function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

ایماندار

سلطان جمیل نسیم | اردو ادب

تیس برس پہلے ایسا ہوا تھا کہ میں اڑا دینے والی تیز ہوا کی ز د سے نکل کر ایک پناہ گاہ میںپہنچ گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اس زمانے میں دسویں کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ ایک دن پڑھتے پڑھتے دماغ شل ہو گیا۔ نظریں پتھرا گئیں۔ کتابیں کھلی ہوئی قبریں معلوم ہونے لگیں اور لفظ بے جان لاشیں۔ تب میں اپنے کمرے کی گھٹی ہوئی فضا سے گھبرا کے باہر نکلا۔ کچھ دیر گھر کے چھوٹے سے صحن میں کھلے آسمان کے نیچے کھڑا لمبے لمبے سانس لیتا رہا۔ پھر بغیر کسی ارادے کے باہر نکل آیا اور ٹہلتا ہوا اسٹیشن تک آ گیا۔

چھوٹے شہروں میں بڑی تفریح گاہ ریلوے اسٹیشن ہی ہوا کرتا تھا (یا شاید اب بھی ہو) کہ فرلانگ بھر چلے اور پہنچ گئے۔ کسی ریل کے آنے کا وقت ہوا، تو مسافروں کی گہماگہمی دیکھ کر تکان رفو چکر ہو گئی۔ ورنہ ویران اسٹیشن، دو چار آوارہ کتے، نیم غنودگی کے عالم میں کسی بینچ پر لیٹا ہوا خوانچہ فروش یا مسافر اور بس! مگریہی ویرانی پلاٹنگ پیپر کی طرح کسلمندی اور بیزاری چوس لیتی۔ اگر اتفاق سے ایکسپریس کے آنے کا وقت ہوا، تو سماں ہی دوسرا نظر آتا۔ ریل کے رکنے کا وقت دوچار منٹ مگر معلوم ہوتا کہ گاڑی ساری زندگی یہیں ٹھہری رہے گی۔

آنے جانے والوں کے لیے دگنی تعداد میں قلی موجود۔ خوانچہ فروشوں کی آواز میں لشکارے مارتی ہوئی امید۔ ریلوے کا مختصر مگر متحرک عملہ… شہر بھر کے تانگے یوں تو مسافر گاڑیوں کی آمد پر جمع ہو ہی جاتے تھے، لیکن ایکسپریس کے وقت ان کی چونچالی دیکھنے کے قابل ہوتی۔ سواریوں کو لبھانے کے لیے بنے سنورے تانگوں کے پائدانوں پر کھڑے ہو کر ایسی آوازیں لگاتے جیسے روٹھی قسمت منا رہے ہوں۔ اس وقت شہر کے چند منچلے بھی اپنے صاف ستھرے لباس میں اسٹیشن پر ضرور موجود ہوتے۔ وہ زنانے ڈبوں کے سامنے سے بار بار گزرتے وہیں رک کر آپس میں باتیں کرتے۔ جیب سے کنگھا نکال کر بالوں پر پھیرتے۔

میں جب اسٹیشن پہنچا، تو ایکسپریس کو روانہ ہوئے ذرا سی دیر ہوئی تھی۔ وہاں پھیلی ہوئی رونق نے ابھی پوری طرح اپنی صورت نہیں بدلی تھی۔ میں جاتے ہوئے لوگوں کو دیکھتا ہوا سیمنٹ کے بینچ پر جا کے بیٹھ گیا جو کثرت استعمال سے خاصی چکنی ہو گئی تھی۔ اس بینچ پر بیٹھے ہوئے ابھی چند لحظے ہی گزرے تھے کہ مجھے احساس ہوا جیسے میرے پیروں کے پاس کچھ ہے۔ شاید کوئی خارش زدہ کتا یا سہمی ہوئی بلی۔  میں نے بے اختیار اپنے پیر سمیٹ کر اوپر اٹھا لیے اور جھک کر دیکھا۔ آنکھیں یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں ٹھٹک کر رہ گئیں۔ وہاں ایک پلاسٹک کی ٹوکری رکھی تھی۔ بلا ارادہ میں نے اٹھا کر اپنے قریب رکھ دی۔ کاغذ میں لپٹی ہوئی روٹیاں اور ایک کرمچ کی گیند اوپر ہی رکھی دکھائی دی۔ اس میں پڑی ہوئی دوسری چیزیں دیکھنے سے پہلے میں نے ریلوے اسٹیشن پر نظر دوڑائی۔ ذرا دیر پہلے کی رونق کو نگل کر ویرانی اس طرح انگڑائی لے رہی تھی جیسے کوئی درندہ شکار سے پیٹ بھرنے کے بعد پائوں پھیلا کر سوتا ہے۔

میں نے گیند اٹھا کر ٹوکری میں چونکا تو مجھے زنانہ پریس کی جھلک دکھائی دی۔ دل چاہا کہ پرس کو فوراً نکال لوں مگر اپنی خواہش پر جلد قابو پا لیا۔ کاغذ میں لپٹی ہوئی روٹیاں پرس کے اوپر کھسکائیں، تو ایک میلے سے دو پٹے میں لپٹے ہوئے دو سینڈل بھی نظر آئے۔ میں نے کرمچ کی گیند ٹوکری میں رکھی۔ مڑ کر دیکھا، اندھیرا پھیل رہا تھا اور اسٹیشن کے باہر کھڑے دو ایک تانگوں کی ٹمٹماتی بتیاں نظر آ رہی تھیں۔  میں اٹھا، ٹوکری کو اٹھایا اور جس راستے سے آیا تھا، اس کی مخالف سمت چلنے لگا۔ پلیٹ فارم ختم ہوا۔ کچا راستہ… پھر ٹوٹی ہوئی دیوار… پھر ویران سڑک… پھر اندھیرے میں ڈوبی ہوئی گلی۔ پھر میرا گھر… اپنے گھر میں چوروں کی طرح داخل ہوا۔ کمرے میں پہنچا۔ دروازہ بند کر کے لالٹین کی بتی اونچی کی۔ ہاتھ میں اٹھائی ٹوکری کو چارپائی پر رکھا۔ پہلے گیند نکالی۔ پھر اخباری کاغذ میں لپٹی ہوئی روٹیاں، پھر زنانہ پرس، پرس کھولا۔

اس میں دو سونے کی چوڑیاں تھیں… ایک تڑے مڑے پوسٹ کارڈ کے ساتھ دس دس روپے کے چند نوٹ۔ کچھ ریز گاری، دو ہئیرپن… پرس میں سے کوئی چیز نکالے بغیر میں نے اسے چارپائی پر رکھا۔ دوپٹے میں لپٹے ہوئے سینڈل بھی ٹوکری سے نکالے۔ اب کسی بچے کی نیکر اور قمیص کے سوا اس میں کوئی اور چیز نہ تھی۔ میں نے پرس اٹھا لیا۔ اس میں سے نوٹ نکالے۔ چھے نوٹ تھے۔ ان نوٹوں کے ساتھ وہ تڑا مڑا پوسٹ کارڈ بھی باہر آ گیا۔ میں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی… ساٹھ روپے… اتنی تو ابا کی پنشن ہے۔ سارا گھر چلتا ہے اس پر! اماں نے میری امتحانی فیس دینے کے لیے پتا نہیں کب کی جمع جتھہ نکالی تھی۔ وہ بھی ان ہی ساٹھ روپوں میں سے بچت کر کے رکھی ہو گی… یہ دو چوڑیاں بھی ہیں، یہ اماں کو دے دوں گا۔ لیکن کیا کہہ کر؟ اور یہ ہیں کس کی؟ اس ٹوکری سے تو کچھ اتا پتا نہیں چل رہا۔

اللہ میاں شاید اسی طرح غیب سے دیتے ہیں۔ اماں چوڑیاں پہن کر کتنی خوش ہوں گی۔ مگر جو انھوں نے پوچھ لیا کہ کہاں سے آئیں؟ نہیں ابھی چھپا دوں۔ میٹرک کے بعد نوکری کروں گا۔ پہلی تنخواہ کے ساتھ اماں کو دوں گا۔
کچھ دیر تک نوٹ کو مٹھی میں دبائے رہا۔ چوڑیاں ہتھیلی پر رکھ کر ان کے وزن کا اندازہ کرتا رہا۔ پھر انھیں پرس میں رکھا۔ پھر پرس میں رکھنے کے لیے پیروں کے پاس پڑا ہوا وہ پوسٹ کارڈ بھی اٹھا لیا۔ کسی ارادے اور تجسس کے بغیر اس کی سلوٹیں درست کیں۔ پتا پڑھا۔ ارے یہ تو عزیز بھائی کے نام ہے۔ ہاں ولدیت کے ساتھ ان کا پتا لکھا ہے۔ ان کے باپ کا نام رحیم الدین ہے اور یہ کارڈ جہاں بھیجا گیا ہے، آج کل عزیز بھائی وہیں تو ملازمت کر رہے ہیں۔ یہاں اسی محلے میں تیسرا مکان ہے ان کا…  خط کا مضمون پڑھا۔ ان کے والد کی طرف سے تھا۔

دو مہینے پہلے کی تاریخ… کیا وہ چھٹی پر آئے ہوئے تھے اور آج چھٹیاں ختم کر کے گئے؟ ان کا ایک بیٹا ہے، دو ڈھائی سال کا، یہ نیکر، یہ قمیص، یہ گیند اسی کی ہو گی… اور یہ چوڑیاں ان کی بیوی کی۔ ان کے والد میرے ابا کے دوست ہیں۔ دن ڈھلے دونوں ہرروز ملتے ہیں۔ اماں تو یہ چوڑیاں پہچان لیں گی۔ اگر اماں نہ بھی پہچانیں اور ان لوگوں نے اماں کو پہنے دیکھ لیا؟ یہ ساٹھ روپے، یہ توخیر میرے بہت کام آئیں گے۔ مگر ان سینڈلوں کا کیا ہو گا کہاں پھینکوں گا ان کو… اور اس قمیص اور اس نیکر کو… اور اس ٹوکری کو۔

میں نے پیسے اور پوسٹ کارڈ پرس میں رکھے۔ پرس کو اسی طرح ٹوکری میں ڈالا۔ بالکل پہلے کی طرح اوپر گیند اور کاغذ میں لپٹی ہوئی روٹیاں اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔ دروازہ بند کرنے سے حبس ہو گیا تھا۔ پسینا بہنے لگا۔ میں نے دروازہ کھول دیا۔ ہوا کمرے میں آئی تو لالٹین میں جلتی ہوئی بتی کی لو ذرا تھرتھرائی اور جب ہوا سے مانوس ہو گئی، تو پھر پہلے کی طرح ایک سی لو دینے لگی۔ میں ٹوکری اٹھائے جب عزیز بھائی کے گھر پہنچا، تو باہر چبوترے پر مونڈھے ڈالے ان کے والد، ابا کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

مجھے دیکھ کر ابا نے پوچھا ’’کیا ہے؟‘‘ میں نے آہستہ سے کہا ’’میں اسٹیشن گیا تھا۔ وہاں بینچ کے ساتھ یہ ٹوکری رکھی تھی۔ یہ شاید عزیز بھائی کی ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی ان کے والد نے میرے ہاتھ سے ٹوکری جھپٹ لی۔ چیزوں کو الٹ پلٹ کے دیکھا اور کہا ’’ہاں، اسی کی ہے، آج ہی تو ایکسپریس سے گیا ہے۔ بہو ہماری بڑی بے پروا ہے… دیکھو، ٹوکری اسٹیشن پر چھوڑ دی۔ کسی اور کے ہتھے چڑھ جاتی، تو… پتا نہیں کیا کیا رکھا ہے اس میں… لے بیٹے… اندر جا کے اپنی چاچی کو دے آ۔‘‘

جب میں ان کے گھر سے نکلا، تو مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے میں تیز ہوائوں کی زد سے نکل کر دیوار کی آڑ میں آ گیا ہوں۔ دوسری مرتبہ آج… آج جب کہ میرا بیٹا ڈاکٹری پڑھ رہا ہے۔ بیٹی اپنے گھر میں خوش و خرم ہے۔ باقی بچے بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اور میں اپنی ملازمت سے آنے کے بعد ٹیوشن بھی پڑھانے لگا ہوں۔ ٹیوشن کا قصہ یوں ہے کہ انسان کی ضرورتیں جب پائوں پساریں، تو آمدنی کی چادر سکڑ جاتی ہے۔ میں نے اپنی سرکاری ملازمت کے دوران شادی کی… بچوں کا خرچہ اٹھایا… لڑکی کے فرض سے سبکدوش ہوا… لیکن کبھی محسوس نہیں کیا کہ آمدنی کم ہے یا کوئی ضرورت پوری ہونے سے رہ گئی۔

مگر جب بچوں نے میرے رفو کیے ہوئے کوٹ کو نظر انداز کر کے نئی یونیفارم کا تقاضا کیا۔ بیوی نے مہینے سے پہلے تنخواہ ختم ہو جانے پر پہلے حیرت ظاہر کی پھر احتجاج شروع کیا، تو مجھے احساس ہوا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ سر ڈھکنے سے پائوں کھلنے لگے ہیں۔ چناںچہ ٹیوشن پڑھانے لگا۔ وکیل صاحب کے دو بچوں کو پڑھانے جاتا ہوں۔ ایک بینک افسر کی بیٹی کو پڑھاتا ہوں۔ یوں ضرورتوں کے منہ میں لگام ڈال دی۔ ان تین بچوں کو پڑھاتے ہوئے جب ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا، تو وکیل صاحب کی پرزور سفارش پر میں ارشد کے والد سے ملا جنھوں نے بہت ہی ملتجیانہ لہجے میں اپنے بیٹے کو پڑھانے کی درخواست کی۔ میںنے بھی یہ سوچ کر کہ وکیل صاحب کے گھر سے واپسی پر راستے ہی میں ان کا مکان ہے، اقرار کر لیا۔

میںنے فیس کبھی طے نہیں کی۔ خدا کا شکر ہے کہ معاوضہ ہر جگہ سے معقول ہی ملا۔ مہینا بھر پڑھانے اور بچوں کی باتوں سے گھریلو حالات کا اندازہ لگانے کے بعد اپنے ذہن میں فیس کا تعین کر لیتا۔ اور ہمیشہ توقع سے زیادہ پایا۔ ارشد کو بھی چند روز پڑھانے کے بعد میں نے اندازہ کر لیا کہ یہاں سے تیس چالیس روپے سے زیادہ نہیں ملیں گے۔ مہینے کے ا ختتام پر ارشد نے ایک بند لفافہ لا کردیا۔ میں نے عادت کے مطابق کھولے بغیر جیب میں رکھ لیا۔ گھر جا کر دیکھا تو پچاس روپے تھے۔

بیوی نے بڑی ناک بھوں چڑھائی کہ وکیل صاحب تو دو بچوں کے ڈھائی سو روپے دیتے ہیں۔ دوسری جگہ سے بھی ایک بچی کو پڑھانے کے ڈیڑھ سو ملتے ہیں اور یہاں سے صرف پچاس روپے! بیوی کے کہنے سے فیس مجھے بھی کم معلوم ہوئی۔لیکن یہ سوچ کر خاموش رہا کہ ارشد کے والد کسی نجی ادارے میں معمولی درجے کے ملازم ہیں اور میں اپنی دونوں جگہ کی ٹیوشن کے مقابلے میں یہاں نصف وقت بھی نہیں دیتا۔ پھر وکیل صاحب کی سفارش بھی ہے۔

دوسرے مہینے بھی یہی ہوا۔ کل تیسرے مہینے کے اختتام پر جب ارشد نے مجھے لفافہ دیا، تو گھر آنے کے بعد اسی طرح وہ بیوی کے سپرد کر دیا۔ جب ہاتھ منہ دھو کر کھانے کے لیے بیٹھا، تو بیوی نے کہا: ’’جس حساب سے مہنگائی بڑھتی ہے اور خرچہ بڑھتا ہے۔ تنخواہ کیوں نہیں بڑھتی؟‘‘ میں ہنس دیا۔ وہ بولی ’’آج کلثوم کا خط آیا ہے۔ اتوار کو آ رہی ہے۔ اسی مہینے کو بچوں کی امتحانی فیس بھی جاتی ہے۔ یہ دو ڈھائی سو روپے کا خرچہ ہے اور فیس بڑھتی ہے صرف دس روپے۔

’’دس روپے! کس کی فیس بڑھی ہے؟‘‘ ’’آج جو لفافہ دیا ہے اس میں ساٹھ روپے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے لفافہ نکالا۔ دس دس روپے کے چھے نوٹ تھے۔ میں نوٹ گننے کے بعد خاموش ہو گیا۔ وکیل صاحب نے بھی جب فیس بڑھائی تھی، تو اسی طرح لفافے میں پچاس روپے کا اضافہ کردیا تھا۔ مگر وکیل صاحب نے تو سال بھر کے بعد اضافہ کیا تھا۔ تیسرے ہی مہینے دس روپے بڑھا دینے پر مجھے حیرت اس لیے نہیں ہوئی کہ میں نے ان تین مہینوں میں کم وقت دینے کے باوجود ارشد پر پوری توجہ دی تھی۔ جن مضامین میں وہ کمزور تھا خاص طور پر ان پر! اب وہ اپنی ذہانت اور میری محنت کے باعث جماعت کے اچھے طالب علموں میں شمار ہونے لگا تھا، تو ممکن ہے کہ سہ ماہی رپورٹ دیکھنے کے بعد اس کے والد نے یہ اضافہ کر دیا ہو۔ ویسے آج کل کے زمانے میں ساٹھ روپے میں کون پڑھاتا ہے۔

آج جب میں وکیل صاحب کے بچوں ک پڑھانے کے بعد ارشد کے گھر پہنچا، تو وہ دروازے پر میرا منتظر تھا۔ مجھے لے جا کر اسی کمرے میں بٹھایا جہاں وہ ہمیشہ پڑھتا ہے۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ آج اس کی توجہ پڑھائی کی طرف روز جیسی نہیں، وہ بار بار بند دروازے کو دیکھ رہا ہے۔ دو کمروں کے اس مکان میں، ارشد اپنے والدین اور چھے بہن بھائیوں کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی عمر بارہ برس کے لگ بھگ ہے، لیکن اپنی عمرکے بچوں کے مقابلے میں وہ بہت سنجیدہ ہے۔ میں اس وجہ سے واقف ہوں جو کم عمری میں حساس بچوں کو سنجیدہ کردیتی ہے کہ میں بھی اس عمر میں ایسا ہی تھا۔ ہر مرتبہ کتاب اٹھاتے وقت اس کی آنکھیں میری جانب اٹھتیں اور لڑکھڑاکے جھک جاتی۔ ہونٹ ایسے لرزتے جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو۔ اس کی کشمکش محسوس کرتے ہی مجھے یہ خیال آیا، اب کیونکہ وہ خلا پورا ہو گیا ہے جس کے سبب وہ اپنی جماعت میں پیچھے تھا۔

بچہ ذہین ہے اور محنتی بھی۔ گھریلو حالات ایسے نہیں کہ مستقلاً ٹیوشن کا بوجھ اٹھ سکے۔ اسی لیے آج وہ مجھ سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں کل سے نہ آئوں… اور شاید اسی لیے کل مجھے دس روپے زیادہ دیے گئے۔ یہ خیال آتے ہی میں نے دل ہی دل میں حساب لگایا کہ یہ پچاس روپے آمدنی میں شامل ہونے کے بعد کتنے چھوٹے چھوٹے اخراجات کی چھت کے لیے ستون بن گئے تھے؟ اگر مجھے یہ خبر ہوتی کہ یہ ٹیوشن اتنے مختصر عرصے کے لیے ہے، تو میں میڈیکل اسٹور والوں کے بیٹے کو پڑھانے سے انکار نہ کرتا۔ یہ ضرور ہے کہ ان کا گھر دور ہے۔ آنے جانے میں ہی گھنٹا بھر نکل جاتا۔ لیکن ارشد کے مقابلے میں فیس بھی تو دوگی ہوتی یا شاید اور زیادہ، یہ خیال میرے ذہن میں تاسف کے جھاگ بنانے لگا۔

میں نے یہ بھی سوچا کہ میں اتنی ضرورتوں کو اپنے دکھ کی طرح تماشا بنانے کا عادی نہیں۔ اس لیے ایک ٹیوشن چھُٹ جانے پر کسی سے کہہ بھی نہیں سکوں گا کہ مجھے فوراً اس کا بدل چاہیے… ہاں… یہاں سے جاتے وقت میڈیکل اسٹور کے سامنے سے ضرور گزروں گا۔ بلکہ بیس پچیس پیسے والی کوئی گولی خریدنے اندر چلا جائوں گا۔ اگر ان کو اب بھی ضرورت ہوئی، تو خود کہیں گے اور اگر انھوں نے کوئی بات نہ کی، تو… کل وکیل صاحب سے ضرور تذکرہ کروں گا۔ کل کیوں کہوں، آج ہی میڈیکل اسٹور سے نکل کر ان کے دفتر چلا جائوں گا۔ ان کے دفتر میں موکلوں کا تو جمگھٹا لگا رہتا ہے۔ جانے میں کیا حرج ہے۔ ممکن ہے کسی موکل نے ہی وکیل صاحب سے ٹیوٹر کی ضرورت کا اظہار کیا ہو۔

میں نے ارشد کو بغور دیکھا۔ وہ مجھے اپنی معصوم اور خوفزدہ نظروں سے تکے جا رہا تھا۔ مجھے ایسے ذہین بچے کی ٹیوشن جاتے رہنے کا افسوس شدت سے ہونے لگا۔ وقت تھم تھم کر گزر رہا تھا۔ ارشد کا ذہن پڑھائی کی جانب تھا نہ میں یکسوئی سے پڑھا رہا تھا۔ آخر میں نے گھڑی دیکھی اور ارشد نے کتاب بند کی۔ اس وقت دروازے کی دوسری جانب سے اس کی والدہ کی آواز آئی: ’’ارشد! تم نے بات کی ماسٹر صاحب سے۔‘‘ ارشد نے کوئی جواب دیے بغیر میری جانب نظریں اٹھائیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ ہم دونوں کا دکھ مشترک ہے۔ اسے اپنی پڑھائی اور مجھے آمدنی چھٹ جانے کا صدمہ ہے۔ میںنے پوچھا: ’’کیا بات ہے بیٹے؟‘‘

ارشد خاموش رہا۔ دروازے کے قریب اس کی والدہ اس انتظار میں رہیں کہ ارشد کچھ کہے۔ جب انھوں نے سمجھ لیا کہ ارشد میں بات کرنے کی ہمت نہیں تب انھوں نے آہستہ سے مجھے مخاطب کیا: ’’ماسٹر صاحب! ایک بات عرض کرنی ہے۔ برا نہ مانیے گا۔‘‘ میں سمجھ چکا تھا کہ اب وہ مجھے کل سے ’’زحمت نہ فرمانے‘‘ کے لیے کہیں گی۔ آدمی جب خودمجبور ہو، تو دوسرے کی مجبوری بلا جواز سمجھنے لگتا ہے۔ میری کیفیت ایسی ہی تھی۔
انھوں نے کہا ’’ارشد کے ابا کی لگی بندھی تنخواہ ہے جس کے ایک ایک پیسے کا ہمارے پاس حساب ہے۔ کل آپ کو جو فیس دی ہے، شاید آپ نے دیکھ لی ہو۔اسی لیے پوچھ رہی ہوں… اس میں دس روپے زیادہ تو نہیں آ گئے؟‘‘
ارشد کی والدہ کا کپکپاتا ہوا لہجہ، میرے اندازے کے خلاف بات… ایک سناٹا میرے وجود میں ہوا کے تیز جھونکے کی طرح پھیلنے لگا۔ ارشد میری طرف ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اس کی والدہ نے مجھ پر کوئی سنگین الزام لگا دیا ہو۔ میں لمحہ بھر خاموش رہا۔ پھر میز کے سہارے رکھی اپنی چھڑی اٹھائی اور آہستہ سے کہا: ’’جی، میں نے گن لیے تھے۔ پورے پچاس تھے۔‘‘
جب میں اس مکان سے نکلا، تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میری پناہ گاہ مسمارہو گئی اور میں تیز آندھی کی زد میں ہوں۔۱