function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

دنیا بدل دینے والے سُپر کمپیوٹر

سید عاصم محمود | تحقیق و جستجو

یہ  1878ء کی بات ہے‘ تھامس ایلوا ایڈیسن نے ایسا بلب ایجاد کرنے کا تہیہ کیا جسے عوام سستے داموں خرید سکیں۔ تاریخ انسانی کے اس مشہور موجد کو ایسا چھوٹا گھریلو بلب تیار کرنا تھا جو تھوڑی حدت خارج کرے‘ طویل عرصہ چلے اور اس میں کم بجلی خرچ کرنے والے آلے نصب ہوں۔

ایڈیسن نے بنیادی طور پر فطری جبلت کی راہنمائی سے ہزارہا کاربنی مادے (Materials)آزمائے اور انھیں ٹیسٹوں سے گزارا جن میں لکڑی اور ناریل کے خول سے لے کر اپنے لیبارٹری اسسٹنٹ کے بال تک شامل تھے۔ چودہ ماہ کی محنت کے بعد آخرکار وہ کاربنی سوتی دھاگے سے بنا فلامنٹ (Filament)بنانے میں کامیاب رہے۔
گھریلو بلب کی ایجاد کو امریکی میڈیا نے ’’عظیم ترین ایجاد‘‘ کہہ کر پکارا۔ حالانکہ بلب ابھی ناپختہ حالت میں تھا۔ یہی وجہ ہے‘ صرف بیس سال بعد ایک امریکی موجد‘ ولیم ڈیوڈ کولج نے 1910ء میں ٹنگسٹن فلامنٹ ایجاد کر لیا۔ اسی ایجاد نے تاریک رات میں دنیا کو روشن کر ڈالا۔ ایڈیسن کا تیار کردہ فلامنٹ قصۂ ماضی بن گیا۔

یہ زیادہ مفید فلامنٹ ایک سائنسی علم ’’میٹریلز سائنس‘‘ کے ذریعے وجود میں آیا۔ اس علم سے وابستہ سائنس دان مختلف مادوں پر تحقیق کر کے نیا خام مادہ ایجاد کرتے ہیں۔ ایک سو سال قبل یہ ابتدائی حالت میں تھی‘ لیکن آج یہ بڑا اہم اور انسان دوست علم بن چکا۔

وجہ یہ ہے کہ ’’کوانٹم طبیعات‘‘ کی مدد سے ماہرین مادوں کے سربستہ راز اور اسرار جان چکے۔ کوانٹم طبیعات علم طبیعات کی ایسی شاخ ہے جس میں مادوں کا انتہائی عمیق یعنی ایٹمی سطح پر مطالعہ ہوتا ہے۔ چناںچہ اب سائنس دان بہتر طور پر جاننے لگے ہیں کہ فلاں مادے کی خوبیاں و خامیاں کیا ہیں اور اُسے کیونکر استعمال کرنا ممکن ہے۔

صبر آزما طویل دور
میٹریلز سائنس کی تمام تر ترقی کے باوجود آج بھی نئے مادوں کی تیاری بڑا کٹھن اور رکاوٹوں سے پُر کام ہے۔ کمپنیاں نئے مادے کی کھوج میں تحقیق و تجربات پر بلامبالغہ اربوں روپے خرچ کر ڈالتی ہیں‘ لیکن کامیابی کم خوش نصیبوںہی کو ملتی ہے۔

بالعموم محقق و ماہرین فطری ذہانت اور تجربے کے باعث کوئی نیا خیال سوچتے ہیں۔ بعدازاں یہ خیال وسیع پیمانے پر تجربوں سے گزرتا ہے مگر اکثر تجربات ناکام رہتے ہیں حتیٰ کہ ایک نئے مادے کی جانچ پرکھ میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں اور نتیجہ عموماً صفر نکلتا ہے۔

مثال کے طور پر ممتاز امریکی ادارے‘ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محقق‘ تھامس ایگار نے تحقیق سے دریافت کیا کہ ایک کامیاب مادہ لیبارٹری سے مارکیٹ تک پہنچنے میں پندرہ سے بیس سال لگا دیتا ہی۔ جب جاپانی کمپنی‘ سونی نے 1991ء میں لیتھیم آیون بیٹریاں بنانے کا اعلان کیا‘ تو لگتا تھا کہ وہ بس آیا ہی چاہتی ہیں۔ لیکن ہزاروںماہرین دو عشرے تک یہ بیٹریاں بہتر بنانے کی تگ و دو میں لگے رہے‘ تبھی وہ مارکیٹ میں آئیں۔

انقلاب کی دستک
خوش قسمتی سے میٹریلز سائنس اب نئے دور میں داخل ہو چکی اور ایک انقلاب کی آمد آمد ہے۔ دراصل پچھلے ایک سو برس کے دوران طبیعات اور کمپیوٹر سائنس کی زبردست ترقی نے انسان کو اس قابل بنا دیا کہ وہ ایڈیسن طریق کار سے جان چھڑاسکے۔ وجہ یہ کہ اب ماہرین سپر کمپیوٹروں کی مدد سے نت نئے مادے بہت جلد اور زیادہ پائیدار حالت میں ایجاد کرنے لگے ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں اس تکنیک کو ’’ہائی تھروپٹ کمپیوٹیشنل میٹریلز ڈیزائن(High throughput Computational materials design)کا نام دیا جا چکا۔

اس تکنیک کا بنیادی نکتہ بڑا سادہ ہے… یہ کہ سپر کمپیوٹروں کی مدد سے بیک وقت سیکڑوں یا ہزارہا کیمیائی مرکبات کا مطالعہ کیا جائے۔ یوں کسی بھی نئے مادے… بیٹری الیکٹروڈ، کچ دھات یا سیمی کنڈیکٹر کی تشکیل کے واسطے بہترین مسالے و سیمنٹ کی تلاش و انتخاب اب بہت سہل مرحلہ بن چکا۔

مادوں کی دنیا
یاد رہے کہ قدرتی طور پر ملنے والے بیشتر مادے مختلف کیمیائی مرکبات سے بنتے ہیں۔ بیٹری الیکٹروڈز (Electrodes)ایسے مرکبات کی نمایاں مثال ہیں۔ لیکن کچھ سادہ بھی ہیں جیسے گریفائٹ! اس مادے کو الیکٹرونکس کا مستقبل قرار دیا جا رہا ہے اور یہ کاربن کے صرف ایک ایٹم سے بنی شیٹ پر مشتمل ہے۔

مادے کے مرکبات سادہ ہوں یاپیچیدہ‘ اس کی خصوصیات( سختی‘ ٹھوس پن‘ چمک‘ موصلیت وغیرہ) ہمیشہ وہ ایٹم جنم دیتے ہیں جن سے کہ مادہ بنتا ہے۔ اسی لیے ہائی تھروپٹ کمپیوٹیشنل میٹریلز ڈیزائن کے پہلے مرحلے میں انہی خصوصیات کا ایٹمی سطح پر مطالعہ کیا جاتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ سپر کمپیوٹر مادوں کے ہزارہا مرکبات تشکیل دیتا ہے۔ ماہرین پھر ان ورچوئل مرکبات کی خصوصیات پر تحقیق کرتے ہیں… مثلاً یہ کہ وہ سختی میں کیسے ہیں؟

روشنی کیونکر جذب کرتے ہیں؟ جب انھیں موڑا جائے‘ تو کیا ہوتا ہے؟ وہ انسولیٹر (Insulator)ہیں یا دھاتیں؟ اسی تحقیق کی روشنی میں سائنس دان دیکھتے ہیں کہ کون سے مرکبات نئے مادے بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مطلوبہ مادہ تیار کرنے کے بعد نتائجِ تحقیق ڈیٹا بیس میں محفوظ ہو جاتے ہیں تاکہ مستقبل میں کام آ سکیں۔

اس وقت امریکا‘ برطانیہ‘ جرمنی اور فرانس سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین میٹریلز سائنس پر مل کر کام کررہے ہیں تاکہ ہائی تھروپٹ کمپیوٹیشنل میٹریلز ڈیزائن کی بدولت اس سائنسی شعبے میں انقلاب لا سکیں۔ وہ اپنے منصوبے کو ’’میٹریلز پروجیکٹ‘‘ کا نام دے چکے۔ ان کا مشن ایسے زبردست ڈیٹابیس کا قیام ہے جس میں سبھی غیرنامیاتی (Inorganic)مرکبات کی تھرموڈائنامک اور الیکٹرونک خصوصیات جمع ہو جائیں۔

ماہرین اب تک فطرت میں پائے جانے والے ’’35000‘‘ غیرنامیاتی مادوں کی بنیادی خصوصیات ڈیٹابیس میں جمع کر چکے۔ مثلاً یہ کہ وہ موصل (کنڈکٹر) ہے یا حاجز (انسولیٹر)؟‘ وہ روشنی کو کیسے برتتا ہے وغیرہ ۔ مزیدبرآں سائنس دان ایسے چند ہزار مادوں کی خصوصیات بھی نوٹ کر چکے جو فی الوقت صرف نظریاتی طور پر پائے جاتے ہیں۔ اب تک دنیا بھر میں پانچ ہزار سے زائد سائنس دان ’’میٹریلز پروجیکٹ‘‘ کا حصہ بن چکے۔ چناںچہ انھیں مادوں کی خصوصیات والی معلومات کے ڈیٹابیس تک رسائی حاصل ہو چکی۔ یہ معلومات شمسی سیل‘ بیٹریاں اور دیگر اشیا ایجاد کرنے میں کام آ رہی ہیں۔

اُدھر امریکا کی ڈیوک یونیورسٹی میں ماہرین کاایک گروہ سپرکمپیوٹروںکی مدد سے کچ دھاتوں (Alloys) کی خصوصیات دریافت کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا مشن ہلکے پھلکے مگر انتہائی مضبوط کار فریم‘ سٹرکچرل بیمیں برائے بلند عمارت اور ہوائی جہازوں کے ڈھانچے تیار کرنا ہے۔ غرض وہ وقت قریب ہے جب میٹریلز سائنس کے ماہرین سپر کمپیوٹروں کی مدد سے قریباً ہر شے تیار کریں گے۔ سائنس دانوں کو یقین ہے کہ کمپیوٹنگ کی ٹیکنالوجی ہماری دنیا تبدیل کر ڈالے گی… تب آلودگی قصہ پارینہ بن سکتی ہے‘ وافر بجلی جنم لے گی اور زندگی گزارنا اتنا سہل و آرام دہ بن جائے گا کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

ٹچ اسکرین سے اسمارٹ فون تک
واضح رہے کہ جدید دنیا کی بنیادیں انہی ایجادات پر استوار ہیں جو میٹریلز سائنس کے ذریعے وجود میں آئیں۔ ان میں گلاس سے بنی شفاف موصل اسکرینیں قابل ذکر ہیں کیونکہ انہی نے یہ ممکن بنایا کہ ٹیلی ویژن و کمپیوٹر سے لے کر اسمارٹ فون تک بنائے جا سکیں۔

آج آپ بذریعہ اسمارٹ فون روشنی کی رفتار سے دنیا بھر میں معلومات بھیج سکتے ہیں۔ یہ انقلاب اسی لیے آیا کہ ماہرین میٹریلز سائنس نے ایسا طریقہ دریافت کر لیا کہ گلاس کو فاضل آیونز (Ions)سے پاک کیا جا سکے۔ یوں فائبر آپٹک کمیونیکیشنز انجام دینا ممکن ہو گیا۔ موبائل فون ہوں یا اسمارٹ فون‘ ان کی بیٹری ایک دد روز ہی چلتی ہے۔ یہ انقلاب بھی میٹریلز سائنس کی بدولت ہی آیا۔ تیس سال قبل ماہرین نے لیتھیم ذخیرہ کرنے والے آکسائیڈ مادے دریافت کیے تھے۔ یوں لیتھیم آیون بیٹری بنانا ممکن ہو گیا۔

سپرکمپیوٹر کی آمد
یہ 2005ء کی بات ہے‘ ملٹی نیشنل کمپنی‘ پروٹیکٹر اینڈ گیمبل نے میٹریلز سائنس کے دو ممتاز امریکی ماہرین‘ گربرینڈسیڈر اور کرسٹین پرسن سے رابطہ کیا۔ یہ دونوں تب میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ امریکا سے وابستہ تھے۔ ملٹی نیشنل کمپنی اپنی الکلی بیٹریوں کے لیے نیا کیتھوڈ مادہ تلاش کرنا چاہتی تھی۔ کمپنی کی تمنا تھی کہ دونوں ماہرین اس کھوج میں مدد کریں۔

کمپنی کے نمائندے اور امریکی ماہرین تبادلہ ٔخیال کر رہے تھے کہ ایک اچھوتا سوال ان کے سامنے آ گیا۔۔۔۔۔۔یہ کہ نئے مادے کی تلاش میں سپرکمپیوٹر سے مدد لی جا سکتی ہے؟ کچھ سوچ بچار کرنے سے ہی ان پر افشا ہوا کہ اگر ماہرین کو رقم‘ وقت اور سپرکمپیوٹر مل جائے تو ایسی انوکھی تحقیق ہو سکتی تھی۔ پروٹیکٹر اینڈ گیمبل نے فوراً پروفیسر گربرینڈ اور کرٹن کو دس لاکھ ڈالر دیے تاکہ وہ انسٹی ٹیوٹ سے رخصت لے کر منصوبے پر کام کر سکیں۔ مزیدبرآں کمپنی نے انھیں اپنے سپرکمپیوٹنگ سینٹر تک بھی رسائی دے ڈالی۔

یوں ’’الکلی پروجیکٹ‘‘ کا آغاز ہوا۔ سپرکمپیوٹر کی مدد سے ماہرین نے ’’تیرہ ہزار‘‘ حقیقی اور نظریاتی مرکبات کو تحقیق و تجربات کی کٹھالی سے گزارا۔ بعدازاں کمپنی کو دو سو ایسے مرکبات کی فہرست دی جن سے زیادہ بہتر مادہ بن سکتا تھا۔ اسی دوران ماہرین کو احساس ہو گیا کہ ہائی تھروپٹ کمپیو ٹیشنل میٹریلز ڈیزائن ان کے شعبے کا مستقبل ہے۔

مادوں کی خصوصیات کا جادو
جیسا کہ پہلے بتایا گیا‘ قدرت میں 35000 غیرنامیاتی مادے پائے جاتے ہیں۔ ان ہزارہا مادوں کی اپنی لاکھوں خصوصیات ہیں۔ انہی خصوصیات کا مطالعہ جدید میٹریلز سائنس کی بنیاد ہے۔ مثلاً جدید تحقیق سے ماہرین جان چکے کہ معدنیات کے کرسٹل کی ہیئت تبدیل کرنے سے ان کا رنگ بدلا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر لعل (Ruby)کو لیجیے۔ اس کی سرخ رنگت نے ایک ندرت کے باعث جنم لیا۔ وہ یہ کہ معدن کورونڈم (Corundum)میں ایک فیصد المومینم کی جگہ کرومیم آیون شامل ہو گئے۔ اسی معمولی تبدیلی کے باعث کورونڈم عام معدن سے قیمتی لعل میں تبدیل ہوا اور روشنی میں سرخ نظر آنے لگا۔

گویا ماہرین میٹریلز سائنس یہ جان چکے کہ لعل سرخ رنگت کیونکر حاصل کرتا ہے۔ سو اب وہ مصنوعی (Synthetic)طریقوں سے بھی اُسے بنانے کے قابل ہو چکے۔ وہ لعل سے ملتے جلتے مادوں میں متعلقہ خصوصیات پیدا کر کے حقیقی لعلوں سے ملتے جلتے یہ قیمتی پتھر تیار کر سکتے ہیں۔

اس ضمن میں ماہرین کو ایک جدید علم ’’کوانٹم مکینیکس‘‘ (Quantum Mechanics)سے خوب مدد ملے گی۔ اس علم میں مادوں کی خصوصیات کا انتہائی چھوٹی سطح (نینو اسکیل) پر مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کوانٹم مکینیکس ہی میٹریلز سائنس کے ماہرین کو بتاتی ہے کہ نئے مادے کی کھوج میں کس قسم کے مادوں کو برتا جائے اور ان کی خصوصیات کیونکر استعمال کی جائیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کوانٹم مکینیکس کی مساواتیں (Equations)اتنی زیادہ پیچیدہ ہیں کہ صرف سپر کمپیوٹر ہی انھیں حل کر سکتا ہے۔ مثلاً آپ جاننا چاہتے ہیں کہ پانچ سو مرکبات میں سے مطلوبہ خصوصیات کون سے مرکب رکھتے ہیں۔ یہ کام صرف سپرکمپیوٹر ہی انجام دے سکتا ہے۔ اسی لیے انہی کی ایجاد کے بعد میٹریلز سائنس میںبھی زبردست ترقی دیکھنے کو ملی۔

مثال کے طور پر اب ماہرین تھرموالیکٹرک (Thermoelectric) مادوں کی تلاش میں ہیں۔ ایسے مادے جب درجہ حرارت کی کمی بیشی سے گزریں‘ تو بجلی پیدا کرتے ہیں۔ تھرموالیکٹرک مادوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان سے بجلی گزاری جائے‘ تو وہ فوراً گرم یا سرد ہو جاتے ہیں۔ فوری (انسٹنٹ) کولنگ انہی مادوں کی بدولت ممکن ہوئی۔ انسانی معاشرے جلانے کے عمل یعنی احتراق (Combustion)‘ صنعتی پروسیسنگ اور ریفریجریشن سے کثیرمقدار میں حرارت ضائع کرتے ہیں۔ اگر ماہرین موثر‘ سستے اور پائیدار تھرمو الیکٹرک مادے ایجاد کر لیں‘ تو ان کی بدولت حرارت ’’پکڑ‘‘ کے اُسے بجلی کی شکل دی جا سکے گی۔

ذرا سوچیے کہ ان مادوں سے ہزارہا میگاواٹ بجلی جنم لے گی کیونکہ کارخانوں میں ضائع ہو جانے والی حرارت کو بجلی میںبدلا جا سکے گا۔ یہی نہیں سڑکوں پر بھاگتی دوڑتی گاڑیاں اور گھروں میں چلتے الیکٹرونک آلات بھی کثیرمقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔ تھرمو الیکٹرک مادوں کے ذریعے اس حرارت کو بجلی میں ڈھالا جائے گا۔

ان حیرت انگیز مادوں کی ایک اور خوبی بھی قابل ذکر ہے۔ یہ فوری ٹھنڈک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سو مستقبل قریب میں ایسے ننھے منے آلات کا تصور کیجیے جو ہمارے لباس میں نصب ہوں گے۔ بس بٹن دبائیے اور وہ سخت گرمی میں ہمیں فوراً ٹھنڈمہیا کریں گے۔ تب پنکھے کی ضرورت ہو گی نہ اے سی کی!

اس سال ماہ جنوری سے کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین ہائی تھروپٹ کمپیوٹیشنل میٹریلز ڈیزائن (طریق کار) کی مدد سے تھرمو الیکٹرک مادوں کا کھوج لگانے پر جت گئے ہیں۔
فی الوقت لیڈٹیلورائیڈ (Lead.telluride) سب سے ممتاز تھرمو الیکٹرک مادہ ہے۔ مگر یہ اتنا زیادہ زہریلا ہے کہ اُسے تجارتی مقاصد کی خاطر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سو اب ماہرین جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہو کر ایسے کیمیائی مرکبات تلاش کریں گے جن سے نئے تھرموالیکٹرک مادے جنم لیں۔ سائنس دانوں کو یقین ہے‘ مستقبل قریب میں بجلی اور ٹھنڈک پیدا کرنے والے یہ محیرالعقول مادے حقیقت بن جائیں گے۔

میٹریلز سائنس کا سنہرا دور
سپر کمپیوٹروں کے ذریعے مادوں کی خصوصیات کا مطالعہ اور ان سے نئے مادے ایجاد کرنے کا فن ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ تاہم ماہرین یہ پیش بینی ضرور کر چکے کہ دنیائے انسانیت کو مستقبل میں اس سے کتنے فوائد حاصل ہوں گے۔ ان کی چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔ اِن میں سرفہرست انسان دوست توانائی (Clean-energy)پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیاں ہیں۔ نت نئے مادوں کی ایجاد سے انھیں عمل میں لانا آسان ہو جائے گا۔ مثلاً ٹائٹینم ڈائی آکسائیڈ جیسے فوٹوکیٹا لائٹک مادے بننے سے ممکن ہو جائے گا کہ دھوپ اور پانی کو آکسیجن اور ہائیڈروجن میں بدلا جا سکے۔ ان گیسوں کو پھر مائع ایندھن میںڈھالا جائے گا۔ دیگر فوٹوکیٹالائٹک مادے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ بھی یہی عمل انجام دیں گے۔

ماہرین کا خواب یہ ہے کہ ایسا ’’مصنوعی پتا‘‘ تیار کیا جائے جو دھوپ اور ہوا کو میتھانول سے ملتے جلتے مائع ایندھن میں بدل سکے۔ یہ ایندھن پھر چولھوں سے لے کر کاروں اور ہوائی جہازوں تک جلایا جائے گا۔ اس ضمن میں امریکی محکمہ توانائی کے تحقیقی ادارے‘ جوائنٹ سینٹر فار آرٹیفیشل فوٹو سینتھیسز میں ماہرین شب و روز تحقیق کر رہے ہیں تاکہ سپرکمپیوٹر کی مدد سے یہ ٹیکنالوجی قابل عمل بنانے والے مادے ڈھونڈ سکیں۔

اسی طرح ماہرین کی ایک منزل یہ ہے کہ گاڑیوں اور ہوائی جہازوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی ہلکی مگر مضبوط کچ دھاتیں تیار کی جائیں۔ وجہ یہ کہ ایک کار کا وزن محض 10فیصد بھی کم ہو جائے‘ تو وہ 8فیصد کم ایندھن کھاتی ہے۔ اسی لیے آٹو موبائل صنعت سے وابستہ بڑی کمپنیاں محققوں کو اربوں روپے دے رہی ہیں تاکہ وہ نئی کچ دھاتیں اورمادے بذریعہ تحقیق ایجاد کر سکیں۔ ذرا سوچیے اگر گاڑیاں اور مشینیں ہلکی پھلکی مضبوط و پائیدار میٹریلز سے بننے لگیں‘ تو ایندھن کی بے پناہ بچت ہو گی۔ یوں خصوصاً ٹرانسپورٹیشن اور کنسٹرکشن کے شعبوںمیں انقلاب آ سکتا ہے۔

شعبہ کمپیوٹر بھی بے چینی سے نئے مادوں کی راہ تک رہا ہے۔ وجہ یہ کہ ماہرین کا دعویٰ ہے‘ مورکے قانون (Moore’s law)کا زمانہ اختتام پذیر ہے۔ اس قانون کی رو سے چھوٹے ٹرانسسٹر بننے کے باعث ہر دو سال بعد کمپیوٹر کی رفتار دگنی ہو جاتی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ سلیکون مادے سے اب مزید چھوٹے ٹرانسسٹر نہیں بنائے جا سکتے۔ مزیدبرآں ماہرین اسے بہترین سیمی کنڈیکٹر مادہ بھی نہیں سمجھتے۔ اسی لیے خصوصاً امریکی لیبارٹریوں میں سائنس دان ایسے مادے تلاش کرنے کی سعی میں ہیں جو بہ سرعت موصل حالت (Conducting)سے حاجز حالت (Insulating)میں آ جائیں۔ اس ضمن میں کچھ پیش رفت بھی ہو چکی۔ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ میں سائنس دان گریفائٹ (مادے) کے ذریعے انتہائی تیزرفتار ٹرانسسٹر بنا چکے۔

اُدھراسٹانفورڈ یونیورسٹی (امریکا) کے ماہرین نے دریافت کیا کہ میگنیٹائٹ (مادے) سے بنے ٹرانسسٹروں میں برقی آن/آف سوئچ بدلنے میں سیکنڈ کا صرف ایک کھرب واں وقت لگتا ہے… گویا یہ ٹرانسسٹر موجودہ ٹرانسسٹروں سے کئی ہزار گنا تیز رفتار ہے۔ اب سپرکمپیوٹروں کے ذریعے ایسے ہی مزید مادے دریافت کرنا مزید سہل ہو جائے گا۔ غرض زندگی کے کئی شعبہ جات میں نئے مادے انقلاب لا سکتے ہیں۔

اسی طرح ایک اوراہم معاملہ دیکھیے۔ سائنسی حلقوں میں طویل عرصے سے یہ معاملہ زیربحث ہے کہ کیوں نہ کاربن کی جگہ سلیکون سے مائع ایندھن بنایا جائے۔ ابھی تو کاربن سے ماحول دشمن ایندھن (کوئلہ‘ پٹرول‘ گیس) بنتے ہیں۔ مگر سلیکون کو استعمال کرنے سے صرف مٹی اور پانی ہی وجود میں آئیں گے۔ چناںچہ اب ہائی تھروپٹ کمپیوٹشنل میٹریلز ڈیزائن کے ذریعے دیکھا جا رہا ہے کہ سلیکون (ریت) سے مائع ایندھن بن سکتا ہے یا نہیں؟

درج بالا وجوہ کی بنا پر ماہرین کو یقین ہے کہ میٹریلز سائنس و ڈیزائن کا نیا سنہرا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔ سپرکمپیوٹر کی عظیم الشان طاقت نے انسان کو یہ قدرت دے ڈالی کہ وہ مختلف مادوں کے ملاپ سے نئے (مصنوعی) مادے تخلیق کر سکے۔ یہ یقینا بڑی خوش خبری ہے کیونکہ دنیائے انسانیت آج سیکڑوں مسائل میں گرفتار ہے۔ ٹیکنالوجی کی نئی طاقت سے انھیں حل کرنے میں مدد ملے گی۔