function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

مُسکراہٹوں کا دیس

احمد نعیم چشتی | عالمی ادب

تھائیلینڈ کے لوگ مسکرانے کے عادی ہیں۔ بات بات پر مسکراتے ہیں۔ آپ سڑک پر چلتے کسی تھائی باشندے سے کسی جگہ کا پتا پوچھیں تو وہ جواباً مسکرا دے گا خواہ اُس کو آپ کی بات سمجھ میں آئی ہو یا نہ آئی ہو۔ بنکاک میں سڑک کنارے لگے اسٹالز پر سیلز مین سے کسی چیز کی قیمت پوچھیں تو فوراً اپنے دانت آپ کو دکھائے گا بعد میں قیمت بتا کر آپ کی مسکراہٹ کا گلا دبا دے گا۔ ہم نے بنکاک کی ایک مشہور شاہراہ Sukhumvit Roadکے کنارے کھڑے ایک ٹُک ٹُک

(بنکاک میں رکشا نما گاڑی کو ٹُک ٹُک کہا جاتا ہے) والے سے Saimمارکیٹ تک جانے کا کرایہ اور فاصلہ پوچھا تو اس نے جواباً اپنی بتیسی دکھا دی۔ ہم سمجھے شاید مارکیٹ 32کلو میٹر کے فاصلے پر ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ صاحب کو ہماری بات کی سمجھ نہیں آئی۔ سچ پوچھیے تو ہم نے جس ٹھوس پنجابی انداز میں انگریزی کا فقرہ بولا تھا اس کی سمجھ ہمیں خود بھی نہیں آئی تھی۔ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے آپ کو جابجا، بلاوجہ خواتین کی حسین مسکراہٹیں اور مردوں کی رنگ

دار بتیسیاں نظر آئیں گی اور آپ کی باچھیں خود بخود کھِل جائیں گی۔ یوں لگتا ہے کہ ہر بندہ مسکرا رہا ہے دکاندار، راہ گیر، مسافر، ڈرائیور، ہوٹل کے بیرے سب ہنستے پھرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے سب غیرسنجیدہ لوگ ہیں۔ غیر سنجیدگی کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ میاں بیوی شاپنگ کرنے جا رہے ہوں تو بھی مُسکرا رہے ہوتے ہیں۔ بیوی کی مسکراہٹ تو سمجھ میں آتی ہے۔ میاں صاحب کس بات پر خوش ہوتے ہیں‘ یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ تھائی لوگ ایک بات پر ضرور سنجیدہ ہوجاتے

ہیں جب آپ اُن کو کوئی لطیفہ سناتے ہیں۔ ہم نے اِس کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ میں نے ایک تھائی ٹیوٹر کو لطیفہ سُنایا تو وہ ہنسنے کے بجائے گہری سوچ میں گُم ہوگیا۔ لطیفہ لوڈشیڈنگ کے عنوان پر تھا اور شاید اُس نے اِس معاملے کو لطیف خیال کے بجائے ایک گمبھیر مسئلہ سمجھا اور سوچنے لگا۔ لطیفہ اگر پنجابی میں سُناتے تو وہ یقینا ہنستا۔ انگریزی زبان میں سُنانے کی کوشش کی تھی جو لطیفے کے بجائے المناک کہانی محسوس ہونے لگا تھا۔
ہمارے دوست مِسٹر پیٹر (جب زیادہ پیار آتا تھا تو ہم اُس کو پیٹر انجن بھی کہہ لیتے تھے) نے ان کو ایک لطیفہ سُنایا تو ہمارے تھائی دوست دل کھول کر ہنسے۔ ہمیں فوراً پتا چل گیا کہ لطیفہ اُن کی سمجھ میں نہیں آیا۔ تھائی لوگوں کی ہنسنے کی عادت کی وجہ سے تھائی لینڈ کو Land of Smileبھی کہا جاتا ہے۔ مجھے بھی اُن کی یہ عادت بہت بھلی لگی۔ شاعری کی الف، ب جانتا ہوتا تو اُن کی مسکراہٹ پر ایک نظم ضرور لکھتا۔

جیسے ورڈز ورتھ نےDaffodilsدیکھنے کے بعدلکھی تھی۔
بنکاک کی سڑکوں پر ٹریفک کا بہت رَش ہوتا ہے لیکن ٹریفک بے ہنگم نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی قوم کی اخلاقی حالت کا اندازہ لگانا ہو تو ان کی ٹریفک کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ تھائی ایک دوسرے کا خیال کرنے والے لوگ نظر آتے ہیں۔ بنکاک میں مختلف رنگوں کی ٹیکسی کاریں سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں تو یوں لگتا ہے کسی چنچل بچے نے رنگ برنگی ٹافیوں کا پیکٹ پھینک دیا ہو اور ٹافیاں جا بجا بکھر گئی ہوں۔

ہمارے ہاں سڑک پر ہارن کے علاوہ کچھ اور سُنائی نہیں دیتا مگر تھائی لینڈ میں ہارن بہت ہی کم سُنائی دیتا ہے۔ گاڑیوں والے پیدل چلنے والوں کا بے حد خیال کرتے ہیں اور اُن کو پہلے سڑک کراس کرنے کا موقع دیتے ہیں اور پیدل چلنے والے بھی بغیر دیکھے سڑک پر ٹہلتے نظر نہیں آتے۔ بے شمار موٹر سائیکل بھی نظر آتے ہیں جو مرد و خواتین ہیلمٹ پہن کر چلاتے ہیں۔ ہمیں بنکاک سے باہر کچھ فاصلے پر موجود ایک اسکول کا دورہ کروایا گیا تھا ۔

راستے میں ایک چھوٹے سے ریستوران پر ہم نے کھانا کھایا۔ ریستوران کی دیوار پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ یہ ریستوران ایک میاں بیوی مل کر چلاتے تھے جو کہ مسلمان تھے۔ یہ جان کر بہت اچھا لگا اور کھانے میں شامل چاول اور مچھلی پہلے سے زیادہ مزے دار لگنے لگے۔ تھائی لینڈ میں تقریباً ساڑھے چار فی صد لوگ مسلمان ہیں۔ اذان کی آواز کانوں میں پڑی تو سب نے نماز ادا کرنے کا اِرادہ ظاہر کیا۔ سڑک پار کرکے دوسری جانب مسجد میں جانا تھا۔ گاڑیوں کو دور پا کر ہم کچھ دوست جلدی سڑک پار کر گئے۔

ہمارے ساتھ مامور تھائی خاتون نے ہمیں خبردار کیا کہ تھائی لینڈ میں ڈرائیور اس طرح کے رویے کے عادی نہیں ہیں۔ ہمیں شرمندگی ضرور محسوس ہوئی تھی مگر اپنے ملک کی سڑکوں پر احمقانہ حرکتیں کرتے ہوئے کبھی شرمندگی قریب بھی نہیں آتی۔ مسٹر پیٹر نے میڈم کو بتایا کہ میڈم جتنی دور گاڑیاں آ رہی ہیں اتنی دیر میں تو ہم پانچ بار سڑک پار کرسکتے ہیں۔ میڈم مسکرانے لگی۔ ہم نے پیٹر کو بتایا کہ وہ آپ کی بات کو سمجھ نہیں سکیں۔
ہمارے گروپ میں پچیس افراد شامل تھے۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ نے پروفیشنل ٹریننگ کے سلسلے میں بھیجا تھا۔ اپنے خرچے پر تو ہم آج تک ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے کھنڈروں تک نہیں جاسکے اگر جاتے تو ہماری جیبیں کھنڈر بن جاتیں۔ بنکاک شہر قسم قسم کے کھانوں کی وجہ سے کافی شہرت رکھتا ہے لیکن ہم کو اس حوالے سے کافی مایوسی ہوئی۔ جس ہوٹل میں ہم ٹھہرے تھے اس میں ناشتے اور لنچ میں بے شمار ڈشز ہوتی تھیں مگر اُن سے عجیب سی بُو آتی تھی اور کھانوں کا ذائقہ نہ صرف بے مزہ ہوتا بلکہ ایک بار چکھنے کے بعد دوبارہ ہاتھ لگانے کی ہمت نہ ہوتی۔

ان بے شمار ڈشوں میں سے ہم جہدِمسلسل کے بعد انڈا، جوس، دودھ، شہد، مونگ پھلی، اُبلے چاول وغیرہ میں سے کچھ تلاش کرتے اور پھر ناک بند کرکے کھالیتے تھے۔ ہماری حالت اُس چڑیا کی سی تھی جس کے سامنے غلے کا ڈھیر پڑا ہو مگر اُس کی چونچ میں صرف دو ہی دانے سما سکتے ہوں۔ ہمارے پیٹر بھائی کو ہوٹل انتظامیہ پر بہت غصہ آتا تھا ۔اکثر ٹھیٹ پنجابی زبان میں کھری کھری بڑبڑاتے رہتے تھے۔

ایک بار بھوک بھی سخت لگی تھی اور مچھلی فرائی کا ذائقہ بھی کچھ بھا رہا تھا کہ وہ ڈِش ختم ہوگئی۔ پیٹر غصے میں چلایا کہ یہ انگریز نامراد پہلے ہمارے ’’حلال فوڈ‘‘ کا صفایا کرتے ہیں پھر اپنے ’’حرام فوڈ‘‘ کو اطمینان سے بیٹھ کر چٹ کر جاتے ہیں۔ شام کو کبھی کبھی ہم ہوٹل کے قریب میانمیر سے آتے ہوئے عبدالرحمن کی ریڑھی کا رُخ کرتے جہاں وہ پراٹھا نما گول روٹی سی بناتا‘ اُس پر کریم اور انڈا لگا کر گاہکوں کو پیش کرتا تھا۔

اُس کا ذائقہ اتنا اچھا تو نہ تھا مگر اس میں سے وہ بُو نہیں تھی جو بیشتر تھائی کھانوں میں سے آتی تھی۔ ہوٹل کے سامنے ایک انڈین ریستوران سے سموسے کھا کر بھی اپنے ذائقے کو کچھ تسکین فراہم کرتے تھے اور سموسے کھاتے کھاتے محمد رفیع کی مدھر آواز میں بجنے والے گیت کا بھی لطف اُٹھالیتے یا پھر ہوٹل سے نکلتے گپ شپ لگاتے ہوئے مختلف لوگوں کو دیکھتے، سڑک کنارے لگے اسٹالز پر چیزوں کو کھنگالتے ہمـ’’NANA‘‘مارکیٹ کے قریب اس اسٹریٹ میں پہنچ جاتے جہاں انڈین اور عرب ریستوران تھے۔ وہاں ہم نے ایک پاکستانی ہوٹل ڈھونڈ نکالا تھا جہاں سے دال چنا، روٹی، نان، قورمہ، بریانی کھاتے اور تھائی کھانوں کی بُو پر فلسفیانہ تنقید حسبِ توفیق کرتے۔
ہمارا دوست مسٹر پیٹر اپنے ساتھ بُھنے ہوئے چنے لایا تھا۔ ایک دن اس نے ہمیں چنے کھلائے، دوسرے دن ہم پانچ دوستوں نے مسٹر پیٹر کے روم میٹ کی مدد سے چنے کھسکا لیے اور فلور 14پر سوئمنگ پول کے پاس بیٹھ کر ہڑپ کر گئے۔ پھر جتنے دن وہاں رہے مسٹر پیٹر چنے چورکو لمبی لمبی جاندار گالیاں باقاعدگی اور ترنم سے دیتے تھے۔ مسٹر پیٹر کمرے میں روزانہ صفائی کرنے والی خاتون کو ملزم قرار دیتے تھے۔ خاتون سے اشاروں کی مدد سے بھرپور تفتیش بھی کی مگر مسٹر پیٹر خاتون کو یہی نہ سمجھا سکے کہ چوری کیا چیز ہوئی تھی۔
بنکاک میں چیز خریدنا ایک فن ہے اور اس فن میں دُکاندار بہت مشّاق ہیں۔ بنکاک میں غیر ملکیوں کا ایک سیلاب ہوتا ہے۔ اندازاً گیارہ ملین لوگ سالانہ تھائی لینڈ سیر کے لیے جاتے ہیں۔ بنکاک میں دُنیا کے ہر ملک کے باشندے نظر آتے ہیں۔ مارکیٹوں میں طرح طرح کی اشیا کی بھرمار ہوتی ہے۔ قیمت زیادہ بتائی جاتی ہے پھر دُکاندار اور گاہک کی باتوں کی جنگ چھڑتی ہے۔ جنگ بندی کے بعد چیز بکتی ہے۔ اِندرا مارکیٹ میں خوبصورت جوگرز کا اِسٹال لگا تھا۔ تھائی خاتون مسکرا مسکرا کر گاہکوں کو جوگرز بیچ رہی تھی۔ ہم نے ایک خوبصورت جوگر کی قیمت پوچھی تو خاتون نے جلدی جلدی کیلکولیٹر اُٹھایا اور اُس پر 500(بھات) لکھ کر ہمیں دکھایا۔ میں بولا ٹُو ہنڈرڈ، خاتون فوراً بولی۔
’’Oh, two hundred, then come tomorrow!‘‘
تھائی لوگ اپنے سر کو اپنے بڑوں کے سر سے نیچا رکھتے ہیں۔ بڑوں کے احترام کرنے کا یہ خوبصورت انداز ہے۔ تھائی لوگ پائوں کو جسم کا حقیر حصہ قرار دیتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ پائوں زمین سے تعلق جوڑتے ہیں اور زمین انسانوں کے لیے دُکھوں والی جگہ ہے۔ لہٰذا تھائی لوگ کسی کی طرف پائوں سیدھے کرکے نہیں بیٹھتے۔ تھائی لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں ہاتھ جوڑ کر تھوڑا سا جُھک کر’’Sawadee‘‘ کا لفظ بولتے ہیں ۔وہاں ہم نے بھی اس کی خوب پریکٹس کی۔ ہمارے دوست پیٹر نے اس کا خوب اِستعمال کیا اور تھائی لوگوں کے دل جیتے لیکن صرف ایک بار ایسا ہوا کہ زیادہ جوش اور پھُرتی سے نیچے جھکے تو بے چارے تھائی ٹیچر کے سر میں ٹکر دے ماری۔ اس واقعے کو مسٹر پیٹر شاید بھول جائیں،مگر وہ ٹیچر ہرگز نہ بُھلا پائے گا۔ آپ نے پیٹر کے سر کا سائز دیکھا ہوتا تو یقینا آپ کو اُس تھائی ٹیچر پر رحم ضرور آتا۔
جو بھی بنکاک آتا ہے وہ گرینڈ پیلس ضرور جاتا ہے، اس کے بغیر بنکاک کی سیاحت مکمل نہیں ہوتی۔ ہمارا میزبان ادارہ ہمیں وہاں لے گیا۔ ہمیں وہاں پیلس کے مکمل تعارف پر مبنی پمفلٹ دیے گئے اور ایک خاتون گائیڈ نے محل کے متعلق معلومات دیں۔ محل کی خوبصورتی دیکھ کر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور ہم نے گائیڈ کی مکمل بات بھی نہ سنی اور کیمرے لے کر ٹک ٹک تصویریں بنانے لگے۔ ہر طرف غیر ملکی نظر آر ہے تھے ہر شخص اس شاہکار فن تعمیر کے رنگ دار

نمونے کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرتا دِکھائی دے رہا تھا۔ تھائی لینڈ میں ہرطرف رنگ برنگی چیزیں نظر آتی ہیں۔ ہر طرف قوسِ قزح کے رنگ بکھرے ہوتے ہیں۔ گاڑیوں سے لے کر کپڑوں تک، عمارتیں، سڑکیں، لباس، عبادت گاہیں، اسکول حتیٰ کہ ہر چیز رنگوں میں نہائی نظر آتی ہے۔ گرینڈ پیلس میں ہر رنگ تھا اور ہر رنگ کے لوگ بھی موجود تھے۔ گولڈن رنگ کی بہتات تھی۔ وہاں موجود گولڈن ٹیمپل کے اندر بھی گئے جہاں اونچے سٹیج پر بُدھا کی مُورت نہایت خوبصورتی سے

سجا کر رکھی ہوئی تھی۔ تھائی لوگ اندر جاتے، ہاتھ جوڑ کر نہایت ادب سے دو زانو ہو کر بیٹھ جاتے۔ آنکھیں بند کرتے اور سر جھُکا کر اپنی مرادیں خاموشی سے سناتے اور اُلٹے پائوں چپکے چپکے باہر نکل جاتے۔ ہم بھی چند منٹ کے لیے اندر گئے۔ ہُوکا عالم تھا اور ایک عجیب سا سکون ماحول میں رَچا ہوا تھا۔ دو خواتین ہمارے پاس آئیں، ہمارے ساتھ تصاویربنوائیں اور بتایا کہ اُن کا تعلق روس سے ہے ہم نے پاکستان کا بتایا تو انھوں نے پاکستان کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کیے

اور کہا کہ انھیں جب موقع ملا وہ پاکستان کی ضرور سیر کریں گی۔ وہ خواتین ہماری یادداشت میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئیں کیونکہ انھوں نے ہمارے اور ہمارے ملک کے بارے میں چند میٹھے بول بولے تھے۔ ہم شاید گاڑی کے اُس ڈرائیور کو بھی نہ بھُلا سکیں جو ہر جگہ ہمارے ساتھ ہوتا تھا۔ ہم اُس کی اور وہ ہماری زبان تو نہ سمجھتا تھا مگر جس محبت سے وہ پیش آتا تھا، ہم سب کو عزت دیتا تھا، مسکراتا تھا ،جس رویے کا اِظہار کرتا تھا ،اس کو جب بھی یاد کرتے ہیں، ہمارے لمحات خوشی سے بھرجاتے ہیں۔
بنکاک شہر بلند و بالا عمارتوں، ریستورانوں ہوٹلوں، تھائی کھانوں، غیر ملکی سیاحوں اور تھائی کلچر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اسی لیے بنکاک کے فٹ پاتھوں پر چہل قدمی کرنا بھی ایک شاندار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ آپ کو یورپ، امریکا، آسٹریلیا اور ایشیا کے لوگ جابجا دکھائی دیتے ہیں۔ فٹ پاتھ پر چلتے چلتے تین سکھ بھائیوں سے خوب مزے کی گپ شپ ہوئی۔ وہ دہلی کے رہنے والے تھے۔ اُن کے دادا پاکستان میں بستے تھے۔ بٹوارے میں وہ بھارت چلے گئے مگر دل پاکستان

میں اپنے گائوں ہی چھوڑ گئے تھے۔ ان کے دادا گائوں میں بیتے دن، بچپن کے دوست اور گائوں کی گلیوں کو اکثر یاد کرتے تھے اور اُن کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے تھے۔ انھوں نے بابا بلھے شاہ ؒاور حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے پنجابی شعر سنائے۔ انھوں نے بتایا کہ نصرت فتح علی خان، راحت فتح علی خان، مہدی حسن، نور جہاں اور ریشماں کے گانے شوق سے سنتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی دوستی کے متعلق خوب صورت اشعار بھی سنائے اور پھر لوگوں کے ہجوم میں گم ہوگئے۔
تھائی لوگ اپنے بادشاہ کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ تھائی کنگ کی تصاویر سڑکوں پر عمارتوں میں، اسکولوں میں، ہوٹلوں میں لگی نظر آتی ہیں۔ ہالی وڈ کی مشہور فلم’’The King And I‘‘تھائی لینڈ میں BAN ہے کیونکہ اس میں کنگ کو تھائی کلچر کے مطابق عزت و احترام نہیں دیا گیا۔ تھائی لوگ مذہب سے کافی لگائو رکھتے ہیں۔ شہر میں آپ کو بے شمار عبادت گاہیں نظر آتی ہیں۔ مقدس بُدھا کے مجسمے ہر جگہ سجے نظر آتے ہیں۔ ہر ہوٹل ریستوران، مساج سنٹر، دُکان کے باہر

ایک منی ٹیمپل بنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر گولڈن رنگ نظر آتا ہے۔ گاڑیوں میں ڈرائیور اپنے سامنے برکت اور محفوظ سفر کے لیے چھوٹا سا مقدس مجسمہ رکھتے ہیں۔ یہ شاید اُن کے مذہب کا اثر ہے کہ تھائی لوگ دوسرے لوگوں سے محبت سے پیش آتے ہیں اور ہر مذہب کے لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔
تھائی لوگ انگریزی زبان کے پیچھے اتنی شدت سے ہاتھ دھو کر نہیں پڑے جتنا ہم لوگ پڑے ہوئے ہیں۔ انگریزی زبان میں وہ ذرا کمزور ہیں۔ آپس کی بات ہے کہ

انگریزی ہماری بھی پتلی ہے اور اگر ہم ان کی انگریزی کو کمزور کہہ رہے ہیں تو آپ کو آسانی سے یہ اندازہ ہوجانا چاہیے کہ وہ واقعتا کمزور ہیں۔ ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ نے تھائی زبان میں ہمیں یہ بتایا کہ وہ لوگ انگریزی زبان سیکھنے اورسکھانے کے معاملے میں بہت پیچھے ہیں۔ ہمیں یہ سُن کر افسوس نہیں ہوابلکہ اپنے آپ کو اُن کے مقابلے میں بہتر سمجھ کر دل ہی دل میں روحانی خوشی پا کر باغ باغ ہوگئے۔ انگریزی زبان پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے دُکانوں میں لین دین کا اِنحصار اشاروں پر ہے۔ مسٹر پیٹر تو صرف اشاروں ہی سے کام لیتا اورمنہ مسلسل بند رکھتا تھا اور اشارے بھی اس قدر جوش اور انہماک سے کرتا کہ یوں لگتا تھا جیسے کلاسیکل ڈانس کا مظاہرہ کرنے کی ناکام سی کوشش کر رہا ہو۔
تھائی اداروں میں انگریزی زبان پر توجہ بڑھائی جا رہی ہے مگر ابھی وہ ہماری طرح لٹھ لے کر انگریزی کے پیچھے نہیں پڑے۔ بچوں کو تھائی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔ ایک اسکول میں انگریزی پڑھانے والے اساتذہ کی مدد کے لیے آسٹریلین شخص Patrick Dubravicaکو مامور کیا گیا تھا ،لیکن اس کے اِردگرد اتنی تھائی زبان بولی جا رہی تھی کہ ہوسکتا ہے اس کی اپنی انگریزی زبان کو درست رکھنے کے لیے ایک اور انگریز کو مامور کرنا پڑے۔
بنکاک میںا سکائی ٹرین کا سفر کرنا انتہائی خوب صورت تجربہ ثابت ہوا۔ ہوٹل کے قریبAsok اسٹیشن پہنچے۔ سیڑھیوں کے ذریعے اوپر پُل نما ٹریک پر گئے جہاں ٹرین چلتی ہے۔ اوپر ٹرین کا ٹریک ہے اور نیچے سڑک۔ لاکھوں لوگ روزانہ اسکائی ٹرین کا سفر کرتے ہیں۔

ہم نے NANA اسٹیشن تک جانے کا کرایہ دیکھا جو کہ 20بھات فی آدمی تھا۔ مشین میں20بھات کے سِکے ڈالے اور مشین نے ہمیں ٹکٹ دے دیا۔ الیکٹرک گیٹ سے داخل ہو کر ٹرین تک جانا پڑتا ہے۔ گیٹ کے دراز میں ٹکٹ ڈالا تو گیٹ نے اندر جانے دیا۔ دروازے کے اندرونی طرف سے ٹکٹ پھر باہر آگیا جو ہم نے جیب میں ڈال لیا۔ ٹرین فوراً ہی آگئی۔ دروازے کھلتے ہیں لوگ جلدی جلدی اُترتے ہیں۔ سوار ہونے والے سوار ہوتے ہیں اور گاڑی روانہ ہوجاتی ہے۔

ٹرین کے ڈبے لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ دھکم پیل ہرگز نہ تھی۔ تو تو میں میں نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار لگا کہ یہ تو ٹرین کا سفر ہی نہیں ہے۔ سکائی ٹرین سے شہر کا نظارہ شاندار تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اگلا آنے والا اسٹیشن تھائی اور انگریزی زبانوں میں انائونس ہوتا تھا۔ اسٹیشن کے نام بہت میوزیکل تھے۔CHIT LOM, ASOK, NANA, PHOLEN CHIT,کانوں کوبہت بھاتے ہیں۔ ہمارا اسٹیشن آگیا تھا۔ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی

اُتر گئے اور یہ عارضی سا سفر کتنا جلدی تمام ہوگیا تھا۔ اِسٹیشن سے باہر جاتے ہوئے پھر گیٹ میں ٹکٹ ڈالا،گیٹ کھل گیا اور اِس بار ٹکٹ گیٹ کے اندر ہی رہ گیا۔
بنکاک کے قریب ترینPattayaکا ساحل ہے۔ ساحل دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر کا فاصلہ لطیفوں، شعروں اور قہقہوں میں پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ وہاں پہنچتے ہی بریانی، سموسے اور چِپس اُڑائے۔ Pattayaشہر کی گلیوں سے گزرتے ہوئے ساحل تک آئے۔ پتایا ساحل اُردو اور انگریزی دونوں کی

’ب‘ BAYتھا۔ درختوں میں بے کراں نیلے پانی کا نظارہ مسحور کُن تھا۔ ساحل پر سر سبز و شاداب ناریل کے درخت بہت بھلے لگ رہے تھے اور پانی کے قریب قریب رنگ برنگی چھتریوں کی دور تک پھیلی قطاریں سماں باندھ رہی تھیں۔ شہر کی بلند عمارتیں درختوں کی چوٹیوں سے سر نکالے سمندر میںجھانکتی نظر آرہی تھیں۔ سمندر میں کشتیوں کا ہجوم تھا۔ ساحل کنارے چھتریوں کے نیچے اور پانی کے ساتھ ساتھ انسانوں کا میلہ لگا تھا۔ پورا ماحول اُداسی سے ناآشنا تھا۔ ہم بھی پانی

میں نہائے، اُچھلے کودے، بھاگے دوڑے۔ بچپن کے دن یاد آگئے۔ جب ہم ٹیوب ویل پر نہاتے تھے۔ چھوٹے سے حوض میں نہاتے ہوئے جو خوشی نصیب ہوتی تھی وہ اتنا بڑا سمندر بھی نہ دے سکا۔ جب نہا کر تھک گئے تو ساحل کی ریت پر چلنا شروع کر دیا۔ ساحل کی خوبصورتی سے سب سے زیادہ متاثر ہمارے دوست پیٹر ہوئے تھے۔ ان کی آنکھیں پہلے سے زیاد کھُل گئی تھیں اور دو گھنٹوں میں شاید ہی دو بار آنکھیں جھپکائی ہوں گی۔ یوں لگتا تھا کہ وہ سمندر کو (ساحل پر پھرتے لوگوں سمیت) اپنی آنکھوں میں اتارنا چاہتے تھے۔ ہمارے دوست وسیم کے شاعرانہ تخیلات نے انگڑائی لی۔ انھوں نے چند خوب صورت اشعار سنائے اور پھر چپ سادھ گئے۔ ان کے خیالوں کے پنچھی ستاروں سے بھی کہیں پرے اُڑ رہے تھے۔
پندرہ روز برق رفتاری سے بیت گئے۔ بوجھل قدموں سے ہم نے بیگ اُٹھائے اور گاڑی میں سوار ہو کر ’’سنوارنا بھُومی‘‘ ائیر پورٹ کی راہ لی۔ ہم بنکاک کی سڑکوں، عمارتوں اور لوگوں کو آخری بار دیکھ رہے تھے۔ ائیر پورٹ میں داخل ہوتے ہوئے مُڑ کر دیکھا تو ہماری کورس کوآرڈینیٹر خاتون اور گاڑی کا ڈرائیور ہمیں الوداع کہنے کے لیے ہاتھ لہراتے ہوئے مُسکرا رہے تھے۔ اس مسکراہٹ میں وہ خوشی نہ تھی جو پچھلے پندرہ دن میں نظر آئی تھی۔ ہم جانتے تھے کہ اس مسکراہٹ میں ہمارے لیے بے شمار دعائیں اور نیک خواہشات تھیں اور ہمارے جانے کا ہلکا سا دُکھ بھی شامل تھا۔ ہم نے بھی ہاتھ لہرا کر الوداع کہا اور دل سے دُعا نکلی کہ اِس مسکراہٹوں کے دیس کے باسی ہمیشہ پھولوں کی طرح مُسکراتے رہیں۔