function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

قطر میوزیم کے شیشے کے فرش پر چلتے ہوئے دل کیوں لرزتاہے؟

اختر عباس | دسمبر 2013

میلوں پر پھیلا دوحا ائیرپورٹ ایک بار پھر ہمارے قدموں میں بچھا ہوا نئی نئی حیرتوں سے ہمکنار کر رہا تھا۔ جہاز سے ائیرپورٹ ٹرمینل لے جانے والی شاندار بسوں میں ہونے والے اعلانات ایک بار پھر کنفیوز کر رہے تھے کہ بتائے گئے دونوں ٹرمینلز میں سے اُترنا کس پر ہے۔ غلط جگہ اترنے کا مطلب اتنا آسان نہیں‘ مشکلوں اور پیچیدگیوں سے بھرا تھا۔ پہلی دفعہ آنے والوں کے چہرے پہ پریشانی صاف پڑھی جا رہی تھی کہ ان پر یہ بات واضح نہیں تھی۔ خود ہمیں دوسری بار دوحا آنے کے باعث یہ خبر تھی کہ جن مسافروں کے کوپنوں کا رنگ نیلا تھا وہ بس سے پہلے اتریں گے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں دوحا میں قیام کرنا تھا۔ پیلے رنگ کے کوپن والوں کے لیے میلوں دور الگ سے ٹرمینل تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ٹرانزٹ میں تھے اور انہیں کچھ توقف کے بعد دوسری فلائٹ پکڑ کر کسی دوسرے ملک سدھارنا تھا۔

چند ہفتے پہلے صبح پونے چھ بجے جب قطر ائیرویز کے جہاز نے ہمیں دوحا ائیرپورٹ کے حوالے کیا تو ہم اس مشکل سے گزر چکے تھے۔ دوسری مشکل جو زیادہ تکلیف دہ تھی۔ خنکی بھرے ماحول میں کوٹ اتار کر‘ پتلون کو اپنی بیلٹ سے بے نیاز کر کے جسمانی چھان پھٹک کے مراحل سے گزرنا تھا۔ مجھے لاہور سے چلتے ہوئے اس مرحلے کی بھنک پڑ گئی تھی اس لیے بیلٹ اُتار کر پہلے ہی بیگ میں رکھی ہوئی تھی۔ کوٹ کے بجائے شرٹ بھی ایک موٹی سی پہن لی تھی۔ بٹ صاحب کا کہنا تھا ’’میں یہاں آتے ہوئے

جیکٹ تو ایک طرف بیلٹ اور وہ جوتا بھی نہیں پہنتا جو آواز کرے۔‘‘ اس جملے کی بلاغت یہاں آنے کے بعد ہی سمجھ آئی جب ہم نسبتاً سکون سے گزر گئے اور لوگ بے چارے اپنے کوٹ‘ سوئیٹر‘ بیلٹس جوتے سنبھالتے پھرتے تھے۔ خوب صورت‘ دیدہ زیب اور جدید سہولتوں سے آراستہ بلڈنگ ایک بڑے شاپنگ مال کا پتا دے رہی تھی۔ شاید زندگی کا محور و مرکز ہی اب اشیا بن گئی ہیں۔ اسی لیے ہر جگہ اسی سوچ کی حکمرانی ہے۔ اسی کا اظہار ہے۔ ٹرانزٹ کا عرصہ یا وقفہ بالعموم محدود سا ہوتا ہے۔ وہاں بھی خرید و فروخت بلکہ صحیح لفظ شاپنگ ہے،کیونکہ خرید ہی خرید ہوتی ہے۔ فروخت کا تو نہ موقع ہوتا ہے نہ اجازت و معمول۔ بہرحال سامان سے بھری بلکہ لدی پھندی دکانوں

سے بچ بچا کر ایک کوریڈور سے ہوتے ہوئے نماز فجرکی تلاش میں ایک مسجد تک جا پہنچے۔ وضو کر کے سرخ رنگ کے دیدہ زیب قالین پر کھڑے ڈاکٹر عمران کا انتظار کر رہے تھے جب وہ اپنا کوٹ‘ ویسٹ کوٹ اور جرسی لیے برآمد ہوئے۔ وہ بے حد پریشان تھے۔ ان کا آئی فون (ٹیلی فون) سیٹ تلاشی کے مراحل میں کہیں کھو گیا تھا۔ وہ باہر کو لپکے اور میں وضوگاہ کی طرف‘ کیونکہ وہ میرے ساتھ ہی وضو کر رہے تھے۔ وہ فون بھول آئے تھے ۔ بہت سال پہلے میں گورنمنٹ کالج لاہور، ایس ای کالج بہاول پور کے

دورے کے بعد گورنمنٹ کالج ساہیوال میں سال اول کے داخلے کا جائزہ لینے کے لیے گیا تو ایک روز وضو کرتے ہوئے اپنی نئی نویلی گھڑی اتار کر کھونٹی پر لٹکا دی‘ نماز پڑھ کر ہاسٹل، جہاں میں ارشد علیم (بعد میں سرجن بنے‘ -6/73آر سے ان کا تعلق تھا) کا مہمان تھا‘ آ گیا اور وہاں سے واپس بنگلہ یتیم والا چلاآیا ‘ گھڑی وہیں لٹکی رہ گئی مگر ایک سبق دے گئی کہ پھر زندگی میں کبھی کوئی چیز وضو کرتے ہوئے نہ آس پاس رکھی نا ہی لٹکائی۔ اکثر ہم چیزیں اس لیے بھول جاتے ہیں کہ وہاں رکھنے کے عادی نہیں ہوتے‘ ہماری ذہنی ساخت اور دماغ کے اندر معمول کی ریکارڈنگ میں چونکہ واپسی پہ وہ چیز اٹھانا معمول اور عادت میں شامل نہیں ہوتا‘ اس لیے بھول جاتے ہیں۔ ورنہ ہم

گھنٹوں بغیر سوچے سمجھے اپنی سوچوں میں کھوئے، اپنے معمول کے راستے پر ڈرائیو کرتے ہوئے دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر سکون سے پہنچ جاتے ہیں۔
قاہرہ سے آئے ہوئے جب سبھی لابی میں سامان لے جا رہے تھے تو میں جائزہ وزٹ کے لیے کمروں میں گیاتو صحاف صاحب باتھ روم میں سوٹ اور کمرے میں جرابیںبھول کر جا چکے تھے۔ بٹ صاحب نے ائیرپورٹ پر بورڈنگ کارڈ لیتے ہوئے موبائل فون وہیں پر چھوڑ دیا۔ میں بھی جلدی میں دو کنو اور ایک چاکلیٹ کمرے میں چھوڑ آیا تھا۔ (ویسے وہ انہی کے تھے) دورے کے آغاز میں جب ہم دوحا ائیرپورٹ پر رکے تو قاہرہ کے لیے فلائٹ میں کچھ وقت تھا۔ اس لیے سوچا نماز پڑھ کر ذرا کمر سیدھی کر لی جائے۔ جوں

ہی ارادہ باندھا تو دیوار پر لگے ایک بورڈ نے آگے بڑھ کر ارادے کا راستہ ہی روک لیا۔ لکھا ہوا تھا، یہاں سونا منع ہے۔ بندہ پوچھے کہ سونے میں آپ کا بھلا کیا جاتا ہے۔ یہاں آنے اور رکنے والے تو ویسے ہی چند گھنٹوں کے مہمان ہوتے ہیں۔میرا جسم بے آرامی سے دکھ رہا تھا۔ اس لیے نتائج سے بے پروا ہو کر وہیں لیٹ گیا۔ اس دوران کراچی سے فلائٹ آگئی اور ڈاکٹر خالد غیور صاحب سے مسجد ہی میں پہلی ملاقات ہوئی جو ہمارے ہم سفر بننے والے تھے۔ دو ہفتے بعد وہ پھر اس ائیرپورٹ پر ہم سے جدا ہوئے۔

دوحا ائیرپورٹ سے طویل اور صبر آزما چیکنگ لائن سے دِھیرے دِھیرے چلتے باہر نکلے تو خالد بھٹی اور شیر علی صاحب استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ہوٹل میں پہنچے۔ دوحا اس قدر خوب صورت اور دل آویز شہر ہو گا، میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ کھلی کھلی روشن سڑکیں پھولوں سے بھرے قطعات تو لاہور کی پھولوں بھری سڑکوں کی یاد دلا رہے تھے۔ پی ایچ اے نے لاہور کو بڑی خوبی اور خوب صورتی سے پھولوں بھرے شہر میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہوٹل پہنچے جہاں سارا عملہ ہی بھارت

کے مختلف صوبوں سے آئے نوجوانوں پر مشتمل تھا جو اپنی شکلوں‘ کپڑوں اور گفتگو سے فوراً پہچانے جاتے ہیں۔ کائونٹر پہ تازہ اخبارات کا ڈھیر پڑا تھا۔ ان میں سے کچھ کا انتخاب کیا۔نہ صرف ان تمام کے صفحات کافی زیادہ تھیبلکہ ساری چھپائی بھی رنگین تھی۔ دلچسپ بات یہ کہ عربی اور انگریزی کے تمام اخبارات میں آدھی سے زیادہ خبریں بھارت کی تھیں۔ ممکن ہے اس کی وجہ زیادہ قارئین کا ہندوستانی ہونا ہو یا اخباری عملے کا وہاں سے ہونا۔ کمرے میں پہنچے تو بے حد تھکے ہوئے تھے۔ خالد بھٹی صاحب بہت

مروت والے آدمی ہیں۔ محبت سے پوچھنے لگے کوئی اور خدمت ہو تو بتائیے۔ بٹ صاحب نے بڑی معصومیت سے فرمائش کر دی۔ بولے ’’تسی ساڈے تِنّاں دے حصے دی نماز عشا ای پڑھ دیو‘‘(آپ خدمت کے لیے پوچھ رہے ہیں تو پھر ہم تینوں کے حصے کی نماز عشا ہی پڑھ دیں) خالد صاحب باقاعدہ جھینپ گئے۔ وہ ایسی فرمائش کی توقع ہی نہیں کر رہے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ہم لوگ سامان سیٹ کر کے سونے کے لیے لیٹ گئے۔
اگلے روز خالد صاحب صبح ناشتے کے بعد آگئے۔ پروگرام یہ تھا کہ دن بھر شہر گھوما جائے۔ شام کو پاکستان کے سفارت خانے میں پروگرام تھا۔ وہاں وقت پہ پہنچا جائے۔ دوپہر کو قطر کے ممتاز بزنس مین ادریس صاحب نے ایک دعوت کا اہتمام کیا تھا جس میں قطر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے نمایاں افراد مدعوتھے۔ ان سب سے ہماری پہلی ملاقات تھی۔ ادریس صاحب کا دفتر ایک بے حد پر رونق چوک کے بالکل ساتھ واقع تھا۔ جونہی انھوں نے ریموٹ کنٹرول سے پوری دیوار پر آویزاں پردے کو لپیٹا، سامنے خوب صورت پھولوں سے سجے چوک کا ایک انتہائی دل فریب منظر تھا۔ ان کے بورڈروم میں جہاں ہم مہمان تھے، قطر میں پاکستان کی بزنس مین کمیونٹی کے چیدہ چیدہ افراد جمع تھے۔ اُن

سے متعارف ہونے کے بعد میزبان نے دورہ مصر و فلسطین کی رُوداد اور تاثرات بیان کرنے کے لیے مجھے دعوت دی۔ ہلکے پھلے انداز میں باتیں اور مشاہدات پیش کیے گئے۔ کھانے کے بعد جب ہم خالد صاحب کے ساتھ قطر کا سب سے بڑا میوزیم جس کا ایک حصہ سمندر کے اندر بنایا گیا ہے، دیکھنے جارہے تھے تو بھٹی صاحب موقع کی تلاش میں رہے پھربالآخر کہنے لگے، ہمارے ہاں پاکستان سے بڑے بڑے اہم مہمان آتے ہیں۔ دینی اور سیاسی پس منظر کے حامل۔ ان مہمانوں کی میزبانی کا شرف اکثر ہمیں میسر آتا ہے

مگر اکثرسب لیے دیے رہتے ہیں۔ ایک قاضی حسین احمد تھے جن سے ہم آسانی سے بات کرلیتے تھے، مگر آپ لوگوں کا تو معاملہ ہی الگ ہے۔ کل رات سے اب تک کے ساتھ میں نہ صرف اپنائیت کا گہرا تعلق محسوس ہورہا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ باتیں بھی زندہ اور نارمل لوگوں جیسی ہیں۔ ہمیںپہلی بار یوں لگا کہ مہمان لوگ بھی ہنس بول سکتے ہیں۔ شیر علی صاحب نے مسکرا کر ان کی تائید کی یا تردید کی، اس کا پتا نہیں چل سکا۔
سڑکوں پر نئی نئی گاڑیاں رواں دواں تھیں۔ ان میں سب سے خوش رنگ اور آنکھوں کو بھلی لگنے والی بسیں تھیں جن کا رنگ بہت ہی مختلف اور منفرد تھا۔ ہلکے گرین رنگ کے شیڈز سے ڈیزائن کی گئی یہ جدید، صاف ستھری اور خوب صورت بسیں، سچی بات ہے سڑکوں کی رونق اور شان بڑھا رہی تھیں۔ دونوں طرف تعمیر شدہ عمارتیں اپنے تعمیراتی حسن اور جدتِ فکر کا پتا دے رہی تھیں۔ پھولوں کے قطعات چوراہوں اور سڑکوں پر بکثرت نظر آتے اور دل کو بھاتے رہے۔ سڑک پر چار رویہ ٹریفک کا بہائو بے حد تیز تھا مگر افرا تفری کا کوئی شائبہ بھی نہیں تھا۔
ایک چوراہے پرجہاں کافی اونچائی پر اشارے ٹنکے تھے، ہم رکنے والے تھے کہ اچانک کہیں دور سے ایک فلیش لائٹ چمکی۔ میں نے خالد صاحب کی طرف استفسار بھری نگاہوں سے دیکھا۔ وہ مسکرا کر بولے ’’ بس جی، وہ توگیا‘‘ کون ، کہاں گیا۔ انھوں نے اشارہ کیا کہ سگنل بدلنے کے بعد ایک صاحب نے جلدی سے گاڑی آگے بڑھا دی تھی تاکہ رواروی میں نکل جائیں مگر اب ان کے موبائل فون پر ایک منٹ کے اندر اندر ایس ایم ایس آئے گا جو اشارہ توڑنے پر ایک لاکھ روپے کے جرمانے کی خبر سنائے گا۔ یہ جرمانہ اسے چند دنوں کے اندر بھرنا ہوگا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ میں نے حیرت اور بے یقینی سے پوچھا۔ اس میں ’’یہ نہیں ہوسکتا‘‘ قسم کی کیفیت بے حد نمایاں تھیں۔ حلقہ احباب قطر کے جنرل سیکرٹری بولے تو ان کی آواز میں ایک درد کی لہر تھی۔ ’’کل غلطی سے ایک شاہراہ پر میں سڑک پر لکھی ہوئی سپیڈ سے ذرا تیزی سے گزرا تو چند لمحوں میں ہی ایس ایم ایس آگیا۔ آج آپ کے پاس آنے سے پہلے پورے چھ ہزار روپے سرکاری خزانے میں بطور جرمانہ جمع کروا کے آیا ہوں۔
وہ بتا رہے تھے نظام بے شک عوامی سہولت اور خدمت کو ذہن میں رکھ کر کیا گیا ہے مگر خلاف ورزی کرنے والے کے لیے کوئی رورعایت نہیں ہے۔ سچ یہی ہے کہ آج کی دنیا میں ملک، چہروں سے زیادہ وہاں کے نظام پر عمل درآمد سے پہچانے جاتے ہیں۔ نظام بھی ایسا کہ چل رہا ہو اور لوگ اسے اپنا سمجھ کر اپنائے ہوئے ہوں ۔ شخصی کوتاہی کی صورت میں جرمانہ اور سزا سے کسی کومَفرنہ ہو۔
سگنل پر جو لائٹ چمکی تھی۔ اصل میں وہ چار کیمروں کے فلیش اکٹھے چلنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ کار کے دائیں، بائیں آگے اور پیچھے سے چار تصویریں ایک ہی لمحے میں بنیں اور محفوظ ہوگئیں۔ ڈرائیور کی شکل، کار کا نمبر، اوور سپیڈ، غرض ہر اینگل سے ایسی تصاویر بن گئیں جن کی تردید ممکن ہی نہیں رہتی۔ اگر کوئی کہے کہ اس نے تو اشارہ نہیں توڑا تو تردید کے لیے چار تصاویر سامنے آجاتی ہیں جس میں اس کی اپنی تصویر بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ سن کر میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا ہمارے ہاں جرمانوں سے لوگوں کو سڑکوں پر تھوکنے ، دوسروں کو دُکھ پہنچانے، دھوکا دینے، حق دبانے، اذیت دینے اور دوسروں کے لیے برا سوچنے سے منع کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ قطر میں 30، 32سال سے رہنے والے پاکستانی ہی بتا رہے تھے کہ یہاں کافی حد تک قانون نے یہ کام کر لیا ہے۔ اخبار دیکھا تو ایک دلچسپ خبر سامنے تھی۔ چونکہ ابھی تازہ تازہ فلسطین سے جڑے تھے۔ اس لیے خبر وں کے جھرمٹ میں بھی وہ خبر اہم لگی۔
فلسطینی لڑکی عرب دُنیا کی سب سے کم عمر ڈاکٹر بن گئی
فلسطینی دو شیزہ اقبال محمودالاسعد نے 20سال کی عمر میں میڈیکل کی ڈگری حاصل کرکے عرب دنیا کی سب سے کم عمر پروفیشنل ڈاکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ اس حوالے سے ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کرلیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اقبال الاسعد کو اس سے قبل میڈیکل کالج میں داخلہ لینے والی سب سے کم عمر طالبہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھاجو انھیں صرف 13برس کی عمر میں ملا تھا۔ قطر کے میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے پر فلسطینی دوشیزہ کا کہنا تھا کہ

وہ اپنی تمام صلاحیتیں فلسطینی اور لبنانی بچوں کے علاج پر صرف کریں گی کیونکہ لبنان میں ان کے اہل خانہ اور ہم وطنوں نے انھیں جس محبت سے اس مقام تک پہنچایا ہے اب ان کا احسان اتارنے کا وقت آگیا ہے۔ اقبال الاسعد کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی شروع ہی سے انتہائی لائق اور ہونہار تھی اور اس نے نرسری اور پرائمری دونوں درجوں میں ڈبل پروموشنز لیے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اقبال نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان صرف 12سال کی عمر میں پاس کر لیا تھا اور پھر وہ میڈیکل کی تعلیم کے لیے قطر کے مشہور وائل کرونیکل میڈیکل کالج میں داخل ہوگئیں۔
خالد بھٹی ہمیں دوحا کی خوب صورتیاں دکھا اور فضیلتیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر بتا رہے تھے۔ ہم نے بھی زیادہ مزاحمت نہیں کی اور ان کی باتیں سنتے اور مانتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک خوابناک قسم کی وسیع و عریض جگہ پر لے آئے۔ یہ قطر اسلامک ہیریٹیج میوزیم تھا۔ ہم فرعونوں کی باقیات کے لیے بنے قاہرہ میوزیم کی وسعت اور انتظام سے متاثر ہو کر آئے تھے اور سچی بات یہ ہے کہ میں دل سے آرزو مند تھا کہ کسی ملک میں اسلامی ہیریٹیج کی حفاظت کے لیے بھی ایسا ہی عظیم الشان انتظام و اہتمام ہو۔ یہ واقعی نظروں کو خیرہ کرنے والا میوزیم تھا۔ خوب صورتی، مہارت، اشیا کا عمدہ انتخاب، تمام اسلامی ممالک سے تاریخی زیورات سے لے کر ہتھیاروں تک اور لباس سے لے کر قالینوں تک نوادرات، مخطوطے، کتابیں، مسودے، یوںسمجھیں کہ جو جو چیزیں آپ سوچ سکتے ہیں وہ وہاں نہایت نفاست سے سجی ہیں۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ آدھا میوزیم سمندر کے اندر ہے۔ شیشے کا شفاف فرش کہ آپ اس پرچلتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ نیچے سمندر کا آبِ رواں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ اوپر کی چاروں منزلوں کی سیڑھیاں چڑھتے اور شیشے کے فرش پہ چلتے ہوئے دل باقاعدہ خوف سے دھڑکتا ہے۔
میوزیم کے اندر عمدہ واش روم، نماز کی جگہ، بیٹھنے کی جگہ بہت بڑی بڑی لفٹیں، چاق چوبند خوش مزاج اور خدمت گزار عملہ جو لوگوں کے آنے پر باقاعدہ خوش ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے یہ قطر کی شہزادی کے خواب کی تعبیر ہے۔ کوریڈور میں پھرتے ہوئے اچانک خالد صاحب نے ایک صاحب سے بڑی گرم جوشی سے سلام کیا۔ تعارف ہوا تو پتا چلا کہ قطر میں پاکستان کے سفیر سرفراز خان زادہ ہیں۔ اکیلے ہی گھوم رہے تھے۔ کہنے لگے شام کو آپ سفارت خانے میں ہمارے مہمان ہیں۔ انتظامات مکمل ہیں ۔ میں البتہ نہیں آسکوں گا۔ وجہ پوچھی تو بتایا کہ میڈم صاحبہ آئی ہوئی ہیں۔ انھوں نے اشارہ کیا۔ ایک خاتون جنھوں نے بڑے بڑے گاگلز پہن رکھے تھے۔ ایک جاپانی نژاد گائیڈ کے ساتھ میوزیم میںپڑی چیزیں پوری دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں۔ ہم آگے بڑھے تو حیرت ہوئی خاتون کوئی اور نہیں پاکستان کی تب کی وزیر خارجہ حِنا ربانی کھر تھیں۔ سفیر صاحب اپنی باس کے لیے مہمان داری نبھانے کے لیے ساتھ تھے۔ حنا ربانی کھر ہمیشہ ایک ماڈسکاڈ فیشن آئی کن اور برانڈ لَوَر کے طور پر جانی جاتی رہی ہیں۔ ان کے کپڑے ، پرس اور گاگلز دورہ انڈیا میں بھی بہت مقبول ہوتے تھے، انھیں عبایہ اور روایتی عربی گائون میں دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی ۔ ہمیںسفارت خانے کی تقریب میں شرکت کے لیے نکلنا تھا۔ جہاں پاکستانی کمیونٹی کے تمام ممتاز لوگوں کو مدعو کیاگیا تھا، ورنہ کھر صاحبہ سے کچھ گفتگو تو ضرور ہو جاتی۔
شام کا سورج ڈوب رہا تھا جب سفارتی خانوں کی سوئی ہوئی بستی میں پہنچے۔ سڑکیں بھی خاموشی سے لیٹی تھیں اورمدھم مدھم روشنی والی سٹریٹ لائٹس بے دلی سے ہمیں دیکھ رہی تھیں۔ کہیں کہیں گارڈ دروازہ کے اندر سے جھانکتے نظر آئے۔ باہر البتہ کوئی نہیں کھڑا تھا۔ پاکستانی سفارت خانے پہنچ کر تصویر لینا چاہی تو معلوم ہوا کہ باہر تصویریں نہیں بنائی جاسکتیں۔
پروگرام بیسمنٹ میں بنے ہال میں تھا۔ پاکستانی کمیونٹی کے تمام چیدہ چیدہ لوگ موجود تھے۔ بعض سے تو بیس بائیس سالوں بعد ملاقات ہوئی۔ وہ دو دہائیوں سے قطر کی فوج میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔
…٭…
پروگرام میں اسٹیج سیکرٹری ایک متحرک نوجوان حافظ آصف تھے جو چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں۔ مجھے دورہ مصر و فلسطین کے حوالے سے اظہار خیال کی دعوت دی گئی، ڈاکٹر انتظار نے آنکھوں کی بیماریوں، ان کے علاج اور بینائی چلے جانے کے حوالے سے اپنے ادارے ’’پی او بی ٹرسٹ‘‘ کی خدمات اور اہداف پر بڑے دلچسپ انداز میں تقریر کی۔ اگلے روز گلف نیوز اور دوسرے اخبارات نے پروگرام کو بڑی نمایاں جگہ دی۔ رات کا کھانا پاکستانی کمیونٹی کے ممتاز اراکین کے ساتھ تھا۔ میزبان احمد حسین تھے، بے حد دھیمے مزاج کے نفیس انسان ہیں۔ ’’ذوق‘‘ نام کے ایک ہوٹل میں سبھی جمع تھے جو احمد صاحب کے ذوق کا آئینہ دار تھا۔
رات دیر گئے ہوٹل پہنچے۔ دوحا کی خوب صورتی رات کو اور بڑھ جاتی ہے۔ منصوبہ بندی اور ڈسپلن شہری منصوبہ بندی کا حسن ہیں۔ فٹ بال کے اولمپکس 2022ء کے لیے تیاریاں زوروں پر ہیں۔ ہم وہ جگہ دیکھنے بھی گئے جہاں وہ اسٹیڈیم تیار کیے جا رہے ہیں جو ائیر کنڈیشنڈ ہوں گے۔
ایک نئے ائیر پورٹ پر کام ہوتا بھی دیکھا کہ جس کے رن وے کا کچھ حصہ سمندر کے اندر بنایا جا رہا ہے یعنی جہاز رکے گا تو سمندر کی لہریں اسے گدگدانے اور سہلانے کے لیے بے تابی سے آگے بڑھیں گی مگر چھونے سے محروم رہیں گی۔
ملک، لوگوں سے زیادہ اپنے نظام اور طرزِ حکومت سے پہچانے جاتے ہیں اور نظام میں اگر یہ خوبی ہو کہ ہر خاص و عام اسے دل سے قبول کیے ہوئے ہو۔ اسی میں اپنا فائدہ، سکھ اور آسودگی پاتا ہو تو اس کی عمر لمبی ہو جاتی ہے۔ کامیابی اور سرخروئی بے شک خواب دیکھنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ شیخ حماد بن خلیفہ الثانی نے اس چھوٹے سے ملک کو نہ صرف مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظر نامے کا اہم حصہ بنا دیا بلکہ اپنے اقدامات سے قطر کے لیے عالمی سطح پر کئی کامیابیاں اپنے نام کر لیں۔قطر امریکا کا بے حد قریبی اتحادی ہے۔ امریکی فوج کو ایک مضبوط و محفوظ اڈے کے لیے یہاں وسیع جگہ دی گئی ہے۔
امریکی فوج کی تعداد مبالغہ آمیز حد تک بتائی جاتی ہے یہاں تک کہ ان کے لیے ایئر پورٹ اور کنٹونمنٹ تک الگ ہیں۔ اگلے روز ایک حیران کن مشاہدہ ہمارا منتظر تھا جب ہم شہر سے آٹھ دس کلومیٹر دور ایک بہت بڑے پاکستانی اسکول میں مدعو تھے۔ ’’پاک شمع‘‘ میں بہت بڑی تعداد میں پاکستانی بچے زیر تعلیم ہیں۔ اس سے بالکل متصل بھارت کی ٹاٹا کمپنی کے نام سے اسکول کی بلڈنگ تھی اور ان دونوں اسکولوں کے سامنے بالکل نئے بنے ہوئے 20 سے زیادہ بہت بڑے بڑے چرچ ایستادہ تھے۔ بتایا گیا کہ امریکی فوج میں چونکہ عیسائیوں کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے سپاہی ہیں اس لیے ان کی روحانی تسکین کی تکمیل کے لیے یہ بنائے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایک ہی قطار میں تعمیر کیے گئے ہیں۔
اسکول کے اساتذہ اور انتظامیہ نے بھرپور استقبال کیا۔ چائے کے بعد ہال میں گئے جہاں مختلف کلاسوں کے سیکڑوں بچے ہمارے منتظر تھے۔ ڈاکٹر عمران صحاف نے صحت کے حوالے سے بہت ہی بنیادی اور آسان ، مفید گفتگو کی۔
اس دوران میں نے کچھ بچوں کو شرارتیں کرتے اور باتیں کرتے پایا تو اس عمر کی بے شمار یادیں سامنے آنے لگیں مگر ہر بات اور شرارت اپنے موقع محل کے لحاظ سے ہی اچھی لگتی اور دلآویز کہلاتی ہے۔ جب میری باری آئی تو میں جتنی باتیں سوچ کر آیا تھا وہ ساری کہیں پیچھے رہ گئیں اور ایک والد اور استاد سے زیادہ کونسلر اور Mentor بولنے لگا۔ مجھے ان کے مختلف کئی والدین یاد آئے جو دور دیس میں بھی اپنے بچوں کی تعلیم اور اچھی تربیت کے لیے فکر مند ہیں۔ کتنی دیر گفتگو جاری رہی یہ اب مجھے

بھی یاد نہیں، اتنا یاد ہے کہ جب اسٹیج سے نیچے اترا، تو آدھے سے زیادہ بچے رو رہے تھے۔ ان کے اساتذہ اور ہمارے ساتھ گئے مہمان بھی اپنی آنکھیں پونچھ رہے تھے۔ میرا اپنا حال بھی ان سے مختلف نہیں تھا۔ درد ہی نہیں خواہشیں اور خواب بھی سانجھے ہو سکتے ہیں۔ اچھا بننے کی آرزو اورکمزور لمحوں سے بچ نکلنے کی طاقت بھی سبھی کے پاس کہیں خوابیدہ حالت میں ہوتی ہے۔ سوال یہ ضرور اٹھتا ہے کہ ہر گزرتے دن نئی بات، نئی کتاب، نیا علم سیکھنے، پڑھنے اور جانتے ہوئے زندگی کا وژن بڑا ہونا چاہیے یا

سکڑنا، ویلیوز، اخلاقیات اور اقدار پر یقین بڑھنا چاہیے یا کمزور ہونا چاہیے اور ان پر مضبوط ہونے کا اقرار ہی کافی ہے یا عملاً اظہار بھی کرنا چاہیے۔ کورس کی یہ کتابیں پڑھنے اور پڑھانے سے بہت مختلف ہیں اور اسی کے لیے والدین بچوں کو بہتر سے بہتر، مہنگے سے مہنگے اداروں میں بھجواتے ہیں جہاں سے ان کو دو چار سالوں بعد نئی ڈگری تو ضرور مل جاتی ہے مگر ان کی سوچ اور ذات میں موجود خلا پُر نہیں ہوتا اور آنے والے دنوں میں یہ کمی ان کے کیرئیر میں بھی رکاوٹ اور تباہی کا باعث بنتی ہے۔

پروگرام کے بعد پرنسپل صاحبہ کے آفس میں تبادلہ خیال کی نشست ہوئی۔ پھر ہم نے اجازت لی اور قطر کے صحرا میں جگہ جگہ اگتی زندگی، بجھتی سڑکوں اور بلند ہوتی عمارتوں کو دیکھتے آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔ واپسی پہ الجزیزہ کے ہیڈ آفس سے ہوتے ہوئے ’’گلف نیوز‘‘ پہنچے۔ چائے کہیں پی، کہیں چھوڑی۔ کھانے میں بڑھتی تاخیر نے ایک دم سے جسم کا شوگر لیول گرا دیا۔ اب بھاگم بھاگ جوس اور کسی میٹھی چیز کی تلاش شروع ہوئی۔ نیم بے ہوشی میں جوس پیا۔ مروت اچھی چیز ہے مگر سفر میں مہمان

بے زبان ہوتا ہے۔ بھوک سے بے حال بھی ہو تو میزبان سے کیا اور کیونکر کہا جائے جب کہ اس نے اپنے لحاظ سے کھانے کے اوقات کا تعین کر رکھا ہو۔ اب جس ہوٹل پہ جائیں وہاں کھانا ختم ہو چکا ہو، بالآخر چار بجے کے قریب پیزا ہٹ پر پہنچے اور وہاں سے بھاگم بھاگ ہوٹل کہ چھ بجے ائیر پورٹ پہنچنا تھا جہاں سے ہماری لاہور کے لیے فلائٹ تھی۔ سامان کی پیکنگ اس لحاظ سے مشکل ہو رہی تھی کہ دوحا سے ملنے والے تحائف جو ادریس صاحب اور خالد صاحب نے بیگز، ڈائریوں اور گفٹ آئٹموں کی صورت میں ساتھ کر دیے تھے۔ انھیں بیگوں میں گھسانا ممکن نہ تھا اور میں ’’نگ‘‘ بڑھانا نہیں چاہتا تھا۔
ائیر پورٹ تک جاتے جاتے دل لاہور واپسی کی خوشی اوربچوں سے اتنے دنوں کی دوری کی اداسی سے بھرنے لگا۔ یہی خیال تھا کہ اب جتنی جلدی ہو لاہور پہنچا جائے۔ قطر ائیر ویز میں سفر ایک بار پھر خوشگوار ثابت ہوا۔ لاہور ائیر پورٹ سے باہر نکلے تو بے شک رات کا اندھیرا چھا چکا تھا مگر سڑکیں روشن اور قمقمے جگمگا رہے تھے۔ یہ روشنیاں اور اندھیرے عمر بھر ایسے ہی ساتھ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کا حصہ بنے، ایک دوسرے کا پیچھا کرتے کبھی الگ ہو کر اور کبھی ہفتوں کو مہینوں میں بدلتے دیکھتے

رہتے ہیں۔ یہ زندگی ہے! قیام اور سفر بھی ایسا ہی عمل ہے۔ سرگودھے کے کنو جیسا کھٹا اور میٹھا، کبھی بیج والا اور کبھی بیجوں کے بنا، کبھی ترش تو کبھی مٹھاس بھرا، ایک قاش، ایک گھونٹ بھی زندگی کا مزہ دے جاتا ہے۔ مصر میں گزرے 14دن اور اب قطر میں بیتے 2 دن زندگی کے کھٹے میٹھے دنوں میں خوب صورت اور یادگار اضافہ تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ عمر بھر یاد رہیں گے، ہاں نئے سفر کے لیے اکساتے رہیں گے، ترغیب دلاتے رہیں گے۔ مطمئن، محفوظ اور میٹھے لمحوں کے لیے سچے رب کے آگے جھکاتے رہیں گے۔
بیٹے نے والد سے دوحا کا اقتدار
لینے کی روایت دہرائی۔
ہمارے آنے کے چند ہفتوں کے بعد ہی قطر میں غیرمتوقع طور پر سیاسی تبدیلی رونما ہوگئی۔ قطر کے حکمران شیخ حماد بن خلیفہ الثانی نے اچانک اقتدار اپنے بیٹے تمیم کو منتقل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ بیٹے نے والد کی اپنے والد سے دوحا کا اقتدار لینے کی روایت کو دہرایا جسے خاندان نے عمدگی سے تبدیلی ِاقتدار میں بدل دیا۔ دوحا میں موڈ تیزی سے بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ بظاہر نئے امیر کی سربراہی میں قطر کی حکومت معاملات کو جوں کا توں رکھنے ہی پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم سیاسی زبان میں، نئے سرے سے

توازن پیدا کرنے، نظم کو برقرار رکھنے اور ارتکازپر توجہ دی جا رہی ہے، نئے امیر اندرون اور بیرون ملک کس نوعیت کی تبدیلی چاہتے ہیں اور کن معاملات کو جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں، یہ اب واضح ہوتا جارہا ہے۔ قطر اخوان کا بہت بڑا حمایتی تھا۔ نئے امیر جنرل سیسی کے ذاتی دوست ہیں۔ قطر پہلے سیاسی طور پر سعودی عرب کا مضبوط حریف سمجھا جاتا تھا اور آزادانہ پالیسیاں بناتا تھا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ نئے امیر سعودی نظام کی ایکس ٹینشن ثابت ہوں گے۔
محض61برس کی عمر میں اقتدار سے کناراکش ہونے والے سابق امیر کی کامیابیاں غیر معمولی رہی ہیں۔ جب انھوں نے 1992ء میں اپنے والد کو اقتدار سے باہر کیا تو قطر خلیج کی ایک چھوٹی سی ریاست تھی جس کی آبادی محض 50ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ شیخ حماد بن خلیفہ الثانی نے اس چھوٹی سی ریاست کو سفارت کاری کے مرکز میں تبدیل کردیا۔ انھوں نے حقیقی مفہوم میں انقلاب برپا کردیا۔ شیخ حماد بن خلیفہ الثانی کے دور میں قطر کی فی کس آمدنی 80ہزار ڈالر سالانہ تک جا پہنچی، جو دنیا میں بلند ترین شرح ہے۔ شیخ حماد بن خلیفہ الثانی بجا طور پر ایک صدی کے دوران مضبوط ترین عرب سربراہِ مملکت کہے جا سکتے ہیں۔
چند ماہ کے دوران خلیجی سفارتی حلقوں ’’Overreach‘‘ کا لفظ غیر معمولی طور پر سنائی دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام ہی عرب سربراہانِ مملکت و حکومت چاہتے تھے کہ قطر کے امیر کچھ ایسا کریں کہ ان کی پوزیشن کمزور ہوجائے اور سفارت کاری کے حوالے سے اس چھوٹی سی ریاست کو خطے میں مرکزی حیثیت حاصل نہ رہے۔ نئے امیر شیخ تمیم کی عمر33سال ہے اورظاہر ہے کہ اس چھوٹی سی عمر میں اُن پر خاصی بڑی ذمہ داری کا دبائو ہے۔ انھیں اپنے ملک کو علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے سب سے آگے رکھنا ہے۔ وہ یہ کیسے کر پائیں گے۔ بے شک یہ اہم سوال ہے۔
شیخ تمیم کے اقتدار میں آنے کے بعد سے رونما ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے طاقتور کزن حماد بن جاسم الثانی کوہٹا دیا ہے۔ وہ 1992ء سے وزیر خارجہ اور 2007ء سے وزیر اعظم بھی چلے آ رہے تھے۔ وہ امیر کے بعد حکومت کی مضبوط ترین شخصیت میں تبدیل ہوچکے تھے۔ ان کے کاروباری مفادات بھی غیر معمولی ہوچکے تھے۔ انھوں نے خارجہ پالیسی کو اس انداز سے چلایا کہ بعض معاملات میں قومی مفادات پیچھے رہ گئے۔
صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیل کے شعبوں میں ایجنسیوں، اداروں اور کمیٹیوں کو ابھرنے کا موقع ملا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ان شعبوں کی وزارتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تمیم نے کہا ہے کہ ان وزارتوں کو زیادہ اختیارات دیے جائیں گے اور کام کرنے کی زیادہ گنجائش پیدا کی جائے گی۔ سابق امیر کی اہلیہ شیخہ موضہ(Moza)کی نگرانی میں کام کرنے والی طاقتور قطر فائونڈیشن اور موجودہ امیر کی بہن شیخہ مایاسا (Mayassa)کی نگرانی میں کام کرنے والی قطر میوزیم اتھارٹی کو بھی اپنے بے پناہ اختیارات کے لحاظ سے کچھ مصالحت کرنا پڑے گی۔ ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ اب حکومت کو کسی حدتک ’’ریگو لرائز‘‘ کیا جارہا ہے۔
نئے وزیراعظم عبداللہ بن ناصر الثانی کا تعلق فوج سے ہے اور وہ اپنے پیشرو کے مقابلے میں کم مہم جو طبیعت کے مالک ہیں۔ انھیں وزارتِ داخلہ سے ترقی دی گئی ہے۔ وزیراعظم کے منصب کے ساتھ ساتھ وہ وزیر داخلہ کا منصب بھی سنبھالے رہیں گے۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں شیخ تمیم کو بہت سنبھل کر چلنا پڑے گا۔ سابق خلیفہ کے دور میں قطر اس بات کا خواہش مند تھا کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے۔ اس معاملے میں وہ مرکزی کردار کا حامل تھا مگر شیخ حماد بن خلیفہ الثانی کے سبکدوش ہونے سے قبل ہی سعودی عرب نے یہ کردار سنبھال لیا تھا۔ قطر کا حکمران خاندان اس بات سے بظاہر مضطرب ہے کہ امریکا نے دو ماہ قبل کے کیمیائی حملوں کے باوجود بشارالاسد انتظامیہ کے خلاف کارروائی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ قطر کے عوام اور خواص میں یہ تاثر عام ہے کہ امریکا نے شام کے خلاف کارروائی سے اجتناب اسرائیلی دبائو پر برتا ہے، جو چاہتا ہے کہ شام کو غیر معینہ مدت تک خانہ جنگی میںمبتلا رہنے دیا جائے تاکہ اس کا خون بہتا رہے اور وہ زیادہ سے زیادہ ناکارہ ہوجائے۔
قطر نے مصر میں عرب بہار کی آمد کے بعد اخوان المسلمون کے اقتدار میں آنے کا خیر مقدم کیا تھا اور امدادی پیکیج کا اعلان بھی کیا تھا، مگر فوج کے ہاتھوں صدر محمد مرُسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد قطر نے پالیسی تبدیل کی اور اب وہ مصر میں کسی پارٹی کے بجائے عوام کی حمایت کی بات کر رہا ہے۔ محمد مُرسی کے دور میں قطرنے جس امداد کا وعدہ کیا تھا، وہ مصر کو دی جارہی ہے۔حالانکہ قطر میں کوئی بھی نہیں چاہتا کہ مصر پر دوبارہ جرنیل قابض رہیں۔
قطر نے خطے میں سفارت کاری کے حوالے سے غیر معمولی طور پر قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ چاڈ، اری ٹیریا، دارفر، فلسطین اور قبرص کے معاملات میں اس کا ثالث نما کردار خارجہ پالیسی کی شاندار کامیابی سمجھا جاتا رہا ہے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اب یہ کردار ڈانوںاڈول ہے۔ قطر کے مشہورِ زمانہ سیٹلائٹ چینل ’’الجزیرہ‘‘ کو عرب بہار کے فروغ کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ مگر اب ہوسکتا ہے کہ ’’الجزیرہ‘‘ کو تھوڑا پیچھے رہنے اور خاموشی اختیار کرنے کی ہدایت کردی جائے۔
اس وقت قطر میں جس موضوع پر کوئی بھی شخص بات نہیں کرتا، وہ جمہوریت ہے۔ ایک غیر مؤثر سی اسمبلی کے انتخابات کا وعدہ کیا گیا تھا مگر وہ منصوبہ بھی اب بظاہر بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ قطر کے لوگ جمہوریت کی ناکامی کی بات کرتے وقت کویت کا حوالہ دیتے ہیں، جہاں پارلیمان قائم کرنے کا تجربہ ناکام رہا۔ ان کے خیال میںپارلیمانی سیاست سے معاملات الجھتے ہیں اور بہت سے امور میں غیر ضروری طور پر تعطل اور تذبذب پیدا ہوتا ہے۔
قطرمیں حکمرانی اب تک شاہی خاندان میں رہی ہے۔ الثانی خاندان بہت بڑا اور طاقتور ہے۔ چند خاندانوں اور قبائل تک اقتدار کو محدود رکھنا انتہائی دشوار کام ہے کیونکہ حکومت کا تختہ الٹنے کے منصوبے بھی بنائے جاتے رہتے ہیں۔نئے امیر کے لیے بھی اقتدار برقرار رکھنا ایک مشکل مرحلہ ہوگا اور اس معاملے میں انھیں غیرمعمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
نئے امیر کے لیے ایک بنیادی مسئلہ نئی نسل کو آگے بڑھانا بھی ہے۔ قطر میں آج بھی افرادی قوت کا بڑا حصہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔ ترکی، مصر، لبنان اور فلسطین کے ورکرز بڑی تعداد میں ہیں۔ یورپ کے لوگ بھی قطر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں قطر کی نئی نسل کو ذمہ داری کا احساس دلانا ہی ہوگا۔ نچلی سطح کے کام ایشیائی ممالک بالخصوص بھارت کے لوگ کرتے ہیں۔ قطر کی 20لاکھ کی آبادی میں قطری باشندے صرف تین لاکھ ہیں۔
قطر کے کسی بھی باشندے سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ جب تک حکومت کی فیاضیاں جاری رہیں گی، تب تک حکمران خاندان کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔قومی سطح پرکسی سے بھی کوئی ٹیکس وصول نہ کرنافخر کی بات ہے یا نہیں۔ اس کا تعلق ہر ملک کے نظام حکومت اور نظام آمدن سے ہے اور بظاہر طویل عرصہ قطر کے نظام کو کوئی بڑا چیلنج درپیش نظر نہیں آتا۔