function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

کراچی کے شرلاک ہومز

Urdu Digest | اپریل-2014

کراچی کے شرلاک ہومز

جب میری پہلی ملاقات ہوئی، تو جمیل یوسف مجھے پست قامت مگر چاق چوبند شخصیت نظر آئے۔ قمیص پتلون میں ملبوس تھے اور چال ڈھال سے معاشیات کے کوئی پروفیسر نظر آتے۔ دوسرے کو دیکھتے تو اُسے اُن کی نگاہیں اپنے رگ و پے میں اترتی محسوس ہوتیں۔ ان کی سحر انگیز شخصیت سے بخوبی اندازہ ہوتا کہ وہ ایک وقت کراچی کے ایسے سخت جان محافظ تھے جن کی شکل دیکھتے ہی مجرم کانپنے لگتے۔
تاہم حددرجہ ذہین اور دلیر ہونے کے باوجود  جمیل یوسف منکسرالمزاج ہیں اور خود کو ”عام صنعت کار“ سمجھتے ہیں۔ جمیل یوسف کا تعلق خوجہ برادری سے

ہے۔ بانیئ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
یونیورسٹی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ خاندانی ٹیکسٹائل مل میں کام کرنے لگے اور کاروبار کو مزید ترقی دی۔ آپ ہی نے 1985ء میں پہلا شاپنگ مال (Mall)تعمیر کیا۔ تب تک وہ کامیاب بزنس مین بن چکے تھے۔
1985ء تک متفرق وجوہ کی بنا پر کراچی مسائل کی آماج گاہ بن گیا۔ جب سوویت یونین افغانستان پر حملہ آور ہوا، تو تیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان چلے آئے۔ ان میں سے ہزاروں نے کراچی کا رُخ کیا جہاں انھوں نے اپنی بستیاں بسا لیں۔ بدقسمتیسے پٹھانوں اور مقامی آبادی میں ٹسل(Tussle) شروع ہوگئی اور فساد نے جنم لیا۔
شہر کے لسانی فسادات سے جرائم پیشہ گروہوں نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ وہ ایک فریق کے ساتھ نتھی ہوئے اور دیدہ دلیری سے وارداتیں کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ مسلح جرائم گروہوں نے اپنے علاقوں میں 11متوازی حکومتیں قائم کر لیں۔
کراچی کے بدلتے حالات نے اس اعجوبے کو جنم دیا کہ مجرم امیر افراد کو تاوان کی خاطر اغوا کرنے لگے۔ انھوں نے خصوصاً کاروباری شخصیات کو نشانہ بنایا تاکہ اُنھیں بھاری رقوم ملِ سکیں۔ جب رقم نہ ملتی، تو مغوی کو ہلاک کر دیا جاتا۔ 1990ء میں شہر میں اغوا برائے تاوان کے ”ایک سو واقعات“ رونما ہوئے۔
یوں لسانی فساد کے علاوہ مجرموں کی سرگرمیوں نے اہلِ کراچی کا جینا حرام کر دیاحتیٰ کہ جرائم پیشہ افراد دن دہاڑے گھروں میں ڈاکے ڈالنے لگے۔ اسی ناگفتہ بہ صورتِ حال میں اواخر 1989ء میں گورنر سندھ، جسٹس (ر) فخرالدین ابراہیم نے ایک اچھوتا منصوبہ پیش کیا۔
شہری آگے آئیں
جسٹس (ر) فخرالدین چاہتے تھے کہ اہلِ کراچی آگے آئیں اور مجرموں کا قلع قمع کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہاتھ بٹائیں۔ یہ ایک انقلابی خیال تھا اور اُسے باشعور شہریوں میں پذیرائی بھی ملی۔ تاہم اس پر عمل درآمد کرنا کارِ دارد تھا۔
وجہ یہ کہ کراچی کی پولیس دگرگوں حالات میں تھی۔ سپاہیوں کی تنخواہ کم تھی اور وہ جدید اسلحہ بھی نہ رکھتے۔ انھیں فنگر پرنٹنگ کی سہولت میّسر نہ تھی۔ تفتیش میں مدد دینے والے آلات عنقا تھے حتیٰ کہ مجرموں کا بھی کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہ رکھا جاتا۔ بہت سے شہری تو یہ سمجھتے تھے کہ پولیس مجرموں کے ساتھ ملی ہوئی ہے، تبھی وہ شیرہوگئے ہیں۔
بہرحال گورنر سندھ کی تجویز پر کئی نمایاں کاروباری حضرات اور صنعت کاروں نے لبیک کہا جن میں جمیل یوسف بھی شامل تھے۔ چناں چہ صوبائی حکومت اور شہریوں نے مل کر مجرموں سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ سو ستمبر1989ء میں ایک تنظیم ”سٹیزنز پولیس لائزن کمیٹی“ (Citizens Police Liaison Committee) کی بنیاد ڈالی گئی جس کے پہلے سربراہ جمیل یوسف بنائے گئے۔
کام کا آغاز
جمیل یوسف سے میری پہلی ملاقات 2008ء میں ہوئی۔ مارچ 2003ء میں انھوں نے پُراسرار

انداز میں سٹیزن کمیٹی سے استعفیٰ دیا اور پھر    منظرِ عام سے غائب ہوگئے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ انھیں کمیٹی میں کس قسم کے تجربات حاصل ہوئے اور جرائم پیشہ افراد سے نبردآزما ہوتے وقت زندگی نے ان کو کیا کچھ سکھایا۔
انھوں نے بتایا ”ہم نے فیروز آباد پولیس اسٹیشن سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ ہمیں یہ جان کر دھچکا لگا کہ وہاں گیس ہے نہ پانی۔ چناں چہ میں نے کاروباری دوستوں کی مدد سے چار لاکھ روپے اکٹھے کیے۔ گیس و پانی کا کنکشن لگوایا۔ پولیس اسٹیشن میں روغن کرایا۔ برتن وغیرہ بھی منگوائے۔ یہ بندوبست دیکھ کر سبھی سپاہی حیران پریشان ہوگئے۔ کیونکہ ان کا تجربہ تو یہی تھا کہ جو کمیٹی بنتی، اس کے ارکان آتے ہی اپنے مطالبات پیش کر دیتے۔ سو محکمہ پولیس کو پلّے سے رقم خرچ کرنا پڑتی۔
میں نے ان سے دریافت کیا کہ کام کی شروعات کیسے ہوئیں؟ جمیل یوسف بولے ”میں شروع میں شام کو چند گھنٹے ہی بیٹھتا۔ لیکن جلد مجھے معلوم ہوگیا کہ جرم کی تفتیش کرنا باغبانی نہیں بلکہ یہ دلدل جیسا معاملہ ہے۔ دراصل جسے مدد درکار ہو، اُسے فوراً چاہیے ہوتی…… اس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔ اسی باعث کچھ عرصے بعد میں اٹھارہ گھنٹے پولیس اسٹیشن میں کام کرنے لگا۔“
لیکن جمیل یوسف کا علم جرائم(Criminology) میں کوئی پس منظر نہ تھا۔ انھوں نے ساری زندگی کبھی جرم کی تفتیش نہیں کی تھی اور نہ ہی کسی ادارے سے یہ تربیت پائی تھی کہ اغوا برائے تاوان کے منظم گروہوں سے کیونکر نمٹا جائے۔ سو انھیں جرمیات کی مبادیات سے آغاز کرنا پڑا۔
وہ بتاتے ہیں ”میں پولیس سراغ رسانوں کے پاس بیٹھنے لگا۔ ان کی باتیں بغور سنتا اور دیکھتا کہ وہ تفتیش کیونکر کرتے ہیں۔“ ذہین و فطین جمیل یوسف کو علم جرائم پر دسترس حاصل کرنے میں دیر نہیں لگی۔ مثلاً مشاہدے و تجربے سے انھیں معلوم ہوا کہ آواز کی پہچان خصوصاًاغوا برائے تاوان کے مجرموں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عموماً ایک گینگ کے مخصوص افراد ہی پولیس وغیرہ سے گفت و شنید کرتے ہیں۔
ٹیکنالوجی سے مدد
جمیل یوسف کی خوش قسمتی کہ انھیں بچپن سے ٹیکنالوجی میں دلچسپی تھی۔ تب وہ پرزے جوڑنے کی مشق کرتے۔ کاروبار میں آئے، تو ٹیکسٹائل مل کے لیے تائیوان سے جدید ترین خودکار مشینیں لے کر آئے۔ چناں چہ سٹیزن کمیٹی کا سربراہ بن کر انھوں نے ادارے کے لیے کمپیوٹر خریدے اور ایسے ننھے کیمرے بھی جنھیں قلم یا لائٹر میں نصب کیا جاسکے۔
کام سے عشق ہوجائے تبھی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ جمیل یوسف بھی کمر ٹھونک کے مجرموں سے دو دو ہاتھ کرنے میدانِ جنگ میں اتر آئے۔ ان کا بیٹا لندن میں زیرِ تعلیم تھا۔ جلد ہی امتحان ہونے والے تھے۔ مگر انھوں نے بیٹے کو حکم دیا کہ وہ برطانیہ سے جاسوسی کے جدید آلات خرید کر فوراً کراچی آئے۔ مدعا یہ تھا کہ کمیٹی کو تکنیکی لحاظ سے طاقت ور بنایا جائے۔ جمیل یوسف نے پھر انہی آلات کی مدد سے کئی خطرناک مجرم پکڑے۔ وہ کہتے ہیں ”پولیس کا

طریقہ کار یہ تھا کہ وہ مجرم گرفتار کرتی اور پھر انھیں جائے وقوعہ پر لے جاتی۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم جائے وقوعہ سے مجرم تک پہنچنے لگے۔“
1995ء سے سٹیزن کمیٹی مجرموں کا ڈیٹا……    نام و پتے، ٹیلی فون نمبر، خاکے، تصاویر اور ذاتی معلومات بھی اکٹھا کرنے لگی۔ جلد ہی کمیٹی نے پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا جامع ڈیٹا بیس تخلیق کر لیا۔ اس دوران دیگر معلومات بھی اس ڈیٹا کا حصہ بن گئیں …… کراچی میں رجسٹرڈشدہ تمام گاڑیوں کی تفصیل، 1987ء سے درج شدہ ایف آئی آر کا ریکارڈ اور ان تمام قیدیوں کے نام جو 1990ء سے کراچی سنٹرل جیل میں قید تھے۔
اس ڈیٹا بیس کے قیام سے سٹیزن کمیٹی کو تفتیش کرنے میں بہت سہولت ملی اور مجرم تک پہنچنا آسان ہوگیا۔ یوں ارکان کمیٹی اپنی لگن، محنت اور فرض شناسی سے جسٹس (ر) فخرالدین کے ویژن کو عملی صورت میں لے آئے۔ پوتے کا اغوا
جمیل یوسف اپنی یادداشت ٹٹولتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جون 1992ء میں مجرموں نے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا سات سالہ پوتا اغوا کر لیا۔ اغوا کاروں نے پھر باپ کو فون کرکے تاوان طلب کیا۔ باپ نے دریافت کیا کہ اس کے بچے نے کھانا کھا لیا؟ اغوا کاروں نے بتایا کہ وہ پیزا کھا رہا ہے۔ تاہم بچے کے والدین و عزیز مطمئن نہیں ہوئے۔ قدرتی طور پر کوئی بھی اس رات سو نہ سکا۔ دادا کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ چناں چہ خفیہ ایجنسیاں حرکت میں آگئیں اور بڑی سرگرمی سے مجرموں کو تلاش کرنے لگیں۔ جب اغوا کاروں نے اپنی زندگیاں خطرے میں دیکھیں، تو انھیں بچانے کی خاطر بچے کو رہا کر دیا۔ بچہ گھرپہنچا، تو قدرتاً خاندان بھر نے خوشیاں منائیں۔ وہاں جمیل یوسف بھی موجود تھے۔ انھیں یہ معلوم کرنے میں زیادہ دلچسپی تھی کہ جرم کیونکر وقوع پذیر ہوا۔ جب جذبات و حالات معمول پر آئے، تو انھوں نے لڑکے سے دریافت کیا کہ اغوا کار اُسے کہاں لے گئے تھے؟ جواب ملا ”حیدرآباد۔“ تاہم جمیل یوسف جان گئے کہ مجرموں نے سراغ رسانوں کو گمراہ کرنے کی خاطر یہ چال چلی…… کیونکہ تب حیدرآباد میں پیزا مرکز نہیں کھلے تھے۔ گویا مجرم کراچی ہی میں موجود تھے۔ لڑکے سے اگلا سوال ہوا: ”جب وہ تمھیں کار پہ لے جا رہے تھے، تو تم نے کچھ دیکھا…… گھر، بازار یا پُل؟“ معلوم ہوا کہ اغوا کاروں نے لڑکے کی آنکھوں پہ پٹی باندھ دی تھی۔ تاہم لڑکا اتنا ہوشیار ضرور تھا کہ مختلف آوازوں میں تمیز کر سکے۔ اُس نے بتایا کہ گزرتے ہوئے ایک جگہ ٹھوکا پیٹی کی آوازوں سے اُسے علم ہوا کہ کوئی عمارت بن رہی ہے۔ پھر اُسے جہاں رکھا گیا، وہاں پانچوں وقت اذان کی آواز آتی۔ ورنہ اس تنگ مکان میں خاموشی ہی چھائی رہی۔ اگلے دن رات گیارہ بجے جمیل یوسف لڑکے کو لیے اس جگہ پہنچ گئے جہاں خفیہ ایجنسیوں کو شک تھا کہ اُسے چھپا کر رکھا گیا۔ فوج سے مستعار لیے ہوئے دو کتے ساتھ تھے جو اسلحہ و منشیات سونگھنے

میں طاق تھے۔ محلے سے دور گاڑیاں روکی گئیں۔ پولیس کی تین وینیں ساتھ تھیں۔ محلہ آیا، تو کتے چھوڑے گئے۔ انھوں نے پارٹی کو کسی گھر میں لے جانے کے بجائے اِدھر اُدھر گھومنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کے جمیل یوسف سر کھجانے لگے۔ آخر انھیں یاد آیا کہ لڑکے نے پنج وقتہ اذان کا ذکر کیا تھا۔
کچھ ہی دیر تلاش کے بعد انھیں محلے کی مسجد کے منار نظر آگئے۔ جب پارٹی مسجد کے قریب پہنچی، تو اچانک کتے مچلنے لگے۔ انھیں چھوڑا گیا، تو وہ کچھ ہی دور ایک تنگ و تاریک مکان کے سامنے جا رکے جہاں سے چرس وغیرہ کی بُو آ رہی تھی۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو نہ کھلا۔ سو دروازہ توڑ دیا گیا۔ یہ وہی مکان تھا جہاں لڑکا قید تھا۔ اس نے گھوم پھر کے بتایا کہ یہاں وہ سوتا اور یہاں کھانا کھاتا تھا۔ ایک ہفتے میں پڑوسیوں سے پوچھ گچھ کے بعد مجرم گرفتار کر لیے گئے۔
فرقہ وارانہ فساد کی کوشش
فروری 1995ء میں دہشت گردوں نے نارتھ کراچی کی ایک امام بارگاہ میں 16نمازی شہید کر دیے۔ چند دن بعد اُسی کے نزدیک واقع ایک سنی گھرانے پر حملہ ہوا۔ دہشت گردوں نے گھر کے تمام مرد شہید کر دیے اور جاتے جاتے یہ اعلان کیا کہ انھوں نے   (امام بارگاہ پر حملے کا) بدلہ لے لیا۔
اس واقعہ نے کراچی میں بے چینی و اضطراب کی نئی لہر دوڑا دی۔ کاروبار بند ہوا اور لوگ مزید فساد کا انتظار کرنے لگے۔ پولیس اور رینجرز نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا۔ یہ کیس سلجھانے کے لیے جمیل یوسف سے مددمانگی گئی۔ وہ دونوں سانحوں میں بچ جانے والوں سے ملے۔ ان سے حاصل شدہ معلومات کے بل پر کمپیوٹر سافٹ وئیرز کی مدد سے مجرموں کے خاکے بنائے گئے۔ یہ سافٹ وئیرز سٹیزنز کمیٹی نے حال ہی میں حاصل کیے تھے۔ حیرت انگیز طور پر دونوں سانحے انجام دینے والے مجرم ایک ہی نکلے۔ اب جمیل یوسف نے دونوں سانحوں سے قبل دو گھنٹوں کی ٹیلی فون کالوں کا ریکارڈ متعلقہ سرکاری ادارے سے طلب کیا۔ جب مطلوبہ ریکارڈ دیکھا گیا، تو حسبِ توقع اس میں بعض کالز مشترکہ پائی گئیں۔ بعض کالز موبائل فونزسے ہوئی تھیں۔ چونکہ تب موبائل خال خال تھے لہٰذا انھیں جلد ہی ٹریس کر کے مجرم پکڑ لیے گئے۔ تب انکشاف ہوا کہ مجرموں کا تعلق ایک انتہاپسندتنظیم سے تھا جو دونوں فرقوں میں خانہ جنگی کرانا چاہتی تھی۔
قاتلانہ حملے
کئی کیس حل کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہلِ کراچی سٹیزنز کمیٹی خصوصاً جمیل یوسف پر اعتماد کرنے لگے۔ اُدھر جرائم پیشہ گروہوں کے نزدیک جمیل یوسف دشمن بن گئے۔1997ء میں وہ ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے۔ دوسری بار قاتل کی گولی نے ان کے قریب کھڑے میجر کو شہید کر ڈالا۔ وہ بتاتے ہیں ”مجرموں سے لڑتے ہوئے کئی بار میرا موت سے آمنا سامنا ہوا۔“
دوسری طرف اہلِ کراچی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سعی کرنے لگے کہ کمیٹی کو مضبوط تر بنایا

جائے۔ وہ فخر سے بتاتے ہیں ”جب سٹیزنز کمیٹی کا نیا دفتر تعمیر ہونے لگا، تو اسکوپ (کمپنی) نے ہمیں دروازے اور کھڑکیاں دیں۔ دادا بھائی سے سیمنٹ ملا۔ اسٹیل کمپنیوں نے اسٹیل دیا۔ آرکیٹیکچرز نے مفت خدمات پیش کیں۔ ”آباد“(ٹھیکے داروں کی تنظیم) نے مزدور فراہم کیے۔ کرم (سرامکس) اورشبیر (ٹائلز) والوں نے ٹائلیں وغیرہ دیں …… غرض سب نے دفتر کی تعمیر میں حصہ لیا اور وہ بروقت تیار ہوگیا۔“
اسی دوران آئی بی ایم جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عالمی ادارے مثلاً یونائٹیڈ نیشنز ڈویلپمنٹ فنڈ سٹیزن کمیٹی کو امداد دینے لگے۔ جمیل ہوسف کو بھارت،  سری لنکا اور بنگلہ دیش بلوایا گیا تاکہ وہاں بھی مجرموں سے نمٹنے کے لیے سٹیزنز لائزن کمیٹی جیسا کامیاب شہری ادارہ وجود میں لایا جاسکے۔
جرائم پیشہ گروہوں کو بے نقاب کرنے کے علاوہ کمیٹی نے پولیس والوں کے لیے فلاحی اسکیمیں تشکیل دیں۔ ٹریفک منظم کرنے والے منصوبے بنائے۔ محلوں کی نگرانی کرنے والی ٹیمیں بنائیں۔ پولیس میں شکایات درج کرانے کا باقاعدہ نظام بنایا گیا۔ نیز شہر میں اسلحہ کنٹرول کرنے والی پالیسی بھی وضع ہوئی۔
تعریف ہوئی اور تنقید بھی
رفتہ رفتہ جمیل یوسف کی کارکردگی کو سراہا جانے لگا۔ 1992ء میں انھیں ستارہ شجاعت سے نوازا گیا۔ 1999ء میں یونائٹیڈ نیشنز سول سوسائٹی ایوارڈ ملا۔ کمیٹی سے الگ ہوئے، تو جاپان میں ایک این جی او، ایشیا کرائم پریوینشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر بنائے گئے۔
تاہم جمیل یوسف کو تنقید کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ ان کے ناقدین میں سیاست دان، سرکاری افسر، پولیس افسر اور فوجی افسر شامل تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جمیل یوسف تحکم پسند، خود رائے اور خود بین ہیں۔ نیز سٹیزنز کمیٹی انہی کے گرد گھومتی رہی، وہ بہ حیثیت ادارہ اُسے ترقی نہ دے سکے۔
تنقید کے جواب میں جمیل یوسف کہتے ہیں: ”میں نے اپنے دور میں پوری ٹیم بنائی تھی۔ ظاہر ہے، ایک شخص سارے کام نہیں کرسکتا۔ اس زمانے کی محنت کا نتیجہ ہے کہ کمیٹی چھوڑے مجھے کئی برس ہوگئے، آج بھی وہ کام کر رہی ہے۔“
جب میں نے انھیں مزید کریدنا چاہا، تو وہ مجھے گہری نظروں سے دیکھنے لگے۔ پھر ذرا کڑے لہجے میں گویا ہوئے ”ہاں، یہ صحیح ہے کہ میں کام کے معاملے میں بڑا سخت ہوں۔ ساتھیوں کو بتاتا ہوں کہ ہم فلاحی کام کر رہے ہیں …… اس کا معاوضہ ہمیں ملے گا، مگر آخرت میں! اگر آپ کے پاس وقت نہیں، تو پھر کسی دوسرے کو کام کرنے دیجیے۔ اگر میں روزانہ 16سے18گھنٹے کام کر رہا ہوں، تو میرے ساتھیوں کو بھی اتنا ہی وقت دینا پڑے گا۔ ہم بڑے سنجیدہ اور خطرناک مسائل سے نبرد آزما ہیں۔“
جمیل یوسف نے اپنی محنت کا اجر دنیا ہی میں یوں پایا کہ اہلِ کراچی کی دعائیں سمیٹیں۔ جب بھی کسی کا پیارا اغوا ہوتا، تو وہ اُسے برآمد کرنے کی خاطر دن رات ایک کر دیتے۔ اہلِ خانہ کو تسلی تشفی دیتے یہاں تک کہ مغوی واپس آجاتا۔
ان کے سب سے خطرناک ناقد مجرم ہی تھے۔ کراچی کے تین جرائم پیشہ گروہوں کے ارکان

پکڑے گئے، تو ان سے ”ہِٹ لِسٹ“ برآمد ہوئی۔ جس میں جمیل یوسف کا نام سرفہرست تھا جنھیں مجرم قتل کرنا چاہتے تھے۔
اہلِ خانہ سے مدد
جمیل یوسف کو اپنے کارخیر میں اہلِ خانہ سے بھی مدد ملی۔ ایک بار جب مجرموں کو تاوان کی رقم دی جا رہی تھی، تو جمیل یوسف کی بیٹی نے چھپ کر ان کی ہائی ریزولیشن والی تصاویر خریدیں۔ بعدازاں ان تصاویر کی مدد سے مجرم قابو کر لیے گئے۔
اسی طرح ایک بار جمیل یوسف کی بیوی نے کار میں رات کو ایسے خطرناک مجرم کا پیچھا کیا جو اغوا کی وارداتوں میں ملوث تھا۔ مجرم کو احساس ہوگیا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ سو اس نے گاڑی سے نکل کر کلاشنکوف لہرائی، تو بیگم جمیل کو مجبوراً پیچھا ترک کرنا پڑا۔
ستارہ شجاعت دیتے وقت تب کے گورنر سندھ، محمودہارون نے ان کے نام خط میں لکھا: ”جمیل یوسف نے تفتیش کے دوران اپنی بیگم اور بیٹی کو بھی شامل کیا۔ وہ تاوان کی رقم دینے تن تنہا جاتے رہے۔ یوں انھوں نے دوسروں کی خاطر اپنے خاندان کی سلامتی کو بھی داؤ پر لگا دیا۔“
میں نے ان سے پوچھا کہ موت کے سائے تلے جینا کیسا لگا؟کہنے لگے: ”بھئی، میرا کام ہی ایسا تھا کہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا پڑیں۔ ویسے بھی میں سمجھتا ہوں کہ انسان چاہے جتنی مرضی دیواروں کے پیچھے چھپ جائے، کتنی ہی سیکیورٹی کھڑی کر لے، جب موت آتی ہے، تو کچھ کام نہیں آتا۔“
جمیل یوسف اب بھی محافظوں کے پہرے میں رہتے ہیں کہ نہ معلوم پرانا دشمن کب وار کر دے۔ میں نے کہا کہ آپ باہر کسی ملک میں چلے جائیے۔ وہاں محفوظ رہیں گے۔ یہ سن کر مسکرائے اور بولے: ”بھئی، میں باہر جا کر کیا کروں گا؟ وہاں آہستہ آہستہ مروں گا…… یہاں کم از کم موت تو فوری آئے گی۔“
سٹیزنزکمیٹی سے اخراج
جنوری 2002ء میں مشہور امریکی اخبار، وال اسٹریٹ جرنلز کے جنوبی ایشیا میں نمایندے، ڈینئل پرل کراچی سے اغوا ہوگئے۔ امریکی صحافی کی تلاش میں جمیل یوسف نے بھی حصہ لیا۔ شروع میں پولیس اِدھر اُدھر بھٹکتی رہی۔ آخر جمیل یوسف نے یہ تجویز دی کہ ان فون نمبروں کو چیک کیا جائے جو ڈینئلپرل کے موبائل میں موجود تھے۔ انہی نمبروں کو کھوجتے کھوجتے قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے عمر شیخ اور پھر امجد فاروقی تک جا پہنچے۔ عمر شیخ تو پکڑا گیا مگر امجد فاروقی فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ اسی نے پھر دسمبر2003ء میں جنرل پرویز مشرف پر حملہ کرایا۔ ایک سال بعد وہ پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا۔ ڈینئل پرل کو تلاش کرتے وقت امریکی تحقیقاتی ایجنسی نے سٹیزنز کمیٹی کے دفتر کو بطور ہیڈکوارٹر استعمال کیا۔ نیز جمیل یوسف کے تجربے سے بھی خوب مدد لی۔ تاہم شروعات غلط کرنے کے باعث امریکی صحافی بچ نہ سکا اور اُسے قتل کر دیا گیا۔ اسی کیس سے پہلی بار یہ بھی افشا ہوا کہ سٹیزنز لائزن کمیٹی کراچی کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا ناگزیر حصہ بن چکی ہے۔ انہی دنوں امریکی نائب

وزیرخارجہ، کرسٹیناروکا نے پاکستان کا دورہ کیا۔ کرسٹینا نے سٹیزن لائزن کمیٹی کا بھی دورہ کیا۔ انھیں آدھ گھنٹا رکنا تھا، مگر وہ تین گھنٹے تک رکیں اور کمیٹی کے طریق کار کا جائزہ لیا۔ نائب وزیر خارجہ نے جمیل یوسف کی کوششوں کو سراہا اور اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ بعدازاں کرسٹینا روکا نے صرف آدھ گھنٹا صدر جنرل مشرف کے ساتھ گزارا۔ جبکہ گورنر سندھ اور  کور کمانڈر کراچی کو سراسر نظر انداز کردیا۔ اس پر  کور کمانڈر کو اپنی سبکی محسوس ہوئی اور وہ جمیل یوسف سے حسد کرنے لگے۔ وہ بتاتے ہیں ”فوج میں یقینا اچھے افسر بھی موجود ہیں۔ مگر عموماً کور کمانڈروں کو قانون سے ماورا سمجھا جاتا ہے۔ سو تب کے کور کمانڈر (کراچی) کرپٹ تھے۔ ان کا رشتے دار پولیس افسر بھی کرپٹ تھا۔ انھوں نے سازش کرکے مجھے کمیٹی سے نکلوا دیا۔“
جرائم سے پاک فوج
جمیل یوسف صاف گو شخص ہیں۔ اس خوبی کو ان کے قدر دان دلیری جبکہ مخالفین منہ پھٹ ہونا کہتے ہیں۔ جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا، تو وہ انھیں وزیر داخلہ سندھ بنانا چاہتے تھے۔ پہلی میٹنگ ہی میں جمیل یوسف نے انقلابی سیاسی اصلاحات متعارف کرانے کی باتیں کیں مگر جنرل مشرف کو وہ منصوبہ بوجوہ پسند نہ آیا۔ جمیل یوسف کہتے ہیں ”مجھے چھے ماہ دیجیے، میں کراچی کو تمام جرائم سے پاک کر دوں گا۔“
جمیل یوسف نے کراچی شہر میں قیامِ امن کی خاطر اپنی جوانی کے قیمتی سال بیتائے۔ تاہم سازش کے ذریعے انھیں کمیٹی سے نکلوا کر ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا گیا۔ ایک محب وطن کی قربانیوں کا صلہ بھلا یوں دیا جاتا ہے؟ پھر جمیل یوسف کی عزت تو مجرم بھی کرتے تھے۔
ایک بار پولیس نے مجرم کو ماں و منگیتر سمیت گرفتار کر لیا۔ جب جمیل یوسف کو معلوم ہوا، تو انھوں نے خواتین کو جیل سے رہائی دلوائی، کھانا کھلوایا، گھر جانے کا کرایہ دیا اور یہ خیال رکھا کہ آیندہ پولیس انھیں تنگ نہ کرے۔ جب مجرم کو اس بات کا پتا چلا تو وہ جمیل یوسف کا مرید بن گیا۔
ڈان کے مشہور کالم نگار، اردشیر کاؤس جی نے اپنی ایک تحریر میں وہ اہم وجہ بیان کی جس کے باعث جمیل یوسف کمیٹی سے علیحدہ کیے گئے۔ انھوں نے لکھا کہ دسمبر 2002ء میں عشرت العباد گورنر سندھ مقرر ہوئے۔ مارچ 2003ء میں پتا چلا کہ سٹیزن لائزن کمیٹی کے ڈیٹا بیس میں ان کا نام بھی شامل ہے کیونکہ گورنر کے خلاف دس سال پہلے ایف آئی آر کاٹی گئی تھی۔
گورنر صاحب نے اسی دن جمیل یوسف کے علاوہ دیگر ارکان کمیٹی کو بلوالیا۔ انھوں نے پھر ارکان پر دباؤ ڈالا کہ کمیٹی میں مالی بے قاعدگیوں کی سن گن دیں۔ جب کوئی بدعنوانی سامنے نہ آئی، تو انھوں نے ایک رکن، زبیر حبیب کو حکم دیا کہ کمیٹی کے دفتر جا کر جمیل یوسف کا کمرا لاک کر دو۔ اسی رات ان کی برخاستگی کا خط جمیل یوسف کے گھر بھجوا دیا گیا۔

سکون و خوشحالی کا دور
کراچی میں 2002ء تا 2008ء ماضی کی نسبت  خاصا پُرسکون رہا۔ قتل کی وارداتوں میں کمی آگئی۔ اس کا شمار دنیا کے پُر امن کاروباری مراکز میں ہونے لگا۔ غیر ملکی نامہ نگار اپنی رپورٹوں میں اکثر یہ جملہ لکھنے لگے: ”یہ شہر کبھی تشدد سے بھرپور تھا۔“
اسی دوران ایک باصلاحیت پرجوش مئیر، سید مصطفےٰ کمال کراچی کے انفراسٹراکچر میں انقلابی تبدیلیاں لے آئے۔ فضا بہتر ہوئی، تو کاروبار بھی پھلا پھولا۔ یوں متوسط طبقے کے پاس دولت آئی اور وہ نت نئی اشیا خریدنے لگا۔ کاروں کی کثرت سے سڑکوں پر ٹریفک بڑھ گیا۔ لوگ آدھی رات تک گھومتے پھرتے اور کوئی انھیں دِق نہ کرتا۔ ایسے ماحول میں جمیل یوسف قِصّہئ ماضی بن گئے۔
اواخر2007ء سے کراچی پھر بے سکون ہوگیا جب بے نظیر بھٹو مرحومہ کی گاڑی بم دھماکے کا نشانہ بنی۔ یوں شمالی پاکستان میں جاری جنگ کے اثرات کراچی تک بھی آ پہنچے۔ 2008ء میں جب جمہوریت آئی، تو سیاست داں مقامی جرائم پیشہ گروہوں کی سرپرستی کرنے لگے۔ یوں شہر قائد دوبارہ تشدد و فساد کا نشانہ بن گیا۔ آج بھی روزانہ وہاں دس پندرہ انسان اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جس سے عیاں ہے کہ وہاں زندگی کی کوئی وقعت نہیں رہی۔
مرض کا کیا علاج؟
کراچی کی حالت زار دیکھ کر ہی شہریوں کو  جمیل یوسف کی یاد ستاتی ہے اور حکومت نے بھی انھیں فراموش نہیں کیا۔ جب وزیرِ اعظم نوازشریف نے شہرِ قائد کو مجرموں اور دہشت گردوں سے پاک کرنے کا تہیہ کیا، تو جمیل یوسف سے بھی مدد لی گئی۔ انھوں نے پھر قانون کی حکمرانی مضبوط کرنے کی خاطر تجاویز دیں۔ یہ انہی کی تجویز تھی کہ مشکوک افراد کو 90دن تک زیرِ حراست رکھا جائے جس پہ عملی جامہ پہنایا جا چکا۔
مجھے یہ قانون خاصا ڈراؤنا لگا، یوں ان سے اس امر کا اظہار کیا۔ جمیل یوسف کہنے لگے: ”بھئی، اکثر مواقع پر پولیس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ مجرموں کے خلاف ثبوت اکٹھے کرسکے۔ اسی باعث عدالت انھیں رہا کر دیتی ہے۔ ثبوت جمع کرنا بچوں کا کھیل نہیں، اسی میں وقت لگتا ہے۔“
جمیل یوسف نے وزیرِ اعظم کو ”ادارہ تحفظِ عوام“(Public Safety Board)قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ یہ ادارہ ان گرفتار شدگان کی مدد کرے گا جو خود کو بے گناہ سمجھتے ہیں۔
سو پیری کے باوجود کراچی کے شرلاک ہومز کا جذبہ تعمیر و ترقی سرد نہیں ہوا۔ ان کی ذہانت اور صلاحیتیں اب بھی پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری دل کو پُرامن بنانے کے لیے کام آ رہی ہیں۔