی میاں اچانک غصے میں آ گئے۔ ’’کیوں کیا میں اکیلا بازار نہیں جا سکتا؟ کیا میں اندھا کانا ہوں یا مخبوط الحواس؟ کلو کیا میرا ہاتھ پکڑ کر لے جائے گا!‘‘
’’تم سے تو بات کرنا ایک عذاب ہے۔ عقل کی بات تو تم سنتے ہی نہیں ہو۔‘‘ بیگم نے جرح کی۔
’’ہاں عقل کے چراغ تو بس تمھارے پاس ہی روشن ہیں…‘‘
بحث مباحثہ کافی دیر جاری رہا اور بالآخر بیگم کو ہی پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

قصہ مختصر اگلے روز صبح صبح رمضی میاں کلو کو ساتھ لیے گھر سے فاتحانہ شان کے ساتھ سودا لینے روانہ ہوئے۔ کلو کے ہاتھ میں ٹوکری تھی۔ رمضی میاں شلوار قمیص پر واسکٹ اور ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ کپڑوں سے عطر کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔ منہ میں پان کا بیڑا تھا۔ سب سے پہلے بنارس قصائی کی دکان پر پہنچے۔ شناسائی تو تھی، اس نے بڑے ادب سے سلام کیا۔ حال احوال پوچھا۔ رمضی میاں نے ابتدائی گفتگو کے بعد استفسار کیا ’’آج گوشت کیسا ہے؟‘‘

’’ہمارے ہاں تو روز ہی دیسی بکروں کا گوشت ہوتا ہے میاں۔‘‘ بنارس نے بے پروائی سے کہا۔ وہ بڑے انہماک سے کسی گاہک کے لیے ران کاٹ رہا تھا۔
’’کل ہمارے ملازم کو کیا چھیچھڑے اٹھا کر دے دیے تھے؟‘‘ رمضی میاں جارحانہ انداز میں بولے۔
بنارس گوشت کاٹتے کاٹتے چونکا۔ رمضی میاں کی آواز اتنی بلند تھی کہ دکان پر کھڑے سارے لوگ بھی چونک گئے۔

’’نہیں نہیں میاں، گوشت تو میں خود بنا کر دیتا ہوں۔ کہیں آپ کے نوکر نے غلطی سے کسی دوسرے گاہک کا گوشت نہ اٹھا لیا ہو۔‘‘ بنارس نے بڑے مصالحانہ انداز میں کہا۔
’’کلو ہے تو نرا بے وقوف، مگر اتنا اندھا بھی نہیں میرا ملازم… ضرور تمھارے کسی نوکر نے چھیچھڑے کاٹ کر دیے ہوں گے۔‘‘ رمضی میاں کا غصہ کسی طرح دور ہونے میں نہیں آیا۔

’’چلو میاں، آج آپ کوخوش کردیتے ہیں۔‘‘ بنارس نے رمضی میاں سے جان چھڑانے کی پوری کوشش کی مگر آج وہ بڑے جلوے میں تھے۔
’’خیر تو تو ہمارا پرانا قصائی ہے… تیرا تو اعتبار ہے مجھے… مگر کل اخبار میں چھپا ہے کہ اس مارکیٹ میں کتوں کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔‘‘
رمضی میاں نے شان استغناء سے کہا۔ سارے گاہک چونک کر رمضی میاں کو دیکھنے لگے۔ بنارس کی حالت یہ تھی کہ گویا کاٹو تو لہو نہیں بدن میں! چمک کر بولا ’’میاں یہ اخبار نویس بڑے غیر ذمے دار ہیں۔ ان باتوں کا بھلا حقیقت سے کیا تعلق! ہم تو جی تیس سال سے یہیں گوشت فروخت کر رہے ہیں!‘‘

رمضیمیاں بڑے پیارسے بولے ’’ارے بنارس تو بلاوجہ برا مان گیا۔ تیری دکان پر تو کبھی میں نے بکرے کے علاوہ کسی مشتبہ جانور کا گوشت نہیں دیکھا…‘‘
بنارس جوش جذبات میں بولا’’ناں ناں… میاں… یہاں سارے قصائی بڑے ایمان دار اور اللہ والے ہیں… پتا نہیں کس مردود نے یہ بات بنائی ہے…!‘‘
رمضی میاں نے بنارس کو مزید تسلیاں دیں کہ وہ اسے اس الزام سے بری الذمہ گردانتے ہیں۔ مگر اس دوران میں دکان پر موجود گاہک، حتیٰ کہ بازار سے گزرنے والے لوگ بھی بحث کے موضوع سے آگاہ ہو چکے تھے۔ آس پاس اس قسم کے فقرے اچھلنے لگے: ’’توبہ توبہ! میں تو اس دکان پر آئندہ کبھی نہیں آئوں گی۔‘‘

’’دیکھو تو دیکھنے میں کیسا شریف آدمی لگتا ہے!‘‘
’’اے ہے۔ ابھی کل ہی تو پورا بکرا کٹوایا ہے میں نے…‘‘
’’اٹھا کر پھینکو سارا گوشت!‘‘

بنارس رمضی میاں کو یوں دیکھ رہا تھا گویا ابھی چھرے سے حلال کر دے گا۔ کلو نے ٹہوکا دیا ’’میاں اگلی دکان پر چلیے… بنارس کا موڈ خراب ہے۔‘‘
رمضی میاں بھی بنارس کی سرخ سرخ آنکھیں دیکھ کر وحشت زدہ سے ہو گئے تھے۔ کلو کو لیے اگلی دکان کی طرف بڑھے۔
یہ قصائی رمضی میاں کی گفتگو سن چکا تھا۔ بڑے گستاخانہ لہجے میں بولا۔ ’’جی بزرگوار!‘‘
’’بھئی گوشت چاہیے… ذرا خاص قسم کا۔‘‘ رمضی میاں نے بڑے اخلاق سے کہا۔
’’خاص سے کیا مراد ہے آپ کی؟‘‘ قصائی طنزیہ لہجے میں بولا۔
شاید اسے رمضی میاں کی صلاحیتوں کا خوب اندازہ تھا کہ ذرا ڈِھیل دی تو گوہر افشانیاں کرنی شروع کر دیں گے۔

’’بھئی بات سنو… بڈھے بکرے کا گوشت نہ ہو۔ ہڈی نیلی ہو۔ گوشت کا رنگ گلابی اور ریشے نرم ہوں۔‘‘ رمضی میاں نے عالمانہ شان سے کہا۔
’’بزرگوار آپ خود تسلی کر لیں… یہ سامنے رانیں ٹنگی ہیں۔‘‘ قصائی نے اکھڑ لہجے میں کہا اور دوسرے گاہکوں کی طرف متوجہ ہو گیا۔ رمضی میاں نے رانوں کا بغور جائزہ لیا اور بولے ’’اس بکرے کے منہ میں دانت کیسے تھے؟‘‘
’’خبر نہیں۔‘‘ قصائی نے مختصر جواب دیا۔
’’آنکھوں کا رنگ کیسا تھا؟‘‘ قصائی خاموش رہا۔

’’کوئی مرض تو نہیں تھا اسے؟ مطلب یہ کہ تپ دق… ایڈز وغیرہ!‘‘ رمضی میاں نے شوشہ چھوڑا۔
قصائی نے خونخوار نظروں سے رمضی میاں کو دیکھا اور بولا ’’میاں یہ ایک صحت مند بکرا تھا…‘‘
’’ہاں… رانیں تو صحت مند ہیں… سری دیکھ لیتا تو اطمینان ہو جاتا۔‘‘ رمضی میاں نے حسرت زدہ انداز میں یوں کہا گویا بکرا نہیں داماد پسند کر رہے ہوں۔
قصائی بدتمیزی سے بولا ’’ایسی تفتیش تو برپسند کرتے وقت بھی کوئی نہیں کرتابزرگوار! آج آپ دال سبزی پکا لیں… اور آئندہ گوشت خریدنے کسی سمجھ دار آدمی کو بھیجیں۔‘‘

’’میں تجھے کیا پاگل نظر آتا ہوں؟‘‘ رمضی میاں نے اسے شعلہ بار نظروں سے گھورا اور آگے بڑھ گئے۔
’’میرا خیال ہے مچھلی خریدی جائے۔‘‘ رمضی میاں نے جیسے خود سے کہا اور کلو کو بغل میں دابے مچھلی والے کی دکان پر آ کھڑے ہوئے۔
’’یہ مچھلی کہاں سے پکڑی ہے برخوردار؟‘‘ رمضی میاں نے حاکمانہ انداز میں پوچھا۔
’’آپ بتائیں کہ کتنی تول دوں! اپنے کام سے کام رکھیں۔‘‘ مچھلی والے نے بدتمیزی سے کہا۔
’’بھئی پتا نہیں تم سب لوگ لڑنے پر کیوں ادھار کھائے بیٹھے ہو!‘‘ رمضی میاں گڑبڑا سے گئے۔

’’میاں ہمارے پاس ٹائم نہیں ہوتا۔‘‘ مچھلی والے نے مختصر جواب دے کر جان چھڑائی۔
’’اچھا بھئی یہ مچھلی کی آنکھوں کی پتلیاں کیوں ڈھلکی ہوئی ہیں۔ یوں جیسے کوئی نشہ کیا ہو یا رات بھر نیند نہ آئی ہو۔‘‘
’’کتنی تول دوں میاں؟‘‘دکاندار نے ان کی لایعنی گفتگو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
’’ٹھہر جا بھائی… ذرا گلپھڑے تو دیکھ لوں مچھلی کے۔‘‘ یہ کہہ کر رمضی میاں مچھلیوں کے گلپھڑے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے اور پھر بڑے اعتماد سے اعلان کیا ’’یہ مچھلی کم از

کم تین دن کی باسی ہے۔ جس نے کھائی، اسے ہیضہ ہو جائے گا۔‘‘
’’بزرگوار! آپ مت خریدیں مچھلی، مگر فضول باتیں نہ کریں۔ ہمارا روزی کا معاملہ ہے۔‘‘ دکاندار نے فریاد کی۔
رمضی میاں اتنی آسانی سے باز آنے والے کہاں تھے۔ ’’خوب! تمھارا روزی کا معاملہ ہے، لوگ بھلے کھا کر مر جائیں…! میں پوچھتا ہوں خوف خدا نہیں ہے تمھارے دل میں!‘‘
مچھلی والا اشتعال میں آ کر نہ جانے رمضی میاں کے ساتھ کیا سلوک کرتا، کلو انھیں زبردستی گھسیٹتا ہوا دکان سے باہر لے آیا۔

’’میاں آپ کیوں بلاوجہ لوگوں کے گلے پڑ رہے ہیں۔‘‘ کلولرز کر بولا۔ ’’یہ دکاندار بڑے غنڈے ہیں، بات بات پر تو چاقو نکال لیتے ہیں۔‘‘
رمضی میاں مر د مجاہد بن کر بولے ’’دیکھتا ہوں کتنے قتل کر دیں گے… جہاں بھر کے چور اور بے ایمان ہیں۔ دو پیسے کے فائدے کی خاطر دوسروں کی جان لینے پر تلے ہوئے ہیں۔‘‘

رمضی میاں بڑبڑاتے ہوئے سبزی کی دکان پر جا پہنچے۔ وہاں سبزی کی ٹوکریوں کا جائزہ لینے کے بعد فرمایا۔ ’’ارے میاں سبزیوں پر پانی چھڑک چھڑک کر وزن میں اضافہ کر رہے ہو! یہ کیا طریقہ ہے؟‘‘

سبزی والا ذرا خوش مزاج تھا، غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا ’’میاں! ذرا سبزیوں کو تازہ رکھنے کے لیے پانی چھڑک رہا ہوں۔ آپ حکم کریں کون سی سبزی چاہیے۔ انشاء اللہ صحیح تول ہو گا۔‘‘
رمضی میاں عالمانہ انداز میں بولے ’’برخوردار سنا ہے سبزیوں پر زہریلے سپرے کیے جا رہے ہیں اور یہ طرح طرح کی بیماریاں پھیلا رہی ہیں۔‘‘
سبزی والا ہراساں ہو کر بولا ’’آہستہ بولیں جی، ہم غریبوں کی روزی پر لات کیوں مارتے ہیں؟ ساری دنیا میں یہی سپرے استعمال ہو رہے ہیں۔ ہم غریبوں کی گردن میں تو یونہی پھانسی کا پھندہ ڈال دیا جاتا ہے۔‘‘

سبزی والے کی عاجزانہ گفتگو سن کر رمضی میاں کو شاید رحم آ گیا۔ ’’برخوردار! میں تمھاری روزی کا دشمن نہیں۔ دراصل آج کل اخباروں میں یہی خبریں آرہی ہیں۔ میں تو چاہتا ہوں کہ معاشرے سے برائی کا وجود مٹ جائے…‘‘
سبزی والا گلوگیر آواز میں بولا ’’ہم غریبوں کو اتنی بڑی باتیں کہاں سمجھ آتی ہیں صاحب! ہم تو پیٹ پالنے کے چکر میں رہتے ہیں۔‘‘

سبزی والے کی عاجزانہ گفتگو سے رمضی میاں کا حوصلہ مزید بلند ہو گیا۔ وہ ساتھ کھڑے ایک ریڑھی والے کے لتّے لینے لگے: ’’اے تو کیا کوڑے سے سبزی اٹھا لایا؟‘‘
سبزی والے نے اشتعال میں آ کر کہا ’’زبان سنبھال کر بات کریں جی۔ صبح منڈی سے بولی لگا کر تازہ مال لایا ہوں۔ دماغ صحیح ہے آپ کا…!‘‘
رمضی میاں تائو کھا کر بولے ’’تجھے میرے دماغ میں کیا خلل نظر آتا ہے!‘‘

سبزی والے نے سوال کا جواب دینے کی بجائے کلّو کو مخاطب کر کے کہا ’’کیوں بے کلّو! انھیں گھر سے باہر کیوں لے آیا؟ کنٹرول کر کے رکھا کرو انھیں۔ ساری مارکیٹ میں صبح سے آوارہ گائے کی طرح گھوم رہے ہیں۔‘‘
کلّو بگڑ کر بولا ’’یہ پاگل نہیں اپنے میاں رمضان ہیں…‘‘
سبزی والا بولا ’’صبح سے دس بندوں کے گلے پڑ چکے… اور یہ کیا سیانے ہیں!‘‘

یہ الفاظ سنتے ہی رمضی میاں گھونسہ تان اس کی طرف بڑھے۔ اس نے گھونسہ کھانے کا انتظار نہیں کیا بلکہ رمضی میاں کو ایسا زور دار دھکا دیا کہ وہ ریڑھی پر منہ کے بل جاگرے۔ پھر سنبھل کر اٹھ کھڑے ہوئے اور جلال میں آ کر گرجے: ’’ٹھہر جا بدذات، میں ابھی تجھے پولیس کے حوالے کراتا ہوں۔‘‘

سبزی والا چلّا کر بولا: ’’میں کسی سے نہیں ڈرتا… دیکھتا ہوں میرا کیا کر لو گے۔‘‘
رمضی میاں کپڑے جھاڑتے ہوئے بولے ’’یہ تو تجھے جلد پتا چل جائے گا۔‘‘

کلّو جو اس مارپٹائی سے انتہائی خوفزدہ نظر آرہا تھا اور رمضی میاں کے سامنے دیوار بن کر کھڑا تھا، لرزتی آواز میں بولا ’’میاں! خاموش ہو جائیں… چلیے گھر چلتے ہیں… یہ آدمی چاقو نکال لیتا ہے بات بات پر!‘‘

رمضی میاں بآواز بلند تقریر کر رہے تھے۔ ’’زمانہ ہی ایسا ہے۔ جو حق کی بات کرے اسے سولی پر لٹکایا اور سنگسار کر دیا جاتا ہے۔ سقراط کو ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں زہر کا پیالہ پینا پڑا۔‘‘
آس پاس کے دکاندار کام چھوڑ ٹھیلے کے آس پاس جمع ہو گئے۔ اچھا خاصا مجمع اکٹھا ہو گیا جو لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا تھا۔ رمضی میاں لوگوں کے گھیرے میں ایک گھاگ سیاسی رہنما کی طرح تقریر کرنے لگے۔ اپنے حساب میں ایک عوامی رہنما بن کے رتبہ شہادت پر فائز ہونے والے تھے۔

ایک دکاندار رمضی میاں کو سمجھاتے ہوئے بولا ’’بزرگوار! آپ بازار آنے کی زحمت نہ کیا کریں۔ آپ کے ملازم کو ہم نے پہچان لیا ہے، گھر بیٹھے بہترین سودا آپ کو باقاعدہ ملا کرے گا۔‘‘
رمضی میاں چلائے: ’’اس کم ذات اور بے حیا آدمی نے میری توہین کی ہے۔‘‘
ریڑھی والا گرجا ’’خبردار جو مجھے گالی دی۔ زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔‘‘

وہ بار بار رمضی میاں کو مارنے لپک رہا تھا۔ خدا کا شکر ہے، اسے دو آدمیوں نے قابو کر رکھا تھا۔ ادھر رمضی میاں کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی: ’’تو نے مجھے پاگل کہا! جرأت کیسے ہوئی!‘‘
’’اور کیا پاگلوں کے سر پہ سینگ ہوتے ہیں!‘‘
کلّو بیچارہ ایک طرف کھڑا رو رہا تھا۔ بالآخر ایک معتبر باریش دکاندار کے سمجھانے پر رمضی میاں ذرا خاموش ہوئے۔ ادھر ریڑھی والے کو لوگ زبردستی پکڑ کر ایک طرف لے گئے۔ اس طرح یہ خونریز لڑائی ختم ہوئی۔ ساری مارکیٹ کے دکانداروں نے رمضی میاں سے اپنے ناکردہ گناہوں کی معافی مانگی اور انھیں سمجھا بجھا کر کلّو کے ساتھ گھر واپس روانہ کر دیا۔

رمضی میاں گھر پہنچے تو بیگم بے چینی سے صحن میں ٹہل رہی تھیں۔ محلے کے ایک لڑکے نے انھیں جھگڑے کی خبر کر دی تھی۔ وہ بے چاری انتہائی پریشان تھیں۔ رمضی میاں کو گرد آلود کپڑوں میں آتے دیکھا تو تیزی سے آگے بڑھیں۔ اوربولیں ’’میں نہ کہتی تھی کسی روز کہیں سے مار کھا بیٹھو گے۔ آخر وہی ہوا جس کامجھے ڈر تھا۔‘‘
رمضی میاں طیش میں آ کر بولے ’’تمھیں کس نے کہا کہ مجھے مار پڑی؟ ارے بھائی اس مردود نے دھکا دیا، ریڑھی پر جا گرا میں۔‘‘

بیگم ہاتھ نچا کر بولیں ’’شاباش، مبارک ہو۔ اس عمر میں خوب عزت افزائی ہو رہی ہے۔ اپنی عمر دیکھو اور یہ حرکتیں دیکھو۔‘‘
’’کیوں کیا جیب کاٹتا پکڑا گیا ہوں، یا کسی کی بہن بیٹی کو بھگا لایا ہوں میں!‘‘ رمضی میاں کہاں ہار ماننے والے تھے۔
’’بس اب یہی کسر رہ گئی ہے۔ زبان قابو میں نہیں، ہر جگہ لیڈری کرنے کا شوق خوار کراتا ہے تمھیں… پھر بھی عقل نہیں آتی۔‘‘

رمضی میاں تائو میں آ کر بولے ’’گلی سڑی سبزیاں اور باسی گوشت اٹھا لاتا تو بہتر ہوتا… اب ذرا تم دیکھنا، میں ان دکانداروں کا کیا انتظام کراتا ہوں۔ فوڈ محکمے کے اعلیٰ افسر سے  خود مل کر ساری خبریں پہنچائوں گا۔‘‘بیگم چلا کر بولیں: ’’خبردار جو اب گھر سے باہر قدم رکھا… اے کلّو! ان کے لیے نہانے کا پانی رکھ اور حمام میں دھلا ہوا جوڑا بھی ٹانگ دے۔‘‘