function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

کاروبار کرنے کے قیمتی گُر

طیب طارق | اپریل 2015

نماز مغرب پڑھ کر گھر آیا‘ تو امی نے اطلاع دی کہ ڈرائنگ روم میں علی تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ علی میرے دوست کا چھوٹا بھائی ہے اور ہمارا ہمسایہ بھی۔ میں بھی اُسے اپنا چھو ٹا بھائی سمجھتا ہوں۔ اسی لیے وہ مجھے اپنی تمام پریشانیاں بتاتا ہے اور راز بھی۔ اس دن وہ آیا‘ تو کچھ پریشان لگ رہا تھا۔ میں نے چہرے کے تاثرات بھانپتے ہوئے پوچھ لیا کہ کیا بات ہے علی، خیریت ہے؟

میرے پوچھنے کی دیر تھی وہ تو جیسے پھٹ پڑ ا اور کہنے لگا ’’طیّب بھائی! مجھے ماسٹرز کی ڈگری لیے ایک سال ہوگیا مگر ابھی تک ملازمت نہیں ملی۔ گھر والوں کی طرف سے بھی دبائو ہے کہ اگر گھر پیسے نہیں دینے تو کم از کم اپنا خرچ تو اٹھائو تاکہ تمہاری شادی کر سکیں۔ میں خاندان میں جس لڑکی کو پسند کرتا ہوں، اس کے گھر والوں کی بھی یہی شرط ہے کہ میں پہلے ملازمت کروں‘ پھر منگنی کریں گے۔ مجھے تو ڈر ہے‘ اُس کی منگنی کسی اور ہی سے نہ ہو جائے۔ کیا فائدہ ان ڈگریوں کا جب ان کے ذریعے چار پیسے کمانے مشکل ہو جائیں۔ دل کرتا ہے‘ ان ڈگریوں کو جلا کے راکھ کر دوں۔‘‘

جب اس نے جی بھر کے اپنے دل کا غبار نکال لیا‘ تو میں نے پوچھا : ’’علی تم کاروبار کیوں نہیں کر لیتے؟ تم نے ماسٹرزکیا ہوا ہے، ذہین بھی ہو‘ تو اپنا کاروبار کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟ اللہ کے پیارے بنیﷺ کا بھی یہی فرمان ہے کہ تجارت میں رزق کے نو حصّے ہیں۔ پھر کاروبار سے نہ صرف تم اپنے معاشی حالات بہتر بنائو گئے بلکہ ملک کی معاشی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہو۔ تمہارے جیسے لاکھوں نوجوان کاروبار کر کے اس ملک میں معاشی انقلاب کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔‘‘
وہ کہنے لگا ’’طیّب بھائی میں کاروبار کرناچاہتا ہوں‘ مگر ڈرتا ہوں۔‘‘
’’کس بات کا ڈر؟ ‘‘میں نے پوچھا۔

کہنے لگا ’’مجھے کاروبار کا کوئی تجربہ نہیں۔ اگر میری رقم ڈوب گئی‘ تو پھر کیا ہو گا؟ والد صاحب ساری عمر کی جمع پونجی مجھے دیں گے۔ اگر بینک سے لیتا ہوں اور کاروبار نہ چل سکا‘ تو ساری عمر قرضہ اُتارتا رہوں گا۔ مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ کون سا کاروبار کرنا چاہیے، کس میں زیادہ منافع ہوگا اور جتنی رقم میرے پاس ہے‘ اس میں کون سا کاروبار ہو سکتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں ماسٹرز کے بعد کاروبار ہی کرنا چاہتا تھا‘ مگر یہ  تمام باتیں سوچ کے ڈر گیا۔ پھر ہمارے ہاں کوئی ایسا  ادارہ بھی نہیں جو اس حوالے سے راہنمائی دے سکے۔‘‘

میںنے کہا ’’دیکھو علی، تمہارے سارے خدشات ایسے شخص کے مانند ہیں جو کسی مقابلے میں شامل ہونے سے پہلے ہی یہ سوچنے لگے کہ میں ہار جائوں گا۔ اگر سکندر اعظم دنیا فتح کرنے سے پہلے یہی سوچتا کہ اُسے شکست ہو جائے گی‘ تو کبھی دنیا کا عظیم فاتح نہ بنتا۔ مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر ہندوستان آنے سے پہلے یہ سوچ لیتا کہ اُسے شکست ہو گی‘ تو آج ہندوستان کی تاریخ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ سٹیفن ہاکنگ اپنی معذوری کو حرز جاں بنتا‘ تو اس صدی کا سب سے بڑا سائنس دان نہ بن پاتا۔ سب سے پہلے اپنے اوپر یقین کرنا سیکھو کہ ہاں میں کر سکتا ہوں، میں چاہوں‘ تو دنیا بھی مسخر کر سکتا ہوں۔ علامہ اقبالؒ کا فلسفہ خودی اسی یقین کی طاقت اور اپنے اوپر اعتماد کا نام ہے۔
’’تم نے اپنے جو خدشات بتائے‘ ان کا حل نکالنا ممکن ہے۔ دراصل کم و بیش ہر آدمی خطرے کے امکانات سے ڈرتا اور انھیں کم کرنا چاہتا ہے۔ کاروبار کے تناظر میں اگر ہم بات کریں‘ تو اس میں بھی رقم ضائع ہونے کا خطرہ ہم کم سے کم کر سکتے ہیں۔ پہلا سیدھا سادہ فارمولا‘ تو یہ ہے کہ آپ کے پاس جتنی رقم ہے‘ اُس کے ایک تہائی حصے سے کاروبار شروع کرو۔ یعنی ایک انگریزی محاورے کے مطابق اپنے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں کبھی مت ڈالیں۔

’’دوسرا نکتہ یہ کہ اگر کاروبار کے لیے پیسے کم ہیں یا آپ نقصان سے ڈرتے ہیں‘ تو اپنے کسی بااعتبار دوست یا عزیز رشتے دار کے ساتھ شراکت کر لیجیے۔ اگر آپ کے پاس بالکل معمولی رقم ہے‘ لیکن آئیڈیا ٹھوس ہے‘ تو اپنے کسی مالی طور پر مستحکم رشتے دار یا دوست سے بات کیجیے… یہ آئیڈیا میرا، محنت میری، پیسا تمہارا اور منافع ہم آپس میں خاص شرح سے بانٹیں گے جو آپس میں طے کیا جا سکتا ہے۔  ’’اب تو آئی ٹی سے متعلقہ کاروبار مثلاً آن لائن دکان، سافٹ وئیر، موبائل ایپ، آن لائن پبلشنگ یا کسی بھی طرح کی آن لائن خدمات کے لیے سرمائے کا حصول آسان ہو چکا۔ اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے پلان ۹ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔ ملک کی مایہ ناز یونیورسٹی لمزنے بھی ایک پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ کا آئیڈیا بہت شاندار ہو اور انھیں پسند آجائے۔

’’اگر آپ چھوٹی سطح کا کاروبار کرنے کے لیے سرمایہ چاہتے ہیں‘ تو اس کے لیے اخوت فائونڈیشن‘ کشف مائیکرو فنانس موجود ہیں۔ اہم بات یہ کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے درکار سرمائے کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اب پاکستان میں بھی کراؤڈ فنڈنگ اور اینجل فنڈنگ جیسی عالمی سہولیات میسر ہیں۔ اس سرمائے کے حصول کے طریقوں اور متعلقہ کمپنیوں کے بارے میں تفصیل تمھیں پھر کبھی  بتاؤں گا۔  ’’تیسرا نکتہ تم نے اٹھا یا کہ تمھیں کاروبار کا تجربہ نہیں ہے اور کون سا کاروبار کرنا چاہیے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح آپ امتحان میں کامیابی کے لیے تیاری کرتے ہیں، کاروبار میں کامیاب ہونے کے لیے بھی تیاری کرنی پڑے گی تاکہ ناکامی کا امکان کم سے کم ہو اور رقم بھی ضائع نہ ہو۔‘‘

علی نے حیران ہو کر پوچھا ’’کاروبار کی تیاری سے کیا مراد ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا: ’’جس طرح کسی بھی مقابلے میں آپ کے حریف ہوتے ہیں ، اسی طرح کاروباری دنیا میں بھی حریف ملتے ہیں۔ لہٰذا مقابلے کے لیے متعلقہ کاروبار کے معیار اور مصنوعہ کی خصوصیات پر مکمل گرفت، مارکیٹ ریٹس سے آگاہی اور کاروبار میں منافع کی صلاحیت جانچنے کے لیے اس کی فزیبلٹی تیار کرنے کو کاروبار کی تیاری کہا جا سکتا ہے۔ ساتھ میں یہ بھی ضروری ہے کہ اگر آپ کو اس کاروبار کا بالکل تجربہ نہیں‘ تو اسے شروع کرنے سے پہلے تین چار مہینے کسی متعلقہ فرم میں انٹرن شپ کر لیں یعنی تھوڑا عملی کام سیکھ لیا جائے تاکہ نقصان کا امکان کم ہو سکے۔ کاروباری خاندانوں میں اب بھی یہی رواج ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پہلے ملازمین کے ساتھ بٹھا کر کام سکھاتے‘ پھر کرسی پر بٹھاتے ہیں۔‘‘

علی کو اب میری باتوں میں دلچسپی محسوس ہو رہی تھی، کہنے لگا ’’طیّب بھائی اگر آپ برا نہ مانیں‘ توآج رات کا کھانا ہم اکھٹے کھا لیں، میں آپ سے کاروبار کے حوالے سے مزید راہنمائی چاہ رہا ہوں۔‘‘

میں نے کہا ’’بھئی تم مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہو، اگر کہو تو میں فجر تک تمہاری راہنمائی کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘
ہم پھر ایک مقامی تکہ شاپ کی جانب روانہ ہو گئے۔ راستے میں اس نے ایک میڈیکل اسٹور سے کھانسی کا سیرپ لیا۔ کھانے کا آرڈر دے کر جب دوبارہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا‘ تو میں نے اس سے کہا ’’علی اگر تم واقعی کاروبار کے بارے میں سنجیدہ ہو‘ تو ہمیں روزانہ ایک نشست رکھنی چاہیے جس میں کاروبار کے ایک موضوع پر سیر حاصل گفتگو کر سکیں۔  یہ موضوع بہت وسیع ہے اور ایک نشست میں اس پر تفصیلی بات چیت ممکن نہیں۔ ان نشستوں میں ہم کاروباری آئیڈیاز پر بات کریں گے۔ کاروبار کی ہر شکل مثلاً امپورٹ ، ایکسپورٹ ، آن لائن کاروبار وغیرہ کی عملی مشکلات اور اسے شروع کرنے کی حکمت عملی بھی  زیربحث آئے گی۔ ہم دیکھیں گے کہ عملی دنیا میں کاروبار کیسے ہو رہا ہے اور کیسے شروع ہو سکتا ہے ۔‘‘

میرا یہ کہنا تھا کہ اس کی تو باچھیں کھل گئیں، کہنے لگا ’’نیکی اور پوچھ پوچھ، میں تو خود یہی چاہتا تھا، اچھا ہو گیا آپ نے یہ بات خود ہی کہہ دی۔‘‘ چناںچہ  فیصلہ یہ ہوا کہ ہم ہفتے میں تین دن نشست رکھیں گے اور کاروبار کے ایک موضوع پر تفصیلی بات چیت کیا کریں گے۔طے پایا آج ہم کاروبار کے متعلق بنیادی باتیں کریں گے مثلاً کاروبار کہاں سے اور کیسے شروع کیا جائے، کون سا کاروبار کیا جائے اور اس کی فزیبلٹی کیسے بنائی جائے ۔ میںنے علی کو جو کچھ بتایا‘ اس سے بیروزگار نوجوان اور اُن کے متوحش والدین بھی راہنمائی پا سکتے ہیں:
٭٭
’’انسان کاروبار رقم کمانے کے لیے کرتا ہے تا کہ اپنا معیار زندگی بہتر بنائے اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھ سکے۔ کاروبار میں آپ کچھ نہ کچھ بیچتے ہیں چاہے وہ کوئی خدمات ہوں(مثلاً اسکول، کمپیوٹر کالج، ڈاکٹر اور وکیل کی خدمات) کوئی تیار شدہ مال ہو یا غیر تیار شدہ مال یا چاہے کوئی تحریری یا آن لائن مال جیسے میگزین وغیرہ۔ اس میں سے خرچہ نکال کر جو بچے‘ وہ آپ کا منافع ہوتا ہے۔

دنیا میں اس وقت سرمایہ داری نظام مقبول ہے۔ سرمایہ داری نظام میں ہر چیز بکتی ہے۔ اس وقت تم نے جو جوتے پہنے ہوئے ہیں‘ ان سے لے کر تمھارے کپڑوں اور کھانے تک ہم مختلف اشیا خریدتے یعنی بیچنے والے کو پیسے دیتے ہیں۔ اسی طرح ہر چیز یا آئٹم کی  اپنی سپلائی چین ہوتی ہے۔سپلائی چین کو ہم سادہ زبان میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی چیز کے بننے یا زمین سے نکلنے سے لے کر صارف کے ہاتھوں میں پہنچنے کا سفر۔

مثال کے طور پر تم نے ابھی کھانسی کا شربت خریدا۔ یورپ یا چین کی کسی کمپنی نے اس کا را مٹیریل یا خام مال بنایا۔ پاکستان کے کسی امپورٹر نے اسے باہر سے منگوایا اور مقامی فارما کمپنی کو بیچا۔ فارما کمپنی نے اسے کھانسی کے شربت میں تبدیل کر کے ڈسٹری بیوٹر کو بیچا۔ ڈسٹری بیوٹر نے شربت فارمیسی والے کو بیچا۔ فارمیسی والے سے آخر وہ تم تک پہنچ گیا۔

اس سارے عمل میں مینوفیکچرر، امپورٹر، ہول سیلر‘ ڈسٹری بیوٹر‘ ریٹیلریا فارمیسی، ہر ایک نے اپنا منافع رکھا اور دوا کو آگے بیچا۔ اسی طرح ایک کھانسی کی دوائی کے ساتھ کئی کاروبار جڑے ہیں۔ اس بوتل پہ جو لیبل چپکا ہے، وہ اس کے مینوفیکچرر نے کہیں اور سے پرنٹ کروایا۔ شیشے کی بوتل کہیں اور سے لی اور اس کا ڈھکن کہیں اور سے خریدا۔ جس کارٹن میں یہ پیک ہو کے ڈسٹری بیوٹر اور فارمیسی کے پاس گئی‘ وہ اس نے کہیں اور سے خریدا ہو گا۔ شربت میں جو مرکبات استعمال ہوئے  مثلاً چینی وغیرہ وہ اس نے کہیں اور سے خریدی ہو گی۔ اس طرح کھانسی کی دوائی کے ایک برانڈ سے کم ازکم دس طرح کے کاروبار چل رہے ہیں۔
اب اس سپلائی چین کے کسی بھی حصے میں داخل ہو کر تم کاروبار شروع کر سکتے ہو۔ یہی حساب باقی تمام کاروباری شعبوں کا بھی ہے۔ اب یہ فیصلہ تم نے کرنا ہے کہ اس سپلائی چین کے کس حصے میں داخل ہو کر  امپورٹر‘ ایکسپورٹر بننا ہے ، ہول سیلر یا ریٹیل یعنی دکان بنانی ہے۔ ریٹیل میں تم آن لائن شاپ یعنی دکان بھی بنا سکتے ہو جو اس وقت بشمول پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پھیلتا رجحان ہے۔ اس کے علاوہ سروسز کا شعبہ بھی تمھارے لیے کھلا ہے جس میں تم اکیڈمی سے لے کر کمپیوٹر کالج اور اسکول تک بنا سکتے ہو۔ پھر جدید رجحانات میں ڈے کیئر سنٹرز شامل ہیں۔

فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری
کون سا کاروبار شروع کرنا چاہیے یا کون سا تمہارے لیے بہتر رہے گا ؟اس بات کا فیصلہ تمھیں درج ذیل آٹھ عوامل کا سائنسی اور اعداد و شمار کی بنیاد پر تجزیہ کرتے ہوئے کرنا چاہیے۔ ۱۔ ذاتی دلچسپی۔ ۲۔ منافع کی شرح۔ ۳۔ کل  درکار سرمایہ کاری۔ ۴۔ کاروبار یا مصنوعہ مانگ ۵۔ کیش فلو (پیسے کا بہاؤ ) یعنی جن کو آپ نے سامان بیچنا ہے ان کے ساتھ کام اُدھار پر ہے یا نقد؟ اگر اُدھار پرہے‘ تو کتنے دن کا اور پیچھے سے یعنی جن سے آپ نے سامان خریدنا ہے‘ ان کے ساتھ آپ کا کام اُدھار پر ہے یا کیش اور اگر اُدھار پر ہے‘ تو کتنے دن کا اُدھار ہے اور رقم ٹوٹ کر یعنی قسطوں میں توواپس نہیں ملتی۔ ۶۔مارکیٹ میں مدمقابل کتنے ہیں۔ ۷۔ آنے  والے زمانے میں رجحان کس چیز کا بڑھ رہا ہے؟  کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کا کاروبار آنے والے وقت میں لوگوں کے بدلتے رجحان کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو بیٹھے۔ ۸۔ متعلقہ کاروبار کا تجربہ۔

انہی میں سے دلچسپی اور تجربے کا عنصر نکال کر باقی عناصر کا اعداد و شمار کی بنیاد پر سائنسی تجزیہ کاروبار کی فزیبلٹی رپورٹ کہلاتا ہے۔ بلکہ اگر ہم فزیبلٹی کی کتابی تعریف سے باہر نکل کر بات کریں‘ تو یہ دونوں عناصر بھی فزیبلٹی کی تعریف میں شامل ہیں کیونکہ کاروبار کی کامیابی میں اعدادوشمار کے علاوہ انسانی حوصلہ ، کاروبار چلانے کی لگن ، تجربہ اوراس سے سیکھے سبق‘ یہ سب انسانی رویے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

فزیبلٹی بنانے کا مقصد یہ ہے کہ کاروبار سے کمائی کی ممکنہ استعداد، مانگ میں اضافے اور منافع کا  حقیقت کے قریب ترین تخمینہ لگا لیا جائے تاکہ نقصان کا اندیشہ کم سے کم ہو۔ اب اگلا سوال یہ ہے کہ فزیبلٹی کیسے بنائی جائے؟ ہم ان ہی آٹھ عناصر کو تھوڑا تفصیل سے لیتے ہیں جس سے تمھیںفزیبلٹی کی بنیادی باتیں سمجھ آ جائیں گی۔
۱۔ کاروبار میں دلچسپی:

سب سے پہلے یہ دیکھو کہ جو کاروبار تم نے شروع کرنا ہے کیا تمھیں اس سے دلچسپی ہے بھی یا نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مشورہ تمھیں دکان کا دیا جا رہا ہو‘ لیکن تم دل میں سوچ رہے ہو کہ میں اب اتنا پڑھ لکھ کے دکانداری کروں گا؟ لہٰذا صرف کسی کے مشورے پر بغیر سوچے سمجھے کبھی کوئی کاروبار شروع مت کرنا۔ پہلے یہ دیکھو کہ تمہارا اپنا دل کیا چاہتا ہے؟ اور کاروبار کرنے کی خاطر تمہارے پاس کوئی آئیڈیا ہے؟ اگر آئیڈیا ہے‘ تو پہلے اس کی مکمل فزیبلٹی بنائو‘ اس چیز ، مال یا خدمات کی ممکنہ مانگ کی عملی جانچ پڑتال کرو اور پھر اللہ پر بھروسا کر کے اسے شروع کرنا۔ ان شااللہ رب تعالیٰ کی مدد سے کامیابی تمہارا مقدر ہو گی۔
علی نے لقمہ دیا : ’’طیّب بھائی،میں نے ابّا جان سے ایک دکان شروع کرنے کا مشورہ کیا تھا‘ لیکن وہ اُسے سنجیدہ لینے کے بجائے الٹا میرا مذاق اُڑانے لگے کہ اب تم پڑھ لکھ کے دکان داری کرو گے۔‘‘

میں نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے جواب دیا‘ دیکھو علی، یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم پڑھ لکھ کر کاروبار کرنے کو حقیر چیز سمجھتے ہیں۔ کاروبار جیسی اہم چیز کو ہم نے کم پڑھے لکھے لوگوں یا کارپوریٹ سیکٹرکے حوالے کیا ہوا ہے۔ یہی حال ہمارے زمیندار بھائیوں کا ہے کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ زمینداری کرنا گناہ کبیرہ سمجھنے لگتے ہیں۔افسوس کی بات یہ کہ والدین بھی ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

دکانداری کوئی بری چیز نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ پڑھ لکھ کر اسے آپ نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کر رہے ہیں یا نہیں؟ حقیقتاً پڑھ لکھ کر آپ دکانداری میں اس انداز سے جدّت لا سکتے ہیں کہ ایک ہی دکان کا نام آپ کو کروڑوں روپے دلوا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کلینکس (clinix) نام کی ایک فارمیسی لاہور میں آج سے تقریباً دس بارہ سال پہلے کھلی تھی۔آج اس فارمیسی کی پوری چین ہے، ایک برانڈ ہے اور اس کی ماہانہ سیل کروڑوں روپوں تک جا پہنچی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ فارمیسی کی دکانداری کوئی برا کام تو نہیں۔ اصل بات تو یہ ہوئی کہ آپ اسے چلا کیسے رہے ہیں اور اسے آگے بڑھانے کے لیے آپ میں کتنا جذبہ اور حوصلہ موجود ہے۔

اسی طرح اگر ریٹیل اسٹور کی بات کریں‘ تو لاہور میںایچ کریم بخش کے نام سے ایک دکان مال روڈ پر موجود تھی۔ اب اس کی کئی برانچیں ہیں۔ اگر ہم آن لائن دکان کی بات کریں‘ تو دراز پی کے (daraz.pk) اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا آن لائن ریٹیل اسٹور بن چکا جس کی سیل محتاط تخمینے کے مطابق پاکستان کے کسی بھی بڑے ریٹیل اسٹور کے برابر یا اس سے زیادہ ہی ہو گی۔ زمینداری اور کاشت کاری سے متعلق نئے خیالات اور رجحانات پر بھی ہم ایک نشست میں بات کریں گے۔ ابھی ہماری توجہ اسی موضوع کی طرف مرکوز رہنی چاہیے۔

۲۔منافع کی شرح:
کسی بھی کاروبار میں سب سے اہم چیز اس کے منافع کی شرح اور سیل کا ممکنہ تخمینہ ہوتی ہے۔ کاروبار ہم منافع کمانے کے لیے کرتے ہیں‘ اس لیے بے شک تھوڑی سرمایہ کاری کے ساتھ وہ کام شروع کر دیجیے جس میں منافع کی شرح بلند ہو اور ساتھ ساتھ سیل کا بھی مناسب بندوبست ہو سکے۔ تم کاروبار کے جس شعبے کی فزیبلٹی بنانا اور جن چیزوں کی خریدو فروخت کرنا چاہ رہے ہو‘ پہلے ان کے معیاراور تکنیکی خصوصیات کے حوالے سے مکمل معلومات حاصل کرلینا۔
مثلاً اگر تم ملبوسات کا کاروبار کرنے لگے ہو‘ تو کپڑے کی اقسام، کوالٹی‘ ان کی موٹائی اور چوڑائی وغیرہ کامعلوم کرنا یعنی ایسی چیزیں جن کی بنیاد پر ان کے نرخ کا تعین ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان چیزوں کی تکنیکی معلومات کے ساتھ ہول سیل مارکیٹ/ڈسڑی بیوٹر/ ریٹیل سے یعنی جہاں سے تم نے اپنا مال بیچنے کے لیے خریدنا ہے، پوچھو کہ یہ چیزیں تمھیں کس قیمت پر ملیں گی؟ پوری مارکیٹ کا سروے کرو یا چار پانچ فیکٹریاں لازمی گھومو تاکہ تمھیں کم از کم ریٹ بہتر معیار کے ساتھ مل سکے اور تم اپنا منافع بڑھا سکو۔

اس کے بعد جس مارکیٹ میں تم نے اپنی چیزیں بیچنی ہیں‘ وہاں خریدار بن کے جاؤ اور اپنی مطلوبہ چیزوں کا ان کی تکنیکی خصوصیات کے ساتھ نرخ معلوم کرو کہ فی الوقت ان کا کم از کم ریٹ کیا چل رہا ہے۔ قیمتیں معلوم کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ شروع شروع میں مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے لیے ہو سکتا ہے کہ تمھیں کم از کم ریٹ سے بھی نیچے ریٹ دینا پڑے تا کہ خریدار تمہاری طرف متوجہ ہوں اور مستقل طور پر تمہارا مال خریدیں۔
اب مصنوعہ بیچنے کا جو کم از کم ریٹ ہے‘ اس میں سے جس ریٹ پہ تم خریدو گے‘ اسے نکال کے اپنا  بنیادی منافع نکال لو۔ اب اپنے کاروبار کرنے کے خرچ کا حساب نکالو۔مثال کے طور پر آپ کو کاروبار شروع کرنے کے لیے ایک کمرا بطور  دفتر (کرایہ + بجلی+ چائے وغیرہ : ۲۲۰۰۰ روپے) ایک آفس بوائے (۸۰۰۰ روپے) اور ایک سیلز مین(تنخواہ ۲۰۰۰۰ روپے) کی ضرورت ہے‘ تو آپ کا ماہانہ خرچہ ہوا ۵۰۰۰۰ روپے۔

اگر آپ کے کاروبار کی سیل۲۵ فیصد بنیادی منافع کے ساتھ ۲۰۰۰۰۰ روپے ماہانہ ہے ‘ توآپ ۵۰۰۰۰ روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔یہ کاروبار کے بنیادی خرچے پورے کرنے کے لیے کافی رقم ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ۲۰۰۰۰۰ روپے آپ کے کاروبار کا ’’بریک ایون پوائنٹ‘‘ (break even point) ہوا یعنی سیل کا وہ مرحلہ جہاں آپ کی آمدنی خرچ کے برابر ہو گئی۔ اس مرحلے کے بعد آپ کی جتنی بھی سیل بڑھی‘ اس کی بچت آپ کی اپنی ہو گی۔

اس مرحلے پر آ کر علی تھوڑا پریشان ہو گیا اور پوچھنے لگا کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا‘ کاروبار سے مجھے فوری کمائی نہیں ہو گی۔ میں نے جواب دیا :ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ ہوتا ہے کہ جب آپ فزیبلٹی بنائیں‘ تو تنخواہ کا ایک حصّہ چاہے تھوڑا ہی سہی‘ منیجر کے لیے بھی رکھیں۔ چونکہ آپ سارا انتظام کر رہے ہیں‘ اس لیے وہ تنخواہ آپ کے حصّے میں آئے گی۔ دوسری بات یہ کہ جہاں تنخواہ ایک جگہ مستقل رہتی یا برسوں بعد بڑھتی ہے‘ وہیں کاروبار میں مسلسل محنت سے آپ ایک سال کے اندر اندر اپنی ممکنہ تنخواہ سے دگنا تگنا کما سکتے ہیں۔

۳۔ کل درکارسرمایہ کاری:
تیسری اور سب سے اہم چیز کاروبار شروع کرنے کے لیے درکار سرمایہ کاری ہے۔ متعلقہ مارکیٹ یا اس شعبے کے جان پہچان والے لوگوں سے رابطہ کر کے یہ معلوم کرو کہ اس کام میں سرمایہ کاری کتنی درکار ہو گی۔ اگرآپ ہول سیل کا کام کرنے یا دکان کھولنے کا سوچ رہے ہو‘ تو اس میں بنیادی سرمایہ کاری آپ کے مال کی ہو گی۔ اگر مینوفیکچرنگ کا سوچ رہے ہو‘ تو جو مشینیں آئیں گی‘ ان کا خرچہ کتنا ہو گا۔ اس کے علاوہ آپ کو مزدوروں کی تنخواہ، بجلی، پانی اور دیگر اخراجات کا کم از کم چھے ماہ کا خرچہ اپنے ذہن میں رکھ کر تخمینہ لگانا ہو گا ۔
رہ گئی زمین تو اگر آپ چھوٹی سطح سے شروع کرنا چاہتے ہو‘ تو وہ تمھیں کرائے پر بھی مل جائے گی۔ یا کرائے پہ کوئی جگہ لے اس میں مشینیں رکھ کر کام شروع کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اتنی رقم نہیں کہ آپ امپورٹ یا مینوفیکچرنگ کاکام شروع کر سکیں‘ تو سرمایہ کاری کم کرنے کے اور بھی حل ہیں۔ اِن پہ میں تب بات کروں گا جب ہم امپورٹ یا مینوفیکچرنگ کے موضوعات پر تفصیلی نشست کریں گے۔

۴۔ مانگ کا تخمینہ :
چوتھی اہم چیز جس کا فزیبلٹی میں حساب لگانا ضروری ہے‘ وہ ہے مانگ کا تخمینہ! کچھ چیزوں کی مانگ زیادہ‘ لیکن منافع تھوڑا ہوتا ہے۔ کچھ چیزوں کی مانگ کم اور منافع زیادہ ہوتا ہے۔ مینوفیکچرنگ، ریٹیل یا ہول سیل جس میں بھی آپ کاروبار کرنے جا رہے ہیں، اپنی مصنوعہ کی مانگ کا درست تخمینہ لگانا بہت ضروری ہے۔ زیادہ خریدنے یا پیداوار کی صورت میں آپ کا پیسا پھنس جائے گا اور کم پیداوار یا خریدنے کی صورت میں آپ کی سیل کم ہو گی۔
اگر آپ بالکل نیا کاروبار کرنے جا رہے ہیں جس کے مصنوعات کی مانگ کا آپ کو مکمل اندازہ نہیں‘ تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ خریداروں کی مارکیٹ میں جا کر متعلقہ مصنوعات کی سیل کے متعلق سروے کریں کہ ان کی ماہانہ کھپت کتنی ہے۔ تقریباً  پندرہ بیس دکانوں کا سروے کر کے آپ کو اندازہ ہو سکتا ہے جس کا اطلاق آپ محتاط طریقے سے پوری مارکیٹ پر کر سکتے ہیں۔ نئی مصنوعات یا اپنا نیا آئیڈیا متعارف کراتے وقت یہ بات اصول کا درجہ رکھتی ہے۔

۵۔ پیسے /نقدی کا بہاؤ (کیش فلو) :
کسی بھی کاروبار میں کیش فلو یعنی پیسے کا بہاؤ ایسے ہی اہمیت رکھتا ہے جیسے جسم میں خون۔ مالیات کی کتابوں میں درج ہے کہ نقد رقم کی مثال کاروباری دنیا میں ایسے ہی ہے جیسے کسی سلطنت میں کوئی بادشاہ ہو اور باقی سب غلام۔آپ کام رقم کمانے کے لیے کرتے ہیں‘ لیکن کاروبار اُدھا ر پر چلتا ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیںبلکہ دنیا بھر میں ہول سیل اور مینوفیکچرنگ کا کاروبار اُدھار پر ہوتا ہے۔ کچھ شعبوں میں اُدھار زیادہ چلتا‘ کچھ میں کم دیر کا ہوتا ہے۔ پاکستان میں البتہ ایک اضافی تکلیف دہ مسئلہ یہ ہے کہ آپ جب اپنے گاہک کو اُدھار دے دیں‘ تو وہ واپس بڑی مشکل سے کرتا ہے۔ مزیدبرآں وہ رقم توڑ کر یعنی قسطوں میں واپس کرتا ہے۔

لہٰذا آپ جو بھی کاروبار کرنے لگے ہیں‘ اس میں یہ دیکھیں کہ گاہک کے ساتھ آپ کا اُدھار کتنے دن کا ہے اور جہاں سے آپ اپنا سامان خریدتے ہیں، ان کے ساتھ اُدھار کتنے دن کا چلے گا۔کوشش کریں کہ کام ایسا شروع کریں جس میں آپ کا اپنے گاہک/خریدار کے ساتھ اُدھار کا دورانیہ ، آپ کی کمپنی سے یعنی جس سے آپ سامان خریدتے ہیں‘ ادھار کے دورانیے کے مقابلے میں مختصر ہو۔ یوں آپ کی نقدی کا چکراس طرح بنے کہ آپ اپنے خریدار سے پیسے پکڑیں اور اپنا منافع نکال کر اپنی کمپنی کو رقم دے دیں۔
اگر آپ کا اُدھار اپنے گاہک کے ساتھ ۳۰ دن کا ہے‘ تو کمپنی کے ساتھ آپ کا اُدھار ۴۵ دن کا ہو۔ اگر اس کے الٹ ہوا‘ تو آپ کو مال اپنی جیب سے خریدنا پڑے گا۔ اکثر آپ کے کھاتے یا سافٹ وئیر تو منافع دکھا ئیں‘ لیکن اصلاً آپ کے پاس نقد رقم نہیں ہو گی۔ اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ آپ جو بھی چیز بیچ رہے ہیں‘ اس میں آپ برانڈنگ کریں یعنی اس مصنوعہ کا ایک نام بنا کے اسے اسی نام سے بیچیں اور اپنے معیار کو خراب نہ کریں۔ برانڈنگ کے فوائد اور اہمیت پر بھی ہم ایک نشست رکھیں گے۔

۶۔ کاروباری مقابلہ :
اگر آپ کوئی نیا کاروبار شروع کرنے جا رہے ہیں‘ تو یہ لازمی دیکھیں کہ اس شعبے یا مصنوعہ میں آپ کے کاروباری حریف کتنے ہیں؟ آپ کے مقابلے میں کتنے لوگ مارکیٹ میں اس چیز کو بیچ رہے ہیں؟ یہ دیکھنا اس لیے ضروری ہے کہ مارکیٹ میں سخت مقابلہ قیمتیں کم کر دیتا ہے۔ نتیجے میں منافع کی شرح کم ہو جاتی ہے اور جب آپ محنت ہی منافع کے لیے کر رہے ہیں‘ تو پھر کیا فائدہ ایسے کام میں ہاتھ ڈالنے کا جس میں منافع کی شرح بہت کم ہو۔
ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی نیا شخص ایک مصنوعہ لے کے آئے‘ تو وہ مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے لیے خریدار سے کہتا ہے کہ مجھ سے تم ۱۰ روپے سستی چیز لے لو۔ چناںچہ آپ کے کچھ یا کافی خریدار آپ کو چھوڑ کے اس سے مال لینے لگتے ہیں۔ پھر جب کوئی نیا حریف آئے‘ تو وہ ریٹ مزید کم کر دیتا ہے۔ اب پیچھے سے وہ چیز سب کو اتنی لاگت کی ہی پڑ تی ہے۔ اس سے ہوتا یہ ہے کہ منافع کی شرح انتہائی گر جاتی ہے۔

مثلاً جب کیو موبائل مارکیٹ میں آیا‘ تو اس نے چین کے بنے سیٹس کو برانڈ بنا کے انتہائی سستے داموں مارکیٹ میں بیچا۔ چونکہ چین کے برانڈڈ موبائل میں کوئی اور کاروباری حریف تھا ہی نہیں‘ لہٰذا اس نے اچھی مارکیٹنگ کے بل بوتے پر نہ صرف مارکیٹ کا اچھا خاصا شیئر حاصل کر لیا بلکہ ٹھیک ٹھاک منافع بھی کمایا۔ اب اس کے بعد بے شمار کمپنیاں مثلاً ہوائی‘ وائس وغیرہ مارکیٹ میں آ گئی ہیں‘ لیکن انھیں بھی قیمتیں کم رکھنی پڑ رہی ہیں۔ ساتھ میں مارکیٹ کا ویسا حصّہ بھی نہیں ملا جیسا کیو موبائل کو مل چکا جس کی وجہ سے اب منافع کی شرح بہت کم ہو چکی۔

نئے آئیڈیے یا نئی مصنوعہ کا یہی فائدہ ہوتا ہے کہ ایک تو منافع کی شرح بہت اچھی ہوتی ہے‘ دوسرے یہ کہ اگر وہ مصنوعہ خریداروں کو پسند آ جائے‘ تو آپ اس کے مارکیٹ لیڈر بن جاتے ہیں۔ وہی مصنوعہ آپ کی کمپنی کو چلانے میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوتی ہے۔

۷۔ مارکیٹ کا رجحان:
دور اندیش لوگ آئندہ آنے والے بیس برس کا سوچتے‘ کوتاہ نظر صرف آج کی سوچ رکھتے جبکہ بیوقوف کوئی واقعہ گزرنے کے بعد اس پر غور کرتے ہیں۔ یہی مثال صد فیصد کاروبار پربھی لاگو ہوتی ہے۔ آپ جو کاروبار کرنے جا رہے ہیں‘ اس کی فزیبلٹی میں یہ تجزیہ بھی شامل کریں کہ آج سے بیس سال بعد آپ کہاں کھڑے ہوں گے۔ آپ جو کاروبار شروع کرنے جا رہے ہیں‘ کیا مارکیٹ کا رجحان اسی جانب چل رہا ہے یا آپ کی گنگا اُلٹی بہ رہی ہے۔ کیا آپ کسی ایسے آئیڈیا یا مصنوعہ پر کام تو نہیں کر رہے جس کی مانگ مارکیٹ سے آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔

دوسری بات یہ دیکھیں کہ آپ کے کاروبار میں بڑھوتری کا امکان کتنا ہے۔ اگر آپ اسے آج شروع کرتے ہیں‘ تو بیس سال بعد کہاں کھڑے ہوں گے۔ اگر آپ اس کام کی بلندیوں تک پہنچ جائیں‘ تو تب آمدنی کتنی ہو گی اور اس کام میں کس طریقے اور کن مصنوعات کے اضافے سے آپ اپنی سیل اور آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ آپ کے ذہن میں ماہانہ آمدنی کا جو ہدف ہے‘ کیا وہ اس کاروبار سے بااحسن طور پر پورا ہو سکتا ہے ؟

یہ معلومات پانے کے لیے آپ انٹرنیٹ سے ڈیٹا ڈھونڈ سکتے ہیں۔ مثلاً آپ پاکستان سے ایک مصنوعہ ایکسپورٹ کرنا چاہتے ہیں، تو آپ انٹرنیٹ کی مدد سے یہ ڈھونڈیں کہ اس کی ایکسپورٹ پاکستان سے بڑھ رہی ہے یا کم ہو چکی؟ اس مصنوعہ یا سیکٹر کی مجموعی ایکسپورٹ کتنی ہے؟ دوسرے اپنے مشاہدے کی طاقت تیز کر کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کا مشاہدہ کریں۔ باتوں باتوں میں ان سے معلومات پوچھیں تا کہ آپ درست تخمینہ لگا سکیں اور کسی طور پر بھی نقصان نہ اٹھائیں۔

۸۔ متعلقہ کاروبار کا تجربہ :
جب آپ کوئی نیا کاروبار شروع کرنے لگیں‘ تو منافع کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ آپ کوبھائی یا آپ کے والد کو کس کام کا تجربہ ہے۔ اگر اس کاروبار میں منافع اور کیش فلو تحقیق کے مطابق مناسب ہے اور اس کام میں کاروباری حریف بھی کم ہیں‘ تو آپ کو وہ کاروبار شروع کرنے کے متعلق لازمی سوچنا چاہیے۔ تجربہ ایسی چیز ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

تجربے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ تجربے کا ر ا ٓدمی مارکیٹ میں نیک نام رکھتا ہے۔ اس کو چیزیں بیچنے اور کمپنی سے اُدھار پر چیزیں لینے میں آسانی رہتی ہے۔ یعنی بالکل نئے کاروبار والی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور آپ کے لیے شروع ہی سے کچھ نہ کچھ آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔
اگر آپ کے پاس متعلقہ کاروبار کا تجربہ نہیں‘ تو  اپنا کاروبار شروع کرنے سے پہلے کم از کم پانچ چھے ماہ کسی متعلقہ فرم میں انٹرن شپ کریں۔ اس کے دو فوائد ہیں : ایک یہ کہ آپ مارکیٹ میں دھوکا کھانے سے بچ جائیں گے۔ مارکیٹ چاہے ایکسپورٹ کی ہو ، امپورٹ  یا مقامی‘ اس میں دھوکا بہت زیادہ ہے۔ جو مال آپ نے خریدنا ہے‘ اگر آپ کو اس کی صحیح پہچان نہیں ہو گی‘ تو کوئی نہ کوئی آپ کو دھوکا دے جائے گا۔ آپ کے پیسے ڈوبیں گے اور جن کو آپ آگے بیچیں گے، وہاں نام بھی خراب ہو گا۔

چھے مہینے انٹرن شپ کرنے سے فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کو چیزوں کے معیار کی صحیح پہچان ہو جائے گی۔ دوسری وجہ یہ کہ صرف فزیبلٹی بنانے سے اپنے شعبے سے متعلق کئی تکنیکی باتوں کا آپ کو علم نہیں ہو پاتا۔ وہ  انٹرن شپ کر کے کافی حد تک ہو جائے گا۔ مثلاً مارکیٹ میں کون سے لوگ اُدھار میں برے اور لوگ اچھے ہیں، کس کمپنی کا مال ٹھیک ہے ، کون سی کمپنی دھوکا دے سکتی ہے وغیرہ ۔

میری گفتگو ختم ہوئی‘ تو میں نے گھڑی پہ وقت  دیکھا‘ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ میں نے کہا ’’بھئی علی بہت دیر ہو چکی۔ باقی باتیں اب اگلی نشست میں کریں گے۔ اگلی نشست میں ہم ایکسپورٹ اور امپورٹ کے آئیڈیاز پر بات کریں گے۔‘‘
علی کہنے لگا : ’’بالکل ٹھیک ہے طیّب بھائی، سوال تو اب بھی میرے ذہن میں بہت سے ہیں‘ لیکن انھیں ہم اگلی نشست کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔
(مضمون نگار بہ لحاظ پیشہ ایک کاروباری ہیں اور شوق کے اعتبار سے لکھاری۔ ان سے ا ی میل ایڈریس  tayyab.tariq@urdu-digest.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ )

Watch Full Movie Online Streaming Online and Download