function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

کتبے کے چہرے پر آئی مٹی

اختر عباس | اپریل-2014
katbay ky chehray py aai miti

کتبے کے چہرے پر آئی مٹی
سچ پوچھیے تو میرا دل یہ سب سن کر پھٹنے لگا ہے۔ مگر میرا حوصلہ دیکھیے کہ میں اِظہارِ افسوس کے لیے موزوں الفاظ اور مناسب ترین جملوں کی تلاش میں ہوں۔ کسی پڑھے لکھے انسان کے ساتھ دکھ اور سکھ دونوں مواقع پر اظہار کرنے کے لیے مجھے لگتا ہے الفاظ ہمیشہ ہی مختلف اور بہتر ہونے چاہئیں اور پھر خاص طور پر وہ انسان اگر آپ  کی زندگی کا حصہ ہی نہ ہو پوری زندگی جیسا ہو تو احتیاط کس قدر ضروری ہوجاتی ہے۔
اگر میری جگہ وہ ہوتے توممکن ہے میرے پاس آکے بیٹھنے کا تکلف بھی نہ کرتے اور کچھ یوں گویا ہوتے ”بیگم ارے بابا! دیکھیے زیادہ دکھ مت کیجیے گا۔ ایسا ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا کچھ لوگ نادانی میں اعتبار کے رشتوں کو بھی اس بے دردی سے سونے کا انڈا دینے والی مرغی سمجھ کر ذبح کر دیتے ہیں۔ میرا دکھ تویہ ہے کہ بچارے روز کے انڈوں سے بھی جاتے ہیں۔“
اب ان جملوں سے میری ڈھارس بندھے یا ہنسی چھوٹ جائے یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے، بس ان کی زندگی ہے، ان کا اسٹائل ہے اور میَں چونکہ اس زندگی کا حصہ ہوں اور حصہ ہی کیا میں تو خود وہ زندگی ہوں تو یہ  سب خوش دلی سے سنتی، سمجھتی اور محسوس کرتی ہوں ……    اللہ رکھے میرے میاں بہت سوں سے بہت مختلف انسان ہیں۔ ابھی پار سال کی بات ہے ہوٹل میں ان کے دوست احباب کی ماہانہ میٹنگ تھی۔ ملک کے ایک مانے ہوئے دانش ور خاص مہمان تھے۔ یہ ان کی زندگی کا مِشن ہے کہ خیر کا کوئی کلمہ کسی کی زبان سے

تاثیر سے نکلتا دیکھ لیں تو پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر ان لفظوں اور جملوں کو چننے لگتے ہیں اور ساتھ میں اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو بھی شریک کر لیتے ہیں۔ بظاہر تو یہ بات دنیا داری اور دانش وری کے سخت خلاف ہے کہ جہاں جہاں موقع ملے انسان خود گرو گھنٹال بنے۔ دوسروں کو یہ موقع اور منصب کیوں دے مگر وہ یہ کرتے ہیں اور سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ سالوں سے انھیں ایسا کرتے دیکھتی ہوں اور ان کی خوشی کی پائیداری کے لیے خاموشی سے دعا کرتی ہوں۔
اس روز دعوت کے بعد جب مہمان رخصت ہو رہے تھے اور حسبِ دستور ایک صاحب کھانے کے ٹوٹل بِل کے لیے سب سے اپنا اپنا شیئر وصول کر رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان بڑی شرمندگی سے پیسے جمع کرنے والے سے بچ کر نکل گیا۔ کئی نگاہوں نے اس کا تعاقب کیا کہ یہ روایت اور دستور سے ہٹی ہوئی بات تھی۔ میں نے دیکھا کہ یہ میرے پاس سے اُٹھ کر گئے اور اس لڑکے کوایک طرف بلایا اپنی جیب سے پیسے نکالے اور اس کو دیتے ہوئے بولے”ابھی آپ جمع کروا دیں تاکہ آپ کی عزت پر حرف نہ آئے۔ مجھے پھر لوٹا دیجیے۔ یہ امانت بھی ہے اور اپنا حصہ بھی۔
یہ تو واپس آگئے اور میں خاموشی سے ان آنکھوں اور ہاتھوں کو دیکھنے لگی جنھوں نے ابھی ابھی پیسے وصول کیے تھے۔ میری نگاہوں نے ان ہاتھوں اور آنکھوں میں عجیب سا رویہ دیکھا۔ اسے شکر گزار تاثر کسی طور نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں کسی گدھ کی آنکھ میں آئی چمک کا نام ضرور دیا جاسکتا ہے۔ ان کے واپس آتے ہی میں نے پوچھا! یہ کیا تھا؟ بولے کچھ بھی نہیں۔ وہ ریحان ذرا مشکل میں تھا۔ سوچا تھوڑے سے پیسوں کے لیے کسی کی نگاہوں میں گرنے کی نوبت کیوں آئے۔ اس کو کچھ پیسے دیے ہیں تاکہ بِل میں حصہ ڈال سکے۔ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں کہ اس کے پاس بِل کے پیسے نہیں تھے تو آیا کیوں تھا…… مگر یہ بات میں ان سے تو نہیں کرسکتی تھی۔ صرف ایک جملہ میرے منہ سے نکلا ”بعض لوگ ناشُکرے اور ناقدرے ہوتے ہیں۔ دل دُکھا جاتے ہیں۔“
سب کے سامنے انھوں نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور بولے ”وہ شوق سے ہوا کریں …… ممکن ہے مولا نے رزق کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لیے دکھ اور سکھ کی بھی مقدار طے کی ہوئی ہو۔
اب اگر ایسا ہے تو اسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے اور میں نے دیکھا کہ چند لمحے بعد ہی پیسے جمع کرنے والے صاحب ان کے پاس آئے اور بولے بِل میں سے خاصے پیسے کم ہیں۔ انھوں نے جیب سے مطلوبہ رقم نکالی اور مسکراتے ہوئے بولے کوئی بات نہیں، ہوجاتا ہے۔ یہ لیجیے ادا کیجیے۔ اسی لمحے میری نگاہ فہرست پہ پڑی۔ اس میں ریحان کا نام نہ تھا۔ تھوڑی جستجو کے بعد پتا چلا کہ وہ صاحب پیسے لے کر چپکے سے ہوٹل ہی سے باہر کھسک لیے۔ انھوں نے مجھ سے کہا تو کچھ نہیں۔ مگر یہ ایسا کیوں کرتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لمحہ بھر میں ایک ہی آدمی کے تیور اور اِرادے بدل جاتے ہیں۔ کیا اس لیے لوگ تعلق رشتے بناتے ہوئے پہلے خاندان دیکھتے ہیں۔ خاندانی ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ سن کر مسکرا دیے۔ ”اب تم چاہو گی کہ

عام زندگی اور دوستی کے معاملات میں بھی پہلے آئی ایس آئی(ISI)سے خاندان کی تحقیق کروائی جائے پھر معاملہ کیا جائے۔ ارے بابا کسی کا خاندان بھی ایسا مضبوط اور سیر چشم ہوتو کیا اس کے بچوں کو موقع نہ دیا جائے کہ وہ اپنی عادات اور روایات کو بہتر بنا سکیں۔ دل کی چھوٹی بستیوں سے آ کر بڑے ظرف اور عادتوں کے شہروں میں بس سکیں۔“ آپ دیں موقع، میں تو بزرگوں کی کسی بات پر یقین کیے بیٹھی ہوں۔ ممکن ہے وقت آپ کو بھی اسی نتیجے پر لے آئے۔“
وہ دھیرے سے مسکرائے تھے۔ کسی درخت کے پھل میں بھلا بے وفائی کے بیج تھوڑی ہوتے ہیں کہ کھانے والا بے وفائی پر اتر آئے اور بے وفا کہلائے۔ کچھ اور اسباب ہوتے ہوں گے جو ابھی سامنے نہیں آئے۔“
میں کئی برسوں سے ان کی زندگی اور دفتر کے معاملات کو بھی دیکھتی ہوں …… میں نے دیکھا کہ ایک روز وہی ریحان میاں دفتر میں ان سے کچھ راز و نیاز میں مصروف تھے۔ اپنی کسی ضرورت سے آئے تھے۔ انھوں نے عجیب حرکت کی۔ دراز کھولی۔ مطلوبہ رقم نکالی اور اس کے حوالے کر دی۔ کوئی سوال نہیں کوئی جواب نہیں حتیٰ کہ ہوٹل والے واقعے کا ذکر تک نہیں کیا۔ شرمندہ کرنے کی بات تو دور رہی۔
ہاں جاتے ہوئے بڑی معصومیت سے پوچھنے لگے ”ریحان میاں! کیا خیال ہے یہ جو امیر لوگ ہوتے ہیں اگر یہ اللہ کے قریب ہونا چاہیں اور بلند درجوں پر فائز ہونا چاہیں تو انھیں خاصی کم محنت نہیں کرنی پڑے گی؟
ریحان گڑبڑا گیا۔ اسے اس بات کا موقع محل سمجھ نہیں آیا تو بولا ”سر! آپ ہی بتائیے۔“ میرے ساتھ دفتر میں بیٹھے کئی اور لوگ بھی متوجہ تھے۔ اب انھوں نے بات ایسی کہی کہ میں دنوں سوچتی رہی کہ اگر کوئی اس پہ ذرا سا سوچے توکیسے فضیلت کے کئی در اس پر آسانی سے کھل جائیں۔ ہاں کوئی ان کھلتے دروازوں کے آگے خود ہی اپنی خواہشوں اور حرص کی میلی کچیلی پوٹلیاں لے کر بیٹھ جائے تو اسے بھلا کیوں فائدہ ہونے لگا۔ کہنے لگے۔“ ہمارے بابا جی کہتے ہیں جو غریب آدمی ہوتا ہے اکثر نادانی میں مارا جاتا ہے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی حسرتیں اور خواہشیں ہی اس کی راہ کا سب سے بڑا روڑا بنتی ہیں۔ کبھی زیادہ پیسے۔ کبھی تھوڑا بڑا گھر۔ کبھی اس سے تھوڑا اور بڑا گھر۔ بڑی گاڑی پھر اس سے بڑی گاڑی۔ پھر کچھ اور سہولتیں پھر کچھ اور خواہشیں، جہاں جہاں ان سے نکل کر مولا کے قریب ہونے کا امکان اور راستہ ہوتا ہے وہاں وہاں یہ سہولتوں اور آسانیوں کی دوسری سڑک پر مڑجاتا ہے اپنی منزل بھی کھوٹی کرتا ہے اور عزت اور شرف سے بھی محروم لکھا جاتا ہے جو صرف اس کے لیے منتظر ہوتے ہیں اور جو کوئی آسودہ خاندان سے ہو تو وہ کسی بھی دن اپنی خواہش اور حسرتوں کی چھوٹی سی دیوار پھلانگ کے مولا کے قریب ہوجاتا ہے۔ بس سیر چشمی کی نعمت جس کو مل جائے وہ اکثر نوازا جاتا ہے۔ سب کچھ پاجاتا ہے۔ بیٹھے بٹھائے۔
پھر اچانک انھوں نے پوچھا ”ریحان میاں! آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ کیا چاہیے۔“
اس نے لمحہ بھر کو سوچا اور پھر بولا ”وقعت، اہمیت، عزت۔ میں نے بہت بے وقعتی دیکھی ہے۔ گھر سے،

آپ سے ملنے اتنی دور سائیکل پر آتا ہوں۔ راستے بھر متلاشی نگاہوں سے دیکھتا ہوں۔ کبھی کسی نے نظر بھر کے توجہ کے ساتھ مجھے نہیں دیکھا۔ میں کیوں اہم نہیں ہوں …… مجھے روپے پیسے کی ہمیشہ کمی کا سامنا رہتا ہے مگر یہ بعد کی ضرورت ہے۔ ضمنی، کم ضروری۔ پھر ریحان ایک کرسی پر ڈھے سا گیا۔ وہ بڑ بڑانے سے ذرا مختلف کیفیت تھی۔ ”میں نے گھر میں ہمیشہ رشتوں اور اصولوں کی بے وقعتی دیکھی ہے، روپے پیسے کی اہمیت اور ضرورت سَر چڑھ کے بولتی ہے، کبھی دل کرتا ہے لڑوں …… کبھی سوچ کے پہلے قدم پر ہی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ اللہ جانے دوسروں کے سینے میں میرا رتبہ کب بڑھے گا۔ کبھی بڑھے گا بھی یا نہیں یوں ہی ترستا دنیا سے چلا جاؤں گا۔“ ریحان دفتر سے چلا گیا مگر میں سوچتی رہی کہ یہ آدمی تو پل پل رنگ بدلتا ہے۔ کبھی اس کی بات دکھ پہنچاتی ہے اور کبھی ضرورت کا احساس یہی کام کرتا ہے۔ میں نے خود کو سمجھایا، رک رک کر بتلایا کہ بے شک سارے انسان خراب نہیں ہوتے اور یہ جو خاندانی ہونے کا مسئلہ ہے توکوئی سر و قامت کسی پست خاندان سے بھی توجنم لے سکتا ہے۔ انسان آرزو تو بڑی رکھے۔ توقع تو بڑی باندھے۔ اُعجوبے، معجزے ہونے کے لیے ہوتے ہیں۔ کہیں بھی، کبھی بھی ہوسکتے ہیں۔
پھر کیا کروں۔ دنیا اور دنیا کے لوگ ہی ایسے ہیں کہ بار بار ان کے بارے میں سوچنے، فیصلہ لینے اور رائے قائم کرنے میں چُوک ہوجاتی ہے۔ ہر بہار کے بعد یہ خزاں کیوں ضروری ہے۔ ہر صبح کے بعد یہ شام کیوں دستک دیتی اور ڈراتی ہے۔ اب چونکہ دفتر میں ان کا ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ تو یہاں میرے دیکھنے، سیکھنے اور رائے بنانے کو کئی لمحے اور مشاہدے کام کرتے ہیں اور میں اپنا کام کرتے کرتے بھی بہت کچھ جان جاتی ہوں۔ سیکھ جاتی ہوں۔
ریحان کے رخصت ہونے کے بعد دفتر میں خاموشی تھی جسے انھوں نے یہ کہہ کر توڑا کہ ”کل سے آپ سب ریحان کی بے حد عزت کرنا شروع کر دیں گے۔ اسے ہم ایک دو ایسی اسائن منٹس دیتے ہیں کہ اس کے دل کی مراد پوری ہوجائے۔ یہاں لوگ روپے پیسے کے لیے مرے جاتے ہیں۔ وہ تو روپے سے ہٹ کر سوچ رہا ہے۔ ایسی سوچ کو پاؤں ہم دے دیتے ہیں۔ وہ پاؤں پاؤں چلنے لگے گا۔ روپیہ پیسہ بھی آنے لگے گا۔“
کہتے ہیں، جس کے ساتھ وقت اچھا گزرتا ہے اس کے ساتھ زندگی اچھی گزرتی ہے۔ اس بات پر میرا پورا یقین ہے۔ آنکھیں بند کرکے، تبھی تو اتنے سالوں سے میں یوں زندہ ہوں۔ جیسے یہ ایک خواب ہو۔ جیسے

زندہ احساس ہو۔ ایک دوسرے کے دکھ میں دکھی۔ ایک جیسے کے سکھ میں سکھی۔ بات کہنے، سمجھانے اور بتانے کو بس ایک نگاہ کافی ہونے لگے تو انسان کو اور کیا چاہیے۔ مجھے یہ بات جلد ہی سمجھ آگئی کہ بڑے بڑے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے مٹی سے بھرے گدلے پانیوں والے کئی نالے بہتے ہیں۔ کچھ میدانوں تک گدلے ہی رہتے ہیں اور کچھ پہاڑ کے دامن تک بہتے بہتے یوں شفاف پانیوں والے ہو جاتے ہیں کہ زمین کے ساتھ لگے چھوٹے بڑے پتھر بھی پہلی نگاہ میں پہچانے جاتے ہیں۔
انسان بھی کچھ ایسے ہی پتھر ہوتے ہیں۔ کچھ اتنے پیارے کہ اچھی نگاہ جس پہ پڑے محبت کا پیغام دے جائیں۔اندھیرے میں راستہ دکھا جائیں۔ دل کو اطمینان سے بھر جائیں …… اور کچھ ایسے کہ اطمینان و خوشی کے راستے بند کر جائیں۔
پھر یوں ہوا کہ ریحان کے دن پھر گئے۔ مہینوں، سالوں کا سفر ہفتوں بلکہ دنوں میں طے ہوگیا۔ مختلف اداروں سے ان کے سربراہوں سے رابطے کی ذمہ داری اسے سونپ دی گئی۔ وہ بھری دوپہر میں پسینے سے بھرا ہوا آتا تو وہ اپنے نفیس مزاج کے برعکس اس پسینے بھرے وجود کو سینے سے لگا لیتے۔ ذرا ذرا سی بات پر شاباش دیتے اور آگے بڑھنے کا ہر بار کوئی نیا گُر بتاتے۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ جو ان کے اپنے کرنے کے کام ہوتے چھوٹے چھوٹے وہ اپنے ملاقاتیوں کو ریحان کی طرف ریفر کر دیتے۔
تب ایک روز ریحان ان کے پاس آ کر آنسوؤں سے رو دیا۔ وہ انھیں بھائی جی کہنے لگا تھا…… بھائی جی! کچھ لوگ محبت کر لیتے ہیں مگر پاتے نہیں اس لیے جیتے جی مر جاتے ہیں۔ مجھ کم نصیب کو آپ نے اتنی محبت دے دی ہے کہ میں خوش نصیبوں میں اپنا شمار کرنے لگا ہوں۔
اب آپ کے نام پر لوگوں سے ملنے جاتا ہوں وہی میں ہوں اور وہی میری سائیکل۔ مجھے راستے میں کئی بار سلام کہتے ہیں اور میرا دل کرتا ہے دونوں ہاتھ چھوڑ کر ان کا جواب دوں …… لوگ فون پہ بات کرتے ہوئے مجھ سے وقت لیتے ہیں۔ یہاں آ کر ملتے تو کم عمر پاکر حیران رہ جاتے ہیں۔ منصب اور ذمہ داری آپ نے ایسی دی ہے کہ انھیں مجھے وقعت، اہمیت اور حیثیت دینا پڑتی ہے۔ جو کام میرا اپنا کوئی نہ کر سکا۔ وہ آپ نے کر دکھایا بن کہے۔ بن جتائے۔ مجھ بے مول کو ان مول کر دیا آپ نے……
بھائی جی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
بولے ”بیٹے عام لوگوں کی محبت بھی اب ضرورتوں کی سی ہوتی ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر ضرورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ بس تم یہ دیکھنا کہ یہ ضرورت تمھیں اوپر لے کر جائے۔ نیچے نہ گرائے۔
تم سے تعلق میں کوئی شرط نہیں کوئی مطالبہ نہیں، ہاں کبھی نگاہوں سے مت گرنا۔ یہ دکھ میری برداشت سے تھوڑا زیادہ ہوگا…… اور میرے لیے تو پھر جینے کے سو بہانے ہوں گے تم عمر بھر اپنی عزت نہیں کر پاؤ گے۔ خوشی سے آئینہ نہ دیکھ پاؤ گے۔
ریحان بڑے یقین سے بولا تھا۔
بھائی جی! میں ماچس کی تیلی کا سر تو نہیں ہوں۔ اس

میں تو دماغ نہیں ہوتا۔ ذرا سی رگڑ سے جل اٹھتی ہے۔ میرے سر میں لالچ کا پوٹاش نہیں بھرا کہ ذرا سا موقع آئے اور میں جل اٹھوں …… میرا دل بھی ہے اور دماغ بھی…… مجھے کامیابی اور عزت کا لمبا راستہ عزیز ہے۔ کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ آپ ہی کہتے ہو شارٹ کٹ میں بڑے نقصان چھپے ہوتے ہیں، اس تلاش میں انسان اکثر منزل سے نہیں نگاہوں سے بھی پرے جا گرتا ہے۔
میں نے ان کی آنکھوں میں خوشی کی وہ چمک دیکھی جو اپنے بچے کی کامیابی پہ صرف ماں کے نصیب میں ہوتی ہے۔
ہمارے گھر میں کل ایک اداس کرنے والی شام تھی۔ میں دفتر نہیں جا سکی تھی۔ وہ آئے تو گھر میں خوشی بادلوں کی طرح چھائی ہوئی تھی…… اچانک مجھے یوں لگا کہ بادلوں میں کہیں کوئی شگاف ہوا ہے اور اداسی دھوپ کے مانند چھن چھن کر آ رہی تھی”کیا ہوا؟“ میں نے پوری توجہ سے پوچھا تھا۔
کچھ بھی نہیں …… وہ دھیرے سے مسکرائے تھے باہر ہوا چل رہی تھی۔ وہ تیز ہوتی اور تندی دکھانے لگی۔ تب وہ کہنے لگے۔ شکر ہے اکثر انسان اِس تند ہوا جیسے نہیں ہیں۔ ورنہ تو جیسے یہ اونچے لمبے درختوں کی کمر توڑ دیتی ہے۔ ہر طرف ٹوٹی کمروں کے ڈھیر ہوتے۔ ان کی بات اور لہجے میں ہڈی میں سوئی چبھونے والی کوئی کیفیت تھی جو میری پکڑ میں نہیں آ رہی تھی۔ ”دفتر میں سب خیریت ہے نا۔“
”ہاں …… بالکل…… الحمد للہ……“ شکر ہے پھول کھلنے بند نہیں ہوئے۔ صبح ہوتی ہے۔ شام ہوتی ہے۔ بس یوں ہی عمر تمام ہوتی ہے۔“ میں ان کو خوب جانتی ہوں۔
ایسے ہی ایک دو جملے بول کر جب وہ خاموش ہوجائیں گے تو میں جان جاتی ہوں کہ آج گہرے پانیوں میں کوئی دکھ بھاری پتھر بن کر گرا ہے…… بس ایک دو لہریں اٹھیں گی اور پھر یہ شانت ہوجائیں گے۔
آگے میری ہمت اور جستجو کہ کتنے دنوں میں اور کتنے معصوم سے سوالوں میں اس پتھر تک جا پہنچوں۔ اس لمحے میرا بڑا دل چاہا کہ میں کہیں کسی طرح سے لمبی چونچ والی چڑیا بن جاؤں اور ان کے دل پہ پڑے بوجھ کو دانوں کی طرح چُگ لوں۔ مگر کب ہماری ساری خواہشیں پوری ہوپاتی ہیں۔
آج صبح میں نے انھیں دفتر جانے سے روک لیا۔ لانگ ڈرائیو پر نکلنے پر آمادہ ہوئے تو کہا کیمرا لے لیں …… پہلے خاموش رہے پھر بولے، وہ ریحان کو ضرورت تھی پچھلے دنوں، میں نے اسے دے دیا۔ ہم اور لے لیں گے۔“ میں اندر سے کٹ کر ہی رہ گئی۔ ”آپ تو نہ بس……“ انھوں نے میرے آدھے ادھورے جملے پر شکریہ کہا اور بولے ”پتا ہے غصہ کم کرنے والے معصوم اور سچے لوگوں کے چہرے بڑے حسین ہوتے ہیں …… اٹھنے سے پہلے آئینہ دیکھ لینا یقین آجائے گا۔“
ایک جملے سے میرا غصہ اور افسوس جاتا رہا۔ ہاں پل بھر کو کئی قیمتی چیزیں نظر میں گھوم گئیں جو اب ہماری نہیں تھیں اور کہیں اور پہنچ چکی تھیں۔
میرا بڑا جی کرتا کہ کسی روز ان سے لڑوں کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی دوسروں کی سیلف ایسٹیم (عزت

ِنفس) بڑھانے کی خاطر اپنا وارڈ روب ہی خالی کر ڈالو۔ مجھے لفظ لفظ ان کے ان کہے جواب کا علم تھا۔ زندگی کا ساتھ لفظاً اور حرفاً یاد ہو تو عادتوں کی بھی ایسے ہی خبر ہوتی ہے وہ جواباً کہتے۔
”ارے بابا! دوسروں کی عزت ِ نفس بڑھاؤ۔ اُنھیں ان کی اپنی آنکھوں میں باعزت بناؤ، اس عزت کی خاطر ہی وہ کبھی دوسروں کو دکھ اور دھوکا نہیں دیں گے۔
جو بندہ اکیلے آئینے کے سامنے اپنی عزت نہیں کرسکتا وہ کوئی بھی گری ہوئی حرکت کرسکتا ہے۔ بدلحاظی، بدنگاہی وہی کرتے ہیں جن کی اپنی خود کی عزت ان کی نگاہوں میں نہیں ہوتی۔
وہ کتنی دیر سے سر نیہوڑے بیٹھے ہیں۔ خاموش، کون جانے دکھ زیادہ ہے یا اداسی۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اصرار کر ڈالا ہے۔ پلیز کچھ بتائیے ہوا کیا ہے آپ توکسی کو دکھ نہیں دیتے پھر کس نے یہ ظلم کمایا ہے۔
انھوں نے جواب میں ہونٹ یوں کھولے ہیں جیسے کوئی درد کی تہ کھولتا ہو۔
”کچھ خاص نہیں ہوا۔
بس وہ ریحان میاں دفتر نہیں آ رہے کئی دنوں سے۔“ اس میں بھلا پریشانی کی کیا بات ہے۔
میں نے بات سنے بنا لقمہ دیا تھا۔
”وہ اصل میں …… وہ اصل بات بتانے سے بچنا چاہ رہے تھے…… چھوڑو بابا!سب ٹھیک ہے۔ بس ہوجاتا ہے نا…… انسان ہیں سبھی…… سب کے پاس دینے کو الگ الگ ہوتا ہے۔ کچھ باتیں، کچھ رویے اور کہیں کچھ دھوکے، کچھ رویے ایسے غیر متوقع ہوتے ہیں کہ اندر تک دکھی کر جاتے ہیں۔“
ان کی آنکھوں اور لفظوں میں اس بچے سے زیادہ حیرت ملا دکھ تھا جس کے سنبھالے ہوئے غبارے کو کسی کے ذرا سے بے دھیان ناخن نے پھاڑ دیا ہو۔ انھوں نے ہاتھ بڑھا کر ایک کاغذ مجھے تھما دیا۔
اس پہ کچھ تازہ سطریں سر اٹھائے میری طرف متوجہ تھیں۔ لکھا تھا:
کچھ ایسے گھاؤ بھی ہوتے ہیں جنھیں زخمی آپ نہیں دھوتے
بن روئے ہوئے آنسو کی طرح
سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں اور ساری عمر نہیں روتے
نیندیں بھی بہت ہوتی ہیں
سپنے بھی دور نہیں ہوتے
کیوں پھر بھی جاگتے رہتے ہیں
کیوں ساری رات نہیں سوتے

اب کس سے کہیں اے جانِ وفا! یہ اہلِ وفا
کس آگ میں جلتے رہتے ہیں
کیوں بجھ کر راکھ نہیں ہوتے
میں نے کاغذ پر بکھرے درد پر ہاتھ رکھ کر ان سے پوچھا ”آپ ریحان کا کچھ بتا رہے تھے۔“
”ہاں، کچھ جگہوں سے”پے منٹ“لینے گیا تھا۔ پہلی بار بھجوایا تھا۔واپس نہیں آیا۔“
”کتنا نقصان ہوا؟“ میں نے بے اختیار پوچھا۔
اب وہ بڑی دیر مسکرائے ”لگ بھگ بیس ہزار۔ مگر مسئلہ 20ہزار کا نہیں، اس پیغام کا ہے جو اس نے بھجوایا ہے کہ پیسے میرے ہیں اور میں نے خرچ کر لیے ہیں۔ سارے یہی کرتے ہیں میں نے کیا برا کیا؟“
سچ بتاؤں تو میرے پاس دل میں پہلا خیال یہی آیا کہ اتنا پیار اور دھیان کرنے والے استاد کو دکھ اور دھوکا دے کر تم کیسے جیو گے۔ ریحان!
تم توکہتے تھے تمھارے سر میں ماچس کی تیلی جیسا پوٹاش نہیں لگا مگر تمھارا تو پورا وجود لالچ اور حِرص سے سلگ رہا تھا…… تم اتنا دھواں دیتا وجود آئینے میں اب کیسے دیکھو گے۔
”آدمی کو اس کے خیالوں کی مفلسی سے زیادہ کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی۔“انھوں نے ایک جملہ کہہ کر میرے خیالوں کی رَو کو بہنے سے روک دیا۔
میرا دل دکھ سے پھٹنے کو ہے اور میں مسکرا رہی ہوں۔ ”20ہزار،آپ کے اعتبار اوراعتماد کا خون کرنے کی قیمت خاصی کم نہیں ہے؟“
”میں اسے دل سے معاف کرنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر اس کے ضمیر پہ جو اتنا بوجھ پڑا ہوگا وہ درد بن کر اس کے دل میں بیٹھ جائے گا۔ اک ذرا سی رقم اور اتنا بڑا درد۔“
”ریحان میاں! تم بھی کیا کچے سوداگر نکلے۔“
ہمارے درمیان اس موضوع پر بات ختم ہوگئی۔ اب دوبارہ ہم شاید ہی اس پر بات کریں بس ہماری زندگی ایسی ہی ہے۔
جانے کیوں میرا دل چاہتا ہے کسی روز ریحان کو بلواؤں …… سامنے بٹھاؤں اور کہوں۔
”پتا ہے اے ظالم بیٹے! تیرا دیا ہوا ننھا منا دکھ اور دھوکا کتنا کڑوا تھا۔ دوسروں کے لیے پیار اور اعتبار کی راہ میں کتنے ہی کانٹے بچھا گیا۔“
کیوں چنا تم نے مفلسی کا یہ راستہ! کیوں کھولا تونے اپنے من میں خرابی کا یہ دَر جو تمھارے بڑوں سے بند نہیں ہوا، تم سے کیسے ہوگا۔ اب بدلنے اور بہتر ہونے میں کتنی نسلوں کو انتظار کی سولی پر ٹنگے رہنا ہوگا۔
لکھنے بیٹھی ہوں تو یوں لگا ہے جیسے اب یہ قبر کے اس کتبے جیسی ہوگی جس پر کئی سال مہینے بیت جانے کے بعد مٹی کی تہیں جم جاتی ہیں۔ کبھی جو انگلیاں اس مٹی کو صاف کرنے لگیں تو انھیں مٹی کا لمس محسوس ہوتا ہے۔ ہمیں تمھارے وہاں چہرے کا لمس محسوس ہوگا۔ پھر ہاتھ رک جائیں گے اور تمھارے کتبے کے چہرے پر آئی مٹی کو نہیں اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرنے لگیں گے۔ صرف یہ سوچ کر کہ تم نے انھیں دکھ دے کر اتنے دن خود کس کرب اور بوجھ میں گزارے ہوں گے۔ بچے! خیالوں کی مفلسی سے بھرے دل کے ساتھ تُو یہ کس سفر پر نکل کھڑا ہوا ہے۔