function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

قطبی ریچھ کا حملہ

صباحت حمید | سچی کہانی

آرکٹک  کا دھندلا سورج جب آسمان پہ چمکنے لگا، تو جارج ویسر اور پیٹ اوسٹر اپنے مسکن سے باہر نکلے۔ وہ ایجویا نامی جزیرے پر واقع سائنسی تحقیقی مرکز، کاپ لی ریسرچ اسٹیشن کے اکلوتے باسی تھے۔ اسی 50فٹ لمبے تحقیقی مرکز میں بنے دو کمرے ان کا مسکن تھے۔

1930 مربع قطر رکھنے والا ایجویا جزیرہ ناروے اور قطب شمالی کے وسط میں واقع ہے۔ اس کے چاروں طرف بحیرہ آرکٹک پھیلا ہوا ہے جو سال کے بیشتر مہینوں میں منجمد رہتا ہے۔ لیکن جون جولائی میں جب خلیجی رو جزیرے تک پہنچے، تو وہ چہار جانب پھیلی برف پگھلا دیتی ہے۔ تب جزیرے پر متنوع سبزہ نمودار ہوتا، رنگ برنگ کے پھول کھل اُٹھتے اور چرند پرند بھی آ نکلتے ہیں۔

جارج اور پیٹ ماہرین حیوانیات اور دوست تھے۔ جارج کا تعلق ہالینڈ سے تھاجبکہ پیٹ ناروے میں بستا تھا۔ پیٹ کا شمار نامور عالمی سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔ 1968ء میں اسی کے بھرپور تعاون سے جزیرے پہ کاپ لی ریسرچ اسٹیشن تعمیر ہوا۔ اس کے قیام کا مقصد وہ اسباب جاننا تھا جن کے باعث جزیرے پر قطبی ریچھوں کی آبادی تیزی سے گھٹ رہی تھی۔بعدازاں 1973ء میں پیٹ اور دیگر ماہرین حیوانیات کے شدید دبائو پر ہی مقامی قوتوں (ناروے، کینیڈا، امریکا اور روس) نے قطبی ریچھ کے شکار پر پابندی لگا دی۔ یوں یہ دیوہیکل سفید ممالیہ ناپیدگی سے بچ گیا۔

1987ء کے موسم گرما میں جارج کو سالانہ چھٹیاں ہوئیں، تو پیٹ نے اُسے ایجویا آنے کی دعوت دی۔ تب پیٹ بارہ سنگھوں کی غذائی عادات پر تحقیق کر رہا تھا۔ چونکہ یہ جارج کا پسندیدہ موضوع تھا لہٰذا وہ پلّے سے رقم خرچ کرکے کارپ لی اسٹیشن پہنچ گیا۔  55سالہ پیٹ لمبا تڑنگا اور تنہائی پسند آدمی تھا۔ قطب شمالی میں طویل عرصہ گزارنے کے باعث وہ مقامی ماحول سے شناسا ہوچکا تھا۔ اُسے شدید سردی میں رہنا پسند تھا۔

دوسری طرف 50سالہ جارج مہم جوئی اور کھیلوں کا شوقین تھا۔ ساحل کنارے اکثر لیٹا دھوپ سینکتا رہتا۔ مگر بارہ سنگھوں سے رغبت نے اُسے زبردست ٹھنڈ والے علاقے میں آنے پر مجبور کر دیا۔  ایک ہفتہ بعد جارج کی 51ویں سالگرہ تھی۔ وہ اُسے جزیرہ ٹرشلنگ میں واقع اپنے گھر میں بیوی اور دو نوجوان بیٹوں کے ساتھ منانا چاہتا تھا۔ اسی واسطے چند دن بعد ولندیزی تحقیقی جہاز، ایم ایس پلانکس ایجویا پہنچنے والا تھا۔ وہ دونوں محققوں کو ناروے پہنچا دیتا۔

سچی بات یہ ہے کہ ایجویا آتے ہوئے جارج کچھ خوفزدہ تھا۔ اسی باعث جزیرے پہ آنے سے قبل اس نے پیٹ سے دریافت کیا: ’’قطبی ریچھ کے متعلق کچھ بتائو۔ جزیرے میں کتنے ریچھ ہیں؟ اور کیا وہ خطرناک ہوتے ہیں؟‘‘ پیٹ نے اُسے تفصیل سے بتایا ’’جزیرے پر اس وقت تین ہزار سے زائد قطبی ریچھ آباد ہیں۔ ورنہ ایک زمانے میں ان کی تعداد صرف چند سو رہ گئی تھی۔ لیکن جون جولائی میں تقریباً سبھی قطبی ریچھ جزیرے کے شمالی حصے میںچلے جاتے ہیں جہاں خلیجی رو بہت کم پہنچ پاتی ہے۔‘‘

جارج کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے نوکیلے پنجوں اور دانتوں کی وجہ سے یہ بھاری بھرکم حیوان خاصا خونخوار بھی ہے۔ مزید برآں 37میل فی گھنٹا کی رفتار سے بھاگنے کے باعث یہ اپنے شکار کو آسانی سے فرار نہیں ہونے دیتا۔ لیکن قطبی ریچھ کی خاصیت یہ ہے کہ جب وہ بھوکا ہو، تبھی کسی انسان پر دھاوا بولتا ہے جو بدقسمتی سے انھیں اپنے علاقے میں نظر آ جائے۔

پیٹ کو تجربے نے یہ بھی بتایا تھا کہ قطبی ریچھوں کو ڈرا دھمکا کر بھگانا خاصا آسان ہے۔ اسی لیے وہ اپنے تحقیقی مرکز میں کوئی بندوق نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ اس نے قطبی ریچھ بھگانے کی خاطر خاص بندوق بنا رکھی تھی… ایک مشعل جس پر سوتی چیتھڑے لپٹے ہوئے تھے۔ ان پر تیل ڈال کر تیلی دکھائی جاتی، تو مشعل بھڑک اُٹھتی۔ اس کے شعلے واقعی قطبی ریچھوں کو خوفزدہ کر دیتے اور وہ فرار ہونے میں ایک لمحہ نہ لگاتے۔

لیکن اس دن بارہ سنگھوںکی غذائی عادات کا مطالعہ کرتے ہوئے جارج کو خیال آیا کہ اچھا ہوتااگر ان کے پاس کوئی ہتھیار ہوتا۔ دراصل اس دن گھومتے گھماتے انھیں دور خاصے قطبی ریچھ نظر آئے۔ وہ سبھی غذا کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹک رہے تھے۔ دونوں محقق اپنی تحقیق مکمل کرنے کے بعد حسبِ معمول شام چھے بجے اپنے مرکز پہنچ گئے۔ جارج کھانا تیار کرنے لگا، آج اس کی باری تھی۔ تبھی پیٹ کو کھڑکی کے باہر ایک منظر نظر آیا اور وہ چلایا ’’ارے دیکھو! ریچھ کیا کھلواڑ کر رہا ہے۔‘‘

جارج نے دیکھا، ایک نوجوان قطبی ریچھ ان کی برف گاڑی کو نوچنے کھسوٹنے میں محو تھا۔ وہ اسی گاڑی میں سوار ہو کر دور دراز کے ملحق علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔ ریچھ ابھی نوجوان ہی تھا، لیکن پانچ فٹ قد پا کر خاصا ہیبت ناک بن چکا تھا۔  پیٹ نے بھاگ کر اپنی ’’بندوق‘‘ سنبھالی اور تیلی جلا کر چیتھڑوں وں کو آگ دکھائی۔ جب مشعل جل اُٹھی، تو وہ اُسے لیے مرکز کے اکلوتے دروازے سے باہر چلا گیا۔ باورچی خانہ ہٹ کر تھا، اسی لیے وہ پیٹ کو نہ دیکھ سکا۔ تاہم اُسے کھڑکی کے ذریعے یہ ضرور نظر آیا کہ اچانک ریچھ نے گاڑی چھوڑی اور تحقیقی مرکز کی سمت بھاگ اُٹھا۔ جارج کو پہلا خیال یہی آیا ’’اُف میرے خدا! یقینا اس نے پیٹ پر حملہ کر دیا ہے۔

پیٹ کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ریچھ مشعل سے قطعاً خوفزدہ نہیں اور اُسے ترنوالہ بنانا چاہتا ہے۔ اس نے مشعل حملہ کرتے ریچھ کی سمت پھینکی اور دروازے کی طرف دوڑ لگا دی جو 16فٹ دور تھا۔  لیکن بدقسمتی پیٹ کے تعاقب میں تھی۔ وہ چند قدم بھاگا تھا کہ پھسل کر گر گیا۔ اسی دوران برق رفتار ریچھ اس کے سر پر آپہنچا۔ حیوان نے آئو دیکھا نہ تائو، اپنے شکار کا سر اپنے پنجوں میں شکنجے کی طرح جکڑ لیا۔ اس خوفناک حالت میں بے بس پیٹ کو خیال آیا ’’ارے یہ تو قطبی ریچھ کے شکار کرنے کا طریقہ ہے۔ وہ سیل کا سر پنجوں میں دبوچتے اور دانتوں سے اُسے چبا ڈالتے ہیں۔ جب سیل چل بسے، تو پھر اس کا گوشت کھاتے ہیں۔

تھوڑی ہی دیر بعد اُسے اپنی کھوپڑی میں ریچھ کے دانت گڑتے محسوس ہوئے۔ تاہم حیرت انگیز طور پر پیٹ کو تکلیف نہ ہوئی۔ لیکن جب کھوپڑی سے نکلنے والے لہو کے قطرے زمین پر گرے، تو وہ تھرا اُٹھا اور چلایا ’’جارج، مجھے بچائو۔ دوسری مشعل لے کر آئو۔‘‘  تب تک جارج باہر پہنچ چکا تھا۔ وہ بتاتا ہے ’’وہاں مجھے اپنی زندگی کا بھیانک ترین منظر دکھائی دیا۔‘‘ ریچھ نے اس کے دوست کی کھوپڑی خاصی ادھیڑ ڈالی تھی اور سفید جلد نمایاں ہو چکی تھی۔ گھائو سے رستے خون نے زمین پر گل کاریاں کر ڈالی تھیں۔

ریچھ بڑے جوش و خروش کے عالم میں پیٹ کی کھوپڑی دانتوں سے کاٹ رہا تھا۔ اس کی یہی تمنا تھی کہ وہ اپنے شکار کو جلد از جلد موت کے منہ میں پہنچا دے۔  اب جارج عجیب مخمصے میں گرفتار ہوگیا۔ اُسے یقین تھا کہ اب پیٹ کا بچنا محال ہے… وہ عنقریب خدا کوپیارا ہوجائے گا۔ عقل نے تنبیہہ کی ’’پاگل مت بنو، اب اسے بچانا مشکل ہے۔ اُسے بچاتے بچاتے کہیں تم بھی موت کے منہ میں نہ جا پہنچو۔ اندر جائو اور دروازہ بند کر لو۔‘‘

لیکن ضمیر نے اُسے اُکسایا ’’اپنے دوست کو تنہا مت چھوڑو۔ اُسے بچانے کی کوشش تو کرو، شاید وہ زندہ بچ جائے۔‘‘ جارج نے ضمیر ہی کی آواز پر لبیک کہا اور اندر دوڑ پڑا۔
مرکز میں دو اور ’’آتشی بندوقیں‘‘ موجود تھیں۔ جارج نے ایک مشعل تھامی، جلائی اور باہر نکل آیا۔ وہ دیوانہ وار ریچھ کی سمت لپکا اور مشعل اس کی تھوتھنی میں جاگھسائی۔ ریچھ بدبدا کر پیچھے ہٹا، تو اس کا سر ٹکرانے سے مشعل نیچے گری اور بجھ گئی۔

ریچھ جارج کی طرف متوجہ نہ ہوا اور پھر پیٹ پر پل پڑا۔ جارج نے آناً فاناً دوسری مشعل جلائی اور اس بار ریچھ کی کمر کے قریب لے گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد فضا میں بال جلنے کی بو پھیل گئی۔ اس کے باوجود وہ درندہ انسانی کھوپڑی چبانے پر جُتا رہا۔  اب جارج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اس نے مشعل پھینکی، ریچھ کے کندھے تھامے اور اُسے پیٹ سے پرے دھکیلنے کی سعی کرنے لگا۔ اب بالآخر ریچھ کو اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔

حیوان نے پیٹ کو چھوڑا اور جارج کی سمت لپکا۔ اس کا لہراتا پنجہ جارج کے کاندھے پر گہری خراش ڈال گیا۔ دوسرا پنجہ دوسرے کاندھے پر پڑا اور اُسے بھی زخمی کر گیا۔ اُدھر پیٹ ریچھ کی گرفت سے آزاد ہوا، تو دوڑ کر دروازے کے قریب پہنچ گیا۔  اُدھر ریچھ اور جارج کے مابین آنکھ مچولی جاری تھی۔ چند منٹ موت اور زندگی کا یہ ناچ جاری رہا۔ حیوان کی تھوتھنی سے خون ٹپک رہا تھا۔ وہ لمحہ بہ لمحہ جارج کے قریب ہوتا گیا۔ اُسے فرار کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی۔

جارج جب بھی دروازے کی سمت جانے کا اِرادہ کرتا، تو ریچھ راستے میں حائل ہوجاتا۔ عالم بے بسی میں وہ اپنی بیوی بچوں کے متعلق سوچنے لگا اور دل ہی دل میں پکارا: ’’خدا حافظ اینی! میرا آخری وقت آپہنچا۔ تمھارے ساتھ بہت اچھی زندگی بسر ہوئی۔‘‘  لیکن وہ آخری سانس تک مقابلہ کرنے والوں میں سے تھا۔ جب ریچھ رک کر اپنی تھوتھنی چاٹنے لگا، تو جارج نے اس سنہرے موقع کو غنیمت جانا اور پوری قوت سے دروازے کی سمت دوڑ لگا دی۔ چشم زدن میں وہ وہاں پہنچا اور دونوں دوستوں نے فوراً اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔ یوں وہ موت کے منہ میں جانے سے بال بال بچ گئے۔

یہ مرحلہ انجام پایا، تو پیٹ نیم بے ہوش سا ہو کر زمین پر گر پڑا۔ جارج اس کی حالت زار دیکھ کر پریشان ہوگیا اُسے یہی خیال آیا ’’یہ شدید زخمی ہے۔ اب کوئی کرشمہ ہی اُسے مرنے سے بچا سکتا ہے۔‘‘  لیکن اس نے دوست کی بھرپور مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ جو اس وقت تک بے ہوش ہوچکا تھا ۔ اس نے ابتدائی طبی امداد (فرسٹ ایڈ) کا ڈبا تلاش کیا۔ اس میں صرف ایک پٹی، ٹیپ اور الکوحل موجود تھا۔ اینٹی بائیوٹک ادویہ تھیں نہ زندگی بچانے والی کوئی اور دوائیں۔

آخر جارج نے پٹی پہ الکوحل کی ساری شیشی انڈیلی اور پھر بڑی احتیاط سے پیٹ کے سر پر باندھ دی۔ اس دوران وہ تکلیف کی شدت سے کراہتا رہا مگر ہوش میں نہ آیا۔ اس کام سے فراغت کے بعد جارج کو اپنے زخموں میں درد کا احساس ہوا۔ دائیں کندھے پر حیوانی پنجے کی ضرب اتنی شدید تھی کہ ہڈی نظر آنے لگی تھی۔ اس نے صابن سے اپنے زخم دھوئے اور دانت پیس کر تکلیف برداشت کر لی۔ پھر زخموں پر پرانا کپڑا لپیٹ کر کرسی پر ڈھے گیا۔

وہ پھر اگلی صبح ہی جاگا۔ نیند نے اس کے اعصاب کی تھکن اتار دی تھی۔ اُدھر پیٹ اب تک اپنی سُدھ بُدھ کھوئے ہوئے تھا۔ جارج اب اگلا لائحہ عمل طے کرنے کی خاطر غور و فکر کرنے لگا۔  آج اتوار تھا اور ایم ایس پلانکس نے بدھ کی دوپہر جزیرے پہنچنا تھا۔ مگر انھیں فوری طور پر طبی مدد درکار تھی۔ بدقسمتی سے تحقیقی مرکز میں کوئی شارٹ ویو ریڈیو نہ تھا۔ بس نومیل کا دائرہ کار رکھنے والا واکی ٹاکی اُسے دکھائی دیا۔ جارج نے اسی کو غنیمت سمجھا اور آس پاس موجود کسی بحری جہاز سے رابطہ کرنے کی سعی کرنے لگا: ’’ایس او ایس… ہمیں فوری مدد چاہیے… جو کوئی یہ پیغام سن رہا ہے، ہماری مدد کو پہنچے ایمرجنسی ہے۔‘‘

اس نے کئی بار یہ جملے دہرائے، مگر دوسری طرف خاموشی طاری رہی۔ اس نے پھر تحقیقی مرکز کے ہوادان پائپ سے روشنی پیدا کرنے والی دو پھلجڑیاں چھوڑیں۔ مدعا یہ تھا کہ وہاں سے گزرنے والا کوئی بحری یا ہوائی جہاز انھیں دیکھ لے۔ مگر یہ حربہ بھی ناکام رہا۔  پیٹ مسلسل صدمے کی حالت میں تھا۔ پھر خون کافی بہ جانے کے باعث وہ نقاہت بھی محسوس کر رہا تھا۔

اس لیے کبھی ہوش میں آتا، تو تھوڑی دیر بعد پھر غنودگی میں چلا جاتا۔ کبھی پانی مانگتا، کبھی بڑبڑاتا: ’’ریچھ کہاں ہے؟ کیا وہ چلا گیا؟ ابھی یہیں تو نہیں؟  جب پیٹ نے دو تین بار یہ سوال دہرایا، تو جارج نے کھڑکی سے باہر دیکھا… موذی اب تک وہیں تھا۔ وہ بارہ سنگھوں کی پرانی ہڈیاں چبانے میں محو تھا۔ ہڈیاں چٹخنے کی آواز اس کی رگوں میں سنسنی دوڑا دیتی۔  شام ہوئی، تو جارج نے کھانا پکانے کا سوچا۔ مگر پھر یہ سوچ کر باز رہا کہ کہیں کھانے کی خوشبو ریچھ کو اِدھر متوجہ نہ کر دے۔ چناں چہ اس نے خشک دلیا کھا اور سرد چائے پی کر ہی بھوک مٹالی۔ اس پر حیوان کا اتنا خوف طاری تھا کہ وہ سو نہ سکا۔ اِس دوران وہ واکی ٹاکی پر ایس او ایس سگنل بھیجتا رہا۔

رات گیارہ بجے اچانک اُسے باورچی خانے سے کھٹکے کی آواز آئی۔ جارج اُٹھ کر وہاں گیا، تو کھڑکی کے پار ریچھ کو کھڑا پایا۔ اس کی تھوتھنی اور پنجہ شیشے پر ٹکا ہوا تھا۔ جارج کو حیوان کچھ یوں کہتا محسوس ہوا: ’’میں جب چاہوں اندر آسکتا ہوں۔‘‘ تب اُسے یہی لگا کہ ریچھ پنجہ مار کر شیشہ توڑ ڈالے گا۔ مگر خیر رہی کہ کچھ دیر بعد وہ غائب ہوگیا۔

وقت جیسے تیسے گزرتا رہا۔ منگل کی رات جارج کو محسوس ہوا جیسے عمارت کے نیچے سے کھودنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔ اس نے سہم کر سوچا: ’’اُف میرے خدا! حیوان مٹی کھود کر نیچے سے یہاں پہنچنا چاہتا ہے۔‘‘ دراصل تیز ہوائیں عمارت سے ٹکراتیں تو یہ آوازیں جنم لیتی تھیں۔ مگر خوفزدہ جارج کے لیے معمولی سی آواز بھی ہوّا بن رہی تھیں۔
آخر جان لیوا انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور بدھ کی دوپہر ایم ایس پلانکس تحقیقی مرکز کے قریب واقع ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ اس پر چھے سیاح سوار تھے جو بارہ سنگھوں پر مشاہدہ کرنے آئے تھے۔

بحری جہاز کے کپتان، البرٹس وارڈ نے دور بین سے تحقیقی مرکز پر نظر ڈالی، اُسے وہاں زندگی کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ یہ دیکھ کر تجربے کار کپتان کے کان کھڑے ہوگئے۔
وہ ابھی صورت حال پر غور کر ہی رہا تھا کہ جہاز کا ریڈیو کھڑکھڑایا اور اُسے جارج کی کمزور آواز سنائی دی: ’’پلانکس… پلانکس، میں کاپ لی سے بول رہا ہوں۔ ہم پر قطبی ریچھ نے حملہ کر دیا ہے۔ ہمیں ایک ڈاکٹر اور ہیلی کاپٹر درکار ہے تاکہ اسپتال جا سکیں۔ وہ موذی اب بھی کہیں قریب ہی گھوم رہا ہے۔ ہم چار دن سے مرکز میں مقید پڑے ہیں۔‘‘

کپتان وارڈ نے فوراً سیاحوں کو ساحل پر اترنے سے منع کر دیا۔ پھر قریبی شہر لانگ سیئرباسٹن پولیس کو پیغام بھجوا کر حالات بتائے اور درخواست کی کہ وہ اپنا ہیلی کاپٹر یہاں بھجوا دے۔  جب یہ مراحل طے ہوچکے، تو کپتان نے کشتی پر سوار دو ملاح بھجوائے تاکہ وہ علاقے کا معائنہ کر سکیں۔ ملاحوں کو جلد ہی ریچھ نظر آگیا جو مرکز کے پچھواڑے مٹرگشت کرنے میں محو تھا۔

یہ دیکھ کر ملاحوں کے ہاتھ پائوں پھول گئے کہ حیوان نے جیسے ہی انھیں دیکھا، کشتی کی سمت لپک اُٹھا۔ وہ تیزی سے کشتی چلاتے واپس جہاز پر پہنچ گئے۔ ریچھ ان کے پیچھے تھا۔ اُس نے آہستہ آہستہ تیرتے پلانکس کا چکر لگایا اور پھر ساحل پر ڈھے گیا۔ لگتا تھا، کھانے کی خوشبو اُسے جہاز تک کھینچ لائی تھی۔

ڈیڑھ گھنٹے بعد وہاں پولیس ہیلی کاپٹر پہنچ گیا۔ اس پر ایک نشانے باز، نرس اور ڈاکٹر ٹورسٹین نیلسن سوار تھے۔ نشانے باز کی ایک ہی گولی نے قطبی ریچھ کو عالم بالا پہنچا دیا۔
موذی رخصت ہوا، تو جارج نے مرکز کا دروازہ کھول دیا۔ زخموں اور شدید ٹینشن کے باعث وہ صدیوں کا بیمار دکھائی دیتا تھا۔ پیٹ کی تو اور زیادہ بری حالت تھی۔ ڈاکٹر اور نرس نے انھیں ابتدائی طبی امداد دی اور پھر باہر لے آئے۔ چند منٹ بعد دونوں اسٹریچروں پر لیٹے اسپتال کی سمت رواں دواں تھے۔

اسپتال میں سرجنوں کی زیرِ قیادت ڈاکٹر نیلسن نے ان کے زخم سیئے اورانھیںطاقتور اینٹی بائیوٹک ادویہ دیں۔ ڈاکٹر نیلسن کا کہنا ہے: ’’یہ دونوں بہت خوش قسمت نکلے۔ کیونکہ خالی ہاتھ قطبی ریچھ سے لڑنا موت کو دعوت دینا ہے۔ خصوصاً پیٹ کو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اُسے جارج جیسا دلیر اور وفادار دوست مل گیا۔ اگر جارج اُسے نہ بچاتا، تو وہ ریچھ کا ترنوالہ بن جاتا۔‘‘

جارج کی داستان بہادری اسپتال تک محدود نہ رہی بلکہ صحافیوں کے ذریعے اس کا چرچا پورے ہالینڈ میں ہوا۔ چناں چہ تین ماہ بعد ولندیزی حکومت نے اُسے انسانی جان بچانے پر دیے جانے والے کانسی کے تمغے(Bronze Medal of honor for human rescue)سے نوازا۔ 1822ء میں ولندیزی بادشاہ، ولیم اوّل نے اس کا اجرا کیا تھا۔ یوں جارج کی دلیری اور دوستی کو بجا طور پر سراہا گیا۔

ٹوٹی پھوٹی اور ادھیڑی ہوئی کھوپڑی کی مرمت کے لیے پیٹ کو تین آپریشنوں کے علاوہ پلاسٹک سرجری بھی کرانا پڑی۔ وہ کئی ہفتے بستر پر پڑا رہا۔ لیکن جیسے ہی صحت یاب ہوا، دوبارہ کاپ لی تحقیقی مرکز پہنچ گیا۔ تحقیق سے محبت کرنے والے محقق دیوانے ہی ہوتے ہیں۔ تاہم اس بار وہ رائفل، شارٹ ویو، ریڈیو اور ابتدائی امداد کا سارا سامان ساتھ لینا نہیں بھولا۔

لیکن اس کا دوست، جارج پھر کبھی ایجویا جزیرے پر واقعہ کاپ لی تحقیقی مرکز نہ گیا۔ آج بھی اس واقعہ سے متعلق ڈرائونے خواب اُسے جگا دیتے ہیں۔ خوفناک پنجوں، خونخوار دانتوں اورخون آلودہ تھوتھنی کا منظر نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے جنھیں وہ بھلا دینا چاہتا ہے۔