function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

5بھارتی طیارے مار گرائے

سید عاصم محمود | 2013 ستمبر

1955ء کی بات ہے‘ ایم۔ایم عالم کی شادی ہونے والی تھی۔ لیکن خوشی کا لمحہ آنے سے قبل ہی دکھ بھرا وقت آ پہنچا۔ ان کے والد چل بسے۔ ایم۔ایم عالم کے دس بھائی بہن تھے۔ بڑا بھائی ہونے کے ناتے اب ایم۔ایم عالم ہی کو انہیں پالنے پوسنے کی ذمہ داری نبھانی تھی… وہ بتاتے ہیں:

’’میرے سامنے دو راستے تھے… اوّل شادی کرکے اپنے خاندان کا آغاز کرتا۔ یا پھر بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کرتا تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ میں نے دوسرا فیصلہ کیا اور یوں شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔‘‘

ایم۔ایم عالم نے پھر بخوبی بہن بھائیوں کی پرورش کی۔ سبھی نے اعلیٰ تعلیم پائی اور وہ اعلیٰ عہدوں پر پہنچے۔ یہ ایم۔ایم عالم کے بڑے پن کا ثبوت ہے‘ انھوں نے بھائیوں کی زندگی سنوارنے کےلیے عمر بھر شادی نہیں کی۔ دوسری طرف جنگ ستمبر 1965ء میں انھوں نے جس بے جگری اور جذبہ حب الوطنی سے ملک کا دفاع کیا‘ وہ بھی قومی تاریخ کا لازوال باب ہے۔ ایم۔ایم عالم کی داستان شجاعت آج بھی پاکستانیوں کی رگ و پے میں جوش و ولولہ دوڑا دیتی ہے۔

٭٭
محمد محمود عالم 6جولائی 1935ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق متوسط خاندان سے تھا جو قیام پاکستان کے بعد ڈھاکہ ہجرت کر گیا۔ ایم۔ایم عالم نے ڈھاکہ میں تعلیم پائی اور 1952ء میں پاک فضائیہ کا حصہ بنے۔ وہ بچپن ہی سے فوجی بننے کا خواب دیکھا کرتے تھے۔ چنانچہ شعور سنبھالا‘ تو ان کے خوابوں نے عملی جامہ پہن لیا۔

پست قامت ایم۔ایم عالم بڑے ہونہار اور تیزوطرار تھے۔ اس لیے انہوں نے اگلے مراحل تیزی سے طے کیے۔ پست قامتی کی وجہ سے دوستوں سے ’’پی نٹ‘‘ (ؓمونگ پھلی) کی عرفیت پائی۔ 1955ء میں جب امریکا سے ایف 86-سیبر لڑاکاطیارے ملنے لگے‘ تو انھیں اُڑانے کے لیے منتخب ہوابازوں میں ایم۔ایم عالم بھی شامل تھے۔سیبر اُس زمانے میں بہترین لڑاکا طیاروں میں شامل تھا۔
فروری 1964ء میں ایم۔ایم عالم سیبر طیاروں کے سکواڈرن نمبر 11کے لیڈر بن گئے۔ تب اُسے ونگ 33کا حصہ بنا کر سرگودھا تعینات کیا گیا۔ اس وقت ونگ 33کے کمانڈر محمد انور شمیم تھے جو بعدازاں پاک فضائیہ کے سربراہ بنائے گئے۔

6ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے حملہ کیا، تو ایم۔ایم عالم 1400گھنٹے سیبر طیارے اُڑا کر ان کی مشینری سے بخوبی آگاہ ہو چکے تھے۔ اس وقت بھارتی فضائیہ کو پاک فضائیہ پر طیاروں کی تعداد کے لحاظ سے واضح برتری حاصل تھی۔ پاک فضائیہ صرف 104لڑاکا (سیبر) اور 26بمبار طیارے رکھتی تھی۔ جبکہ بھارتیوں کے پاس 476لڑاکا اور 60بمبار طیارے موجود تھے۔
ایم۔ایم عالم سمیت تمام پاکستانی پائلٹ بخوبی جانتے تھے کہ محض اپنی دلیری اور تربیت کی بدولت ہی بہترین صلاحیتیں دینا ممکن ہے۔

جنگ کا آغاز ہوا تو سرگودھا ائیربیس پر 33سیبر موجود تھے۔ اِن میں 50کیلبر کی چھ گنیں نصب تھیں۔ جبکہ ہر طیارہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے دو میزائل لے جا سکتا تھا۔
جنگ کا آغاز
ایم۔ایم عالم اور ان کے ساتھی 2ستمبر ہی کو مقبوضہ کشمیر میںجاری جنگ میں کود پڑے تھے۔ انہیں حکم ملا کہ چھمب جوڑیاں پر جمع بھارتی فوج کو نشانہ بنایا جائے۔ چنانچہ ایم۔ایم عالم چھ ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہو گئے۔

ساتوں شاہین صبح ساڑھے پانچ بجے جوڑیاں پہنچے۔ شروع میں انہیں نیچے کچھ نظر نہ آیا۔ پھر ایم۔ایم عالم نے نوٹ کیا کہ بھارتی فوجی جنگل میں چھپے ہوئے ہیں۔ ساتوں طیاروں نے ان پر گنوں اور راکٹوں کی بارش کر دی۔ اس حملے میں بھارتیوں کے پانچ ٹینک اور ایک بکتربند گاڑی تباہ ہو گئی۔
دو روز بعد ایم۔ایم عالم جاسوسی کی غرض سے جموں ائیربیس پہنچے۔ وہ معاینہ کر رہے تھے کہ اچانک بھارتی طیارہ شکن توپیں آگ اُگلنے لگیںاور وہ فائرنگ کی زد میں آ گئے۔ سیبر کی کاک پٹ کنوپی تباہ ہو گئی تاہم ایم۔ایم عالم نے طیارے کا کنٹرول سنبھالے رکھا اور بحفاظت اُسے سرگودھا اُتارنے میں کامیاب ہو گئے۔
ہنٹروں سے پہلا مقابلہ
6ستمبر کی صبح ایم۔ایم عالم نے دو سیبروں کی قیادت کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے آدم پور اڈے (جالندھر) پر دھاوا بولا۔ پاکستانی شاہین جیسے ہی آدم پور کے نزدیک پہنچے‘ چار بھارتی ہاکسر ہنٹر ان کے سامنے آ گئے۔
بھارتیوں نے برطانیہ سے 140ہاکسر ہنٹر لڑاکا طیارے خریدے تھے۔ یہ تب بھارتی فضائیہ کا سب سے بہترین لڑاکا طیارہ تھا۔ چونکہ برطانویوں نے اسے بعد میں بنانا شروع کیاتھا، لہٰذا ہنٹر کو تکنیکی لحاظ سے سیبر پر برتری حاصل تھی۔

پاکستانی اور بھارتی صرف ساڑھے پانچ سو فٹ کی بلندی پر ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے۔ آگے کا ماجرا ایم۔ایم عالم کی زبانی سنیے: ’’ہم ساتوں طیارے تیل کی فاضل ٹینکیاں گرا کر مقابلے کے لیے تیار ہو گئے۔ میں نے چوتھے ہنٹر پر نظریں جمائیں اور اس کے پیچھے پڑ گیا۔ جیسے ہی وہ میرے نشانے پر آیا‘ میں نے فائرنگ کر دی۔ وہ لمحوں میں آگ کا گولہ بن کر نیچے چلا گیا۔ یوں عددی لحاظ سے ہم دشمن کے برابر ہو گئے۔ لیکن اتنی کم بلندی پر پھر میرا کبھی دشمن سے ٹاکرا نہیں ہوا۔‘‘
٭٭
تیل کی فاضل ٹینکیاں گرانے کے باعث سیبروں میں کم ایندھن بچا تھا۔ اس لیے ایم۔ایم عالم نے مہم ختم کر کے واپس جانے کا حکم دیا۔ واپس جاتے ہوئے دو اور ہنٹر ایم۔ایم عالم پر حملہ آور ہوئے۔ انھوں نے ایک کو زخمی کر دیا‘ جبکہ دوسرا دم دبا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ یوں ایم۔ایم عالم بحفاظت سرگودھا پہنچ گئے۔
انہیں اپنے سے زیادہ دونوں ساتھیوں کی فکر تھی۔ ایم۔ایم عالم کے ساتھ سکوارڈرن لیڈر علائو الدین ’’بچ‘‘ احمد اور فلائٹ لیفٹنٹ سید اختر حاتمی آدم پور گئے تھے۔ یہ دونوں بھی اپنے طیاروں سمیت بحفاظت سرگودھا پہنچنے میں کامیاب رہے۔ (علائوالدین بچ کا تعلق بھی مشرقی پاکستان سے تھا۔ آپ 13ستمبر کو گورداسپور ریلوے اسٹیشن پر بم باری کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
بعدازاں پتا چلا کہ ایم۔ایم عالم نے جو ہنٹر مار گرایا اس میں بھارتی فضائیہ کا سکوارڈرن لیڈر‘ اجیت کمار سوار تھا۔ وہ اس حملے میں مارا گیا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دوسرے مضروب ہنٹر پر کیا بیتی۔
اگلے دن صبح سویرے ایم۔ایم عالم اپنے ساتھیوں کے ساتھ پوری تیاری میں کاک پٹ میں بیٹھے دشمن کا انتظار کر رہے تھے۔ اچانک فرانسیسی ساختہ ریسولت میسٹئر IV۔اے سات بھارتی طیارے فضا میں نمودار ہوئے۔ یہ طیارے درختوں سے کچھ ہی اوپر اڑتے ہوئے آئے تھے۔ اسی لیے سرگودھا میں نصب ریڈار انہیں تلاش نہیں کر سکے۔

انہیں دیکھ کر پاکستانی ہواباز ہکابکا رہ گئے۔ خوش قسمتی سے بھارتی ہوابازوں کے نشانے چُوک گئے۔ انھوں نے جو راکٹ گرائے وہ رن وے سے دور کچی زمین پر گرے۔ ان کی برسائی ہوئی گولیاں بھی رائیگاں گئیںاور وہ بوکھلاہٹ میں پھر دم دبا کر بھاگ نکلے۔ جیسے ہی وہ فرار ہوئے ایم۔ایم عالم اپنے ساتھی فلائنگ آفیسر محمد مسعود اختر کے ساتھ ہوا میں بلند ہو گئے۔ پانچ منٹ بعد ہی انہیں کنٹرول ٹاور سے اطلاع ملی کہ مزید حملہ آور آ رہے ہیں۔ دونوں ابھی سرگودھا سے دس میل دور گئے تھے کہ انہیں محوپرواز چار ہنٹر نظر آئے۔
یہ دیکھتے ہی دونوں نے تیل کی فاضل ٹینکیاں گرائیں اور ہنٹروں کا پیچھا کرنے لگے۔ اسی وقت ایم۔ایم عالم کو عقب میں مزید دو ہنٹر نظر آئے۔ جنھوں نے سرگودھا جانے کا فیصلہ ترک کیا اور پیچھے سے ایم۔ایم عالم پر فائرنگ کرنے لگے۔
ایم۔ایم عالم نے فوراً اپنا طیارہ اوپر اٹھا دیا۔ اس وقت تینوں طیاروں کی رفتار تقریباً یکساں تھی۔ وہ 500میل فی گھنٹا کی رفتار سے اُڑ رہے تھے۔ لیکن ہنٹر سیبر کی نسبت 1350کلو وزنی طیارہ تھا۔ اسی لیے بھارتی ہنٹروں کی رفتار نسبتاً سست ہو گئی۔ اتنی دیر میں برق رفتار ایم۔ایم عالم ان کے عقب میں جا پہنچے۔
بھارتی پائلٹوں نے انہیں اپنے پیچھے دیکھا‘ تو ان کی سٹی گم ہو گئی۔ فوراً بھارتی سرحد کی سمت دوڑ لگا دی۔ ہنٹر کی رفتار سیبر سے 50میل فی گھنٹا زیادہ تھی۔ لیکن ایم۔ایم عالم پوری رفتار سے اپنا طیارہ اُڑاتے ہوئے جلد اُن کے قریب ہو گئے۔ایم ۔ایم عالم نے پچھلے طیارے پر سائڈوائنڈر میزائل فائر کیا مگر نشانہ خطا ہو گیا۔ تب تینوں طیارے زمین سے صرف سو فٹ اوپر اُڑ رہے تھے۔ اس زمانے میں سرگودھا کے گرد و نواح میں بجلی کے کھمبے 150فٹ تک بلند تھے۔ ان سے بچنے کی خاطر بھارتی اوپر اُٹھے‘ تو ایم۔ایم عالم نے دوسرا میزائل داغ دیا۔ ساتھ ہی اپنی توپوں کے دہانے

بھی کھول دیے۔اس بار فائر نشانے پر لگا اور پچھلا بھارتی طیارہ شعلوں میں جلتا نیچے گرنے لگا۔ اس پر ہلواڑہ میں تعینات 27سکوارڈن کا کمانڈر‘ سکوارڈن لیڈر‘ اونکار ناتھ ککڑ سوار تھا۔ وہ اپنے طیارے کی تباہی سے پیشتر ہی بذریعہ پیراشوٹ کود گیا۔ اُسے دیہاتیوں نے پکڑ کر پاک فوج کے حوالے کر دیا۔

تب تک دوسرا ہنٹر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس وقت اختر بھی اپنے باس کے پاس چلے آئے تھے۔ لہٰذا دونوں ہنٹروں کی تلاش میں دریائے چناب تک چلے گئے۔ وہیں انہیں پانچوں ہنٹر نظر آگئے۔
وہ پانچوں بھی زمین سے سو تا دو سو فٹ اوپر اُڑ رہے تھے۔ رفتار 480ناٹ تھی۔ جب ایم۔ایم عالم ان کے قریب پہنچے‘ تو بھارتیوں نے بھی پاکستانی شاہین کو دیکھ لیا۔ پھر تو ان میں کھلبلی مچ گئی۔ بھارتی ہوابازوں کی بدقسمتی کہ انہوں نے گھبراہٹ میں آگے پیچھے ہی دوڑ لگا دی۔ یوں ایک ایک کر کے پاکستانی پائلٹ کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
ایم۔ایم عالم نے ایک منٹ سے بھی کم عرصے میں چار ہنٹر مار گرائے اور جنگی ہوابازی کی تاریخ میں منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ یہ درست ہے کہ بھارتی ہنٹروں کی فارمیشن (اُڑنے کی ترتیب) نے کام آسان بنا دیا‘ مگر حقیقتاً یہ کارنامہ ایم۔ایم عالم کی خاص مشق‘ جذبۂ جہاد اور پھرتی کے باعث وجود میںآیا۔
٭٭
دراصل ایم۔ایم عالم نے مسلسل مشق اور محنت کے ذریعے بہت کم وقت… صرف آدھ سیکنڈ میں چھوٹے برسٹ مارنے سیکھ لیے تھے۔ سیبر کی چھ گنوں میں 1800گولیاں آتی تھیں۔ یہ بھی ٹریگر دبانے میں صرف 15 سیکنڈ میں فائر ہو جاتیں۔ بظاہر یہ معمولی وقت ہے‘ مگر فضائی مقابلے میں طویل زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایم۔ایم عالم نے چھوٹے برسٹ مارنا اسی لیے سیکھا تاکہ گولیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ واضح رہے‘ سیبر کی ہر چوتھی گولی لوہا پھاڑنے والی (Armor-Piercing)ہوتی ہے۔ بقیہ گولیاں دھماکا خیز مواد رکھتی ہے۔

ایم۔ایم عالم نے دانستہ اپنے چاروں شکاروں کی تیل کی ٹینکیوں کو نشانہ بنایا۔ وجہ یہ ہے کہ ٹینکی پھٹتے ہی زبردست آگ ہنٹر کواپنی لپیٹ میںلے لیتی۔ پہلے ایک یا دو گولیاں ٹینکی کی فولادی چادریں پھاڑتیں‘ پھر دھماکا خیز گولیاں تیل میں آگ لگا دیتیں۔
بھارتیوں کا دعویٰ ہے کہ اس لڑائی میں ایم۔ایم عالم نے صرف دو ہنٹر مار گرائے۔ بقیہ تین واپس پہنچنے میں کامیاب رہے۔ مگر یہ دراصل ایم۔ایم عالم کے کارنامے کو گہنانے کی کوشش تھی تاکہ وہ عالمی نوعیت کا ریکارڈ نہ بنا سکیں۔ کوئی چاند کو لاکھ چھپانے کی سعی کرے‘ کیا وہ چھپ سکتا ہے؟
ایم۔ایم عالم نے چار بھارتی پائلٹوں… سکواڈرن لیڈر‘ اے بی دیوایا‘ سکواڈرن لیڈر سریش بھگوت‘ فلائٹ لیفٹیننٹ بی گوہا اور فلائنگ آفیسر جگدیو سنگھ کے ہنٹروں کو نشانہ بنایا۔ بھارتی حکومت نے ’’نہ معلوم‘‘ کارنامہ دکھانے پر اے بی دیوایا کو دوسرا بڑا فوجی اعزاز مہاویر چکر عطا کیا۔
دشمن سے ایم۔ایم عالم کا آخری ٹاکرا 16ستمبر کو ہوا۔ وہ فلائنگ آفیسر‘ محمد شوکت کے ہمراہ ہلواڑہ بیس کی ریکی کرنے گئے۔ بھارتیوں کو ان کی آمد کا پتا چل گیا۔ جلد ہی دو ہنٹر ان کے سروں پر آپہنچے۔
محمد شوکت ناتجربے کار پائلٹ تھے۔ اب تک انہوں نے صرف 60گھنٹے سیبر اڑایا تھا۔ مگر ایم۔ایم عالم نے جذبہ حب الوطنی میں دشمن سے جا بھڑنے کا فیصلہ کیا اور آناً فاناً ایک ہنٹر مار گرایا۔ اس دوران دوسرے ہنٹر نے محمد شوکت کے سیبر کو جا لیا۔ وہ ناتجربے کاری کی وجہ سے مقابلہ نہیں کر سکے اور ان کا طیارہ تباہ ہو گیا۔

تاہم محمد شوکت بروقت کاک پٹ سے نکلنے میں کامیاب رہے۔ لیکن ترن تارن کے دیہاتی انہیں چھاتہ بردار فوجی سمجھے اور ان کو گولیاں مار دیں۔ خوش قسمتی سے بروقت طبی امداد ملنے کے باعث شوکت کی جان بچ گئی۔ 1971ء کی جنگ میں وہ بنگلہ دیش چلے گئے۔ وہ بیمان (بنگلہ دیشی ائیرلائن) اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ بھی رہے۔
ایم۔ایم عالم نے دوسرے ہنٹر پر بھی میزائل برسائے اور فائر کیے لیکن وہ ہر بار بال بال بچ گیا۔ پاکستانی شاہین کی گرفت سے بچ آنے کو بھارتی حکومت نے اُسے ’’زبردست کارنامہ‘‘ قرار دیا۔ چنانچہ بھارتی ہواباز‘ پرکاش سنگالی کوبھی ویرچکر عطا ہوا۔

23ستمبر کو جنگ ستمبر کا خاتمہ ہو گیا۔ ایم۔ایم عالم کو شاندار کارکردگی دکھانے پر وطن عزیز کا تیسرا بڑا فوجی اعزاز‘ ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ نیز انہوں نے میڈل بار بھی پایا۔
جنگ ستمبر کے بعد ایم۔ایم عالم مذہب میں دلچسپی لینے لگے۔ ان کی خواہش تھی کہ فضائیہ کے افسر شراب پینا چھوڑ دیں جیسا کہ تب رواج تھا۔ اس پر ان کا اپنے افسروں سے ٹاکرا ہو گیا۔ افسوس کہ ایک مسلمان ملک میں ایم۔ایم عالم کو اسلامی تعلیمات متعارف کرانے کے لیے بڑی تگ و دو کرنا پڑی۔ انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے بعض افسران نے بڑی گھٹیا حرکات کیں حتیٰ کہ قرار دیا گیا کہ ایم۔ایم عالم لکھ اور پڑھ نہیں سکتے۔1971ء کی جنگ کے بعد انھیں بنگلہ دیش فضائیہ کی سربراہی کی پیش کش بھی ہوئی، مگر انھوں نے پاکستان رہنے کا فیصلہ کیا۔

جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا، تو شروع میں ایم۔ایم عالم نے ان کی حمایت کی۔ لیکن جلد وہ ان سے بھی برگشتہ ہو گئے۔ ایم۔ایم عالم 12مئی 1982ء کو ائیرکموڈور کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔انھوں نے روس کے خلاف افغان جہاد میں بھرپور حصہ لیا۔ اس کے بعد درویشی کی زندگی گزارنے لگے۔ کتب پڑھنا اور ہم خیالوں سے گفتگو کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ آخر ایک بھرپور زندگی گزار کر وہ 18مارچ 2013ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

اکثر ہر ملک میں ہیروز سے دیومالائی خصوصیات وابستہ کر دی جاتی ہیں۔ گو مرحوم کے سابق حریف ایک مدت تک اِن کے شکاروں کی تعداد سے اتفاق نہیں کرتے رہے،تاہم وہ یہ ضرور مانتے ہیں کہ ایم ایم۔ایم عالم بڑے ہونہار‘ دلیر اور باصلاحیت پائلٹ تھے۔ جنگ ستمبر میں انہوں نے سات بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے۔ یہ کارنامہ انہیں جیٹ دور کا ایک عظیم بطل جلیل (Ace)بنا ڈالتا ہے۔اُس وقت کی فضائیہ کے سربراہ ائیر مارشل نور خان نے ایک بار اپنے انٹرویومیں کہا تھا کہ انھیں ایم۔ ایم عالم کے کارنامے کی خبر ملی، تو انھوں نے متعلقہ تمام ایجنسیوں سے تحقیقات کرانے سے پہلے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا۔ تحقیقات اور ثبوت سامنے آئے، توپھر انھوں نے ایم۔ ایم عالم کو بلایا۔ ان کی تحسین کی۔ اصولی، پیشہ ورانہ مہارت کے حامل سخت مزاج سربراہ سے شاباش لینا کبھی آسان نہ تھا۔