function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

قیادت کا فن

محمد قاسم | کھیل

چند  ماہ قبل برطانیہ کے مشہور کرکٹ گرائونڈ‘ لارڈز کی انتظامیہ نے بیس نامی گرامی سابق کپتانوں کو دعوت شبینہ پر بلایا۔ یوں وہ ان کی خدمات پر انھیں خراج تحسین پیش کرنا چاہتی تھی۔ برطانوی کرکٹ رسالے ’’کرکٹر‘‘ نے اس سنہرے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وہ یوں کہ سات کپتانوں کو جمع کر کے لیڈرشپ کے آرٹ پر فکرانگیز گفتگو کی گئی۔ اس مکالمے کے دلچسپ حصے قارئین اُردو ڈائجسٹ کی نذر ہیں۔

کرکٹ کے جن کپتانوں سے سوال جواب کیے گئے، ان میں ٹیڈڈیکسٹر، کلائیولائیڈ، آئن چیپل، مشتاق محمد‘ علی باچر‘ ویوین رچرڈز اور شان پولاک شامل ہیں۔ یہ سبھی پاکستانیوں کے جانے پہچانے نام ہیں۔

سوال: دیکھا گیا ہے کہ بعض کرکٹ مقابلے بور ثابت ہوتے ہیں، گو کوئی ایک ٹیم ضرور جیتتی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ آپ کی نظر میں جیتنا اہم ہے یا شائقین کو لطف اندوز کرنا؟
کلائیولائیڈ: میرے نزدیک جیتنا سب سے اہم ہے۔ ویسٹ انڈیز میں پچاس لاکھ لوگ بستے ہیں۔ جب کہ کرکٹ کھیلنے والے دیگر سبھی ممالک کی آبادی زیادہ ہے۔ سو وہاں کھلاڑیوں کا چنائو آسان ہے اور اسٹیڈیم بھی بڑے ہیں۔ جب مجھے ویسٹ انڈین ٹیم کی کپتانی ملی، تو مقامی کرکٹ شکست و ریخت کا شکار تھی۔ لیکن ہم نے بورڈ سے معقول فیس کا مطالبہ کیا۔ چناںچہ ہمارے لیے یوں بھی جیتنا ضروری تھا کہ زیادہ معاوضہ برحق ثابت ہو۔ پھر جیت سے کھلاڑیوں اور عوام کا جوش و ولولہ بھی بڑھ جاتا۔

آئن چیپل: میرے خیال میں اہم بات یہ ہے کہ کھلاڑی کھیل میں دلچسپی لیں۔ اس طرح وہ مقابلہ جیتنے کی سعی کرتے ہوئے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہیں۔ یوں تماشائی بھی ان کے کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ چناںچہ میں سمجھتا ہوں کہ پہلی گیند سے جیتنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

مشتاق محمد: جب میں نے کھیلنا شروع کیا، تو پاکستان حال ہی میں آزاد ہوا تھا۔ ہم صرف جیت کو ذہن میں رکھ کر کھیلتے۔ گو ہار بھی ہمارا مقدر بنتی، مگر ہمارے لیے فتح ہی اہم ترین تھی۔
سوال: آپ نے کھلاڑیوں میں جیت کی ذہنیت کیونکر پیدا کی؟

ٹیڈڈیکسٹر: اس سوال کا جواب دینا خاصا مشکل ہے۔ بہرحال سب سے پہلے کھلاڑیوں کو بااعتماد اور باحوصلہ بنانا ضروری ہے۔ اگر وہ آپ پر اور آپ ان پر اعتماد کر تے ہیں، تو جیتنا ممکن ہے۔ لیکن اعتماد موجود نہیں، تو پھر چھوٹی سی غلطی بھی شکست کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

کلائیولائیڈ: سب سے پہلے اپنے آپ پر بھروسا کرنا سکھایا اور پھر عزت و احترام کرنا‘ پھر کھلاڑی میں جوش و جذبے کو مہمیز دی۔ میری ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی کثرت تھی۔ تاہم وہ مختلف جزائر سے آتے ہیں۔ سو پہلے انھیں یہ یقین دلانا ضروری تھا کہ میں صرف میرٹ کی بنیاد پر کھلاڑی منتخب کروں گا۔ اعتماد حاصل ہوتا ہے، دیا نہیں جاتا۔ مگر جب اس نے جنم لیا، تو کھلاڑی ملک کی خاطر دیواریں توڑنے کے لیے بھی تیار ہو گئے۔

ویوین رچرڈز: جب میں کپتان بنا، تو ٹیم کو ریلے (Relay) دوڑ کے مانند برتا۔ کلائیو کی محنت کے باعث ہم فتح کا خاکہ (بلیو پرنٹ) پا چکے تھے۔ سو میرا کام یہ تھا کہ بھاگتے ہوئے ڈنڈا سنبھال کر رکھوں اور منزل تک پہنچ کر ہی دم لوں۔ قیادت کے اصول طے ہوچکے تھے، میں نے انھیں معیار کے مطابق رکھا۔
سوال: اکثر کہا جاتا ہے کہ ٹیم فتح کے بجائے شکست سے زیادہ سیکھتی ہے۔ آپ اس بات سے متفق ہیں؟

علی باچر: حال ہی میں رگبی کے مشہور کیوی کھلاڑی سین فٹز پیٹرک سے میری ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا کہ ہارنے کا خوف وہ سب سے بڑی وجہ تھی جو اس کے کھلاڑیوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کا سبب بنا۔ میں نے کہا کہ تمھاری بات سمجھ نہیں آئی۔ سین بولا ’’نیوزی لینڈ میں جب کوئی ٹیم ہار جائے، تو ہر کوئی جیسے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ تب کھلاڑیوں کو لگتا ہے کہ انھوں نے سبھی کو شرمندگی سے دوچار کردیا۔ اسی احساس سے بچنے کی خاطر آئندہ وہ جیت کی خاطر جان لڑا دیتے ہیں۔ میں نے اس جذبے کو غیر معمولی پایا۔‘‘

ویوین رچرڈز: یقینا ہارسے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ جب کوئی بہت جلد فتوحات پانے لگے، تواس پر بے پناہ دبائو پڑ جاتا ہے۔ عموماً وہ اسے سہار نہیں پاتا۔ شکست کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنی خامیوں سے روشناس کراتی ہے۔ یوں اسے موقع ملتا ہے کہ وہ خامیاں دور کر کے اپنی ترقی و کامیابی یقینی بنا سکے۔

کلائیولائیڈ: 1975-76ء میں ہمیں بدترین شکست کا تجربہ ہوا جب ہم آسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز5-1سے ہار گئے۔ تاہم پرتھ میں ہم نے صرف تین دن میں ٹیسٹ جیتا۔ مسلسل ہار نے ہمیں توڑ کر رکھا۔ تاہم ایک جیت سے ہمیں ہمت ملی اور یہ احساس بھی کہ ہماری ٹیم خامیاں دور کر لے، تو بہترین کارکردگی دکھانا ممکن ہے۔
سوال: ناکامی پر افسردہ اور شکست خوردہ نظر آنا آپ کے نزدیک درست رویہ ہے؟

ویوین رچرڈز: ہر کھیل میں یہ روایت موجود ہے کہ شائقین اپنی ٹیم کی ہار سے افسردہ بلکہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ سو ہر کھلاڑی کو ان کے غم و غصے سے ڈر لگتا ہے۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ میدان میں کھلاڑی غم و غصے کا مظاہرہ نہ کرے۔ اگر وہ خوفزدہ بھی ہے، تو اسے چھپا کر رکھے۔

علی باچر: اس سلسلے میں متوفی جنوبی افریقن کرکٹر ایرک روان (Rowan)میراآئیڈیل ہے۔ وہ ایک باغی کھلاڑی تھا۔ ایک بار وہ لنکاشائر میںفرسٹ کلاس میچ کھیل رہا تھا۔ جب سست رفتار کھیل دکھایا، تو انگریز اس پر آوازے کسنے لگے۔ اس پر ایرک اتنا بگڑا کہ احتجاجاً آدھے گھنٹے تک لیٹا رہا۔

مگر اسی ایرک کا ایک جملہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ جب ہم ایک میچ ہار گئے، تو میرا افسردہ چہرہ دیکھ کر وہ بولا: ’’ارے یار، مسکرائو اور ہمت سے شکست سہو… اگرچہ میرے جذبات آنسو بہا رہے ہیں۔‘‘
ٹیڈڈیکسٹر: آج خصوصاً کپتان کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ میدان میں سپاٹ چہرہ رکھے اور کسی قسم کے جذبات نہ دکھائے۔ وجہ یہ ہے کہ کوئی کھلاڑی کیچ چھوڑ دے، تو کیمرا سیدھا اس پر جاتا ہے۔ اگر وہ سر پکڑے ہوئے ہو یا چہرے سے غصہ جھلکے تو یہ اچھی بات نہیں کیونکہ ایسا رویہ ساتھیوں پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔

کلائیو لائیڈ: مجھے اپنے زمانے میں مختلف صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ویسٹ انڈین ٹیم دنیا میں بہترین بن گئی، تو ہم یہ نہیں سوچتے تھے ’’اگر ہار گئے، تو کیا ہو گا؟‘‘ بلکہ ہماری سوچ کا محور یہ سوال ہوتا ’’ہم مدمقابل کو کیسے شکست دیں؟‘‘ اس مثبت ذہنی رویے نے ہمیں بہت فائدہ پہنچایا۔
سوال: ایک کپتان کے لیے کیا یہ ضروری ہے کہ وہ صف اوّل میں رہ کر مقابلہ کرے؟

علی باچر: مردانہ وار اور مشکلات کا مقابلہ کرنے والے کپتان یقینا کامیابی و عزت پاتے ہیں۔ ایسے کپتانوں کی دو بنیادی اقسام ہیں۔ اوّل وہ جو دوسروں کو تحریک دیتے و مہمیز کرتے ہیں تاکہ کھلاڑی عمدہ کھیل کا مظاہرہ کریں۔ دوم وہ کپتان جو خود اچھی بلے بازی یا بالنگ کے ذریعے ٹیم کو کامیابی دلاتے ہیں۔ سو ایک کامیاب کپتان وہی ہے جو درج بالا کسی ایک قسم سے تعلق رکھے۔

مشتاق محمد: پاکستانی کرکٹ ٹیم کی تاریخ میں کئی کھلاڑی کپتان بن چکے۔ مگر حقیقی کپتان وہی ہے جو میدان میں ٹیم کی بہترین قیادت کرے۔ عمران خان پہلے پاکستانی کپتان ہیں جو خود عمدہ کارکردگی دکھا کر دوسروں کے لیے رول ماڈل بنے۔ ان کی متحرک شخصیت اور جوش و جذبے نے دوسروں کو بھی ابھارا کہ میدان میں اچھا کھیل دکھائیں۔ ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا اور پاکستان کرکٹ کی کایا پلٹ ڈالی۔

آئن چیپل: ایک کپتان کو جب احساس ہو جائے کہ شکستیں اس کے دامن پر دھبا ہوں گی، تب وہ خودبخود بہترین صلاحیتوں کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ آمر بن جائے، مگر اسے یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ جیت کی خاطر کیا لائحہ عمل اختیار کرنااور کس سے مشورہ لینا ہے۔

مثال کے طور پر نائب کپتان، وکٹ کیپر اور کھیل کی ماہیئت جاننے والے سینئر کھلاڑی میرے مشیر تھے۔ وہ جب بھی مشورہ دیتے، تو میں دھیان سے سنتا۔ وجہ یہ کہ کھیل ختم ہونے کے بعد قیمتی ترین مشورہ بھی کسی کام کا نہیں رہتا۔
سوال: دور جدید میں کسی میچ میں کپتانی کرتے ہوئے کیسی مشکلات پیش آتی ہیں؟

آئن چیپل: یہ حقیقت ہے کہ اب کپتانی کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ اب کئی لوگ ٹیم سے وابستہ ہو چکے۔ میں جس زمانے میں کپتان تھا، صرف منیجر ہی سے رابطہ رہتا تھا۔ جب کبھی وہ معاملات کرکٹ میں دخل اندازی کرتا، میں صاف کہہ دیتا: ’’دوست! ہمیں تقریبات کے اوقات سے باخبر رکھو، بتائو کہ بس کب آئے گی تا کہ لڑکے بروقت ہر تقریب میں پہنچ جائیں۔ مگر کرکٹ کے معاملات مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘

شان پولاک: کپتان کی پہلی ذمے داری یہ ہے کہ میدان میں ایسی حکمت عملی اپنائے جس سے فتح حاصل ہو سکے۔ پہلے وہ کھلاڑیوں سے مشورہ کر کے منصوبہ بندی کرتا تھا۔ اب انتظامیہ تقریباً ہر بات میں دخیل ہو چکی ہے۔

ٹیڈڈیکسٹر: ماضی کی نسبت حالات واقعی بہت تبدیل ہو چکے۔ خصوصاً اب نوجوان کھلاڑی خاصے دبائو میں رہتا ہے۔ جب میں نے کھیلنا شروع کیا، توصرف کپتان ہی سے میرا واسطہ رہتا تھا۔ اب تو بیٹنگ کوچ، بالنگ کوچ، مینیجر، فیلڈنگ کوچ اور نجانے کون کون آچکا ہے۔ سو کھلاڑی ایک بری شاٹ کھیلے، تو اسے فکر لگ جاتی ہے کہ اس کو سبھی لوگوں سے نمٹنا ہو گا۔

علی باچر: میرے خیال میں کپتان اب بھی کرکٹ ٹیم میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ دیگر کھیلوں کی طرف دیکھیے، ان کا کنٹرول مینیجروں کے ہاتھوں میں ہے۔ مگر کرکٹ میچ میں کپتان ہی ہدایات دیتا اور دیگر معاملات طے کرتا ہے۔
سوال: ایک کپتان کی قیادت کے راز کیا ہیں؟

ویوین رچرڈز: اسے جزئیات پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ مثلاً میں اپنے دور کپتانی میں وقت کی پابندی پر بہت زور دیتا۔ وجہ یہ ہے کہ اگر کسی کھلاڑی کو آنے میں دیر ہو جائے، تو بس میں بیٹھے دیگر لڑکے دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سو میچ کا آغاز اچھا نہیں ہوتا۔ ایک اور بات یہ دیکھی کہ جس کپتان کو عزت و احترام حاصل ہو، تمام کھلاڑی اس کی بات سنتے ہیں۔

مشتاق محمد: اسے چاہیے کہ اپنے تمام کھلاڑیوں کی شخصیت اور مزاج کو سمجھنے کی کوشش کرے اور وقت لگائے۔ ٹیم گیارہ لڑکوں پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر ایک کسی بات پر مختلف ردعمل دکھاتا ہے۔ چناںچہ باصلاحیت کپتان وہ ہے جو اپنے ہر کھلاڑی کی خوبیوںو خامیوں سے واقف ہو۔

شان پولاک: ایک کامیاب کپتان سیدھی اور صاف گفتگو کرتا ہے۔ وہ کنفیوز کرنے والے پیغام نہیں دیتا اور نہ ہی قبولتا ہے۔ مزیدبرآں اس کی قیادت میں ہر کھلاڑی اپنے فرائض سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔ چناںچہ سبھی لڑکے سعی کرتے ہیں کہ ذمہ داری سے اپنا فرض نبھائیں۔ اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا بری کارکردگی دکھائے، تو دیگر کھلاڑیوں کا عمدہ کھیل جیت کی ضمانت بن جاتا ہے۔

ٹیڈڈیکسٹر: میری نظر میں بہترین کپتان وہ ہے جو اپنے بالروں کو قابومیں رکھے۔ وجہ یہ ہے کہ جوں ہی بالر وائڈ گیند کرائے، چوکا کھاتا ہے۔ جیسے ہی شارٹ گیند گرائے، اسے چوکا یا چھکا پڑتا ہے۔ اگر وہ درست لینتھ پر گیندیں کرانے لگے، تو کم رنز بنتے ہیں۔
آئن چیپل: اچھے کپتان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ سبھی معاملات سادہ اور قابل فہم رکھے۔ ذومعنی یا پیچیدہ گفتگو خرابیاں پیدا کرتی ہے۔

سوال: ماضی میں یہ رواج تھا کہ صرف سینئر کھلاڑی ہی کپتان بنائے جاتے تھے۔ تب تک وہ کپتانی کا تجربہ پا چکے ہوتے تھے۔ اب اکثر اوقات نوجوان کھلاڑی بھی یہ ذمے داری سنبھال لیتا ہے۔ تب وہ کیونکر تجربہ پاتا ہے؟

علی باچر: گو اوّلین میچوں میں نوخیز کپتانوں کی ناتجربے کاری عیاں ہوتی ہے۔ تاہم نوجوان کپتان کی بھی کھلاڑی عزت کرتے ہیں، تو وہ رفتہ رفتہ فتوحات پانے لگتا ہے۔ دراصل کوئی بھی کپتانی کر سکتا ہے۔ مگر عمدہ کپتانی کی بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ مایوس و پژمردہ کھلاڑیوں میں حوصلہ پیدا کرتا اور انھیں مقابلہ کرنے پر ابھارتا ہے۔

شان پولاک: ماضی میں عموماً بلے باز ہی کپتان بنتے تھے۔ دور جدید کی خوبی ہے کہ بالر بھی کپتان بننے لگے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ کپتان میچ کی ماہیئت کو جاننے و سمجھنے لگا ہے۔ دراصل جب تک کپتان چند بالیں خود نہ کرائے، پچ سے بخوبی واقف نہیں ہو سکتا۔
سوال: آپ مختلف الخیال کھلاڑیوں کو کیسے کنٹرول کرتے تھے؟

کلائیولائیڈ: بیشتر کھلاڑی کپتان کی ہدایات پر عمل کرتے۔ لیکن سرپھرے لڑکے بھی ہوتے ہیں۔ اچھا کپتان حکمت عملی سے انھیں قابوکرتا ہے۔ اگر سبھی کھلاڑی اس پر اعتماد کرتے ہیں، تو یہ مشکل کام نہیں۔ مثلاً چیخنا چلانا میرا وتیرہ نہیں تھا۔ اگر کوئی ٹیم کے اصول توڑتا، تو میں اس سے باز پرس ضرور کرتا۔ تاہم دیگر کھلاڑی پہلے ہی اس کی خبر لے لیتے۔

مشتاق محمد: یہ میری خوش قسمتی ہے کہ پچاس سال قبل جب پاکستانی کرکٹ ٹیم نشوونما پا رہی تھی، تو میں اس کا حصہ بن گیا۔ چناںچہ مجھے فضل محمود، حنیف محمد، امتیاز احمد جیسے سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ تربیت پانے کا سنہرا موقع ملا۔ مزیدبرآں اس وقت اسکولوں اور کالجوں میں کرکٹ بڑے منظم انداز میں کھیلی جاتی تھی۔ سو کلائیولائیڈ جس نظم و ضبط اور عزت و احترام کی بات کر رہے ہیں، وہ پاکستانی کرکٹ میں موجود تھا۔

آئن چیپل: مجھے دو خطرناک بالروں، جیف تھامسن اور ڈینس للی کو سنبھالنا پڑا۔ للی تو زیادہ تنگ نہ کرتا، تھامسن من موجی کھلاڑی تھا۔ حتیٰ کہ 1974ء میں ایشز (سیریز) سے قبل اس نے اعلان کر دیا: ’’مجھے وکٹ لینے سے زیادہ پچ پر پھیلا خون دیکھنا پسند ہے۔‘‘ چناںچہ اگلے دو برس تک بلے باز یہی سمجھتے رہے کہ وہ انھیں قتل کرنا چاہتا ہے۔ اس تاثر سے اگرچہ تھامسن کو فائدہ بھی ہوا کہ مخالف بلے باز اس سے ڈرنے لگے۔

ٹیڈڈیکسٹر

78سالہ ٹیڈڈیکسٹر نے 62ٹیسٹ کھیلے اور 1961ء تا 1964ء برطانوی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے۔ بحیثیت کپتان 30ٹیسٹ کھیلے۔ نو جیتے، سات ہارے۔ اپنے زمانے میں چوکے چھکے مارنے والے کھلاڑی تھے۔

مشتاق محمد

70سالہ مشہور پاکستانی کھلاڑی نے 57ٹیسٹ کھیلے۔ 1976ء تا 1979ء پاکستانی ٹیم کے کپتان رہے۔ 19ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کی۔ آٹھ جیتے، چار ہارے اور سات برابر رہے۔ آپ کا شمار اپنے زمانے کے بہترین آل رائونڈروں میں ہوتا ہے۔

آئن چیپل

70سالہ ممتاز آسٹریلوی کھلاڑی 75ٹیسٹوں میں شریک ہوئے۔ 1971ء سے 1975ء کے درمیان 30میچوں میں کپتانی کی۔ 15جیتے، 5 ہارے اور 10برابر رہے۔ اس دور کے بہترین کپتان ہونے کا اعزاز پایا۔ آج بھی آسٹریلوی عوام آپ کا زمانہ کپتانی یاد کرتے ہیں۔

کلائیولائیڈ

69سالہ اس ویسٹ انڈین کھلاڑی کا شمار کرکٹ تاریخ کے بہترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ 30سال کے تھے کہ 1974ء میں کپتان بنائے گئے۔ اگلے گیارہ سال تک یہ عہدہ آپ ہی کے پاس رہا۔ اسی دوران ویسٹ انڈین ٹیم دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کرتی رہی۔ کل 110ٹیسٹ کھیلے۔ 74میچوں میں کپتانی کی۔ 36جیتے، 12ہارے اور 26برابر رہے۔

علی باچر

یہ 60سالہ جنوبی افریقن کھلاڑی عالمی پابندی کے باعث زیادہ ٹیسٹ نہیں کھیل سکے۔ یوں ان کا جوہر قابل ضائع ہو گیا۔ 12ٹیسٹ کھیلے۔ 1969ء میںآسٹریلیا کے خلاف بہ حیثیت کپتان چار ٹیسٹ کھیلے اور سبھی جیتے۔

ویوین رچرڈز

یہ 62سالہ ویسٹ انڈین کھلاڑی اپنے زمانے میں بہترین بلے باز رہے۔کلائیولائیڈ کی سبکدوشی کے بعد 1985ء تا 1991ء اپنی ٹیم کے کپتان رہے۔ 49میچوں میں کپتانی کی۔27جیتے اور صرف 7 ہارے۔ 15برابر رہے۔ لیجنڈری پاکستانی کرکٹر عمران خان کی رائے میں ویوین رچرڈز ہی اعلیٰ ترین مہارت کے ساتھ فاسٹ بالروں کو کھیلتے تھے۔

شان پولاک
40سالہ جنوبی افریقن شان پولاک نے 108ٹیسٹ کھیلے۔ 2002ء تا 2003ء قومی ٹیم کے کپتان رہے۔ 26میچوں میں کپتانی کی۔ چودہ جیتے اور پانچ ہارے۔ سات برابر رہے۔ اپنے زمانے کے بہترین آل رائونڈر رہے۔