function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

لعل و گوہر

شاہد محمد شاہد | آپ بیتی

میں  پٹنہ (عظیم آباد) سے دس میل دور جانبِ مغرب واقع سادات کی ایک مشہور بستی‘ نیورہ میں پیدا ہوا۔ میرے والد انتقال کر چکے تھے۔ ایک سال بعد والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ میری پرورش پرنانی کے ہاتھوں ہوئی جن کی ہمشیر اردو کے مشہور شاعر نواب سید امدادامام اثر کی بیگم تھیں۔ نواب صاحب کے بڑے فرزند‘ سر علی امام مشہور ہندوستانی سیاستدان گزرے ہیں۔

میرے نانا کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی، اس لیے انھوں نے مجھے اپنا بیٹا ہی سمجھا اور اپنے دل میں جگہ دی۔ اپنی آنکھوں کا نور بنایا، تمنائوں میں الجھایا اور کھلونے دے دے کر صرف بہلایا ہی نہیں بلکہ اپنی شفقت، محبت اور حکمت کے ذریعے باتوں باتوں میں ایسی تعلیم و تربیت کی جو آگے چل کر میری شخصیت کی تعمیر میں بنیادی اینٹ ثابت ہوئی۔ یہی عظیم سرمایہ میرے روحانی تعلیم کا سرچشمہ اور دماغی ارتقا کی اساس بنا۔

بزرگانِ نیورہ کے لطیفے
نیورہ میں دو منچلے بھائی‘ عابد اور زاہد رہتے تھے۔ وہ نواب سید امداد امام اثر صاحب سے واقف تھے۔ ایک دن وہ ان کے سامنے سے گزرے۔ نواب صاحب نے سرد آہ کھینچی اور فرمایا ’’نہ ان میں سے کوئی عابد ہے نہ ان میں سے کوئی زاہد۔‘‘
…٭…
ایک ہندو پنڈت جنھیں اردو و فارسی کے شاعر ہونے کا خبط تھا، حاضر ہوئے۔ بڑی منت سماجت کے بعد نواب اثر کو چند اشعار سنانے کی اجازت لی اور کہا ’’حضور دو حرفی کہی ہے۔‘‘

نواب صاحب نے فوراً کہا ’’ٹھہرئیے پہلے ذرا مجھ سے ایک حرفی سنیے:
’’آ‘‘ دوڑ گیا ہاتھ میں لے کر سوٹا
’’ب‘‘ دوڑ گیا ہاتھ میں لے کر سوٹا
موقوف نہیں ان پہ یہ دوڑا دوڑی
’’ت‘‘ دوڑ گیا ہاتھ میں لے کر سوٹا

پنڈت جی نے کہا ’’چھوڑئیے حضور! فارسی کلام سنیے جو تصوف کے رنگ میں ہے۔‘‘
ہمہ آئوں، ہمہ انوں، ہمہ اوں
ہمہ زائوں، ہمہ زوئوں، ہمہ زوں

نواب صاحب نے ہاتھ جوڑ کر فرمایا ’’پنڈت جی! کیا دنیا کے سب شاعر مر گئے، ایک میں ہی رہ گیا ہوں خرافات سنانے کو۔‘‘
انگریز افسروں سے ٹاکرا

انگریز راج کے عروج میں انگریزوں کی بددماغی اور حکمرانی کا زعم مختلف طرح سے ظاہر ہوتا۔ اگر کوئی انگریز فرسٹ کلا س میں سفر کرتا تو کوئی ’’کالا لوگ‘‘ (ہندوستانی) اس میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ ایک بار مسٹر حسن امام پٹنہ سے کلکتہ جا رہے تھے۔ پنجاب میل میں ان کی فرسٹ کلاس برتھ مخصوص تھی۔ ریل آئی تو فوراً ملازموں نے برتھ پر ان کا بستر لگا دیا۔ حسن امام صاحب چادر تان کر لیٹ گئے۔ اتنے میں ایک انگریز ڈبے میں داخل ہوا۔ انھیں سوتا دیکھ کر شرارت سے ان کی توند پر بیٹھ گیا۔

مسٹر حسن امام فوراً اٹھے اور ڈبے سے نکل غصے میں دھُت، دیوہیکل انجن کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ریل چلنے والی تھی کہ اس کے انگریز ڈرائیور کی نظر پڑی، بھاگا بھاگا آیا۔کچھ اور لوگ بھی جمع ہو گئے۔ ہنگامہ ہوا کہ یہ تو مسٹر حسن امام ہیں۔ ڈیوٹی پر مستعد عملے، ڈرائیور اور گارڈ نے معاملات سلجھانے کا وعدہ کیا اور بتایا کہ تاخیر سے ان کی ملازمت خطرے میں پڑ جائے گی۔ حسن امام نے اس شرط پر ڈبے میں جانے کی رضا مندی ظاہر کی کہ اب وہ انگریز ڈبے میں نہیں بیٹھے گا۔

ریلوے عملہ نے معاملات کی نزاکت انگریز کو سمجھائی، لیکن وہ بھی دوسرے ڈبے میں سفر کرنے پر راضی نہ ہوا۔تب حسن امام صاحب نے آئو دیکھا نہ تائو ملازموں کو حکم دیا کہ وہ انگریز کا سارا سامان ڈبے سے باہر پھینک دیں۔ انگریز نے جب مزاحمت کی تو بپھرے مسٹر حسن امام نے اسے بھی نکال باہر کیا۔ میل ریل جو پہلے ہی چلنے کے لیے بے چین تھی، نے سیٹی دی اور چل پڑی۔ حسن امام صاحب اپنی برتھ پر آرام سے لیٹ گئے جس پر ان کو قانونی حق تھا۔ اس واقعہ کی اخبار میں بھی اشاعت ہوئی۔
…٭…
ایک مرتبہ مسٹر حسن امام اپنی انگریز بیوی کے ساتھ پٹنہ ریلوے اسٹیشن پرانتظار گاہ میں چائے پی رہے تھے۔ ایک کونے میں ایک انگریز بیٹھا گھور گھور کر بیگم امام کو دیکھنے لگا۔ بیگم امام نے شوہر کی توجہ اس طرف دلائی، تو وہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کوٹ اتارا، آستین چڑھائی اور ایک ہاتھ سے کانٹا پکڑے انگریز کی جانب لپکے اور چلائے:
’’تیار ہو جاؤ، میں تمھاری آنکھیں نکالنے لگا ہوں۔‘‘

اُن کی للکار سن کرانگریز ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے پوچھا ’’میرا قصور کیا ہے؟‘‘
’’تو خود سوچ کہ تیرا قصور کیا ہے؟‘‘ حسن امام نے کہا۔
انگریز معاملے کی تہ تک پہنچ گیا۔ اس نے کہا ’’آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ بہرحال میں معافی مانگتا ہوں‘‘ اور معافی مانگتا بھاگ کھڑا ہوا۔

سِول سرجن کا کتا
عزیز صاحب بیرسٹر ی پاس کرکے تازہ تازہ ولایت سے آئے تو علی منزل فریزر روڈ پر اپنے دوست سرعلی امام کے ساتھ رہ کر پریکٹس شروع کر دی۔ ایک دن نوکروں نے شکایت کی کہ قریب ہی رہنے والے ایک انگریز کا کتا باورچی خانے میں گھس آتا اور مرغیاں و گوشت لے بھاگتا ہے۔ انگریز کا کتا ہے، کوئی کچھ نہیں کہتا۔ اس پر عزیز صاحب نے ملازموں سے کہا ’’اس بار اگر کتا آئے تو اسے اچھی طرح مارو‘ میں سمجھ لوں گا۔ قانون میں جانتا ہوں، تم نہیں؟‘‘

دوسرے دن جب انگریز کا کتا باورچی خانے میں داخل ہوا تو نوکروں نے اس کی اچھی طرح مرمت کی۔ کتا لنگڑاتا، شور مچاتا سیدھا اپنے مالک کے پاس پہنچا‘ تو وہ بے حد طیش میں آ گیا۔ کتے کو ساتھ لیے علی منزل کی طرف بڑھا۔ ملازم نے سول سرجن کو آتے دیکھ کر عزیز صاحب کو اطلاع دی۔ وہ پردے کے پیچھے سے دیکھتے رہے۔ نوکروں نے پوچھا ’’کیا حکم ہے مالک؟‘‘

عزیز صاحب نے ہدایت کی کہ جب سول سرجن باورچی خانے میں آ ئے تو اس کی بھی اچھی طرح پٹائی کر دو‘ ہم دیکھ لیں گے۔ سول سرجن طیش میں جب کمپائونڈ پھلانگتا باورچی خانے کے اندر پہنچ گیا تو عزیز صاحب نے حکم دیا ’’مارو۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے سول سرجن کے خلاف مداخلت بے جا رپورٹ تھانے میں درج کرائی۔ اس کی ایک کاپی بطورپریس نوٹ اخباری ایجنسی کو بھجوا دی اور مطالبہ کیا کہ سول سرجن کا فوری طور پر یہاں سے تبادلہ کیا جائے۔ نتیجتاً اس سول سرجن کا پٹنہ سے کسی اور جگہ تبادلہ ہو گیا۔

قانون تو جان لو!
ایک دفعہ میرے نانا کو لکھنو جانا تھا۔ میل ریل میں سفر کر رہے تھے، ٹکٹ انٹرکلاس کا تھا۔ ٹکٹ چیکر آیا۔ ٹکٹ دیکھا تو کہا ’’آپ اس ریل میں سفر نہیں کر سکتے۔‘‘
میرے نانا نے مسکرا کر کہا ’’بھیا! میں جا رہا ہوں اور آپ کہتے ہیں کہ نہیں جا سکتے۔‘‘

انھوں نے ’’داشتہ آیدبکار‘‘ اپنے صندوق سے ٹائم ٹیبل نکالا اور دکھا دیا کہ اس قاعدے کی رو سے ڈھائی سو میل سے زیادہ کا سفرانٹرکلاس کا مسافر میل ریل میں کر سکتا ہے اور یہاں سے لکھنو کی مسافت کہیں زیادہ ہے۔ پھر میرے نانا مرحوم نے اسے مخاطب کر کے کہا ’’آپ لوگ پڑھتے کیوں نہیں؟‘‘
ٹکٹ چیکر حاضر جواب تھا، بولا ’’حضور اگر ہم پڑھتے تو یہی کام کرتے!‘‘
میرے نانا نے کہا ’’برخوردار ’’پڑھنے‘‘ سے میری مراد یہ نہیں کہ آپ نے بی اے یا ایم اے کیوں پاس نہیں کیا ،بلکہ یہ کہ آدمی جو بھی کام کرے، اس کے قاعدے قانون سے ضرور واقفیت حاصل کر لے۔‘‘
…٭…
ایک شخص نے نانا سے عمر دریافت کی۔ انھوں نے جواب دیا ’’36,35 سال ہو گی۔‘‘ وہ حیرت زدہ ہو کر بولا ’’یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ تو میرے والد سے بڑے ہیں۔‘‘ میرے نانا نے کہا ’’میاں یہ سمجھ کا پھیر ہے۔ میں نے کہا یہی 36,35 سال! اگر دونوں کو ملا لو تو اکہتر بنتا ہے۔‘‘

میرے نانا داناپور کے ایک حکیم کے زیر علاج تھے۔ وہ مریض کو پرہیز بہت کراتے۔ حکیم نے نانا کا معائنہ کرنے کے ساتھ ہی سوال کیا ’’حضور کیا کھاتے ہیں؟‘‘
کہا ’’چاول‘‘
حکیم نے کہا ’’چاول نہ کھائیں۔‘‘
پھر دریافت کیا ’’رات کو کیا تناول فرماتے ہیں؟‘‘
نانا نے کہا ’’روٹی‘‘

حکیم صاحب نے کہا ’’روٹی نہ کھائیں۔‘‘
نانا نے بڑے خاص انداز میں کہا ’’چاول نہ کھائو، روٹی نہ کھائو، یہ نہ کھائو وہ نہ کھائو تو اب جوتے کھانے کے سوائے اور کیا رہ گیا ہے؟‘‘
مجسٹریٹوں اور ججوں کے لطیفے
میرے نانا مجھے انگریز آئی سی ایس، جائنٹ مجسٹریٹوں اور ججوں کے بے حد دلچسپ لطیفے سنایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک پیش ہے۔

آرہ میں ایک انگریز مجسٹریٹ کی کورٹ میں بحث کے دوران نانا بیمار ہو گئے۔ ان کی طرف سے مہلت کی درخواست دی گئی۔ مجسٹریٹ نے دو دن کے لیے مقدمہ کی سماعت ملتوی کردی اور سبب کے طور پر یہ نوٹ لکھا:
“The fault is of the party that brought such a sickly pleader”
(قصوراس فریق کا ہے جو ایسا بیمار وکیل لایا ہے۔)

چوک ہائوس آرہ کا ہندو مسلم فساد
میری سب سے پرانی یاد کا تعلق شاہ آباد ہندو مسلم فساد سے ہے۔ میں وہ بھیانک رات اب تک نہیں بھولا جب ابا اور منجھلے ابا مرحوم کوانتشار اور پریشانی کے عالم میں باہر مکان کے برآمدے میں گھر کی تمام بندوقیں، رائفلیں اور دیگر اسلحہ جمع کرتے، سیکڑوں خالی کارتوسوں کو بارود اور چھروںسے بھرتے اور ان پر ٹوپیاں لگاتے دیکھا۔ مردانہ مکان کے تمام میدان ہمسایہ مسلمان مردوں سے بھر گئے۔ ان کی خواتین نے بھی حویلی میں پناہ لی۔ عورتوں کو ہدایت دی گئی کہ تلواروں، کٹاریوں، چھروں، چاقوؤں اور لوہے کی سلاخوں وغیرہ سے خود کومسلح کر لیں۔

اُنھیں یہ بھی بتایا گیا کہ بوقت ضرورت کس طرح حملہ آوروں کے خلاف ہتھیار استعمال کرنا ہے۔ پھر یہ بھی کہہ دیا گیا کہ خدانخواستہ اگر نوبت عزت و آبرو بچانے تک پہنچ جائے، تو کنوئیں میں چھلانگ لگا دیں۔ یہ تدابیر اس لیے ہو رہی تھیں کہ ہندوئوں کا ایک بہت بڑا ٹولہ دیہی علاقوں میں کشت و خون کا بازار گرم کر کے شہر آرہ کی طرف رخ کرنے والا تھا۔
حالات پر قابو پانے کے لیے کلکٹر شاہ آباد کو فوج طلب کرنا پڑی۔ صوبہ کے گھڑسوار ملٹری پولیس کے دستے بھی حرکت میں آگئے۔ آرہ میں مستقل طور پر ملٹری مائونٹڈ پولیس کا رسالہ قائم کر دیا گیا جن کے سواروں میں زیادہ تر پنجابی مسلمان تھے۔

حاجی اوگھٹ شاہ
شاہ آباد کی معروف بستی‘ جگ دیش پور سے حضرت حاجی اوگھٹ شاہ جب آرہ تشریف لاتے تو بڑے ہال میں فوراً دریاں بچھا دی جاتیں۔ حضرت کے لیے اُن پر خاص قالین بچھایا جاتا۔ یہ بزرگ میرے نانا مرحوم کے پیر بھائی تھے۔ اوگھٹ شاہ کا لقب انھیں پیردیواشریف، حضرت حاجی وارث علی شاہ نے دیا تھا۔ ان کا پہناوا ایک تہبند اور کھڑائوں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ فرش پر بیٹھتے اور سوتے ۔کیونکہ ان کا شمار خاصانِ حضور میں تھا۔ جب کبھی آرہ چوک ہائوس کو عزت بخشتے تو سب لوگ جمع ہو جاتے۔ ان کی باتیں، لطائف اور مثنوی مولانائے روم سنتے۔

حاجی اوگھٹ شاہ نے اپنے سفر حج کا ایک واقعہ سنایا۔ جب وہ حج بیت اللہ سے واپس آ رہے تھے اور بمبئی پہنچنے کے قریب تھے تو جہاز میں بڑا سوراخ ہو گیا۔ سمندر کا پانی زور شور سے اندر آنے لگا۔ کپتان نے اپنا سرخ لبادہ پہنا اور مسافروں کو خطرے سے آگاہ کیا۔ جب وہ شاہ صاحب کے پاس آیا‘ تو وہ ایک مسافر کے ساتھ چوسر کھیل رہے تھے۔ کپتان بہت خفا ہوا اور کہا’’یہاں بیڑا غرق ہو رہا ہے اور تم چوسر کھیلتے ہو۔‘‘ اس پر اوگھٹ شاہ نے جواب دیا ’’بیڑا ہرگز غرق نہ ہو گا کیونکہ میرے پیر نے کہا ہے۔ حج سے واپسی پر مجھ سے ملو۔‘‘ چناںچہ یہی ہوا۔ تمام مسافروں کی مشترکہ کوششوں سے سوراخ بند ہو گیا اور سفر جاری رہا۔
انگریزی شاعری کا مقابلہ

پٹنہ کالج میں پروفیسر انگریزی، کرپاناتھ مشرا ہندی کے معروف ناول نگار تھے۔ ایک بار انھوں نے ہم طلبہ سے کہا کہ پندرہ منٹ کے اندر اندر تم لوگ Childhood days”(بچپن کے دنوں) پر ایک نظم لکھ ڈالو، دیکھیں پہلے کون لکھتا ہے۔ میںنے دس منٹ کے اندر یہ نظم لکھی: (اس وقت میری عمر 19سال تھی)
’’جب میں تن پر سر غرور لیے پھرتا تھا

میری دسترس میں کیا کیا نہ خوشیوں کے خزانے تھے
جب باغ میں گھڑسواری کے دوران پھولوں کو کھلتے اور مرجھاتے دیکھتا
جب میں ہرے بھرے سبزہ زار پر اچھلتا کودتا
کبھی دھوپ میں ،کبھی چھائوں میں

مگر اس وقت خواب و خیال میں بھی نہ آیا کہ وقت یوں گزر جائے گا
اب جب کہ میں سن رسیدہ ہو چکا

دعا گو ہوں کہ جنت میں بھی مجھے بچپن کے یہی دن میسر آ جائیں۔‘‘
مسلم لیگ کے خلاف سازش
جب میں آئی سی ایس کی تربیت کے مرحلے سے گزر چکا ، تو مجھے1941ء میں شمالی بنگال میں پٹنہ ضلع کے سراج گنج سب ڈویژن اور ساتھ ہی سراج گنج شہر کی میونسپلٹی کا چارج سونپا گیا۔

سراج گنج میں اس وقت دو معروف شخصیتیں، عبداللہ المحمود اور دوسری عبدالرشید محمود بستی تھیں۔ ان میں ایک پٹنہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور دوسرے سراج گنج میونسپلٹی کے چیئرمین تھے۔ جناب عبداللہ المحمود کلکتہ میں ڈپٹی ہائی کمشنر بھی رہ چکے تھے۔ دونوں مسلمان راہنما مسلم لیگ کے دلدادہ اور قائداعظم کے پرستار تھے۔انھوں نے اپنی انتھک جدوجہد سے سراج گنج کو مسلم لیگ کا گہوارہ بنا دیا۔1941ء میں شمالی بنگال کا تاریخی اجلاس انہی کی کوششوں سے منعقد ہوا جس میں قائداعظم اور مس فاطمہ جناح مدعو تھے۔ جلسے کے انعقاد کا جب فیصلہ ہوا تو وہاں کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ان میں بے انتہا جوش و خروش پایا گیا اور بڑے زور شور سے لوگوں نے جلسے کی تیاریوں میں حصہ لیا۔

ایک طرف جلسہ عام کی فقید المثال تیاری اپنے عروج پر تھی، دوسری طرف وزیرِ اعلیٰ بنگال فضل الحق جلسہ گاہ کو نذرِ آتش کرنے کا منصوبہ تیار کرنے لگے۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ معزز مہمانوں کے سراج گنج پہنچنے سے صرف چوبیس گھنٹے قبل وزیر اعلیٰ فضل الحق مع بدنام زمانہ شخصیت، شمس الدین احمد سرکاری دورے پرآدھمکے۔ وہ اپنے ساتھ ریل کے دو ڈبے بھر کر کلکتہ کے مشہور بدمعاشوں اور دہشت گردوں کو لائے تھے تاکہ منصوبے کے مطابق قائداعظم کا پنڈال نذرِ آتش کر سکیں۔ یوں دونوں معروف شخصیات کی بدنامی ہوتی اور مسلم لیگ کی مقبولیت کو بھی شدید ٹھیس پہنچتی۔

وزیر اعلیٰ فضل الحق کی جانب سے دستخطوں کے ساتھ ضلع کے کلکٹر مسٹر کریک (Creak)اور ایس پی پولیس مسٹر کُک کو حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ مجوزہ کانفرنس سے ایک روز قبل شہر کے تمام تھانوں سے مسلح سپاہیوں کو مختلف علاقوں میں بھیج دیا جائے۔ تمام پولیس چوکیاں خالی رہیں اور یہ کہ شہر میں کسی بھی ہنگامے اور فتنے کو روکنے کی کوشش نہ کی جائے اور نہ کوئی ایف آئی آر درج ہو۔مدّعا یہ تھا کہ انتظامیہ سیاسی معاملات میں دخل انداز نہ ہو سکے۔ چناںچہ وزیراعلیٰ کے حکم نامہ پر عمل کرتے ہوئے کلکٹر اور ایس پی دونوں روپوش ہو گئے۔

میں نے استقبالیہ کمیٹی کی جانب سے ریلوے اسٹیشن پر وزیراعلیٰ کا استقبال کیا۔ پھر ایس ڈی او کے بنگلے پر جہاں ان کے لیے دوپہر کے کھانے کا اہتمام تھا‘ انھیں ساتھ لیے پہنچ گیا۔ اعلیٰ قسم کی جھینگا مچھلی خصوصی طور پر پکائی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ نے اس ڈش پر ایسا ہلّا بولا اور بے قراری و ندیدے پن کا ایسا عملی مظاہرہ کیا کہ تہذیب و تمدن کی قدروںکو بھی شرم محسوس ہونے لگی۔ طعام سے فارغ ہو کر چیف منسٹر نے میرا ہاتھ پکڑا اور بہت بہت شکریہ کہتے ہوئے فرمایا ’’ہم لوگوں نے آپ کو بڑی تکلیف دی، یکایک دورے کا پروگرام بنانا پڑا تاکہ میں اپنی پارٹی کے کارکنوں سے ضروری صلاح و مشورہ کر سکوں۔ اب آپ چند گھنٹے آرام فرمائیں، ان شا اللہ شام کو چائے پر آپ سے ملاقات ہو گی۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ رخصت ہو گئے۔

اُدھر کارکنان مسلم لیگ سخت پریشان تھے کہ اس آفت سے نجات کیوں کر حاصل ہو؟ جلسہ ہونے میں صرف ایک شب باقی رہ گئی تھی اورکام بھی بہت تھا۔ مجھے پہلے ہی فضل الحق کے دوغلے کردار سے آگہی حاصل تھی۔ پنڈال و جلسہ درہم برہم کرنے کے پروگرام سے بھی انتظامیہ کا اعلیٰ عہدے دار ہونے کے ناتے واقف تھا۔ لہٰذا اپنے منصوبے کے مطابق مسلم نیشنل گارڈز کے پانچ سو کارکنوں کو تیار کر کے یہ ہدایت دی کہ باہر سے لائے غنڈوں کا سخت ترین محاصرہ کر لیںاور ان کی نقل و حرکت پر حاوی رہیں تاکہ رات میں کوئی بھی نہ تو شہر میں نکلے اور نہ پنڈال کی جانب بڑھ سکے۔

اب غنڈوں نے اپنے آپ کو سخت مشکل میں پایا۔ پولیس کو بھی غائب دیکھا تو پسپائی اختیار کرنے کے انداز میں مسلم لیگ گارڈ کمانڈر کو تجویز پیش کی کہ وہ لوگ کلکتہ واپس جانا چاہتے ہیں۔ چناںچہ تجویز منظور کرتے ہوئے انھیں اسٹیشن پہنچا دیا گیا۔ ان کی روانگی تک گارڈ زکا دستہ وہاں متعین رہا۔

میری اس خفیہ کارروائی کی بھنک تک کسی سرکاری افسر، پولیس اہلکار اورمخالف سیاسی کارکنوں تک پہنچنا محال تھی۔ سہ پہر چار بجے چائے پارٹی کے لیے میونسپل آفس کے میدان میں وزیرِ اعلیٰ اور مسٹر شمس الدین پہنچے تو کلکٹر کریک اور ایس پی مسٹر کُک بھی وہاں پہنچ گئے۔ میں دیکھتا رہا کہ مسٹر شمس الدین ان سے یہ معلوم کرنے کو کیسے بے قرار تھے کہ جلسہ روکنے کے سلسلے میں انتظامیہ نے کیا انتظامات کیے ہیں۔

مسٹر شمس الدین نہایت متکبرانہ انداز میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کریک، کُک، کریک، کُک کی آوازیں بلند کر رہے تھے، جیسے انھیں تلاش کر رہے ہوں۔ جوں ہی یہ دونوں افسر اُن کے قریب پہنچے تو دریافت کیا ’’آپ لوگوں نے کیا انتظام کیا؟‘‘ دونوں نے جواباً صرف یہ عرض کیا’’ جیسا وزیرِ اعلیٰ نے حکم دیا تھا۔‘‘ شافی جواب پا کر مسکرائے اور فاتحانہ انداز سے چیف منسٹر کے ساتھ رخصت ہو گئے۔ ریلوے اسٹیشن پر مسلم لیگ کے گارڈز نے وزیراعلیٰ کو سلامی دی جس سے مسٹر شمس الدین بھی کافی محظوظ نظر آئے۔

اسی اثنا میں شمس الدین کی نظر ریل کے ان دو ڈبوں پر پڑی جن کی کھڑکیوں سے، کلکتہ سے لائے گئے غنڈے، گارڈ کے معائنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ اب یہ حضرت سکتے میں آ ئے اور فوراً ہی اپنے ڈبے میں گھس گئے۔ یوں چیف منسٹر جس طرح اپنے غنڈوں کو لے کر آئے تھے‘ اسی طرح نامراد واپس لے گئے۔ قارئین یہ تھا وہ شخص جو ہر لمحے ہندوستانی مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے درپے رہتا۔ اگر بروقت یہ تمام اطلاعات مجھے نہ ملتیں تو یقینا بڑا ہنگامہ جنم لیتا۔ اللہ نے چیف منسٹر کا سارا منصوبہ خاک میں ملا دیا اور مسلم لیگ کا یہ تاریخی اجلاس اس دوست نما دشمن کے شر سے محفوظ رہا۔

قحط، ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کا زمانہ
1946ء میں پورا بنگال بری طرح قحط کی زد میں آ گیا۔ سبھی بڑے اور اہم شہروں میں راشن نظام رائج کر دیا گیا۔ ڈھاکہ میں بالخصوص بُری حالت تھی۔ ایک دن ڈھاکہ کے کلکٹر‘ جے ایل لیولین (J.L.Lewlyn)نے بڑی پریشانی میں مجھے فون پر بتایا کہ کل ڈھاکہ شہر کی تمام راشن دکانوں میں چاول کا ایک دانہ دستیاب ہو گا اور نہ ہی چلو بھر سرسوں کا تیل ملے گا۔ انھوں نے اس سلسلے میں مجھ سے مدد مانگی۔ یاد رہے کہ ڈھاکہ ہی نہیں نرائن گنج، منشی گنج وغیرہ میں بھی یہی حالت تھی۔

میں نے انھیں فون پر جواب دیا کہ میں ایسی تدابیر عمل میں لا رہا ہوں جن سے کم از کم تین ماہ تک چاول اور سرسوں کے تیل کی فراہمی برقرار رہے۔ یہ سن کر وہ اچھل پڑے اور کہنے لگے ’’واہ واہ! تو پھر ایسا کیجیے کہ کل صبح تک دس بیس ہزار بوری چاول ڈھاکہ پہنچا دیں اور ایک ہزار ڈبے سرسوں کے تیل کے بھی۔‘‘ میں نے کہا کہ ایسا ہی کیا جائے گا۔
میں نے ’’ڈیفنس آف انڈیا رولز‘‘ کے تحت پانچ سو سرکاری ملازمین کو خصوصی کانسٹیبل مقرر کر دیا۔ پھر مجسٹریٹ، پولیس اور ان خصوصی کانسٹیبلز کے ہمراہ پٹ سن کے بڑے بڑے گوداموں پر چھاپے مارنا شروع کیے۔

ہم نے لاکھوں بوریاں چاول اور ہزاروں ڈبے تیل سرکاری تحویل میں لے لیے۔ پھر ان کی ضبطی کے احکام جاری کیے جس کے خلاف کسی بھی عدالت میں چارہ جوئی ممکن نہ تھی۔ میری اس کارروائی کا مقصد دراصل ان لوگوں کو سبق سکھانا تھا جو چور بازاری اور ذخیرہ اندوزی جیسے جرائم میں ملوث تھے۔ میں نے الحمدللہ بڑی آسانی سے یہ کام کر دکھایا۔
اس کے بعد چھوٹے بڑے جہازوں پر مشتمل ایک بیڑہ تیار کر کے اسے سرخ روشنی کی جگ مگ میں رات ختم ہونے سے پہلے ڈھاکہ پہنچا دیا۔ پھر خود بھی پہنچا اور چاول، تیل اور دوسری ضروری اشیا ایس ڈی ایم کے حوالے کیں۔ وہ دنگ رہ گئے کہ یہ کارنامہ کیسے انجام پایا۔

میری اس کارروائی کو ہندوستان کے گوشے گوشے میں سراہا گیا۔ سارے اخبارات نے یک زبان ہو کر مجھے کھلے الفاظ میں داد دی۔ یہ بھی کہا گیا کہ کاش رحمت اللہ تمام ملزمان کو سرسوں کے گرم تیل میں غوطہ دے دیتے۔ مجھے وہ واحد سرکاری افسر تسلیم کیا گیا جس نے مسٹر سہروردی کے اس دعوے کو ثابت کر دکھایا کہ بنگال میں اناج اور تیل وغیرہ زیر زمین چھپا دیے گئے ہیں۔

مسلمانوں کی زبوں حالی
نرائن گنج کے مسلمانوں کی بدحالی سے میں بہت پریشان تھا۔ وہاں ایک طرف ہندو ساہوکار، پٹ سن کے تّجار اور ملوں، کمپنیوں کے یورپی و ہندو مالکان ہر طرح کے آرام و آسائش سے مالا مال تھے ۔ دوسری طرف بچارے غریب مسلمان نہایت درجے کی خستہ حالی اور ذلت کا شکار تھے۔ وہ بالکل غلاموں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور تھے اور ان کا کوئی پُرسان حال نہ تھا۔ برطانوی راج کے حکام سو فیصدہندو نواز تھے۔ انھیں مسلمانوں کے مفادات سے ذرہ برابر سروکار نہ تھا۔

مسلمانوں کے یہ خراب حالات میرے لیے ناقابل برداشت تھے۔ میں ان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ نکالنا چاہتا تھا۔ چناںچہ ان کے لیے نرائن گنج گھاٹ کے بالمقابل ایک انسٹی ٹیوٹ بنانے میں کامیاب ہو گیا جو بعد میں رحمت اللہ مسلم انسٹی ٹیوٹ کے نام سے مشہور ہوا۔

اس ادارے کی بدولت ڈھاکہ شہر کے مسلمانوں نے نہ صرف متحد ہو کر اپنے مسائل حل کیے بلکہ یہ بہت جلد ڈھاکہ شہر میں مسلم لیگ کی تمام سرگرمیوں کا عظیم الشان گہوارہ بن گیا۔ ڈھاکہ میں مسلم لیگ کے دفتر کے لیے تو کرائے پر بھی چھوٹا سا کمرا فراہم نہیں ہو سکتا تھا۔ اس حالت میں رحمت اللہ مسلم انسٹی ٹیوٹ نے قائداعظم کی قائم کردہ مسلم لیگ کی بقا و ارتقا میںاہم کردار ادا کیا۔

متعصب انگریز ایس پی
مُرشد آباد کے ایس پی لیوس ایک سن رسیدہ انگریز تھے جس وقت میں نے کلکٹر کی حیثیت سے مرشد آباد کا چارج لیا‘ اسی وقت وہ مرشد آباد کے پہلے ایس پی کے طور پر وہاں تعینات تھے۔ انگریز ہونے کا خمار اور رعونت اتنی غالب تھی کہ مجھ سے کبھی نہ ملنے آئے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ میری عمر تیس سال تھی اور اُن کی پچاس سال۔ ساتھ ہی میں دیسی تھا اور مسلمان بھی۔

وہ اس بات سے بے حد خار کھاتے کہ میں آئی سی ایس یعنی فردوس میں جنم لینے والی ملازمت کارکن ہوں اور وہ انڈین پولیس کے پولیس مین۔
ان دنوں آئی سی ایس اور پولیس والوں کی رقابت عام تھی۔ خصوصاً انگریز پولیس والے تو دیسی آئی سی ایس والوں کے ساتھ بڑی رعونت سے پیش آتے۔ گوری چمڑی کے سبب پولیس کا ایک کم عمر اور کم تعلیم یافتہ ملازم اپنے آپ کو آئی سی ایس افسران کے برابر دکھانے کی کوشش کرتا۔ مسلمان کلکٹر کیا، انگریز کلکٹر بھی ایس پی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے تھے۔

لیوس صاحب اگرچہ فرعون بے سامان تھے، مگر وہاں کے عیار و چالاک تھانے دار اور داروغہ انھیں مکمل طور پر اپنے قابو میں رکھے ہوئے تھے۔ خاص وجہ یہ کہ ایس پی کو بنگلہ زبان بالکل نہیں آتی تھی۔ ٹوٹی پھوٹی ہندوستانی جو بول لیتے وہ بھی بے سود ثابت ہوتی۔ اس کے برعکس مقامی ہندو پولیس والے جو ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولتے تھے، وہ ایس پی کو سمجھانے اور اس سے من مانے حکم نامے حاصل کرنے کے لیے کافی ہوتی۔

مسلمانان لال گولہ پر کیا گزری!
ایک بار لال گولہ تھانے کی متعصب ہندو پولیس نے علاقے کے شریف، معصوم و معمر مسلمانوں کے خلاف چال چلی۔ تھانے دار نے لیوس کے دستخط سے ایک سو سے زیادہ معتبر مسلمان شہری ’’ڈیفنس آف انڈیا رولز‘‘ کے تحت جبریہ اسپیشل کانسٹیبل مقرر کر دیے۔ظاہر ہے اس میں کسی داد فریاد کی گنجائش کہاں باقی تھی۔ ان لوگوں کو یہ ڈیوٹی سپرد کی گئی کہ ہر روز انھیں سرحد پر بیس میل پیدل چلنا پڑتا جہاں بالکل ضرورت نہ تھی۔ یہ یک طرفہ ظلم تھااور اس کام پر ایک بھی ہندو متعین نہیں ہوا۔

جب میں مہاراجا گولہ کا مہمان بن کر ان کے محل میں مقیم تھا تو مجھے اس ظلم کا پتا چلا۔ مہاراجا ضعیف العمر اور نیک صفت بزرگ تھے، محل چھوڑ کر قریب ہی دو کمروں پر مشتمل ایک کُٹیا میں رہتے۔ ان کے صاحب زادے، ڈی این رائے میرے دوستوں میں سے تھے۔ ان کا زیادہ تر وقت کلکتہ میں بسر ہوتا۔ ادبی مشاغل سے خاص شغف تھا۔

ایک بار جب میں ڈی این رائے کے ساتھ دریائے گنگ کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا، تو موقع سے فائدہ اٹھا کر جبری بھرتی کیے جانے والے مظلوم مسلمان اسپیشل کانسٹیبلز کے ایک گروہ نے مجھ سے ملاقات کی۔ انھوں نے جبری بھرتی کے علاوہ مسلمانوں پر روا رکھے گئے مظالم کی داستانیں بھی سنائیں۔ میرا دل بھر آیا اور مجھے ایس پی کے معاندانہ اور بے ہودہ رویے پر بہت غصہ آیا۔ ظلم اور گوری چمڑی کے غرور کی بھی انتہا ہونی چاہیے۔

احکامات کی منسوخی
برہم پور واپس پہنچتے ہی میں نے ایس پی لیوس کے احکامات اور ساتھ ہی ڈیفنس آف انڈیا رولز کا بغور مطالعہ کیا۔ قانون کے تحت ایس پی کو ہنگامی حالات جنگ کے دوران جبری طور پر اسپیشل کانسٹیبلز بھرتی کرنے کے اختیارات حاصل تھے۔ مگر یہ صاف الفاظ میں واضح کر دیا گیا کہ ایس پی ایسا کرنے کا اسی وقت مجاز ہے جب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے رابطہ منقطع ہو جائے اور حکم نامہ اس کے دستخط سے جاری نہ کرایا جا سکے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اختیارات سو فیصد ڈی ایم کے پاس تھے نہ کہ ایس پی کے۔

مزیدبرآں اس وقت نہ تو ہنگامی حالات تھے نہ خود ایس پی لیوس ہی مجھ سے دور ۔ انھوں نے شاید یہ اپنی شان کے خلاف تصور کیا کہ پولیس انتظامیہ کے سلسلے میں مجھ سے کوئی حکم نامہ حاصل کریں۔ در اصل تھانیدار کو یہ معلوم تھا کہ جبری بھرتی کی یہ تجویز مجھ تک پہنچی تومیں رد کر دوں گا، کیونکہ یہ بھرتی یکطرفہ تھی۔ مشقت کے اس کام کے لیے صرف شریف مسلمانوں ہی کو منتخب کیا گیا تھا۔ چناںچہ بالا ہی بالا ایس پی کے دستخط سے یہ حکم نامہ جاری کر دیا اور مجھے ہوا تک نہ لگنے دی۔

میں نے فوراً ایک خاص حکم نامہ جاری کیا جس کے ذریعے انگریز چیف سیکرٹری کو صورت حال سے آگاہ کر دیا۔مغرور ایس پی لیوس ڈی آئی جی ہونے والے تھے، میرے حکم نامہ پر بہت چراغ پا ہوئے۔ وہ اپنے حکم نامے کو کالعدم ہوتا کس طرح دیکھ سکتے تھے؟ انھوں نے فوراً اپنے دوست، کمشنر مسٹر اے ایس ہینڈز (A.S.Hands) سے رجوع کیا۔ ڈی آئی جی بھی میدان میں آ گئے اور معاملہ چیف سیکرٹری کے سامنے پیش ہوا۔وزیرِ اعلیٰ خواجہ ناظم الدین کو بھی مطلع کیا گیا۔ آخر فیصلہ ہوا کہ جو کام لیوس نے کیا ، وہ صریحاً غلط اور غیر قانونی تھا۔ اس لیے ڈی آئی جی اور کمشنر اے ایس ہینڈز برہم پور جا کر مجھ سے ملیں اور ایس پی کے ساتھ تعلقات کو پھر سے استوار کریں۔

چناںچہ فیصلے کے مطابق ڈی آئی جی اور کمشنر مسٹر اے ایس ہینڈز خفت زدہ سے ملاقات کرنے آئے۔ مگر لیوس کی رعونت دیکھیے کہ وہ ستم گر پھر بھی نہ آیا۔تاہم دیکھا گیا کہ چند ماہ کے اندر اندر لیوس نظروں سے غائب ہو گیا۔

مشرقی پاکستان میں بدعنوانیوں کا آغاز
قیام پاکستان کے ایک دو سال کے بعد بدعنوانی اور بداعمالی کی لعنت صوبائی حکومت کے وزرا میں بھی نمودار ہونے لگی۔ سیکرٹری حضرات تو اس مرض میں مبتلا تھے ہی، اب وزرا بھی ان میں شامل ہو گئے۔ خواجہ ناظم الدین کابینہ کے ایک اہم ترین وزیر، حمید الحق چودھری دولت جمع کرنے اور راتوں رات امیر ہونے کی خواہش میں اپنے وسیع اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے لگے۔ انھوں نے مال خانے سے پانچ ہزار روپے مالیت کی بہترین رائفل پچاس روپے میں خریدنے کے لیے میری تائید طلب کی۔میری تائید کے بغیر بندوق خریدنا ممکن نہ تھا۔ ادھر اس رائفل پر ایس پی کی نظر بھی جمی تھی۔ چناںچہ بات بڑھی اور بہت سی درپردہ باتیں سطح پر آ گئیں۔

یہ ثبوت پاکر میں نے وزیر صاحب کے خلاف پروڈا مقدمہ چلانے کی سرکاری منظوری لے لی۔ چیف سیکرٹری عزیز احمد میرے سدا کے مخالف تھے لہٰذا میرے اس اقدام سے وہ خوش نہ ہوئے۔ ناخوشی کی دوسری وجہ اس وزیر باتدبیر سے چیف سیکرٹری کا یارانہ تھا۔ چودھری حمید الحق اپنی قابلیت کی وجہ سے کافی رعب رکھتے تھے۔ نامی گرامی وکیل تھے۔ مرکزی حکومت میں بھی ان کی اچھی بنی ہوئی تھی۔ میں نے ان باتوں کی پروا کیے بغیر ذاتی شہادت کی بنا پر ان کے خلاف کافی مواد جمع کر لیا جس کی وجہ سے پروڈا کے تحت ان پر مقدمہ چل سکتا تھا۔

حکومت پاکستان نے پروڈا کے مقدمات کی جانچ پڑتال اور سماعت کے لیے دو ٹریبونل قائم کیے۔ ایک کراچی میں جو ڈھاکہ ہائیکورٹ کے جسٹس شہاب الدین پر مشتمل تھا۔ دوسرا ڈھاکہ میں جس کے جج ڈھاکہ ہائیکورٹ کے جسٹس ایلس (Ellis I.C.S) نامزد ہوئے۔ کراچی میں ایوب کھوڑو اور ڈھاکہ میں حمید الحق کا ٹرائل ہوا۔ حمید الحق چودھری والے مقدمے کی سماعت کے وقت میں ڈی سی سلہٹ تھا۔ مجھے شہادت کے لیے بذریعہ سمن طلب کیا گیا۔ حمید الحق کی جانب سے مولوی فضل الحق وکیل مقرر ہوئے۔ وہ خود بھی کورٹ میں موجود تھے۔ مجھ پر جرح کے دوران انھوں نے یہ الزام لگایا کہ میں نے مہاجروں کے لیے ڈھاکہ کا سرکاری خزانہ کھول رکھا تھا۔اور ان کی آبادکاری اور امداد پر اپنی مرضی سے بے دریغ روپیہ خرچ کیا۔

میں نے بتایا کہ ہنگامی حالات میں بحیثیت ڈی سی ڈھاکہ مجھ پر فرض عائد ہوتا تھا کہ میں انھیں فاقہ کشی اور سڑکوں پر دم توڑنے سے بچاتا۔ اس لیے جو اخراجات کیے، وہ ٹریژری رول 27کے تحت انجام پائے۔ بعد میں اس کی منظوری محکمہ ریلیف سے حاصل کر لی جس کے وزیر جناب مفیض الدین احمد اور جوائنٹ سیکرٹری انچارج میزان الرحمن تھے۔ اس پر فضل الحق چراغ پا ہوئے اور چیخ پڑے۔

’’کون سامحکمہ ریلیف؟ مائی لارڈ کوئی محکمہ ریلیف وجود نہیںرکھتا۔ ‘‘
فضل الحق کا تیز لہجہ سن کر جسٹس ایلس بھی طیش میں آ گئے۔ بآوازِ بلند بولے’’ گواہ کو گمراہ کرنے کی کوشش مت کریں۔گواہ نے ابھی کہا ہے کہ مشرقی بنگال میں ریلیف ڈیپارٹمنٹ موجود تھا۔ انھوں نے محکمہ کے وزیر اور سیکرٹری کے نام بھی بتا دیے ۔ ایسا نہ کیجیے، یہ بُری بات ہے۔‘‘

فضل الحق فوراً کھڑے ہوئے اور کہا ’’جو کچھ گواہ کہتا ہے، اگر اس پر کورٹ یقین کر لیتی ہے، تو پھر میں کوئی سوال نہیں کروں گا۔ اس مقدمے سے خود کو الگ کرتا ہوں، میرے موکل ایڈووکیٹ ہیں، وہ خود جرح جاری رکھیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ عدالت سے باہر چلے گئے۔

حمید الحق چودھری نے سراسیمہ انداز میں مجھ سے چند معمولی سوالات کیے اور بیٹھ گئے۔ انھیں بچانے کے لیے مجھ سے پہلے چیف سیکرٹری نے بھی ان کی حمایت میں شہادت دی تھی لیکن جرح میں وہ بُری طرح ٹوٹ گئے۔ آخر میں میری فتح ہوئی یعنی سابق وزیر خزانہ، حمیدالحق کو سزا ہو گئی۔ وہ کئی سال کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے نااہل قرار دیے گئے۔ چیف سیکرٹری کے خلاف بھی جسٹس ایلس نے اپنے فیصلے میں چند جملے لکھے کہ انھوںنے ملزم وزیر کے جرائم کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی۔ مگر کون تھا جو چیف سیکرٹری پر انگلیاں اٹھاتا؟ نیرنگی سیاست کے طفیل وہی ملزم آگے چل کر حکومت پاکستان کا وزیر خارجہ بن بیٹھا۔

گورنر جنرل غلام محمد کا دورہ
ضلع سلہٹ کا چارج لینے کے کچھ دنوں بعد گورنر جنرل پاکستان جناب غلام محمد تشریف لائے۔ مرکزی وزیر جناب پیرزادہ عبدالستار بھی ساتھ تھے۔ ان کے قیام کے لیے سرکٹ ہائوس کو ہر طرح آراستہ کیا گیا۔ ہوائی اڈے پر استقبال کے بعدمیں ان کے ساتھ پولیس جیپ میں سرکٹ ہائوس آیا۔ ملاقاتوں کا پروگرام شروع ہوا۔ سرفہرست میرا نام تھا۔ سرکٹ ہائوس کے ڈرائنگ روم میں میری پیشی ہوئی۔ انھوں نے بڑے تپاک سے مصافحہ کر کے میرا خاندانی پس منظر دریافت کیا۔ میں نے بتایا کہ حاجی سید زین العابدین وارثی کا نواسہ ہوں۔ یہ سنتے ہی وہ اٹھ کھڑے ہوئے، مجھے گلے لگایا‘ کلام اللہ کی آیات پڑھ کر پھونکیں ماریں اور دعائیں دیں۔ پھر کہنے لگے ’’آپ زین العابدین بھائی کے نواسے ہیں تو میرے بھی ہوئے۔ انھوں نے دیواشریف کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔‘‘

بعدازاںغلام محمد نے میز پر کھانا شروع کرنے سے پہلے میرا سب سے تعارف یہ کہہ کر کرایا کہ میں ان کے عزیز ترین پیر بھائی‘ سید زین الدین وارثی کا نواسہ ہوں۔ پھر دوران لنچ انھوں نے کہا کہ برخوردار‘ آپ تصویریں خوب بناتے ہیں۔ میری ایک فرمائش پوری کریں اور غالب کے اس شعر کا تصویری مُرقع تیار کر دیں ؎

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

یہ کہہ کر ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ میں نے جواب دیا ’’ضرور ضرور بہت جلد یور ایکسی لینسی‘‘ تو مجھے شاباش دی اور زندہ باد کہا۔
گورنر جنرل غلام محمد نے صبح سویرے ایک انوکھی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ ایک ایسے شخص سے ملنا چاہتے تھے جو ان دنوں سلہٹ کے سرحدی علاقے میں کسٹم انسپکٹر کی حیثیت سے تعینات تھا۔ گورنر جنرل اسے اس زمانے سے جانتے تھے جب وہ حیدر آباد دکن میں مقیم تھے۔ میں نے کسٹم انسپکٹر کو تلاش کرایا اور ان کے سامنے پیش کر دیا۔ گورنر جنرل اُسے دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ غریب اور معمولی ملازم کا اس درجہ خیال رکھنا ان کے خوف خدا کی دلیل تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ بزرگانِ دین کا احترام، پرانی تہذیب کا لحاظ، غریبوںکی امداد، چھوٹوں سے پیار اور محبت گورنر جنرل کی ایسی صفات تھیں جو ایک سچے صوفی مزاج شخص ہی میں پائی جاتی ہیں۔

جناب قدرت اللہ شہاب نے اپنے شہاب نامہ میں غلام محمد کے متعلق غلط بیانی سے کام لیا جو بہرحال نازیبا ہے۔ میںنے جو انھیں دیکھا تو یہ پایا کہ مردِ مسلماں کی بہت سی خوبیوں سے وہ متصف تھے۔ ان کی امیدیں قلیل، ان کے مقاصد جلیل اور ؎

نرم دمِ گفتگو گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز

اگر بقول قدرت اللہ شہاب وہ بحیثیت گورنر جنرل بُری طرح ناکام رہے تو ایسا ان میں کسی خاص نقص کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ وجہ یہ تھی کہ انھیں نااہل اور بدعنوان حکومت کی باگ ڈور سنبھالنی پڑی ۔ افسر شاہی اور حکمرانوں کی بداعمالی نے اُسے اس درجے تباہ کر دیا تھا کہ صورت حال کو درست کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہ تھی۔ اس میں شک نہیں کہ غلام محمد کے ساتھ افسرشاہی نے تعاون کیا، لیکن یہ بات بھی مسلم ہے کہ وہ عہدہ گورنر جنرل کے لائق نہیں تھے۔