function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

مخدوم جاوید ہاشمی

الطاف حسن قریشی | خصوصی انٹرویو

ہم

چراغ جلے ملتان کے سفر پر روانہ ہوئے۔ ہمیں ایک مرد آہن کا انٹرویو لینا تھا جس کے ایک جرأت مندانہ اقدام نے پاکستان کو غیرجمہوری اور سازشی طاقتوں کے پنجوں میں جانے سے بچا لیا تھا اور ملک دشمن عناصر کے تمام خواب چکنا چورکر ڈالے تھے۔ نہر کے کنارے ای ایم ای سوسائٹی سے ذرا پہلے ایک نہایت خوبصورت مسجد میں نماز مغرب ادا کی جس میں امام صاحب کی تلاوت نے ایک سماں باندھ دیا تھااور خدائے لم یزل کی واحدانیت کے غیرفانی نغمے روح میں اُتار دیے تھے۔ کار کا ڈرائیور شبیر ملتان

تک پورے علاقے کا بڑا رازداں ہے اور اسے معلوم ہے کہ میاںمنشا کی زمین کہاں تک پھیلی ہوئی ہے اور جناب جہانگیر ترین کے مربعوں کی تعداد سینکڑوں یا ہزاروں تک جا پہنچی ہے جو تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل ہیں اور جناب عمران خاں انہی کے طیاروں اور بلٹ پروف گاڑیوں میں اُڑے پھرتے ہیں۔ مانگا تک سڑک ٹوٹی پھوٹی تھی‘ لیکن اس کے آگے ہمیں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ساہیوال کے بائی پاس پر ہمیں ہوٹل ’’ویو‘‘ نظر آیا جو قدرے بلندی پر واقع تھا۔ رات کے نو بج رہے تھے‘ ہم وہاں

رکے اور اس کے صاف ستھرے ماحول نے دامن دل کھینچ لیا۔ کھانا کھایا جو بہت مزے کا تھا اوربیرا نہایت سلیقہ شعار تھا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آگے چل پڑے۔
اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لیے میں ہاشمی صاحب کو مسلسل فون کیے جا رہا تھا۔ جواب یہی آ رہا تھا کہ عوام کے اندر گھرے ہوئے ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ ٹی وی پروگرام پر مکالمے کا حصہ بنے بیٹھے ہیں۔ اُن کے سیکرٹری سے بات ہوئی تو اُنھیں پیغام دیا کہ ہم قریباً رات کے بارہ بجے ملتان پہنچیں گے اور صبح ناشتے پہ ملاقات کرنے کا ارادہ ہے۔

رات گیارہ بجے جاوید ہاشمی فون پر آئے‘ تاخیر سے بات کرنے پر معذرت کی اور بتایا کہ مجھے علی الصباح اپنے حلقے میں جنازے میں شریک ہونا ہے اور میں کوئی ساڑھے دس بجے واپس آئوں گا‘ آپ پہلے آ جائیے اور میں ناشتے میں شریک ہو جائوں گا۔ رات کے ساڑھے گیارہ بجے ملتان کے آثار نظر آنے لگے جو فلائی اوورز میں جکڑا ہوا دکھائی دیا۔ اس شہر سے ہم نے ۱۹۷۰ء میں روزنامہ ’’جسارت‘‘ نکالا تھا اور اس وقت ضلع کچہری کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ چالیس بیتالیس برسوں میں اس شہر کی وہ خصوصیتیں ناپید ہوگئی ہیں جن کے لیے وہ تاریخ میں پہچانا جاتا تھا‘ البتہ اولیائے کرام کے مزارات اور خانقاہیں آباد ہیں اور عالی شان عمارتیں شہر کو ایک نیا جمال عطا کر رہی ہیں۔ رمادہ ہوٹل پہنچے تو اس کی آرائش و زیبائش دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ملتان شہر جدید سہولتوں سے آراستہ ہوتا جا رہا ہے۔

اُردو ڈائجسٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر عزیزم طیب اعجاز ‘ ڈپٹی ایڈیٹر خالد یزدانی اور عزیزی محمد عرشیان جب ملتان چھائونی میں بنگلہ نمبر ۵۰ پر پہنچے‘ تو اس پر کسی کا نام نہیں لکھا تھا اور مین گیٹ کھلا ہوا تھا۔ ہم نے سوچا یہ ہاشمی صاحب کا گھر نہیں ہو سکتا‘ کیونکہ دور دور تک کوئی دربان اور کوئی محافظ نظر نہیں آیا جبکہ اُنھیں سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت تھی۔ ہم اس کوٹھی سے آگے نکل آئے۔ وہاںایک پولیس والا کھڑا تھا۔ اس سے جاوید ہاشمی کے گھر کا پتا معلوم کیا‘ تو اس نے کہا یہ پیچھے برابر والی کوٹھی ہے۔ شبیر کار اندر لے گیا جہاں ایک گاڑی کھڑی تھی۔ اتنے میں ہاشمی صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری نے فون پرپوچھا کہ آپ لوگ کہاں ہیں۔ ہم نے کہا دروازے تک آن پہنچے ہیں۔ وہ دوڑا دوڑا آیا‘ ہمیں خوش آمدید کہا اور ڈرائنگ روم کے اندر لے گیا جس میں ائیرکنڈیشنر نہیں تھا۔ ملتان کا موسم خاصاگرم تھا اور ہمیں قدرے بے آرامی

محسوس ہوئی‘ مگر جب جاوید ہاشمی آگئے ‘ تو باتوں میں کسی چیز کا احساس ہی نہ رہا۔ میز پر ناشتہ لگا ہوا تھا جس میں کولیسٹرول بڑھانے والی تمام اشیا موجود تھیں۔ جاوید ہاشمی ہمارے سوالات کاجواب دیتے اور حلوہ پوری پر ہاتھ صاف کرتے رہے۔وہ بے پناہ قوت ارادی کے مالک ہیں اور بالعموم نتائج سے بے پروا رہتے ہیں۔ اُن کی باتیں مجھے پینتالیس برس قبل ماضی میں لے گئیں جب میری اُن سے پہلی ملاقات ہوئی تھی اور ہم ایک بہت بڑے بحران سے دو چار تھے۔

ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ کے زیراہتمام ہم نے۲۳ مارچ ۱۹۷۰ء کو ملتان سے روزنامہ جسارت کا اجرا کیا۔ افتتاحی تقریب میں جناب اے کے بروہی تشریف لائے تھے۔ یہ آغا یحییٰ خاں کا دور حکومت تھا جس میں صحافت کو کسی قدر آزادی میسرآئی تھی اور نئے اخبارات کے ڈیکلریشن ملنے لگے تھے۔

اس کے برعکس ایوب خاں کے زمانے میں ایک نہایت جابرانہ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس نافذ تھا جس میں اخبارات و جرائد کے ڈیکلریشن کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ اور ذرا ذرا سی بات پر ڈیکلریشن منسوخ کر دیے جاتے تھے۔ ہم ایوب حکومت کے خاتمے کے ایک سال بعد روزنامہ جسارت کا ڈیکلریشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ابھی ہمیں روزنامے کو نکالے دو چار مہینے ہی ہوئے تھے کہ آزادی صحافت کے نام پر پی ایف یو جے نے ایک روزہ ہڑتال کااعلان کر دیا۔ ہماری انتظامیہ کے نزدیک یہ ہڑتال بے محل اور بے جواز تھی‘ اس لیے ہڑتال کے باوجود ہم نے روزنامہ جسارت شائع کر دیا مگر ہاکر اخبار فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ تب اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ نوجوان آ گے آئے اور انھوں نے روزنامہ جسارت پورے شہر میں تقسیم کیا۔ اس وقت اِن طلبہ کی قیادت نوجوان جاوید ہاشمی کر رہا تھا۔

پھر مجھے وہ دن یاد آئے جب مسٹر بھٹو سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے طور پر برسراقتدار آئے اور وہ ہر قیمت پر پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کازور توڑ کر اپنی سیاست کا قلعہ تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ تب ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ اور ماہنامہ ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ نے انتخابی حکمت عملی تیار کرنے اور مناسب انتخابی نعرے تراشنے میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ طے پایا تھا کہ بائیں بازو کے مقابلے میں دائیں بازو کی قوت میں اضافے کے لیے یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کی صدارت کے لیے حفیظ خاں کھڑے کیے جائیں اور جنرل سیکرٹری کے لیے جاوید ہاشمی مناسب رہیں گے۔ عزیزی مجیب الرحمن شامی جو . ہفت روزہ زندگی کے ایڈیٹر تھے‘ا نھوں نے انتخابی مہم کے دوران

ایک سرگرم کردار ادا کیا۔ جناب سجاد میربھی ’’زندگی‘‘ سے وابستہ چلے آ رہے تھے اور وہی ہاشمی صاحب کو میدان میں لائے تھے۔ پیپلز پارٹی حکومت تمام تر طاقت اور ہیبت کے باوجود وہ پنجاب یونیورسٹی میں شکست سے دو چار ہوئی اوراگلے سال بھی اسے سر اُٹھانے کاموقع نہ ملا کہ اس دفعہ جاوید ہاشمی یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد ہم نے انھیں مختلف محاذوں پر عوام کے حقوق کی جنگ لڑتے اوربڑی پامردی سے انھیں مشکلات کاسامنا کرتے دیکھا۔جنرل پرویز مشرف کازمانہ آیا تو وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور انھوںنے ایک جونیئر فوجی افسر کا خط اسمبلی کے فلورپربلندآواز میں پڑھ کر سنایا جو اس نے تمام اراکین اسمبلی کو ارسال کیا تھا۔ اس پر فوجی حکومت نے اُن پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جس میں انھیں دس برس کی سزا سنائی گئی۔ انھوں نے جیل سے کتاب لکھی ’’ہاں‘ میں باغی ہوں۔‘‘ اس وقت سے اُن کا نام ’’باغی‘‘ پڑ گیا جو اُن کی عزیمت و استقامت کاایک زندہ استعارہ بن چکا ہے۔

اسیری کے دوران وہ مسلم لیگ نون کی صدارت کا بار بھی اُٹھائے رہے۔ جناب نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد اس جماعت میں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے نقب لگائی تھی اور قاف لیگ وجودمیں آ گئی تھی۔ فروری ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی تین نشستیں جیت لی تھیں اور یوں عوام نے اُن کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا تھا۔ تین سال بعد انھوں نے مسلم لیگ چھوڑنے کا فیصلہ کیا‘ تو اُن کے نہایت قریبی دوست خواجہ سعدرفیق نے انھیں اپنے گھر بلایا‘ وہ اور اُن کی اہلیہ دیر تک انھیں اس ارادے سے باز رکھنے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے۔ اس رات محترمہ کلثوم نواز بھی اس میٹنگ میں شریک ہوئیں اور ہاشمی صاحب کو رام

کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہیں‘ مگر شاید اُن کی عزت نفس پر کوئی گہرا زخم لگا تھا جو انھیں بے چین کیے دے رہا تھا۔ پھر ہم نے ٹی وی پر وہ منظربھی دیکھا کہ اُن کے حلقے کے لوگ اُن کی کار کے آگے لیٹ گئے تھے جو اُنھیں ائیرپورٹ لے جا رہی تھی کہ انھیں کراچی میں منعقد ہونے والے تحریک انصاف کے جلسہ عام میں شریک ہونا تھا۔ میں نے اس جلسے میں اُن کی تقریر سنی تھی جس میں انھوں نے عمران خاں سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ میں ’’تمہارا بھی باغی ہو سکتا ہوں۔‘‘ اُن کے یہ الفاظ میرے ذہن کے اندر چپک گئے تھے اور مجھے یہ احساس ہوا تھا کہ اس تقریر سے پہلے کوئی بہت بڑا خاموش حادثہ رونما ہو چکا ہے۔

اس پورے عرصے میں اُن سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ تحریک انصاف کے منتخب صدر بن چکے تھے اور اُن کی حیثیت عمران خاں سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی تھی کہ انھیں جماعت کے ارکان نے ووٹوں سے منتخب کیا تھا جبکہ دوسرے عہدیداروںکی طرح عمران خاں بھی ایک طرح سے نامزد ہوئے تھے۔ مئی ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے ۷۶ لاکھ ووٹ حاصل کیے اور اس نے جماعت اسلامی اور کچھ دوسری جماعتوں کے تعاون سے خیبرپختونخواہ میں حکومت بنا لی تھی۔عمران خاں نے انتخابات میں کامیابی پر جناب نواز شریف کو مبارک باد پیش کی تھی اور بعد میں اپنی رہائش گاہ پر اُن کا خوش دلی سے استقبال کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُ ن کے تیور

بدلتے گئے اور انھوں نے انتخابات میں بہت بڑی دھاندلی کے حوالے سے سابق چیف جسٹس جناب افتخار چودھری ‘ الیکشن کمیشن‘ ریٹرنگ آفیسرز‘ پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ جناب نجم سیٹھی اور جیو نیوز پر گھنائونے الزام لگانے شروع کر دیے۔ اسی دوران ۱۷ جون کا سانحہ ماڈل ٹائون رونما ہوا اور عمران خاں اور علامہ طاہرالقادری نے وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاںشہباز شریف کے استعفوں کا مطالبہ داغ ڈالا۔ اُن کے طور طریق سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ ایک ایسے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جو پاکستان کو شدید ترین سیاسی عدم استحکام سے دوچار کر دے گا۔ وہ اپنی طویل تقریروں میں عجب عجب اشارے بھی دیتے جا رہے تھے۔ پھر انھوں نے بہاولپور کے جلسہ عام کے موقع پر اعلان کیا کہ اُن کی جماعت ۱۴؍اگست کو اسلام آباد تک آزادی مارچ کرے گی جس میں لاکھوں لوگ شامل ہوں گے۔ جوں جوں یوم آزادی قریب آتا گیا‘ عوام کے اندر بے یقینی اوربے چینی بڑھتی گئی اور کالے بادل گہرے ہوتے گئے۔

ہم ۸؍ اگست کو اسلام آباد میں تھے جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔ سوچا اندر کا حال دیکھا اور پیش آنے والے واقعات کا سراغ لگایا جائے۔ میں نے اپنے محترم دوست جناب تحسین رائوسے قومی اسمبلی کے پاس بنوانے کے لیے کہا جو آج کل حکومت کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر تعینات ہیں اور میڈیا سے کٹے پھٹے تعلقات میں پنکچر لگانے کی مشق کرتے رہتے ہیں۔ انھوںنے ہماری راہنمائی کے لیے ایک سمجھ دار افسر مقرر کر دیا جو ہمیں مین گیٹ سے لفٹس کی طرف لے گیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ جاوید ہاشمی اپنے پروانوں کے ساتھ چلے آ رہے ہیں۔ ٹوٹ کر ملے اور اُن کے طفیل وزیراطلاعات جناب پرویز رشید سے بھی آمنا سامنا ہو گیا جو اپنا دیدار کرانے کے لیے کبھی کبھار جھروکے

میں آتے ہیں۔ راہداری سے گزرتے ہوئے جاوید ہاشمی کی نہایت اہم لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور وہ ہمیں اسپیکرگیلری میں بٹھا کر اپنی نشست پر جانے لگے تو میرے کان میں کہا کہ میں سیاسی طور پر نواز شریف کے خلاف ہوں‘ لیکن اُن کے موقف کا ہم نوا ہوں۔ اس ایک جملے میں بہت کچھ پنہاں تھا۔ میں نے اُن کے چہرے کی طرف دیکھا جو ایک نئی داستان سنا رہا تھا۔ نوازشریف کا موقف یہ تھا کہ فقط الزام کی بنیاد پر وہ استعفے نہیں دیں گے اور لشکر کشی کے ذریعے منتخب حکومت کوگرانے کی روایت اگر ایک بار قائم ہو گئی‘ تو ملک میں جنگل کے قانون کا راج ہو گا۔

ہم ۸؍ اگست کی شام اسلام آباد سے واپس آ گئے کہ وہاں ایک طوفان آنے والاتھا جس کی لگامیں اندھی خواہشات کے ہاتھ میں تھیں۔ عمران خان اور قادری آندھی کی طرح اسلام آباد آئے اور مملکت کی حکمران علامتوں پر حملہ آور ہوئے۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ حکومت کے خاتمے اور ٹیکنوکریٹس کی بادشاہت کے قیام کی افواہیں تیزی سے گردش کرنے لگیں۔ وزیراعظم ہائوس پر مسلح ہجوم نے حملہ کر دیا تھا جسے ایس ایس پی جونیجو نے بڑی مردانگی سے پسپا کر دیا تھا۔ انھوں نے بہادری اور فرض شناسی کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اُنھیں افسران بالا نے طاقت کے استعمال سے روک دیا تھا۔ انھوںنے بے سروسامانی کی حالت میں پولیس کے جوانوں کی قیادت کی۔ وہ بُری طرح زخمی ہوئے اور اس کے باوجود اپنے محاذ پر ڈٹے رہے اور مظاہرین کو وزیراعظم ہائوس میں داخل ہونے نہیں دیا۔ اس افراتفری میں اکثر حلقے یہ تاثر دے رہے تھے کہ جناب

وزیراعظم تنہا رہ گئے ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں بڑی حد تک مایوس ہو چکے ہیں۔ عالمی خبررساں ایجنسی نے فوج کے بارے میںطرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع کر دی تھیں اور عین اس وقت جب وقت کا جلاد رسہ کھینچنے ہی والا تھا جناب جاوید ہاشمی نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور اندھیروں میں کھیلے جانے والے خطرناک اور تباہ کن کھیل سے پردہ ہٹا دیا۔ہم اُن سے اس متوقع شب خون (حملہ) کی کڑیوں کی حکایت اور مستقبل کے امکانات پر بات کرنے کے لیے ملتان آئے تھے۔ اُن سے پہلا سوال یہی کیا کہ آپ کو خطرے کا احساس کب ہوا تھا۔ اُن کے جواب کا پہلا جملہ ہی بہت ہوشربا تھا۔ انھوں نے کہا:

’’میں کراچی کے جلسے میں شرکت کے لیے ائیرپورٹ پر اُترا تو عمران خاں وہاںموجود تھے اور خود گاڑی چلا رہے تھے۔ راستے میں انھوں نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری سے جنرل کیانی اور جنرل پاشا سے ٹیلی فون ملانے کے لیے کہا۔ میرے توہاتھوںکے طوطے اُڑ گئے۔ اب واپسی بھی ناممکن تھی۔ دراصل میں نے مسلم لیگ نون کی قیادت کے بارے میں یہ محسوس کر لیا تھا کہ وہ مجھے عضو معطل رکھنا چاہتے ہیں جو میرے لیے کسی طوربھی قابل قبول نہیں تھا۔ مجھے اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب شہباز شریف‘ غلام مصطفی کھر کے ساتھ شکار کھیلنے کے لیے میرے مکان کے پاس سے میری خیریت معلوم کیے بغیر گزر گئے۔ اب میرے لیے تحریک انصاف میں وہ کر اس کے حالات بہتر

بنانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ مجھے اپنی کامیابی کا اس لیے یقین تھا کہ عمران خاں میری بہت عزت کرتا‘ مشورے بھی لیتا اور مجھے اپنے راز بھی بتا دیتا تھا۔جب وہ لندن سے آیا‘ تو اس نے صرف مجھے بتایا کہ وہاں علامہ طاہر القادری سے ملاقات ہوئی ہے۔ آزادی مارچ کے سلسلے میں اس نے تین ماہ پہلے کورکمیٹی سے مشاورت کرتے ہوئے تاثر یہ دیا تھا کہ ہمارے آگے علامہ قادری کے کارندے ہوں گے‘ وہی توڑپھوڑ کریں گے اور ہم کسی بات میں ملوث نہیں ہوں گے۔ میں نے عمران خاں سے علیحدگی میں پوچھا کہ ہم اسلام آباد میں دھرنا دیں گے‘ تو ریاست کام کرنا چھوڑ دے گی اور یوں ملک میں مارشل لا آ جائے گا۔ اس پر اس نے تفصیل سے بتایا تھا کہ اوّل تو اسلام آباد جانے کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور گوجرانوالہ پہنچتے ہی نواز شریف کی حکومت ختم کر دی جائے گی۔ اور اگر ہمیں اسلام آباد میں دھرنا دینا پڑا‘ تو نئے چیف جسٹس اس صورت حال کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کی برطرفی اور ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کرنے کے احکام جاری کر دیں گے جو آئین کے عین مطابق ہوں گے۔‘‘

’’ہاشمی صاحب! میں نے بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔ ’’آپ کواس پوری صورت حال میں کسی سازش کی بو محسوس نہیں ہوئی اور آپ کو یہ اندیشہ لاحق نہیں ہوا کہ جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا عمل آخری مرحلے میں ہے؟‘‘
انھوں نے ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی ذہانت سے کام لیتے ہوئے جواب دیا:
’’میں یہی سمجھتا رہا کہ کور کمیٹی خاں صاحب کو ایک حد سے آگے نہیں جانے دے گی۔ دراصل مجھے اُن کی ۸۰ فیصد باتوںسے اتفاق ہے اور میرا یہ بھی حسن ظن ہے کہ وہ نوجوانوں کی جماعت ہے اور ایک حقیقی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہمیں کسی طور اس کی صلاحیتوں کو ضائع ہونے نہیں دینا چاہیے‘ مگر جوں جوں نت نئے واقعات پیش آتے گئے‘ توں توں مجھ میں عظیم ذمے داریوں کااحساس بڑھتا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے حالات بے قابو ہوئے اور میرے اندر جو انٹینا نصب ہے‘ اُس میں زبردست ارتعاش پیدا ہوتا گیا۔ خاں صاحب کو پورا یقین دلایا تھا کہ مرحلہ بخیر و خوبی طے ہو جائے گااور تین ماہ کے دوران نئے انتخابات یقینی طور پر منعقد ہوں گے۔ اس نے مجوزہ امیدواروں کی فہرستیں بھی اگست کے اوائل میں طلب کر لی تھیں۔‘‘

’’آپ کی نظر میں اُن کے اس بے پناہ اعتماد کے پیچھے کون سی قوت تھی؟‘‘ میں نے تباہی کے مناظر کو ذہن میں لاتے ہوئے سوال کیا۔
جاوید ہاشمی نے بے ساختہ جواب دیا کہ بعض ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی اور سرکاری افسر اور جنرل پرویز مشرف کے طرف دار اور خفیہ ایجنسیوں کے طاقت ور عناصر اُن کی پشت پر کھڑے تھے۔ خاں صاحب گفتگو کے دوران اکثریہ تاثر دیتے کہ وہ بہت جلد آئیں گے جن کے سینوں پر دائیں بائیں اعلیٰ مناصب کے فیتے سجے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے آغاز ہی میں ایمپائر کی اگلی اُٹھنے کی ’’بشارت‘‘ دے دی تھی۔ تحریک انصاف کی کورکمیٹی اس امر کی پوری پوری کوشش کرتی رہی کہ پارلیمان پر حملہ نہیں ہونا چاہیے‘ مگر ایک شام ڈاکٹر علوی میرے پاس ہانپتے کانپتے آئے کہ پارلیمان پر حملہ ہونے والا ہے‘ آپ فوری طور پر کچھ کیجیے۔ میں کورکمیٹی کے متعدد ارکان سے ملا جو اس بات پر متفق تھے کہ ہمیں کوئی غیرقانونی کام نہیں کرنا چاہیے۔ میں کنٹینر پر عمران خاں کے پاس گیا اور اسے کور کمیٹی کا پیغام دیا۔ پارلیمان پرحملہ آور ہونے کا مقصد

سیکیورٹی فورسز کو اشتعال دلانا اور پاکستان کا امیج تباہ کرنا تھا۔ میں یہ بات میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچانا چاہتا تھا کہ کورکمیٹی کسی قسم کی پیش دستی کے حق میں نہیں‘ چنانچہ میں کنٹینر سے نیچے اُترا اور پریس کلب کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔وہاں پہنچا تو ہو کا عالم تھا۔ لوٹنے ہی لگا تھا کہ ایک نوجوان دور سے دوڑتا ہوا آیا اور پوچھا کہ آپ یہاں کیسے آئے ہیں۔ میں نے کہا میڈیا سے ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے دس پندرہ منٹ میں رپورٹر اور ٹی وی کیمرا مین بلا لیے۔ میں نے وہاں فقط یہ پیغام دیا کہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی پارلیمان پر حملے کے خلاف ہے۔ میرے اس پیغام نے عمران خاں کو پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے سے روک دیا البتہ قادری صاحب کی عوامی تحریک پارلیمان کے گرد جنگلہ توڑکر اندر داخل ہو گئی تھی۔

فالج کے باعث جاوید ہاشمی صاحب کا دایاں ہاتھ ساکت تھا‘ مگر اُن کے بائیںبازو میں ایک عجب اضطراب دیکھنے میں آ رہا تھا۔ وہ اسے بار بارحرکت دے رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی مختصر پریس کانفرنس نے مختلف حلقوں میں کیا اثرات پیدا کیے تھے اورتحریک انصاف کے اندر کس نوعیت کا ردعمل سامنے آیا تھا۔ انھوں نے قدرے بلندآواز میں کہا: ’’میں تحریک انصاف کو تباہی کی طرف جانے سے روکنے اور خطرناک نتائج سے آگاہ کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا تھا جبکہ عمران خاں درپردہ اشاروں پر بگٹٹ دوڑتا جا رہا تھا۔ میری ان کوششوں کا البتہ یہ نتیجہ ضرور نکلا کہ پی ٹی وی پر حملے میں تحریک انصاف نے حصہ نہیں لیا اور سارا الزام طاہر القادری کے لوگوں پر آیا۔یہ

حملہ انقلاب مارچ کے لیے واٹرلو ثابت ہوا‘ کیونکہ حملہ آوراکسپوز ہو گئے تھے کیونکہ وہ فوجیوں کی آمد پر ان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے عمارت سے باہر چلے آئے تھے۔ انھوں نے ٹی وی اسٹیشن کے اندر شرافت اور اخلاق سے گری ہوئی جو نازیبا حرکات کیں‘ اُن کے خلاف عوام نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور ٹی وی چینلز پر یہ سوال بھی زیربحث آنے لگا کہ فوج کوآرٹیکل ۲۴۵ کے تحت اسلام آباد کی حفاظت کے جو اختیارات ملے ہیں‘ اُن کے استعمال میں اس نے غفلت کامظاہرہ کیا ہے۔ اسی شام عمران خاں نے کنٹینر پر اعلان کر دیا کہ میرے اور جاوید ہاشمی کے راستے جدا ہو چکے ہیں۔اسی صبح کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہو چکی تھی کہ فاضل چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے اور عمران اور قادری کو نوٹس جاری کر دیے ہیں کہ وہ مصالحت کے سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کریں۔ یہ تمام اشارے اس امر

کی گواہی دے رہے تھے کہ ڈی ڈے قریب آ پہنچا ہے۔چنانچہ میں نے پریس کانفرنس کے ذریعے پوری قوم کو آنے والی آفت سے خبردار کرنے کافیصلہ کیا۔ میں نے بتایا کہ عمران خاں غیرجمہوری طاقتوں کے ہاتھ میں کھیل رہا ہے‘ فوج کے بااثر عناصر اسے شہ دے رہے ہیں اور منصوبہ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ سوموٹو لے گی اور مصالحت کے نام پر منتخب حکومت کو فارغ کر دے گی اور نئے انتخابات کے لیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک نگران حکومت قائم کر دی جائے گی۔ میری پریس کانفرنس کے ایک گھنٹے بعد آئی ایس پی آر کاپریس ریلیز آ گیا کہ فوج کسی کی پشت پر نہیں اور وہ جمہوریت کے ساتھ ہے۔ میری پریس کانفرنس کے بعد عدالت عظمیٰ کی سرگرمیاں بھی سرد پڑ گئیں اور عمران خاں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا۔ غالباً یہ اتوار کی شام تھی جب سازشی اور غیرجمہوری عناصر پر کاری ضرب لگی تھی اور ان کا پورا کھیل بگڑ چکا تھا۔‘‘

میںجاوید ہاشمی کی باتیں سنتا ہوا سوچ رہا تھا کہ قدرت کے کھیل بھی کس قدر نرالے اور حکمت پرمبنی ہوتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف میں شامل نہ ہوتے‘ تو تاریخ کے اس انتہائی نازک موڑ پرپاکستان کوایک بہت بڑی سیاسی تباہی سے بچانے کاعظیم الشان کارنامہ کیسے انجام دیتے۔ اُس وقت قانون کے ذریعے قائم شدہ حکومت کی نبضیں ڈوب رہی تھیں اور ہر طرف سے ٹیک اوور کے اشارے مل رہے تھے۔ ایسے میں فوجی اقتدار کے باغی نے اپنے وطن کو اندھیروں میں بھٹکنے سے بچا لیا تھا۔
ہاشمی صاحب! آپ کی پریس کانفرنس کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے آپ سے رابطہ تو قائم کیا ہو گا؟ میں جملہ معاملات کے تانے بانے سمجھنا چاہتا تھا۔

’’بالکل نہیں‘ انھوںنے برجستہ جواب دیا ۔‘‘ دراصل میں نے یہ سب کچھ کسی سیاسی مفاد کے بجائے قومی ذمے داری نبھانے کے جذبے سے کیا تھا۔ میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ جب عمران خاں نے راستے جدا ہونے کا اعلان کر دیا ہے‘ تواب مجھے پارلیمنٹ میں جانااور اپنا استعفیٰ پیش کردینا چاہیے۔ اس ضمن میں چند قریبی دوستوں سے مشورہ کیا۔ شامی صاحب میرے بہت قریبی دوست رہے ہیںا ور وہ ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ میں میری بہت پراجیکشن کرتے رہے۔ میں اس بات پر اُن سے ناراض بھی ہو گیا تھا کہ ضرورت سے زیادہ پبلسٹی مسائل پیدا کرتی ہے۔ اُن کی اپنی ایک دنیا ہے۔ استعفے کے بارے میں اُن سے مشورہ کیا۔ پوچھنے لگے آپ کوماہانہ قومی اسمبلی سے چار لاکھ روپے مل رہے

ہیں‘کیا آپ اُن کے بغیرگزارہ کر سکیں گے۔ میں نے کہا میری زندگی اندیشہ ‘ سود و زیاں سے ماورا ہے اور ایک سچے مقصد کے لیے سب کچھ برداشت کیا جا سکتا ہے۔ میں اے آر وائی کے ایک رپورٹر سے راستہ معلوم کر کے قومی اسمبلی میں چلاگیا اور اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے بعد اپنااستعفیٰ پیش کر دیا۔ میرا ضمیر کہہ رہا تھا کہ میرے حلقے کے عوام نے مجھے منتخب کیا تھا‘ اس لیے مجھ پرلازم ہے کہ میں ان کی عدالت میںجائوں۔ وہ اگر میرے اقدام کی تائید کریں گے‘ تو میرا سر فخرسے بلند ہو جائے گا اور اُن کے ساتھ میرا رشتہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوجائے گا۔ ۱۶؍اکتوبر کو انتخابات ہوں گے اور مجھے امید ہے کہ جمہوریت کی جنگ لڑنے کے صلے میں وہ میرا ساتھ دیں گے۔ سیاسی

جماعتوں کو بھی ایک فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔ وہ اگر میرے موقف کو درست خیال کرتے ہیں‘ تو انھیں اپنے کارکنوں کو میدان میں اُتارنا ہو گا۔ میری پینتالیس سالہ جدوجہد اُن کے سامنے ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم صاحب بڑے تپاک سے ملے تھے‘ اس کے بعد کوئی رابطہ قائم نہیں ہوا‘ البتہ خواجہ سعد رفیق کے گاہے گاہے فون آتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ بہت پرانا یارانہ ہے۔‘‘

میں نے پینتالیس برس پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے سمن آباد سے دو لڑکیوں کے اغوا کا واقع اور نوجوان جاوید ہاشمی کا ناقابل فراموش کردار یادآیا۔ میں اس وقت سمن آباد ہی میں رہتا تھا اوراس اذیت ناک واقعے کی یاد سے میری آنکھیں بھر آئی تھیں۔ میںنے ہاشمی صاحب سے پوچھا کہ آپ بے خطر آتش نمرود میں کیا سوچ کر کود پڑے تھے۔ انھوںنے اپنے بائیں بازو کو جنبش دیتے ہوئے واقعات کی گرہیںکھولنا شروع کیں:

’’غالباً یہ ۱۹۷۲ء کے اوائل کا واقعہ ہے کہ سمن آباد سے دو یتیم سید زادیاں اغوا کر کے گورنر ہائوس پہنچا دی گئیں۔ ان دنوں غلام مصطفی کھر پنجاب کے گورنر تھے۔ ہم نوجوانوں نے گورنر ہائوس پر دھاوا بول دیا اور ہم ایک دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔ اس وقت کے صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو ہمارے گھیرے میں تھے۔ وہ اس وقت ایک بگھی میں بیٹھے ہوئے تھے اور برطانیہ کے وزیرخارجہ لارڈ ہوم اُن کے ہمراہ تھے۔ وہ نوجوانوں کی یلغار سے گھبرا گئے۔ ہمارے اُن سے مذاکرات ہوئے اور یہ طے پایا کہ لڑکیوں کی برآمدگی تک پنجاب کے وزیر ممتاز کاہلوں یرغمال کے طور پر ہمارے حوالے کردیے گئے۔ جن کو ہم نے طالبات کی باعزت واپسی کے بعد رہا کر دیا تھا۔ اس ایک واقعے نے پورے ملک میں کھلبلی مچا دی تھی اور حزب اختلاف میں جان پڑ گئی تھی اور عوام کے حقوق کا شعور ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ میرے اندرجبر کے خلاف جدوجہد کرنے کا جذبہ پہلے سے زیادہ مستحکم اور جواںتر ہو گیا تھا اور میں نے عہد کیا تھا کہ اپنے ہم وطنوں کی عزت و ناموس کی حفاظت اور اُن کے حقوق کی خاطر ہرمحاذ پر سرگرم رہوںگا۔‘‘

میرے حافظے کی اسکرین پر اُس عہد کے واقعات ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔ سمن آباد کی طالبات کے واقعے نے جاوید ہاشمی کو ایک بہادر اور پرعزم نوجوان کی حیثیت سے متعارف کرا دیا تھا۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ انھوں نے ایک قومی لیڈر کی حیثیت اختیار کر لی تھی اور اُن کی عزیمت کے نقوش ہماری تاریخ پر گہرے ہوتے جا رہے تھے۔سقوط مشرقی پاکستان کا حادثہ پیش آ چکا تھا اور بھٹو صاحب جلد سے جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کر لینا چاہتے تھے۔ اس اہم دوراہے پر جاوید ہاشمی نے بلاشبہ ایک حیران کن کردار ادا کیا تھا۔ میں نے اس کردار کے حوالے سے اُن سے پوچھا کہ آپ بنگلہ دیش نامنظور کی تحریک میں کن نئی آزمائشوںسے گزرے تھے اور کیسے کیسے محیرالعقول واقعات پیش آئے تھے۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا:

’’میری جرأت اور حماقت میںبہت ہی کم فرق ہے۔ دراصل بات یہ تھی کہ جماعت اسلامی اور کچھ دوسری جماعتیں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے خلاف تھیں۔ مولانا ظفراحمد انصاری (مرحوم)) اس معاملے میں پیش پیش تھے۔ ہم نوجوان باہر نکلے اور اس بھرپور طریقے سے نکلے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو یہ کہناپڑا کہ حرامزادو!نامنظور تو نامنظور سہی۔ یہ تھی ہمارے طالب علموں کی طاقت۔ راولپنڈی میںمسٹر بھٹو کا جلسہ ہونے والا تھا۔ وہاں میرے گروپ میں افضل اور مشاہد اللہ خاں شامل تھے۔ہم نے جلسہ الٹا دیا اور بھٹو صاحب کو بھاگنے کا راستہ نہیں ملا۔ اس کے بعد اسلامی سربراہی کانفرنس کا مرحلہ آ گیا۔ پولیس نے لاہور کے ایک ایک چپے کی تلاشی لی تھی اور انٹیلی جنس کا ایک مضبوط نیٹ ورک بچھا ہوا تھا۔ ہم کچھ دوست پاک ٹی ہائوس میںبیٹھے تھے جن میں افضل خالد اور ذوالفقار شامل تھے۔ہم ان تین دوستوں نے مال روڈپر جا کربنگلہ دیش نا منظور کے

نعرے لگانے شروع کر دیے۔ سڑک کے دونوں طرف لوگ کھڑے تھے۔ وہ بھی ہمارے نعروں میں شامل ہو گئے اور ہمارے ساتھ آن ملے۔اس طرح ایک جلوس کی شکل بنتی چلی گئی۔ اس اثنا میں افضل نے کہا کہ میں پستول لے کرآتا ہوں۔ میں نے کہا اس وقت میرے ساتھ رہ کر مار کھا اور کہیں مت جا۔ ہم نے اکٹھے ناقابل برداشت مار کھائی اور ہم ڈٹے رہے۔ اتنے میں شاہ فیصل کی گاڑی اسمبلی ہال کی طرف آ رہی تھی۔ ہم وہاں تک پہنچ گئے تھے جہاں