function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

قاضی صیب

اختر عباس | 2011 ستمبر

کھانا  ابھی شروع ہوا تھا، جب فون کی گھنٹی بجی، مہمان نے لمحہ بھر کی تاخیر کیے بغیر فون سنا۔ ’’جی قاضی صیب!‘‘ پھر اس نے پشتو میں دو چار جملے کہے، فون بند کیا اور ایک نمبر گھمانے لگا۔ اب وہ پہلے سے زیادہ مودب تھا۔ خاموشی سے سنتا رہا اور پھر فون بند ہو گیا۔ ہم دونوں کئی مہینوں کی مسلسل منصوبہ بندی کے بعد وہ دوپہر بچا کر جوہر ٹائون میں نہر کنارے بنے ہوٹل سیچوان میں کھانا کھانے آئے تھے۔

اس پُرسکون جگہ پر بیٹھ کر کرنے کے لیے ہم نے کتنی ہی باتیں اٹھا رکھی تھیں، گرم گرم چاولوں کی بھینی بھینی خوشبو آہستہ آہستہ پھیل رہی تھی۔ چکن جنجر سے گرم گرم بھاپ مرغولے بنائے اوپر کو اٹھ رہی تھی۔ تب تک ہم نے صرف سالن اپنی پلیٹوں میں ڈالا تھا۔ نور اسلم نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور جانے کی اجازت چاہی۔ میرے استفسار پر صرف اتنا کہا ’’قاضی صیب محترم کا فون تھا، سمیحہ راحیل آپا کی طرف فوری جانا ہے۔ تفصیل ابھی اس لیے نہیں بتا سکتا کہ قاضی صیب نے صرف اتنا ہی بتایا ہے کہ سمیحہ آپا کے گھر کام کرنے والی مائی رو رہی ہے، جائو جاکر اس کا مسئلہ دیکھو، پولیس اس کے میاں کو پکڑ کر لے گئی ہے۔‘‘

حوالہ قاضی صاحب کا تھا۔ نور اسلم کی ان سے محبت اور تعلق کا مجھے کچھ اندازہ تھا کہ وہ صرف ان کے کہنے پر پشاور سے لاہور چلا آیا تھا۔ مسجد مکتب پراجیکٹ کی سربراہی اس کی منتظر تھی۔ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے چاروں صوبوں کے دور دراز دیہات میں غربت کی سطح پر جینے والے خاندانوں کے بچوں کے لیے مساجد میں پڑھنے کا انتظام اور اہتمام کر ڈالا۔ میں تین سال تک ان کے دور و نزدیک سے لاہور آئے اساتذہ کے لیے سالانہ پروگرام میں تربیت کے لیے جاتا رہا۔

بالکل لو پروفائل(low profile) میں ہونے والے اس کام کے دور رس نتائج کا کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا کہ تمام اساتذہ زندگی میں پہلی بار اپنے اپنے گائوں، گوٹھ سے نکلے تھے۔ ان کی تربیت کا ایک سلیبس تھا۔ ان کے لیے کتابیں اور پروگرام تھے اور یہ سبھی اپنی اپنی مساجد کے امام بھی تھے۔

پہلی مرتبہ میں پینٹ کوٹ میں گیا تھا اورکافی انقلابی قسم کے خیالات کا اظہار کر آیا تھا۔ جو لوگ زمین پر توسیع کا کام خود نہیں کر رہے ہوتے، اکثر ان کے خیالات اسی طرح کے ’ارفع و اعلیٰ‘ ہوتے ہیں، خواب بننے اور خوابوں کو دنیا بنانے اور سجانے میں بہرحال انسانوں کے اندر کام کرنے کی نسبت محنت کم لگتی ہے۔ ان اساتذہ اور آئمہ سے بات کرنا بالکل آسان نہ تھا۔

وہ نئے عہد کی اصطلاحوں، ضرورتوں اور چیلنجز سے ہی بے نیاز تھے۔ ان کی زندگی میں تازگی اور روشنی کا نیا کھلنے والا روزن ہولے ہولے وسیع ہو رہا تھا اور انھیں حیران کیے دیتا تھا۔ ان کے خیالات میں وسعت اور تازگی آ رہی تھی اور معمول سے ہٹ کر، بہتر استاد بن کر پڑھانے اور عملی زندگی میں ان مجبور، لاچار اور بے سہارا بچوں کو آگے بڑھانے کے غیر روائتی کام پر وہ عملاً آمادہ ہو چکے تھے اور اب اسی کے طریقے سیکھ رہے تھے۔

اگر کسی کو پڑھانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہ اتفاق کرے گا کہ دنیا میں اساتذہ کو پڑھانا سب سے مشکل کام اس لیے ہے کہ بیشتراساتذہ ماننے اور سننے پر آمادہ کم ہی ہوتے ہیں۔

وہ جو اور جیسا کر رہے ہوں اسے ہی معراج مانتے ہیں۔ میری ٹائی اور سوٹ پر ہر بار بھرپور سوال اٹھانے کے باوجود خدا جانے کیا ہوا کہ قاضی صاحب کے اس منصوبے میں کام کرنے والے گوٹھ، گراں سے آئے آئمہ نے مجھے ذہنی طور پر قبول کر لیا۔ ان میں ہر عمر کے اساتذہ تھے اور نور اسلم ان کا سربراہ تھا۔ وہ انٹرنیٹ پر کام کرتا تھا اور ان اساتذہ نے کبھی کمپیوٹر کی شکل نہیں دیکھی تھی۔

مگر کام کی اثر پذیری دیکھ کر مجھے قاضی صاحب پر بہت پیار آیا کہ کس بندے کو کہاں سے اٹھا کر لائے ہیں اور کس کام پر لگا دیا ہے۔ نور اسلم کی صلاحیتوں کا اندازہ مجھے اسلام آباد میں FCO(فارن اینڈ کامن ویلتھ) کے لیڈر شپ پراجیکٹ کے دوران ہوا جہاں وہ بہترین اسکول، اساتذہ، طلبہ اور ان کی تربیت کے لیے ایک مثالی ادارے کی نشاندہی کرنے کے لیے لاہور سے آیا کرتا تھا۔ اس کے پاس دنیا جہاں کے بہترین اسکولوں کے تربیتی، تفریحی نظام کی تفصیلات اور پاور پوائنٹ میں پریذینٹیشنز ہوتی تھیں اور میں سوچتا تھا، قاضی صاحب نے اس جن کو کیسے قابو کیا ہو گا؟ وہی جن میرے سامنے تھا۔

اس نے میز پر پڑی چابی اٹھائی، کوئی معذرت کیے بغیر اجازت لی اور سمیحہ راحیل قاضی کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا، جہاں سے اسے کام کرنے والی مائی کا مسئلہ حل کرانا تھا۔ شام کو اس کا فون آیا تو پتا چلا کہ مائی ویوز فیکٹری کے پیچھے رہتی تھی۔ فیکٹری میں چوری کرنے کے بعد چوروں نے پچھلی دیوار پھلانگی توجاتے ہوئے ان کا کچھ سامان وہاں گر گیا۔ پولیس نے آسان ہدف دیکھ کر مائی کے میاں کو پکڑ لیا۔

اس کا پورے شہر میں کوئی والی وارث تھا، نہ داد رسی کرنے والا۔ وہ روتی سمیحہ راحیل کے گھر پہنچی اور بیٹی نے قاضی صاحب سے اسلام آباد رابطہ کیا اور قاضی صاحب جو ظلم کے خلاف بات کرتے تھے، جلوس اور ریلیاں نکالتے تھے، ایک غریب کام کرنے والی بے سہارا اور بے آسرا مائی کی مدد کو یوں آئے کہ خود مجھے کتنی دیر حیرت ہوتی رہی۔ نور اسلم نہ صرف مائی کے میاں کو تھانے سے چھڑا کر لایا بلکہ اس کے گھر چھوڑ کر بھی واپس آیا۔

میں نے اسے ممتاز دانشور اشفاق احمد کا کہا سنایا، وہ کہا کرتے تھے: ’’تھانے سے کسی دوست یا جاننے والے کا فون آ جائے تو فون پر پوچھنے، ڈانٹنے اور عقل سکھانے مت بیٹھ جائو۔ پہلے جا کر اسے مشکل سے نکالو، باقی سمجھانے کے شوق بعد میں پورے کر لینا۔‘‘ قاضی حسین احمد نے جنھیں قدرت نے دائمی مسکراہٹ سے نوازا تھا، جماعت اسلامی کی ۲۲؍سال قیادت و امارت کی۔ اس سے پہلے وہ میاں طفیل احمد کے ساتھ جنرل سیکرٹری رہے۔ دو کمرے کے فلیٹ میں اپنی امارت کے سارے سال گزارنے والے قاضی صاحب کو میں نے ہمیشہ ایک مطمئن، متحرک اور متواضع آدمی پایا۔

منصورہ میں ذمہ داری سنبھالنے کے بعد جس گھر میں انھیں رہنا چاہیے تھا، وہاں جماعت کے ایک بیوروکریٹ بڑی بے نیازی سے رہتے رہے۔ لوگ باہم باتیں کرتے تھے، خدا جانے کسی نے ان سے بھی کہا کہ نہیں، بہرحال قاضی صاحب نے نہیں کہا اور خوش دلی سے سٹاف کے لیے بنائے گئے فلیٹ میں منتقل ہو گئے اور آخر تک وہیں رہے۔ نئے امیر سید منور حسن اس بھی سے ایک ہاتھ آگے چلے گئے، وہ گھر اور فلیٹ کے بجائے مہمان خانے کے ایک کمرے کے باسی ہیں۔

امرودوں بھری ٹرے

بہت سال پہلے رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست اکرم زبیر خان کے والد جماعت کی شوریٰ کے رکن تھے۔ ایک بار ان کا کوئی پیغام پہنچانا تھا تو اکرم زبیر کے ساتھ قاضی صاحب کے گھر جانے کا پروگرام بنا۔ سچی بات یہ ہے کہ ایک خوب صورت، کھلے ڈھلے اور آسودہ گھر کا تصور تھا۔ یہ بھی علم تھا کہ پشاور اور زیارت کا کاخیل میں ان کے گھر اور کاروبار ہیں۔

گھر کا دروازہ قاضی صاحب نے خود کھولا۔ ہمیں بٹھا کر اندر گئے اور کچھ دیر بعد ایک ٹرے اٹھا کر لائے۔ اس میں سیب اور امرود کٹے ہوئے تھے۔ بولے ’’بھئی! گھر میں اس وقت یہی کچھ ہے۔ میں بھی کئی روز کے بعد آیا ہوں۔‘‘ یہ ان سے پہلی ملاقات تھی، امرودوں کی طرف دھیان بھی نہیں گیا۔ وہ کہتے رہے ہم سنتے رہے، عام طور پر بڑے منصب پر پہنچ کر یا بزرگی کی منزل پر جا کر ہمارے ہاں بزرگ بن کربات کرنے کا بہت رواج ہے۔ یہیں سے خلیج بننی شروع ہوتی ہے۔ آدھ گھنٹے کی ملاقات میں لمحہ بھر کو محسوس نہیں ہوا کہ ان سے پہلی ملاقات ہے اوروہ عالم اسلام کی اتنی بڑی جماعت کے قائد ہیں۔

بچوں کے لیے تفہیم القرآن کا تحفہ

روزنامہ نوائے وقت کے ساتھ میری بہت طویل رفاقت رہی۔ ماہنامہ پھول کے زیر اہتمام ملک کے ۶۰؍ سے زائد شہروں میں پھول کلب بنائے تو اکثر جگہوں پر جانا پڑتا ۔ اتنی دور دراز سے خطوط اور فون آتے تو لوگوں کے اچھے لفظوں اور اچھے تصورات سے محبت کا بار بار اندازہ ہوتا، مجید نظامی صاحب اس حوالے سے بہت شفیق تھے کہ آگے بڑھتے کام کو روکتے نہیں تھے۔ انھوں نے ۳؍ہزار کا ماہانہ بجٹ دیا ہوا تھا جو لکھنے والوں پر خرچ ہو جاتا۔ عام قارئین اور مقابلوں میں حصہ لینے والوں کے لیے لاہور میں تو ہم ڈان بریڈ اور پارلے والوں سے بڑے بڑے انعام لے لیتے مگر اندرون ملک والے محروم رہتے۔

میں نے ایک روز اللہ کا نام لے کر قاضی صاحب کو خط لکھ دیا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب انھوں نے بچوں کے لیے ہر ماہ ایک تفہیم القرآن کا سیٹ اور مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒکی کتابیں بالخصوص خطبات دینے کی منظوری دے دی اور پھر سالوں ہمیں باقاعدگی سے یہ تحائف ملتے رہے۔ اندرون پنجاب اور اندرون سندھ جب ڈاک سے یہ کتابیں پہنچتیں تو بچوں ہی نہیں ان کے والدین کی خوشی بھی دیدنی ہوتی جس کا وہ فوری اظہار بھی کرتے۔

ان تحائف نے جن میں البدر پبلی کیشنز کے عبدالحفیظ صاحب کی چھاپی ہوئی خرم مراد کی کتاب، چند تقریریں اور تعمیر انسانیت کے سعید اللہ صدیق کی شائع کردہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی جلدیں بھی شامل تھیں، بچوں کی تربیت اور ادارے کی نیک نامی میں بہت اضافہ کیا۔

بان کی چارپائی کا مزہ

ملک کے معروف آئی سرجن اور الخدمت پاکستان کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر حفیظ احمد جنھیں ایک دنیا آنے والے سالوں میں جماعت کی سیاسی سرگرمیوں کی سربراہی کے لیے بھی بے حد موزوں پاتی ہے، بے حد نفیس اور مہربان انسان ہیں۔ خدمت ان کا شعار ہے اور عمدہ تجزیہ ان کی زندگی کا معمول۔ وہ قاضی صاحب کے بارے میں بات کرتے ہیں تو کھو سے جاتے ہیں۔ ’’ہم نے کیا کھو دیا، ان کے جانے کے بعد احساس ہوتا ہے وہ خدا کی کتنی بڑی نعمت تھے۔ دن بھر سیاسی سرگرمیوں، ملاقاتوں میں مصروف اور رات کو پھر کام۔ ‘‘وہ رکے۔ دو راتوں کی گواہی ہے میرے پاس، دونوں مختلف مواقع تھے۔

اسلام آباد میں تاریخی دھرنے کی رات میں ان کا میزبان تھا۔ سخت گرمی کے دن تھے اور میرے گھر میں اے سی نہیں تھا۔ ڈرائنگ روم میں بان کی چارپائی رکھ کر اوپر فوم ڈال کر ان کے لیے بستر تیار کیا تھا۔ دروازے کے نیچے دراز تھی جس سے مینڈک اندر آتے تھے۔ میں رات کے کئی پہر شرمندگی سے سوچتا رہا، اتنی بڑی جماعت کا قائد، لاکھوں لوگوں کا محبوب، میرا مہمان ہے اور کیا خبر وہ ٹھیک سے سو بھی سکے گا یا نہیں؟ نماز فجر سے بہت پہلے اسی گھبراہٹ میں کمرے میں گیا تو دیکھا، فوم کا میٹ رول کیا پڑا ہے اور وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔

سلام پھیر کر بولے: ’’ڈاکٹر صاحب بان کی چارپائی پر سونے کامزہ ہی کچھ اور ہے۔ ہمارے گھر میں ہوتی تھی مگر برسوں سے موقع ہی نہیں مل پایا۔‘‘ ڈاکٹر حفیظ آج بھی بے یقینی کا شکار تھے کہ کیا خبر سوئے بھی تھے یا ساری رات عبادت میں ہی مصروف رہے۔ دوسرے دھرنے کے موقع پر اپنے ایک دوست سیال صاحب کے ہاں رات گئے قاضی صاحب کو لے کر پہنچایا، اس عالم میں کہ گھر کی بتیاں بند تھیں اور طے تھا کہ کسی کو بھی خبر نہ ہو گی کہ قاضی صاحب یہاں ٹھہرے ہیں۔ سیال صاحب نے بعد میں حیرت ملی پریشانی سے کہا کہ’’ میں ساری رات چائے اور لوازمات لے کر ان کے کمرے میں وقفے وقفے سے جاتا رہا۔ تمھارا امیر کیا آدمی ہے، سوتا بھی نہیں۔‘‘

جماعت کے اندر مزاحمتی طرزِ فکر

قاضی حسین احمد کو جماعت اسلامی کے اندر جو عزت احترام اور وقعت ملی وہ اس سے پہلے کسی اور کو نصیب نہ ہوئی تھی۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نصف صدی کی جامد روایات اور کم رفتاری نے جماعت کے اندر شدید مزاحمتی اور دفاعی مائنڈ سیٹ پیدا کر دیا ہے۔ پرانی بات پر اصرار، ہر نئی چیز سے انکار، ناکامیوں کا جواز، کامیابیوں پر اعتراض، قاضی صاحب کو زندگی بھر ان کے پیاروں سے بھرپور مزاحمت ہی ملی۔

میاں طفیل محمد سابق امیر ہونے کے باوجود شوریٰ میں تھے۔ وہ شوریٰ کے علاوہ بھی وقتاً فوقتاً پری

qazi-sahab, akhter abbas, abbas, akhter