function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

انسانی تاریخ کا رُخ بدل دینے والا ’’خطبہ حجتہ الوداع‘‘

سید عاصم محمود | 2011 ستمبر

یہ16مارچ 2012ء کی بات ہے، کین لیونگ سٹون اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں فنس بر پارک مسجد واقع شمالی لندن پہنچے۔لیونگ سٹون لندن کے پہلے مئیر (2006ء تا2008 ئ) ہونے کا اعزاز رکھتے اور لیبر پارٹی کے ممتاز سیاست دان ہیں۔وہ مئیر کا الیکشن دوبارہ لڑ رہے تھے اور انتخابی تقریر کرنے ہی مسجد آئے۔
کین صاحب نے دوران تقریر نبی کریمﷺ کے خطبہ حجتہ الوداع کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انھوں نے اُسے دنیائے انسانیت کے لیے’’مِنارۂ نور‘‘ قرار دیا اور کہا’’میں سمجھتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ کا یہ خطبہ پوری بنی نوع انسان کے لیے ایک ایجنڈے کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘
لندن کے ایک سابق مئیر 2012ء کی انتخابی مہم تو جیت نہ سکے، مگر وہ ایک سچائی ضرور آشکار کرگئے…یہ کہ مغربی ممالک میں فلاحی حکومتوں کی تشکیل و تعمیر میں خطبہ حجتہ الوداع نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ انسانی حقوق کے اسی مخزن سے مغربی راہنمائوں نے روشنی پائی اور پھر ایسی حکومتوں کی بنیاد ڈالی جن کی بنیادی ذمے داری بلا تفریق رنگ و نسل شہریوں کی فلاح و بہبود ہے۔
انسانی حقوق کی مختصر تاریخ
ماضی میں طاقت سکہ رائج الوقت تھا۔ جو گروہ یا قوم طاقت پالیتی، وہی علاقے یا خطے پر راج کرتی۔ تب بھائی بندوں کا قتلِ عام کرنا معمولی فعل تھا۔ انسان کو اسی دورِ وحشت وجہالت سے نکالنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر و نبی نازل فرمائے جو انسانوں کو درسِ اخلاق دینے لگے۔ انہی کی کوششوں سے انسانی معاشروں میں اخلاقیات کا چلن شروع ہوا۔
پیغمبران کرام کے بعد ہر معاشرے میں نیک و ذی شعور انسان بھی نمودار ہوئے۔ قدیم یونانی، ہندوستانی اور عرب معاشروں کے بعض دانشوروں کی باتوں و تحریروں میںہمیں انسانی حقوق کی بازگشت سنائی و دکھائی دیتی ہے۔مگر کوئی بھی انسانی حقوق مدون اور انھیں باقاعدہ طور پر پیش کرنے کی جرأت و کوشش نہ کرسکا۔
رسول اللہﷺ کی آمد
چودہ سو برس پہلے جب اللہ کے آخری نبیﷺ زمین پر تشریف لائے، تو پوری دنیا میں خیروشر کا معرکہ جاری تھا۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات بھلا کر یونانی و رومی دیو مالائی رسوم و رواج اپنا چکے تھے۔ یہودی بھی در بدر بھٹک رہے تھے۔ ایسے میں دنیا کے بڑے حصے پر بت پرست غالب آگئے۔
عرب میں بھی دقیانوسیت اور طاقت کا راج تھا۔ کسی قسم کے انسانی حقوق کا وجود تک نہ تھا۔ تبھی نبی کریمﷺ کی راہنمائی میں نورِ اِسلام کا ظہور ہوا جس نے محض نصف صدی میں دنیائے عرب کی کایاپلٹ ڈالی۔
اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانی حقوق باقاعدہ شکل میں بصورت قرآن مجید نازل فرمائے۔ پھر جب نبی کریمﷺ نے ریاست مدینہ کی باگ ڈور سنبھالی، تو وہ آسمانی و انسانی اقدار بڑے واضح انداز میں بیان فرمائیںجن پہ مذہب اسلام کی بنیاد رکھی گئی۔
مغربی فکر پر اثرات
اسلامی نظام حیات اور اس کے اہم حصے، انسانی حقوق سے یورپ صلیبی جنگوں کے ذریعے متعارف ہوا۔ یہ جنگیں 1095ء تا 1291ء جاری رہیں۔ اس دوران ہزار ہا عیسائی مشرق وسطیٰ آئے اور ان کا ہر سطح پر مسلمانوں سے میل جول ہوا۔ مسلم علما اور دانشوروں کے ذریعے ہی اسلامی نظام کے اعلیٰ انسانی اصول عیسائیوں تک پہنچے اور وہاں بھی تہذیب و تمدن کے آثار نمودار ہوئے۔
واضح رہے، اس زمانے میں یورپ وحشت اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ پاپائیت اور شہنشاہیت نے ہر یورپی معاشرے میں پنجے گاڑ رکھے تھے۔ جاگیردار طبقہ عوام پر ظلم و استحصال کرنے میں بادشاہوں کا مددگار تھا۔ عوام و خواص میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ قانون و اِنصاف، آزادی، عزت نسواں اور دیگر اِنسانی حقوق کیا معنی رکھتے ہیں۔
آزاد اور تعلیم یافتہ اِسلامی معاشروں میں رہائش پذیر مسلمانوں نے ہی صلیبیوں کو اِنسانی حقوق کے معنی بتلائے اور سمجھائے۔ جب یہ صلیبی سردار اور سپاہی واپس یورپی ممالک خصوصاً برطانیہ، فرانس اور جرمنی پہنچے، تو آمریت ختم کرنے کا تہیہ کرچکے تھے۔
1215ء میں برطانیہ میں آباد صلیبی سرداروں نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کردی۔ وہ بادشاہ کے اختیارات کم کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ آمر مطلق نہ بن سکے۔ اسی بغاوت کے نتیجے میں معاہدہ ’’میگنا کارٹا‘‘وجود میں آیا۔
گویہ معاہدہ جاگیرداروں (صلیبی سرداروں) اور بادشاہ کے مابین ہوا، مگر اسلامی تعلیمات کے زیر اثر ایسی دو شقیں شامل کی گئیںجو پہلے یورپ میں کبھی سننے کو نہیں ملی تھیں۔
اول یہ کہ کسی آزاد شہری کو زبردستی گرفتار نہیں کیا جائے گا اور نہ اس پر تشدد ہوگا،بجز اس کے کہ قانون اجازت دے۔ دوم یہ کہ کسی شہری کو اِنصاف سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ یوں یورپی تاریخ میں پہلی بار عام شہریوں کو اسلامی تعلیمات کی وجہ سے دو حقوق مل گئے۔ واضح رہے،تب کے اسلامی معاشروں میں عدل و انصاف اور قانون بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔
یورپ میں انسانی حقوق کی تاریخ اسی معاہدہ ’’میگناکارٹا‘‘سے شروع ہوتی ہے جس نے درحقیقت اسلامی فکر سے جنم لیا اور یہی اسلامی فکر ہے جس کے زیر اثریورپ میں دور نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔ یورپی تب بنیادی انسانی حقوق ہی نہیں اس علم(سائنس وٹیکنالوجی)کی دولت سے بھی آشنا ہوئے جو اسلامی دنیا میں عروج پر پہنچا ہوا تھا۔
جان لاک
مغرب میں آزادی اور انسانی حقوق کی خاطر آوازبلند کرنے والا پہلا با اثر فلسفی جان لاک (1632ء تا1704ئ) ہے۔ اس برطانوی فلسفی نے آکسفورڈ میں تعلیم پائی۔ وہیں اُسے فلسفے سے دلچسپی پیدا ہوئی اور وہ مسلم فلسفیوں کی کتب کا مطالعہ کرنے لگا۔
اس زمانے میں پروفیسر ایڈورڈ پوکاک آکسفورڈ میں شعبہ عربی کے سربراہ تھے۔ انھوں نے مشہور اندلسی فلسفی اور عالم دین،ابن طفیل کے فلسفیانہ ناول، حئی بن یقظان کا انگریزی ترجمہ کیا تھا۔ پروفیسر پوکاک نے اسلامی فلسفے اور نظام حیات سے متعلق کئی کتابیں جان لاک کو پڑھنے کے لیے دیں۔ انہی کتب کے ذریعے اسلامی فلسفہ حیات جان لاک تک پہنچا اور جسے اس نے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ یورپی اقوام کے سامنے پیش کردیا۔
جان لاک اسلامی تعلیمات کے زیر اثر خدائے واحد پر ایمان لے آیا۔ اس نے تثلیث کو ماننے سے انکار کردیا۔ اسی بنا پر مخالفین نے مشہور کردیا کہ جان لاک مسلمان ہوچکا۔ مسلم علما مثلاً امام غزالی ؒ ، ابن تیمیہ ؒ، امام شاطبی ؒ وغیرہ نے اسلامی معاشروں میں بنیادی انسان حقوق کو تحفظ دینے کے لیے ایک مجموعۂ قوانین ترتیب دے رکھا تھا جو ’’مقاصد شریعہ‘‘کہلاتاتھا۔ اس مجموعے کے قوانین قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں۔ جان لاک نے انہی قوانین کو اپنے فلسفے میں سمو ڈالا۔
جان لاک کے نظریات نے سب سے پہلے فرانس کے مشہور فلسفیوں، والٹیئر اور روسو پر اثرات مرتب کیے جن کی تحریروں سے فرانسیسی انقلاب برپا ہوا۔ بعدازآں امریکی انقلاب کے بانیوں مثلاً تھامس جیفرسن، بنجمن فرینکلن، تھامس پائن، الیگزنڈر ہملٹن وغیرہ نے بھی آزادی، انسانی حقوق اور عوامی فلاح و بہبود کے نظریات لاک سے لیے۔ یوں اس سرچشمہ ہدایت کے نور نے یورپی ممالک کو جہالت و کسمپرسی کے اندھیروں سے نجات دلا دی۔
انقلابِ فرانس
مغربی تاریخ میں انقلاب فرانس(1787ء تا 1799ئ) سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اسی کے ذریعے مغرب میں انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت کا بول بالا ہوا۔ تب مساوات اور بھائی چارے کے نعرے گونجے اور شہریوں کے حقوق کا چرچا ہوا۔اہم بات یہ کہ انقلاب فرانس پر بھی ہمیں اِسلامی فکر کارفرما نظر آتی ہے۔
مؤرخین فرانسیسی فلسفی، والٹیئر(1694ء تا 1778ئ) کو انقلاب فرانس کا موجد سمجھتے ہیں۔ اس کی آمریت مخالف تحریروں نے فرانسیسیوں کو اپنے بادشاہوں کے خلاف اُبھارا۔ عام طور پر مشہور ہے کہ والٹیئراسلام دشمن تھا۔ وجہ یہ ہے کہ1736ء میں اس نے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے ایک ڈراما لکھ ڈالا۔ تاہم یہ سارا واقعہ غلط فہمی کے باعث پیدا ہوا۔
والٹیئردراصل ڈراما لکھ کر پاپائیت اور بادشاہت پر تنقید کرنا چاہتا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ دین اسلام کا سہارا لے کر آمریت کے ان دونوں ستونوں پر حملہ کرتا ہے۔یوں کلیسااوربادشاہ،دونوں ڈرامے کی تعریف کریں گے اور وہ ان کے عتاب سے بچ جائے گا۔
پادریوں نے شروع شروع میں دلچسپیسے ڈراما پڑھا۔لیکنکچھ غور کرنے کے بعد ان پرالقا ہوا کہ اس میں توکلیساکو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اسی لیے کلیسانے فوراً ڈرامے پر پابندی لگا دی۔والٹیئرسے غلطی یہ ہوئی کہ اس نے ڈرامے کا نام رسول کریمﷺ کے نام پر رکھ دیاتھا۔
خاص بات یہ ہے کہ والٹیئرجب ڈراما لکھ چکا، تو اسلام کو بدنام کرنے پر بعض سنجیدہ فرانسیسی دانشوروں نے اُسے لتاڑا اور تنقیدکا نشانہ بنایا۔ تب اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس ہونے کے لیے والٹیئرنے کتب کا مطالعہ کیا۔ خاص طور پر مشہور فرانسیسی مؤرخ،ہنری دی بولانفلییہ(Henri de Boulainvilliers)کی کتاب ’’حیات محمدﷺ‘‘ (The life of Muhammad) نے والئیٹرکی سوچ کا دھارا بدل ڈالا۔
درج بالا کتاب میں بولانفلییہ نے بڑی تفصیل سے محاسن رسولﷺ اوراسلامی تعلیمات بیان کی ہیں۔ والئیٹراسی کتاب کے ذریعے عظیم اسلامی اصول و قوانین اور حقوق انسانی سے متعارف ہوا اور اس کا ذہن بالکل بدل گیا۔
بعدازاں والٹیئرنے اپنی ’’اخلاقِ اقوام پر مضمون‘‘ (1751)ء اور ’’معاہدہ رواداری‘‘ (1765)ء میں اسلام اور نبی کریمﷺ کی تعریف و تحسین کی۔ اس نے آپﷺ کو دنیا کے تین عظیم ترین قانون سازوں میں شامل کیا۔ (بقیہ دو زرتشت اور کنفیوشس ہیں)۔
درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ اسلامی تعلیمات نے والٹیئرکو زیادہ بہتر انداز میں جامع نظام حیات سے متعارف کرایا اور وہ پہلے سے بڑھ کر آمریت پر حملے کرنے لگا۔
روسو اور اِسلامی فکر
انقلاب فرانس کو جنم دینے میں دوسرا بڑا فکری کردارفلسفی روسو(1712 ء تا1778ئ) نے ادا کیا۔ والٹیئرکی نسبت روسو اسلامی نظام حیات کی خوبیوں سے کماحقہ واقف تھا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ نوجوانی ہی میں کتابیں پڑھنے لگا اور پختہ شعور تک پہنچتے پہنچتے ہزارہا کتب پڑھ گیا۔
روسو کی کتاب ’’دی سوشل کنٹریکٹ‘‘(معاہد ہ عمرانی) جدید مغربی معاشرتی و فلاحی نظام کی خشتِ اوّل سمجھی جاتی ہے۔مگر فرانسیسی فلسفی نے اس کتاب کا جوہر یا بنیادی نظریہ دراصل اسلامی نظام حیات ہی سے لیا۔ فرق یہ ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے بجائے عوام کو طاقت کا سرچشمہ بنا ڈالا۔
’’دی سوشل کنٹریکٹ‘‘ میں روسو نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ایک معاشرے میں ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ دوسرے شہریوں کی حالت سدھارنے کے لیے ان کی مدد کرے اور ان کا خیال رکھے۔ یہ نظریہ پڑھتے ہوئے خطبہ حجتہ الوداع کا یہ قولِ رسولﷺ آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتا ہے:’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کی جان و مال کے تحفظ کا ذمے دار ہے۔‘‘ یہی نہیں، کئی احادیث میں نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ دوسروں کی بھلائی و فلاح و بہبود نظر میں رکھیں اور اس عمل کا اجر بے اِنتہا ہے۔

1762ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب، معاہدہ عمرانی میں روسو لکھتا ہے:’’جب یورپیوں نے عیسائیت قبول کرلی اور قسطنطین اعظم کے دور میں طاقت پکڑی، تو وہ اتنے ظالم و جابر بن گئے کہ روئے ارض پر اتنے زیادہ وحشی پہلے کبھی نمودار نہیں ہوئے تھے۔ جب کہ محمد(ﷺ) عاقل و فہیم تھے۔ انھوں نے بہترین سیاسی و معاشرتی نظام قائم کیا۔ ان کے بعد خلفائے راشدین نے بھی اس بہترین نظام کو قائم رکھا۔‘‘
اسلامی نظام جو مغربی ممالک میں رائج ہوا
ان حقائق سے عیاں ہے کہ نبی کریمﷺ نے چودہ سو سال قبل جو اسلامی فلاحی حکومت تشکیل فرمائی تھی، روسو نے اس کی ساری خوبیوں کو اپنے فلسفے میں جمع کیا اور پھراپنی تحریروں کے ذریعے مغرب میں متعارف کرایا۔مسلم علما و دانشور اسلامی فلاحی مملکت کی تشریح کچھ یوں کرتے ہیں:
’’جس میں ہر مسلمان اور غیر مسلم عزت و وقار سے زندگی گزارنے کا حق رکھتا ہے۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ نادار و ضرورت مند شہریوں کی بنیادی ضرورت مثلاً خوراک، رہائش اور لباس کا خیال رکھے اور انھیں مفت یہ سہولیات مہیا کرے۔ حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ شہریوں کو سستی تعلیم مہیا کرے اور بے روزگاروں کو ملازمتیں دے۔‘‘
افسوس کہ آج عالم اِسلام میں درج بالا شکل میں اسلامی فلاحی مملکتیں کم ہی نظر آتی ہیں۔ تاہم مغربی ممالک خصوصاًاسکینڈے نیوین ممالک (ناروے، سویڈن، ڈنمارک اور فن لینڈ وغیرہ) حقیقی اسلامی فلاحی مملکت کی تمام خصوصیات اپنا چکے۔ ان ممالک میں حکومت ہی شہریوں کو کم از کم میٹرک تک تعلیم کی مفت سہولت دیتی ہے۔شہریوں

خصوصاً بزرگوں کا علاج مفت ہے۔ بے روزگاروں کو امداد ملتی ہے اور بے گھروں کو سرکاری رہائش گاہیں میسر ہیں۔ غرض نبی کریمﷺ اور خلفائے راشدین نے عوام کی فلاح و بہبود پر کمر بستہ جس حکومت کا تانا بانا تخلیق کیا، اُسے مغربی ممالک نے مستعار لیا اور خود کو ترقی یافتہ و خوشحال بنالیا۔ کئی اسلامی ممالک ایسا کیوں نہیں کرسکے، یہ کوتاہیوں کی علیٰحدہ داستان ہے۔
مغربی ممالک میں عوام کو سہولتیں ملیں، انھیں جہالت و غربت سے چھٹکارا ملا، تووہاں خود بخود مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرے وجود میں آگئے۔ ہر شہری قانون کا احترام کرنے لگا۔ اُسے انصاف بھی جلد مل جاتا۔ غرض اسلامی نظام حکومت کا جوہر اپنانے سے مغربی معاشروں کی کایا پلٹ گئی۔
امریکی انقلاب
سترھویں صدی میں برطانوی آبادکار دور جدید کے ریاست ہائے متحدہ میں آباد ہونے لگے۔ ان آبادکاروں میں کسان اور مزدور شامل تھے۔ مزید برآں برطانوی حکومت نے پچاس ہزار سے زائد سزا یافتہ قیدی بھی امریکا بھجوائے۔ یوں امریکا میں یورپی بستیوں کی بنیاد پڑی جو رفتہ رفتہ قصبے و شہروںمیں ڈھل گئیں۔
لیکن برطانوی حکومت ان امریکیوں سے غلاموں جیسا سلوک کرتی اور ان پر ظلم و ستم ڈھاتی۔ بتدریج امریکا میں ایسے مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے فرانسس بیکن سے لے کر جان لاک اور روسو کی انگریزی میں ترجمہ کردہ کتب کا مطالعہ کیا۔ یہ سبھی یورپی دانشور دراصل اسلامی تعلیمات کے خوشہ چیں تھے جو لاطینی زبان میں ترجمہ کردہ کتب کی وساطت سے ان تک پہنچی تھیں۔
چنانچہ ان مفکرین نے بھی امریکی عوام کو مساوات انسانی، شہری حقوق اور آزادی کا درس دیا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کا یہ ارشاد ان کے مدِنظر رہا:’’مائوں نے انسانوں کو آزاد پیدا کیا ہے، ان کو غلام کیسے بنالیا گیا؟‘‘ اسی درس نے پھر امریکی عوام کو بغاوت پر آمادہ کیا اور یوں اٹھارہویں صدی میں عظیم امریکی انقلاب نے جنم لیا جس کا حقیقی خالق اسلامی فلسفہ حیات ہے۔
انسانی حقوق کا عالمی منشور 1948ء
لیکن مغربی معاشروں میں آزادی اور انسانی حقوق نے قدم جماتے ہوئے خاصا وقت لیا۔ حتیٰ کہ بیسویں صدی میں یورپی متحارب قوتوں کے درمیان دو عظیم جنگیں ہوئیں۔ ان میں کم از کم بارہ کروڑ انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سانحہِ عظیم کے بعد ہی مغربی حکمرانوں کی آنکھیں کھلیں اور انھوں نے دسمبر 1948ء میں انسانی حقوق کا عالمی منشور مرتب کیا۔
یہ عالمی منشور دراصل خطبہ حجتہ الوداع کا چربہ ہے۔ اس کے کئی نکات اسی خطبے سے لیے گئے جو اب عالمی سطح پر دنیائے انسانیت کی راہنمائی کرتے ہیں۔ اس منشور کی تیس شقیں ہیں اور ان سبھی کی اصل ہمیں خطبہ نبویﷺ میں دکھائی دیتی ہے۔
خطبہ حجتہ الوداع کی اہمیت
رسول اللہﷺ نے وفات سے صرف تین ماہ قبل آخری حج فرمایا۔ اس موقع پر بتاریخ9ذی الحج ہجری میدان عرفات میں آپﷺنے ایک لاکھ مسلمانوں کے سامنے اپنا آخری خطبہ دیا۔ یہ اسلامی تاریخ میں ’’خطبہ حجتہ الوداع‘‘ کی حیثیت سے مشہور ہوا۔
اس خطبے کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں پیغمبر آخرالزماںﷺ نے محض مسلمانوں ہی کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو مخاطب کیا۔ اسی باعث آپﷺ نے خطبے میں سات بار’’اے لوگو!‘‘(الناس)کے کلمات ارشاد فرمائے۔ آپ نے مسلم کی اصطلاح استعمال نہیں فرمائی۔بنی نوع انسان کو مخاطب کرنے کا مقصد یہی تھا کہ عام لوگوں کو تمام دنیاوی پابندیوں سے آزاد کرایا جائے۔
نبی کریمﷺ نے اس خطبے میں قرآنی تعلیمات اور اسلامی احکامات کا خلاصا نہایت فصیح وبلیغ انداز میں پیش فرمایا۔ اسی باعث اس چھوٹے سے خطبے میں ہمیں کئی انسانی حقوق آشکار کرنے والے نکات ملتے ہیں۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور جن چھ بنیادی نکات پر استوار ہے وہ بڑی خوبی سے خطبہ حجتہ الوداع میں بیان ہوئے ہیں۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
(1)زندگی کا حق…
انسانی جان بہت اہم اور بیش قیمت ہے، چنانچہ اُسے تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات ہونے چاہئیں۔ اسلام مذہب،نسل اور جنس سے ماورا ہو کر تمام انسانوں کو زندہ رہنے کا حق عطا کرتا ہے۔
(2)آزادی کا حق…
ہر انسان فطری طور پر آزاد پیدا ہوتا ہے۔اصول و قوانین سے ہٹ کر اس کی آزادی پر کسی قسم کی پابندیاں نہیں لگائی جاسکتیں۔ ہر فرد یہ پیدائشی حق رکھتا ہے کہ وہ آزادی کی تمام اقسام یعنی جسمانی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی آزادیوںسے فائدہ اٹھائے۔ اسی کیٹگری میں ’’آزادی رائے‘‘ ’’آزادیِ حرکت‘‘ اور ’’آزادی مذہب‘‘ کے حقوق بھی شامل ہیں۔
(3)تشدد سے تحفظ کا حق…
کسی انسان پر جسمانی و ذہنی تشدد نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اُسے بے عزت کیا اور دھمکایا جائے گا۔ کسی سے زبردستی اقبال جرم نہیں کرایا جاسکتا۔
(4)جائداد رکھنے کا حق…
اسلام کسی تمیز کے بغیر تمام شہریوں کو جائداد خریدنے کا حق دیتا ہے۔ اسلامی مملکت میں حکومت بے وجہ کسی انسان کی جائداد ضبط نہیں کرسکتی۔ دوسری صورت میں شہری کو معقول معاوضہ دینا پڑتا ہے۔
(5)معاشرتی تحفظ (سوشل سیکیورٹی) کا حق… اسلامی معاشرے میں آباد ہر شہری یہ حق رکھتا ہے کہ وہ وسائل کے مطابق خوراک رہائش، لباس، تعلیم اور علاج کی سہولتیں حاصل کرے۔ یہ معاشرے کی ذمے داری ہے کہ وہ ان مرد و زن کی مدد کرے جو عارضی یا دائمی معذوری کے سبب اپنے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔
(6)تعلیم کا حق…
مرد ہو یا عورت، ہر انسان اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے تعلیم پانے کا حق رکھتا ہے۔ ہر فرد اپنی شخصیت کی تعمیر و ترقی کے لیے تمام مواقع پاتا اور آزاد ہے کہ کوئی بھی پیشہ اختیار کرلے۔
آخری بات
یہ نکتہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ کئی اسلامی ممالک میں حکومتیں انسانی حقوق پامال کرتی ہیں۔ لہٰذا ان سے تو عیسائی مغربی ممالک بہتر ہیں جہاں بلا تفریق ہر انسان عزتِ نفس اور احترام سے ملتا ہے۔
درست کے انسانی حقوق کے معاملے میں بعض مسلم حکومتوں کا ریکارڈ اچھا نہیں۔لیکن اس خرابی کی بنیادی و جہ یہ ہے کہ ان اسلامی ممالک کے حکمران قرآن و سنت سے ناتا توڑ چکے۔ وہاں اسلامی نظام حیات اپنی اصل شکل میں نافذ نہیں۔چنانچہ حکومتیں سیاسی و معاشرتی وجوہ کی بنا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتی ہیں۔ اس خرابی کا ذمے دار کسی صورت اسلامی نظریہ حیات کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔