function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

کچھ شکایتیں اچھی ہوتی ہیں انہیں باقی رہنا چاہیے!

اختر عباس | فروری 2014

سر پر وہی سفید ٹوپی جو اکثر ٹیڑھی رکھی ہوتی ہے۔ آنکھوں میں وہی چمک اور روشنی جس میں پہچان اور اپنائیت ہوتی ہے، جسم البتہ اب کچھ بھرنا شروع ہوگیا ہے۔ جنوری کی ایک خنک اور یخ بستہ صبح جب لوگ لحافوں میں دبکے سو رہے تھے۔ ہم دونوں برسوں بعدبڑی گرم جوشی سے مل رہے تھے۔1986-87ء میں جب وہ پشاور یونیورسٹی میں بی ایڈ کر رہے تھے اور صوبہ سرحد جمعیت کے ناظم تھے، ان سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی۔ پھر ہم مردان میں ان کے مہمان ہوئے اور بعد میں جب وہ پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایڈ کے طالب علم بنے یہ قربت اور بڑھی۔ ان کا بچپن اسکول میں فٹ بال کھیلتے اور ساتھیوں کے ساتھ برف باری میں شکار کھیلتے کب شروع ہوا اور کب رخصت ہوا اس کا تعین کرنا انھیں بھی مشکل ہے۔ سرد رات کے سناٹے میں جب تا حدنگاہ زمین برف زاروں میں ڈھل جاتی ہے، خرگوش غاروں میں واقع اپنے کھوہ نما گھروں سے نکل کر رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں تو برف پر ان کے پائوں کے نشان بڑے واضح ہوتے ہیں۔ نئے اور پرانے شکاری انہی نشانوں کی مدد سے ان کو جا لیتے ہیں۔ سراج الحق کے جسم کی چستی اور آنکھوں میں چیتے کی سی لپک شاید انہی دنوں کی دین ہے جب وہ اپنے والد کی گھرسے غیر موجودگی میں ساری ساری رات شکار کرنے میں گزار دیتے۔ یہی وہ دن تھے جب دن کو وہ بکریوں کے ایک مختصر سے ریوڑ کو لے کر چرانے نکلتے جس میں ان کی اپنی ہی نہیں، ہمسایوں کی بکریاں بھی ہوا کرتی تھیں۔

ٹھنڈی ہوائوں میں، کسی قصبے کے کنارے کوئی ساتھی گڈریا جب بانسری بجاتا تو سراج الحق کو بہت مزا آتا۔ مگر یہ تب کی بات ہے جب وہ اسے برا نہیں سمجھتے تھے۔ وہ جناب اشفاق احمد کی بات سے متفق ہیں کہ اللہ نے بکریاں چرانے میں بڑے سبق رکھے ہیں، مخلوق کو سنبھالنے، غصہ نہ کرنے اور محبت اور توجہ سے صرف ڈرا دھمکا کر ان کو آگے بڑھانے یا کامیابی سے واپس لانے کی باکمال صفت بکریوں کے ساتھ وقت گزارے بنا سیکھنا مشکل ہے۔
پہلے صوبہ سرحد اور اب خیبر پختون خواہ کے دو بار سینئر وزیر بننے والے سراج الحق کو نہ اپنے ماضی سے کوئی مسئلہ ہے اور نہ اپنے حال سے کہ اس کے پاس اب بھی نہ ذاتی کار ہے اور نہ ذاتی گھر۔ چھے بچوں کی پرورش ان کے لیے بوجھ نہیں ہے۔ ایک خوش گوار ذمہ داری ہے جس کو ادا کرنے کے لیے وہ رات گئے اپنے گھر لوٹ آتے ہیں۔
جناب سراج الحق کو ملنا، جاننا، سننا ایک دلچسپ تجربہ ہوتا ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے کارکن، راہنما اور پورے پاکستان کے نائب امیر ہوتے ہوئے بھی ایک مختلف آدمی ہیں۔ بظاہر سیدھے سادے مگر بباطن کسی پرانی جھیل جیسے گہرے، انھیں ہنستے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور کسی شب خدا کے خوف سے نکلتی سسکیوں کو چیخوں میں ڈھلنے کی گواہی بھی دی جاسکتی ہے۔ وہ عام لوگوں میں بیٹھے ہوں تو بھی اپنے انداز اور آواز سے خاص لگتے ہیں۔ ہمیشہ سفید کپڑے پہننے والے سراج الحق کی ٹوپی اور چادر بھی عام طور پر سفید ہوتی ہے۔
عملی زندگی کو اگر دوسروں کی خدمت اور راہنمائی سے جوڑا جائے تو سراج الحق 1983ء سے اس دریا کے شناور ہیں جب ڈگری کالج تیمر گرہ کے وہ صدر منتخب ہوئے تھے۔ کالج یونین میں وہ جمعیت کے واحد نمایندہ تھے باقی سبھی عہدہ دار ان کی مخالف تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ یہ بتاتے ہوئے گہری سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کہ اس چھوٹی سی عمر میں اپنے مخالف اُمیدوار کے گھر کیسے پہنچ گئے جس کو وہ’’ووٹوں سے ہرا چکے تھے۔ وہاں جا کر یہ کہنا کہ آپ صرف

گیارہ ووٹ کم کالج یونین کے پورے صدر ہیں۔ ہم آپ کو عزت بھی دیں گے، احترام بھی اور معاملات کی مشاورت میں پوری طرح اپنے ساتھ رکھیں گے۔ سراج الحق آج بھی اسی طرح سوچتے ہیں۔ اس لیے مخالفین ان کے ایسے کسی بھی فیصلے سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہارے ہوئے مخالف صدر کی طرح اُٹھ کر گلے لگ جانا اور یہ کہہ دینا نہ پڑ جائے کہ اس سے زیادہ مجھے اور کچھ چاہیے بھی نہیں جو آپ مجھے بن مانگے دینے آگئے ہو۔
پٹھانوں کے مشوانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے سادہ مزاج شب زندہ دار سید سراج الحق کی جائے پیدائش ضلع چار سدہ کا ایک چھوٹا سا گائوں سپرزور (شب قدر) ہے۔ جبکہ تحصیل ثمر باغ اور ضلع دیر میں واقع کاکس آبائی گائوں ہے۔ جہاں ان کے والد مولوی احسن الحق کی زندگی ایک چھوٹی سی مسجد‘ حجرے اور مدرسے تک سمٹی ہوئی تھی۔ احسن الحق صاحب دارالعلوم دیو بند سے فاضل اور فارغ التحصیل تھے۔ چار بھائیوں اور دو بہنوں میں سے ایک بھائی اسکول ٹیچر ہیں دوسرے نے میل نرس کا کورس کیا ہوا ہے اوروہ ابھی حال ہی میں ہونے والے سرکاری ملازمت کے انٹرویوز میں میرٹ پر نہیں آ سکا۔ تیسرے بھائی ڈاکٹر ذکی الدین ہیں جو ثمرباغ میں کلینک کرتے ہیں۔
سراج الحق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قاضی حسین احمد کی طرح ان کا حافظہ بہت اچھا ہے، کسی نے کہا وہ 18سال کے نوجوان والاحافظہ رکھتا ہے۔ لوگوں کو یاد رکھتا ہے۔ ان کی غلطیاں بھول جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دوسروں کی صرف غلطیاں یاد رکھنے والے ایک روز اکیلے رہ جاتے ہیں۔
سراج الحق کی زندگی میں کئی ٹرننگ پوائنٹس ہیں مگر ایک حادثہ میںجب ان کی وین ایک کھائی میں گر رہی تھی اور موت یقینی تھی تو انھوں نے اپنے رب سے دعا کی۔ الٰہی اگر زندہ بچ گیا تو باقی زندگی شکرگزاری کی ہوگی، صرف تیری اور تیرے پیغام کی سرفرازی کے لیے جیوں گا۔ اس حادثے کو سالہاسال گزر گئے،

سراج الحق نے اس وعدے کو اپنی سانسوں کا حصہ بنا لیا۔ ایک روز انھوں نے حیرت سے ایک آدمی سے پوچھا جو ایک نہایت قیمتی باز کو ہاتھ پر بٹھائے پیار کر رہا تھا۔ تم نے یہ کیسے کیا؟ جواب ملا پورے تیس دن 24گھنٹے سوئے بنا اس کے سا تھ جیا ہوں۔ لمحہ لمحہ۔ تب یہ مجھے سمجھا اور میرے اشاروں کو سمجھنے لگا۔بے اختیار منہ سے نکلا اگر اتنا وقت اور اتنے گھنٹے تم اللہ کو دے دیتے تو ایک شاہین کیا اور بھی بہت سے پرندے تیرے مطیع ہوجاتے۔
قرآنِ پاک کی تلاوت کو عزیز ترین جاننے والے سراج الحق اقبال کی نظمیں اور اشعار بھی شوق سے پڑھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں لاہور آئے تو ان کے ساتھ ایک دلچسپ نشست رہی۔آئیے آپ بھی اس نشست کا حصہ بنیے۔
ایڈیٹر:کچھ لوگوں کو شکایت ہے کہ جماعت والے جب Politicsمیں آتے ہیں وزیر بنتے ہیں تو پتا ہی نہیںچلتا کہ ہیں یا نہیں ہیں؟
مہمان: مُسکراتے ہوئے۔شکایت تو جائز ہے کچھ شکایتیں اچھی ہوتی ہیں انھیں باقی رہنا چاہیے۔
ایڈیٹر:پہلے لوگ یہ مذاق میں کہتے تھے اب سنجیدہ ہو کر کہتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جیسے طالبان کے گورنر اور مختلف وزرا رہے ہیں۔ وہ ایک لحاظ سے تو یہ ثابت کرتے رہے کہ ہم بہت سادہ ہیں اور down to earthہیں۔ لیکن جو ایڈمنسٹریشن کی ذرا ٹوہر والا تاثر تھا وہ اُس میں سے Missingرہا۔ آپ اس سے Agreeکرتے ہیں؟
مہمان:اُن کا انتظام تو اچھاتھا اس لیے امن و امان بھی بہتر تھا اُن کے وقت۔ کہ آپ اگر اپنا سامان رکھ دیتے تھے سڑک کے کنارے تو آپ وہاں سے اُٹھا بھی سکتے تھے۔ محفوظ تھا سامان۔ میں اگر اکیلا جا رہا تھا سڑک کے کنارے تو مجھے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن لوگ شاید اس لیے سمجھتے ہوں کہ کوئی وزیر آسانی سے ملتا نہ ہو (Approachable) نہ ہو تو وہ وزیر لگتا ہے۔ ایک سائیکی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک آدمی آیا تھا پنجاب سے مجھے پتا چلا کہ پنجاب سے کوئی آدمی آیا ہوا

ہے۔ میں خود باہر آیا۔ اُس کو ایک دوست کی طرح بلایا، بٹھایا۔ نہایت ادب و احترام کے ساتھ چائے پلائی۔ پھر اس نے کہا میں تو وزیر اعلیٰ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کوئی خاص کام ہے؟اس نے کہا کہ کوئی کام تو نہیں بس ویسے ملنا چاہتا ہوں، شوق ہے، جا کر بتا تو سکوں گا کہ وزیر اعلیٰ سے ملا تھا۔ میں نے کہا چلو ٹھیک ہے ملنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ صاحب سے ہوجائے ملاقات تو ٹھیک ہے۔ تب مجھے احساس ہوا چونکہ میں بہت آسانی سے اس کو مل گیا تھا جیسے گھر کا چوکیدار… تو

اس کو اطمینان نہیں ہوا کہ میں کسی منسٹر سے ملا ہوں۔ لوگوں کی سائیکی یہ ہے کہ میں بیٹھوں،کسی جگہ میں انتظار کروں اور دروازے کی طرف دیکھتا رہوں، پھر کوئی دروازہ کھولے اور مجھے اندر لے کے جائے۔ پھر اُس کو اطمینان ہوجائے گا کہ اس نے کسی حکمران سے ملاقات کی ہے۔ پھر میں نے اُسے مشورہ دیا کہ آپ جا کر درخواست دے دیں کہ یہی طریقہ اور اصول ہوتا ہے۔ پھر آپ گھر واپس چلے جائیں اپنا موبائل نمبر دے کے۔ انھوں نے اگر مناسب سمجھا تو آپ کو واپس فون کریں گے اور اگر مناسب نہیں سمجھا تو پھرنہیں بلائیں گے۔ لوگ خود ہی حکمرانوں تک مشکل رسائی کا تصور سنبھالے ہوئے ہیں۔ عام ہی نہیں خاص لوگوں کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے۔
پرویز مشرف جب صدر تھے اور شوکت عزیز وزیراعظم توہم گئے تھے اسلام آباد۔ اُن دنوں ورلڈ بینک کی ایک نائب صدر تھی۔ ’’میکوشیومزی‘‘ اُن کا نام تھا۔ تو شوکت عزیز صاحب نے ہمیں خاصا ڈرایا کہ یہ بہت پاور فُل خاتون ہے ورلڈ بینک کی۔ اکرم خان دُرانی وزیر اعلیٰ تھے، وزیر صحت تھے عنایت اللہ اور فضل علی وزیر تعلیم تھے۔ بتایا گیا کہ ان کے سامنے بڑی احتیاط سے ہمیں بات کرنا ہوگی۔ اس لیے اگر وہ ناراض ہو تو سمجھیں ہمارا کام آگے نہیں چلے گا۔ ہم بڑے دبائو میں آ کر سہمے ہوئے وہاں بیٹھ گئے۔
خیر جب وہ مجلس میں آئی تو وہ چھوٹی سی تھی جیسے وہ ہوتی ہے نا! گڑیا، بس وہ گڑیا ہی لگتی تھی۔ تو بیٹھ گئے، ہم سب جمعیت کے عادی تھے کہ میٹنگ سے پہلے ذرا تعارف ہوجائے۔ تو اس نے کہا کہ میں جاپان کی ہوں۔ میں نے کہا جاپان میں کہاں سے۔ اس نے کہا ’’سکاور‘‘ ایک صوبہ ہے۔ میں نے کہا سکاور میں کس علاقے سے ہیں۔ اُس نے کہا کہ میں یونیورسٹی کے پاس رہتی ہوں۔ اس نے کہا آپ جانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں وہ علاقہ میرا دیکھا ہوا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ میرا علاقہ بھی آپ کے صوبے کی طرح ہے فرق صرف یہ ہے کہ آپ لوگوں نے ترقی کی ہے ہم ترقی نہیں کر پائے۔ جبکہ میرا علاقہ اُس سے زیادہ خوب صورت ہے اور لوگ بھی وہ مسکرا دی۔ شاید اسے یہ سب بہت اچھا لگا تھا۔ سرکاری میٹنگوں میں ایسے بات نہیں کرتے۔
اُس نے ایجنڈا کی جو فائل تھی وہ بند کر دی اور کہا کہ پتا ہے آپ لوگوں کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ اصل مسئلہ آپ لوگوں کا وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ جو آپ کے حکمران ہیں وہ رہتے ہیں عرش پر اور عوام رہتے ہیں فرش پر۔یوں عوام اور آپ کے حکمرانوں کے درمیان عرش اور فرش کے فاصلے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب حکومت ختم ہوتی ہے تو لوگ خوش ہوتے ہیں۔ایک تو یہ فاصلے کم کریں۔ دوسری بات اس نے یہ بتائی کہ آپ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ورلڈ بینک آپ لوگوں کو

ترقی دے گا۔ یہ نہیں ہوتا ہے۔ کوئی دوسرے کو اتنا ہی مضبوط رکھنا چاہتا ہے کہ اس کے کام آتارہے۔ کوئی بھی اپنے کسی ملازم کو باپ بنانا نہیں چاہتا ۔ سر پر نہیں بٹھانا چاہتاجس طرح آپ لوگوں کا خیال ہے کہ ورلڈ بینک آپ کے ہر دُکھ کی دوا ہے اور مدد کے لیے آئے گا۔ تیسری بات یہ ہے کہ مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا ہے، توآپ کی عبادت کا وقت ہوگیا ہے، میٹنگ کے دوران ہم تو شوکت عزیز صاحب کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ہمارے ٹیم لیڈر دُرانی صاحب تھے، اسی احترام میں سب بیٹھے رہے اذان ختم ہوگئی تو اُس نے خود ہی کہہ دیا کہ آپ جا کر نماز پڑھیں۔آپ کے مذہب کا بلاواآگیا۔ ہم نے نماز عجیب شرمندگی کی حالت میں پڑھی، دل میں بہرحال ہم بہت افسردہ تھے کہ ہمیں خود اُٹھناچاہیے تھا۔
واپس آئے تو انھوں نے کہا کہ آپ لوگوں کی مقدس کتاب میں یہ چیز موجود ہے کہ خدا کسی کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خودنہ اپنی حالت بدلے، ہم نے کہا ہاں یہ آیت تو ہے۔ اس نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ خود نہیں بدلتے تو دنیا کا کوئی آدمی باہر سے آکر آپ کو طاقت کاکوئی انجکشن نہیں دے سکتا۔ مجھے شوکت عزیز

نے کہا کہ ’’مولوی صاحب آپ نے کس چکر میں اس کو پھنسایا ہے۔ یہ ہمارا ایجنڈا نہیںہے۔ مگر وہ جو ہم نے 20منٹ کی باتیں کیں وہ بہت ساری کتابوں کا خلاصہ تھیں۔ اور میں اسی سوچ پہ اب بھی قائم ہوں کہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے نہ ہوں تو یہ زیادہ اچھا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہمارا زور اس پر ہو کہ ایک جیسا پروٹوکول ہو، دفتروں میں بند ہوں اور لوگوں سے دور تواس سے نفرت اور حسد میں کمی نہیںآتی بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔اس لیے ہم نے تو اب تک اپنا نظام Approachable رکھا ہے۔
ایڈیٹر: گزشتہ جو دور تھاآپ کا ایم ایم اے کی وزارت کا، اُس میں جتنا Approachable تھاکیااب بھی اُتنا ہی Approachable ہے؟
مہمان: اب بھی اُتنا ہی Approachable ہے۔
ایڈیٹر: جو باقی وزرا ہیں جماعت کے اُن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے؟
مہمان: بالکل جماعت کے سارے ساتھیوں کا ایسا ہی ہے۔ الحمدللہ۔ ہم لوگ وزارت کی خاطر اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتے۔
ایڈیٹر:آپ کے ساتھ پروٹوکول کی وہ گاڑیاں واڑیاں تو ہوتی ہیں ناں آخر آپ سینئر وزیر ہیں؟
مہمان: میرے ساتھ ایک پولیس والا ہوتا ہے۔
ایڈیٹر: ایک آدمی یا ایک گاڑی؟
مہمان: نہیں نہیں ایک پولیس والا۔ مجھ سے آگے سیٹ پہ بیٹھتا ہے۔
ایڈیٹر: وہ جو آگے گاڑی چلتی ہوتی ہے وہ آپ نہیں رکھتے؟
مہمان: نہیں وہ میں نہیں رکھتا۔
ایڈیٹر: جان بوجھ کے؟
مہمان: ایک بات تو یہ ہے کہ ہمارے جو اُٹھنے بیٹھنے کی جگہ ہے وہ عام کارکنوں کی ہوتی ہیں۔ تو ان چھوٹے لوگوں میں اونچے لوگوں کی جگہ نہیں ہوتی۔ بمشکل ہمیں جگہ ملتی ہے۔ تو جب وہ آپ کے ساتھ ہوںگے نا جی تو پھر ہر آدمی آپ کا میزبان نہیں بن سکتا، ناں ہر آدمی آپ سے مل سکتاہے۔ اس لیے میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ پروٹوکول والے نہ ہوں۔
ایڈیٹر: جب دوسرے صوبے میں جاتے ہوں گے تو وہاں تو لازمی پروٹو کول کے تقاضے کے مطابق جاتے ہوں گے؟
مہمان: کبھی بھی نہیں کہا، ورنہ اگر ہم اپنا پروگرام بھیجیں شیڈول تو یہ پابند ہیں کرنے کے لیے لیکن میں کبھی نہیں کرتا۔
ایڈیٹر: اچھا سراج صاحب پچھلے دنوں تحریکِ انصاف نے شیر پائو کی قومی وطن پارٹی کے بارے میں کافی سخت الفاظ کہے ہیں اُن کے وزرا کے بارے میں کافی الزامات تھے جب کہ آپ لوگوں کے بارے میں اچھے سافٹ اور باعزت الفاظ کہے۔
مہمان: ہر پارٹی کا اپنا ایک ایجنڈا ہے۔ جماعت اسلامی کا تو ایک کلیئر ایجنڈا ہے کہ ملک میں شریعت کا نظام ہو۔ مدینہ منورہ کی حکومت ماڈل ہے۔ خلافت ہمارے لیے ایک Criticalنمونہ ہے۔ اس طرح پی ٹی آئی نے بھی وعدے کیے تھے کہ کرپشن کا خاتمہ کریں گے۔ تو آفتاب شیر پائو صاحب کے جو وزرا تھے وہ ذرا پرانے مزا ج کے لوگ تھے اُن کا یہ خیال تھا کہ شاید ہم اس طرح چلیں گے اور اُن کی بھی شاید مجبوریاں ہوں گی کہ الیکشن میںلوگ کچھ زیادہ خرچ کر لیتے ہیں تو

پھر وہ اخراجات دوبارہ سرکار سے اوراِدھر اُدھر سے جمع کیے جاتے ہیں۔مسلسل اس طرح کی اطلاعات کے باعث بالآخر یہ ہمت والا کام بھی عمران نے کر دیا اور جہاں تک جماعت اسلامی کی بات ہے تو وہ ہر مجلس میںیہ بات کرتے ہیں۔ بلکہ ہم نہ بھی ہوں تو بھی اپنی مجالس میں اس پہ فخر کرتے ہیں کہ جماعت ِ اسلامی والے پورے اخلاص کے ساتھ ہمارے ساتھ ہیں۔ دینی اور منظم لوگ ہیں۔ پوری ذمہ داری اور ایمان داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں اور مناصب کو وقت دے رہے ہیں۔ اصل میں الیکشن میں زیادہ خرچ کرنا یہ بذاتِ خود فساد کی جڑ ہے۔
ایڈیٹر: آپ کو لگتا ہے یہ فساد روکا جا سکتا ہے یا یہ کم ہوسکتا ہے؟
مہمان: میں تویہ سمجھتا ہوں کہ روکا جاسکتا ہے۔
ایڈیٹر: کیسے؟
مہمان: ایک تو ٹی وی پر جس طرح یہ اشتہار بازی پر کروڑوں روپے بہا دیتے ہیں یہ بند ہوجائیں پھر ہم جیسے عام لوگوں کو بھی کام کا موقع ملے گا۔ اب اس الیکشن مہم میں تو ہم اس طرح تھے کہ ایک جہاز پہ جا رہا ہو اور دوسرا پیدل جا رہا ہو۔ اب میں نے اپنے حلقے میں الیکشن لڑ لیا نہ قرض کے نیچے آیا نہ کوئی حد توڑی۔ گزشتہ الیکشن میں بھی اور اس میں بھی کم از کم میں نے اپنی جیب سے خرچ نہیں کیا۔ ہمارے الیکشن میں داخلے کے وقت بھی جو فیس تھی جب وہ دینے کا وقت آیا تو ہمارے ثمر باغ کے ایک عام مخلص کارکن جو ایک لاری اڈے میں کام کرتا ہے، نے شدت سے خواہش کا اِظہار کیا کہ وہ جمع کرائے گا تو وہ فیس اس نے جمع کر وا دی۔
ایڈیٹر: آپ نے محسوس نہیں کیا کہ آپ کو خود جمع کرانا چاہیے تھی؟
مہمان: ایک تو مجھے اندازہ نہیں تھاکہ میں جائوں گا تو فیس بھی مانگیں گے۔ میرا تو خیال تھا کہ بس دستخط کرنے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ فیس بھی جمع کرائیں اور پھر کارکنوںکے اندر ایک جذبہ، خواہش اورشوق تھاکہ وہ خود فیس جمع کرائیں۔ تو اُس میں Choiceکرنا بھی مشکل ہوگیا کہ کون جمع کرائے۔ پھر انھوں نے زیادہ اِصرار کیا کہ ہمارا پیسا آپ قبول کر لیںاس کام میںکیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ ہم انہی کے نمایندے ہیں۔ انہی کے لیے کام کریں گے۔ اپنے لیے نہیں۔ یہی وجہ ہے

کہ الیکشن مہم شروع ہوئی تو ہر طرف نوجوان تھے۔ کارکن بھی اور نئے جذبے کے ساتھ آنے والے مخلص ساتھی۔ بعض تو پارٹی کے بھی نہیں تھے۔ سب نے مل کر دو تحصیلوں میں اپنے طور پر فنڈ جمع کیے تو ایک جگہ پر کارکنان نے کوئی 22لاکھ روپے جمع کیے تھے اور دوسری تحصیل میں 16لاکھ۔ اس میں بعض کارکنان ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنی اکلوتی گائے بیچ کر حصہ ڈالا۔ہر ایک نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ Compaign کے بعد جو بچ گئے تو واپس کر آئے۔
ایڈیٹر: مطلب انہی لوگوں کو واپس کر دیے؟
مہمان: مطلب جو پیسے بچ گئے۔ یعنی سارے پیسے خرچ بھی نہیں ہوئے تھے۔
ایڈیٹر: جن لوگوں نے جمع کرائے ہوں گے اُن کوواپس کیسے کر دیے؟
مہمان: ظاہر ہے اُن کی لِسٹ ہم نے بنائی تھی اُن کو رسید دی تھی۔ بعض ایسے کارکن تھے جنھوں نے اپنی اوقات سے زیادہ الیکشن فنڈ میں جمع کروایا تھا، وہ انتہائی غریب تھے، ہم نے اس لیے اُن کو واپس کر دیے۔
ایڈیٹر: انھیں آپ نے جذباتی کر دیا تھا یا وہ خود جذباتی ہوئے تھے فنڈ جمع کرانے کے موقع پر؟
مہمان: نہیں وہ خود جذباتی ہوئے تھے۔ ایک تو متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں ہم نے اپنے حلقے میں عوامی کام زیادہ کیے تھے۔ تو اُن کا ایک جذبہ اور شوق ہی نہیں یقین بھی تھاکہ یہ اپنے عوام کو فائدہ پہنچائیں گے اگر یہ منتخب ہوگئے تو۔
ایڈیٹر: سراج صاحب آپ ایم ایم اے کی حکومت میں بھی سینئر وزیر تھے اور اب تحریکِ انصاف کے ساتھ شراکت میں بنی حکومت میں بھی یہی منصب آپ کے پاس ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ پچھلی حکومت کے بعد آپ لوگ Deffensive تھے جبکہ ابھی Deffensive نہیں ہیں یعنی وہ حکومت جب ختم ہونے والی تھی تو وزرا

اور باقی لوگ یہ نہیں بتا پاتے تھے کہ ہم نے یہ کیا، ابھی وقت بہت تھوڑا گزر ا ہے لیکن آپ کے سارے وزرا کے چہروں پہ اطمینان ہے۔ جب بات کرتے ہیں تو بڑے اعتماد سے کرتے ہیں۔ اور اُس سے زیادہ مختلف اور عجیب بات یہ ہے کہ جب لوگ اکیلے میں ہوتے ہیں تو اپنی اتحادی پارٹی کے خلاف بات نہیں کرتے۔ یہ کوئی پالیسی ہے، وقت کا جبر ہے یاآپ لوگوں نے اتحادیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارنا سیکھ لیاہے؟
مہمان: ایک تو آدمی سیکھتاہے۔ پھر حکومت میں ہمارا خیال تھا کہ نیکی کر دریا میں ڈال، بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اب یہ بھی نہیں ہے کہ دوسروں کو بتائیںتو ہی پتا چلے۔ اس سے دوسرے بھی سبق لے لیتے ہیں۔ اس میں اور پہلی حکومت میں فرق تو ہے۔ وہ ہماری حکومت تھی، اس میں ہم شریک تھے۔ اُس میں ہماری تعداد زیادہ تھی 26ممبران تھے۔ اب ہم آٹھ ہیں۔ اُس میں ہمارے ساتھ8وزرا تھے اب تین ہیں۔ لیکن ہم اس لیے بھی ایزی Easyہیں، اس حکومت کے ساتھ کہ ان کا جو ایجنڈا ہے ریفارمز Reformsکا، وہی چیزیں ہیں جو ہمارے پروگرام میںپہلے سے شامل تھیں۔
ہمارے وزراکی جو ٹیم ہے وہ ذاتی مال جمع کرنے کی فکر میں نہیں ہے۔ بلکہ اسے ہر لمحہ Deliverکرنے کی فکر ہے۔ ممبران بھی چاہتے ہیں کہ خیبرپختونخواہ میں اچھی کارکردگی دکھائیں تاکہ باقی ملک میں اُس کو مثال بنا سکیں۔
ایڈیٹر: میں پچھلے دنوں پشاور گیاتو وہاں عام لوگوں سے آپ لوگوں کے بارے میں پوچھتا رہا تو اُن کا خیال تھا کہ اس دفعہ دونوں پارٹیوں کی لائن ایک ہے یعنی Alignedچل رہے ہیں اور لوگوں نے حیرت کا اظہار بھی کیا کہ جماعت اسلامی کے وزرا الگ سے گروپ بنا کر نہیں چل رہے بلکہ ٹیم کی طرح چل رہے ہیںاس وجہ سے ان کی رفتار اور سمت ٹھیک ہے کیا درست ہے عام لوگوں کا یہ تجزیہ ؟
مہمان: ابھی تک ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں آیا۔ چھوٹی موٹی بات تو ہر جگہ ہوتی ہے۔ اگر ایک پارٹی کی حکومت ہو تو اس میں بھی مسائل تو ہوتے ہیں۔ اس طرح مخلوط حکومت چلانایا اس میں چلنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم سموتھ (Smooth) جا رہے ہیںایک دوسرے کو فتح کرنا بالکل کسی کے مدنظر نہیں ہے۔ اس کا ایک اضافی فائدہ ہم دونوں کو یہ ہوا ہے کہ ہمارے کام کو پی ٹی آئی والا ورکر اپنے میڈیا کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یعنی وہ ہمیں اپنا سمجھتے ہیں کہ انھوں نے پہلے دن سے ڈنڈی نہیں ماری، ہر مشکل وقت میں ڈٹ کر ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ میں لندن کے بازار میں جا رہا تھاپیدل، تو پی ٹی آئی کا ایک نوجوان ملا اور ’’ہاتھ ملایا اور بولا ہم آپ سے محبت کرتے ہیں،آپ پہ ہم فخر کرتے ہیں۔‘‘ اس طرح کراچی ائیرپورٹ پر میں اُترا توکرسیاں کم اور لوگ کافی تھے اور ایک خاتون اُٹھی اور میرے لیے جگہ خالی کر دی میرا خیال تھا کہ جماعت کے کسی گھرانے سے ہوں گی۔ انھوں نے کہا نہیں میں پی ٹی آئی کی ہوں۔ ہم آپ پر فخر کرتے ہیں اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ انھوں نے ہمیں دل سے قبول کیاہے۔ کسی طرح کی مجبوری نہیںہے۔ نہ اُن کی مجبوری ہے نہ ہماری مجبوری ہے۔
ایڈیٹر: میرا مشاہدہ ہے کہ راہنما تنہائی کی محفلوں میں بات کرتے ہیں تو کارکن تک وہی بات جاتی ہے۔ یعنی آپ نے اگر کسی کے بارے میں اچھا کہا ہو تو نیچے تک وہی بات ٹرانسلیٹ ہوتی ہے اور وہی بات ٹرانسمٹ ہوتی ہے؟
مہمان: جی یہ ٹھیک بات ہے۔ ہم اپنی نجی محفلوں میں بھی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھیوں کے حوالے سے Loose talkنہیں کرتے۔ وہ سب بھی محنت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ایڈیٹر:آپ جماعت کے وہاں تین وزرا ہیں اگر آپ لوگوں نے اپنی لائن لینی ہو یعنی اچانک کوئی الگ صورت حال پیدا ہوتی ہے، میٹنگ میں وزیراعلیٰ کے ساتھ یا کسی اور جگہ تو پہلے سے اپنا مائنڈ بنایا ہوتا ہے یا آپ نے جو کہا باقی دونوں آمناّ و صدقّناکہتے ہیں اور مان لیتے ہیں؟
مہمان: ہم ایک دوسرے کے ساتھ تومشاورت کرتے ہی ہیںلیکن پی ٹی آئی کے جو منسٹر ہیں اُن کے ساتھ بھی بہت کھل کر مشورہ کرتے ہیں۔
ایڈیٹر: وزیر اعلیٰ سے کیسے تعلقات ہیں؟ ورکنگ ریلیشن شپ کیسی ہے؟
مہمان: ورکنگ ریلیشن بہت اچھا ہے۔ اب تک کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جس کو ہم بوجھ محسوس کریں یا وہ بوجھ محسوس کریں۔
مہمان:پی ٹی آئی کے لوگ عمران خان صاحب یا وزیر اعلیٰ سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے ساتھ بات کرتے ہیں اُن کا خیال ہے کہ ہمارے ان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں، اُن کا اعتماد ہے۔ اس لیے ان کی بات پہنچ جائے گی۔ ہم بھی اس اعتماد کا مان رکھتے ہیں۔ خیال کرتے ہیں۔
ایڈیٹر:عمران خان سے آپ کی بڑی قربت ہے الیکشن سے پہلے بھی آپ اور پروفیسر ابراہیم صاحب ان سے ملتے رہے ہیں توآپ نے کیسا پایا اُنھیں۔ جو عام ایک عوامی امیج ہے اس سے کتنا مختلف۔ لوگوں کا خیال ہے کہ جذباتی ہیں اُن کو Depthمیں چیزوں کی سمجھ نہیں ہے؟
مہمان: بغیر جذبہ کے تو کوئی کام نہیں ہوتا ہے اور بڑے کام کے لیے جتنی خوبیاں اور Depth ہونی چاہیے اس کے بغیر بڑا کام ممکن نہیں ہوتا۔ میں نے تو عمران کو بڑا اچھا پایا۔ بات سنتا ہے۔ سمجھتا ہے۔ اسے تبدیلی کا درد بھی ہے اور عوام کی تربیت نہ ہونے کا بھی علم ہے۔ اسے بھی اپنے لوگوں سے توقعات ہیں، جو کبھی پوری ہوتی ہیں کبھی کمی رہ جاتی ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے حوالے سے بہت سے سوال تھے۔ مگر سراج الحق صاحب طرح دے گئے۔ یقینا اس کی وجہ آنے والے دنوں میں مرکزی امیر کا انتخاب ہے۔ اس لیے ہم نے بھی اصرار کیے بنا موضوع بدل لیا اور جمعیت میں ان کے تین سالہ نظامتِ اعلیٰ کے دور کے حوالے سے کچھ یادیں تازہ کیں۔ وہ جنوری 1980 ء میں جمعیت کے رکن بنے تھے۔ مالا کنڈڈویژن اور پشاور کے ناظم رہنے کے بعد 3 سال صوبہ سرحد کے ناظم رہے۔ 1988ء میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے جہاں انھوں نے تنظیمی ڈھانچے میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں کیں اور پہلی بار جمعیت مخالف طلبہ تنظیموں کے ساتھ بیٹھنے اور ان کے پروگراموں میں جانے لگی۔ خود سراج الحق کو ایم اے او کالج میں ایم ایس ایف نے بلایا۔
ایڈیٹر: سراج صاحب! آپ کی نظامت اعلیٰ کے زمانے 1988-91)ئ) میں جمعیت کی شوریٰ نے تشدد کے حوالے سے 180ڈگری یو ٹرن کی پالیسی اپنائی تھی۔ اس کی اصل وجوہات کیا تھیں؟
مہمان: میں جاپان کے دورے پر گیا‘ تو 18 پی ایچ ڈی سکالرز سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے 14وہ تھے جوکسی نہ کسی جگہ جمعیت کے ہاتھوں پٹے تھے۔ مجھے بہت دُکھ ہوا۔ خیال بھی آیا کہ کل یہ بڑے بڑے عہدوں پر جائیں گے اور عمر بھر اس تکلیف کو جو انھیں پہنچی یاد رکھیں گے۔ واپس آ کر میں نے شوریٰ کے ساتھیوں سے ذکر کیا۔ اسی دوران تعلیمی اداروں کی لڑائیاں کراچی، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور بہاولپور جیسے شہروں میں کالجوں سے نکل کر گھروں اور محلوں تک پہنچ گئیں۔ ہمارے کارکنوں کے گھروں پر حملوں میں بہنیں بھی محفوظ نہ رہیں۔ کتنے ہی قیمتی ساتھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اخبارات بھی روز چیختی چلاتی سرخیاں لگاتے۔ لاہور میں ایم ایس ایف کے لوگوں نے ڈاکے، ہوٹلوں پر، مفت کھانا اور بھتہ لینے جیسے کام شروع کر دیے تھے۔ لڑائی جھگڑے کی صورت مخالفین کے نام جھوٹی ایف آئی آر کٹوائی جانے کا تو ایک مقابلہ شروع تھا۔ تین دن شوریٰ ہوتی رہی۔ ایک ایک ساتھی کو منایا۔ قائل کیا اور پھر طے ہوا کہ جمعیت پہل کرے گی، قربانی دے گی اور تمام غلط FIRرپورٹس واپس لے لی جائیں گی۔ بعض کیسز ایسے تھے کہ واقعات ہوئے تھے عینی شاہد اصل نہیں تھے۔
جب یہ فیصلہ ہوگیا تو ہر طرف سے سوالات اور اعتراضات شروع ہو گئے کہ ہمارا فلاں ساتھی شہید ہوا۔ فلاں کے گھر پہ حملہ ہوا۔ فلاں کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور ہم کیس واپس کیوںلے رہے ہیں۔ کراچی میں پورے ملک کا اجتماع ارکان بلوایا گیا تمام چیزیں ڈس کس ہوئیں۔کچھ نے دل پر پتھر رکھ کر مان لیا۔ کچھ نے خوشی سے مان لیا۔ کئی معطلیاں اور اخراج بھی ہوئے۔ 5ماہ لگے پھر رفتہ رفتہ حالات پر قابو پالیا گیا۔ غلط بیانی اور جھوٹ کے لیے دوسروں کی زیادتی وجہ جواز نہیں بن سکتی۔ جمعیت کے اس فیصلے کی برکت یہ ہوئی کہ لڑائیاں رُک گئیں۔ قتل و غارت کا سلسلہ بھی تھم گیا۔ جمعیت کا فوکس پھر دعوت پر ہو گیا۔
س: سراج صاحب آپ نے ’’عرس‘‘ جیسے موقع کو بھی دعوت پھیلانے کے لیے استعمال کر ڈالا تھا؟
ج:ہم نے دعوت کے لیے یہ غیر روایتی طریقہ اختیار کیا اور عرس کے مواقع پر اسٹال لگائے،نمائش ، کیسٹس، سٹکرز، لٹریچر، آڈیو، وڈیو اسی طرح بلوچستان میں سبی میلہ اور دوسرے مواقع کو استعمال کیا۔
ایڈیٹر:سراج صاحب سنا ہے ایک بار دبئی گئے ہوئے تھے۔ آپ کے ماموں میزبان تھے۔ انھوں نے خوب آئو بھگت کی۔ کھانے کھلائے۔سیرکرائی، ملاقاتیں کروائیں۔ ان کی ناراضی کا کیا قصہ ہے؟
مہمان: سراج الحق مسکرائے۔ بس وہ ایسے ہی ناراض ہوگئے جب وہ پشاور آئے تو ان کا خیال تھا میں سینئر وزیر ہوں، خوب آئو بھگت ہوگی۔ جو خدمت میں ذاتی طور پر کر سکتا تھا۔ وہ تو کی مگر انھوں نے کہا وہ چترال جانا چاہتے ہیں۔ گاڑی کا انتظام کرو میں نے بتایا کہ میرے پاس ذاتی گاڑی نہیں ہے جو آپ کے ساتھ جائے۔ وہ بولے تم کس چیز کے وزیر ہو جو دو روز کے لیے گاڑی کا ارینج نہیں کروا سکتے۔ محکمے والے کو کہو گاڑیوں کی لائنیں لگ جائیں گی۔ میں نے معذرت کی کہ میں خزانے کا وزیر ہوں۔ گاڑیوں کا نہیں۔ پھر میں نے کبھی اپنے لیے نہیں مانگی آپ کے لیے کیسے مانگوں۔ اس پر وہ سخت ناراض ہوگئے۔ دوستوں کو پتا چلا تو ایک نے گاڑی بھجوا دی۔ یوں وقتی طور پر یہ مسئلہ حل ہوگیا مگر انھیں آج تک یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ کیسا وزیر ہے جو سرکاری گاڑیاں اپنے لیے اور دوستوں عزیزوں کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔