function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

لُٹنا میرا استنبول کے کیپلی کار سی میں

سلمی اعوان | فروری 2014

اتا تُرک ائیر پورٹ پر جونہی میری متجسس آنکھوں نے دائیں بائیں اور مضطرب قدموں نے منی چینج آفس کی تلاش میں آگے پیچھے ہلنے کی کوشش کی تو سیما پیروز نے کسی قدر خشمگیں نگاہوں سے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔
’’کمبخت ذرا دم تو لے لو۔ چھُری تلے گردن آ گئی ہے تیری کیا۔ رات بھر کے سفر نے ادھ موا کر دیا ہے۔ ہوٹل والوں کا کوئی بندہ بھی باہر انتظار میں ہو گا۔ چھوڑ گیا تو اور سیاپا پڑ جائے گا۔ پہلے ٹھکانے پہنچو صورت حال کو واضح ہونے دو۔ یورو (یورپین کرنسی) ڈالر کا پتا تو چلے ۔ ریٹ کیا ہیں؟ ناواقفیت میں کہیں ہاتھ ہی نہ ہو جائے۔ ‘‘
بات تو ٹھیک ہی تھی۔ سو ٹھک سے دل کو لگی۔ ’’چلو اچھا‘‘کہتے ہوئے میں نے ٹرالی کا رُخ باہر جانے والے راستے کی طرف موڑ دیا۔
آر بوائے ہوٹل میں ریسپشن پر کھڑی لڑکی بڑی چھمک چھلو قسم کی چیز تھی آنکھیں تو گویا ماتھے پر رکھی ہوئی تھیں۔ کسی لگی لپٹی اور لحاظ کے بغیر صورت حال کو واضح کر دیا۔ ایک یورو 1.74 اور ایک ڈالر1.35 ۔جبکہ بینک سے اس کا 1.85 اور 1.45 ملنے کا امکان تھا۔ لیکن دن اتوار کا تھا اور بینک بند۔سیما نے سو یورو کو بدلوایا اور کھاتے کو مشترکہ کر دیا۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار کی زیارت اور شام کو باسفورس کے آخری دہانے پر بیٹھ کر ہوائوں کے جھُلار میں آبنائے کے اندر سٹیمر جہازوں میں لوگوں کی لدلدائی اُترائی اور اُس کے دونوں کناروں پر پھیلے ایشیا اور یورپ کی خوبصورتیوں سے اپنی آنکھیں سینکتے اور اپنے ارد گرد پھیلی مچھلی ، برگر، اُبلے بھُٹّوں اور بہت سی ایسی دوسری چیزوں جن کے ذائقوں اور ناموں سے شناسائی نہ تھی، کی خوشبوئیں سونگھتے مجھے احساس ہوا تھا کہ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خریداری کے لیے بیگ میں سے نوٹ نکالنے ،دینے ،لینے، ہتھیلی پر رکھی غیر ملکی ریزگاری گننے اور حساب کتاب کرنے میں تھوڑا سا بھیجا لڑانے کا تو ایک اپنا چارم ہے۔
سورج کی الوداعی کرنیں تاحدِ نظر پھیلے پانیوں کو زرنگار بنانے کے بعد اب کہیں اور اپنی جلوہ گری کی نمائش کے لیے رُخصت ہو گئی تھیں۔
اذان کی دلکش آواز نے میرے سارے شریر میں وہ لطیف اور گداز سا ارتعاش پیدا کیا تھا جس نے مجھے وحدت ملّتِ اسلامیہ کی اُس زنجیر میں پروئے ہوئے ہونے کا احساس دیا جو رنگ نسل اور جغرافیائی حدوں سے بالا ہے۔
یہی وہ وقت تھا جب میرا مُومُو عدنان میندریس کا شکر گزار ہوا جس نے اقتدار میں آنے کے بعد عصمت انو نو کے ترکی زبان میں دی جانے والی اذان کے حکم کو ختم کیا۔
’’اب اگر یہ اس وقت تُرکی زبان میں ہوتی تو میرے پلّے کیا خاک پڑنی تھی۔اِس اجنبی سر زمین پراپنائیت کی میٹھی سی جذباتی کیفیت بھلا کیوں کر پیدا ہوسکتی تھی؟‘‘
اﷲ اکبر اﷲ اکبر میری آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ میں نے اُٹھتے ہوئے سیما سے کہا۔
’’آئو سجدہ کریں۔ قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی اُس سرزمین پر جس کی فتح کی بشارت میرے پیارے نبیؐ نے دی تھی۔‘‘
اور جب میں ایمی نو نویّنی جامع (مسجد) کے اندر اُس کے طرز تعمیر اور تزئین کاری کے حُسن و جمال کو دیکھتی تھی، مجھے کچھ یاد آیا تھا۔
’’ہاں سیما دیکھو صبح سب سے پہلا کام کرنسی بدلوانے کا کرنا ہے۔ ‘‘
جب رات کو ٹرام میں سفر کے مزے لُو ٹتے ہوئے ہم واپس ہوٹل پہنچے ۔ ریسپشن پر کھڑے لڑکے نے ایک بروشر ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا۔ جس میں شہر کی خوبصورت جگہوں کی سیر کا پیکج تھا۔
میں نے بے اعتنائی سے اُسے دیکھا۔ چھوٹتے ہی انکار کر دیا اور آگے بڑھ گئی۔ کسی بھی جگہ کی سیر کے لیے میرا طریق کار ہمیشہ ذرا مختلف رہا۔
پر مجھے مڑ کر دیکھنا پڑا تھا۔ سیما اپنی جگہ جمی کھڑی تھی۔حسین تھی، چہرے پر غصے اور رعُونت کے آڑھے ترچھے عکس بکھرے ہونے کے با وجود بڑی دلکش لگ رہی تھی۔کہیں میرے جیسی صورت ہوتی تو نری چمارن لگتی۔ وہ غرّائی تھی۔
’’نہ تمہیں خجل خوار ہونے کا بڑا چائو ہے نہ تو وہ بھی ہو لیں گے پر رکو تو سہی ذرا۔شُتربے مہارو کی طرح اِدھر اُدھر بھٹکنے کے بجائے چلو کسی گروپ کے ساتھ نتھی ہو جائیں اور قاعدے طریقے سے کچھ دیکھ لیں۔‘‘
اُس کے پاس باتوں اور دلائل کا ایک ڈھیر تھا۔ یہ اور بات تھی کہ وہ سب میرے نزدیک فضول تھے۔ دیکھو نہ کتنے لوگ دھڑادھڑ بکُنگ کروا رہے ہیں۔یہ سب پاگل تو نہیں۔
بہر حال میں نے اُس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے 50 یورو فی کس کے حساب سے ایک دن کے پروگرام پر ٹک لگا دی۔اب پھڈا تو ڈالنا نہیں تھا۔
یہ گائیڈ لوگ بھی بڑے کائیاں ہوتے ہیں۔ ٹورسٹوں کو اپنی مرضی سے پٹخنیا ں دیتے ہیں۔ پہلے دو ڈھائی گھنٹے اُس نے کارپٹ اور ہینڈی کرافٹ کی اُن دکانوں میں دستی کاریگری دکھانے میں لگائے جن سے یقینا اُس کا کمیشن طے تھا۔
مٹی سے ظروف سازی اور اس پر تزئین کاری کا عمل بھی ہمارے ہاں کے کمھاروں جیسا ہی تھا۔ وہی چاک پر مٹی کے لوتھڑے کو گھمانے اور اُسے شکل دینے کا عمل ۔ تاہم یہاںکام میں جدت اور ماڈرن ازم تھا۔ کمرے میں رکھی گئی نمائشی اشیا نے رنگ و نور کی بارش برسا رکھی تھی۔
میرے صبر کا پیمانہ اُس وقت لبریز ہو گیا جب ایاصوفیہ کو دیکھنے کے لیے صرف آدھ گھنٹا ملا۔ ایا صوفیہ سے میری جذباتی وابستگی زمانوں سے تھی۔ اس کی فینٹسی نے ہمیشہ مجھے مسحور رکھا۔
ساتویں جماعت میں پڑھنے والی وہ لڑکی ہمیشہ میری یادداشتوں میں محفوظ رہی جو اپنی اردو کی کتاب میں ایا صوفیہ کی کہانی پڑھ کر اپنی کلاس میں ہی بیٹھی رہی۔ تصویر کو دیکھتی اور سر عبدالقادر کا لکھا ہوا احوال پڑھتی رہی اورا سکول خالی ہو گیا تھا۔ وہ لڑکی میں تھی اور ایا صوفیہ آج میرے سامنے مجسم تھی۔
پُر ہیبت طلسم سے بھری ایا صوفیہ بہت سے ادوارکی کہانیاں سُناتی ہے۔ وہ کہانیاں جنھیں سُننے کی مجھے شدید تمنا تھی ۔ با ز نطینی طرز تعمیر، مشرقی رومن ایمپائر کے دبدبے اور عظمت کی مظہر اِس کی فضائوں میں عثمانی سلاطین کی مذہبی روا داری کی خو شبو ہے۔ اس خو شبوکو محسوس کرنے اور سونگھنے کے لیے وقت درکار تھا۔
میں ہجوم سے الگ ہو گئی تھی۔میرے حسابوں آدھ گھنٹا تو اُونٹ کے منہ میں زیرے والی بات بھی نہ تھی۔میں تھی اور ایا صوفیا تھی اور اندر باہر پاکستانی، پاکستانی کی سارے ہال میں ڈھنڈیا پڑی تھی۔ گا ئیڈ مجھے تلاش کرتے کرتے بے حال تھا۔
سیمامیرے یوں ’’گواچی گاں‘‘ کی طرح مُنہ ماری پر تلملا رہی تھی۔ مجھے بھی تپ چڑھی ہوئی تھی۔ اسی لیے میں نے بس میں چڑھنے کے ساتھ ہی گائیڈکو دیکھتے ہوئے زوردار آواز میں اعلان کر دیا تھا۔
’’ ہم آپ کا پیکج ہاف ڈے کا کر رہے ہیں ۔ ہو ٹل والوں کو مطلع کر دیجیے ۔‘‘
استنبول کی مشہور جگہیں ٹھنڈے روح افزا شربت کے وہ گلاس ہیں جنھیں مزے لے لے کر گھونٹ گھونٹ پینے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ تو پورا گلاس سانس لیے بغیر حلق میں انڈیل دینا چاہتے ہیں۔ یوں تو اچھو لگ جائے گا۔ اپھارہ بھی ہو جائے گا۔ میں نے سیما کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا تھا۔
ہاف ڈے پیکج کا آخری آئٹم گرینڈ بازار کی سیر تھی۔
’’ چلو اچھا ہے کرنسی بدلوانے کی کوئی صورت تو نکلے گی۔ ‘‘ میں نے خود سے کہا ۔
گرینڈ بازار کے بیرونی دروازے کے ساتھ ہی منی چینج آفس تھا ۔ میں اور سیما فوراً اُس میں گُھس گئیں۔ جگہ تنگ اور لوگ زیادہ ۔میں آخری کونے میں جا کر کھڑی ہوگئی۔ شیشے کی چھوٹی سی دیوار میں بنے قوس نما کٹ میں سے سر کو جھکا تے ہوئے سیٹ پر بیٹھے با ئیس تیئس سالہ خوش شکل لڑ کے سے میں نے ڈالر اور یورو کا ریٹ پوچھا ۔
’’ 1.42اور 1.82 ‘‘ جواب ملا۔
’’پر یہ تو کم ہے۔ ریٹ تو 1.46 اور 1.85 ہے۔‘‘
دفعتہ کچھ سو چتے ہوئے اپنائیت کے اظہار کے طور پر میں نے پاکستانی ہونے کا بتایا۔ لڑکا کھلکھلا کر ہنسا اور بولا۔
’’پھر تو 1.40ہونا چاہیے۔‘‘
میں کچھ حیرت زدہ سی ہوئی۔ تُرک پاکستان اور پاکستانیوںسے بہت محبت کرتے ہیں۔ سُنی سنائی اور پڑھی پڑ ھائی باتوں کے بر عکس ہمار ا ڈیڑھ دن کا تجربہ اگرچہ بہت زیادہ حوصلہ افزانہیںتو مایوس کن بھی نہ تھا پر یہ تو خاصی دل شکنی والی بات تھی۔
تاہم میں نے سر جھٹکا اور نوٹ گننے لگی جو 1.42کے حساب سے 284 لیرا ہی تھے۔
گرینڈ بازار الف لیلوی کہا نیوں کی طرح تھا۔بیضوی چھتوں کے ساتھ آگے اور دائیں بائیں اطراف سے محراب در محراب پھیلتا ،ہلکے زردئی رنگ میں ڈوبا ہواجس پر شوخ رنگوں کے نقش و نگار اُسے بازاروں کی دنیا میں ایک انفرادیت دیتے تھے۔ برقی قمقموں کی تیز جگمگاتی روشنیوں میں اس کی سجی ہوئی دکانیں سیاحوں کے دلوں پر برق بن کر گرتی ہیں۔
284 لیرے جو پرس کی اندرونی جیب میں آسانی سے کھڈے لائن لگ گئے تھے۔ دوسو ڈالر کی تو میرے ملک میں نوٹوں کی اچھی خاصی تھدّی بنتی ہے۔ بیرون ملک بیشتر پاکستانیوں کی طرح میرے سینے سے بھی لمبی لمبی آہیں نکلتی ہیں۔ مقابلوں اور موازنوں میں’’ کاش‘‘ کی ہُو ک کلیجا تڑپاتی ہے۔
شاپنگ کبھی میرا کریز نہیں رہا۔ سیما جب دکانیں جھانکتی تھی۔ میں شیشے کے چھوٹے سے گلاس میں بغیر دودھ کے کسیلا قہوہ جسے میں نے پانچ چھے چینی کی کیوبز سے میٹھا کر لیا تھا پیتی تھی۔
دوسو چوراسی لیرے چار دن چلے ۔ پانچویں دن توپ کاپی سرائے میوزیم کی آرمینیائی طرز تعمیر کی خوبصورتیوںاور حرم کی پچی کاری و تزئین کاری کی ہوش رُبا رنگینیوں سے طلسم زدہ سے باہر آئے تو ٹانگیں ٹوٹنے کے قریب تھیں اور کسی بینک کو کھوجنے کی ہمت نہ تھی۔
عام طور پرتُرک انگریزی بولنا پسند نہیں کرتے ۔ آتی بھی ہو تو غُچّہ دے جاتے ہیں مونڈھے مار کر چہرے پر ایسے تا ثرات بکھیرتے ہیں کہ بندہ حیران سا ہو جاتا ہے۔ اور اُس وقت (body language) کے استعمال پر میری طبیعت قطعی آمادہ نہ تھی اور گرینڈ بازار سے ملحق منی چینج آفس کا لڑکا انگریزی سمجھتا تھا۔
وہیں پہنچے پیارا سا خوش شکل لڑکا دیکھ کر ہنسا ۔ سو ڈالر کا نوٹ سوراخ سے اندر گیا۔پیسے لیے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ہو ٹل آ گئے۔
ہوٹل کے سامنے رُک کر جب ادائی کے لیے میںنے پرس کھولا تو تہ کیے ہوئے سارے لیرے ہاتھ میں آگئے ۔ میں نے انہیں کھولا۔ ٹیکسی ڈرائیور نے ہلکے نیلے رنگ کے ایک نوٹ کوچُھونا چا ہا تو میں نے بھی اس کا نوٹس لیا۔ یہ نامانوس سا نوٹ تھا۔ میں نے نوٹوں کو مُٹھی میں بند کر لیا ۔ سیما کو ادائی کے لیے کہا اور بد حواس سی دروازہ کھول کر باہر آگئی۔ خوش گوار ٹھنڈی ہوانے میرے اڑتے حواسوں کو ذرا معتدل کیا۔ ہوٹل کے ریسپشن پر کھڑے لڑکے کو نوٹ دکھائے ۔ اس نے نیلے نوٹ کی طرف اشارہ کیا۔
’’یہ تو متروک ہو چکا ہے۔‘‘
میں نے پلکیں جھپکائیں اور یہ سوچنا چاہا کہ کاونٹر پر پیسے لیتے وقت میں نے انہیں دیکھا تھاکیا؟ اور یہ کس قدر حیرت انگیز بات تھی کہ مجھے اپنی ذہنی سکرین پر اپنے چیسٹ بینک سے سو ڈالر کا نوٹ نکالنے کا عمل اپنی پوری جزئیات کے ساتھ یاد تھا ۔ وہ چھوٹی سی خالی جگہ کیش کاونٹر تک جانے، لڑکے کے ہنسنے، نوٹ دینے لینے کے سب مراحل متحرک تصویروں کے مانند سامنے تھے ۔پراگلے منظر پر دبیز دُھند تھی ۔
اب بہت سے سوال تھے جو میرے ذہن میں اُبھرے۔ میں نے نوٹوں کو ہاتھ میں پکڑا۔ انھیں گنا تھا؟ کیا مجھے اُن میں کوئی خاص چیز نظر آئی؟ لیروں سے تو میں پہلے ہی دن شناسا ہو گئی تھی۔
میری ذہنی سلیٹ صاف تھی اور اُس پر ان میں سے کسی کا جواب نہیں تھا۔ میں گُم سُم سی کھڑی تھی۔ ایک سو تیس لیروں کے ساتھ ہاتھ ہو گیا تھا۔گویا تقریباً پانچ ہزار پاکستانی روپے کو تُھک لگ گیا تھا۔
جاپان اور تائیوان کے سیاح لائونج میں میرے قریب ہی کھڑے اس مسئلہ کو خاصی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ اُن میں سے کسی نے کہا۔ فوراً پولیس اسٹیشن رپورٹ کریں۔
’’میں اگر لڑکے کے پاس جائوں تو؟‘‘
میں نے ریسپشنسٹ کی رائے لی۔
اُس کا بڑا حتمی جواب تھا۔ ’’یہ زیادہ مناسب ہے پولیس کو رپورٹ کریں۔ ‘‘
اس استفسار پر کہ پولیس اسٹیشن کہاں ہے؟ تائیوانی نے چھوٹا سا بازو پھیلا کر لائونج کے کونے کی طرف یوں اشارہ دیا جیسے پولیس اسٹیشن تو یہیں کونے میں ہی ڈیرے ڈالے بیٹھا ہو۔
میں بھی حد درجہ احمق اور گھامڑ عورت کہ ساتھ چلنے کی درخواست کر بیٹھی اُس نے تو بڑا سا چہرہ فی الفور نفی میں ہلا دیا۔
میں اور سیما اب اس نئی مہم پر نکلیں۔ پُوچھتے پُوچھاتے جب جائے مطلوبہ پر پہنچیں اس وقت ایا صوفیہ اورجامع (مسجد) سلطان احمد کے نوکیلے منار زرفشاں کرنوں میں چمک رہے تھے اور دونوں تاریخی جگہوں کے درمیان پارکوں میں ٹورسٹوں کے پرّے مست خرام تھے۔
پولیس اسٹیشن میں سناٹا تھا اور ایک بے حد خوبصورت نوجوان ایک کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔
سلام کے جواب میں تپاک تھا۔ پاکستان کا جان کر لہجے میں محبت کا اظہار تھا۔ میں نے مسئلہ گوش گزار کیا تو سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔
’’کیا وصولی کی کوئی رسید لی تھی۔‘‘
میں نے ہونقوں کی طرح دیکھا اور سر نفی میں ہلایا۔
’’جگہ پہچانتی ہیں، آدمی کو شناخت کر لیں گی؟‘‘
دونوں سوال ظاہر ہے ایسے تھے کہ میرا جواب جوشیلی قسم کی ’’ہاں‘‘ میں تھا۔
’’گھبرائیے نہیں آپ کے پیسے ضرور آپ کو ملیں گے۔‘‘
پُر یقین لہجے سے چھلکتی اُمید کی آس نے مجھے تازہ دم کر دیا تھا۔
’’مگر‘‘
میں نے گھبرا کر اُسے دیکھا ۔
’’یہ چُو نکہ Criminal case ہے ۔ آ پ کو کرمینل پولیس اسٹیشن جانا ہو گا۔ یہ ٹورازم پولیس اسٹیشن ہے۔ بیازت یہاں سے زیادہ دور نہیں۔‘‘
اور جب وہ واکی ٹاکی پر غالباً بیازت والوں کو میرے بارے میں بتا رہا تھا میں نے اپنے آپ سے پوچھا تھا۔
’’ارے میں کون ہوں؟‘‘
اس وقت مجھے یہ بھی احساس ہوا تھا کہ جیسے میں لاہور کے نولکھا پولیس اسٹیشن میں بیٹھی ہوں اور مجھے یہ کہا جا رہا ہے کہ محترمہ یہ کیس تو اچھرہ پولیس کا ہے۔ وہاں جائیے۔
گاڑی کے لیے معذرت ہوئی۔ ٹیکسی منگوا دی گئی اور یہ بھی تاکید ہوئی کہ اسے صرف پانچ لیرے دینے ہیں۔
اُس وقت مجھے پھر اپنی پولیس اس گمان کے ساتھ یاد آئی تھی کہ وہ یقینا ایک غیر ملکی خاتون کو ٹیکسی میں رولنے کے بجائے گاڑی میں بھیجتی۔
ماشاء اﷲ سے ٹیکسی ڈرائیور نے ہیرا پھیری میں پاکستانیوں کو بھی مات کر دیا تھا۔ اﷲ جانے کن کن راستوں پر بگٹٹ بھاگا اور میٹر بڑھائے چلا جاتا تھا۔جونہی ایک چوک پر گاڑی رُکی۔ ’’تقسیم‘‘ پر نظر پڑی۔ سیما نے بے اختیار اپنے گھٹنے پر دو ہتڑ مارا ’’ارے دیکھو تو ذرا تقسیم پر لے آیا ہے۔ ‘‘ وہ غصے سے چلائی۔ پر اس کا فائدہ ۔ وہ انگریزی نہیں جانتا تھا۔ ہماری بکوا س کا کچھ اثر نہیں تھااور وہ بڑے مزے میں تھا۔ باہر رات تاریک اور بتیاں روشن تھیں۔
تقسیم مرکزی چوک ہے جہاں سے مختلف جگہوں کو راستے نکلتے ہیں۔ ہاتھوں میں نقشے پکڑ کر صبح سے شام تک بسوں اور ٹراموں میں خجل خواریوں سے ہمیں شہر کے چہرے مہرے سے خاصی جان پہچان ہو گئی تھی۔
میٹر پچیس لیروں کی نشاندہی کر رہا تھا۔
پھر ایک جگہ گاڑی روک کر اُس نے سامنے بلڈنگ کی طرف اشارہ کیا۔ اس وقت 34 لیرے روزِ روشن کی طرح میٹر پر جگمگا رہے تھے۔ ہم ٹیکسی سے اُترے ۔ پانچ لیرے کا نوٹ میں نے فرنٹ سیٹ پر پھینکا اور جی داری سے کہا ۔
’’ہمیں یہی دینے کو کہا گیا تھا۔ ‘‘ حلق کے اندر سے گھن گرج کے ساتھ آواز نکالی۔
سیما کا ہاتھ پکڑ کر تیرجیسی رفتار سے آگے بڑھتے ہوئے میں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔گو تعاقب میں شور وغوغا تھا۔ للکارتی بھیانک سی آوازیں تھیں۔ اساطیری کہانیوں کی طرح پتھر بننے کا ڈرتو ہرگز نہیں تھا۔بس جیب کہیں ڈھیلی نہ ہو جائے سارا رولا اِسی کا تھا۔
سیڑھیاں شیطان کی آنت کی طرح لمبی تھیں۔ استنبول کا سارا شہر کم بلندی والی ڈھلانی پہاڑیوں پر ایک مربوط اور خوبصورت ترتیبی صورت میں بکھرا ہوا ہے۔
برآمدوں اور راہداریوں کے چکر کاٹتے ہوئے مطلوبہ جگہ پہنچے۔
اب میری داستانِ امیر حمزہ پھر شروع ہوئی۔ یہ بھی مقام شکر تھا کہ پولیس افسر کے پاس انگریزی کا تھوڑا سا دال دلیہ تھا۔ تفتیشی سوالات ہوئے۔ ماشاء اﷲ سے ہاتھ، آنکھیںم، زبان سب چلیں۔ یوں معاملے نے فہم وفراست کی منزلیں بڑی عمدگی اور حد درجہ تعاون سے طے کیں۔
اب خاموشی تھی نتیجے کا اعلان جو ہونا تھا۔
نتیجہ جو سُنایا گیا وہ کچھ یوں تھا کہ چونکہ اب رات کے آٹھ بج رہے ہیں اور آفس بند ہو گیا ہے لہٰذا کل نو بجے تشریف لائیے ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
اُترائی کی مشقت اور ٹرام اسٹیشن تک پیدل چلنے کی صعوبت جھیل کر ہوٹل پہنچنے تک کے وقفے میں مجھے دو تین بار یہ خیال آیا کہ دفع کرو گولی مارو اس قضیے کو۔
سیما کا بھی کہنا تھا ’’چل چھوڑ زندگی میں ہزار آئے اور ہزار گئے جان کا صدقہ سمجھ اوردفع دُور کر ۔‘‘
لیکن بستر پر لیٹنے اور تھوڑا سا سستا لینے کے بعد میرے اندر کا کہانی کا ر اور سیاح بھلا چین سے بیٹھتا اور اِسے یونہی دفع دُور کر دیتا۔
’’ناں جی ناں‘‘ من چلے دل نے کہا ۔
بات نکلی ہے تو دُور تلک جائے گی۔
بُرے کو بُرے کے گھر تک پہنچا کے آئے گی۔
صبح ناشتے کے بعد میں نے بالوں میں کنگھا چلایا۔ جُوتا پہنا۔ رات کے پہنے ہوئے کپڑوں کی سلوٹوں اور شکنوں کو ہاتھوں سے قدرے صاف کیا، بیگ کندھے سے لٹکایا اور سیماسے یہ کہتے ہوئے ’’جانم میں ذرا پولیس اسٹیشن بھگتا آئوں، تب تک تم تیار ہو جانا۔‘‘
سیما پوری بیگم ہے۔ نِک سک سے آراستہ ہوئے بغیر باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
نو بجے جب میں مطلوبہ جگہ پہنچی۔ ماشاء اﷲ سے سیٹ پر ایک نیا چہرہ بیٹھا تھا۔ دو نوجوان لڑکے کسی بات پر اُونچے اُونچے یوں بول رہے تھے۔جیسے یہ تھانہ تو نہ ہو۔ گلی محلے کی کوئی بیٹھک ہو۔ جہاں کسی بات پر تُوتُو مَیںمَیں ہوگئی ہے۔
لڑکوں کوبُھگتا کر وہ میری طرف متوجہ ہوا۔ اب میرا بیان شروع ہوا۔ حفظِ ما تقدم کے طور پرمیں نے سب ممکنہ سوالوں کے جواب بھی اس میں شامل کر دیے کہ فضول کی تفتیشی تکرار سے جان چھُٹے۔
داستان گل بکائولی سُناتے،خطابت کے جوہر دکھاتے جب فراغت ہوئی۔ فاتحانہ شان کا پَرتَو آنکھوں میں لیے جب میں نے اُسے دیکھا میرا جی اپنا سر پیٹ لینے کو چاہا کہ میں نٹنی تواتنی دیر سے بھینس کے آگے بین بجا رہی تھی۔
وہ چہرے کے بائیں رُخ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹکائے بٹر بٹر میرا منہ دیکھتا تھا۔ شدت سے ایک خواہش سینے میں مچلی کہ ایک کرارا سا جھانپڑاُس کی گُدّی پر ماروں۔تارے دِکھ جائیں دن میں یا پھر اپنے سر کو پھوڑ لوں جو یوں دیوانہ بنا چکریاںکاٹ رہا ہے۔
میں نے مارا ، سر پر نہیں پائوں پر۔ اٹینشن والے انداز میں پائوں نے فرش بجایا اور گلے سے نکلتی کرخت آواز نے چھت پھاڑی۔
’’ہے یہاں کوئی جو میری بات سُنے۔ ‘‘
فوراً ہی سامنے والے بند دروازوں میں سے ایک دروازہ قدرے زوردار آوازسے کھُلا اور ایک لڑکی بھاگنے کے انداز میں میرے سامنے آ کر بہت شُستہ انگریزی میں بولی۔
’’بتائیے کیا بات ہے؟‘‘
میری بولتی کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ آنکھیں، ناک، ہونٹ، صراحی دار گردن سے نیچے لشکارے مارتا اُس کا قدرے عریاں سینہ ،ننگے سڈول بازو اور سرو جیسا قد میری آنکھوں میں فٹ ایکسرے مشین میں سے ہو کر گزرا۔
’’اﷲ یہ کمبخت اِس حُسنِ جہاں سوز کے ساتھ پولیس اسٹیشن پر کیا کر رہی ہے؟ ‘‘ میں نے اپنے آپ سے کہاتھا۔
اسے تو توپ کاپی سرائے پیلس یا دولماباشی جیسے محل منارے میں عثمانی سلطان کے مجید، حمید، نذیر کوسک میں جام وسُبو پیش کرتے ہوئے ہونا چاہیے تھا۔
لڑکی پھر بولی۔
’’بتائیے کیا مسئلہ ہے؟‘‘
’’ ٹھہر جائو۔مسئلہ تو بعد میں بتائوں گی۔ پہلے تمہارے حُسن کو سراہ تو لوں۔‘‘
لڑکی کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اور مجھے یوں لگا جیسے بند کلیوں نے چٹک کر اپنے منہ کھول لیے ہوں۔
حُسن کی فسوں خیزی سے نکلی تو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہوئی۔
چلیے جناب ۔کہانی میرے لُٹنے کی پھر دہرا ئی گئی۔
اُس نے یوں چٹکی بجائی جیسے انگلیوں کی پوروں میں طلسماتی جن مقید ہو۔
’’ابھی یہ پولیس مین آپ کے ساتھ جائے گا اور سارا مسئلہ حل کر آئے گا۔ ذرا بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔‘‘
میں نے پولیس مین کو دیکھا جو ہمارے پاس ہی کھڑا تھا اور جس کی طرف اشارہ ہوا تھا۔ چُوچہ سا میرے اسکول کے دسویں جماعت میں پڑھنے والے لڑکوں جیسا جن کی مسیں ابھی بھیگتی ہی ہیں کہ وہ جوان دکھنے کے چکر میں گالوں اور ہونٹوں کے بالائی حصوں کو بلیڈ سے چھیل ڈالتے ہیں۔
میں نے بہت لمبی سانس بھری تھی۔ اس میں میری کل شام سے لے کر اب تک کی مشقّت کا درد رچا ہوا تھا۔
قہر درویش بر جان درویش اس کے ساتھ چلنے کے سوا کوئی اور چارہ کار تھا کیا؟سو چلی۔ بلڈنگ کی سیڑھیاں اُترنے کے بعد جب وہ مجھے اُس کھُلی جگہ پر لایا جہاں گاڑیاں کھڑی تھیں مجھے سو فیصد یقین تھا کہ وہ مجھے گاڑی میں بٹھائے گا اور گاڑی شور مچاتی،ہوٹر بجاتی، ہٹو ترکو، راستہ دو کا عملی مظاہرہ کرتی گرینڈ بازار میں داخل ہو کر منی چینج آفس کے سامنے رُکے گی۔
’’واﷲ کس قدر مسرُور کُن نظارہ ہو گا۔‘‘ میں نے تصور میں اس منظر سے حظ اُٹھاتے ہوئے آنکھیں نچائیں۔
پر جب بڑا سا پُختہ میدان کراس کرنے کے بعد وہ اگلے ڈھلانی راستے پر اُترنے لگا تو بے اختیار میں رُک گئی۔’’گاڑی کدھر ہے؟‘‘ میں نے ہوا میں ہاتھ لہرائے۔
وہ ہونقوں کی طرح میری صُورت دیکھتا تھا اور میں اپنے آپ سے کہتی تھی۔
میرے ملک کی پولیس کتنی ہی بدنام سہی پر بے مروت تو ہرگز نہیں۔چٹی چمڑی والوں کے تو آگے پیچھے پھرتی ہے۔
’’ہائے ایہہ تے وڈی بدلحاظ اے۔‘‘
میں نے اپنے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا۔ اپنے پائوں کو چھُوا اور اشاروں سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان میں درد ہے اور چلنا دُشوار ہے۔
اُس نے اشاروں کی اس زبان کو سمجھا اور اچھے بیٹے کی طرح مجھے بازو سے تھام کر چلانا چاہا۔ مجھے ہنسی آگئی تھی۔
’’چلو میاںچلو‘‘
میں نے خود کو تھپکی دی۔ بلا وجہ ہی گاڑی کی آس میں پائوں بھاری کر لیے تھے۔ بھگائو دردوں وردوں کو اور بندوں کی طرح قدم اُٹھائو۔
استنبول کے سلطان احمد ایریا کی گلیوں اور چھوٹے چھوٹے بازاروں میں سے گزرتا ہوا وہ ایک جگہ آ کر رُک گیا۔
گرینڈ بازار۔ اُس نے سامنے بازار کی طرف اشارہ کیا۔
بازار چہرے مہرے سے تو ویسا ہی تھا۔’’ پر‘‘ یہ ’پر‘بڑا سا سوالیہ نشان تھا ۔
اب میں دیدے پٹ پٹ گُھماتی ہوں۔ بھونچکی سی پچاس گز اِدھر پچاس گز اُدھر دیکھتی ہوں ۔ نہ وہاں کوئی منی چینج آفس، نہ دوسری سمت خوبصورت مسجد، جس میں ہم نے عصر کی نماز پڑھی تھی۔میں نے سر کا تولا نفی میں ہلایا۔ اشاروں سے منی چینج آفس کی بائیں رُخ پر جائے وقوع کی وضاحت کی اور نور عثمانیہ مسجد دائیں ہاتھ۔ خوب اشارے بھی دیے اور زبان بھی چلائی سمجھانے میں جو جو ہاتھ پلاّ مار سکتی تھی مارا۔ چلو خیر کسی نے راہنمائی کی اور پھر چل پڑے۔
ہو بہو گرینڈ بازار جیسے ایک اور بڑی سی سرنگ نما دروازے کے نمودار ہونے پر بھی یہی صورت پیش آئی۔پر اب اُس سُن وٹے پر انحصار کرنے کے بجائے میں خود بھاگی۔
نور عثمانیہ جامع ،نور عثمانیہ جامع (مسجد)کیا بات تھی میری ۔کیا ایکٹنگ تھی۔آدھا بازار مجھے دیکھتا تھا۔
پھر کسی نے اُسے سمجھایا۔ ٹانگیں پھر چلیں۔ اب جس بازار میں داخلہ ہوا تھوڑا سا ہی چلنے کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا کہ ہم صحیح راستے پر ہیں اور جائے وقوعہ بس آنے ہی والی ہے۔
میرا قیافہ درست تھا۔ جونہی بازار کا اختتام ہوا نور عثمانیہ مسجد اور منی چینج آفس دونوں نظر آ گئے تھے۔ میں نے فوراً اُسے بازو سے تھاما۔ اندر لے گئی اور لڑکے کی سمت اشارہ کر دیا اور خود کونے میں بنے چھوٹے سے زینے کے دوسرے پورے پر کھڑی ہو کر کارروائی کے جائزے میں مصروف ہو گئی۔
ایک عجیب سی بات لڑکے نے صرف ایک چھل چھلاتی نگاہ سے مجھے دیکھا اور چہرہ جھکا لیا۔
اور جب پولیس مین اُس سے بات کرتاتھا۔وہیں کونے سے ایک اونچا لمبا خوش شکل تیس کے ہیر پھیر میں نوجوان شِکرے کی طرح اُس پر جھپٹا۔ یقینا وہ آفس کا انچارج ہو گا۔ اونچائی پر کھڑے ہونے سے ایک اور بات میرے مشاہدے میں آئی۔ اس کی گردن میں صلیبی کراس والی چین تھی۔ مجھے تھوڑا سا ذہنی جھٹکا لگا۔ یہ عیسائی ہے اور دوسرا لڑکا بھی یقینا عیسائی ہوگا یا یہودی۔
استنبول میں یونانی عیسائیوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کی بھی خاصی تعداد ہے۔ اسپین پر کیتھولک عیسائی غلبے کے بعد جب یہودیوں اور مسلمانوں کو دیس نکالا دیا گیا تو عثمانی ترکوں نے کھُلے دل سے یہودیوں پر اپنی مملکت کے دروازے وا کیے۔ تب سے آج تک وہ یہیں آباد ہیں۔
ذاتی طور پر میں بنی نوع انسان کے بشری تقاضوں، اُس کی فطری کمزوریوں اور بلند ظرفیوں کو مذہبی۔ لسانی اور تہذیبی خانوں میں بٹے ہوئے نہیں دیکھتی ہوں۔ ہر قوم ہر مذہب ہر فرقے اور ہر گروہ میں اچھے بُرے عناصر ازل سے موجود ہیں اور ابد تک رہیں گے کہ کائنات ہستی کا توازن اسی اصول میں مُضمر ہے۔ دھوکا دہی کے اس کیس میں انھیں اس حوالے سے دیکھنا مناسب ہی نہیں تھا۔
جو بات مجھے اُس لمحے کلِک ہوئی تھی وہ لڑکے کے وہ الفاظ تھے کہ جب میں نے اُسے اپنے پاکستان سے تعلق کا حوالہ دیا تھا۔ اس کی طنزیہ ہنسی بھی مجھے یاد آئی تھی۔
تو کیا اُن کے ذہن اُس عالمی پروپیگنڈے سے متاثر ہیں جو اسلامی ، عیسائی اور یہودی دُنیا میں اس وقت جاری ہے؟
میرے پاس ا س سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔تھوڑی سی گرما گرمی اور تُو تُو میں میں کے بعد پولیس مین مجھے بازو سے پکڑ کر باہر لے آیا۔ گرینڈ بازار کے باہر ڈیوٹی دیتے وردی والے سپاہی اکٹھے ہو گئے تھے ۔انہیں وہ مختصراً کچھ بتا کر سامنے والی دکان سے مترجم لے کر آیا جس نے مجھے بتایا کہ وہ تو یکسر انکاری ہیں۔
اپنے دفاع میں،میں نے دلیل دی کہ میں تین ستمبر کو استنبول میں داخل ہوئی ہوں۔ میرے پاس یہ متروک شدہ اتنا بڑا نوٹ کہاں سے آ سکتا ہے۔
یہ بات پولیس مین کو سمجھائی گئی۔ وہ پھر اندر گیا میں بھی ساتھ تھی۔ اب پھر زوردار گفتگو شروع ہوگئی۔ مزے کی بات کہ لڑکے نے اس بار بھی مجھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ چپ چاپ کھڑا سب دیکھتا تھا۔ پولیس مین بے چارہ بھیگی بلی اور وہ بُل ٹیرئیر۔
پھر ہم دونوں باہر آ گئے۔ مترجم آیا جس نے مجھے کہا کہ میں پولیس اسٹیشن جا کر تحریری درخواست دوں تاکہ اس پر ایکشن ہو ۔
اتنی مشقت بھری خجل خواری کے باوجود میری ہنسی چھوٹ گئی تھی۔ ہونٹوں اور آنکھوں میں بکھری اس ہنسی میں، میں نے بہت دور تک گرینڈ بازار کے نقش و نگار کی شوخیاں دیکھیں اور پھر دونوں ہاتھ مترجم کے سامنے جوڑتے ہوئے گویا ہوئی۔
جناب میں کیس کو ڈراپ کرتی ہوں۔ استنبول پولیس کی یہ آنیاں اور جایناں بڑھی دل خوش کُن ہیں۔اس کی شاندار کارکردگی کو سلوٹ مارتی ہوں۔ جو کچھ جاننے کی خواہش مند تھی وہ جان گئی ہوں اور مزید جان کاری کی ہر گز متمنی نہیں۔ ہماری زبان کی ایک کہاوت ہے کہ پنڈ کا پتا روڑیوں سے لگ جاتا ہے۔
میں نے پولیس مین کے سینے پر محبت بھرا ہاتھ پھیرا اور کہا۔
’’جائو بیٹا۔‘‘
اور جب مجمع بکھر گیا پھر پتا نہیں مجھے کیا ہوا؟میں کیوں منی چینج آفس میں چلی گئی۔ اُسی جگہ جا کر کھڑی ہو ئی۔ اِس بار دونوں نے مجھے دیکھا پر میں صرف لڑکے سے مخاطب ہوئی۔
تم تو بالکل مجھے اپنے بیٹے جیسے لگے تھے۔ پیارے سے چمکتی آنکھوں والے ۔ بوڑھی عورتیں جو مائیں ہوتی ہیں انہیں تو دنیا بھر کے بچے اپنے بچوں جیسے ہی لگتے ہیں۔تومیری جان اُن کے ساتھ ہیرا پھیری نہیں کرتے اور جو کرنے کو دل مچلے تو پھر یہ بانکی سجیلی لڑکیوں کے پرّے کیا کم ہیں اس کام کے لیے۔
اپنی کسی بھی بات کا ردّ ِعمل دیکھنے کے لیے میں رُکی نہیں تیزی سے باہر آ گئی۔سُورج کی آب و تاب ابھی اپنے جوبن پر نہیں آئی تھی۔ بازار کی رونقیں ابھی انگڑائیاں لے لے کر بیدار ہو رہی تھیں۔ ملحق سڑک پر چلتی میں گرینڈ بازار کے دوسرے دروازے کیپلی کارسی کے سامنے نفیس اور شاندار سے ریسٹورنٹ کے سامنے کمپاونڈ میں آگئی فراخ اور کشادہ کمپاونڈ میں دھری کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ کر برتقال (مالٹوں) کا جوس گھونٹ گھونٹ پیتے ہوئے اپنے آپ سے کہتی تھی۔
چلو اچھی ایکٹویٹی رہی ۔ 5200 پاکستانی روپوں میں پڑنے والی یہ کہانی کچھ ایسی بُری بھی نہیں۔