function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

غلطی کا انعام

ہنری سلاسر | اپریل 2015

جزیرے کا آمر اپنے محل کی کھڑکی کے قریب کھڑا آسمان پر سفید بادل آگے پیچھے دوڑتے دیکھ رہا تھا۔ یہ محل سمندر کنارے ایک وسیع و عریض پہاڑی پر واقع تھا۔ وہاں سے جزیرے کی واحد بندر گاہ صاف نظر آتی تھی۔ آگے حدِنگاہ تک سمندر کی نیلی پُرسکون سطح پھیلی ہوئی تھی۔کھڑکی سے نیچے مستعد باوردی مسلح محافظ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے ۔ اپریل کا سنہرا سورج سمندر کی سطح سے آہستہ آہستہ سر ابھار رہا تھا۔اس کی تیکھی کرنیں براہ راست سر براہ کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔
آمرسے تین قدم کے فاصلے پر جزیرے کا پولیس چیف مودٔب انداز میں کھڑا بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔ ’’جو کشتی ساحل کی طرف آرہی ہے سر! یہ اُسی کی ہے۔‘‘اس نے کہا۔’’یہ سلسلہ ایک سال سے جاری ہے اور ہم یہ معلوم کرنے میں اب تک ناکام رہے تھے کہ اتنے بہت سے ماہی گیروں میں مجرم کون ہے؟لیکن اس مرتبہ ہماری معلومات دُرست نظر آتی ہیں۔‘‘

’’مخبری ؟‘‘آمرکی زبان سے نکلنے والا لفظ تلخی میں بجھا ہوا تھا ۔
’’ جی صاحب! کسی نا معلوم آدمی کی طرف سے؟‘‘
’’کیا تمہیں پہلے بھی اس پر شک تھا؟‘‘
’’ جی ہاں اور اس کے ساتھ تمام ماہی گیروں پر شک تھا، لیکن اس پر مجھے سب سے کم شبہ تھا۔‘‘
کھڑکی کے قریب کھڑا ہوا دراز قد سایہ پلٹا ۔دو بھوری آنکھیں چند لمحوں تک پولیس چیف کا جائزہ لیتی رہیں ۔اسے وہ آنکھیں اپنے جسم میں گڑتی محسوس ہوئیں۔ اس کی پیشانی پر پسینے کی ٹھنڈی بوندیں اُبھرنے لگیں۔
’’تمہارے لہجے میں تاسف نمایاں ہے۔ کیا تم اُسے پسند کرتے ہو؟‘‘
’’جزیرے کا ہر شہری اُسے پسند کرتا ہے جنابِ والا۔‘‘

آمر پولیس چیف کے قریب سے گزر کر ایک بڑی میز کے پیچھے بیٹھ گیا۔ایک دیو قامت ایلسیشن کتا دم ہلاتا فرش سے اٹھا اور اپنے آقا کے پیچھے پیچھے میز کے قریب آ کے کھڑا ہو گیا۔ آقا کرسی پر بیٹھا، کتا بھی اس کے قدموں میں فرش پر بیٹھ گیا۔
’’تمہارے آدمی اس کے منتظر ہوں گے؟‘‘طویل خاموشی کے بعد اس نے پوچھا۔
’’وہ ہر قسم کے حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں جناب والا۔‘‘پولیس چیف نے بتایا۔
’’تم اسے گرفتار کر و اور سیدھا میرے پاس لائو۔ اس سے کوئی سوال نہ کرنا ۔تمہیں اس سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، بس میرے پاس لے آئو۔‘‘
پولیس چیف کے چہرے پر حیرت پیدا ہو گئی ۔آمر چیف کے لبوںپر پرُاسرار مسکراہٹ ابھری۔ ایک بھاری بھرکم ہاتھ فضا میں لہرایا ’’جائو اُسے یہاں لے آئو۔ آج اتفاق سے میرے پاس کچھ زائد وقت ہے ۔ میں اس آدمی کودیکھنا چاہتا ہوں جسے پولیس چیف بھی پسند کرتا ہے۔اب اس قسم کے لوگوں کی پیدائش بندہو گئی ہے ۔‘‘
پولیس چیف نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، لیکن پھر اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔ کیونکہ بھوری آنکھو ں کی سرد مہری میں اضافہ ہو گیا تھا اور عظیم راہنما کی پر اسرار مسکراہٹ بھی معدوم ہو چکی تھی۔اس نے سلوٹ کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

آمر ایک سگریٹ سلگاکے اپنی آرام دہ کرسی میں دھنس گیا۔ وہ دوسرا ہاتھ بے خیالی میں کتے کی گردن پرپھیرنے لگا۔کچھ دیر بعد سنگ مرمر کی سیڑھیوںپر بھاری بھرکم جوتوں کی آواز سنائی دی۔ آواز نزدیک آرہی تھی۔ پھر کمرے کا دروازہ کھلا۔ ٹاسو دروازے پر کھڑا تھا، اُس کے پیچھے مسلح محافظ اور ان کے عقب میں پولیس چیف تھا۔ جزیرے کاآمر چند لمحوں تک خاموشی سے انھیں گھورتا رہا۔ ’’اسے تنہا اندر آنے دو۔‘‘ اس کی آوا زگونجی ۔
دروازے میں کھڑا ماہی گیر آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ کمرے کا دروازہ بند ہو گیا۔ کرسی کے قریب بیٹھے قدآور کتے کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی ۔ وہ چوکنے انداز میں نووارد کو گھور رہا تھا، لیکن جب اس نے اپنے آقا کی انگلیاں اپنے سر میں چبھتی محسوس کیں، تو اس کے تنے اعصاب پر سکون ہو گئے۔ وہ دوبارہ فرش پر بیٹھ گیا۔اس کی نظریں اب بھی نووارد پر جمی ہوئی تھیں۔

ٹاسو میز کے سامنے آ کے رک گیا۔ وہ پستہ قد اور طاقت ور جسم رکھتا تھا۔آنکھیں بھوری اور زندگی کی حرارت سے معمور تھیں ۔ چہرے کی  رنگت سورج کی تمازت کے باعث تانبے جیسی ہو رہی تھی۔ ہونٹ مسکرانے کے انداز میں کھلے ہوئے تھے ۔ وہ اپنے سامنے میز کے پیچھے بیٹھی دراز قد شخصیت کو اچھی طرح پہچانتا تھا،مگر چہرے پر خوف یا شرمندگی کے آثار نہیں تھے ۔ جسم پر ایک نیلی جیکٹ اور میلی کچیلی سُرخ قمیص تھی۔ پتلون پر مچھلیوں کے چھلکے چپکے ہوئے تھے۔
’’ تمہارانام؟‘‘
’’ٹاسوسوڈ‘‘
’’عمر؟‘‘
’’باون سال‘‘
’’پیشہ‘‘
’’ماہی گیری۔‘‘
’’اور سمگلنگ بھی؟‘‘
’’کوئی شخص اپنے موت کے پروانے پر بہ رضاو رغبت دستخط نہیں کرتا۔‘‘ ٹاسو نے بے خوفی سے کہا۔
’’تمہاری مخبری کی گئی ہے ۔‘‘

’’کام چور اور حاسد اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتے، مجرموں کے ساتھ بے گناہ بھی مخبری کی لپیٹ میں آجاتے ہیں ۔‘‘
آمر نے کرسی پر پہلو بدلا ۔اس کے لبوں پر وہی خفیف سی پر اسرار مسکراہٹ کھیلنے لگی۔’’ہم تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ تم اسمگلر ہو۔‘‘
ٹاسو نے بے پروائی سے کاندھے اچکائے اور بولا’’جیسا آپ مناسب سمجھیں۔ میں جو مچھلیاں پکڑکے لایا ہوں انھیں بازار میں فروخت کرنا میری بیوی کی ذمے داری ہے۔ اس لیے میرے پاس بہت وقت ہے‘‘
’’تم اسمگلنگ کیوں کرتے ہو؟تم جانتے ہو کہ یہ ملکی مفاد کے خلاف ہے۔‘‘

’’اگر میں اسمگلنگ کرتا ہوں ، جیسا کہ ہم نے تھوڑی دیر کے لیے فرض کیا، تو یہ کام میں دولت حاصل کرنے کے لیے کرتا ہوں اور جس ملک کے شہری خوش حال ہوں ، وہ ملک بھی خوش حال کہلاتا ہے۔‘‘  ’’کبھی کبھی تم ملک دُشمن عناصر کو ملک سے فرار ہونے میں مدد بھی دیتے ہو۔ انھیں اپنی کشتی کے ذریعے ملک سے باہر لے جاتے ہو۔ کیا اس جرم کی سزاموت نہیں ہونی چاہیے؟‘‘ ’’میرا خیال ہے اس کام پر مجھے انعام ملنا چاہیے۔اگر تمام دشمن باہر نکال دیے جائیں، تو ملک زیادہ مستحکم ہو جائے گا۔ اس کے وجود کو جو خطرہ دشمن سے لاحق ہے ،وہ ختم ہو جائے گا۔ملک کو دشمن  سے پاک کرنا جرم نہیں،قومی خدمت ہے۔‘‘
ایک لمحے کے لیے آمر کے ہونٹ سختی سے بھینچ گئے اور اُس کی پتلیاں سکڑ گئیںپھر وہ آہستہ سے ہنسا اور بولا’’تم ایسی کون سی اہم چیز ملک میں اسمگل کرتے ہو جس کے لیے تمھیں اپنی زندگی بھی دائو پہ لگادینے سے دریغ نہیں ہوتا؟‘‘

’’سگریٹ۔‘‘
’’لیکن سگریٹ تو ہمارے ملک میں بنتی ہے۔ اُسے اسمگل کر کے لانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
’’آپ جو سگریٹ پی رہے ہیں ،وہ امریکا کی بنی ہے۔‘‘
’’اس کے علاوہ؟‘‘
’’ وہسکی۔‘‘
’’میں غیر ملکی وہسکی پر اپنے ملک کی بنی راکیا کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘
’’ درست لیکن دارلحکومت میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو آپ سے اتفاق نہیں کرتے ۔ اس کے علاوہ میںنائلون کی چھوٹی موٹی چیزیں اور مختلف خوشبوئیں بھی ملک میں لاتا ہُوں ۔‘‘
’’دارالحکومت کی عورتوں کے لیے؟‘‘

ٹاسو نے مسکراتے ہوئے اثبات میںسر ہلایا۔’’جی ہاں! ہر اس عورت کے لیے جو قوتِ خرید رکھتی ہو۔ اس جزیرے میں بکریاں چرانے والی ہر لڑکی نائلون کی بنی   چیزوں پر جان دیتی ہے اور جب کوئی لڑکی دن کا بیشتر حصہ بکریوں کے ساتھ گزارتی ہے، تو اسے عطر کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘
اس بار آمر کی مسکراہٹ بہت گہری تھی جسے اس نے چھپانے کی کوشش نہیں کی ۔’’یہ تمام چیزیں تم باہر سے لاتے ہو؟‘‘اس نے کھڑکی سے سمندر کی طرف اشارہ کیا۔
’’اگر میں اسمگلر ہوتا، تو یقینا یہ چیزیں باہر سے لاتا۔‘‘
’’ایک اسمگلر کو وہاں جانے اور وہاں سے چیزیں لانے میں کتنا وقت لگ جاتا ہے، اگر اس کے پاس تمہاری کشتی ہو؟‘‘
’’دس گھنٹے جانے، چار گھنٹے خریداری اور دس گھنٹے واپسی کے ۔کل چوبیس گھنٹے ہوئے۔‘‘
’’تم مچھلیاں پکڑنے کب گئے تھے؟‘‘
’’کل صبح سات بجے۔‘‘ ٹاسو نے جواب دیا۔

آمر نے دیواری گھڑی دیکھی پھر کہنے لگا’’اس وقت صبح کے ساڑھے سات بجے ہیں ، کیا یہ محض اتفاق ہے کہ تمہارا یہ سفر پورے چوبیس گھنٹوں میں طے ہوا؟‘‘
’’ ہماری کشتی کل رات سمندری طوفان میں پھنس گئی تھی، اس لیے ہمیںواپسی میں دیر ہو گئی۔‘‘
’’ہمیں؟‘‘
’’میرا لڑکا کشتی میں میرے ساتھ جاتا ہے۔‘‘
’’اس وقت تمہاری کشتی کی تلاشی لی جارہی ہے ۔‘‘
’’تلاشی لینے والوں کو کچھ نہیں ملے گا۔‘‘

’’ کیا تم اپنے ساتھ ریڈیو رکھتے ہو ؟ممکن ہے تمہارے کسی ساتھی نے یہاں سے ریڈیو پر تمہیں خبردار کر دیا ہو؟‘‘
’’ میں اپنے ساتھ ریڈیو نہیں رکھتااور مجھے کسی نے خبردار نہیں کیا۔ آپ یہ مت بھولیے کہ ہم نے تھوڑی دیر کے لیے یہ صرف فرض کیا ہے کہ میں اسمگلر ہوں ۔‘‘
’’ ہمارا یہ کھیل خطرناک ہے ، تم ذرا ہوشیار رہنا۔ آمر نے ایک لمحے توقف کیا اور پھر بولا’’جنگ کے دوران تم اتحادیوں کے زبردست حامی تھے ؟‘‘
’’جی ہاں اور میں ان کی طرف سے لڑا بھی تھا۔ میں چونکہ اپنے سمندر کے چپے چپے سے واقف ہوں اس لیے اتحادی بحریہ کے لیے ہوا باز کا کام انجام دیتا۔‘‘
’’کیا برطانوی قوم تمہیں پسند ہے؟‘‘

’’جی ہاں ،اس لیے کہ سمندر کی پرکھ اس سے زیادہ کسی قوم کو نہیں ہے۔ برطانوی لوگ سمندر کو سمجھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں بد حواس نہیں ہوتے ، یہ دونوں خصوصیات مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہیں۔‘‘
’’یہ خصوصیات کون پسند نہیں کرتا، لیکن اب ہر چیز پہ ان کی گرفت بہت کمزور ہو گئی ہے۔ خواہ سیاست ہو، آرٹ ہو ،فلم ہو یا کھیل کا میدان ، دوسری اقوام ان سے بہت آگے نکل چکیں۔‘‘

ٹاسو نے بے پروائی سے کاندھے اُچکائے اور کہا’’شاید آپ ٹھیک کہتے ہیں، لیکن جہاں تک کھیل کا تعلق ہے ،میرا مشاہدہ ہے کہ برطانوی قوم اس معاملے میں اب بھی بہت حساس ہے۔کل فٹ بال کے مقابلے میں ہماری قومی ٹیم نے ایک گول بنا کر کھیل برابر کیا اور مقابلہ ڈرا ہو گیا۔ برطانوی قوم نے کھیل کا یہ نتیجہ بڑی مشکل اور بے دلی سے تسلیم کیا۔‘‘
’’تمہیں فٹ بال سے دلچسپی ہے؟‘‘
’’کیوں نہیں، جزیرے کے ہر باشندے کو فٹ بال سے دلچسپی ہے۔میرا لڑکا ایک مقامی ٹیم کا کپتان بھی ہے۔‘‘
’’ جب تمہیں اسمگلنگ کے جرم میں گولی ماری  گئی، تو وہ غالباً بہت فخر محسوس کرے گا؟‘‘
’’ابھی موت کے میرے پروانے پر دستخط نہیں ہوئے۔آپ یہ نہ بھولیے کہ یہ کھیل ہمارے درمیان ذاتی نوعیت رکھتا ہے ۔‘‘
’’تمہاری مخبری کی گئی اوربالکل درست، اس لیے کھیل ختم ہوچکا ۔‘‘
’’کس نے کی ہے میری مخبری؟‘‘
’’یہ مجھے معلوم نہیں ،ممکن ہے تمہاری بیوی نے کی ہو۔‘‘
’’کیوں؟ بھلا وہ کیوں کرنے لگی؟‘‘

 ’’وہ ایک عورت ہے۔ عورتیں چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی آسانی سے نوٹ کر لیتی ہیں۔ اسمگلنگ کا مال خریدنے کے لیے چار گھنٹوں کا وقفہ کچھ زیادہ تو نہیں  لیکن یہ وقفہ اتنا کم بھی نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو فراموش نہ کر سکے۔ میں تمہاری جیکٹ پہ گلاب کا ایک تازہ پھول دیکھ رہا ہوں ۔اگر کوئی شوہر چوبیس گھنٹے بعد سمندری سفر سے واپس آئے اور اس کی جیکٹ پہ لگا  گلاب کا پھول تازہ ہو، تو بیوی کو اُس پر شک ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے تمہاری بیوی نے یہ بات محسوس کر لی  اور اُس عورت سے حسد کرنے لگی جو سمندر پار سے واپسی کے وقت تمہارے لباس پہ گلاب کا پھول لگاتی ہے ۔حسد کسی بھی عورت کو دیوانہ بنا سکتا ہے۔ ایسے عالم میں عورت بے حد خطرناک ہو جاتی ہے۔ہاں، اب مجھے یقین ہونے لگا ہے کہ تمہاری مخبری بیوی نے کی ہے۔‘‘

ٹاسو کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اُس نے جیکٹ میں لگے ہوئے پھول کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔’’میری عمر باون سال ہے۔ جب میری عمر بتیس سال تھی، تو میری بیوی میں حسد کا مادہ بدرجہ ا تم موجود تھا، لیکن اُس زمانے کو بیتے بیس سال ہو چکے ہمارا خطرناک کھیل ابھی جاری ہے۔ ادھر دیکھیں۔‘‘
ٹاسو نے گلاب کا پھول آمر کی میز پر اچھال دیا۔اس کے ہاتھوں کی اچانک حرکت پر دیوقامت کتا پھرتی سے اچھل کر کھڑا ہو گیا، لیکن ایک چوڑے چکلے ہاتھ نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جزیرے کے عظیم نجات دہندہ نے میز پر گرنے والا گلاب اٹھایا تو اسے اس کے نقلی ہونے کا احساس ہوا۔ پھول سُرخ ریشمی کپڑے کا بنا ہوا تھا اور اس پر موم کی تہ چڑھی تھی۔

’’جنگ کے دوران ایک امریکی نرس نے یہ پھول مجھے تحفے میں دیا تھا۔‘‘ٹاسو نے کہا۔’’اس شہر کے کسی بھی آدمی سے دریافت کریں، تو وہ یہی کہے گا کہ میں ہمیشہ گلاب کا یہ پھول اپنے کالر میں لگائے رکھتا ہوں۔چھے سال بعد بھی یہ پھول پہلے دن کی طرح تازہ ہے۔‘‘ عظیم راہنما چند لمحے خاموشی سے پھول کو اپنی انگلیوں میں گھماتا رہا، پھر سر اٹھا کے ٹاسو کو دیکھا، دھیرے سے مسکرایا اور بولا’’ایسا شخص جسے میرے جیسے اختیارات اور قوت حاصل ہو ،اپنی کسی غلطی پر پشیمان نہیں ہوتا۔ اگر اُس کا کوئی خیال غلط ثابت ہو، تو وہ اسے اپنی توہین محسوس کرتا ہے جو انا کو مجروح کردیتی ہے۔میں بڑی آسانی سے اپنی توہین کا انتقام لے سکتا ہوں اور کوئی بھی وجہ تک دریافت کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ میری انگلی کا ایک اشارہ ہمارے اس دوست کے لیے کافی ہے۔ دوسرے لمحے تمہارا حلق اُکھڑ چکا ہو گا۔ تم بہت بے باک ہو اور تمہاری زبان بے لگام ہے۔ کیوں نہ میں اپنے کتے کو انگلی سے اشارہ کر دوں جس کا وہ بہت دیر سے منتظر ہے۔‘‘

ٹاسو کے لبوں پر کھیلنے والی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہو گئی۔ اُس نے آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ گردن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا’’اگر آپ نے ایسی کوئی کوشش کی، تو  دو گلے کٹ جائیں گے ۔ اس کتے کا اور خود آپ کا ۔‘‘ اُس نے گردن کے نیچے ہاتھ ڈال کر ایک چاقو نکالا، اُسے احتیاط سے میز پر رکھااور بولا’’ پولیس چیف بہت ہوشیار آدمی ہے، لیکن آپ کی موجودگی میں اس کے حواس درست کام نہیں کرتے۔ وہ مجھے آپ کے سامنے پیش کرنے کے لیے اتنی عجلت میں تھا کہ میری اچھی طرح جامہ تلاشی بھی نہیں لے سکا۔‘‘
آمر نے میز پر رکھا ہوا چاقو اٹھایا، اس کی دھار پرکھنے لگا اور کہنے لگا:

’’اس جزیرے پر ہزاروں آدمی ایسے موجود ہیں جن کے دلوں میں کسی ایسے موقع کی شدید آرزو موجود ہے جسے تم نے ابھی گنوا دیا ۔‘‘
’’میں ایک مچھیرا ہوں ،قاتل نہیں۔‘‘
’’اور اسمگلر بھی ہو۔ شاید تمہاری چھٹی حس نے تمہیں خطرے سے آگاہ کر دیا تھا تبھی تم نے یہا ں آنے سے پہلے اسمگل شدہ تمام مال سمندر میں پھینک دیا۔‘‘
’’میں صرف ایک مچھیرا ہوں ۔‘‘
’’ نہیں تم اسمگلر بھی ہو۔ ہو سکتا ہے تمہاری بیوی کے متعلق میرا اندازہ غلط ہو، لیکن تمہارے اسمگلر ہونے میں مجھے کوئی شبہ نہیں رہا۔کل شام تم سمندر پار برطانیہ میں مو جود تھے۔‘‘

’’نہیں،میں سمندر میں اپنے لڑکے کے ساتھ مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘‘
’’تم کل صبح سات بجے اپنے لڑکے کے ساتھ ا س جزیرے سے روانہ ہوئے ۔تمہارے بیان کے مطابق تم چوبیس گھنٹے سمندر میں مچھلیاں پکڑتے رہے ۔تمہاری کسی سے ملاقات نہیں ہوئی اور تمہارے پاس ریڈیو بھی نہیں تھا۔‘‘
’’درست میں نے یہی کہا تھا۔‘‘
’’اور ابھی آدھ گھنٹے قبل تم یہاں واپس آئے، زمین پر قدم رکھتے ہی تمہیں سیدھا میرے سامنے لایا گیا۔ اس دوران تم نے کسی سے گفتگو نہیں کی؟‘‘
’’یہ بھی دُرست ہے۔‘‘

’’اس کے باوجو د تمہیں یہ معلوم ہے کہ کل سہ پہر برطانیہ میں ہماری قومی ٹیم اور برطانوی ٹیم کے درمیان فٹ بال کا جو مقابلہ ہوا، اس کا نتیجہ کسی کی ہار جیت میں نہیں نکلا اور مقابلہ برابر رہا۔یہ مقابلہ کل سہ پہر لندن میں ہوا تھا،تم یہاں سے کل صبح سات بجے ہی چلے گئے تھے اور تمہارے پا س ریڈیو بھی نہیں تھا۔ آج صبح سات بجے تم سمندر میں موجود تھے پھر تمہیں اس مقابلے کے نتیجے کا کس طرح علم ہوا؟

’’ تمہیں اس کا علم برطانیہ کی سر زمین پر ہوا جب تم وہاں موجود تھے۔ کیونکہ تمہیں اور تمہارے لڑکے کو فٹ بال سے بہت دلچسپی ہے اس لیے مقابلے کا نتیجہ جاننے کے لیے تمہارا تجسس فطری امر تھا۔ اگر تم چوبیس گھنٹے سمندر میں موجود ہوتے، تو تمھیں اس مقابلے کے نتیجے کا کبھی علم نہیں ہوتا۔‘‘
چند لمحے دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر ٹاسو نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایااورہولے سے بولا’’ہمارا کھیل شاید ختم ہو گیا ۔‘‘
جزیرے کے عظیم راہنما نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔’’نہیں،مجھے کھیل میں بڑا لطف آیا، اس لیے میں اسے ختم نہیں کرنا چاہتا۔‘‘وہ اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا۔’’تم آزاد ہو ، تمہاراراز ہمیشہ میرے سینے میں دفن رہے گا۔ اس سلسلے میں تمہیں پولیس چیف سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، وہ تم سے کوئی باز پرس نہیں کرے گا۔‘‘
’’آخر آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ ٹاسو نے حیرت زدہ ہوتے ہوئے پُوچھا۔

جزیرے کاآمر میز کے پیچھے سے نکل آیا تھا۔ اُس نے آہستہ سے ٹاسو کے شانے پر ہاتھ رکھا اور بولا’’تم سے صرف ایک غلطی ہوئی،ایسی غلطی جو تمہاری موت کا باعث بن سکتی تھی ۔ ایسا کسی بھی بہادر ترین اور چالاک آدمی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ کسی سے بھی غلطی ہو سکتی ہے ،میرے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے اور اگر کبھی ایسا ہوا، تو مجھے یہ یاد رہے گا کہ اس جزیرے پر میرا ایک دوست موجود ہے جس کے پاس ایک کشتی بھی ہے ۔کسی کے بھی بہت سارے دوست نہیں ہوتے(کوئی بھی بہت سارے دوست نہیں بنا سکتا)‘‘