function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

کڑوی تدبیر

جیک رچی | عالمی ادب

کافی ہیلن کی زندگی کا محور بن گئی تھی۔ جی ہاں! وہی کافی جس کی ہر موسم میں طلب رہتی ہے۔ ہیلن کے ’’سارا کافی ہائوس‘‘ کی کافی پینے کے لیے بھی گرمی سردی کی کوئی شرط نہیں تھی۔ ٹھنڈی کافی ہو یا گرم گرم بھاپ اڑاتی ہوئی، وہ بے حد عمدہ ہوتی۔ کچھ مہنگی بھی تھی مگر ایک اچھی چیز مہنگا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بس اس چیز کوعمدہ ہونا چاہیے۔ لوگ پھر دام کی پروا نہیں کرتے۔ ایسی ہی خوبی اور خصوصیت اس کافی میں بدرجہ اتم موجود تھی۔

اس کافی نے نہ صرف قصبہ بیرنگٹن بلکہ آس پاس کے تمام قصبوں میں اپنی خوشبو، خوش رنگ اور عمدہ ذائقے کی وجہ سے دھوم مچائی ہوئی تھی۔ان قصبوں کے کتنے ہی مردوں، عورتوں اور ریستورانوں نے اپنے ناک چنے چبوا لیے مگر وہ ’’سارا کافی ہائوس‘‘ کی جیسی شاندار کافی نہبں بنا سکے۔ ہیلن بہترین کافی بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ اس کی کافی ایسی لاجواب ہوتی کہ پینے والا اش اش کر اٹھتا۔ قصبے کے لوگوں کو منشیات کی طرح اس کافی کی لت پڑ گئی۔ شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو ہر روز ’’سارہ کافی ہائوس‘‘ آ کر ایک پیالی اور کافی نہ پیے۔ بہت سے تو ایسے تھے جو ایک ہی نشست میں تواتر کے ساتھ دو تین پیالیاں کافی پی جاتے۔ اس بہترین کافی کی وجہ سے قصبے میں شراب اور دوسرے عام مشروبات کی فروخت پر بہت برا اثر پڑا تھا۔

ابتدا میں عام خیال یہ تھا کہ ہیلن کسی ملک سے خاص قسم کی کافی منگواتی ہے، جبھی اس کی کافی لاجواب ہوتی۔ مگر جب تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ وہ قصبے ہی کے کسی بھی جنرل اسٹور سے ایک ہی برانڈ کی کافی کے درجنوں ڈبے خریدتی ہے۔ وہ کون سی کافی استعمال کرتی ہے، یہ سب کوعلم تھا۔ وہ گاہکوں کے سامنے ہی کافی بنا کر انھیں پیش کرتی۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ وہ کافی میں کوئی ایسی چیز شامل ضرور کرتی ہے جس سے اس کا کیف اور ذائقہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ اس میں کسی حد تک صداقت تھی۔ اس کا ’’کافی ہائوس‘‘ بہت چلتا تھا مگر اس نے اپنے ہاں کسی کو معاون کی حیثیت سے ملازم نہیں رکھا۔ بلکہ وہ تنہا ہی اپنا چھوٹا سا کافی ہائوس چلا رہی تھی۔ بوڑھوں کا کہنا تھا کہ اچھی کافی بنانے کا کوئی قدیم نسخہ اس کے ہاتھ آ گیا ہے۔ تبھی تو وہ ایسی شاندار کافی بناتی ہے کہ قصبے میں کوئی بھی اس کا عشر عشیر تک بنا نہیں سکا۔

ہیلن کی زندگی میں اس کافی نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ اپنی ماں کی شدید بیماری کی اطلاع پا کر چار سال بعد قصبے لوٹی تو اسی روزوہ چل بسی۔ اس کی ماں دس برس سے کافی ہائوس چلا رہی تھی۔ لیکن کمائی کو اس نے شراب نوشی اور ریس کی نذر کر دیا۔ آخری دنوں میں وہ کسمپرسی کی حالت میں دنیا سے چلی گئی۔ ہیلن نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اپنے قصبے میں رہ کر ماں کا کاروبار جاری رکھے گی۔ اسے اپنے قصبے میں بڑی کشش نظر آئی تھی۔ یہاں سکون تھا، نیویارک جیسی مشینی زندگی نہیں تھی۔

مگر ہیلن کے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ وہ نیویارک کے کسی چھوٹے کافی ہائوس کی طرح آرائش و زیبائش سے اپنے کافی ہاوس کو آراستہ و پیراستہ کرتی۔ نیویارک میں رہ کر وہ جو کچھ کماتی، اس سے پس انداز کر کے اپنی ماں کو رقم ہر ماہ بھیجتی رہتی۔ اس نے دو ایک دن خود ہی کافی ہائوس کی صفائی کی۔ پھر ایک سہیلی سے پانچ سو ڈالر قرض لے کر کافی ہائوس کھول لیا۔ کافی ہائوس میں چلانے کے لیے اس نے نیویارک کا کاروباری حربہ استعمال کیا۔

ہیلن سرو قد اور حسین دوشیزہ تھی۔ اس کے چہرے کے نقش و نگار میں تیکھا پن تھا جوبے اختیار دل میں اتر جاتا۔ بال بھورے اور آنکھیں نیلی تھیں۔ وہ جس قدر عمدہ تراش کا نفیس لباس پہنتی تھی، اس سے نوجوانوں اور مردوں کے دل پر بجلی بن کر گرتی۔ پہلے تو لوگ کافی پینے کی غرض سے نہیں بلکہ اس بُتِ طناز کا جلوہ دیکھنے آئے۔ خاص کر نوجوان لڑکوںکا اردہام رہنے لگا۔ اس نے ایک ہفتے میں بڑا شہرہ حاصل کر لیا۔ بہت سے نوجوانوں نے اس کے دل میں جگہ بنانے کی کوشش کی لیکن کسی کو کامیابی نصیب نہ ہو سکی۔ رفتہ رفتہ قصبے کے لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ ہیلن صرف حسین ہی نہیں بلکہ کافی بھی بہت عمدہ بناتی ہے،تو پھر کیا تھا، اس کا کافی ہائوس چل پڑا۔ وہ جلد خوش حال اور آسودہ زندگی گزارنے لگی۔

ایک شام کریب نامی نوجوان کسی قریبی قصبے سے کافی کی شہرت سن کر آیا، تو وہ ہیلن کو دل دے بیٹھا۔ وہ نوجوان شائستہ، سنجیدہ اور اس قدر نفیس مزاج کا تھا کہ ہیلن بھی دل دے بیٹھی۔ وہ عموماً دوپہر کے وقت آتا جب اِکادُکا گاہک ہوتے۔ ہیلن کو ایک ایسے ہی ہم سفر کی ضرورت تھی۔ کافی نے تو اس کے دل کی دنیا بھی آباد کر دی۔ دونوں نے آئندہ سال شادی کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ کریب اور ہیلن کے خواب یہ تھے کہ ان کے پاس اتنی رقم پس انداز ہو جائے کہ وہ اپنی مرضی کی زندگی بسر کر سکیں۔ ہنی مون سوئٹزر لینڈ میں جا کر اس طرح منائیں کہ وہ ناقابل فراموش بن جائے۔ دو ایک مہینے یورپ کی اس طرح سیاحت کریں کہ انھیں دنیا کی کوئی فکر لاحق نہ ہو۔ غرض زندگی کی تمام لذتوں سے محظوظ ہو کر واپس آئیں۔ پھر اپنا وقت گھر، کاروبار اور بچوں کو دیں۔ ساری زندگی چین و سکون اور پیار و محبت میں گزار ڈالیں۔

کریب ایک اخبار میں کالم لکھتا تھا۔ اس کی آمدنی معقول تھی۔وہ بڑی رقم پس انداز کرنے میں کامیاب ہو رہا تھا۔ ادھر ہیلن نے کافی ہائوس سے اتنا کما لیا تھا کہ اپنے قصبے میں نیا مکان خرید لیا۔ ہنی مون اور سیروسیاحت کے لیے بھی معقول رقم پس انداز کر لی۔ دونوں نے موسم بہارمیں شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

٭٭

وہ جمعرات کا دن تھا۔ اس روز سات بج کر چالیس منٹ پر ہی نہ صرف پورا قصبہ بلکہ ہیلن کا کافی ہائوس بھی ویران اور سنسان ہو گیا۔ حتیٰ کہ جنرل اسٹور اور بار بھی بند ہو گئے۔ دراصل ہالی وڈ کا مشہور اداکار راک ہڈسن ایڈز کی بیماری کے باعث مرگیاتھا۔اب رات آٹھ بج کر بیس منٹ پراس کے فن اور زندگی پر ٹی وی میں ایک پروگرام پیش ہونا تھا۔ وہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ اس نے جذباتی رنگ اختیار کر لیا۔ اسی لیے سب پہلے ہی گھروں میں نظر بند ہو گئے۔ ہیلن نے بھی آٹھ بج کر دس منٹ پر اپنا کافی ہائوس بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

سات بج کر پچاس منٹ پر وہ اپنا پھیلا ہوا سامان سمیٹ رہی تھی کہ کافی ہائوس کا دروازہ دھماکے کے ساتھ کھلا۔ دوسرے ہی لمحے چار آدمی اندر تھے۔ ان کے کرخت چہروں پر وحشی درندوں جیسی بے رحمی تھی۔ آنکھوں سے درندگی جھانک رہی تھی۔ ہیلن کو ان کے پستولوں نہیں بلکہ آنکھوں اور چہروں سے خوف محسوس ہوا۔ مقصد ایک بچہ بھی آسانی سے جان سکتا تھا۔ ہیلن بھی سمجھ گئی۔ اس وقت اتفاق سے ایک گاہک بھی موجود نہیں تھا۔ ہوتا بھی تو اس کی موجودگی سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ بلکہ اس کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا۔ تاہم ہیلن نے پھر بھی اپنے اعصاب پوری طرح قابو میں رکھے۔

دو بدمعاش تو بیرونی دروازے کے پاس قریب کھڑے ہو گئے۔ تیسرا بدمعاش کھڑکی کے پاس میز پر بیٹھ پردے کا کونا ذرا سا ہٹا کر باہر دیکھنے لگا۔ چوتھا بدمعاش اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے انگلیوں پر پستول نچاتے ہوئے ہیلن پر بری نظر ڈالی پھر اس کے ہونٹوں پر مکروہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ پستول کا رخ ہیلن کی طرف اس کی منجمد آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا ’’سنو بے بی! ہمارے پاس وقت بالکل نہیں۔ تمھارے پاس جتنی نقدی ہے، وہ ہمارے حوالے کر دو۔ اپنی کار کی چابی بھی ہمیں دو۔ ہماری کار تمھارے منحوس قصبے میں آ کر خراب ہو گئی ہے۔‘‘

ہیلن کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ یہ چاروں بدمعاش اس کی دن بھر کی کمائی لوٹنا چاہتے تھے۔ اس نے کمائی بڑی محنت سے حاصل کی تھی۔ وہ ان بدمعاشوں کے سامنے بے بس تھی۔ پھربھی اس نے حوصلہ کر کے چاروں بدمعاشوں کی طرف دیکھا اور بولی ’’کار کی چابی تم شوق سے لے جائو۔‘‘ اس نے کائونٹر کی دراز سے پرس نکالا۔ وہ اس کی زپ کھول رہی تھی کہ بدمعاش نے پرس جھپٹ کر اپنے ساتھیوں کی طرف اچھال دیا۔ جب وہ پلٹا تو ہیلن نے خوف زدہ ہرنی کے مانند دہشت سے انھیں دیکھا پھر بہ دقت تمام حوصلہ کر کے بولی ’’تم چند سو ڈالر حاصل کر کے کیا کرو گے؟ یہ چھوٹا سا کافی ہائوس ہے۔‘‘

’’قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔‘‘ اس بدمعاش نے کائونٹر پر ہاتھ مارا۔ ’’ہم چار جگہوں سے کامیاب لوٹے ہیں۔ ملنے والے چند سو ڈالر کے علاوہ ہیرے کی جڑائو انگوٹھی اور کانوں میں جھلملاتے آویزے بھی بہت قیمتی معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ وہ توقف کر کے کینہ توز نظروں سے اُسے گھورنے لگا، تو ہیلن کی رگوں میں خون منجمد ہو گیا۔ ’’پھر ہم یہاں سے انمول خزانہ بھی تو لے جائیں گے۔‘‘ ’’خزانہ؟‘‘ ہیلن اپنی جگہ سے اچھل پڑی۔ ’’کیسا خزانہ؟ یہاں کوئی خزانہ نہیں۔‘‘

’’ یہ سامنے تو ہے خزانہ۔‘‘ بدمعاش کی نظریں اس کے بدن میں چبھنے لگیں۔ وہ اندر ہی اندر کھول اٹھی۔ چاروں نے مل کر بھونڈے انداز میں قہقہے لگائے۔ پھراس نے کائونٹر پر جھک کر سرگوشی کے انداز میں پوچھا ’’کیا تم کسی خزانے سے کم ہو؟‘‘ ہیلن نے اس کی بے ہودہ بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کی نگاہ غیر ارادی طور پر دیواری گھڑی کی طرف اٹھ گئی، آٹھ بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ مگر اسے ایسا محسوس ہوا جیسے پانچ صدیاں باقی ہیں۔ دراصل ٹھیک آٹھ بجے شیرف اور اس کا ساتھی رینالڈبلا ناغہ کافی لینے آتے اور پھر چلے جاتے تھے۔ شیرف اور گھڑی کی سوئی میں کبھی فرق نہیں پڑا تھا۔ وقت کی یہ پابندی اس وقت سے چلی آ رہی تھی جس روز شیرف نے پہلی بار کافی پی۔ ہیلن تو اپنی گھڑی کا وقت اکثر شیرف کی آمد پر ملاتی۔ اس کی دستی گھڑی اکثر صحیح وقت نہیں بتاتی تھی مگر شیرف ٹھیک وقت پر پہنچ جاتا۔ لیکن شاید آج وہ ٹی وی پر راک ہڈسن کا پروگرام دیکھ کر آئے۔ ہیلن نے مایوسی اور دل شکستگی سے سوچا وہ بھی تو، راک ہڈسن کا عاشق تھا۔

’’تم گھڑی کیوں دیکھ رہی ہو؟ کیا تمھارا منگیتر تھیں لینے پہنچنے والا ہے؟‘‘ ’’نہیں۔‘‘ اس نے جلدی سے کچھ سوچ کر جواب دیا۔ ’’روزانہ ٹھیک آٹھ بجے شیرف اور اس کا ایک ساتھی کافی لینے آتے ہیں۔ بس اب وہ آنے ہی والے ہیں۔‘‘ کیا وہ دونوں کافی یہاں بیٹھ کر پیتے ہیں؟‘‘ ’’نہیں۔‘‘ ہیلن نے جواب دیا۔ ’’وہ اپنے گلاس لے کر چلے جاتے ہیں۔‘‘ ’’یہ تو اچھی بات ہے۔‘‘ اس نے تمسخر سے کہا۔ ’’سنو بے بی! ہم یہاں کوئی خون خرابا کرنا نہیں چاہتے۔ تم ہم سے تعاون کرو ، تو شاید ہم تمھیں ساتھ نہ لے کر جائیں۔ جس وقت شیرف اور اس کا ساتھی یہاں داخل ہوں، تم خود کو پوری طرح قابو میں رکھو گی اور انھیں کوئی اشارہ نہیں کرو گی۔ اگر تم نے کوئی تدبیر اور چالاکی دکھائی تو سب سے پہلے میری گولی تمھارا سر پھاڑے گی۔ شیرف اور اس کے ساتھی سے نمٹنے کے لیے میرے یہ تین دوست کافی ہیں۔ ان کے نشانے کبھی نہیںچوکتے۔ ان کے ہاتھوں میں بجلیاں بھری ہیں۔ اب تم جلدی سے ہمارے لیے کافی تیار کرو، سمجھیں۔‘‘

ہیلن نے کسی سعادت مند شاگرد کی طرح اپنا خوشما سر ہلایا تو دروازے میں کھڑے بدمعاش نے کائونٹر کے پاس آ کر پوچھا ’’یہ دونوں گدھے بلاناغہ کافی پینے کے لیے صرف یہیں کیوں آتے ہیں؟‘‘ ’’صرف وہ دونوں ہی نہیں بلکہ بہت سے گاہک بھی!‘‘ ہیلن کہنے لگی ’’آج یہاں سناٹا اس لیے ہے کہ ٹی وی پر راک ہڈسن کی زندگی کے بارے میں ایک فلم دکھائی جانے والی ہے۔‘‘ وہ توقف کر کے مگ کائونٹر پر رکھنے لگی۔‘‘ میں بہت شاندار کافی بناتی ہوں ۔جو ایک بار پی لے، اسے چسکہ لگ جاتا ہے۔ وہ کسی نشے کی طرح اس کا عادی ہو جاتا ہے۔‘‘

’’ہم نے بھی بڑی تعریفیں سنی ہیں۔‘‘ تیسرا بدمعاش جو کھڑکی کے قریب میز پر بیٹھا تھا، پردے کا کونا چھوڑ کر بولا ’’کافی کی اور تمھاری بھی!سچ پوچھو تو کافی ہی ہمیں یہاں کھینچ لائی ہے۔ مگر تم کافی کے مقابلے میں زیادہ شہرت رکھتی ہو… آج دیکھا تو یقین آ گیا کہ تم واقعی حسن کا بے مثال نمونہ ہو۔‘‘ ’’میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ تم لوگ جتنی جلد ہو سکے یہاں سے نکل جائو۔ تم اس قصبے کے شیرف کو نہیں جانتے، وہ بڑا تند مزاج اور سخت گیر ہے۔ اسے بلاوجہ غصہ بھی آتا رہتا ہے۔ بے حد چڑچڑا ہے، ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا۔ آج تک کوئی مجرم شیرف کے ہاتھ سے بچ نہیں سکا۔‘‘

’’اپنی زبان بند رکھو اور اپنے کام سے کام رکھو، ورنہ…‘‘ اس کی بات ادھوری رہ گئی۔ ایک کار کی روشنی کھڑکی کے شیشے سے ہوتی ہوئی اندر پھیلی پھر دوسرے لمحے غائب ہو گئی۔ چاروں نے تیزی سے لپک کر الگ الگ میزیں سنبھالیں۔وہ ایک ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ ہیلن نے ان کی پوزیشنیں دیکھیں تو وہ سمجھ گئی کہ یہ پیشہ ور بدمعاش ہیں۔ جس انداز میں بیٹھے، اس سے وہ شیرف مع ساتھی کا آسانی سے نشانہ لے سکتے تھے۔ شیرف یااس کا ساتھی ان چاروں میں سے کسی ایک کو بھی نشانہ نہ بنا پاتے۔

وہ خود کو قابو میں رکھ کر کافی تیار کرنے لگی مگر اس کا ذہن تیزی سے کوئی ایسی تدبیر سوچ رہا تھا کہ شیرف اور اس کے ساتھی کوبدمعاشوں کے ارادوں کا علم ہو جائے۔ وہ شیرف کو ایسا اشارہ دینا چاہتی تھی کہ بدمعاشوں کو ہوا تک نہ لگے۔ آنکھوں کی زبان سے اشارہ دینا بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اس لیے کہ ان بدمعاشوںکی نگاہیںاس کی حرکات و سکنات پر مرکوز تھیں۔ وہ کوئی ایسی حماقت کرنا نہیں چاہتی تھی کہ تین لاشیں خون میں لت پت پڑی ہوں۔ وہ کوئی ایسی تدبیر کرنا چاہتی تھی کہ سانپ مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

اسی پل ایک خیال اس کے ذہن میں بجلی کی طرح آیا۔ کافی سے وہ کوئی مدد لے سکتی ہے؟ اشارہ دے سکتی ہے؟اس کافی نے آج تک اسے خوشیاں تھیں، اب یہی کافی آج اس کے لیے عذاب بن رہی تھی۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک تدبیر آئی، تو اس نے سوچا، کیا ایسا ممکن ہے کہ یہ کافی مجھے ان بدمعاشوں سے نجات دلا دے؟ مگراسے امید نہیں تھی کہ اس کی تدبیر کارگر ثابت ہو۔ ادھر گھڑی میں ٹھیک آٹھ بجے ادھر شیرف تنہا اندر داخل ہوا۔ وہ کبھی کبھار تنہا چلا آتا تھا اور اس کا ساتھی گاڑی ہی میں بیٹھا رہتا۔ ہیلن اس قدر پرسکون تھی کہ اسے خود بھی حیرت تھی۔

اس نے کن انکھیوں سے بدمعاشوں کی طرف دیکھا جو شریف صورت بنائے بیٹھے بظاہر ایڈز کی بیماری کو اپنی گفتگو کا موضوع بنائے ہوئے تھے۔ مگر وہ غیر محسوس طریقے سے پوری طرح چوکنا تھے۔ ان سب کی نظریں اس کی حرکات و سکنات پر جمی ہوئی تھیں۔ معمول کے مطابق شیرف نے اندر داخل ہو کر رسمی جملوں کا تبادلہ کرتے ہوئے کریب کے بارے میں پوچھا۔ پھر اسٹول پر بیٹھ ان چاروں بدمعاشوں پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی اور ہیلن کی طرف متوجہ ہو گیا۔ آج پہلی بار تمھارے ہاں چند گاہک دیکھ رہا ہوں۔‘‘

’’ہاں! ہیلن خوش دلی سے بولی ’’ٹی وی پر آج جو پروگرام دکھایا جا رہا ہے وہ ایسا ہے کہ ایک گھنٹا پہلے ہی سے قصبہ ویران اور سنسان ہو گیا۔‘‘ ’’راک ہڈسن ہمیشہ میرا پسندیدہ اداکار رہا ہے مگر اس کی موت بڑی عبرتناک تھی۔‘‘ شیرف نے پژمردگی سے کہا۔ ہیلن نے کافی کے دو گلاس تیار کیے اور شریف کی طرف بڑھا دیے۔ شریف اٹھ کھڑا ہوا۔ بٹوہ نکال کر اس کی قیمت ادا کی گلاس اٹھا کر جانے کے لیے مڑا پھر جاتے ہوئے ان بدمعاشوں پر ایک نظر ڈال نکل گیا۔

شیرف کی کار جیسے ہی اسٹارٹ ہو کر چلی، چاروں بدمعاش بہ سرعت اپنی کرسیوں سے اٹھ کر اس کی طرف لپکے۔ تمام رقم چھینی، منگنی کی انگوٹھی اور کانوں سے آویزے اتار لیے اور اسے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔
’’مگر تم نے تو کہا تھا کہ تعاون کرو گی تو ساتھ نہیں لے جائیں گے؟‘‘ ہیلن نے حوصلہ کر کے کہا۔ ’’کہا تو تھا۔‘‘ وہ بولا ’’مگر تمھارے ہاتھ کی کافی بھی تو پینی ہے۔ جب تک جی نہیں بھرتا تم کافی بنا کر پلاتی رہی گی۔ ہم تو تمھیں صرف کافی بنانے کے لیے لے جا رہے ہیں۔‘‘

ہیلن کو بڑا دکھ تھا کہ اس کی تدبیر ناکام ہو گئی۔ وہ ان بدمعاشوں کے ارادے اچھی طرح سمجھتی تھی۔ اب پولیس کو اس کی لاش ہی دستیاب ہو سکتی تھی۔ اس ہولناک تصور سے اس کے بدن پر لرزہ طاری ہو رہا تھا۔ وہ غم و صدمے سے نڈھال تھی۔ اس کا دل اندر سے کریب کو پکار رہا تھا۔ بدمعاش اس کا بازو پکڑ کے گھسیٹتے ہوئے کار میںلے گئے۔ آ گے دو اور پیچھے دو بدمعاش اسے لیے بیٹھے۔ دفعتاً ہیلن کو ایسا محسوس ہوا کہ بھونچال آ گیا ہو۔ چاروں طرف سے سنسناتی ہوئی گولیوںنے کار کے ٹائر پنکچر کر ڈالے۔ کار کا ستیاناس ہو گیا پھرکار روشنی میں نہا گئی۔ دو بدمعاشوں نے بڑی سرعت کے ساتھ باہر نکل کر پوزیشن لینے کی کوشش مگر وہ گولیوں کا نشانہ بن کر ڈھیر ہو گئے۔ باقی دونوں بدمعاشوںنے پستول باہر پھینک کر اپنی جانیں بچائیں۔

٭٭
ایک گھنٹے بعد ہیلن اپنے کافی ہائوس میں شیرف اور اس کے ساتھی کے ساتھ بیٹھی کافی پی رہی تھی۔ ہیلن نے پوچھا ’’تم دور جا کر فوراً ہی واپس آ گئے؟ کیا تمھیں بعد میں احساس ہوا کہ میرے ہاں مفرور بدمعاش بیٹھے ہوئے ہیں یا ریڈیو پر تمھیں ان کے بارے میں کوئی اطلاع ملی تھی؟‘‘ ’’تمھاری کافی نے واپسی پر مجبور کر دیا۔ تمھیں اندازہ نہیں کہ میں کس قدر غصے میں واپس آیا۔‘‘ ’’وہ کس لیے؟‘‘ ہیلن نے دل فریب انداز میں مسکرا کر پوچھا۔
’’اس لیے کہ تمھاری خبر لے سکوں۔‘‘ شیرف بولا ’’کافی ہائوس پہنچ کر کار سے اتر رہا تھا کہ تمھاری کار تیزی سے جاتے ہوئے دکھائی دی۔ میں نے اس خیال سے تمھارا تعاقب کیا کہ تمھاری سرزنش کر سکوں۔ اتنے اونچے دام اور ایسی واہیات کافی! میں نے اپنی ساری زندگی میں کبھی ایسی بدمزہ، تلخ اور زہریلی قسم کی کافی نہیں پی۔ اسی کافی نے تو مجھے فوراً واپسی پر مجبور کر دیا ۔‘‘

’’میں جانتی تھی کہ تم بدمزہ کافی پی کر فوراً واپس آئو گے اور ان بدمعاشوں سے نجات دلائو گے۔ بدمزہ کافی ہی ایک اشارہ اور تدبیر تھی اپنے آپ کو بچانے کی… کیوں کیسی رہی میری تدبیر شیرف؟‘‘ ’’بہت اچھی، بہت عمدہ، بالکل اس کافی کی طرح۔‘‘ اس نے کافی کاپیالہ آگے کرتے ہوئے کہا۔ ’’مگر خدا کے لیے پھر کبھی ایسی بدمزہ اور زہریلی کافی نہ بنانا۔‘‘ شیرف نے ایسا برا منہ بنایا کہ وہ تینوں ہنس پڑے۔