function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

گرفتاری

سہراب اسلم | اردو ادب

میرا مسئلہ گرفتار ہونا تھا… محبوب کی زلف میں نہیں، پولیس کے ہاتھوں… ارے ہاں میں یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ میں کیوں گرفتار ہونا چاہتا تھا؟

میں پنجاب کے ایک دیہہ کا رہنے والا ہوں۔ فیض پور گائوں کا نام ہے۔ یہ گائوں جڑانوالہ روڈ پر لاہور سے تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کچھ برس پہلے میرا ایک چچا قتل ہو گیا۔ مجرم گرفتار ہوئے مگر عدالت نے انھیں بری کر دیا۔ ہمارے برادری والے عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہ ہوئے، وہ بدلہ لینا چاہتے تھے۔ میںاسے اچھا نہیں سمجھتا تھا مگر اپنے بڑے بوڑھوں کی مرضی کے خلاف رائے دینے کی جرأت بھی نہ رکھتا۔  چناںچہ جس روز بدلہ لینے کا منصوبہ بنا، تو سوچا، میں قتل میں شامل نہیں ہو رہا لیکن دشمن نے میرا نام بھی پرچے میں لکھ دینا ہے۔ انھیں کیا معلوم کہ میں اس منصوبے میں شامل نہیں۔ لہٰذا فیصلہ کیا، وقوع سے پہلے خود کو کسی نہ کسی مقدمے میں گرفتار کرا دوں تاکہ قتل جیسے خوفناک مقدمے سے بچ سکوں۔

اس مسئلے نے مجھے شراب پینے پر بھی مجبور کیا۔ ورنہ آپ یقین مانیں، شریف سا آدمی ہوں جو اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ فالتو وقت جاسوسی ناول پڑھ کر گزرتا ہے۔ بارہویں جماعت کا امتحان دینے سے پہلے میں نے تعلیم نامکمل چھوڑی اور گائوں میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان کھول لی۔  گھر سے رخصت ہوتے وقت میں نے اپنا حلیہ بڑی ہوشیاری سے تبدیل کیا۔ پھٹے پرانے کپڑے، بوسیدہ سی جوتی، بڑھی شیو، الجھے ہوئے بال، دیسی شراب کا آدھا شلوار کے نیفے میں، ایک ادھ جلا تھرڈ کلاس سا سگریٹ بائیں کان کے اوپر اور جیب خالی۔ اسکیم کے مطابق لاہور کے شاہی محلے کا رخ کیا۔ دوپہر سے پہلے رام روڈ کی ایک تاریک سی گلی میں شراب کی نصف بوتل اپنے حلق میں انڈیلی پھر جان بوجھ کر کچھ قطرے کپڑوں پر گرا لیے۔ پھر جھومتا جھامتا اس گلی سے نکل کر شاہی محلے کے چوک تک آ گیا جہاں تانگہ اسٹینڈ واقع ہے۔

میں کچھ دیر چوک میں کھڑا ادھر ادھر گھورتا رہا مگر رونق کے باوجود کسی نے میری موجودگی کا نوٹس نہ لیا۔ لوگ مجھے گداگر سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے حالانکہ میں نے کسی سے بھیک نہ مانگی تھی۔ جلد مجھے احساس ہوا کہ اس طرح مسئلہ حل نہ ہو گا۔ لہٰذا میں ایک مدہوش شرابی کی طرح ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔ جان بوجھ کر چال میں لڑکھڑاہٹ پیدا کر لی۔ اور پھر وہی ہوا جس کا مجھے انتظار تھا۔ پولیس کا ایک باوردی حوالدار ٹبی تھانے کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ میں نے موقع غنیمت جان کر بڑھک لگائی ’’آج پتا چل جائے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ وردیاں پہن کر گیدڑ شیر نہیںبن سکتے۔

بڑھک مارنے کے بعد میں نے اپنا ہتھیار برآمد کرنے کی خاطر شلوار کے نیفے میں ہاتھ ڈالا، بوتل نکال کر ہوا میں لہرائی اور چند بقایا گھونٹ حلق میں اور باقی کپڑوں پر انڈیل کر خالی بوتل قریب آتے ہوئے حوالدار کی طرف اچھال دی۔ وہ چند ثانیے میں پکی سڑک سے ٹکرا کر چکنا چور ہو گئی۔ تیر ٹھکانے پر لگا۔ حوالدار نے آتے ہی مجھے گردن سے دبوچ لیا اور ایک زور دار تھپڑ میرے منہ پر رسید کرتے ہوئے بولا ’’اوئے کمینے تیری یہ جرأت… پولیس کے سامنے شراب پیتا ہے… آگے لگ۔‘‘

کچھ راہ گیر موقع واردات پر جمع ہو گئے۔ وہ حوالدار سے پوچھنے لگے کہ کیا ہوا مگر اس نے انھیں یہ کہہ کر پرے دھکیل دیا ’’یہ اشتہاری ملزم ہے۔ آج قابو میں آ گیا۔ لہٰذا اپنی راہ لو۔ شریف شہریوں کا کام قانون کے معاملے میں مداخلت نہیں۔‘‘ لوگ آہستہ آہستہ ہٹ گئے۔ حوالدار نے میرے دونوں بازو پیچھے کی طرف مروڑ کر مجھے قابو کیا اور پھر تھانے لے جانے کے بجائے اسی گلی کی طرف لے گیا جہاں میں نے شراب پی تھی۔  میں نے حیرت سے سوچا، یہ مجھے کہاں لے جا رہا ہے؟ لیکن جلد میری حیرانی ختم ہو گئی کیونکہ حوالدار یہ یقین ہو جانے کے بعد کہ گلی میں ہمارے سوا کوئی نہیں، مجھ سے بولا ’’اوئے کمینے انسان! باقی تفتیش تو میں بعد میں کروں گا، پہلے جامہ تلاشی دے۔‘‘ میں نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ حوالدار نے جامہ تلاشی کی غرض سے میرے جسم کے تمام حصوںکا باری باری پوسٹ مارٹم کیا۔

جب پائوں تک تلاشی لے چکا، تو میری جیب میں ہاتھ ڈالا جو جلد اسی حالت میں واپس نکل آیا جس میں داخل ہوا تھا۔ اب یہ خالی ہاتھ غصے سے مجھ پر برسنے لگا… میں مار کھاتا رہا حتیٰ کہ حوالدار تھک گیا اور قدر

ے توقف کے بعد بولا ’’اوئے کمینے! شراب پیتا ہے اور جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں؟‘‘ میرے پیٹ پر ٹھڈا رسید کر کے مزید کہا۔ ’’کمینے لوگ… آ جاتے ہیں تماش بین بن کر… پولیس کا وقت ضائع کرنے کے لیے…‘‘  میںنے آخری پتا پھینکا ’’سر جی میں گناہ گار ہوں، مجھے اپنے کیے کی سزا ملنی چاہیے۔‘‘

حوالدار جاتے جاتے رک گیا اور پلٹ کر بولا ’’اوئے گناہ گار کے بچے! میڈیکل کرانے پر جو وقت اور پیسا خرچ ہو گا‘ وہ تیرا باپ دے گا۔ دفع ہو جا۔‘‘ یہ کہہ کر حوالدار چلتا بنا اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔  میں پھر مایوسی کی حالت میں پیدل ہی شہر کی طرف چل پڑا۔ اب میری منزل میکلوڈ روڈ کا رتن سینما تھی۔ وہاں ایک ایسی فلم لگی ہوئی تھی جو خواتین میں بہت مقبول جا رہی تھی۔ میکلوڈ روڈ پہنچا، تو شراب نے اپنا کام دکھانا شروع کر دیا۔ قدم ڈولنے لگے۔ میں لڑکھڑاتا رتن سینما کی طرف بڑھتا آئندہ منصوبے پر غور کرتا رہا۔ رتن سینما آ گیا۔ حسب توقع عورتوں کا جمگھٹا لگا تھا۔ کھڑکیوں کے سامنے قطاریں لگی تھیں۔ خواتین بے تابی سے ٹکٹیں خرید رہی تھی۔ میں اس قطار کی طرف چل پڑا جو اسٹال والی کھڑکی کے سامنے تھی۔ وہاں پہنچ کر نہایت بے ہودہ طریقے سے انگڑائی لی، مونچھوں کو مروڑا اور آگے بڑھ ایک عورت کے پاس جا کر کہا ’’قطار میں کیوں لگی ہو؟ آئو میرے ساتھ، میں تمھیں فلم دکھاتا ہوں۔‘‘

یہ الفاظ ادا کرتے ہی میں نے احتیاطاً اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ لیا تاکہ تھپڑ کا درد کم رہے۔ مگر کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عورت قطار سے نکل کر باہر آ گئی اور بولی ’’فلم دیکھنی کیا ضروری ہے۔ جدھر چلنا ہو چلو۔‘‘
’’لاحول ولاقوۃ‘‘ میں یہ پڑھ کر سینما سے بھاگ کھڑا ہوا۔  میری اگلی منزل لاہور کا ریلوے اسٹیشن تھا۔ وہاں پہنچ کر سوچا، واردات کے لیے کراچی کی کھڑکی مناسب رہے گی کیونکہ وہاں آس پاس پولیس والے ہوتے ہیں۔ نئے منصوبے کے مطابق میں قطار میں لگ گیا۔ اعلیٰ درجہ کے مسافروں کا انتخاب کیا تاکہ پکڑے جانے کی صورت میں رہائی کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔ اس بار میں نے شرابی والی اداکاری ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔

کچھ دیر قطار میں لگے رہنے کے بعد ایک شریف آدمی کی جیب میں انگلیاں ڈال دیں۔ اس نے مجھے وہیں دبوچ لیا۔ قطار سے باہر کھڑا ایک اور آدمی بھی مجھے پکڑنے کے عمل میں شامل ہو گیا۔ دیگر مسافروں کو ریل پکڑنے کی جلدی تھی، لہٰذا وہ اس کار فضول میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ دونوں مجھے گردن سے پکڑ کر باہر لائے اور پھر برآمدے کی طرف لے گئے۔ میں خوش تھا کہ کام بن گیا۔ پولیس بھی کچھ زیادہ فاصلے پر نہیں تھی۔ پکڑنے والوں نے میری جامہ تلاشی لی۔ جب کچھ برآمد نہ ہوا، تو ان میں سے ایک نے کہا، ’’اوئے کنگلے تیرا استاد کون ہے؟‘‘  ’’کوئی نہیں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

میرے جواب پر دوسرے نے برجستہ کہا ’’اوئے بے استادے‘ کسی کی جیب میں سلائیاں ڈالنے سے پہلے کام تو سیکھ لیا ہوتا۔‘‘  اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، پہلا بولا ’’استاد ایک بات ہے، لڑکے کے ہاتھ میں صفائی بہت ہے۔ کام سیکھ جائے، تو مشین اچھی بنے گی۔‘‘  اب استاد کی باری تھی۔ اس نے میری مخروطی انگلیاں پیار سے تھام لیں۔ پھر انھیں سہلاتے ہوئے بولا ’’یار کہتا تو تُو ٹھیک ہی ہے۔ لڑکے کی انگلیاں بتا رہی ہیں کام سیکھ لے تو بڑا کاریگر پاکٹ مار بنے گا۔‘‘

وہ میری انگلیوں کے متعلق ماہرانہ تبصرے میں مصروف تھے کہ ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس کانسٹیبل ٹہلتا ٹہلتا ادھر آ گیا۔ استاد سے مخاطب ہو کر بولا ’’استاد جی اکیلے اکیلے میلا نہ لوٹ لینا… ہمارا بھی خیال کرنا۔‘‘
استاد نے میرا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا ’’سنتری بادشاہ! ہمیں تو اس سے کچھ نہیں ملا، تم کوشش کر دیکھو، یہ تو کوئی کنگلا ہے جویہ بھی نہیں جانتا کہ کس جیب میں نوٹ ہیں اور کس جیب میں صرف کاریگری…!‘‘
اب کانسٹیبل کی باری تھی۔ اس نے میری جامہ تلاشی لی۔ جب کچھ نہ ملا، تو بولا ’’اوئے کنگلے اگر ہاتھ ڈالنا تھا تو کسی سیٹھ کی جیب میں ڈالتا۔ تو چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کرتا ہے۔ دفع ہو جا… آئندہ میرے علاقے میں نظر آیا، تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔‘‘

اس بار میری گردن پر زور دار دو ہتڑ رسید کیا گیا۔ میں ناکام و نامراد ریلوے اسٹیشن کی حدود سے باہر چلا آیا۔ کہتے ہیں ’’ہمت مرداں مدد خدا!‘‘ باہر آتے یہ محاورہ جانے کیوں میرے دماغ میں آگیا۔ خیال آیا کہ بدمعاشوں کو تو آزما لیا کیوں نہ کسی مرد خدا کو آزمایا جائے۔ ہو سکتا ہے، کسی نیک بندے کے ہاتھوں میری مشکل آسان ہو جائے۔چناں چہ میری منزل مال روڈ پر واقع مسجد شہدا ٹھہری۔ پروگرام یہ بنا کہ مسجد سے کسی نمازی کی جوتی اٹھا کر بھاگ جائوں۔ کوئی نہ کوئی میرا پیچھا کر کے حوالہ پولیس کر دے گا۔

میں مسجد پہنچا، تونماز کا وقت نہیں تھا۔ ایک مولوی صاحب کونے میں بیٹھے اونگھ رہے تھے۔ جب کبھی ہوش میں آتے تو تسبیح کا ایک آدھ منکا گرا دیتے۔ میں نے پہلے مولوی صاحب کا جائزہ لیا۔ بھاری بھر کم تن و توش کے چالیس سالہ آدمی تھے۔ موٹا سا عصا بھی قریب پڑا تھا۔ میں نے حساب لگایا، اگر ان کا جوتا اٹھایا جائے تو یہ ضرور پیچھا کریں گے اور ذرا سی کوشش سے مجھے پکڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔  میں نے پھر آس پاس دیکھا ان کی جوتی جلد ہی نظر آ گئی۔ سیاہ رنگ مکیشن سامنے پڑی تھی۔ میں نے آئو دیکھا نہ تائو بلا تامل مولوی صاحب کی طرف چل پڑا۔ وہ بدستور آنکھیں موندے تسبیح میں مصروف تھے۔ قریب جا کر سوچا کہ مولوی صاحب کو عالم بالا سے عالم زیریں لایا جائے تاکہ انھیں اس واردات کا وقوف حاصل ہو سکے جو میں کرنے والا ہوں۔ میں زور سے کھانسا اور پھر باآواز بلند خالص عربی لہجے میں ’’السلام علیکم‘‘ کہا۔ مولوی صاحب نے ایک آنکھ کھول کر میری طرف دیکھا اور پھر آنکھ موندتے ہوئے جواب دیا ’’وعلیکم السلام!‘‘۔ جواب مجھ سے بھی زیادہ گاڑھی عربی میں تھا۔

اب مزید تاخیر بے سود تھی۔ میں تیز تیز ڈگ بھرتا آگے بڑھا اور مولوی صاحب کی جوتی اٹھا کر بھاگ اٹھا۔ میری توقع کے برعکس مولوی صاحب نے نہ اپنا عصا اٹھایا اور نہ ہی اپنی جگہ سے ہلے جلے۔ پہلے مجھے بھاگتے دیکھتے رہے پھر ملامت کے اندازمیں بولے: ’’اے لعین… ایک غریب مولوی کی پرانی جوتی سے تیرا کیا بنے گا… اچھی جوتی درکار تھی تو جمعہ پڑھ لیا ہوتا…‘‘  بھاگتے بھاگتے میں نے ایک نظر مولوی صاحب کی جوتی پر ڈالی تو مجھے بات درست معلوم ہوئی۔ جوتی کی چمک دمک تو بہت تھی لیکن تلے پھٹے ہوئے تھے۔ مولوی صاحب کی جوتی مسجد کے نزدیک پھینک میں مال روڈ پر نکل آیا۔ مجھے معلوم تھا کہ مولوی صاحب کو جوتی حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ویسے بھی دیکھا گیا ہے کہ موٹی توند کسی کی بھی ہو، آتے مال کو تھام لیتی ہے، جاتے مال کو روک نہیں سکتی۔

مسجد شہدا سے مال روڈ پہنچا، تو ریگل چوک میں عجیب منظر پایا۔ پولیس کے ہنگامی دستوں نے کیل کانٹے سے لیس ہو کر مال روڈ روک رکھی تھی۔ جب کہ ایک بڑا جلوس اسمبلی ہال کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حکومت کے خلاف پرُجوش نعرے لگ رہے تھے۔ شرکا کے تیور بتا رہے تھے کہ اگر پولیس نے مال روڈ خالی نہ کیا تو بہت جلد سپاہیوں اور عوام میں تصادم ہو گا۔ جس فٹ پاتھ پر میں کھڑا تھا، وہاں سے کچھ فاصلے پر ڈی ایس پی اور مجسٹریٹ اپنی جیپوں میں وائرلیس سیٹ لیے بیٹھے تھے۔ کچھ پیچھے آنسو گیس برسانے والا پولیس کا دستہ احکامات کا انتظار کر رہا تھا۔

یکایک مجھے محسوس ہوا جیسے یہ سارا بندوبست میرا مسئلہ حل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ خود غرضی کے منصوبے سوچتے زیادہ دیر نہیں لگتی۔ میں یکایک فٹ پاتھ سے ہٹا اور پولیس والوں کے عقب سے ہوتا مال روڈ کے اس حصے پر پہنچ گیا جہاں جلوس کے شرکا ہاتھوں میں جھنڈے اور بینر اٹھائے حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ میںدیوانوں کی طرح آگے بڑھا اور پھر قیادت کرنے والے ٹرک کے پاس پہنچ گیا۔ میںنے آئو دیکھا نہ تائو گریبان تار تار کیا، پھٹی قمیص فضا میں اچھالی اور پھرپوری قوت سے نعرہ لگایا ’’گولی لاٹھی کی سرکار نہیں چلے گی۔ اب ہماری تمھاری ہے کھلی جنگ۔‘‘ شاید میرا نعرہ جلوس کے قائد کو اچھا لگا۔ اس نے اپنے کارکنوں کو اشارہ کیا کہ مجھے ٹرک پر سوار کرایا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے میں جلوس کا قائد بن گیا۔ اصل قائد نے نجانے کیوں اپنے گلے میں پڑے باسی گلاب کے تمام ہار اتار میرے گلے میں ڈالے اور مائیک بھی ہاتھ میں تھما دیا۔

’’شاباش جوان، جلوس کو ہر قیمت پر اسمبلی ہال تک پہنچانا ہے۔‘‘  یہ کہہ کر وہ نجانے کہاں چلا گیا۔ کچھ دیر بعد تھانہ سول لائنز کی بارک میں بیٹھا وہ زخم سہلا رہا تھا جو لاٹھی چارج میں اپنے ناتواں جسم پر وصول کیے تھے۔ البتہ یہ سوچ کر اُسے لطف آیا کہ ہمارا ملک بھی کیسا ہے‘ وہاں لیڈر بننے کے لیے صرف اپنا گریبان چاک کر دینا کافی ہے…! تھانہ سول لائنز کی بارک میں جگہ کم اور آدمی زیادہ تھے، اس لیے حبس کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ میں شدید گھٹن محسوس کر رہا تھا لیکن ایک احساس یہ تلخی کم کیے ہوئے تھا کہ میرا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا اور میں ایک بہت بڑے عذاب سے بچ گیا۔ مجھے پولیس کے تفتیشی افسر کا انتظار تھا تاکہ اسے اپنا نام پتا لکھا کر محفوظ ہو جائوں… لیکن یہ کیا؟ جلد ہی مجھے اپنے سوالوں کا جواب مل گیا۔ پولیس نے سرکاری لاریوں میں ہم لوگوں کو اس طرح بھرنا شروع کر دیا جیسے بوریاں میں آلو بھر رہے ہوں۔

پھر لاریاں نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوئیں۔ میں سوچنے لگا کہ شاید یہ لوگ ہمیں ملک کی دور دراز جیلوںمیں پہنچائیں گے کہ لاہور کی جیلیں تو تحریک کے نتیجے میںپہلے ہی بھر چکیں۔ خیر جو کچھ بھی ہو اپنا تو کام بن گیا۔ بوری کے سب آلو پریشان تھے مگر ایک خوش تھا۔ لیکن اس خودغرض آلو کی خوشیاں دیر پا ثابت نہ ہوئیں۔  لاریاں راوی کا پل پار کر اس سڑک کی طرح رواں تھیں جو لاہور کو جڑانوالہ سے ملاتی ہے۔ فیض پور اسٹاپ آتے ہی تمام لاریاں رک گئیں۔ پیچھے سے ایک پولیس کی جیپ آگے آئی جس سے ایک ڈی ایس پی برآمد ہوا۔ وہ ہم سب سے مخاطب ہو کر بولا ’’صاحبان! آپ لوگ ایک آزاد جمہوری ملک کے باشندے ہیں۔ حکومت اور پولیس آپ کی آزادی کا احترام کرتی ہے۔ امید ہے آپ آئندہ جلسے جلسوں کے چکرمیں نہیں پڑیں گے۔ اب سب لاریوں سے باہر آئیں اور اپنے اپنے گھر کی راہ لیں…!‘‘ ڈی ایس پی کی مختصر تقریر ختم ہوئی اور بوریوں کے منہ کھل گئے۔ کچھ دیر بعد تمام آلو بوریوں سے باہر تھے۔ اور پھر ان میں سے ایک آلوکچی سڑک پر رواں دواں ہو گیا جو فیض پور گائوں کی طرف جاتی ہے۔ فیض پور پر شام اتر رہی تھی اور اس کا آسمان لہو رنگ شفق میں ڈوبا ہوا تھا…!