function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

گردشِ ایام

قاضی محمد اختر جونا گڑھی | مارچ 2014

پاکستان کے بعد کچھ دنوں تک کامل گلی اور ایم اے جناح پر واقع ایک بحری جہاز نما عمارت میں قیام کے بعد اب ہم ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک بلڈنگ کی تیسری منزل پر منتقل ہو چکے تھے، جس کا نام اب تبدیل کر کے اودھارام مینشن سے جہانگیر مینشن ہو چکا تھا۔ کیونکہ یہ عمارت ایک ہندو سے پارسی نے خرید لی تھی۔ یہ بلڈنگ 1922ء میں تعمیر ہوئی تھی اور کافی وسیع اور کشادہ تھی۔

اس عمارت کا محل وقوع ایم اے جناح روڈ اور موجودہ شومارکیٹ (سابق ٹھٹھائی کمپائونڈ) کے کونے پر تھا۔ ’’خان شوز اینڈ کمپنی‘‘ کے نام سے جوتوں کی معروف دکان اسی عمارت کے ایم اے جناح روڈ والے رُخ پر واقع تھی۔ (اب صرف صدر میں اس کی شاخ باقی رہ گئی ہے) جہاں دو مرتبہ کراچی شہر کے میئر رہنے والے عبدالستار افغانی سیلز منیجر ہوا کرتے تھے۔ خان برادران اس دکان کے مالک اور عبدالستار افغانی کے بھانجے تھے۔

بلامبالغہ کراچی کے سیکڑوں باشندوں نے عبدالستار افغانی کے ہاتھوں سے جوتے پہنے ہوں گے۔ افغانی صاحب نہایت دیانت دار سادگی پسند اور قانع انسان تھے۔ نہایت پرہیزگار اور پنج وقتہ نمازی ظہر، عصر اور مغرب کی نماز وہ گاڑی کھاتہ کی مسجد میں ادا کرتے تھے، انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت میں وہ لیاری سے حصہ لیتے۔ بوتل ان کا انتخابی نشان تھا ،لیکن میں نے انھیں کبھی انتخاب میں کامیاب ہوتے نہیں دیکھا۔

جس زمانے میں میری ان سے ملاقاتیں رہیں وہ اپنے ملنے ملانے والوں میں صرف ستار بھائی کے نام سے معروف تھے۔ افغانی ان کے نام کا حصہ ابھی نہیںبنا تھا۔ میں گھر کا سودا سلف لانے کے بعد اپنا وقت افغانی صاحب کی دکان میں گزارا کرتا کیونکہ ان کے پاس پاکستان بھر سے اخبارات آیا کرتے تھے اور مجھے اخبارات پڑھنے کا شوق جنون کی حد تک تھا۔ میں کافی دیر تک نیچے ان کی دکان میں بیٹھا اخبارات کا مطالعہ کرتا رہتا۔
ستار بھائی اس زمانے میں بی اے کا امتحان بھی دے رہے تھے لیکن اس کا ذکر مجھ سے انھوں نے کبھی نہیں کیا۔ جماعت اسلامی سے ان کی گہری وابستگی کا بھی مجھے علم تھا۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودویؒ کے وہ پرستار تھے، ان سے کبھی کبھار ملک کے سیاسی حالات پر تبادلۂ خیال ہوتا رہتا تھا۔ انھوں نے مجھ سے اس دوران جو باتیں کیں اور انکشافات کیے ان کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔
1978ء کے اواخر میں ہم نے ایم اے جناح روڈ والا فلیٹ 30 برس کے بعد فروخت کر دیا ۔ جولائی 1979ء میں میری شادی ہو گئی۔ ہم لوگ رفاہِ عام سوسائٹی ملیر کے آخر میں واقع بستی معین آباد کے گھر کے ایک پورشن میں بطور کرایہ دار منتقل ہو گئے۔ اخبارات کا مطالعہ چھوٹ گیا تھا، ٹی وی ہمارے پاس تھا نہیں، اسی مکان میں ایک دن میں کوئی پرانا اخبار دیکھنے میں مصروف تھا کہ یکایک میری نظریں ایک تصویر پر مرکوز ہو گئیں۔ تصویر کے کیپشن میں ستار بھائی کے لیے لکھا تھا ’’کراچی کے میئر عبدالستار افغانی… ‘‘

نام دیکھ کر مجھے اشتیاق ہوا کہ تصویر کو غور سے دیکھوں، تصویر میں ستار بھائی شیروانی میں ملبوس سر پر ٹوپی لگائے دکھائی دیے۔ میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کل تک جس شخص کے ساتھ دکان میں بیٹھ کر ایک عرصے تک اخبارات پڑھتا رہا اور ملکی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا کرتا تھا وہ آج کراچی شہر کامیئر بن چکا ہے۔ اسی فرط مسرت کے عالم میں ان سے ملنے کی غرض سے کراچی میونسپل کارپوریشن میں ان کے دفتر پہنچ گیا تاکہ انھیں مبارکباد پیش کر سکوں۔ ستار بھائی کو لوگوں کے ہجوم نے گھیر رکھا تھا، جب ذرا فرصت ملی تو انھوں نے مجھے دیوار کے سہارے کھڑے دیکھ کر پوچھا ’’آپ کیسے آئے‘‘

اجنبیت اور لاتعلقی ان کی آنکھوں اور مجموعی رویے سے جھلک رہی تھی۔ میں نے کہا ’’ستار بھائی میں آپ کو مبارکباد دینے کے لیے آیا تھا۔‘‘
وہ سمجھے تھے شاید میں کسی ملازمت یا روزگار کا امیدوار بن کر آیا ہوں، خیر اس مختصر سی ملاقات کے بعد پھر کبھی ان سے ملاقات یا انھیں دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔ وہ دوبار کراچی کے میئر منتخب ہوئے، اب وہ شاید لیاری سے سعید آباد (مہاجر کیمپ سے آگے) منتقل ہو گئے تھے۔ ان کا ایک جواں سال بیٹا گھر کی چھت سے گر کر ہلاک ہو گیا تھا۔ اس حادثے نے انھیں وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا ورنہ وہ دراز قامت اور اچھی صحت کے مالک تھے۔ جواں سال بیٹے کی موت نے ان کی کمر توڑ کے رکھ دی تھی۔ ایک دن سنا کہ ستار بھائی اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔
ستار بھائی کی دکان ’’خان شوز اینڈ کمپنی‘‘ میں بیٹھ کر ان سے بے شمار موضوعات پر گفتگو رہتی تھی لیکن فی الحال میں ان کے چند انکشافات آپ کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ کراچی کا صرافہ بازار کسی زمانے میں ’’کامل گلی‘‘ میں ہوا کرتاتھا۔ اسی صرافہ بازار میں پاکستان کے نامور بزنس مین سیٹھ عابد کے والد کی دکان بھی ہوا کرتی تھی۔
سیٹھ عابد (شیخ عابد حسین) کے والد کی بابت ستار بھائی نے مجھے بتایا تھا کہ انھوں نے ’’امام مہدی‘‘ ہونے کا دعویٰ کر رکھا تھا۔ وہ صرافہ بازار میں ایک ہاتھ میں قینچی لے کر گھوما کرتے تھے اور جہاں کسی شخص کے چہرے پر ڈاڑھی اور مونچھیں دیکھتے وہیں قینچی سے اس کی مونچھیں تراش دیتے کیونکہ یہ سنت رسولﷺ کے عین مطابق تھا۔ اللہ نے انھیں چھے بیٹے عطا کیے جن میں سے آج کتنے زندہ ہیں اس کا مجھے علم نہیں۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ان چھے بیٹوں میں سے ہر ایک ’’ارب پتی‘‘ تو ضرور ہے۔ ایک اور بات جو ان بھائیوں میں مشترک تھی وہ یہ ہے کہ سب کے سب حاجی تھے۔

ان بھائیوں میں شیخ عابد حسین کے پاس سب سے زیادہ دولت تھی۔ شیخ عابد حسین کے بارے میں ستار بھائی نے جو کچھ مجھے بتایا اس کے بعد مجھے ان کے بارے میں جاننے کی مزید خواہش پیدا ہوتی چلی گئی۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اپنے سارے بھائیوں میں وہ سب سے زیادہ ہوشیار، ذہین اور بات کی تہ تک فوراً پہنچنے والے ہیں۔ ان کا دماغ ایک کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے۔

ان کی تصویر آج تک کسی نے نہیں دیکھی، پبلک ریلیشنگ کا انھیں سرے سے کوئی شوق نہیں، اللہ نے انھیں ایک بیٹی یعنی نصرت شاہین اور تین بیٹوں سے نوازا ہے۔ ان کے دونوں چھوٹے بیٹے گونگے بہرے اور Retarded ہیں اور امریکا میں کسی بورڈنگ ہائوس میں رہتے ہیں۔ ان کے سب سے بڑے شادی شدہ بیٹے ایاز محمود کو لاہور میں کچھ عرصہ قبل قتل کر دیا گیا ہے۔ جس کے خلاف سیٹھ عابد نے حیرت ناک طور پر کوئی قانونی اقدام نہیں کیا۔ ان کا یہ مرحوم بیٹا حافظ قرآن تھا اور خالقدینا ہال کراچی میں نماز تراویح پڑھایا کرتا تھا۔

بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ جب امریکی حکومت نے پاکستان پر ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ درآمد کرنے پر سخت پابندی عائد کر رکھی تو یہ سیٹھ عابد ہی تھے جنھوں نے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ بحری راستے سے پاکستان پہنچایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اس زمانے میں پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ انھوں نے 5 کروڑ روپے پیپلز پارٹی کے لیے بطور فنڈ سیٹھ عابد سے طلب کر لیے۔ انھوں نے دینے سے صاف انکار کر دیا۔ بھٹو صاحب کی ہدایت پر سیٹھ عابد کی گرفتاری کے لیے ہر جگہ چھاپے مارے جانے لگے لیکن وہ موجود ہوتے ہوئے بھی ہاتھ نہ لگ سکے۔

اسی زمانے میں مجھے اپنی ماموں زاد بہن کے گھر جو شہید ملت روڈ کی متوازی سڑک ’’سندھ ٹریڈرز سوسائٹی‘‘ میں واقع تھا، جانے کا اتفاق ہوا۔ گھر سے باہر نکل کر میں نے دیکھا کہ ایک بڑے سے مکان کے باہر فوجی ٹرک کھڑے ہیں، وہ وہاں کسی کو گرفتار کرنے آئے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ سیٹھ عابد کی اکلوتی بیٹی نصرت شاہین کی گرفتاری کے لیے آئے ہیں۔ فوجی سیٹھ عابد کی صاحبزادی کو ٹرک میں بٹھا کر لے گئے۔ جب سیٹھ عابد کے علم میں یہ بات آئی تو انھوں نے لندن میں زیر تعلیم بے نظیر بھٹو کو اغوا کرا لیا۔ اب سیٹھ عابد کی بیٹی بھٹو کی قید میں اور بھٹو کی دختر سیٹھ عابد کی تحویل میں، بہرکیف دونوں میں سمجھوتہ ہو گیا اور نصرت شاہین اور بے نظیر بھٹو رہا کر دی گئیں۔
یہ بات پاکستان کے عوام سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جنرل ضیاء الحق کی دختر زین ضیاء بھی ایک Retarded بچی تھی۔ اسے بھارتی اداکار شتروگھن سنہا بے حد پسند تھے۔ لہٰذا جنرل ضیاء الحق نے اپنے گھر کے دروازے ان کے لیے کھو ل رکھے تھے اور وہ جنرل ضیاکے ہاں ہی قیام کرتے تھے۔
سلطانی گواہ
ممکن ہے آپ کو یہ جان کر تعجب اور حیرت ہو کہ بھٹو کے قصوری قتل میں سلطانی گواہ بننے والا شخص ’’مسعود محمود‘‘ بھٹو صاحب کی بنائی ہوئی فیڈرل سیکیورٹی فورس کا سربراہ اور سیٹھ عابد کا حقیقی برادر نسبتی (سالا) تھا۔ بھٹو کے مقدمے میں گواہی دینے کے بعد وہ امریکا چلا گیا تھا۔ وہیں اس نے اپنی زندگی کے آخری سانس لیے۔
ادھر سیٹھ عابد کے دونوں بیٹے بھی جو امریکا میں مقیم ہیں Retarded تھے۔ اِن دونوں کے درمیان گہری دوستی کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو گی۔ کراچی میں ایک ادارہ ہے ’’دیوا اکیڈیمی‘‘ جو اس قسم کے Disabled بچوں کو امداد فراہم کرتا ہے۔ اس ادارے کی منعقدہ ایک تقریب میں صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق، سیٹھ عابد کے ہمراہ شریک تھے۔ تقریب کے منتظمین نے کوکا کولا سے مہمانوں کی تواضع کی، کوکاکولا پینے کے دوران اس کے چند قطرے سیٹھ عابد کے بش کوٹ (واضح رہے کہ پتلون اور بش کوٹ سیٹھ عابد کا پسندیدہ لباس ہے) پر گر گئے۔ صدر مملکت ضیاء الحق نے جھٹ اپنی جیب سے رومال نکالا اور ان دھبوں کو صاف کرنے میں مشغول ہو گئے۔
خیر! سیٹھ عابد اور قاسم بھٹی خلیج کے کسی ملک سے سونا اسمگل کر کے پاکستان لا رہے تھے کہ جنرل ایوب خان نے 1958ء میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ دونوں نے مل کر بحیرۂ عرب میں اس اسمگل شدہ سونے کو چھپا دیا۔ قاسم بھٹی کی وفات کے برسوں بعد سیٹھ عابد نے سپریم کورٹ سے اس اسمگل شدہ سونے کا مقدمہ جیت لیا

اور یہ سارا سونا اس کے قبضے میں آ گیا۔یاد رہے کہ اسی قاسم بھٹی نے کراچی کے ایک معروف ہوٹل فریڈرکس کیفے ٹیریا میں صدر سکندر مرزا کی اہلیہ ناہید سکندر مرزا کو سونے کا ہار بھی پہنایا تھا۔ سونے کے بعد سیٹھ عابد نے غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کا کام شروع کیا تھا۔ آج کل وہ بالخصوص کراچی میں پراپرٹی کے کام سے وابستہ ہیں۔ صدر میں واقع ریجنٹ پلازہ ہوٹل کے مالک فیروز الدین باویجہ ان کے گہرے دوستوں میں شمار ہوتے ہیںاور سیٹھ عابد اپنی شامیں اسی ہوٹل میں گزارتے ہیں۔ سیٹھ عابد نے اسمگلنگ کے حق میں کئی فتاویٰ لے رکھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ قانونی طور پر ایک جائزعمل ہے یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ (اسے جرم بنا دیا گیا ہے) واضح رہے کہ سیٹھ عابد کے Carriers بھی آج لکھ پتی اور کروڑ پتی بن چکے ہیں۔
شیخ عابد حسین کا آبائی تعلق پنجاب کے مردم خیز ضلع ’قصور‘ سے ہے جہاں کے بابا بلھے شاہ، ملکۂ ترنم نورجہاں ،میتھی اور کھُسّے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ شیخ عابد نے لاہور میں ذہنی معذوروں کے لیے ’’حمزہ فائونڈیشن‘‘ اور قصور میں ایک ہسپتال بھی بنوا رکھا ہے جہاں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ وہ اردو اور پنجابی کے علاوہ میمنی بولی پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں۔ کسی زمانے میں آئی آئی چندریگر روڈ پرواقع عمارت یونی ٹاورز میں ان کا دفتر واقع تھا۔
کراچی کا پہلا پلے بوائے ’’جمال‘‘
1959 ء کا زمانہ تھا۔ کرسمس کے موقع پر مجھے اپنے چند احباب کے ہمراہ ایلفنسٹن اسٹریٹ (آج کی زیب النساء اسٹریٹ) کے کونے پر واقع کشمیر آرٹ ایمپوریم کی بالائی منزل پر جانے کا اتفاق ہوا جو ایکسیلشیئر ہوٹل کے نام سے معروف تھی۔ اس کا مالک ’’جمال‘‘ تھا جسے میں کراچی کا پہلا ’’پلے بوائے‘‘ کہتا ہوں۔ ماضی کی مشہور فلمی ہیروئن اور اپنے زمانے کی نہایت خوبرو اور حسین اداکارہ اسی جمال کی داشتہ رہ چکی ہے اور اس کی ایک بیٹی کا باپ بھی وہی جمال ہے۔

نجانے کیا ہوا کہ جمال نے پورا ایکسیلشیئر ہوٹل بینک آف بہاولپور کے پاس فقط ڈھائی لاکھ روپوں میں رہن رکھوا دیا۔ اس زمانے کے ڈھائی لاکھ روپے آج کے کم از کم ڈھائی کروڑ روپوں سے کم ہرگز نہ ہوں گے۔ اتفاق دیکھیے کہ بینک آف بہاولپور جمال کے اس ہوٹل کی نچلی منزل پر واقع تھا۔ ڈھائی لاکھ روپوں میںاپنے ہوٹل کو گروی رکھ کر جمال سول ہسپتال میں غالباً اپنڈکس کے آپریشن کی غرض سے داخل ہوا اور اچانک پراسرار طور پر انتقال کر گیا۔ جمال کے ہوٹل میں مصر کی مشہوررقاصہ سامعہ جمال بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی تھیں۔
سول ہسپتال میں ایک معمولی سی سرجری کے دوران جمال کے انتقال کے بعد اس کا ہوٹل ایکسیلسئر آج تک سائیں سائیں کر رہا ہے۔ ہوٹل کا بورڈ بھی آج تک اسی طرح آویزاں ہے۔ میری ملاقات جمال کے حقیقی بھانجے سے بھی ہو چکی ہے جو کسی زمانے میں PIDC ہائوس کے بالمقابل واقع نائٹ کلب ’’میرامار‘‘ (Miramar) چلایا کرتا تھا جو ایک سبزہ زار پر واقع تھا۔ ہوٹل ا یکسیلشیئر آج تک جوں کا توں موجود ہے لیکن اجاڑ، ویران اور غیر آباد۔ اس واقع کو 52 برس گزر چکے ہیں۔ شاید ہوٹل آج بھی اپنے مالک کا منتظر ہے۔
جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا میرا قیام 1948 ء تا 1978ء جہانگیر مینشن ایم اے جناح روڈ کی تیسری منزل پر واقع ایک فلیٹ میںرہا۔ یہ عمارت ٹھٹھائی کمپائونڈ اور ایم اے جناح روڈ کے کونے پر واقع تھی۔ لہٰذا میرا زیادہ تر وقت ٹھٹھائی کمپائونڈ (آج کی شو مارکیٹ) میں گزرا کرتا تھا۔ وہاں گجرات کی ایک گودھرا فیملی بھی رہتی تھی جس کے ایک فرد کا نام صدیق ڈاڈی تھا۔ ڈاڈی ٹرانسپورٹ کے نام سے اس خاندان کے سربراہ کی بسیں چلا کرتی تھیں۔ یہ ایک متمول خاندان تھا۔ صدیق ڈاڈی کے حوالے سے دو اہم واقعات میری یادداشتوں میں آج بھی موجود ہیں۔ سب سے پہلا واقعہ ممتاز ملانی کا ہے۔

سب سے پہلے یہ جان لیجیے کہ ممتاز ملانی کون تھی؟ ممتاز ملانی دراصل ایک لینڈ لیڈی تھی جسے اپنے آبائو اجداد کی جانب سے ایک وسیع اور کشادہ بلڈنگ ورثے میں ملی تھی جس کا نام ملانی مینشن تھا۔ ممتاز ایک آزاد خیال اور فیشن ایبل خاتون تھی۔ اس کا قیام کراچی کی مشہور سڑک لارنس روڈ پر تھا۔ ممتاز اپنی بلڈنگ کے وسیع احاطے میں آئے دن فنکشن وغیرہ کراتی رہتی تھی۔
ایک فنکشن میں صدیق ڈاڈی کے ہمراہ مجھے بھی شرکت کا موقع مل گیا۔ پیلے رنگ کے لباس میں ممتازملانی کافی پرکشش لگ رہی تھی۔ نوجوان لڑکوں کی طرف اس کا رجحان نمایاں تھا۔ اس زمانے میں کراچی میں مشہور زمانہ ڈانس ٹوئسٹ کا بڑا چرچا تھا۔ چناںچہ نیم شب تک فنکشن میں شریک لڑکے Twist ڈانس کرتے رہے اور ممتاز ملانی فنکشن میں موجود رہی۔ملانی نے بعد میں ایک فوجی ایوب نامی سے شادی کر لی تھی جس سے اس کی دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ’’انیتا ایوب، امبر ایوب‘‘ وہ فوجی بعد میں میجر ایوب کی حیثیت سے ریٹائر ہوا۔

ان میں سے غالباً انیتا ایوب نے ماڈلنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں اداکاری بھی کی تھی۔ آج کل یہ خاندان کہاں ہے۔ اس کا مجھے علم نہیں۔ لیکن ایک بات جس کا مجھے علم ہے وہ یہ ہے کہ ممتاز ملانی نے کراچی کے انتہائی مقبول اداکار وحید مراد کو اپنا بھائی بنا رکھا تھا۔ ممتاز لارنس روڈ سے کراچی پریس کلب کے بالمقابل ایک رہائشی عمارت میں منتقل ہو چکی تھی۔ وحید مراد نے حالات سے مایوس اور دل شکستہ ہو کر اسی ممتاز ملانی کے کراچی والے فلیٹ میں اپنی جان دی تھی۔ نامعلوم وحید مراد کو کس چیز سے عشق تھا!! اپنے آپ سے بطور ہیرو کے! ماضی کی کس خوبرو ہیروئن سے یا کوئی اور بات

تھی، بہرکیف یہ اس کی شاندار زندگی کا اختتام تھا۔ ایک ہیرو کی زندگی کا اختتام، ایک ہیرو کی موت! جو زندگی بھر صرف ہیرو ہی رہنا چاہتا تھا۔
ابھی ابھی میں نے ’’صدیق ڈاڈی‘‘ نامی ایک شخص کا ذکر کیا تھا۔ اسے ذہن میں رکھیے کیوںکہ اب میں اپنی یادداشتوں سے جو واقعہ آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں اس کا بڑا گہرا تعلق اسی شخص سے ہے۔ شادی کے بعد میں مختلف مقامات سے نقل مکانی کر کے واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا نمبر 14 میں واقع فرید اسکوائر

نامی رہائشی کمپلیکس میں منتقل ہو گیا جس میں ’’محمود سو یٹس‘‘ نامی مشہورو معروف مٹھائی کی دکان بھی قائم ہے یہ 1982 ء کے اواخر کی بات ہے۔
جس فلیٹ میں ہم بطور کرایہ دار مقیم تھے، اس کے مالک مکان قبل از وقت ہی کرایہ بڑھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ہم فلیٹ چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے اور نئے فلیٹ کی تلاش شروع کر دی۔ معلوم ہوا کہ ہماری ہی لائن میں یعنی ای بلاک کا ایک فلیٹ جو تیسری منزل پر واقع ہے، کرائے کے لیے خالی ہے، جس کی مالکہ

مکان صدر میں واقع ایک عمارت کی چھت پر مقیم ہیں، جس میں شفیق میرٹھی کی کبابوں کی مشہور دکان بھی ہے۔ میں عمارت کی چھت پر بنے مکان میں پہنچ گیا۔
پہلے تو مالکہ مکان کی والدہ سے ملاقات ہوئی۔ (یہ دراصل ایک ہندو خاندان تھا) کچھ ہی دیر بعد وہ صاحبہ تشریف لے آئیں جس کے نام پر یہ فلیٹ تھا۔ ان کے ہمراہ دو چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی آ گئیں۔ ان دونوںنے ایک کتا بھی پال رکھا تھا جسے وہ Doggy کہہ کر اپنے پاس بلا رہی تھیں۔ خاتون نہا دھو کر غسل خانے سے تازہ تازہ باہرآئی تھیں‘ خوشبو چاروں طرف بکھری ہوئی تھی۔ بال کھلے تھے اور رنگت سانولی تھی۔

انھیں خوبصورت تو نہیں البتہ پُرکشش ضرور کہا جا سکتا ہے۔ باتوں باتوں میں پتا چلا کہ ان کا نام زیب ڈاڈی ہے۔ مجھے تعجب ہوا کہ صدیق ڈاڈی ان کے سابقہ شوہر اور ان دونوں بچیوں کے باپ ہیں۔ اس خاتون نے جو واقعہ ہمیں سنایا وہ کچھ یوں تھا: ’’جب ان کی شادی ہونے لگی اور وہ دلھن بن کر بیٹھیں تو دولھا نے انھیں زیادہ خوبصورت نہ پا کر شادی سے انکار کر دیا۔ صدیق ڈاڈی نے جو اس شادی میں شریک تھے فوراً اپنے آپ کو بطور دولھا پیش کر دیا اور یوں یہ شادی ہو گئی۔‘‘ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اسی عمارت کے بالکل نیچے غالباً ٹیلی ویژن یا ریڈیو کی دکان تھی، جہاں صدیق ڈاڈی مجھے اکثر کام کرتے دکھائی دیے۔ خیر یہ شادی ہو گئی جس عمارت کی چھت پر وہ خاتون مقیم تھیں وہ عمارت بھی ڈاڈی خاندان ہی کی ملکیت تھی۔
مجھے اب یاد نہیں پڑتا کہ ان کا فلیٹ میں کرائے پر کیوں نہ لے سکا لیکن جو بات مجھے یاد رہ گئی وہ یہ ہے کہ زیب ڈاڈی حبیب بینک پلازہ میں ایک اعلیٰ افسر کی پی اے تھیں جو غالباً سندھی تھے۔ وہ اس خاتون کو لنچ کے لیے عام طور سے کراچی کلب کے ڈائننگ روم لے کر جایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ صاحب اکیلے ہی کلب کے ڈائننگ روم میں داخل ہو گئے، دیکھا تو ان کی پی اے زیب کسی اجنبی مرد کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ انھوں نے اسی وقت ریوالور نکال کر اس عورت کو

وہیں جان سے مار دیا اور خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا۔ اس واقعے کی تمام تر تفصیلات اس زمانے کے مقامی اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں۔
سید ذوالفقار علی بخاری کے نام سے کون واقف نہیں۔ شاعری، ادب اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی شخص ہو جو ان کے نام اور کام سے شناسائی

نہ رکھتا ہو۔ وہ ریڈیو پاکستان کراچی اسٹیشن کے پہلے ڈائریکٹر جنرل اور براڈ کاسٹنگ کا انتہائی طویل اور وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ براڈ کاسٹنگ اور فنون لطیفہ پر عبور رکھنے کے علاوہ غزل کے ممتاز شاعر بھی تھے اور انھیں ایک خاص سماجی رتبہ اور حیثیت حاصل تھی۔ جب کراچی میں ٹیلی ویژن کا افتتاح ہوا تو اس وقت بخاری صاحب ہی اس کے جنرل منیجر تھے لیکن ایک غلط فہمی کی بنا پر جنرل ایوب خان نے انھیں ملازمت سے سبکدوش کر دیا تھا۔ بخاری صاحب جیسے لوگ کسی بھی معاشرے کے لیے ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو کے نامور مزاح نگار سید احمد شاہ پطرس بخاری ان کے بڑے بھائی تھے۔ لوگ بڑے بھائی کو صحیح بخاری اور چھوٹے بھائی کو غلط بخاری کہا کرتے تھے۔
ڈرانے والو کسی روز کر دکھائو بھی
مصطفی زیدی ہمارے نہایت ہونہار شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ نہایت ذہین، ذکی اور کامیاب! 1930ء میں الٰہ آباد میں پیدا ہوئے اور 1970ء میں انتقال ہوا۔ یعنی ان کی عمر کا کل دورانیہ چالیس برس پر مشتمل ہے۔ ہندوستان میں پہلے وہ تیغ الٰہ آبادی کے نام سے لکھتے رہے تھے۔ ہندوستان میں انھیں جوش ملیح آبادی اور فراق

گورکھپوری جیسی دیوقامت ادبی ہستیوں سے قربت حاصل کرنے کا شرف حاصل رہا۔ پاکستان ہجرت کرنے کے بعد مصطفی زیدی پہلے کسی کالج میں انگریزی زبان اور ادب پڑھانے پر مامور رہے۔ بعدازاں C.S.P کا امتحان پاس کر کے وہ سول سروس میں آ گئے اور پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈپٹی کمشنر کی حیثیت

سے خدمات انجام دیتے رہے۔ بنیادی طور پر زیدی صاحب جمال پرست واقع ہوئے تھے اور عورتوں کی صحبت میں خوش رہا کرتے تھے۔ عورت ان کی سب سے بڑی کمزوری تھی، وہ غالباً لاہور میں تھے جب شہناز گل کا ان سے تعارف ہوا۔ شہناز گل ایک خوب صورت حسین و جمیل کشمیری خاتون تھی جس کا ادھیڑ عمر شوہر سلیم ایک ٹھیکیدار تھا جو حکومتی ٹھیکے لینے کے لالچ میں سب کچھ کر سکتا تھا۔ مصطفی زیدی کے تعلقات شہناز گل سے استوار ہو گئے۔ بعد میں مصطفی

زیدی کا تبادلہ کراچی ہو گیا۔ ان کے پیچھے پیچھے سلیم اور شہناز گل بھی آ گئے۔ یہی یحییٰ خان کا زمانہ تھا۔ جس نے اسکریننگ کر کے 303 افسران کو بیک جنبش قلم ملازمتوں سے فارغ کر دیاتھا۔ زیدی بھی اس کا نشانہ بن گئے۔ افسر شاہی ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ جرمن بیوی ویرا زیدی اور دونوں بچے جرمنی میں

تھے، پاسپورٹ سرکار نے ضبط کر رکھا تھا، ایسے عالم میں ماسٹر ٹائر اینڈ ربر فیکٹری کے مالک فیاض ملک نے آگے بڑھ کر دوستی کا حق ادا کر دیا اور اپنے بنگلے کی انیکسی مصطفی زیدی کو رہائش کے لیے دے دی۔ اسی انیکسی میں ان کی ملاقاتیں ایک عرصے تک تو شہناز گل سے جاری رہیں، لیکن بعد میں یہ سلسلہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔ ایک دن مصطفی زیدی نے حبیب بینک پلازہ کے سگنل پر رکی ایک کار میں دیکھا کہ ان کی محبوبہ شہناز گل معروف صنعت کار آدم جی پیر بھائی کے ساتھ بیٹھی ہے۔ مصطفی زیدی جیسا حساس اور زودرنج شاعر اس نظارے کو برداشت نہ کر سکا، وہ تو سمجھتا تھا کہ شہناز گل اس کی محبت میں گرفتار ہے، اس کی چاہتوں کی اسیر ہے، لیکن یہاں تو معاملہ برعکس تھا۔ شہناز گل کی شان میں اشعار لکھنے والا شاعر جس نے کبھی لکھا تھا:
؎فن کار خود نہ تھی، مرے فن کی شریک تھی
وہ رُوح کے سفر میں، بدن کی شریک تھی
اُترا تھا جس پہ بابِ حیا کا ورق ورق
بستر کی ایک ایک شکن کی شریک تھی
یہ 1961ء کی بات ہے، میں کراچی سے اپنے دو تین احباب کے ہمراہ لاہور روانہ ہوا جہاں ہمارا قیام لوہاری دروازے کے بالمقابل نئی انار کلی کے کونے پر واقع سینٹرل ہوٹل میں رہا۔ چوں کہ شدید گرمی کے دن تھے، لہٰذا تمام دن تو ہم ہوٹل ہی میں پڑے رہتے، صرف دوپہر کو کھانا کھانے کی غرض سے کانوں پر تولیہ لپیٹ کر سامنے واقع ہوٹل ’’نعمت کدہ‘‘ میں جاتے۔

سورج ڈھلنے اور شام ہو جانے کے بعد ہم لوہاری دروازے سے فقط دس روپے کے عوض ایک پرائیویٹ ٹیکسی لیتے اور شاہ نور اور ایورنیو اسٹوڈیوز پہنچ جاتے جہاں فلمی ستاروں کی چکاچوند روشنی ہمارا استقبال کرتی تھی۔ ہم کوئی دو تین گھنٹے اسٹوڈیوز میں گزار کر ہوٹل واپس آ جاتے۔ اسی طرح ہم نے بے شمار فلمی اداکاروں کے علاوہ فلموں کی شوٹنگز بھی دیکھیں۔ ایک روز ہم دن کے وقت ہی شاہ نور اسٹوڈیوز چلے گئے۔ ہمارا لباس وضع قطع اور پرائیویٹ ٹیکسی دیکھ کر یہی گمان ہوتا تھا کہ یہ پروڈیوسر؍ڈائریکٹر کے کوئی عزیز ہیں یا کوئی سرمایہ دار۔گیٹ کیپر یا چوکیدار ہماری پرائیویٹ ٹیکسی کو دیکھتے ہی بیرئیر اوپر اٹھا دیا کرتے تھے۔
اسٹوڈیو پہنچے تو معلوم ہوا کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہے جس میں فلم اسٹار حبیب اور ذورین حصہ لے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ذورین فیض صاحب کی فلم ’’جاگو ہوا سویرا‘‘ میں کام کر چکے تھے۔ (فیض احمد فیض نے مشرقی پاکستان کے ایک مچھیرے کی زندگی پر فلم بنائی تھی جس کا نام تھا ’’جاگو ہوا سویرا‘‘ اور مچھیرے کا کردار ذورین نے ادا کیا تھا)۔ پاکستان کے مقبول ترین کامیڈین سفیر اللہ عرف لہری کو ہم نے پہلی مرتبہ 1961ء میں شاہ نور اسٹوڈیوز میں دیکھا۔ اس وقت وہ کراچی سے نئے نئے لاہور منتقل ہوئے تھے۔ ہر کس وناکس کو منہ نہیں لگاتے تھے، بہترین لباس میں ملبوس اداکار لہری نے مخصوص انداز کے جوتے پہن رکھے تھے۔ معلوم ہوا ان کا درزی اور جوتے مخصوص قسم کے ہوتے ہیں۔ میں نے ابھی ابھی آپ کو بتایا کہ وہ کسی غیر یا اجنبی کے منہ نہیں لگا کرتے تھے۔ بلکہ اپنی ذات میں مست رہنے کے عادی تھے۔ تاہم وہ ہم لوگوں کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کے لیے آمادہ ہو گئے۔جب ہم اس کارروائی سے فارغ ہوئے تو میں نے اپنی آٹوگراف بک فلم اسٹار حبیب کے سامنے کر دی جس پر انھوں نے لکھا: ’’There is another A after Z‘‘
یہ فقرہ اس وقت تو ہمارے سر سے گزر گیا لیکن کافی عمر گزارنے کے بعد ہماری سمجھ میں آیا کہ یہ جدوجہد اور مسلسل کوشش کے بارے میں ہے یعنی ABCD زیڈ پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ زیڈ کے بعد بھی ایک A اور ہے۔ آدمی کو اپنی جدوجہد جاری رکھنا چاہیے۔ یہ فقرہ دراصل فلم اسٹار حبیب کی نجی زندگی کا آئینہ دار بھی ہے، کیوںکہ سالہاسال کی مسلسل جدوجہد کے بعد ہی وہ فلمی دنیا میں داخل ہو سکے تھے۔فلم اسٹار لہری اس دنیا کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ہماری فلمی تاریخ میں ان جیسا کامیڈین نہ کبھی آیا ہے اور نہ کبھی آئے گا۔
’’کنواری بیوہ‘‘ لندن کے مضافاتی ہسپتال میں
فلمی دنیا کی بات چل نکلی ہے تو شمیم آرا کا بھی کچھ بیان ہو جائے۔ شمیم آرا اپنی نانی اور ماموں کے ہمراہ ہندوستان سے ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہو گئی تھیں۔ کراچی کے بازار حسن میں وہ ’’پتلی بائی‘‘ کے نام سے معروف تھیں جہاں وہ رقص کر کے تماش بینوں کا دل بہلایا کرتی تھیں۔ انھیں پتلی بائی اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ جسمانی اعتبار سے خاصی دبلی پتلی تھیں۔ کراچی کے ایک فلمی ہدایت کار نجم نقوی ’’کنواری بیوہ‘‘ کے نام سے فلم بنا رہے تھے جس کے لیے انھیں ہیروئن کی تلاش تھی۔ یہ ہیروئن انھیں پتلی بائی کی شکل میں مل گئی جس کا فلمی نام شمیم آرا تجویز کیا گیا۔ ایاز اس فلم میں ہیرو کا کردار ادا کر رہے تھے۔
یہ فلم کراچی کے میجسٹک سینما میں ریلیز ہوئی اور ناکام ہو گئی۔ لیکن شمیم آرا کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا… ’’کنواری بیوہ‘‘ میں ان کا کام دیکھ کر دوسرے فلم ساز اور ہدایت کار بھی ان کی جانب متوجہ ہو گئے اور وہ کراچی سے فلم نگری لاہور منتقل ہو گئیں۔ ان کی سخت گیر نانی اماں اور ماموں عثمان ان کے ساتھ سائے کی طرح لگے رہتے تھے۔ لاہور جانے کے بعد بھارت سے آئے ہوئے فلم اسٹار کمال سے ان کا اسکینڈل کافی مشہور ہوا لیکن شادی نہ ہو سکی۔ شمیم آرا نے کئی شادیاں کیں۔سب سے پہلے ان کی شادی ایک بلوچ سردار رند سے ہوئی۔ اس کے بعد مشہور فلمی ہدایت کار ڈبلیو زیڈ احمد کے بیٹے فرید احمد سے اور پھر اگفاگیورٹ فلم کے مجید کریم سے جن سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ ماضی کی یہ نامور اداکارہ گزشتہ کئی مہینوں سے فالج کا شکار اور لندن کے مضافاتی ہسپتال میں کوما کی حالت میں بے حس و حرکت پڑی ہوئی ہے جہاں ان کا بیٹا ان کی نگہداشت کر رہا ہے۔ شمیم آرا نے ماضی کی کئی خوبصورت فلموںمیں اپنی اداکاری سے چار چاند لگا دیے تھے۔
قسمت کبھی کبھی عجیب سے کھیل کھیلتی ہے
احمد بشیر معروف ٹی وی اداکارہ بشریٰ انصاری کے والد تو تھے ہی لیکن ان کا شمار اردو کے ’’باغی ادیبوں‘‘ میں بھی ہوتا ہے۔ اپنے موقف پر اٹل رہنا اور صداقت اور سچ کی خاطر بڑی سے بڑی مصیبت مول لینا ان کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ انھوں نے بے شمار کام کیے جن میں سے ایک فلم ’’نیلا پربت‘‘ کی پروڈکشن بھی تھی جو بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن احمد بشیر نے ہمت ہارنا سیکھا ہی نہیں تھا۔ نیلم احمد بشیر بھی انہی کی افسانہ نگار صاحبزادی ہیں۔ جنھوں نے امریکا جا کر ماضی کی مشہور اداکارہ اور ماضی کے خوبرو ہیروسنتوش کمار کی اہلیہ صبیحہ خانم کے بارے میں لکھا ہے:
’’ ماضی کی نامور فلمی ہیروئن صبیحہ خانم اور ان کی صاحبزادی امریکا میں مقیم ہیں اور مختلف ریستورانوں میں سموسے تیار کر کے فراہم کرتی ہیں جس سے ان کی گزر بسر ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں بعض اوقات انھیں ملاحیاں بھی سننا پڑتی ہیں۔ واضح رہے کہ صبیحہ خانم کا تعلق پنجاب کے مردم خیز ضلع گجرات سے ہے جہاں ان کے والد محمد علی ماہیانہ صرف تانگوں کے ایک بیڑے کے مالک تھے بلکہ اپنے زمانے کی مشہور طوائف بالو سے ان کا عشق بھی اپنے عروج پر تھا۔ صبیحہ خانم، محمد علی ماہیا اور بالو کے عشق کی پیداوار ہیں جنھوں نے پاکستان کی کئی مشہور فلموں میں یادگار کردار ادا کیے۔ یاد رہے کہ صبیحہ خانم کسی زمانے میں اپنے نام کے ساتھ ایم۔اے لکھا کرتی تھیں جس کا مطلب تھا محمد علی! بعد میں انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کے گریجوایٹ اور فلمی اداکار موسیٰ رضا عرف سنتوش کمار سے دوسری شادی کر لی تھی۔ سنتوش کی پہلی بیوی کا نام جمیلہ ہے۔ ان کا تعلق بھی پنجاب سے ہے۔ کسی زمانے میں صبیحہ خانم کا ستارہ عروج پر تھا۔ ان کی زندگی قابل رشک تھی، لیکن پاکستان میں فلمی صنعت کے بتدریج زوال نے انھیں بالآخر امریکا جا کر سموسے بیچنے پر مجبور کر دیا۔
تقدیر جب مہربان ہوتی ہے تو ایک گلوکار کو بھی اداکار بنا دیتی ہے
آج فلم اور ٹیلی ویژن کا مشہور اداکار نذیر بیگ عرف ندیم 1962ء تا 1964ء اسلامیہ کالج کراچی کا طالب علم تھا۔ نہایت بھولے بھالے، معصوم اور شریف نوجوان نذیر بیگ نے میٹرک کے بعد اس کالج کو داخلے کے لیے منتخب کیا۔ میں فرسٹ ائیر آرٹس جب کہ وہ فرسٹ ائیر سائنس کا طالب علم تھا۔ اس لیے ہمارے سیکشن بھی الگ الگ تھے لیکن اس سے ملاقات ہونا روز کا معمول تھا۔ کیوںکہ نذیر بیگ میں انانیت نام کی کسی شے کا کوئی وجود نہ تھا۔ وہ ہر ایک سے یوں ملتا جیسے وہ لوگ اس پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔ میںنے بار بار اسے ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ جس سے تعارف ہے اور جس سے نہیں ہے دونوں سے وہ یکساں سطح پر تعلقات برقرار رکھا کرتا۔ کالج کے سالانہ فنکشن میں نذیر بیگ بطور گلوکار شرکت کرتا اور مکیش کے گائے ہوئے نغمات گاتا… اسے پرائیویٹ فنکشنوں میں بھی مدعو کیا جاتا تھا۔ اس کی بس یہی خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طرح وہ ایک مشہور گلوکار بن جائے۔ اداکار بننا اس کے وہم و گمان اور خواب و خیال میں بھی نہ تھا۔ سالانہ امتحانات ہوئے تو میں فرسٹ ائیر آرٹس کے پرچے معاشیات میں فیل تھا، جب کہ نذیر بیگ بھی فرسٹ ائیر سائنس کے کسی پرچے میں ناکام رہا تھا۔ چناںچہ یہ دونوں پرچے دوبارہ دینے کے لیے سندھ مدرستہ الاسلام ہمارا سینٹر تھا۔ وہیں ایک مشترکہ دوست نے جس کا نام سعید الظفر تھا ہمیں ایک دوسرے سے متعارف کرایا… سعید الظفر لالو کھیت کے ان فسادات میں شہید ہو گیا جو گوہر ایوب کے جلوس فتح کے نتیجے میں برپا ہوئے تھے۔ اس کا بڑا بھائی این ایس ایف کا فعال رکن تھا۔ یہ پرچہ دینے کے بعد نذیر بیگ باقاعدگی کے ساتھ کالج آتا رہا۔ اب ہم دونوں انٹرکلاسز کے طلبہ تھے، کبھی کبھار وہ ہمارے سیکشن میں آ کر مکیش کا یہ گیت بھی سناتا:
؎’’بھولی ہوئی یادو مجھے اتنا نہ ستائو،
اب چین سے رہنے دو میرے پاس نہ آئو۔‘‘
یہ جولائی 1967ء کی بات ہے۔ میرے کالج کے ساتھی اور عزیز دوست سید اقبال احمدزیدی ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) چلے گئے تھے تاکہ اپنے والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹا سکیں۔ انھوں نے مجھے بھی ڈھاکہ آنے کی دعوت دی۔ چناںچہ جب میں ڈھاکہ پہنچا تو اقبال مجھے اس ریستوران میں چاول اور مچھلی کھلانے کے لیے لے گئے جو فلم ڈائریکٹر احتشام کی ملکیت تھا۔ اسی ریستوران میں اقبال نے مجھے بتایا کہ ایک پرائیویٹ محفل موسیقی میں نذیر بیگ کی ملاقات مشرقی پاکستان کی معروف گلوکارہ فردوسی بیگم سے ہوئی تھی جس کے اصرار پر وہ مغربی پاکستان چھوڑ کر مشرقی پاکستان آ بسا ہے۔ ڈھاکہ میں نذیر بیگ ٹیلی ویژن پر گانے گایا کرتا تھا جہاں فلم ڈائریکٹر احتشام کی بیٹی فرزانہ نے اسے پسند کر لیا اور اپنے والد سے پرزورسفارش کی کہ نئی فلم میں وہ اسے ہیرو لے لیں۔
یہ 1967ء کا واقعہ ہے، ایک دن ڈھاکہ میں، میں سید اقبال احمد زیدی کی کار میں ان کے ساتھ کہیں جا رہا تھا۔ ٹریفک سگنل پر ہماری کار رک گئی۔ برابر میں ایک کار آ کر کھڑی ہوئی جسے ماضی کا نذیر بیگ اور آج کا ندیم چلا رہا تھا۔ ’’قاضی جی اسے پہچانا، یہ اپنا نذیر بیگ ہے۔ اسلامیہ کالج والا‘‘ اقبال بولے ۔
’’میں نے گردن موڑ کر دیکھا وہ واقعی نذیر بیگ تھا۔‘‘
’’یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ایک فلم میں کام کر رہا ہے نام ہے چکوری۔‘‘
نذیر بیگ ہمیں بھولا نہیں تھا… ہم دونوں کو دیکھ کر اس نے ہاتھ ہلایا جیسے ہم دونوں سے کہہ رہا ہو۔
’’دیکھا تقدیر جب مہربان ہوتی ہے تو ایک شوقیہ گلوکار کو بھی فلمی اداکار بنا دیتی ہے۔‘‘ واقعی تقدیر کا لکھا کوئی نہیں جانتا۔
ریڈکراس کے ایک فنکشن کا احوال
بیچ لگژری ہوٹل کا شمار کراچی کے قدیم ترین ہوٹلوں میں ہوتا ہے۔ مشہور پارسی خاندان کے فرزند بہرام آواری اس ہوٹل کے مالک ہیں… اسی ہوٹل کے سبزہ زار پر ’’ہلال احمر‘‘ یعنی ریڈکراس نے اپنی ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میںپاکستان کے فلمی ستارے شریک ہوئے تھے۔ میں بھی اپنے بچپن کے لنگوٹیے یار عتیق الرحمن کے ساتھ یہ فنکشن دیکھنے کے لیے بیچ لگژری ہوٹل چلا گیا۔ رش اس قدر تھا کہ پیچھے کرسیوں پرکھڑے ہو کر ہم یہ سارا فنکشن دیکھتے رہے۔
اس فنکشن میں درپن، نیر سلطانہ، زیبا اور سدھیر نے بطور خاص شرکت کی تھی۔ یہ غالباً 1960ء کی دہائی کا واقعہ تھا۔ درپن اور نیر سلطانہ تو خیر اس وقت تک ایک دوسرے کی محبت کے اسیر ہو چکے تھے اور شادی کامنصوبہ بھی بنا چکے تھے۔ اس لیے ان دونوں کا ایک دوسرے سے والہانہ عشق اور نظربازی تو سمجھ آ سکتی ہے لیکن میں زیبا اور سدھیر کی ایک دوسرے میں محویت کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ درپن، نیر سلطانہ اور سدھیر اور زیبا ایک دوسرے کی ذات میں اتنے مدغم ہو چکے تھے کہ انھیں اس فنکشن میں عوام کی موجودگی کا سرے سے کوئی احساس نہیں ہو رہا تھا۔ ان چاروں میں سے کسی نے بھی عوام الناس کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی… بعد میں درپن نے تو نیر سلطانہ کو اپنی منکوحہ بنا لیا لیکن سدھیر نے زیب سے صرف عشق ہی کیا شادی نہیں کی، شاید اس لیے کہ وہ پہلے ہی سے شادی شدہ تھے اور شمی ان کی بیوی کا نام تھا۔
دوسروں کے لیے زندہ رہنے والے
5جولائی 1979ء کو میری شادی اردو کی نامور ادیبہ رئیس فاطمہ سے ہوئی اور کچھ ہی عرصے بعد ہم لوگ کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے کیونکہ وہاں سے نہ صرف میری اہلیہ کا کالج قریب تھا بلکہ ان کے رشتے کی ایک پھوپھی بھی وہاں رہتی تھیں،جو ہمارے بیٹے راحیل کی رضا کارانہ بے بی سٹنگ بھی کیا کرتی تھیں۔ سال ڈیڑھ سال ہم اس مکان کے ایک پورشن میں مقیم رہے۔ بعد میں ہمارا ارادہ گھر تبدیل کرنے کا ہوا۔ کسی زمانے میں میری اہلیہ جیکب لائنز کی سکینڈری اسکول میں زیر تعلیم تھیں جہاں اردو کا مضمون ایک صاحبہ پڑھایا کرتی تھیںجن کا نام مس مسرت تھا… چونکہ میری اہلیہ اردو میں بہت اچھی تھیں،ا س لیے مس مسرت انھیں بہت چاہتی تھیں اور خاصا انس رکھتی تھیں۔ بعد میں کئی سالوں کے بعد یہی مس مسرت گوٹھ مراد میمن ملیر کے ایک اسکول کی پرنسپل ہو کر آئیں۔ ایک دن ویگن میں آتے ہوئے ان کی ملاقات، میری اہلیہ سے ہو گئی جنھوں نے گھر کی تبدیلی کا ذکر مس مسرت سے کر دیا۔ مس مسرت کا قیام حیدرآباد کالونی کے ایک پرانے بوسیدہ اور خستہ مکان میں تھا۔ ان کے شوہر ہمت خان کا سعودی عرب میں انتقال ہو چکا تھا۔ اولاد کوئی نہیں تھی۔ اس لیے وہ اس وسیع مکان میں اکیلی ہی رہا کرتی تھیں۔ مس مسرت نے اپنے مکان کا ذکر میری اہلیہ سے کر دیا اور کہا کہ اگر وہ پسند کریں تو اس گھر میں آ کر رہ سکتی ہیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں… چونکہ ہم اپنے مالک مکان بالخصوص ان کی اہلیہ کے رویوں سے شاکی تھے اس لیے فوری طور پر گھر چھوڑنا چاہتے تھے۔
یہ سن اسّی کی دہائی کی بات ہے، لیکن یہاں برسبیل تذکرہ، مجھے ذرا ماضی میں جانا ہو گا جس کا ذکر کیے بغیر میں آپ کو اپنی بات سمجھا نہیں پائوں گا۔ یہ اگست 1957ء کا واقعہ ہے جب میرے مرحوم نانا جمیل الدین غوثی نے مجھے ملیر میں واقع بورڈنگ اسکول ’’جامعہ تعلیم ملی‘‘ میں داخل کرا دیا تھا۔ اسی بورڈنگ اسکول میں میرے روم میٹ محمدصالحین تھے جو بوہری بازار کراچی میں واقع پردوں اور صوفہ کورز کی مشہور دکان ’’رفیق سنز‘‘ کے مالکان میں سے ایک کے بیٹے تھے۔ میری صالحین سے گہری اور قریبی دوستی ہو گئی یہاں تک کہ بورڈنگ اسکول چھوڑنے کے بعد بھی ان سے تعلقات کا سلسلہ جاری رہا۔ بعد میں کراچی کی مشہور ڈرائی کلیننگ کی دکان ’’امریکا نو‘‘ کے مالک کی صاحبزادی سے ان کا نکاح ہو گیا۔ ان کا قیام شہید ملت روڈ کے متوازی ایک رہائشی دہلی مرکنٹائل سوسائٹی میںتھا۔ انہی دنوں غالباً وراثت کے معاملے پر صالحین کے اپنے والد اور افراد خانہ سے کچھ اختلافات ہو گئے اور وہ اپنا گھر چھوڑ کر گلشن اقبال کی ایک نو تعمیر عمارت ’’اقبال سینٹر‘‘ میں بطور کرایہ دار منتقل ہو گئے۔ ان کے حقیقی ماموں زاد بھائی امین بھی قریب ہی بننے والے کسی رہائشی پروجیکٹ سے وابستہ تھے۔ یہ فلیٹ امین ہی کے توسط سے صالحین کو کرائے پر ملا تھا۔ یہ فلیٹ جانتے ہیں کس کی ملکیت تھا؟
یہ مس مسرت کی ملکیت تھا لیکن امین کے کہنے سننے پر صالحین اسے خالی کرنے کے لیے تیار نہ تھے حالانکہ اب وہ اپنے والد کے گھر واپس جا چکے تھے۔ امین نے سوچا ہو گا یہ فلیٹ ایک بیوہ خاتون کی ملکیت ہے لہٰذا اس پر قبضہ کر لینا مشکل نہ ہو گا۔ میں نے صالحین کے ساتھ شب و روز بسر کیے ہیں وہ ہرگز ہرگز ایسا انسان نہیں جو کہ کسی کی املاک پر یوں قبضہ کر لے۔ اس بات کو ایک برس ہوچکا تھا۔جب مس مسرت نے مجھے یہ سارا احوال سنایا اور فلیٹ پر قبضے کی پوری تفصیل بتائی تو میرے سامان میں وہ البم بھی شامل تھا جو نقل مکانی کے وقت میں اپنے ہمراہ لایا تھا اور سامنے ہی رکھا تھا۔
میں جھٹ دوڑ کر وہ البم اٹھا لایا جس میں صالحین کے ساتھ میری کئی تصاویر موجود تھیں۔ میں نے وہ البم مس مسرت کے سامنے رکھ دیا اور پوچھا کہ ’’کیا صالحین یہی ہیں۔‘‘ انھوں نے ہاں میں جواب دیا اور گردن ہلا ہلا کر کہنے لگیں ’’یہی صالحین صاحب ہیں۔ انھوں نے میرا گلشن اقبال سینٹر کا فلیٹ کرائے پر لیا ہے اور اب ایک سال ہونے کو آیا ہے وہ اپنے گھر واپس جا چکے ہیں لیکن نہ اس فلیٹ کا کرایہ ادا کرتے ہیں نہ اسے خالی کرنے کا عندیہ ہی دیتے ہیں۔‘‘ ساری بات میری سمجھ میں آ چکی تھی۔ دوسرے روز میں صالحین کے گھر ’’رفیق ہائوس‘‘ پہنچ گیا۔ صالحین اور ان کی سانولی سلونی بیگم سے ملاقات ہوئی۔ میں نے تخلیے میں سارا واقعہ صالحین کے گوش گزار کر دیا۔ وہ اتنا نیک اور صالح انسان ہے کہ اس نے نہ صرف اس فلیٹ کی چابیاں اسی وقت میرے حوالے کر دیں بلکہ دوسرے ہی روز اپنی کار میں بٹھا کر سامان سمیت ہمیں حیدرآباد کالونی سے گلشن اقبال کے اس فلیٹ میں لے گیا جس کی مالکہ مس مسرت تھیں۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں اس فلیٹ میں چلے جانا چاہیے۔
اس فلیٹ میں زیادہ عرصہ تک ہمارا قیام نہیں رہا کیونکہ مس مسرت کا بھانجا اور بہن اسلام آباد سے کراچی آ کر اسی فلیٹ میں رہائش اختیار کرنے والے تھے۔ تاہم مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ چلو زندگی میں کوئی نیک اور اچھا کام توکیا ایک بیوہ خاتون کا زیر قبضہ فلیٹ اسے واپس دلا دیا۔ ورنہ یہ فلیٹ کبھی انھیں نہیں مل سکتا تھا جو بے حد قیمتی تھا۔ کیونکہ مس مسرت کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کرنا چاہتی تھیں وہ تو بس اللہ توکل بیٹھی تھیں۔ نامعلوم مس مسرت اب کہاں اور کس حال میں ہیں؟ صالحین نے خیّام سینما کے انہدام کے بعد وہیں بننے والی مارکیٹ میں صوفوں اور پردوں کا کاروبار کر لیا ہے۔ میں یہ بات تو آپ کو بتانا بھول ہی گیا کہ مس مسرت کے پاس صرف ایک ہی ٹیبل فین تھا جو انھوں نے ہمارے بچے کی خاطر ہمیں دے دیا تھا۔ اللہ! اللہ اب ایسی ہستیاں دیکھنے کو بھی نہیں ملتیں جو صرف دوسروں کی خاطر جیتی ہیں۔ تعلق تو ان کا حیدرآباد دکن سے تھا لیکن چونکہ ان کے والد ریاست رام پور میں ملازمت کرتے تھے اس لیے ان کی زندگی کا بیشتر حصہ اسی ریاست میں گزرا تھا۔
مرے مزاج سے دریا دلی کبھی نہ گئی
یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب جنوبی ایشیا کے ممتاز ادیب، صحافی، شاعر اور دانشور جناب محمود شام جنگ گروپ آف پبلی کیشنز کے گروپ ایڈیٹر ہوا کرتے تھے۔ یہ خاکسار ان کے ماتحت کی حیثیت سے سب ایڈیٹر کے طور پر2000ء سے کام کر رہا تھا۔ سن تو مجھے ٹھیک سے یاد نہیں رہا لیکن غالباً2009-2010ء کی بات ہے کہ ایک شام اچانک اتنی تیزی کے ساتھ اور بہت ہی کم وقت میں ایسی ہولناک بارشیں ہوئی تھیں کہ شہر کے کوچہ و بازار میں جگہ جگہ گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا تھا۔ پورا راستہ جل تھل تھا، جانے کے لیے کوئی راستہ ہی نہ رہا تھا۔ میری طبیعت بھی اس روز کچھ ناساز تھی۔ شام جی اپنے کمرے میں موجود بدستور کام میں مصروف تھے۔ میں گھبرایا ہوا ان کے کمرے میں داخل ہوا اور ان سے درخواست کی کہ اگر وہ اپنی کار میں گھر جا رہے ہیں تو ازراہ کرم مجھے بھی راستے میں ڈراپ کر دیں۔ شام جی بولے ’’میری کار چار گھنٹے سے ائیرپورٹ سے واپس آتے ہوئے ٹریفک جام میں پھنسی ہوئی ہے۔ کلفٹن کے علاقے میں میری بیٹی کے گھر بارش کا پانی جمع ہوگیا ہے لیکن میں وہاں بھی نہیں جاسکتا آپ کھانا وغیرہ کھالیں پھر دیکھتے ہیں۔ صرف ان کے کہنے پر کینٹین کا بیرا میرے لیے کھانا لے آیا۔ کوئی ایک گھنٹا گزر گیا کہ شام جی اپنے کمرے سے نکل کر نیوزروم میں داخل ہوئے اور سب سے مخاطب ہو کر انھوں نے اپنے ہمراہ کار میں آنے کی دعوت دی۔ اتفاق دیکھیے کہ روزنامہ جنگ کراچی کے ڈپٹی ایڈیٹر بھی اپنے کمرے میں موجود تھے لیکن انھوں نے کسی سے پوچھنے کی زحمت تک نہیں فرمائی کہ وہ اپنے گھر کیسے جائیں گے؟
ایک میں دوسرے ارشد صابری اور شام جی گرائونڈ فلور پر جیو کے دفتر سے ملحق گلی میں کھڑی کار میں داخل ہوگئے، جہاں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا تھا ہم سب اسی حالت میں شام جی کی کار میں سوار ہوگئے۔ ہر طرف اندھیرے کا راج تھا کیونکہ بجلی علاقے سے جا چکی تھی۔ میں اور ارشد صابری کار میں پچھلی نشست پر جب کہ شام جی اگلی نشست پر ڈرائیور کے ساتھ براجمان ہوگئے سڑک پر پانی اتنا زیادہ تھا کہ اس کے انجن میں داخل ہونے کا خدشہ موجود تھا شام جی نے ڈرائیور کو پہلی ہدایت یہی دی کہ دیکھو اگر پانی انجن میں داخل ہوگیا تو کار کا چلنا ناممکن ہوجائے گا لہٰذا تم پوری طرح یہ خیال رکھو کہ پانی کسی بھی طرح کار کے انجن میں داخل نہ ہونے پائے۔ ڈرائیور نے شام جی کی ہدایت پر عمل شروع کر دیا، اب شام جی ہدایات دے رہے تھے اور ڈرائیور ان پر عمل پیرا تھا۔ شہر کراچی کے سبھی راستوں سے شام جی کی گہرائی آشنائی کا اندازہ مجھے اس رات ہوا۔
اب ڈرائیور صرف اس راستے پر گاڑی لے جا رہا تھا جس کی ہدایت اسے شام جی کی طرف سے دی جا رہی تھی۔ دائیں موڑو۔ بائیں طرف چلو۔ اب سیدھے چلتے رہو۔ وقتاً فوقتاً وہ یہ ہدایات اپنے ڈرائیور کو دیتے رہے اسی طرح ہم ان راستوں پر گہرے پانی کا سفر کرتے ہوئے واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا پہنچ گئے۔ میں وہیں اُتر گیا اور رکشا لے کر عائشہ منزل اپنے فلیٹ میں پہنچ گیا۔ میری بیوی اور اسلام آباد سے آیا بیٹا میرے انتظار میں جاگ رہے تھے۔ اس وقت رات کے دو بج رہے تھے کوئی ڈھائی بجے شام جی کا فون آیا ’’آپ گھر خیریت سے پہنچ گئے۔‘‘ ’’جی سر میں پہنچ گیا ہوں۔‘‘ ’’آپ کا بے حد شکریہ۔‘‘ یہ کہہ کر بے اختیار آنسو میری آنکھوں میں آگئے۔ ایسے ہوتے ہیں بڑے لوگ اور ایسی ہوتی ہیں ان کی باتیں۔ میرا بیٹا حیرت سے مجھے دیکھنے لگا۔