function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

بھارتی حکومت مسٔلہ کشمیر حل کرنے کی جرأت نہیں رکھتی

طیب اعجاز قریشی | ملاقات

یہ عید الفطر سے کچھ عرصہ قبل کی بات ہے، سری نگر چیمبر آف کامرس نے ہمیں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ اب میں اور میرے دوست، شفیق عباسی اس دعوت پہ غور و خوض کرنے لگے۔ ایک طرف دل مچلتا کہ کشمیری کاروباری حضرات سے مل کر کاروبار کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں۔ساتھ ہی ساتھ کشمیر کی سیر بھی ہو جائے گی اور وہاں کے حالات بھی جان لیں گے۔ لیکن پھر دل میں یہ خوف جاگزیں ہو جاتاکہ پتا نہیں وہاں ہم پاکستانیوں سے کیسا سلوک ہو۔

پچھلے سال بھی ماہ اگست میں سری نگر جانے کا پروگرام بنا تھا۔ لیکن اچانک پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے ارادہ ملتوی کرنا پڑا ۔ اس مرتبہ عید کی ہفتہ بھر کی تعطیلات آ پہنچیں۔اُدھر ہمارے میزبانوں نے تسلی دی کہ مقبوضہ کشمیر میں آپ کا وقت خیروعافیت سے گزرے گا۔آخر ہر چہ باداباد کہتے ہوئے ہمت باندھی اور دورے کا ذکر اپنی اہلیہ سے کیا۔ وہ تو جانے کے لیے پہلے ہی سے تیار بیٹھی تھیں۔کشمیری خاندان سے تعلق اور کشمیری شالوں کی شائق ہونے کے باعث اُن کا شوقِ سفر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

گزشتہ سال سری نگر سے آئے تاجروں نے ایکسپو سنٹر میں اپنے اسٹال لگائے تھے۔ اُن کے تمام ملبوسات اور شالیں ہاتھوں ہاتھ بک گئی تھیں۔ تب میری اہلیہ نے اپنی سہیلیوں اور والدہ کے ہمراہ خریداری کر کے میرے بجٹ کا وہ حال کیا جو محترم اسحٰق ڈار (کشمیری) وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے مطالبات پر ملکی معیشت کے ساتھ ٹیکس لگا لگا، کررہے ہیں۔ اللہ اسحٰق ڈار کو اہل وطن پر رحم کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

میرے دوست شفیق عباسی اور ان کی اہلیہ، طلعت بھابی بھی لاہور سے مقبوضہ کشمیر تک کے اس سفر میں ہمراہ تھیں۔ اس نہایت دلچسپ سفر کی جھلکیاں اور روداد میں اپنے سفرنامہ میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ جو آئندہ ماہ شائع ہو گا۔

ہمارے میزبان کو جب یہ معلوم ہوا کہ میرا تعلق پیکجنگ‘ پھلوںو سبزیوںکی برآمد کے ساتھ ساتھ اردو ڈائجسٹ سے بھی ہے‘ تو انھوں نے معروف کشمیری حریت راہنما، میر واعظ عمر فاروق سے ملاقات کرانے کی ذمہ داری بھی اُٹھا لی۔

بھارت اور پاکستان کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکے۔ پاکستان میں آج بھی یہ تاثر عام ہے کہ مقبوضہ کشمیر صرف بذریعہ جہاد ہی آزاد ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی‘ شیخ عبدالعزیز شہید‘ ایوب ٹھاکر وغیر اس امر کے داعی رہے ہیں۔

تاہم بااثرکشمیری راہنمائوں کا ایک گروپ بھارتی حکومت سے گفت و شنید کر کے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانا چاہتا ہے۔ ان راہنمائوں میں میر واعظ عمر فاروق کو نمایاں مقام حاصل ہے۔

میرواعظ عمر فاروق سے انٹرویوکرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے پاکستانی بھائی اِن کشمیری راہنمائوں کا موقف بھی جان سکیں جو مذاکرات کے بل پر کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔

کشمیر میںہمارے میزبان ہندو کاروباری بھائی وکرم ملہوترا اور وشال ملہوترا تھے جو ارب پتی ہونے کے باوجود عجز و انکسار کا پیکر نکلے۔ اُن کے والد ونود ملہوترا ۱۹۴۷ء میں پیدا ہوئے۔ یہ خاندان چھے نسلوں سے سری نگر کے علاقہ مہاراج گنج میںٹیکسٹائل کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ ونود صاحب کے پڑدادا لالہ کٹمال نے ۱۸۵۰ء میں ملتان سے سری نگر آ کر ایس آر گنج کے تاریخی علاقے میں کاروبار کا آغاز کیا۔ ونود کے دادا ترتھ رام بڑے متمول اور امیر تاجر تھے جو اپنی سخاوت اور دریا دلی کی وجہ سے سری نگر میں بہت مقبول تھے۔ ایس آر گنج کی مارکیٹ ڈوگرہ دور حکومت ہی سے کاروبار کے لیے مشہور تھی۔ اس زمانے میں لالہ کٹمال وہاں پرواحد غیرمسلم دکاندار تھے۔

یہ مارکیٹ مہاراجا شری رنبیرسنگھ نے ۱۸۷۱ء میں تعمیر کرائی تھی۔ دریائے جہلم کے کنارے اس طرح کی کئی اور مارکیٹیں بھی بنائی گئیں جن میں مہاراجا اور اُس کے خاندان کے لوگ خریداری کرتے تھے۔ پارک کے چاروں طرف لکڑی کے خوبصورت کام سے بنائی گئی اس مارکیٹ تک پہنچنے کے لیے مہاراجا کا خاندان اور دربار کے وزرا کشتیوں کا استعمال کرتے۔ یہاں پہلے پہل صرف مہاراجا کے قریبی دوست احباب ہی کو کاروبار کی اجازت تھی۔ لیکن بعد میں آہستہ آہستہ دوسرے کاروباری حضرات بھی یہاں اپنا ٹھکانا بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ آگ لگنے کے بعد اس مارکیٹ کو کپڑے کی ہول سیل مارکیٹ میں تبدیل کر دیا گیا اور اس علاقے کا نام مہاراج گنج مشہور ہو گیا۔

جنوری ۱۹۹۰ء میں گاکدل سانحے کے بعد مہاراج گنج کے حالات بدل گئے۔ ونود ملہوترا ان گنت مرتبہ فوج کے کریک ڈائون میں گرفتار ہوئے اور ہر مرتبہ انھوں نے انڈین افسران سے کہا کہ میں اپنے مذہب کا فائدہ اُٹھا کر کشمیر کے کاز کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ایک مرتبہ تفتیش کے دوران ایک ہندو پولیس آفیسر کالیا نے اُن کا نام اور مذہب جاننے کے بعد پوچھا کہ وہ مرنے سے نہیں ڈرتے اور وہ یہاں سے چلے کیوں نہیں جاتے؟ تو ونود ملہوترا نے جواب دیا کہ یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سن کر پولیس افسر کالیا کہنے لگا کہ پھر وہ اللہ تمہیں جلد موت کی نیند سلا دے گا۔

خدا کی کرنی دیکھیے کہ انہی دنوں کالیا ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا اور ونوملہوترا اپنے آبائی کاروبار کے ساتھ بخیر و عافیت رہے۔اسی طرح ایک دفعہ مجاہدین انھیں اٹھا کر لے گئے۔ ونود ملہوترا نے انھیں کہا کہ مجھے بھی تمہاری طرح اپنے کشمیری ہونے پر فخر ہے۔ یہ سن کر مجاہدین نے انھیں چھوڑ دیا۔
آنجہانی ونود ملہوترا کا احترام آج بھی پورے سری نگر میں پایاجاتا ہے۔ وہ دو برس قبل چل بسے تھے۔ونود ملہوترا کا دفتر اور شو روم علاقہ مہاراج گنج میں واقع تھا جہاں آئے روز فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ پتھرائو اور کرفیو معمول کی بات ہے۔

فجر کی اذان کے ساتھ اُٹھنے والے ونود ملہوترا ہر اسلامی تہوار مثلاً عیدالفطر‘ شب برأت‘ ربیع الاوّل وغیرہ پر کھیر بانٹنا نہ بھولتے۔ اُن کے مسلمان دوستوں نے بتایا کہ ایک دن ہم نے اُن سے کہا کہ آپ زندگی تو مسلمانوں کی طرح گزارتے ہیں۔ شراب پیتے ہیں نہ جھٹکے والا گوشت کھاتے ہیں‘ تو کلمہ کیوں نہیں پڑھ لیتے؟ ملہوترا صاحب کہنے لگے: ’’اگر تمہاری تسلی اس طرح ہوتی ہے تو یہ لو تمہارے سامنے کلمہ پڑھ لیتا ہوں۔‘‘ انھوں نے پھر کئی بار کلمہ طیبہ پڑھ کر سنا یا۔ ان کے دوست یہ دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے اور پھر دوبارہ اُن سے یہ مطالبہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔

جس دن ونود ملہوترا کا انتقال ہوا‘ سوگ میں پورا سری نگر بند ہو گیا اور مسلمانوں کی کثیرتعداد اُن کے گھر کے باہر بیٹھ گئی۔ حتیٰ کہ لوگوں کی نمازیں قضا ہوگئیں۔ تبھی انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ونود ملہوترا کو مسلمانوں کی طرح دفن کیا جائے نہ کہ ہندوئوں کی طرح اُن کی آخری رسومات ادا کی جائیں۔

ونود ملہوترا نہ صرف سری نگر کی ہردلعزیز شخصیت بلکہ بہادر‘ نڈر اور ہر ایک کے کام آنے والے تھے۔ ایک کشمیری مجاہد نے بتایا ’’سری نگر کے بازار میںبھارتی فوج کے آپریشن کے دوران مجھے گولیاں لگ گئیں۔ میں خون میں نہایا ہوا تھا‘ مگر کوئی مجھے اسپتال لے جانے کو تیار نہیں تھا۔ ملہوترا صاحب کسی خطرے کو خاطر میں لائے بغیر مجھے اپنی گاڑی میں ڈال کر اسپتال لے گئے اور میرا علاج کروایا۔‘‘

مہاراج گنج کے علاقہ میں رہنے کی وجہ سے ملہوترا خاندان کے میرواعظ کے خاندان سے قدیم دوستانہ مراسم ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب سری نگر میں حالات سے تنگ آ کر بے شمار ہندوشہر چھوڑ کر جموں یا کہیں اور جا بسے، اس وقت بھی ملہوترا صاحب اپنا گھربار اور کاروبار چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ البتہ انھوں نے اپنے بڑے بیٹے وشال کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے امرتسر بھجوا دیا۔ لیکن اُن کی اہلیہ اور ایک بیٹا چھوٹا وکرم ساتھ ہی رہے۔ ایک اچھا فنکار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ’’ دور درشن‘‘ ٹی وی پر ایک مشہور پروگرام بھی کیا کرتے تھے۔

ملہوترا خاندان کے میرواعظ خاندان سے گہرے تعلق کی وجہ سے ہماری میر واعظ عمر فاروق سے ملاقات کا بندوبست ہو گیا۔ ملاقات والے دن شہر میں امرناتھ یاترا کے معاملے کی وجہ سے حالات خراب ہو گئے اور چند علاقوں میں کرفیو نافذ ہو گیا۔ علی گیلانی اور حریت کے دوسرے راہنمائوں کو نظر بند کر دیا گیا۔ بہرحال دوپہر تک ہمارے میزبان میرواعظ کے عملے کے ساتھ رابطے میں رہے۔ وہ ہوٹل براڈ وے سے اُن تک پہنچنے کے لیے محفوظ راستوں کی نشاندہی کرتے رہے۔

آخر طے پایا کہ ہم حضرت بل کے مقام تک پہنچیں۔ پھر وہاں سے اُن کا خاص آدمی ہمیں محفوظ راستے سے میرواعظ کی رہائش گاہ پہنچا دے گا۔ حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی اور تقریباً کاروبار زندگی معطل تھا۔ جگہ جگہ فوج کی گاڑیاں موجود تھیں اور انڈین فوجی پتھرائو سے بچنے کے لیے ہاتھوں میں حفاظتی شیلڈیں لیے سڑکوں پر تیار کھڑے تھے۔

میرواعظ کا قدیم آبائی گھر جامع مسجد سری نگر کے قریب مہاراج گنج میں واقع ہے جو بہت چھوٹا اور خستہ حال ہو چکاہے۔ اکتوبر ۱۹۷۷ء میں میرواعظ کا خاندان نگین کے علاقے میں نئے گھر میں منتقل ہوا۔ اونچی چاردیواری والی اس چھوٹی سی عمارت کے باہر پولیس کی خاصی نفری موجود تھی۔ جو حالات کی کشیدگی کا واضح اشارہ تھا۔ میرواعظ کے خاص آدمی اور میزبان کی وجہ سے سیکیورٹی پر مامور عملے نے ہم سے کوئی پوچھ پڑت نہیں کی اور ہم سیدھے اندر چلے گئے۔

کچھ دیر ہمیں ایک دفتر نما کمرے میں بیٹھنے کو کہا گیا۔ میرا دل ماحول کی پراسراریت کے باعث تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وطن سے دور اور وہ بھی ایک اہم کشمیری راہنما سے مقبوضہ کشمیر میں انٹرویو … گمبھیر فضا کے باعث وہ سوالات بھی لوحِ دماغ سے مٹ گئے جو پہلے میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور ہمیں اندر جانے کا اشارہ کیا گیا۔ اندر داخل ہوئے تو اپنے سامنے خاکی کھدر کے کُرتے اور جینز کی پتلون میں ملبوس گورے چٹے خوبصورت کشمیری نوجوان راہنما کو چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنا استقبال کرتے پایا۔ چمڑے کے بنے نفیس صوفوں پر بیٹھتے ہی میرواعظ سے تعارف کا سلسلہ شروع ہوا۔

میں نے انھیں اردو ڈائجسٹ کی تاریخ کے بارے میں بتایا اور محترم الطاف حسن قریشی کی جنرل مشرف کے ہمراہ دہلی میں اُن سے ملاقات کا حوالہ دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد جوس اور کشمیری بسکٹوں وغیرہ سے ہماری تواضع کی گئی۔ وہ پوچھنے لگے کہ کیا آپ لوگ مظفر آباد کی طرف سے آئے ہیں؟ میں نے انھیں بتایا کہ ہم واہگہ سے امرتسر اور وہاں سے سری نگر بذریعہ جہاز پہنچے ہیں‘ تو انھیں خاصی خوشگوار حیرت ہوئی۔

میرواعظ میرے کاروباری پس منظر کی بنا پر پوچھنے لگے کہ بھارت سے پاکستان کی تجارت کیسی چل رہی ہے خصوصاً واہگہ کے راستے سے؟ میں نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پایا اور ماحول کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ کچھ کاروبار تو ہو رہا ہے جیسے آلو ٗ پیاز وغیرہ بھارت سے آرہے ہیں ۔ لیکن ابھی تک مکمل کاروباری ماحول نہیں بنا۔ دونوں ممالک کے کاروباری افراد ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کررہے ہیں۔ لیکن ابھی کچھ رکاوٹیں باقی ہیں جن کے باعث دونوں اطراف دوستانہ ماحول جنم نہیں لے سکا۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک ٹھوس بنیادوں پر کاروبار ی تعلقات قائم نہیں ہوئے۔ بہرحال علاقائی تجارت کے بغیر کوئی خطہ ترقی نہیں کرسکتا اور یہ عمل رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہا ہے۔

ہم نے انھیں بتایاکہ جب سے بی جے پی حکومت آئی ہے‘ بھارتی ویزہ لینے میں کچھ تاخیر ہونے لگی ہے۔ اگرچہ ادھر پاکستان میں ہماری ساری قیادت کشمیری ہی ہے ۔ سیاست دانوں مثلاً نوازشریف ٗ شہباز شریف ٗ خواجہ آصف ٗ خواجہ سعد رفیق ٗ اسحاق ڈار وغیرہ کے علاوہ بہت سے بیوروکریٹس بھی کشمیری ہیں۔ بلکہ یہ تو طعنہ بن چکا کہ حکومت میں سب کشمیری ہی چھائے ہوئے ہیں۔

یہ بتانے کے بعد میں نے میرواعظ کی جانب غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا کہ آپ حکومت پاکستان سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟
اس سوال پر میرواعظ کے چہرے سے مسکراہٹ جاتی رہی اور سنجیدگی غالب آ گئی۔ کہنے لگے کہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکومت آئے‘ وہ مثبت انداز میں مسئلہ کشمیر کو لے کر چلتی ہے۔ مشرف صاحب نے بھی اس مسئلے کو زندہ رکھا۔ اگرچہ ہمیں اس حوالے سے کافی تحفظات تھے۔ ہمیں لگتا تھا کہ شاید وہ اپنے دائرہ کار سے باہر چلے گئے ہیں‘ لیکن وہ اس مسئلے کے حل کی جانب قدم بڑھانا چاہتے تھے ۔

بدقسمتی سے ان پر برا وقت آگیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی نے کچھ اچھا کام کیا ہے‘ تو اسے آگے بڑھانا چاہیے۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ ہم بہت سی باتوں کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ چناںچہ ہر نئی آنے والی حکومت پچھلی کو الزام دیتی ہے کہ اس نے معاملے کا بیڑا غرق کردیااور ہم نئے سرے سے اسے دیکھیں گے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ کو نئے سرے سے بھی شروع کرنا ہے تو کہیں نہ کہیں سے اس کی بنیادبنانا ہوگی ۔

شفیق عباسی بڑے باخبر اور معلومات کا سمندر اپنے ذہن میں سنبھالے رکھنے والی شخصیت ہیں اور کم ہی کسی کو اس سمندر سے موتی نکالنے دیتے ہیں۔ انھوں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’’۱۹۹۹ء میں جو عمل شروع ہوا وہ بہت آگے تک نکل گیا تھا۔‘‘

میرواعظ اتفاق کرتے ہوئے بولے: ’’جی ہاں مشرف دور میں ہم کئی مرتبہ پاکستان گئے۔ بیرون ممالک بھی ان سے ہماری کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ میرا مشورہ تو یہی ہے کہ مشرف دور میں جو معاملات آگے بڑھے‘ وہاں سے آگے چلا جائے۔ مسئلہ کشمیر کا حل ایک ہی نشست میں ملنا ممکن نہیں‘ یہ مرحلہ وار حل ہو گا۔ دونوں حکومتوں کے اپنے اپنے تحفظات ہیں۔ ابھی تک دونوں طرف اعتماد کی سخت کمی ہے۔ بھارتی اور پاکستانی حکومتیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بہت حساس ہیںاور اٹھائے جانے والے ہر قدم کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں تو عام لوگ بھی اس مسئلے کی باریکیوں سے واقف ہو چکے۔ مثال کے طور پر کشمیری مسلمان نہیں چاہتے کہ بھارت بھر سے ہندو امرناتھ یاترا کرنے آئیں۔ ان کے ذہن میں یہ خطرہ جنم لے چکا ہے کہ اب یاتریوں کے بھیس میں انتہا پسند ہندو بھی وادی میں آ پہنچیں گے۔

بدقسمتی سے بھارتی حکومت بھی مسئلہ کشمیر کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ حکومت کے پاس وسائل ہیں اور وہ یہاں کا سارا نظام چلا رہی ہے۔ پھر یہاں بھارتی فوج بھی بیٹھی ہے۔اس کے اپنے مفادات ہیں اور وہ بھی یہاں سے جانانہیں چاہتی۔ اُسے کشمیر سے بھاری بھرکم آمدن ہوتی ہے۔ انڈین آرمی کا بجٹ بھی بہت بڑھ رہا ہے۔ یہ سب باتیں مسئلہ کشمیر کے حل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

امید تھی کہ اگر بھارت میں کوئی مضبوط حکومت آئے جیسے پی جے پی کی حکومت آئی ہے ‘تو وہ کوئی ٹھوس اقدامات کرے گی۔ واجپائی صاحب نے ایسے ہی اقدامات کیے تھے۔ دوسری سمت پاکستان کے اپنے اندرونی حالات بھی کشیدہ ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر توجہ کم ہو گئی۔ امید ہے جب معاملات آگے بڑھیں گے توبہتری آئے گی۔ وادی میں اب بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر سیاسی طور پر حل کیا جائے۔ چناںچہ بھارتی اور پاکستانی‘ دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اسے عسکری انداز سے حل کرنے کی سعی نہ کریں۔ اب یہاںریاستی انتخابات ہو رہے ہیں‘ شاید ان کے ذریعے بی جے پی کوئی ٹھوس اقدام کر سکے۔

اس دوران میں نے اپنی اہلیہ شازیہ کو تصاویر بنانے کا اشارہ کیا اور میرواعظ سے آنے والے دنوں میں رونما ہونے والے واقعات کا اندازہ لگانے کے لیے پوچھا کہ الیکشن کب ہورہے ہیں اور کیا آپ ان میں حصہ لیں گے؟

دھیمے سروں میں وہ کہنے لگے ‘ نومبر دسمبر میں الیکشن ہوں گے ۔ ہم انتخابات میں بالکل حصہ نہیں لیتے بلکہ حریت کے پلیٹ فارم سے کوئی بھی جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لیتی۔ وجہ یہ ہے کہ بھارتی حکومت کشمیر کے انتخابات کو ریفرنڈم کے طور پر لیتی ہے ۔ بھارتی حکمران طبقے کا کہنا ہے کہ انتخابات ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ کشمیری بھارتی حکومت پر اعتماد کرتے ہیں۔ چناںچہ اب کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا۔ لیکن ہم انتخابات کو ایک انتظامی معاملہ سمجھتے ہیں۔ اس سے لوگو ں کے مقامی مسائل جیسے بجلی‘ پانی اور سڑکیں وغیرہ تو حل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان انتخابات کا آزادی کشمیر کے اصل مسئلے سے کوئی تعلق نہیں‘ وہ تو جوں کا توں ہی ہے۔

ابھی تک انڈین گورنمنٹ کی طرف سے یہ سوچ سامنے نہیں آئی کہ مسئلے کو سیاسی طور پر حل کیا جائے۔ وہ آزادی پسند کشمیریوں کو طاقت اور تشدد سے کنٹرول کرتی ہے۔ یوں پانچ چھے ماہ تو نکل جاتے ہیں لیکن پھر کوئی چھوٹا سا واقعہ حالات خراب کر دیتا ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں‘ پتھرائو‘ جلائو ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں۔

میرواعظ کے جواںسال ذہن کے اندر جھانکنے کے لیے میں نے اچانک سوال کیا۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ اگرحریت کے پلیٹ فارم سے مقبول کشمیری قیادت انتخابات میں حصہ لیتی ہے تو بھارتی سرکار ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لے گی؟

میرے سوال کے مضمرات کا اندازہ لگاتے ہوئے میرواعظ کہنے لگے : اصل مسئلہ بھارتی حکومت کا رویہ ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب (شیخ عبداللہ کی) نیشنل کانفرنس نے الیکشن جیتا تو اس نے بعدازاں خودمختاری کی قراردادپاس کر لی۔ مگر بھارت نے قرارداد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ ہاں اگر یہ بات طے کرلی جائے کہ انتخابات کے ذریعے جو لوگ منتخب ہوکر آئیں گے‘ ان کی نمائندہ حیثیت ہوگی اور انڈین گورنمنٹ ان سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی خاطر مذاکرات کرے گی تو پھر انتخابات میں حصہ لینے کی بات سمجھ آتی ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر یہ ایک لاحاصل مشق ہے۔

چناںچہ موجودہ حالات میں حریت کانفرنس نے انتخابات میں حصہ لیا‘ تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ کشمیر ختم ہوگیا۔ یہی وجہ ہے ہم انتخاباتمیں حصہ نہیں لیتے۔ جو لوگ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں‘ وہ مقامی مسائل کے حل ہی کو مسئلہ کشمیر کا حل سمجھتے ہیں۔ مگر ان انتخابات سے کیا نتیجہ نکلے گا جب تک اصل معاملات کی طرف توجہ نہیں دی جاتی؟ بھارتی حکومت میں ابھی وہ سیاسی جرأت مفقود ہے جو ہم تھوڑی سی پاکستانی حکومت میں دیکھتے ہیں۔

ہم پاکستان جائیں تو وہاں کے عوام میں بھی تبدیلی نظر آتی ہے‘ وہ اب ماضی کے یرغمال نہیں رہنا چاہتے۔وہ مثبت انداز میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ بھارت میں یہ بات ابھی نظر نہیں آئی۔ دراصل بھارتی سیاست دانوں نے مسئلہ کشمیر کو جس طرح بھارتی عوام کے سامنے پیش کیا‘ اس کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر میں ساری خرابی پاکستان کروا رہا ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔اب اس سوچ کو بدلنا ہوگا مگر اس میں وقت لگے گا۔

میرواعظ کے خیالات نے مجھ میں توانائی بھر دی تھی اور گفتگو کا رخ متعین کر دیا۔ میں نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بھارتی عوام کے رویے میں کچھ تبدیلی آرہی ہے؟

وہ کہنے لگے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ تھوڑی بہت تبدیلی آئی ہے ۔ جیسے ارون دھتی رائو ٗعام آدمی پارٹی (AAP) والے کیجری وال نیز کچھ اور بائیں بازو کے لوگ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہماری تائید کرتے ہیں۔ اصل میں بھارتی عوام ابھی تک مسئلے کے بنیادی پہلوئوں سے لاعلم ہیں۔ اب بی جے پی والے آئے ہیں۔ لوگوں کو ان کے ماضی کے حوالے سے کافی پریشانی ہے کہ نجانے یہ کس قسم کے انتہا پسندانہ اقدامات کریں گے؟ کشمیری کنفیوژن کا شکار ہیں۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ بی جے پی والے ہی مسئلہ کشمیر حل کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس مینڈیٹ ہے۔ بہرحال زمینی حقائق سے نہیں لگتا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوری حل نکل آئے۔ ابھی طویل وقت درکار ہے‘ شاید دس سال یا کچھ اور۔

یہ سن کر میں نے اگلا سوال کیا‘ دس سال کے دوران کیا ہوسکتا ہے؟
میرواعظسوچتے ہوئے گویا ہوئے،مشرف صاحب نے بعض تجاویز دی تھیںمثلا لائن آف کنٹرول کھول دی جائے ٗ دو طرفہ تجارت بڑھائی جائے ٗ کشمیر میں مشترکہ کنڑول قائم کیا جائے وغیر ہ۔ ممکن ہے کہ اگلے برسوں میں ان تجاویز پر عمل ہو جائے۔ پھر دس پندرہ سال بعد اصل مسئلے کی طرف توجہ دی جائے۔
نواز شریف‘ مودی حکومت سے خو ش گوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش میں تھے۔ اس تناظر میں، میں نے سوال کیا:خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات ہونے والے ہیں۔ کیا اس میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آئے گا؟
ہمارے ممدوح کہنے لگے،میرا نہیں خیال کہ اس میں مسئلہ کشمیر زیربحث آئے۔ اس مسئلے کو جب تک سیاسی سطح پر نہیں اٹھایا جاتا‘ اس کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔

بیوروکریٹک سطح پہ اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ بات چیت کا شروع ہونا اچھی بات ہے۔ ہم اس بات کے حق میں ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلیں۔ بدقسمتی سے یہ جو گفتگو ہو رہی ہے ‘ اس کے ایجنڈے پر کشمیر نہیں بلکہ تجارت‘ ویزہ اور دہشت گردی وغیرہ کے مسائل ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے مابین اختلافات کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے۔ چناںچہ جب تک وہ حل نہیں ہوتا‘ دونوں ممالک میں کشیدگی برقرار رہے گی۔ بہرحال اگر دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹری سال میں دو تین مرتبہ آپس میں ملیں توکچھ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہر بار جب بھی بات چیت شروع ہوتی ہے‘ یہ صفر سے آغاز کرتے ہیں۔ تاہم کچھ باتیں اچھی بھی ہو رہی ہیں ۔ جیسے لوگ آپس میں ملنے لگے ہیں۔مظفر آباد سے بس سروس شروع ہوگئی ہے ۔ پاکستان سے کچھ چیزیں ادھر آرہی ہیں جیسے کپڑے وغیرہ۔ لوگ انھیں بڑی چاہت سے خریدتے ہیں۔ ذرائع آمدورفت بہتر ہو جائیں‘ تو مزید قربت جنم لے گی۔

اب میں نے ہمت کر کے ایک تیکھا سوال کرنے کی جسارت کی کہ پاکستان میں کچھ لوگوں کا خیال ہے‘ مسلح جدوجہد نے مسئلہ کشمیرحل کرنے کے سلسلے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا؟

میرواعظ میرے اندازے کے برعکس بولے کہ مسلح جدوجہد سے یہ ضرور ہوا کہ مسئلہ کشمیر جو عرصہ دراز سے سرد خانے میں پڑا ہوا تھا‘ اقوام عالم کی نظروں میں آگیا۔ لیکن اب مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے معاشی اور سیاسی محاذ پر لڑنے کی ضرورت ہے۔ معاشی مضبوطی کے بغیر سیاسی خودمختاری کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں‘ اگر راستے کھل جائیںتو تجارت ہوتی ہے‘ اس کا اصل فائدہ کشمیری عوام کو ہوگا۔

میں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا :کیا ایسا ممکن نہیں کہ آپ اپنے بنیادی کاز پر ڈٹے رہیں اور تجارت و دیگر معاملات پر بھی بات کریں؟
وہ کہنے لگے: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر‘ سردار عتیق نے جب لائن آف کنڑول کو لائن آف کامرس میں تبدیل کرنے کی بات کہی‘ تو ہمیں یہ تجویز بھائی تھی۔ لوگوں کی مشکلات کم ہونی چاہئیں۔لیکن کشمیر کے اندر بھارت کی بے تحاشا فوج موجود ہے جو لوگوں کو خوفزدہ کیے رکھتی ہے۔ لہٰذا فوج کو کم ہونا چاہیے۔ آج کل یہاں ایک اور مسئلہ لوگوں کے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے۔ بھارتی فوج کا ایک جگہ بہت بڑا اسلحہ ڈپو تھا۔ لوگوں نے احتجاج کیا تو انھوں نے وہ جگہ خالی کر دی لیکن اب وہ دوسری جگہ منتقل ہو رہا ہے۔ وہ ۲۰۰کنال پر محیط ہو گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ سیاسی طریقے ہی سے ہم مسئلہ کشمیر بہتر انداز میںحل کرسکتے ہیں۔ کرنے کو تو بہت کچھ ہے‘ مگر اس کے لیے سیاسی جرأت درکار ہے جومجھے ابھی تک بھارت میں نظر نہیں آتی۔

میں اگلے سوال کے لیے تیار تھا۔کشمیر میں بھی لوگ آزادی کے حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔ کوئی پاکستان کے ساتھ الحاق کی بات کرتا تو کوئی بھارت کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ کچھ مکمل خودمختاری چاہتے ہیں۔
یہ کشمیر ی عوام میں انتشار کی نشانی نہیں؟ میں نے اپنے اندیشوں کو سوال کی شکل میں ڈھالتے ہوئے پوچھا۔

وہ قدرے تحمل سے گویا ہوئے ’’کسی بھی تحریک میں مختلف ادوار آتے ہیں۔ ہم نے ۴۷ء ٗ ۶۵ء ‘ ۷۱ء اور پھر کارگل کی جنگ بھی دیکھی۔ یہاں پر قوم پرستی کی باتیں بھی ہوئیں۔ یہ سب کچھ ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک دفعہ صحیح نہج پر مسئلہ حل کرنے کے لیے بات چیت ہوئی تو لوگوں میں اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا ہو جائے گا۔ کیونکہ سب کو آخرکار مذاکرات کی میز ہی پر بیٹھناہے۔ فی الوقت کشمیریوں کو بھارت پر اعتماد ہی نہیں‘وہ اس کے ہر حکومتی اقدام کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ لہٰذا بھارتی حکومت کو کشمیری عوام میں اپنی ساکھ بہتر بنانا ہوگی۔

اب میں نے مقبوضہ کشمیر کی معاشرتی زندگی کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے پوچھا: مقبوضہ کشمیر میں ہندو مسلم ٗ شیعہ سنی سب بستے ہیں۔ کشمیری پنڈت بھی یہاں خاصے آباد ہیں۔ ہم نے ان کے درمیان اختلافات کی خبر سنی نہ پڑھی۔ اس یگانگت کی کیا وجہ ہے؟ 

میرواعظمسکراتے ہوئے بولے کشمیر میں کبھی فرقہ ورانہ فسادات نہیں ہوئے۔ یہ معاملہ صرف کشمیر کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا میں اُچھالا جاتا ہے۔ یہ دیکھیے کہ امرناتھ یاترا سیکڑوں برسوں سے ہو رہی ہے۔ کشمیری کبھی اس کی وجہ سے پریشان نہیں ہوئے۔ ہم سب یہاں پر امن طریقے سے رہ رہے ہیں۔ اصل میں کچھ جماعتیں لوگوں سے ووٹ حاصل کرنے کی خاطر ایسے مسائل اٹھاتی ہیں۔ بی جے پی والوں نے بھی بہت کوشش کی کہ فرقہ ورانہ معاملات پر لوگوں کو تقسیم کیا جائے تاکہ ہندو ووٹ اسے مل سکے۔

اس موقع پر عباسی صاحب جو خاموشی سے ہماری گفتگو سن رہے تھے کہنے لگے کہ جموں و کشمیر میں ہندو مسلم ووٹروں کا کیا تناسب ہے؟
جواب ملا: جموں کے بیشتر اضلاع میں ہندو اور بعض اضلاع میں مسلمان اکثریت رکھتے ہیں۔ جبکہ وادی کشمیر کے تمام اضلاع میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔
میں میرواعظ کے خاندان کا پس منظر جاننے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ اس لیے پوچھا کہ آپ اپنے خاندان کے متعلق بھی بتائیے۔

میرواعظ نے تفصیل سے بتایا، ہمارے آبائو اجداد شاہ ہمدان کے ساتھ کشمیر آئے۔پہلے ہم جنوبی کشمیر میں مقیم تھے پھر یہاں سری نگر چلے آئے۔ اسی شہر میں میرواعظ کا ادارہ وجود میں آیا۔ اس کا مرکز جامع مسجد ‘ سری نگر میں واقع ہے۔ یہ بڑی خوبصورت مسجد ہے۔ عام طور پر مساجد کی تعمیر میں گنبد وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ لیکن اس مسجد کی طرز تعمیر میں آپ کو بدھ مت کی عمارتوں کی جھلک بھی نظر آئے گی۔ وجہ یہ کہ اسلام سے پہلے یہاں بدھ مت کا کافی اثر تھا۔ وادی کے لوگوں کا ثقافتی اور روحانی رابطہ سمرقند ٗ بخارا اور وسطی ایشیا سے زیادہ رہا ہے۔ اس کی جھلک آپ کو کشمیری زبان‘ کھانوں‘ لباس‘ دستکاریوں اور طرز تعمیر میں ملے گی۔ یہ سب کچھ یہاں پر شاہ ہمدان نے متعارف کروایا۔

میں نے کہا کہ شاہ ہمدان تو ایران سے آئے تھے؟
وہ کہنے لگے،اصل میں اس وقت ایران اور وسطی ایشیا کے علاقے ایک ہی خطے پر مشتمل تھے ۔ شاہ ہمدان کے ساتھ آنے والوں میں ہمارے اجداد بھی شامل تھے۔ انھوں نے یہاں تعلیمی ادارے قائم کیے۔ آج بھی پوری وادی میں پندرہ سے بیس اسکول ہمارے زیرانتظام چل رہے ہیں۔ ان میں مذہبی تعلیم دینے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ یہ تمام ادارے ہماری انجمن نصرت الاسلام کے زیراہتمام چل رہے ہیں۔ ۱۸۹۶ء میں اسلامیہ ہائی اسکول وادی کا پہلا جدید تعلیمی ادارہ تھا جو میرواعظ رسول شاہ نے قائم کیا۔ اسی لیے انہیں کشمیر کا سرسید احمد خان بھی کہا جاتا ہے۔

اصل میں لوگ انگریزی تعلیم پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ سمجھتے کہ اگر انگریزی پڑھی تو انگریز بن جائیں گے ۔ ان حالات میں میر واعظ نے جدید تعلیم عام کرنے کی تحریک چلائی اور لوگوں میں اُسے متعارف کرایا۔ ۱۹۳۰ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف جو تحریک چلی‘ اس میں بھی تب کے میر واعظ نے بھرپور حصہ لیا جو میرے والد کے چچا تھے۔ وہ پھر آزاد کشمیر چلے گئے اور وہاںکے صدر بھی رہے ۔

۱۹۶۸ء میں میرے والد مولوی فاروق میر واعظ بنائے گئے جنھیں مئی ۱۹۹۰ء میں شہید کردیا گیا۔ ان کے قاتلوں کا آج تک پتا نہیں چل سکا۔ بھارتی گورنمنٹ کہتی ہے کہ کوئی دہشت گرد گروپ قتل کا ذمہ دار ہے۔ کچھ لوگ اس کا ذمہ دار بھارتی حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ بہرحال قاتلوں کا پتا نہیں چل سکا اور نہ ہی کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ ان کے بعد ۱۷؍سال کی عمر میں‘ مجھے تیسواں میر واعظ بنایا گیا۔ یہ ایک مذہبی ذمہ داری ہے اور آج تک اس حوالے سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔

جامع مسجد‘ سری نگر میںسب سے بڑا جمعہ کا اجتماع ہوتا ہے۔میں اسں میں خطبہ دیتا ہوں۔ البتہنماز نہیں پڑھاتا‘ اس کے لیے ہمارے ایک امام صاحب مقرر ہیں۔ رمضان المبارک میں اجتماعات ہوتے ہیں۔ جب حریت کانفرنس وجود میں آئی‘ تو اس کی تشکیل میں بھی ہمارا کلیدی کردار رہا۔اللہ کا فضل ہے کہ معاشرے میں ہمارے خاندان کی عزت ہے۔باقی معاشرے کے مسائل وہی ہیں جو دیگر معاشروں میں ملتے ہیں۔

میری تعلیم سری نگر میں ہوئی۔ میٹرک برن ہال اسکول سے کیا۔ اس کے بعد کشمیر کے حالات ایسے نہ تھے کہ بغرض اعلیٰ تعلیم باہر جاسکتا ۔ چناںچہ تعلیم نجی طور پر جاری رکھی۔ کشمیر یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ میرا مقالہ اسلامی صوفی ازم پر شاہ ہمدان کے حوالے سے تھا۔

شاہ ہمدان نے کشمیر میں جو آرٹ اور کرافٹ (صنعت و حرفت) متعارف کروائی‘ اسی کی وجہ سے یہاں کے سبھی لوگ برسر روزگار ہوئے ۔ بدقسمتی سے کشمیری ہنر آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں۔ اب ہم ایک ادارہ بنا رہے ہیں جو کشمیری نوجوانوں کو مختلف ہنروں کی طرف راغب کرے گا تاکہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت کی طرف واپس پلٹ سکیں۔ شاہ ہمدان کی تبلیغی مساعی میں کامیابی کی کلید لوگوں کو روزگار کی طرف لانا ہی تھا۔ آج کل مسلم دنیا کی تبلیغی جماعتیںاس طرح سے کام نہیں کررہیں۔انقلاب کے لیے صرف نعرے کام نہیں کرتے بلکہ لوگوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا بھی بہت اہم ہے۔ جب لوگوں کے پاس گھر میں کھانا نہیں ہو گا‘ تو وہ تحریک کیسے چلا سکیں گے۔

اس موقع پر دل چاہا کہ عمر فاروق کے خاندان کے بارے میں بھی معلومات لی جائیں اور میں نے پوچھ لیا کہ آپ کا خاندان اسی گھر میں مقیم ہے؟
جی ہاں‘ وہ کہنے لگے میں اِدھر ہی رہتا ہے۔میری وو بیٹیاں ہیں: مریم اور زینب ۔

میں نے پھر اگلا سوال کیا: نریندر مودی حکومت کی زیادہ توجہ وادی کے بجائے جموں اور لداخ پر مرکوز ہے۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟
وہ بولے:اس کی اصل وجہ ہندو ووٹر ہیں ۔ مودی چونکہ ہند وتوا کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آیا‘ اس لیے ہندو اکثریت کے علاقوں پر توجہ دے رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے معاملات آگے بڑھے‘ بھارتی سیکولر امیج کو بچانے کے لیے وہ دیگر علاقوں پر بھی توجہ دیں گے۔یہاں کے لوگ جموں و کشمیر کے حصے بخرے کرنے پر خوش نہیں ہوں گے۔ وہ نہیں چاہتے کہ لداخ کو علیحدہ کردیا جائے ٗ جموں کو علیحدہ اور وادی کو علیحدہ۔ کشمیر میں ہندو ٗ مسلمان ٗ بدھ اور سکھ اکٹھے بڑی رواداری سے رہ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے کچھ ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے بعض کشمیری پنڈتوں کو یہاں سے جانا پڑا۔ لیکن اس معاملے میں سیاست زیادہ ہوئی۔لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ بلکہ حکومت کچھ پنڈت خاندانوں کو واپس بھی لائی ہے۔

اب میں نے ایک چبھتا ہوا سوال کیا، آپ کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو بھارت پر اعتماد نہیں۔ تو کیا کشمیریوں کو دیگر علاقوں میں مقیم مسلمانوں پر بھی اعتماد نہیں ہے؟
وہ گویا ہوئے: اصل میں بھارت اور پاکستان کی تقسیم ہوئی‘ تو اس دوران ہندوئوں اور مسلمانوں کے اختلافات نے جنم لیا۔ لیکن کشمیر کو ہم بطور سیاسی مسئلہ لیتے ہیں۔ میرواعظ کی حیثیت سے میں نے کبھی جمعہ کے خطبہ میں یہ نہیں کہا کہ ہندو اور مسلمانوں کی لڑائی ہو جائے۔ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی طور پر ہی حل کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ۴۷ء کے بعد کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومتوں نے جو پالیسیاں بنائیں‘وہ ہمارے حق میں نہ تھیں۔ مثلاً ہمارا اپنا ایک آئین تھا‘ ہم خودمختار حکومت رکھتے تھے‘ ہمارا اپنا صدر ریاست اور وزیراعظم تھا… بھارتی حکمران طبقے نے آہستہ آہستہ سب کچھ ختم کیا اور کشمیر کو جبراً بھارت میں ضم کردیا۔

بھارت اور کشمیر کے درمیان جو نام نہاد الحاق بھی ہوا تو وہ صرف تین چار چیزوں پر تھا۔ جیسے دفاع ٗ خارجہ امور وغیرہ۔ لیکن انھوں نے آہستہ آہستہ یہ سب کچھ ختم کر دیا۔ اب لوگوں کے اندر یہ خوف ہے کہ آر ایس ایس کی حکومت بھارتی آئین میں دیے گئے کشمیر کے خصوصی اسٹیٹس کو ختم نہ کردے۔ اگرچہ ان کے لیے ایسا کرنا بہت مشکل ہے‘ لیکن وہ اس پر سیاست تو کررہے ہیں۔ اس لیے کشمیریوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ یوں معاملہ بگڑ بھی سکتا ہے ۔ اگر مودی سرکار کوئی مثبت قدم اُٹھائے تو لوگوں کے اندر اعتماد بحال کرنا ممکن ہے۔

اب ہماری ملاقات اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔چناں چہ آخری سوال کیا: پاکستانیوں کے لیے آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

میر واعظ غمگین لہجے میں بولے: اس وقت پاکستان کے حالات پر ہمیں بہت زیادہ تشویش ہے۔ پاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے‘ بہت افسوس ناک ہے۔ پاکستان اسلام کا ایک مضبوط قلعہ ہے ۔ اب جو عراق اور شام میں ہور ہا ہے‘ ایسے واقعات سے کئی منفی اثرات سامنے آرہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کے حالات اب پہلے سے بہتر ہیں۔ پاکستان میں حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں‘ مگر پاکستانی عوام ہمیشہ بے لوث اور خلوص دل سے ہماری حمایت کرتے رہے جو بڑی بات ہے۔ مسئلہ کشمیر کا کوئی بھی حل نکلے‘ پاکستانی بھائی ہمارے ساتھ ہیں۔ بہرحال بھارت اور پاکستان کے حالات اور تعلقات اچھے ہونے چاہئیں۔ ان کا مشترکہ ماضی اور تاریخ ہے‘ وہ ختم نہیں ہونی چاہیے۔ لوگوں کو آپس میں ملنا چاہیے۔ ویزہ کے معاملات آسان ہونے چاہئیں۔ تجارت کو مزید بڑھایا جائے۔دس پندرہ اشیا کے بجائے مزید چیزوں کو بھی تجارتی فہرست میں شامل کیاجائے تو اس سے بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔

وقت اس تیزی سے گزرا کہ اندازہ ہی نہیں ہوا ، قریباً دو گھنٹے گزر چکے ۔گفتگو اتنی دلچسپ اور معلوماتی تھی کہ بیگم اور بھابی بھی ہمہ تن گوش رہیں اور انھیں قطعاً بوریت کا احساس نہیں ہوا۔ آخر میں ہم نے پاکستانی لٹھے کا کپڑا بطور خاص انھیں تحفتاً پیش کیا اور تاکید کی وہ اسے سلوا کر ضرور پہنیں ‘ یہ انھیں پاکستانیوں کی ان سے محبت کی یاد دلاتا رہے گا۔

مقبوضہ کشمیر کے اہم شہر اور مقامات کی سیر مثلاً پہل گام، گلمبرگ، اننت ناگ، اسلام آباد اور سری نگر کے دورے، کاروباری و ادبی کشمیری شخصیات سے ملاقاتوں اور شادی کی ایک بڑی تقریب میں شرکت کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے دنوں یا مہینوں میں مسئلہ کشمیر بہت اہمیت اختیار کر جائے گا۔ نریندرا مودی کے حالیہ دنوں میں کشمیر کے کئی دورے، خارجہ سیکرٹری کی سطح پر مذاکرات کا تعطل، تندوتیز بیانات، اربوں روپے کی لاگت کے کئی منصوبوں کا آغاز اور افواج کے مابین سرحدی جھڑپیں اس بات کا ثبوت ہیں۔