function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

جہاں بجتی ہے شہنائی

راشدہ علوی | آپ بیتی

مانا کہ بالغ عمر میں رونا دھونا بری بات ہے، لیکن مجبوری تھی۔ لندن آنے کے بعد جان توڑ محنت اور کمر توڑ مشقت کا رونا ہمیں ہی رونا پڑا۔ مشقت بھی وہ جو خواب میں بھی کم نظر آئی۔ کہاں وہ ارزانی و آسانی کہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور کچھ کرنے کو نہیں۔ وقت گزاری کے لیے ناول اور افسانوں سے دل بہلایا جاتا۔ اب کام کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں تھا۔

ویسے تو بیتے ہوئے دن سنہرے ہوتے ہیں۔ یہ صفت پاک و ہند سے تعلق رکھنے والی خواتین میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ نوجوانی میں مائیں کام نہیں کرواتیں کہ شادی کے بعد بچی کو ساری عمر کام ہی کرنا ہے، چار دن عیش کر لینے دو۔ نانی دادیاں بھی اس معاملہ میں کم نہیں، ان کی دعائیں بھی ببانگ دہل یہ ہوتی ہیں کہ اللہ میری بچی کو ایسا گھر نصیب کریو جہاں اٹھ کر پانی نہ پینا پڑے۔ ہاتھ پائوں کی مہندی نہ اترے۔ بالفاظ دیگر دعا ہے کہ ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھی رہے، کوئی کام نہ کرے۔

ان خواہشات، تمنائوں اور دعائوں کا اثر کچھ تو ہوتا ہے۔ کام سے بیزاری طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے۔ ہاتھ ہلانے کی بجائے وقت دعائیں کرنے میں گزرتا ہے کہ اے پروردگار! ہماری نانی دادی کی دعا قبول فرما۔ پتا اب چلا کہ قبولیت کی صورت لڑکیوں کے نصیب لندن میں کھلتے ہیں تاکہ کیا گزرے ہے قطرے پر گہر ہونے تک! لندن آتے ہی مامائیں اور ملازم ہاتھ کے طوطوں کی طرح اڑ گئے۔

درزی، دھوبی اور مالی نابود ہوئے۔ بیرے خانسامے معدوم ہو گئے۔ مہندی پھیکی پڑتے پڑتے نیست ہو گئی۔ تنہائی و کسمپرسی پر بہائے آنسو بہہ بہہ کر خشک ہوئے اور صبر کی سل چھاتی سے جا لگی، تب کہیں لندن کی ٹھنڈی، گیلی اور سرسبز زمین پر قدم جمنے شروع ہوئے۔ برتن دھونے اور فرش صاف کرنے کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا۔

باغیچہ صاف کرنے اور کاریں دھونے میں جو جھجک اور عار تھی، اس پر قابو پا لیا۔ کھانا پکانا تو تھا ہی گلے پڑا ڈھول جسے ہمیں ساری عمر بجانا تھا۔ اب ہماری مرضی تھی کہ ہنس کر بجائیں یا رو پیٹ کر! بچوں کو اسکول سے لانا، لے جانا روزانہ کا معمول ہو گیا۔ زندگی گھڑی کے تابع ہو گئی۔ صبح کام اور شام کام میں زندگی تمام ہونے لگی۔ جسم کا ہر حصہ کسی نہ کسی کام میں حرکت میں رہتا… بس ایک دماغ تھا کہ بے چارہ بے مصرف و بے کار، عضؤ معطل ہو کر رہ گیا۔

روزمرہ کے معمولات ختم ہوتے ہی بچوں کو اسکول سے لانے کا وقت ہو جاتا۔ اس کے بعد ہماری ساری جدوجہد انھیں اردو پڑھا کر ثقافت سے رشتہ جوڑنے یا عربی پڑھا کر مذہب سے ناتا کرنے میں گزر جاتی۔ اس کے علاوہ برتھ ڈے پارٹیاں، تیراکی اور کراٹے کے شوق نبھانے میں کسی اور چیز کا وقت ہی نہ ملتا۔ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی سنوارنے کے لیے ہم لٹو کی طرح گھوم رہے تھے۔ اس میں دماغ اور اسے جلا بخشنے کی کس کو فرصت تھی؟ ہاں وقتاً فوقتاً خوف کی ایک لہر بدن سے گزرجاتی کہ کہیں یہ زنگ دماغ کو کھا پی کر بھوسہ نہ کر دے۔

ادھر پاکستان سے جوخط آ رہے تھے، وہ حوصلہ بڑھانے کے بجائے جلے دل پر تیل کی دھار بن کر گرتے۔ کوئی پوچھتا نئی فلم دیکھی آپ نے؟ فلاں اداکارہ کی جو فلاں فلم ریلیز ہوئی ہے، کیسی ہے؟ کوئی نمائش کی تفصیل مانگتاجس کو اتنے لاکھ لوگوں نے دیکھا تھا۔ آپ شامل تھے اس ہجوم عاشقاں ہیں؟ کوئی نئے فیشن کا رنگ پوچھ رہا ہے تاکہ ہمیشہ کی طرح فیشن میں’ان‘ رہ سکیں۔ یہ چیزیں دیکھنے اور جاننے کو ہم بھی تڑپ رہے تھے مگر وقت کہاں سے لاتے؟
ہمارا فلمی ذوق بہرحال ’’جنگل بک‘‘ اور ’’سٹارووار‘‘ کی طرف مڑ گیا۔

فیشن شو کی بجائے ہم سرکس کا تماشا دیکھتے، علم و ادب میں اضافے کے لیے ’’جارج دی انجن‘‘ اور ’’مسٹرمین‘‘ کا مطالہ ہوتا۔ اس پر بھی لوگ، خاص طور پر مرد حضرات پوچھتے ’’آج کل کیا شغل رہتا ہے؟ کچھ کر رہی ہیں؟‘‘ ظاہر ہے، جواب انکار میں ہوتا۔ گھر کے کام کاج کا ذکر کرنے کی کوشش کرتے تو جواب ملتا ’’یہ کوئی کام نہیں، کوئی باقاعدہ کام کریں۔ آپ تو ماشاء اللہ پڑھی لکھی ہیں۔‘‘

آدھی گھر کی مالکہ گھر کے کام کاج کی بے قدری اور بے وقعتی سے واقف تو تھے، اوپر سے شنوائی کوئی نہ ہوتی! وہ تو اللہ بھلا کرے جج ڈینس کا جنھوں نے کم از کم انگلستان میں گھر کے کام کرنے کی اہمیت تسلیم کی اور کرائی۔

ستر کی دہائی میں ان کے پاس ایک مقدمہ آیا جس میں ایک آدمی نے اپنی تیس سالہ رفیقہ کو چھوڑ کم سن سیکرٹری سے بیاہ کر لیا۔ اس پر رفیقہ دہائیاں دیتی عدالت پہنچ گئی۔ اس نے کہا ’’میں نے اپنی زندگی شوہر اور اس کے بچوں کی خدمت میں لٹا دی۔ بڑھاپے میں خالی ہاتھ کہاں جائوں، خرچا کہاں سے لائوں؟‘‘
حضرت سب کچھ بھول کر نئی حسینہ میں گم تھے، انھیں رفیقہ کے مرنے جینے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔

ان کی بے اعتنائی دیکھ کر جج کو تائو آ گیا۔ حسِ انصاف بھڑکی۔ سوال کیا ’’تمھاری رفیقہ کی جگہ کوئی ملازمہ کام کرتی تو اس کو کتنا معاوضہ دیتے؟ حساب لگائو، ایک عورت اپنے گھر میں کتنے گھنٹے روزانہ کام کرتی ہے۔ پھر اس کو اوسط معاوضے سے ضرب دے کر تیس برس سے ضرب دو اور یہ رقم اس عورت کے حوالے کر دو۔‘‘

یہ رقم اس آدمی کو آدھی جائداد کے برابر نکلی۔ بچوں کے خرچ کی خاطر آدھی تنخواہ الگ دلوا دی۔ سو وہ دن اور آج کا دن، انگلستان میں آدمی بیوی یا محبوبہ کو چھوڑنے پر آدھی جائداد سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔چالاک بیویاں تو اس کے اوپر بھی ہاتھ صاف کر جاتی ہیں۔ اب گھر بیٹھی عورتوں کو کام نہ کرنے کا طعنہ دینے کی کوئی جرأت نہیں کرتا۔ عورتیں فخر سے ہائوس وائف ہونے کا اعتراف کرتی ہیں۔

اس فیصلے کے بعد کئی عورتیںآفتوں سے نجات پا گئیں۔ ہماری ایک ہم وطن خاتون سے ملاقات ہوئی جو برسوں سے اپنے شوہر کی مار کھا رہی تھیں۔ بے شمار باتوں کے علاوہ نمک کی کمی یا زیادتی وجہ پٹائی بن جاتی۔ آخر میاں نے زوجہ محترمہ کے کفن میں آخری کیل ٹھوکنے کا ارادہ کر لیا اور بات طلاق کی دھمکیوں تک آن پہنچی۔

خاتون ابھی تک صبر کی پتلی بنی خاموشی سے ٹسوے بہانے پر اکتفا کرتی تھیں۔ طلاق کا لفظ سن کر بے کل ہو گئیں اور لگیں نالے و شکوے کرنے۔ بپتا میں آہیں اور کراہیں شامل ہو گئیں۔ ادھر لوگ ہمدردی کرتے کرتے بیزار ہو چکے تھے۔ جس مسافر کہیں جانا نہ ہو اسے راستہ دکھانے کا کیا فائدہ؟ مشورے دے دے کر حلق الگ خشک ہو رہے تھے، بلکہ ان کی آمدکے ساتھ ہی ہماری نامیدی بڑھ جاتی۔

اب جو روتے ہوئے انھوں نے تازہ واردات سنائی تو جل کر کہہ دیا ’’بی بی تمھارے لیے تو طلاق لینا ہی بہتر ہو گا۔ نہ صرف مار سے جان چھوٹے گی بلکہ آدھی جائداد کی مالک بن جائو گی۔ خرچے کے لیے میاں کی آدھی آمدنی کی حقدار الگ ٹھہرو گی۔‘‘ انھوں نے حیرت سے پوچھا ’’کیسے؟‘‘ ہم نے جج کا فیصلہ ان کے حق میں سنا دیا۔ چناںچہ شوہر کی اگلی دھمکی پر وہ آرام سے طلاق پر راضی ہو گئی اور آدھے مکان اور آدھی آمدنی کا مطالبہ کر دیا۔ اب حیرت میں ڈوبنے کی باری میاں کی تھی۔ مار کے لیے اٹھا تو ہاتھ اٹھا ہی رہ گیا اور ’’کیسے‘‘ کا سوال کیا۔

جج کا فیصلہ سننے کے بعد ہاتھ ہمیشہ کے لیے نیچا ہو گیا۔ مار کی وجوہ برف کی طرح پگھل کر بہہ گئیں۔ اب راوی ان کے گھر میں چین ہی چین لکھتا ہے۔
ہماری اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ دعا ہے، پاکستانی عورتوں کو بھی ایسا ہی ایک جج عطا فرما دے جو ان حقوق کو عورتوں کے ہاتھ میں تھمانے کا حوصلہ کر ے جن کا وعدہ اللہ نے قرآن پاک میں کیا ہے۔آمین شادیوں کے دعوت نامے دل اداس ہونے کا کوئی ’’ٹائم ٹیبل‘‘ نہیں ہوتا لیکن تنہائی کی شدت تھی کہ یکے بعد دیگرے دو شادیوں کے دعوت نامے ملے، تو دل باغ باغ ہو گیا۔ گھر سے باہر نکلنے اور اپنے ہم وطنوں سے ملنے کی توقعات نے تمنائوں کے نئے چراغ روشن کر دیے۔

پہلی شادی ہفتے کی شام چار کمروں پر مشتمل دوسری منزل کے فلیٹ میں تھی۔ تنگ، گیلی، سیلی اور نیم تاریک سڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے۔ بیٹھنے کے کمرے میں ایک چھلنگا سا صوفہ اور چند کرسیاں بچھی تھیں۔ دلھن کی اماں سبز بنارسی جوڑے میںملبوس، کھانے کی خوشبو میں رچی، مہمانوں کو گلے لگا لگا کر خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔

اگلی ضرورت کسی شناسا چہرے کی تھی لیکن نگاہ تلاش بسیار کے بعد ناکام لوٹی۔ وہاں اجنبی اور بیزار چہروں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ سب کی مشترکہ پہچان یعنی خاتون خانہ باورچی خانہ سنبھالنے اور مہمانوںکو خوش آمدید کہنے میںمصروف تھیں۔ نہ انھوں نے مہمانوں کا تعارف کرایا، نہ مہمانوںکو توفیق ہوئی کہ آپس میں علیک سلیک کرلیں۔ بیگانہ، بے تعلق اور منہ لٹکائے بیٹھے رہے۔

دلھن بیس بائیس سال کی ہشاش بشاش، خوش شکل لڑکی تھی۔ چہرے پر لپ سٹک کے علاوہ کوئی میک اپ نہ تھا۔ لیپا پوتی کے بغیر دلھن دیکھنا خوشگوار تجربہ لگا۔ پاکستانی حساب سے کپڑے بڑے سادہ تھے۔ سرخ کریب کا سوٹ اور سرخ دوپٹا جس پر سنہری کناری لگی تھی۔ اس سادگی کے باوجود دلھن دمک رہی تھی۔ حسین چہرے پر تمنائوں کی آب و تاب تھی۔

آخر میری ایک شناسا بھی نمودار ہو گئی۔ یہ شفق عرف چندہ تھی، دلھن کی سہیلی جو اس کے ساتھ ہی کمرے سے باہر آئی۔ چندہ مسز قیصرہ ملک کی بیٹی تھی۔ وہ اسی اسکول میںہیڈمسٹریس تھیں جہاں کسی زمانے میں، میں نے پڑھایا۔ اس کے شوہر کسی کورس کے لیے لندن آئے ہوئے تھے۔ یہ پہلی خاتون تھی جسے میں پہلے سے جانتی تھی۔ پہلی آنکھ جو میرے لیے چمکی اور لب میرے لیے مسکرائے۔ ورنہ اک اجنبی سا شہر تھا اور ہم تھے دوستو! شفق سے باتیں کر کے، دردِ دل سنا اور سن کر بڑا مزا آیا۔ دل کو سکون ملا، قرار سا آیا۔

بے پہچان اور بے نام ہجوم میں آشنا چہرے بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ کیسا زعم ہوتا ہے انسان کو اپنے آپ پر… ہم یہ ہیں، ہم وہ ہیں۔ اب پتا چلا کہ ہم کچھ نہیں، ہماری اہمیت، پہچان اور ہمارا وجود عزیزوں، دوستوں اور احباب کا مرہون منت ہے۔ موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں!

لذتِ کام و دہن کی آزمائش

میز بھرتے ہی کھانے کی دعوت عام دی گئی، یعنی پاکستانی تہذیب کے برملا اظہار کی کھلی چھٹی۔ لوگ تو تیس بتیس ہی تھے لیکن کمرا اس حساب سے چھوٹا تھا۔ عورتیں پہلے سے موجود تھیں، اب اس میں مرد بھی شامل ہو گئے۔ کھانا دیکھ کر اچھے اچھے ہم وطنوں کی سدھ بدھ گم ہو جاتی ہے۔ تحمل و تمیز بھی جاتی رہتی، نگاہ میں صرف کھانا ہوتا ہے۔ سب ایک ساتھ اس کی طرف لپکے، دنیا و مافیہا سے بے نیاز، دائیں بائیں سے بے پروا، واحد مقصد حیات لذت کام و دہن نگاہ میںلیے حصول آرزو کی طرف بڑھے۔

لیکن ابھی عشق کے کئی امتحان باقی تھے۔ اوّل تو یہی کہ صاحب خانہ نے قطار بنانے کی درخواست کر دی۔ باری کے انتظار میں اچھا خاصا وقت کھڑے کھڑے گزر گیا۔ پھر لوگ کھانا ڈالنے لگے، تو بوٹیوں کے انتخاب میںمشغول ہو گئے۔ اچھی بوٹی کی تلاش اور جانچ کا کام ہماری ثقافت کا حصہ ہے، اس کو دلجمعی سے انجام دینا چاہیے۔

ویسے بھی بوٹیوں کا انتخاب زندگی کے ان چند اہم مقامات میں سے ایک ہے جو کبھی کبھی ملتی ہیں۔ اس مقام سے جلد گزرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ اگر آپ قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں، تو معاملہ دوسرا ہے۔ بھوک کی زیادتی کے ساتھ ساتھ بوٹیوں کی تعداد میں کمی کی فکر بھی لاحق ہو جاتی ہے۔ آخر ساغر ہمارے ہاتھ بھی آیا اور کھانا کاغذ کی پلیٹ میں نکل آیا۔

اب کارِ دارد تھا اس پلیٹ کو ہتھیلی پر جمانا، گرم گرما شوربے اور پلائو کی حدت کو ہاتھ پر برداشت کرنا، چھری کانٹا، روغنی نان کا ٹکڑا اور کاغذ کا رومال پکڑ کر بحفاظت تمام میز سے پرے کھسکنا، سرسراتے دوپٹوں اور لہراتی ٹائیوں کو بچانا، پھر کسی دیوار کا سہارا لے کر کھڑے ہونا، لج لجی، لچکیلی پلیٹ کو سنبھالنا، شوربے کو ایک نقطے پر قابو کر کے رکھنا تاکہ نوالہ اس میں ڈوب سکے۔ پلیٹ یوںتھامنا کہ وہ لقمہ کے وزن سے بیٹھ ہی نہ جائے۔ ٹوٹ کر یا چھوٹ کر زمیں بوس ہی نہ ہو جائے۔

یہ سارے کرتب اس طرح دکھانا کہ آتے جاتے لوگوں کو دھکا نہ لگے۔ قریب کھڑی ہمسائی کی کہنی آپ کے شوربے میںنہ ڈوبے۔ ساڑھی آپ اور ہمسائی کے بچوں کے سالن زدہ ہاتھوں سے بچی رہے اور آپ اپنے بچوں کے منہ میں چند نوالے ڈال لیں… پیٹ کی خاطر انسان کو کیا کیا جتن کرنا پڑتے ہیں!
شادی کی دوسری تقریب بھی فلیٹ میں تھی، کھانا وہاں بھی گھر پر پکا۔ ابھی تک تقریبات کے لیے دیسی کھانا پکا کر پیسا کمانے کا خیال کسی کو نہیں آیا تھا۔ دوسرے اکثر نوجوانانِ برصغیر شادی کے بندھنوں میں باندھ کر ہی ولایت روانہ کیے جاتے۔

غلطی سے یا جلدی میںمائوں کے ہاتھ سے نکل جانے والوں کو میموں کے پنجے سے بچانے کے لیے دھونس، دھمکی اور خدا رسولﷺ کے واسطے دے کر وطن واپس بلایا جاتا۔ پاکستان ہی میں ان کے لیے دیگیں پکتیں اور سہرے کے پھول سجائے جاتے۔ باقی رہ گئیں اِکا دُکا، چھوٹی موٹی تقریبات تو ان کے لیے کھانے گھر پر ہی پکتے۔ ہنر مند و سلیقہ شعار عورتیں تقریب سے ہفتوں پہلے کھانے پکا کراپنے اور ہمسایوں کے فریزر میں رکھ لیا کرتیں۔

خوبیوں والی شادی

اس شادی کی انوکھی بات یہ تھی کہ لڑکا انگریز تھا۔ خیال تھا کہ صرف لڑکے رنگ برنگی لڑکیوں سے شادی رچاتے ہیں۔ اب پتا چلا کہ لڑکیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ بہرحال انگریز لڑکا کچھ مشکوک لگ رہا تھا۔ پتا نہ چلا کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں؟ اتنا ہمیں پتا تھا کہ غیر مسلم سے مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں۔ چناںچہ جب لڑکی کی اماں نے یہ اطلاع دی تو سمجھ نہ آیا کہ مبارک باد دیں یا پرسہ! بوکھلاہٹ میںحلق سے آواز ہی نہ نکلی۔ نکلی بھی تو بڑی منہنی سی۔ اب ہم جتنے بھی برے مسلمان ہوں، زندگی بھر نماز نہ پڑھیں روزوں کا بھول کر نام نہ لیں، جھوٹ بولیں، دھوکا دیں لیکن لڑکی کی غیر مسلم سے شادی… توبہ توبہ بڑی معیوب بات اور گناہ تھا۔

ہمیں بھی سن کر صدمہ ہوا۔ ہمارے ممیانے پر لڑکی نے بولنا شروع کیا اور پورا قصہ سنایا۔ لڑکی کسی دفتر میں کام کرتی تھی، وہیں یہ حضرت بھی ملازم تھے۔ پہلے انھوں نے دائیں بائیں ہو کر آنا کانی شروع کی مگر لڑکی ہاتھ نہ لگی۔ پھر ولایتی طریقے سے چائے کھانے کی دعوت دی۔ لڑکی نے وہ بھی ٹھکرا دی اور کہا، مسلمان لڑکیاں غیر آدمیوں کے ساتھ باہر نہیںجاتیں۔ آخر اس نے شادی کا پیغام دیا۔ لڑکی نے اب بھی انکار کر دیا اور بتایا کہ وہ کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کر سکتی۔

لڑکا پھر مسلمان ہونے کو تیار ہو گیا۔ لڑکی نے فرمائش کی کہ قرآن اور کچھ اسلامی کتابیں پڑھ لو پھر بتانا کہ مسلمان ہونے کو تیار ہو یا نہیں۔ لڑکے نے وہ بھی پڑھ لیں۔ اب لڑکی کے پاس ٹالنے کے سارے بہانے ختم ہو گئے۔ وہ اپنا مسئلہ لے کر والدین کے سامنے جا پہنچی۔ وہ لڑکے سے بات چیت کے بعد راضی ہو گئے۔

جس وقت ہم شادی والے فلیٹ پہنچے، لڑکی جینز کی پتلون پہنے گھوم رہی تھی۔ دلھن بننے کے پرزور اصرار پر وہ بولی، اب ساری عمر تو مجھے ولایتی قسم کے کپڑے پہننا ہوں گے۔ غالباً جینز میں عمر گزرے۔ پاکستانی دلھن بننے کا تکلف کیوں کروں؟ جینز میں نکاح پڑھانے میں کیا حرج ہے؟ لیکن مہمان نہ مانے۔ انھوں نے کھانا نہ کھانے کی دھمکی دے دی، جو کارگر ثابت ہوئی۔

اس شادی میں مہمانوں اور کرسیوں کی تعداد برابر تھی۔ کھانے کے بعد بڑے خوشگوار موڈ میں دلھن اٹھ کر یوں رخصت ہو گئی جیسے کوئی مہمان کھانا کھا کر اپنے گھر جا رہا ہو۔ خدا خوش رکھے، ہمیں یہ شادی بڑی پسند آئی۔ بڑی سادہ، آسان اور مسلمان شادی تھی۔ امیر غریب سب کے لیے قابل عمل۔ نہ جان توڑ محنت ہوئی، نہ جان آزار مشقت پڑی۔ نہ ادھار لیا گیا نہ قرض چڑھا۔ نہ مہمانوں کو انتظار کی کوفت ہوئی، نہ بچے بھوک اور بے آرامی سے بلک بلکے کر روئے۔ گویا اس شادی میں خوبیاں ہی خوبیاں تھیں۔ دل سے دعا نکلی، کاش آئندہ شادیاں اسی طرح ہونے لگیں۔

افسوس، یہ دعا بھی آرزئوئے ناتمام کی فہرستوں میں شامل ہو گئی۔ مہمانوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھتے بڑھتے ہزاروں کے آس پاس منڈلاچکی۔ رسم و رواج ہندوانہ کے ساتھ انگریزی طور طریقے بھی شامل بیاہ ہو گئے۔ منگنی، منہدی، تیل، ابٹن، گانجے اور مانجے منائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد کیک کٹتے ہیں۔ اگر بس یہیں ہو جاتی، تو بھی غنیمت تھی لیکن خوب سے خوب تر کی جستجو میں لڑکے لڑکیاں ستاروں سے اگلے جہان ڈھونڈنے بہ نفس نفیس نکل کھڑے ہوئے۔

اب ان کو کون روک سکتا ہے، کمائو اولادیں ہیں۔ تقریب کے لیے عجیب و غریب جگہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ کوئی ہوائی جہاز کرائے پر لیتا ہے، کوئی ساحل سمندر سے کوسوں دور بحری جہاز میں نکاح پڑھوانے پر اصرار کرتا ہے۔ مر گئے تو کیا بنے گا؟ زندگی خوشی اور غم کے بیچ سے گزرتی ہے۔ شادیوں کے فوراً بعد مرنے کا ذکر تکلیف دہ ہے، لیکن موت ہمیشہ بے وقت اور بغیر اطلاع آتی ہے۔ جب آئے تو زندگی کو درہم برہم کردیتی ہے، اس کے لیے مناسب وقت کوئی بھی نہیں ہوتا۔

ایک سرد اور بے کیف شام اطلاع ملی کہ ہمارے جاننے والوں کا چودہ سالہ بیٹا سر پر چوٹ لگنے سے چل بسا۔ جنازہ اگلی اتوار بعد نماز ظہر ہو گا۔ ان شاء اناللہ کہنے کے بعد حواس بحال ہوئے تو تعجب شروع ہوا، جنازے کو اتنے دن کیوں لگیں گے؟ انتقال ہفتے کے دن ہوا تھا، دفنانے میں پورے ہفتے کا انتظار کیوں؟ جواب میں پردیس کے قانونی چکر، بندشوں اور طور طریقوں کا اندازہ ہوا۔

موت یہاں بھی ہے تو اللہ ہی کے ہاتھ میں، لیکن دفنانے کفنانے کا سارا انتظام انگریز قوم کے سپرد ہے۔ اس لیے نظم و ضبط کا انداز وہی ہے جو اس کی باقی زندگی کا وتیرہ ہے۔ سب سے پہلے تو ڈاکٹر لاش دیکھ کر موت کی تصدیق کرے اور سرٹیفکیٹ دے گا کہ مرنے کی وجہ کیا تھی۔ یہ موت ہفتے کے دن ہوئی، اتوار کو ڈاکٹر اور لیبارٹری کی چھٹی تھی۔ بات سوموار پر جا پڑی۔ یہ موت حادثاتی تھی۔ پوسٹ مارٹم ضروری تھا تاکہ پتا چلے، موت میںانسانی ہاتھ کی کارستانی تو نہیں؟ اس میں دو ایک دن لگیں گے۔

سرٹیفکیٹ دکھا کر مردہ نہلانے، کفنانے اور قبر الاٹ کرانے کی اجازت ملے گی۔ اس کے لیے بھی وقت درکار ہے۔ وہ لوگ لندن سے باہر مقیم تھے۔ کیا کیا تکایف پیش آئی ہوں گی۔ گھر والوں کا پورا ہفتہ کفن دفن کا انتظام کرتے اسی تگ و دو میں گزرا ہو گا۔ مردہ لحد کے انتظار میں پڑا تھا، چین کس کو آنا تھا؟ کس نے اس گھر کو کھانے پکا کر بھیجے ہوں گے؟ ہمارے ہاں سوم تک چولھا نہیں جلایا جاتا، سوم کب ہو گا؟ موت کے تین دن بعد یا دفنانے کے تین دن بعد؟

کیا کیا مسائل اٹھتے ہیں غریب الوطنی میں!

نماز کے بعد گھر کی خواتین سے ملاقات ہوئی۔ کمرے میں عجیب سا سناٹا تھا۔ جوان موت پر جس طرح ہمارے ہاں خلقت اکٹھی ہو جاتی ہے، اس کا شائبہ تک نہ تھا۔ ماں بچے کی نانی، دادی، پھوپھیوں، خالائیں اور دوسرے رشتے داروں کے نام لے لے کر رو رہی تھی۔ میں اور میرے جیسی غریب الوطن عورتیں موت سے سہمی بیٹھی تھیں۔ مستقبل پر خوف کی پرچھائیاں تھیں: وطن سے دور مر گئے، تو ہمارا کیا بنے گا؟ کوئی ہمیں رونے والا ہو گا؟ کہاں اور کیسے دفنایا جائے گا؟ فاتحہ نصیب ہو گی؟ موت شہ رگ پر کھڑی لگ رہی تھی۔

اُدھر انگریز پریشان تھے کہ غیر کی موت پر یہ ہنگامہ! ایک بچے کی موت پر لوگ اس طرح اکٹھے ہو گئے؟ ہم نے تو اتنا بڑا جنازہ نہیں دیکھا۔ لوگ تیس تیس، چالیس چالیس میل سے بھاگے چلے آئے ہیں کیونکہ وہ باپ کو جانتے تھے، ماں ان کی عزیز تھی یا چچا سے میل جول تھا۔ کیا قوم ہے، کیا اخلاق ہے؟… تصویر کا یہ رخ بھی ہے۔

یہودی کی دکان میں

گرتے پڑتے، تجربے کرتے، کچے پکے کھانے پکاتے لندن کی دلربا زندگی شروع ہو ہی گئی۔ خوابوںکی اس حسین دنیا میں پیاز کاٹتے ہوئے آنکھوں سے پانی بہتا اور یوسفؑ کو دیکھے بنا انگلیاں کٹ جاتیں۔ بہشت بریں میں استری کرتے کرتے من ختم، نفس ڈھیر اور کمر ٹوٹنے لگتی۔ بازار جاتے تو ریشم کی ساڑھیاں بھول کر دیگچیاں اور کڑاھیاں ڈھونڈتے۔ کرسٹل کے گلدانوں کے بجائے پیاز کاٹنے کی مشین کے متلاشی رہتے۔ روٹی پکانے کا توا توجوئے شیر ہی ہو گیا۔ پھر اس مادرپدر آزاد معاشرے میں ان سب کی تلاش میں نکلنا ایک کارِ دارد تھا۔

بچے ساتھ لے کر نکلتے، تو وقت ان کے چونچلوں میں گزر جاتا۔ چھوڑ کر کہاں اور کس کے پاس جاتے، چناںچہ اسکول اتارنے کے بعد بازار بھاگتے۔ گھڑی پر نگاہ رکھ کر خریداری ہوتی۔ پھر ہانپتے کانپتے سیدھے اسکول جا کر بچوں کو اٹھاتے۔ گھر میں قدم رکھتے ہی یاد آتا ’’ہائے، دودھ لانا تو یاد ہی نہ رہا۔ ہائے ڈبل روٹی توہے ہی نہیں گھر میں!‘‘

نومبر کے آخری ہفتے ہم فلیٹ چھوڑ چار بیڈروم والے گھر منتقل ہو گئے۔ گھر کے آگے اور پیچھے باغیچے تھے اور آسمان کا نظارہ بلا تکلف تھا۔ مہمانوں کے لیے الگ کمرا جس میں دو لوگ آرام سے سو سکتے تھے،البتہ ایک کمزوری تھی، گھر لندن سے باہر خالص انگریزی علاقے میں تھا۔ وہاں دور دور تک نہ تو کوئی سانولا چہرہ تھا نہ ہمارے ذوق و شوق کی اشیائے ضروریات دستیاب تھیں۔

حلال گوشت کے چکر میں ایک یہودی قصاب کے ہاں پہنچے۔ معلوم ہوا ان کے ہاں بکرے کی رانیں نہیں بکتیں، وہ یہودیوں پر حرام ہیں۔ پیشتر اس کے کہ ہم پوچھ سکتے کہ رانیں کہاں پھینکتے ہو، اس نے بوجھ لیا کہ ہم مسلمان ہیں اور رانیں کھانے کے نقصانات پر ایک لمبا لیکچر دیا۔ لیکچر کے بعد جو گوشت اس نے دیا، لے کر چلے آئے۔ حلال گوشت کی قریب ترین دوکان دس میل دور سائوتھ ہال میں تھی۔ دو تین چکروں میں عقل ٹھکانے آ گئی۔

دیسی کی کمی نے ولایتی سبزیاں دسترخوان پر رکھنے کی ترغیب دی۔ اللہ کی یہ نعمتیں نہایت لذیذ ثابت ہوئیں۔ البتہ سبزی فروش ہمارا انداز خریداری دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ دس پونڈ پیاز کی فرمائش پر وہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔ پانچ پونڈ گاجروں کے مطالبہ پر ترازو اس کے ہاتھ سے چھٹ گیا۔ ادھر ہم اس قوم کی حرکات دیکھ کر دریائے حیرت کا غوطہ لگا آتے۔

چمکتی، چمچماتی کار سے خاتون اترتی اور ایک سیب خرید کر روانہ ہو جاتی۔ مجال ہے اسے دنیا کی پروا ہوتی۔ عمدہ میک اپ، قیمتی لباس اور ہائی ہیل کا جوتا پہنے ٹک ٹک کرتی خاتون آتی، گھنٹوں چھان پھٹک کے بعد دو عدد چانپیں خرید کر سربلند کیے رفو چکر! قصائی کے ماتھے پر بل پڑتے نہ آواز میں روکھا پن آتا۔ ہر لمحہ نئی دنیا سامنے آ رہی تھی ۔

فوجی مالی کی آمد

گھر کے باغ کی حالت یہ تھی کہ درخت، جھاڑیاں اور پودے پھیل پھیل کر آپس میں گتھم گتھا ہو رہے تھے۔ کیاریاں گھاس پھونس اور خودارو پودوں سے اٹی پڑی تھیں۔ لان کی گھاس اونچائی میں فٹوں کو چھونے کی کوشش کر رہی تھی۔ اوپر سے اس جنگل کی لمبائی چوڑائی سما دیتی۔ مکان خریدتے ہوئے اسٹیٹ ایجنٹ نے ذکر بھی کیا کہ گھر کے پیچھے بہت بڑا لان ہے۔

خوابوں کی دنیا میں رہتے ہوئے ہم نے الفاظ پر توجہ ہی نہ دی بلکہ فخر سے کہا ’’اس کی تو فکر ہی مت کرو، ہمیں باغبانی کا بڑا شوق ہے۔ ہمارے باغیچے ہمیشہ پھولوں سے مہکے ہیں۔‘‘ یہ یاد ہی نہ رہا کہ ہمارا شوق باغبانی زبانی جمع خرچ تک ہے۔ مالی کو ہدایات دیتے ہوئے ہم تھک جایا کرتے ہیں۔ زمین کی کھدائی، بوائی سے ہمارا کوئی تعلق نہ تھا۔ پھولوں کی تھوڑی بہت سدھ بدھ تھی اسی پر باغبانی کا دعویٰ کر ڈالا۔

لیکن یہاں تو دنیا ہی دوسری تھی۔ ہاتھ کیا بیلچہ ہلائے بنا چارہ نہ تھا۔ چناںچہ ہاتھ اور بیلچے دونوں چلانے اور ہلانے کی بھرپور کوشش کی۔ تھک ہارنے کے بعد اپنا رونا گھر والوں کے سامنے رویا۔ ہماری بات سننے والے کم تھے اور جو تھے وہ عمل سے گریزاں! امداد کے لیے دائیں بائیں دیکھا، دوستوں سے پوچھا، شرماتے شرماتے ہمسایوں سے ذکر کیا۔ وہاں سے تجویز آئی کہ اخبار فروش کی کھڑکی میں ضرورت باغبان کا اشتہار لگا دو۔

پہلے دو لڑکے اجرت میں خاصی تنخواہ کے طلب گار ہوئے۔ دوچار حوصلہ شکن تجربوں کے بعد ایک نہایت دبلے پتلے ریٹائرڈ فوجی معمولی معاوضے پر کام کے لیے تیار ہو گئے۔ تعجب کا اظہار کیا تو بولے، چونکہ پنشن ملتی ہے لہٰذا اس رقم سے زیادہ کمائی کی اجازت نہیں۔ ان کے بڑھاپے کو دیکھ کر میں نے زیادہ اجرت پر آمادگی ظاہر کر دی اور کسی سے ذکر نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن وہ پرانی نسل کا انگریز تھا، ایمان دار، بولا ’’میں اپنی حکومت کو دھوکا نہیں دے سکتا۔‘‘ اللہ، اللہ اور ہم ہیں کہ انھیں کافر کہتے نہیں تھکتے۔

کام شروع ہو گیا۔ بل ہر دو ہفتے بعد تین گھنٹے کے لیے آتے اور بغیر دم لیے کام کرتے۔ چائے کی پیالی بھی کام کرتے پیتے۔ کھانے کی ہر چیز سے البتہ انکار تھا۔ ایسی محنت اور جانفشانی سے کام کرتے کہ ترس آ جاتا۔ بڑھاپا دیکھ کر احساس جرم بھی ہوتا کہ اس عمر میں اتنا کام کر رہے ہیں۔ آخر باغبانی کر کے ہاتھ بٹانے کی کوشش کی۔ ان کی غیرموجودگی میں کچھ کیاریاں صاف کیں، بڑھی شاخیں کاٹ دیں۔ لیکن آئے تو سخت ناراض ہوئے کہ اس کے کام میں دخل دیا۔ غلط شاخیں کاٹیں، گھاس پھونس کے ساتھ پھول بھی نکال باہر کیے۔ پھر تسلی دی کہ جلد اس جنگل پر قابو پا کر اسے باغ میں بدل دوں گا۔

دو تین مہینے بعد شکل نکلنے لگی۔ خالص انگریزی نمونہ کا باغ ابھرنے لگا۔ درمیان میں بیضوی سرسبز لان، اردگرد لہراتی بل کھاتی، کہیں کھلی، کہیں تنگ کیاریاں واضح ہونے لگیں۔ اسی طرح پھول کہیں پستہ قد بوٹے، کہیں اونچے پھولدار درخت۔ کہیں بیلیں، کہیں پھولوں سے اٹی جھاڑیاں کھڑی ہو گئیں۔ کیلنڈر کے حساب سے گرمیاں لیکن ہمارے حساب سے یہ بہار تھی۔ دھوپ کے اندر ہلکی سی خنکی تھی۔ اس میں بیٹھنے کا بڑا مزا تھا۔ وہ الگ بات ہے کہ بیٹھنے کی فرصت مگر کم تھی۔

شگفتہ اور چمکدار پھول کھل رہے تھے، لیکن خراماں خراماں۔ جیسے بہار کو جانے سے روک رہے ہوں۔ بہار اطمینان سے آئی تھی، جانے کی اسے بھی جلدی نہ تھی۔ سورج کی حدت پھولوں کے لیے طمانیت بخش اوررنگ گہرا کرنے والی تھی۔ کلیوں کا کم کم کھلنا ہم نے یہیں دیکھا۔ نیم وا کلی کو دیکھ کر شاعروں آنکھیں یاد آئیں۔ ہمیں کلیاں دیکھ کر شعر یاد آئے۔

پھولوں کی پنیری خرید لائی۔ قیمت پوچھ کر بڑے ناراض ہوئے کہ آج کل کی لڑکیوں کو پیسے پھینکنے کا بڑا شوق ہے۔ میں آدھے پیسوں میں لاتا۔ اس کے بعد بیج اور پنیری بھی ان کے ذمے ہو گئی۔ لگاتے بھی اپنی مرضی سے! اب میں ان کی اجازت سے اور ہدایت کے مطابق اپنے باغ میں کام کرتی۔

وہ پھر کچھ کہے سنے بغیر غائب ہو گئے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ بیٹی کے گھر چلے گئے تھے۔ پھر یہ ہونے لگا، ہر دو تین مہینے کے بعد ناغہ کر لیتے اور خود ہی واپس آ جاتے۔ ہم نے پوچھنا اور فکر کرنا چھوڑ دیا۔ خیال ہوتا، تینوں میں سے کسی ایک بچے کے پاس گئے ہوں گے۔ باتوں باتوں میں پتا چلا، ان کے کمرے کاقالین بدلنے والا ہے۔ نیا قالین کے لیے اتنی محنت کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے حساب سے کہا ’’اپنے کسی بچے سے کیوں نہیں کہتے کہ قالین ڈلوا دیں۔ بولے ’’کیا میں فقیر ہوں کہ مانگوں؟ ‘‘واہ کیا خوداری تھی!

ہمسایوں کی ناشپاتیوں سے لدی ڈالیاں دیوار کے اوپر سے ہماری طرف جھک آئیں۔ جب وہ پکنے پر آئیں تو میں فکر مند ہوئی کہ بچوں کو پھل کھانے سے کیونکر منع کروں؟ بل صاحب سے ذکر کر بیٹھی۔ انھوں نے مژدہ سنایا کہ قانون یہ ہے، جو پھل جس کی طرف ہے، اسی کا ہے۔ بلاتکلف کھائو۔ اس کے بعد ہمسائی سے بھی تصدیق ہو گئی۔ کیا الٹ پلٹ دنیا ہے۔ ایک غیراسلامی ملک میں اسلامی قانون رائج ہے اور دھڑلے سے اس پر عمل ہو رہا ہے۔ ادھر مسلمان اپنے ملکوں سے اسلامی کیا ہر قانون نکالنے پر کمر بستہ ہیں۔

اللہ ہو غنی! مسلمان کہیں ہیں، دعویٰ مسلمانی کہیں اور ہے۔ مسلمان کہیں اور اسلام کہیں اور ہے۔ بل دو ڈھائی سال لگا تار آتے رہے۔ پھر ایسے غائب ہوئے کہ سال گزر گیا۔ فون ان کے پاس تھا نہیں جو پتا کرتے۔ کئی دفعہ خیال آیا کہیں چل ہی نہ بسے ہوں۔ کچھ عرصہ تو باغیچے کی دیکھ بھال خود کی پھر اس کی حالت بگڑنے لگی تو تنگ آ کر ایک مالی رکھ لیا۔ اس کو کام کرتے دو تین مہینے ہوئے ہوں گے کہ اچانک پہنچ گئے۔ مالی کو کام کرتے دیکھ کر خاموش کھڑے رہ گئے۔ چہرہ سفید ہو گیا۔ میں نے بہتیرا اندر بلایا، چائے کی دعوت دی لیکن انکار میں سر ہلایا اور واپس چلے گئے۔ میں آوازیں دیتی رہ گئی۔ مجھے لگا جاتے ہوئے بل کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

(اس دلچسپ آپ بیتی کا اگلا حصہ اگلے ماہ پڑھنا نہ بھولیے گا)

٭٭٭٭٭٭٭