function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

کالے ماش نے زندگی بدل دی

سراج دین | اپریل 2015

سیانے کہتے کہیں کہ کم کھانا‘کم سونا اور کم بولنا طویل عمری کا راز ہے۔ یہ بھی قول ہے: جب تک انسان اپنے مقدر کا رزق کھا نہیں لیتا‘تب تک اُسے موت نہیں آتی۔یوں اس بات کی صداقت عیاں ہوتی ہے کہ کم کھانا انسان کی عمر بڑھا دیتا ہے۔ یقینا کم سونے اور کم بولنے میںبھی کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہو گی۔ اسی تناظر میں میری جگ بیتی بھی سن لیجیے۔

میں نے اپنے والد کو بچپن ہی میںبوڑھا دیکھا۔ یقینا یہ غربت کا شاخسانہ تھا کہ وہ جوانی ہی میں عمررسیدہ دکھائی دیتے۔ پٹ سن کی بوری میں تکڑی (ترازو) اور باٹ رکھ کر وہ گلی کوچوں اور ہوٹلوں سے پھیری لگا کر چھان بورا اکٹھا کرتے۔ شام کسی مخصوص دکاندار کو بیچ کرتھوڑی بہت نقدی لے آتے جس سے گھر کا خرچ چلتا۔ گھر میں کسمپرسی کا عالم تھا کہ بتاتے ہوئے لاج آتی ہے۔ آپ صرف اِس بات سے اندازہ لگا لیں کہ کئی بار چھان بورے سے روٹیاں نکال کر ہم پیٹ کی آگ بجھاتے۔ زندگی میں پہلی بار مٹھائی بھی چھان بورے ہی سے نکال کر کھائی۔ والدہ صابر شاکر اور بلند ہمت خاتون تھیں۔ اس تنگی ترشی میں کبھی اُنھیں والد سے لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا۔ وہ جو کچھ کما کے لاتے‘ اُسی میں گزارا کرتیں اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر بجا لاتیں۔

کبھی انھوں نے ابا کو تنگ یا مجبور نہیں کیا کہ اپنی آمدن میں اضافہ کرو۔ ہمیں تو دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نصیب نہیں ہوتی یا مجھے فلاں چیز یا فلاں کپڑا چاہیے۔ میرے والدین میں کمال درجے کی ذہنی ہم آہنگی تھی۔ اسی نپی تلی آمدن اور مخدوش حالات میں انھوں نے ہم دونوں بھائیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ وہ ہمیں سچائی‘ محنت‘ مسلسل جدوجہد‘ اخلاص اور کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے کا درس دیتے۔ والدہ کہا کرتیں کہ کسی سے مانگنے یا چوری چکاری کرنے سے بہتر ہے کہ انسان بھوکا رہ لے۔ اللہ تعالیٰ میرے والدین کے درجات بلند کرے‘ اُن کی قبروں کو تاحدِ نگاہ کشادہ اور اُنھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، آمین۔

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب راقم نے عملی زندگی میں قدم رکھا۔ ایف اے سیکنڈ ڈویژن میں پاس کرنے کے بعد حالات ہی کچھ ایسے آ پڑے کہ تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ فکرمعاش ہر وقت دل و دماغ کا احاطہ کیے رہتی۔ نامساعد حالات ‘ غربت اور محدود ذرائع سرکاری ملازمت نہ ملنے میں بڑی رکاوٹ تھے۔ بڑے بھائی ڈبل ایم اے کرنے کے باوجود بیروزگار تھے۔ اسی بیروزگاری نے اُنھیںدماغی مریض بنا دیا۔ میں بھی پریشانی کے باعث سگریٹ نوشی کی علت کا شکار ہو گیا۔جب کوئی صورت نہ بنی‘ تو تھوڑی بہت جمع پونجی لیے فیصل آباد کو خیرباد کہا اور لاہور قسمت آزمائی کے لیے ہجرت کی۔میرا لنگوٹیا جاوید بھی میرے ہمراہ آ گیا۔

یہ بھی عجیب معاملہ ہے کہ انسان جب پریشان ہو‘ تو مزید مشکلات اُسے آ گھیرتی ہیں۔ ہم نے اچھرہ کے نواح میں معمولی کرائے پر ایک کمرا لے لیا جس میں سر چھپانے کے سوا کوئی سہولت میسر نہ تھی۔ مجبوراً محلے کی مسجد کا غسل خانہ اور بیت الخلا استعمال کرتے۔ یہ تنگی اور ترشی کے دن کسی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔
ہم دونوں دن بھر ملازمت کی تلاش میں خاک چھانتے اور رات گئے تھکے ہارے نامراد لوٹ آتے۔ جو تھوڑی بہت رقم ساتھ لائے تھے‘ وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی۔ در در کی ٹھوکریں کھائیں‘ خوب پاپڑ بیلے مگر دال گلتی نظر نہ آئی۔ حالات اس قدر دگرگوں ہو گئے کہ سگریٹ نوشی کے لیے بھی پیسے نہ تھے۔ اِن حالات میں بھی ہم دل پشوری یا غم غلط کرنے کبھی کبھار سینما میں فلم دیکھنے چلے جاتے۔ ایک دن بیٹھے بٹھائے سگریٹ پینے کی زبردست طلب ہوئی۔ جیب میںایک پھٹا ہوا دس روپے کا نوٹ پڑا تھا۔ دکاندار واقف تھا۔ اُس نے سگریٹ دے دیے‘ مگر نوٹ کی حالت دیکھ کر کہنے لگا ‘‘بائو جی کوئی بات نہیں پھر دے دیجیے گا۔میں نے وہ نوٹ جیب میں ڈال لیا کہ چلو پھر کام آئے گا۔
اُسی روز میرا ایک عزیز مجھ سے ملنے لاہور چلا آیا۔ اُس کی خاطر مدارات کے لیے جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی سوائے اُس نوٹ کے۔ لنگوٹیوں کا یہ فائدہ ہے‘ وہ ایک دوسرے کو بخوبی جانتے ہیںکہ کون کتنے پانی میںہے۔ لہٰذا اپنی آئو بھگت کے لیے اُس نے اپنی جیب ہلکی کی اور رات نو سے بارہ فلم دیکھنے کا پروگرام بھی بنایا۔

بارہ بجے شو ختم ہوا‘ تو سینما کے باہر ہجوم سا برپا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے چھٹ گیا اور ہر سو ویرانی اور سنسناہٹ نے لے لی۔ ہم تینوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے خراماں خراماں اپنی منزل کی جانب پیدل ہی چل دیے۔ راستے میں ایک جگہ پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا۔ سنتریوں نے ہمیں روک لیا اور رات گئے مٹرگشت کرنے کا سبب پوچھا۔
میں نے بتایا کہ فلم دیکھ کر آ رہے ہیں۔ سپاہی نے سینما کا ٹکٹ طلب کیا جو جیب سے نکال کر اُسے تھما دیا۔ اُس نے کن انکھیوں سے ٹکٹ کو گھورا اور ہمیں بخیر و عافیت جانے کا پروانہ دے دیا۔میں دل ہی دل میں خوش ہوا کہ لاہور کی پولیس بہت اچھی ہے۔ خوامخواہ راہ گیروں یا مسافروں کو تنگ نہیں کرتی‘ ہم اگر فیصل آباد ہوتے‘ تو رشوت دیے بغیر چھٹکارا مشکل تھا۔

صبح حسب معمول بیدار ہوا‘ تو ناشتے کے بعد پھر سگریٹ کی طلب ہوئی۔ دکاندار سے سگریٹ لے کر اُسے وہی نوٹ تھمایا‘ تو اُس نے کہا ’’بائو جی یہ کیا ہے؟‘‘
میں نے نوٹ اُس کے ہاتھ سے لیا‘ تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ سینما کا ٹکٹ تھا۔ عجلت سے دوسری جیب میں ہاتھ ڈالا‘ وہ بھی خالی تھی۔ مجھے فوراً ہی رات ناکے پر پولیس کی ’’مہربانی‘‘ والا معاملہ سمجھ آ گیا۔
٭٭
میں برسرروزگاروں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا‘ تو اپنا وجود بے معنی محسوس ہوتا۔ اِس کے باوجود میں نے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا ۔میرے حالات جیسے بھی تھے ‘ میں کسی کو خوش دیکھ کر بہت خوش ہوتا۔میں نے اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اچھا ہی گمان رکھا۔ مجھے یاد ہے جب نوبت فاقوں تک آ پہنچی‘ تو میرا لنگوٹیا بھی ساتھ چھوڑ گیا۔
ایک دن خوب موسلادھار بارش ہوئی اور تھوڑی ہی دیر بعد تھم گئی۔ بازار میں کیچڑ ہی کیچڑ ہو گیا۔ پھسلن اس قدر کہ پیدل چلنا محال تھا۔ کئی سائیکل سوار اوندھے منہ گرے۔ میں بازار میں کھڑا حلوائی کی دکان پر لوگوں کا ہجوم دیکھ رہا تھا جو حلوہ پوری کھانے کو مچل رہے تھے۔ بڑا دل چاہا کہ میں بھی اِس نعمت سے لطف اندوز ہوں‘ لیکن پلے ایک پیسا نہیں تھا اور چوہوں نے پیٹ میں غدر مچا رکھا تھا۔ اتنے میں ایک آدمی حلوہ پوری کا لفافہ سائیکل کے ہینڈل پر لٹکائے تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ پھسل کر زمین پر جا گرا۔ پوریوں کا لفافہ بھی کیچڑ میں لتھڑ گیا۔ اُس نے وہ لفافہ اُٹھانا گوارہ ہی نہیں کیااور دوبارہ پوریاں لینے دکان پر چلا گیا۔

میںنے بھاگ کر وہ لفافہ اُٹھایا اور سرعت سے اپنے کمرے کا رخ کیا۔ لفافہ کھولا‘ تو صرف ایک ہی پوری کو تھوڑا سا کیچڑ لگا تھا۔ باقی تین گرماگرم پوریاں ٹھیک تھیں۔ ایک پوری میں تھوڑا سا حلوہ رکھا تھا اور چنوں کا ایک چھوٹا ساپیکٹ بھی۔ اُس دن وہ نعمتیں کھانے کا جو مزہ آیا میں آج تک نہیں بھولا… اور بے تحاشا اللہ کا شکر ادا کیا۔
ایک روز مزنگ بازار سے گزررہا تھا کہ ایک جنازہ آتا دکھائی دیا۔ کندھا دینے والوں کی تعداد برائے نام تھی۔ نیکی کی نیت سے میں بھی جنازے میں شریک ہو گیا۔ میت کو بار بار کندھا دیا اورتدفین تک شامل رہا۔ اُسے لاہور کے قدیم قبرستان‘ میانی صاحب میں دفنایا گیا۔

 مردے کے عزیز و اقارب چلے گئے‘ لیکن میں تنہا قبرستان میں بیٹھا اپنی تقدیر کے بارے سوچتا رہا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ڈھول بجنے کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ میں نے آواز کا تعاقب کیا‘ تو قبرستان ہی میں واقع ’’چن پیر‘‘ کے مزار پر میلا دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہاں بھنڈارے کی دیگیں پک رہی تھیں اور عوام الناس کے لیے دعوت عام تھی۔ سبز چولے اور سرخ پگڑیاں باندھے مجاوروں اور ملنگوں نے پینے پلانے کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ مزار سے ملحق کشادہ احاطے کے ایک کونے میں تاریک سی کوٹھڑی اِن کے استعمال میں تھی۔خیر میں نے جی بھر کے نان اور بھنڈارا کھایا اور رات کھانے کے لیے بھی ساتھ لے آیا۔
اچھرہ اور میانی صاحب ایک ہی طویل سڑک پر واقع ہیں۔ میں تیس منٹ میں پیدل میانی صاحب پہنچ جاتا۔ کئی روز میرا قبرستان ہی سے کھانے پینے کا معمول رہا ۔ وہاں میں نے عاشق رسولؐ غازی علم دین شہید کا مزار بھی دیکھا۔ عقیدت مند وہاں فاتحہ پڑھنے آتے رہتے۔

 ایک دن میں تنہا چن پیر کے مزار سے ملحق احاطے میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص ہاتھ میں تھیلا لیے وارد ہوا‘  ایک بوڑھے برگد کے نیچے جا کر تھیلے میں سے کچھ نکالا اور جڑوںمیں رکھ چلا گیا۔ میں نے قریب جا کر دیکھا‘ تو وہاں کالے ماش اور چار انڈے پڑے تھے۔ میری سمجھ میں کچھ نہ آیا اور میں چپ چاپ واپس اپنی جگہ آ بیٹھا۔
تھوڑی ہی دیر میں ایک اور آدمی دور پرے ایسی ہی حرکت کرتا دکھائی دیا۔ اب میں نے واپسی کا ارادہ کیا۔ قبریں پھلانگتا جا رہا تھا کہ جگہ جگہ کالے ماش‘ انڈے‘ دال مسور اور کہیں کہیں شکر بھی پڑی نظر آئی جن پر سیاہ مکوڑے ٹوٹے پڑے تھے۔میں خاصی دیر اُنھیں شکر اپنے بلوں میں لے جاتے دیکھتا رہا۔ کچھ کیڑے مکوڑے وہیں شکر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

چند لمحوں کے لیے دل میں خیال آیا کہ یااللہ! اِن کیڑے مکوڑوں کو بیٹھے بٹھائے‘ تورزق عطا کر رہا ہے‘ میرے مقدر میں کیا ہے؟ یہ شکوہ دل میں آیا ہی تھا کہ حضرت علیؓ کا وہ قول یاد آ گیا : ’’تقدیر کے لکھے پرکبھی شکوہ نہ کیا کرو کیونکہ انسان اتنا عقل مند نہیں جو اللہ کے ارادے سمجھ سکے۔ ‘‘
اگلا دن میں نے کمرے ہی میں گزارا۔ پھر یکدم بیٹھے بٹھائے ذہن میںایک ترکیب آئی اور اُسے عملی جامہ پہنانے میں جنرل اسٹور والے کے پاس گیا۔ اُس سے دالوں کے نرخ پوچھے۔ وہ کہنے لگا‘ خیر ہے بائو جی آج آپ سگریٹ کے بجائے دالوں کے بھائو پوچھ رہے ہیں‘ کیا شادی وادی کا ارادہ ہے؟ میں جواب دیے بغیر مسکرا دیا۔ اُس نے دالوں کے نرخ بتائے‘ توسوائے چنوں کی دال کے باقی دالیں ڈیڑھ پونے دو سو روپے کلو تھیں۔

میںصبح سویرے ناشتا کیے بغیر ایک تھیلا ہاتھ میں لیے قبرستان پہنچا۔ اِس وقت شہرخاموشاںمیں ’’مکینوں‘‘ کے علاوہ صرف میں ہی ذی رُوح تھا۔ شکر اور دال مسور کیڑے مکوڑے چٹ کر گئے تھے‘ مگر کالے ماش اور انڈے اُسی حالت میں پڑے تھے۔رات والی ترکیب کے مطابق میں کالے ماش اور انڈے جو جگہ جگہ بکھرے پڑے تھے‘ تھیلے میں ڈالنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں ڈیڑھ درجن انڈے اور چار کلوکے قریب کالے ماش میرے تھیلے میںجمع ہو گئے۔
میں نے کمرے میں لے جا کر دونوں چیزیں رکھیں اور دوبارہ قبرستان چلاآیا۔ سچی بات ہے کہ مجھے ابھی تک اس قدیم قبرستان کی وسعت کا اندازہ نہیں ہو سکا۔ قبرستان ہی میں سے سڑکیں گزرتی ہیں‘ پُرپیچ گلیاں ہیں اور کہیںمحلے بھی آباد ہیں۔ کئی جگہوں پر کالے ماش اور انڈے ایک ہی شاپر بیگ میں رکھے تھے۔ مختصر یہ کہ میں نے ایک ہی دن میں بیس کلو کالے ماش اور پانچ درجن انڈے جمع کر لیے۔

میں نے دکاندار سے لجاتے ہوئے یہ اشیا بیچنے کی بات کی‘ تو اُس نے بغیر کسی پوچھ پڑت کے کمال مہربانی سے فوراً ہامی بھر لی اور بائیس سو روپے کے عوض یہ چیزیںخرید لیں۔ تھوڑے ہی دنوں بعد دکاندار کے توسط سے میں نے ایک ہزار روپے کی سائیکل بھی خرید لی۔کچھ دن بہت اچھے گزرے۔وہ چہرہ شناس تھا‘مجھے دیگر سودا سلف اُدھار لینے کی دعوت دیتا‘ تو میں کبھی کبھی قبول کر لیتا۔ سگریٹ‘ ڈبل روٹی‘ ڈبے والا دودھ‘ چائے کی پتی اور  بسکٹ وغیرہ میں اُس سے لینے لگا۔ یوں اُس سے یاد اللہ ہو گئی۔

اب میں سائیکل پر سوار ہو کر لوگوں سے دیگر قبرستانوں کا پتا پوچھ کر وہاں جاتااور درختوں کی جڑوں میں پڑی یہی اشیااُٹھا لاتا‘ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا کیونکہ لاہوریے مخصوص دنوں ہی میں یہ نعمتیں قبرستانوںمیں رکھتے ہیں۔ بعد میں پتا چلا کہ کالے ماش اور انڈے لوگ جادو ٹونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ میںوہ انڈے ناشتے میںاستعمال کرتا اور کالے ماش پکا کرکھاتا رہا‘ مگر کسی سحر یا ٹونے کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔

میں نے اللہ تعالیٰ سے شکوہ اورمایوسی کو اپنے قریب نہیںپھٹکنے دیا۔ اُس ذات نے مجھے جس حال میںبھی رکھا‘اُس کا شکرہی ادا کرتا رہا۔ جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیںتھی اورکھانے پینے کی اشیا کے نرخ آسمانوں سے باتیں کر رہے تھے۔ چھوٹا گوشت سات سو روپے‘ تو بڑا چارسو‘ سبزیوں اور دالوں کی قیمتیں بھی بادلوںمیں اُڑ رہی تھیں۔ لیکن میںنے ہر وہ نعمت کھائی جس کو دل چاہا‘ البتہ طریقہ ذرا مختلف تھا۔ کھانا پکانا میں نے والدہ کو پکاتے دیکھ کر سیکھ ہی لیا تھا۔

مرغی‘ بکرے یا گائے کا گوشت کھانا ہوتا‘ توقصاب کی دکان سے بلیوں کے واسطے چھیچھڑے اُٹھا لاتا اور تھوڑی سے محنت کے بعد اُن میں سے مطلوبہ گوشت نکال دھو کرپکاتا اور خالص چھیچھڑے بلیوںکو ڈال دیتا۔ یہ میں نہایت خفیہ طریقے سے کرتا کہ سفیدپوشی کابھرم قائم رہے اور کسی کو رتی بھر شبہ نہ ہو کہ میں خط افلاس سے بھی نیچے زندگی گزار رہا ہوں۔ لاری اڈے سے ملحق پھل اور سبزی منڈی ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ آڑھتیے گودام بند کر کے چلے جاتے‘ تو بچی کھچی سبزیاں اور پھل کچرے کے ڈھیروں پر پڑے ہوتے جو میں چن چن کر اکٹھے کر لیتا۔ دال چاول کھانے کو جی کرتا‘ تو لاہور کی معروف اکبری منڈی کا رخ کرتا۔ وہاں بھی گوداموں کے باہر یہ نعمتیں وافر مقدار میں بکھری مل جاتیں‘ البتہ اُنھیں خاصی محنت سے چھان کر دھونا پڑتا۔ صرف نمک‘ گھی سرخ مرچ‘ ہلدی اور دیگر مسالا جات مجھے خریدنے پڑتے۔
کھانا میں اس قدر لذیذ اور چٹ پٹا بناتا کہ اُس کی مہک پاکر مالک مکان بھی پوچھ لیتا ’’کیا پکا رہے ہو؟‘‘ ایک دن اُسے آلو قیمہ کھلایا‘ تو وہ انگلیاں چاٹتا رہ گیا۔ پھر کہنے لگا‘ اگلے ہفتے کھانے کا سامان میں لائوں گا اور تم پکانا۔ وہ پہلا دن تھا جب میں نے دکان سے خریدا ہوا گوشت کھایا۔

ایک دن جنرل اسٹور والے نے دکان پر آئے ایک ٹھیکیدار سے مجھے ملوایا۔ میری ملازمت کے سلسلے میں اُس سے بات کی اور میرے متعلق کچھ تعریفی کلمات بھی کہے۔ ٹھیکیدار نے میرے خدوخال کا جائزہ لیا اور کہنے لگا‘ مزدوری کر لو گے؟ میں نے فوراً ہاں کر دی۔ صبح آٹھ بجے دکان ہی پر ملنے کا کہہ کر وہ چلا گیا۔
اگلی صبح میں دکان پر کھڑا تھا کہ ٹھیکیدار موٹر سائیکل پر سوار اپنے پیچھے کسی مزدور کو بٹھائے آ گیا۔ خود ذرا سا آگے سرک کر مجھے بھی موٹر سائیکل پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں دونوںکے بیچ پھنس پھنسا کے بیٹھ گیا۔ لاہور کے ایک معروف علاقے‘ شادمان میں کوئی کوٹھی زیرتعمیر تھی جس کا ٹھیکا موصوف نے لے رکھا تھا۔
پہلے ہی دن اُس نے مجھے اینٹیں اُٹھانے پر لگا دیا۔ بچپن میں کسی بیماری کے باعث میری دائیں ٹانگ کمزور رہ گئی تھی جس کے باعث میں ہلکا سا لنگڑا کے چلتا۔ اینٹیں تیسری منزل پر چڑھانی تھیں اور یہ کام میری استطاعت سے باہر تھا۔ پھر بھی میںنے ہمت سے کام لیا اور جیسے تیسے پانچ سو کے قریب اینٹیں بالائی منزل پر چڑھا دیں۔ آٹھ گھنٹے مسلسل یہ محنت طلب کام کرنے سے میرا جسم اکڑ گیا‘ زندگی میں پہلی مرتبہ جو کیا تھا۔ اگلے روزبسترسے اُٹھا ہی نہیںگیا۔وہ دن میں نے شدید تکلیف میں کراہتے ہوئے کمرے ہی میں گزارا۔

سہ پہر جنرل اسٹور والے نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا‘ تو میں نے بمشکل بستر سے اُٹھ کر کھولا۔ وہ میری حالت دیکھ کر ٹھٹک گیا۔میں نے کراہتے ہوئے اُسے کل کی کارگزاری سنائی‘ تو وہ مجھے آرام کرنے کا مشورہ دے کر چلا گیا۔ اگلے روز ٹھیکیدار میری خیریت معلوم کرنے آیا‘ تو میںنے اُس کے ساتھ کام پر جانے سے معذرت کر لی۔ بدن میں اس قدر درد تھا کہ پورا ہفتہ میں چلنے پھرنے سے قاصر رہا۔ پھر ایک دن جنرل اسٹور والے نے مجھے عجیب و غریب مشورہ دیا ‘ کہنے لگا:
’’آج کل مالٹوں کا موسم ہے۔ پھلوں والی دکانوں اور ریڑھیوں پر رس بیچنے والوں سے مالٹوں کے چھلکے مفت مل جاتے ہیں۔‘‘

 میں آنکھیں پھاڑ کر اُس کا منہ تکنے لگا اور سوچا‘ مالٹے کے چھلکوں کا میری بیروزگاری سے کیا تعلق؟ اُس نے بتایا کہ تم ریڑھیوں اور دکانوں سے یہ چھلکے اٹھا لائو۔ پھر اُنھیں باریک باریک کاٹ کر دھوپ میں سکھائو۔ جب بوری بھر جائے‘ تو میرے پاس لے آنا۔ دوسرا مشورہ کاغذی لفافے بنانے کادیا۔ کہنے لگا اونے پونے داموں ردی خرید کر گُرس کے حساب سے مختلف سائز کے لفافے بنائو‘ وہ میں خرید لیا کروں گا۔ پھر اُس نے مجھے لفافہ بنانے کا طریقہ بھی سکھایا۔
لفافے بنانا اور دکانوں سے مالٹوںکے چھلکے اکٹھے کرنا آسان تھا‘ مگر چھلکوں کی باریک باریک قاشیں تراشنا‘ صبرآزما کام ثابت ہوا۔ میں صبح سے شام تک قاشیں تراشتا‘ تو میری انگلیاں آپس میں جڑ سی جاتیں اور پورے بازو میں شدید درد ہونے لگتا۔ خیر اللہ اللہ کر کے آٹھ دس دنوںمیں قاشیں سوکھ گئیں۔ اُنھیں بوری میں ڈالا اور دکاندار کو پہنچا دی۔ وہ بڑا حیران ہوا کہ اتنی جلد میں نے اتنا مال کیسے تیار کر لیا۔

اگلے دن اُس نے مجھے پندرہ سو روپے تھمائے اور مزید ایک بوری کا آرڈر بھی دیا۔ میں نے پوچھا‘ اِن قاشوں کا کیا کرتے ہو؟ اُس نے بتایا کہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے مواقع پر باورچی زردے کی دیگوں میں بادام اور دیگر میوہ جات کے ساتھ خوشبو کے لیے یہ قاشیں بھی ڈالتے ہیں۔ یکدم مجھے یاد آیا کہ میں بھی اس نعمت سے لطف اندوز ہو چکا ہوں اور کبھی ذہن میں آیا ہی نہیں  کہ یہ مالٹے کے چھلکے کی قاشیں ہیں۔

جب دکانوں اور ریڑھیوں سے چھلکے اُٹھانا میرا  معمول بن گیا‘ تو وہ پوچھنے لگے‘ اِن کا کیا کرتے ہو؟  جنرل اسٹور والے نے مجھے بتا رکھا تھا کہ اُنھیں یہی کہنا کہ بکریوں کو ڈالتا ہوں۔ لیکن میں نے جھوٹ سے پرہیز ہی کیا اور اُنھیں بتایا کہ میری روزی کا سلسلہ ہے۔ یہ سن کرکچھ ریڑھی والے ’’گیدڑ‘‘ بن گئے۔
یقینا آپ نے یہ کہاوت سنی ہو گی کہ ایک بندر کو گیدڑ کے فضلے کی ضرورت پڑ گئی۔ وہ گیڈر کے پاس اپنی حاجت لے کر گیا۔ گیدڑ تعاون کرنے کے بجائے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ اسی طرح بعض دکانداراورریڑھی والے مجھے چھلکے دینے سے کترانے لگے۔ وہ مجھے دینے کے بجائے کوڑے میں پھینک دیتے۔حالانکہ یہ عمل اُن کے لیے تکلیف کا باعث تھا۔ اس طرح مجھے کوڑے کے ڈھیرسے چھلکے چننے پڑتے۔

اب میرے پاس اتنی رقم جمع ہو گئی کہ میں نے شام کو ایک نجی کمپیوٹر کالج میں داخلہ لے لیا۔ لہٰذا قاشوں والا کام ترک کر اب میں صرف لفافے بناتا۔ جب کبھی میں بازار سے گزرتا‘ تو وہی دکاندار اور ریڑھی والے جو ’’گیدڑ‘‘ بن گئے تھے آواز لگاتے ’’بائو جی چھلکے نہیں اُٹھانے؟‘‘ میں کوئی جواب دیے بغیر مسکرا کے چل دیتا۔
میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے محسن دکاندار کابھی شکرگزار ہوں جس نے بنا کسی لالچ کے اپنے پرخلوص مشوروں سے میری راہنمائی کی۔ موصوف اب میرے برادرِ نسبتی ہیں۔آج کل میں ایک معروف ادارے میں کمپیوٹر ڈیزائنر کی حیثیت سے معقول معاوضے پر باعزت ملازمت کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں نے نہایت کسمپرسی میں بھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ اسی بات کا صلہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا  کہ آج میں اِس مقام پر ہوں۔ اچھرہ ہی کی گنجان آبادی میں میرا تین مرلے کا دو منزلہ ذاتی مکان ہے جس کے آنگن میں دو ننھے پھول قلقاریاں مارتے دوڑتے پھرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان‘ محنت‘ اخلاص‘ مسلسل جدوجہد اور سچائی… انہی باتوں پر کاربند اور عمل پیرا ہو کر میں نے معاشرے میںباعزت مقام پایا۔