function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

جُھک گئے سو لَادے گئے

نجمہ ثاقب | کہانی

تو  بات محض اتنی سی ہے کہ جب بلندو حقّہ گڑگڑاتے اس کی ’’نے‘‘ کو باری پہ آگے کرتا سکّہ برابر بلغم چٹاخ سے نیچے تھوکتا اور دائیں بائیں کندھوں پہ جھولتے پوتے پوتیوں کو ایک ہی جھلارے میں نیچے گراتے ہوئے کہتا۔

’’جُھک گئے سو لادے گئے‘‘  تو حقّے پہ دائرہ باندھے محلے ٹولے کے بے مصرف بڈھے اُسے بلندو کا تکیہ کلام جان کر سر سے گزر جانے دیتے اور چوکے  ی بانہوں میں نئے سِرے سے اُپلے سلگاتی ’’بنتو‘‘ نظریں ہی نہیں بدن تک چرا کے یوں جھک جاتی جیسے کِسی نادیدہ بوجھ تلے دبی جاتی ہو۔  اور اگر ایسے میں کبھی دونوں کی نگاہیں چار ہوتیں، تو بنتو کی آنکھوں میں لرزتے اندیشے بلندو کی نظروں میں ڈولتے دلاسوں سے پسپا ہو ہوجاتے۔ بستی والے کہتے تھے۔ بلندو نے بنتو کو گود کے بچے کی طرح پالا ہے توکچھ نرالا نہیں کیا۔ آخر اس نے بھی تو بلندو کو اس وقت ہرا بھرا کر دیا جب اس کے پٹوں میں سفیدی چمکنے لگی تھی اور بھوسلی بھنویں آنکھوں پہ جھک آئی تھیں۔

جب یہ چہ میگوئیاں گئے وقتوں کے کِسی بچے کھچے بڈھے بڑھیا کے کانوں سے ٹکراتیں، تو وہ دائیں بائیں سر ہلاتے بے دانت کے پوپلے مونہوں میں زبانیں رولتے رہ جاتے۔  یہ ’’بلندو‘‘ کم بخت ہمیشہ سے ایسا نہ تھا۔ تم لوگوں نے اسے جوانی میں دیکھا ہوتا تو جانتے کہ وہ کس درجہ منہ زور اور ہتھ چھٹ تھا۔ بنتو تو کِسی کھاتے میں نہ تھی۔ چار پہروں میں چار بار تو ضرور پٹتی تھی۔ اور سننے والے بزرگوں کے سامنے ان مانے دل سے چپ کر جاتے۔ اور حقیقت تو کوئی بنتو سے پوچھتا جو جھریاں جھریاں بدن پہ سالوں پرانے مٹے ان مٹے نیل کھائے سلوٹ زدہ داغ خود سے بھی چھپاتی رہتی اور شرمندگی کے بوجھ تلے یوں ڈری ڈری پھرتی جیسے اسے کسی راز کے افشا ہوجانے کا ڈر ہو۔

وسط ’’چیت‘‘ کے دن تھے۔ کھیتوں میں سرسوں پھولی ہوئی تھی۔ لوہاروں کے تھڑوں پر پرانی رونق ایک مرتبہ پھر عود آئی تھی۔ کٹائی کے اوزار سان پر چڑھائے جا رہے تھے۔ کسان دھڑا دھڑ درانتیاں تیز کرواتے پھرتے تھے۔ گھریلو مویشی چھپروں سے نکل کر کھلے آسمان تلے آگئے تھے اور گابھن گائیوں کے بھاری جثے آنے والے ساون میں خوش خبریوں کی نوید بن کر کھلیانوں میں چرتے چُگتے تھے۔ جب ’’بنتو‘‘ کے گائوں سے مراثی ’’بلندو‘‘ کے سُسر کا پیغام لے کر آیا۔
اماں بیمار ہے۔ ایک بار چہرہ دکھا جائو۔

بنتو نے بے اختیار اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرا۔  ٹھوڑی سے نیچے ماس پہ چھوٹی سی چنٹ ڈالے کھرنڈ سے ہلکا ہلکا لہو ابھی بھی رستا تھا۔ صبح جب ’’بلندو‘‘ لکڑی کے چوڑے پٹ والے دروازے سے اندر داخل ہوا ، تو بنتو نے توَا ابھی چولھے پہ دھرا ہی تھا۔ اس نے دودھ والا گھڑا احتیاط سے چولھے کو آڑ دیتی یک فٹی دیوار پہ رکھا اور رومال کندھے سے اُتار ہاتھ دھو کے صحن کے بیچوں بیچ بچھی چارپائی پہ بیٹھ گیا۔

بنتو نے گھبرا کر ہتھیلی پہ گھڑی روٹی ٹھنڈے توَے پہ ڈال دی۔ جو کلونس کھائے لوہے پہ ایسی چمٹی کہ اترنے کا نام نہ لیا۔  اِدھر بلند و گھڑی بعد کھنکار کے اسے خبردار کرتا رہا۔
اِدھر بنتو ڈوئی کے کنارے سے روٹی کھرچتی، کن انکھیوں سے اُسے تکتی، دوپٹے کا پلو قریب پڑی چاٹی پہ لہرائے جاتی تھی جس میں رکھی دودھ بلونی تازہ مکھن سے لتھڑی ہوئی تھی اور بھن بھن کرتی مکھیاں اس کے اوپر نیچے چکرا رہی تھیں۔ ’’بلندو‘‘ کا پارہ چڑھ گیا۔

وہ مُنہ اندھیرے گھر سے نکل جاتا تھا۔ چارہ کاٹنے، تھوڑا بہت ہل چلانے یا گاہنی کرنے اور میویشیوں کا دودھ دوہنے کے بعد دن چڑھے گھر آتا تو گھی میں تَر پراٹھے اور میٹھی لسّی تیار ملتی۔ مگر آج بنتو سے بھول ہوگئی۔ بلندو جھلّا کر اُٹھا۔ توَے سے چمٹی روٹی اور مکھیاں کھائی چاٹی پہ نگاہ پڑی تو اس نے آئو دیکھا نہ تائو اور تانبے کا کٹورا پوری طاقت سے بنتو کو دے مارا۔ بنتو کا سر ایک لمحہ کو چکرایا… کٹورا سر کو چھوتا نیچے چولھے میں جلتی لکڑی سے ٹکرایا… وہ اُچھل کر بنتو کی ٹھوڑی پر پڑی اور اس کا پرانا زخم پھر ہرا ہوگیا۔

بنتو کے دل میں نفرت کی ایک نئی لہر اُٹھی۔  ایسی بہت سی لہریں ہر دوسرے روز اس کے دل میں طوفان اُٹھاتی تھیں۔ جب بلندو بات بات پہ اسے بے دردی سے دُھنک کے رکھ دیتا اور وہ اپنی چوٹیں سینکتی رو رو کر راتیں کالی کرتی رہتی۔  کڑوے پانی جیسی زہریلی لہریں ابھی بنتو کے وجود کو پانی پانی کر رہی تھیں۔ جب مراثی، ابّا کا پیام لایا۔  بلندو نے اسے دروازے ہی سے رُخصت کرتے ہوئے بنتو کو سہ پہر تک تیار رہنے کی ہدایت کی اور اپنا چارخانہ رومال جھٹکتا یوں بے نیازی سے باہر نکل گیا جیسے دونوں کے درمیان کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

بنتو کا میکا بھربھری مٹی کی ٹیکریوں سے پرے چار کوس کی مسافت پہ تھا۔ دونوں شام تک پہنچنے کی اُمید میں سہ پہر کو گھر سے نکلے تو دھوپ پھیکی پڑ رہی تھی اور انگلی برابر لمبی سیخوں والے خود رو کیکروں کے سائے ان سے لمبے ہوگئے تھے۔ سرسوں کے کھیتوں کے بیچوں بیچ بَل کھاتی کچیّ پگڈنڈی دور تک جاتی تھی جس پہ جابجا بکھرے پیلے پھول قدموں تلے مِسلے گئے تھے اور فضا میں ان کی مانوس باس چار اور پھیلی ہوئی تھی۔

بلندو آگے آگے تھا۔ اس کے قدم مضبوط تھے اور چال میں اعتماد کا جھالا پڑتا تھا۔  وہ چلتے ہوئے رُک رُک کر دائیں بائیں دور تک پھیلی کھڑی فصلوں کو تکتا اور دل میں حساب لگاتا جا رہا تھا کہ کون سا کھیت کب تک خالی ہونے کے قابل ہے اور کِس کِس کسان کو امسال شریکوں سے بڑھ کر خوشیاں ملنے والی ہیں۔ اس نے باقاعدہ انگلیوں پہ گن کے دیکھا۔ گامے کے چاروں کِلّے گندم کے سنہرے خوشوں سے لدے پڑے تھے۔ جبکہ اس کے پہلو میں سلیمے اور ماجھے کی فصلیں صرف گزارے لائق تھیں۔ بڑے نالے تک پہنچ کے ان کے قدم تھوڑے سُست پڑے تو بلندو نے ملکوں کے ڈیرے سے بھونک بھونک کر خود پہ لپکتے کتے کو دور سے شُشکار کر بنتو سے کہا۔

تھک گئی ہو۔ تو دو گھڑی ملکانی کے پاس ٹھہر کے سانس لے لو۔ لسّی پانی پی کر آگے چلتے ہیں۔ میں بھی حقّے کی باری لے لوں گا۔  بنتونے کوئی جواب نہ دیا۔  کتّابلندو کی شُشکار سے اور زیادہ اُچھل اُچھل کر بھونکنے لگا۔ وہ اپنی موٹی زنجیر کے حلقے میں یوں ناچ رہا تھاگویا ابھی اسے توڑ ہی ڈالے گا۔  بلندو نے اونچی آواز میں ملکوں کے نوکر کو آواز دی۔
وے سادھو!

وے سانبھل!  مگر پکارنے کے باوجود جب کوئی باہر نہ نکلا تو اس نے ٹھہرنے کا اِرادہ ملتوی کر دیا اور ڈیرے کا بن چھوڑ کر مغرب کی طرف نکلنے والی اس سولنگ پر مُڑ گیا جس کا دوسرا سِرا نہر کنارے عین اس جگہ جاکے ملتا تھا جہاں شوریدہ سر پانی تنگ ہوتے پاٹ پہ ’’کڑے‘‘ کی چھلنیوں سے گزر کر چند گز پرے آبی جھال میں نقرئی چاندی کی صورت گرتا تھا۔

بنتو اس کے پیچھے پیچھے کِسی معمول کی طرح چلی جا رہی تھی۔ مسلسل چلتے رہنے سے اس کے تلوے جل اُٹھے تھے اور دو پٹی کی سبز چپل انگوٹھے کو کاٹنے لگی تھی۔
اس کا ذہن رہ رہ کر اماں کی طرف بھٹک جاتا تھا۔ بیاہ کے بعد وہ بہت کم میکا گئی تھی۔ جاتی بھی تو بھائیوں، بھرجائیوں اور بھتیجے، بھتیجیوں کے جھرمٹ میں ماں بیٹی کو مل بیٹھ کے کہنے سننے کا موقع کبھی نہ ملا۔ اماں بھرے مجمعے میں بیٹھی اس کا چہرہ ٹٹولتی رہتی اور وہ دوپٹے سے ادھ چھپے کھُلے نیل ڈھک ڈھک کے ہلکان ہوتی رہتی۔

اماں کی رسائی نہ کبھی اس تک ہوئی نہ اس کے دل تک۔ جہاں بلندو کے لیے اس کی نفرت قمری مہینوں کے چاند کی طرح گھٹتی بڑھتی تھی۔  سکھیاں اس کی خاموشی کے ڈانڈے سونی گود سے جا ملاتیں۔ اللہ کوئی ’’جی‘‘ دے دیتا تو بنتو بھی اس کے پیچھے لہکتی پھرتی۔ پر خدا کی خدا ہی جانے۔ وہ آہ بھر کر بنتو کو کھوجتیں۔  مگر بنتو منہ میٹی بنی کِسی کھرے کا نشان تک نہ چھوڑتی اور مقرر دن پورے کرکے واپس لوٹ جاتی۔

نہر کی پٹڑی پہ چڑھ کے بلندو کی رفتار ایک مرتبہ پھر سست پڑ گئی۔ پٹڑی پہ پا پلر اور شہتوت کے درخت ٹھنڈی چھائوں بچھائے یک رو کھڑے تھے۔ ویرانے میں پانیوں کے شور کے ساتھ پتوں کی اسرار بھری سرگوشیاں یہاں سے وہاں تک پھیلی ہوئی تھیں۔  کیوں بنتو؟ تھک گئی ہو تو رُک جائیں؟ اس نے رُک کے یا مُڑے بغیر کہا۔  اونہہ۔ بنتو منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔  تھک خود گیا ہے اور بندوق میرے کندھے پر رکھتا ہے۔ میں تو تیری کبھی نہ مانوں۔

وہ ضد میں چپ چاپ چلتی رہی۔  بلندو نے ایک بار مڑ کر اسے دیکھا۔ پھر سر جھٹک کے بولا۔  چل تیری مرضی۔ ویسے بھی کوس بھرکا تو رستہ رہ گیا ہے۔ کنویں پہ چل کے دیکھتے ہیں اور ٹھیک آدھ گھنٹا بعد کبھی تیز کبھی سست پڑتے قدموں سے انھوں نے پٹڑی چھوڑی اور کنویں والی پُلیا سے نیچے اُتر گئے۔  پُرکھوں کے زمانے کا یہ کنواں پیدل سفر کرنے والوں کے لیے سنگِ میل جیسا تھا۔ بنتو کو خوب اچھی طرح حساب تھا کہ کنویں والی پُلیا سے اُترنے کے بعد کتنے قدم داہنی اور کتنے باہنی سمت چلنے پہ اس کے گائوں کی بڑی گلی شروع ہوجاتی ہے جو اتنی چوڑی ہے کہ اب اسے ’’گھوڑے دوڑ‘‘کہہ کے پکارتے تھے اور جس کے صرف دو گھر چھوڑ کے اس کی اماں کا دروازہ آتا تھا جس کے کواڑ دن رات میں کبھی بند نہ ہوتے تھے۔

کنویں کے پاس جا کے بلندو پھر رُک گیا۔  یہ کنواں مدتوں سے متروک استعمال تھا۔ تہ میں کہیں تھوڑا بہت پانی ہو تو ہو۔ مگر وہ اتنی مقدار میں نہ تھا کہ مسافروں کی پیاس بجھاتا اور دھوپ میں جھلسے مشقتی بدنوں پہ ٹھنڈی پھوار ڈالتا۔ بلندو کنویں کی مینڈھ پہ پائوں پسار کے بیٹھ گیا اور بولا! لو بھئی بنتو! اب تو رُکے یا نہ رُکے۔ میں تو گھڑی بھر یہاں ضرور سستائوں گا۔ ویسے بھی تمھاری اماں کا گھر اب دو قدم کی مار ہے۔ یہ گئے اور وہ پہنچے۔

بنتو چپ کی چادر پہنے دوسرے سرے پہ ٹِک گئی اور چپل اُتار کے دونوں ہاتھوں سے پائوں سہلانے لگی۔  بلندو تھوڑی دیر تک یونہی ڈاڑھی کھجاتا رہا۔ پھر اس نے اپنے چار خانے رومال سے پائوں کی گرد جھاڑی۔ اس کے بعد ٹانگوں کو اکڑا اکڑا کر کھولتا اور بند کرتا رہا۔ پھر دونوں بازو ہوا میں اُٹھا کر لمبی انگڑائی لیتے ہوئے اُٹھ کے کھڑا ہوگیا۔ چل بھئی بنتو! چل پڑ۔ بڑے زور کی بھوک لگ رہی ہے۔ تیری بھرجائی سالن کو بھگار لگا رہی ہے۔ اللہ قسم یہاں تک خوشبو آ رہی ہے۔

بنتو نے چپل پائوں میں اُڑسی۔ اور اُٹھ کر اس کے پیچھے آن کھڑی ہوئی بلندو کے دل میں جانے کیا آئی۔ کنویں کی مینڈھ پہ جھک کے بولا۔  توبہ کتنا گہرا کنواں ہے۔ پر پانی نام کو نہیں۔
جونہی بلندو نے نیچے جھانکا اور اس کا اوپر کا دھڑ کمر تک مینڈھ سے اندر کو جھکا۔  بنتو نے آئو دیکھا نہ تائو اور پوری قوت سے اُسے آگے دھکیل دیا۔  بلندو اس آفت کے لیے بھلا کب تیار تھا۔ اس کے قدموں کا ڈھیلا ڈھالا جمائو اپنی جگہ سے اکھڑا اور اگلے ہی لمحے وہ دھڑام سے کنویں کے اندر تھا۔

بنتو دھک سے رہ گئی۔  یہ کیا ہوگیا؟  یہ میں نے کیا کر دیا؟  بنتو کا دل سکڑا، سمٹا، لرزا اور دھڑ دھڑ کرتا سینے کی حد توڑ کے باہر کو لپکا۔ ٹانگیں یوں کانپنے لگیں جیسے تیز ہوا میں بیدِ مجنوں لرزتا ہے۔ اس نے خوفزدہ ہو کر کنویں کی طرف دیکھا۔  کہیں بہت نیچے جا گرنے والے بلندو کا وہاں سایہ تک نہ تھا۔  بنتو نے بے اختیار ہو کے ہاتھ دل پہ رکھ لیا۔

اسے لگا جیسے وہاں اٹھتی نفرت کا جوار بھاٹا منجمد پانیوں میں بدل گیا ہو۔ جن پہ اب ڈر، خوف اور احساسِ جرم کی اتھلی کائی اُگ آئی تھی۔ اسے اور کچھ نہ سوجھا۔ تو سر پٹ گائوں کی جانب دوڑ پڑی۔ گھر کا دروازہ کھلا تھا۔ بچے اور مرغیاں اندر باہر چل پھر رہی تھیں۔ اماں صحن میں چارپائی پہ رنگین کھیس بچھائے بیٹھی تھی۔ وہ یہاں وہاں اُلٹے پڑتے قدموں پہ ڈولتی اماں کی کھلی بانہوں میں سمائی اور ہوش کی دنیا سے نکل گئی۔

بلندو کے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ بنتو کبھی ایسا کر سکتی ہے۔ کچھ دیر تو اس حادثے کی حقیقت پہ یقین کرنے میں لگ گئی۔ اوسان قدرے بحال ہوئے اور نگاہیں اندر کے اندھیرے سے مانوس ہونے لگیں، تو اس نے جانا کہ وہ کنویں کی تہ میں بالشت بھر بدبو دار پانی میں پشت ڈبوئے پڑا ہے۔ اٹھنے کی کوشش کی۔ تو نیچے فرش اور آدھ پکی اینٹوں پہ جمی سیلن زدہ گہری کائی نے اس کے وجود کو سہارنے سے انکار کر دیا۔

اوپر دور تک جاتے خلا کے دہانے پہ ملگجی روشنی رفتہ رفتہ اندھیرے میں بدل رہی تھی اور وہاں تک پہنچنے کا کوئی امکانی راستہ موجود نہ تھا۔ ایک طرف باہر نکلنے کی صورت نظر نہ آتی تھی۔ دوسری جانب اندھے کنویں میں موذی حشرات کی موجودگی کا خیال خون خشک کر رہا تھا۔

بنتو! اللہ کرے تیرا ککھ نہ رہے۔  ناں…ناں… جیسے کسی نے اس کے دل میں چٹکی لی۔  تیرا کچھ نہ جائے۔ میں تو تجھے اپنے ’’مردپنے‘‘ میں مارا کرتا تھا۔  پر تونے کیا کر دیا۔
موت منہ کھولے سامنے نظر آئی تو بلندو کو صحیح معنوں میں خدا یاد آیا۔ اس نے سچے دل سے اُسے اپنی شہ رَگ سے قریب تر جانتے ہوئے پکارا۔  اللہ جی… اس نے سسکاری لی۔ بنتو سچی تھی۔ اِک دفعہ اس کا چہرہ دکھا دے۔ میں زندگی بھر اس کے داغ دھو دھو کے پیئوں گا۔

دو دھیل بھینسوں کے دو بیوپاری اپنے جانور ہانکتے وہاں سے گزرے، تو ایک نے ہو ہو کرتے کنویں پہ پہنچتی بھینس کو پگڈنڈی پہ موڑا اور غیرارادی طور پر یونہی کنویں میں جھانک لیا۔  بلندو چہرہ اوپر اٹھائے خدا سے مناجات کر رہا تھا۔

بیوپاری نے اس کی آواز سنی اور تیورا کے پیچھے ہٹا۔  اندر کوئی ہے۔ اس نے چیخ کر دوسرے سے کہا۔  آہستہ بول۔ دوسرا دبی آواز میں بولا۔ ویرانے میں کوئی ہوائی چیز پیچھے نہ لگا لینا۔  بھائیو! ڈرو نہیں… میں انسان ہوں۔ غلطی سے کنویں میں گر بیٹھا۔ مجھے نکالو… خدا کا واسطہ میری مدد کرو۔  بلندو کی آواز کنویں کے خلا میں گونجتی دیواروں پر لڑکھڑاتی ان کے کانوں سے ٹکرائی۔

دونوں نے اک دوجے کی طرف دیکھا اور ڈرتے ڈرتے نیچے جھانکا۔  بلندو عجیب و غریب ہیئت میں قدم کائی پہ بمشکل جمائے اوپر منہ کیے حلق پھاڑ رہا تھا۔  ایک نے لپک کر بھینس کے گلے سے موٹا سا رسہ نکالا اور کنویں میں ڈال دیا:  رسّے کا سِرا بلندو کے ہاتھ لگا، تو اسے زندگی کی اُمید ہوئی۔  اوپر دونوں اپنی ساری ہمت لگائے اسے کھینچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اور نیچے بلندو رسّے سے لپٹا اوپر منہ کیے ہونکنے لگا تھا۔ اس آپادھاپی میں کتنی ہی مرتبہ آدھ راہ پہ پہنچ کر بلندو نیچے گرتا رہا اور کتنی ہی مرتبہ اوپر والے اسے نئے سِرے سے اُٹھاتے رہے۔ بالآخر فریقین کی مشترکہ جدوجہد رنگ لائی اور بلندوخشکی کا منہ تکنے میں کامیاب ہوگیا۔ بیوپاریوں نے شکریہ وصولتے ہوئے اپنی راہ لی اور بلندو نے خود پہ نگاہ کی۔ اس کی ظاہری صورت کسی طور سسرال جانے کی نہ تھی۔ وہ چپکے سے سٹک لیا۔ رات منوں کانٹوں پہ بسر کی۔

کنویں سے صحیح سالم بچ کے نکل آنے پہ کل والی کسمپر سانہ کیفیت تقریباً عنقا تھی۔ اللہ سے باندھے وعدے ٹوٹی تسبیح کے منکوں کی طرح اِدھر اُدھر لڑھک گئے تھے۔ اسے رہ رہ کر بنتو پر غصہ بھی آ رہا تھا۔  … کی بچی نے مجھے اتنا کمزور جانا کیا؟

اچھا ہو کہ اب اسے کبھی نہ بسائوں۔  ساری زندگی باپ کی دہلیز پہ سڑتی رہے گی، تو بلندو کی قدر معلوم ہوگی۔  وہ ارادے باندھتا اور توڑتا رہا۔  پر پھر تمھیں لڑکی کون دے گا رے۔ تیرا چولھا کون سُلگائے گا؟  اسے پتا تھا اس کی شہرت کسی بندھن کو بندھنے نہ دے گی۔

کچھ اپنے سود و زیاں کا خیال آیا۔  کچھ بنتو کی پچھلی خدمت گزاریوں کا احساس ہوا۔  کچھ ایک چھت تلے کی مانوس سی چاہت نے ہاتھ باندھے۔  کچھ اللہ کی پکڑ کا خوف دل میں اُبھرا۔  اور ان سب نے مل ملا کے بلندو کے لیے فیصلے کو آسان کر دیا۔ اگلی صبح پوپھٹتے ہی وہ سسرالی گائوں میں داخل ہوا، تو گلیوں میں رات بھر آوارہ پھرنے والے کتے دروازوں کی دہلیزوں، نالی کے پتھروں کی اوٹ میں اونگھ رہے تھے۔ کھلے صحنوں کی فضائیں مرغوں کی بانگوں سے بھری ہوئی تھیں۔

اور ادھ کھلے دروازوں سے دودھ بلونیوں کی دگڑ دگڑ تازہ مکھن کی خوشبو لیے گھوم رہی تھی۔  بنتو ابھی تک اماں کی پائنتی بے سدھ پڑی تھی۔  وہ اسے دیکھ کے خوش ہوئیں۔ پھر دبے لفظوں میں داماد سے شکوہ کرتے ہوئے بولیں۔  ’’تونے آنا تھا، تو کل بنتو کے ساتھ آتا۔ بچاری اکیلی اتنا فاصلہ طے کرکے آئی۔ شام کا جھٹپٹا، دونوں وقت مل رہے تھے۔ جانے کس سے ایسی ڈری کہ جب سے آئی ہے دانت بیڑے پڑی ہے۔‘‘

بلندو چپکا ہوکے بولا۔  ’’مائیں بیمار ہوں، تو بیٹیوں سے کہاں رہا جاتا ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ آپ کو ٹھیک ہوتا دیکھے گی، تو بھلی چنگی ہو اُٹھے گی۔‘‘  اگلے دو روز بلندو ڈری سہمی بنتو کے ساتھ وہیں رہا اور تیسرے روز لاش کی طرح سپید اور ٹھنڈی پڑتی بنتو کو ساتھ لیے واپس آگیا۔  وہ دن اور آج کا دن، قسم ہے خدائے قدیر کی، بلندو نے کبھی بنتو سے اس شام کا ذکر نہیں کیا۔

اور اب جب بلندو بڑھاپے کی دہلیز پہ دونوں پائوں دھرے کھڑا ہے۔ اللہ کی رحمت اس پر بڑے زور سے برسی ہے۔ اس کا گلیارا پوتے پوتیوں کی کھلکھلاہٹوں سے بھر گیا ہے۔ رزق بھادوں کی جھڑی کی طرح ان پہ برستا ہے۔  اور بے چین اور بے محل پھرتی ’’بنتو‘‘ کے دل کو بھی قدرے قرار آگیا ہے۔ البتہ جب محلے ٹولی کی منڈلی میں بیٹھا بلندو بچوں کو ایک ہی ہلارے میں نیچے گرا کر کہتا ہے۔

’’جُھک گئے تو سو لادے گئے‘‘  تو ایک آدھ راہ چلتا منچلا ٹھہر کر ضرور پوچھتا ہے۔  چاچا! یہ تم اکثر کیا کہتے ہو بھلا؟  وہ انگلی کی سیدھ میں اُگے پھل سے مالا مال لیموں کے پیڑ کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے۔  اسے دیکھ! اگر نہ جُھکتا… بوجھ اُٹھانے سے انکاری ہوجاتا۔ پھل نیچے گراکر اکڑ کے کھڑا ہوجاتا، تو اس جیسا بن جاتا۔ اب اس کی انگلی دوسری جانب اِستادہ سوکھے کالے کیکر کے تنے کی جانب مُڑجاتی جس کی ڈالیاں سوکھ کر کب کی گر گئی تھیں اور اس کے ٹنڈ منڈ وجود پہ کوئی بھولا بسرا پرندہ بھی آکے نہ بیٹھتا تھا۔

پوچھنے والا ’’اونہہ‘‘کہہ کے آگے بڑھ جاتا۔  اور ’’بلندو‘‘ قہقہہ لگا کے یاروں سے کہتا۔  چَڑ گیا ہے۔ پر نہیں جانتا کہ’’ جُھک گئے سو لا دے گئے۔‘‘  اور ایک ہی جھُلارے میں کندھے سے لپٹے بچے کو نیچے گرا دیتا ہے۔ پرانے بڈھے جواباً پوپلے مونہوں میں زبان رول کے رہ جاتے اور چوکے کی بانہوں میں نئے سِرے سے اُپلے سلگاتی بنتو نظریں ہی نہیں بدن تک چرا کے یوں ہوجاتی جیسے کسی نادیدہ تاوان کی ادائی کے بوجھ تلے دبی جاتی ہو اور دِنوں ایسے شرمندہ اور بولائی بولائی پھرتی گو یا کسی راز کے افشا ہوجانے سے ڈرتی ہو۔ہہ