function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

ڈاکٹر مریم کرم الہی

پروفیسر محمد فاروق قریشی | آپ بیتی

میری تاریخ پیدائش 23نومبر1925ء اور جائے پیدائش وزیرآباد گجرات ہے۔ میرے والد ریلوے ٹیلی گراف انسپکٹر تھے۔ والدہ بہت سادہ اور سگھڑ خاتون تھیں۔ ہم چار بہنیں تھیں۔ میں سب سے چھوٹی ہوں۔ جب میں ذرا بڑی ہوئی تو میرے والد کا تبادلہ ملک وال ہوگیا۔ یہ ہندوئوں کی آبادی تھی۔ میرے والد نے کوشش کی کہ کوئی مسلم اسکول مل جائے تو وہ مجھے اور بڑی بہن کو وہاں داخل کرا دیں۔ بڑی دونوں بہنیں آٹھ جماعتیں پڑھ چکی تھیں۔ پتا چلا کہ وہاں سب ہندی پڑھانے والے اسکول ہیں۔ میرے والد مذہبی اور پکے مسلم لیگی تھے‘ اللہ انھیں غریقِ رحمت کرے۔ انھوں نے ہمیں ہندی اسکول میں داخل نہ کرایا اور ہم نے گھر ہی پر اُردو، حساب، تاریخ، جغرافیہ پڑھنا شروع کر دیا۔ والد خود پڑھا دیتے تھے یا بڑی بہنیں۔

حسنِ اتفاق سے والد کا تبادلہ دہلی ہوگیا اور ہم نے اسکول میں داخلہ لے لیا۔ میں تھوڑا ضدی واقع ہوئی تھی۔ ہیڈ مسٹریس نے کہا کہ وہ میری بہن کو پانچویں اور مجھے چوتھی جماعت میں لیں گی۔ میں بگڑ گئی۔ میں نے کہا کہ یا تو وہ بھی چوتھی جماعت میں رہے گی یا پھر میں بھی پانچویں میںجائوں گی۔ چناں چہ ہم دونوں کو پانچویں جماعت میں داخلہ دے دیا گیا۔ پانچویں جماعت کے امتحان میں ہم دونوں بہنوں نے وظیفہ حاصل کیا اور ساتویں جماعت تک مسلم مشن دریا گنج اسکول میں پڑھتی رہیں۔ والد ایک دفعہ پھر تبادلوں کی زد میں آئے اور ہم کراچی، ملتان، کوئٹہ میں مختصر قیام کے بعد لاہور آگئے۔ یہاں میں نے 1940ء میں اسلامیہ ہائی اسکول برانڈرتھ روڈ میں داخلہ لیا۔ میٹرک کرنے کے بعد اسلامیہ کالج کُوپر روڈ میں زیرتعلیم رہی جہاں سے میں نے عربی کے ساتھ بی اے آنرز کر لیا۔

اسکول اور کالج کے زمانے کی خاص بات یہ تھی کہ علامہ اقبال کے دوست‘ چودھری محمد حسین ہمیں ہفتے میں دو دن دینیات پڑھانے آتے۔ انھوں نے ہمیں سورۃ نور اور سورۃ النساء تفسیر کے ساتھ اور کچھ اور چیزیں بھی پڑھائیں۔ پردے کے پیچھے سے پڑھاتے۔ وہ اِتنا اچھا لیکچر دیتے کہ دل کے اندر اُترتا چلا جاتا۔ ان کا انداز بہت دلنشین تھا‘ اس لیے ان کا پڑھایا ہوا آج تک ذہن سے نہیں مٹ سکا۔ انھوں نے ہمارے کالج میں ’بزمِ اقبال‘ بھی قائم کی جس میں شاعر مشرق کی شاعری اور افکار پر بات چیت کی جاتی تھی۔ کانگریس کی ایک رُکن خاتون ہمیں ’’بندے ماترم‘‘ کا درس دینے آتی تھی۔

بی اے کرنے کے بعد سوال پیدا ہوا کہ اب کیا کیا جائے؟ میں ایم اے کرنا چاہتی تھی کیونکہ میری سہیلی‘ کنیز یوسف ایم اے میں چلی گئی تھی۔ والد یونیورسٹی کی مخلوط تعلیم کے خلاف تھے۔ انھوں نے کہا کہ تم بی ٹی کر لو۔ میں نے کہا کہ میں نے اسکول ٹیچر نہیں بننا اس لیے بی ٹی کے بعد ملازمت نہیں کروں گی۔ چناں چہ میں نے لیڈی میکلیگن ٹریننگ کالج سے بی ٹی کر لیا۔ اس کے بعد والد صاحب سے پھر ضد کی کہ آپ مجھے ایم۔اے میں داخل کروا دیں۔ آخر والد صاحب نے میری ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ تاہم یہ شرط عائد کر دی کہ میں برقع پہن کر یونیورسٹی جایا کروں گی اور کسی کو اس کا پتا نہیں چلے گا۔ میں نے اُن کی ساری شرطیں مان کر پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے جغرافیہ میں داخلہ لے لیا۔ یہ 1946ء کی بات ہے۔

میں جغرافیہ ڈپارٹمنٹ میں واحد مسلمان طالبہ تھی۔ تین چار مسلمان طلبہ تھے۔ بارہ ہندو لڑکیاں اور تقریباً چوبیس ہندو لڑکے تھے۔ اگرچہ کلاس کی کل چالیس نشستوں میں ساٹھ فیصد مسلمانوں کی تھیں لیکن معاشی اور تعلیمی پسماندگی کے باعث بہت کم مسلم طلبہ و طالبات اعلیٰ تعلیم میں حصہ لیتے۔ نتیجے میں باقی ماندہ مسلم نشستیں بھی ہندوئوں کو مل جاتی تھیں۔ اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر عمر حیات خان اور ڈاکٹر قاضی سعید الدین علیگ شعبۂ جغرافیہ کے سربراہ تھے۔ میرے اساتذہ میں ڈاکٹرہ قاضی سعیدالدین اور اوم پرکاش بھردواش شامل تھے۔

پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ پروفیسر سراج صاحب کا گھر تھا۔ ان کی بھانجی میری سہیلی تھی۔ میں گھر سے برقع پہن کر آتی تھی تو اُن کے ہاں رکھ دیتی۔ اس وقت پنجاب یونیورسٹی کی حیثیت ایک امتحانی ادارے کی تھی۔ طلبہ و طالبات یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شُدہ کالجوں میں داخلہ لیتے تھے۔ اساتذہ بھی انہی تعلیمی اداروں سے آتے۔ البتہ کلاسز مال روڈ یونیورسٹی کیمپس پر ہوتی تھیں جِسے وُولنر ہال بھی کہا جاتا۔

قیامِ پاکستان کے بعد ڈپارٹمنٹ میں تین چار مسلمان لڑکے اور میں واحد لڑکی رہ گئی۔ بعد ازاں کچھ لڑکے علی گڑھ سے آگئے۔ 1948ء میں امتحان ہوا تو میرے اتنے نمبر آئے کہ پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ 1950ء میں مرکزی حکومت کی طرف سے پی ایچ ڈی کے اسکالرشپ کا امتحان ہو رہا تھا۔ میں نے بھی امتحان دیا۔ اس امتحان میں کافی امیدوار شریک ہوئے لیکن یہ اسکالرشپ مجھے مل گیا اور میں لندن چلی گئی۔ وہاں میں نے لندن یونیورسٹی کے اسکول آف اکنامکس سے 1952ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ میرے تحقیقی مقالے کا عنوان تھا ’’پوٹھوہار کے علاقے کا اکنامک جغرافیہ۔‘‘

لندن سے واپس آ کر میں نے پنجاب یونیورسٹی میں لیکچررشپ کے لیے درخواست دی۔ اس زمانے میں لڑکیوں کو یونیورسٹی میں نہیں رکھتے تھے۔ جب میرا انٹرویو ہوا تو اس پر بڑی گرما گرم بحث ہوئی۔ کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج کے پرنسپل کرنل ملک سلیکشن بورڈ کے رکن تھے۔ انھوں نے میری بہت حمایت کی اور کہا کہ ایک لڑکی کا اتنا اچھا کیرئیر ہے تو آپ اُسے موقع کیوں نہیں دیتے؟ جب وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتی ہے تو پڑھا کیوں نہیں سکتی؟

نیز آپ یونیورسٹی کیلنڈر میں کہیں دکھائیں کہ عورتیں لیکچررشپ کی اہل نہیں ہیں۔ بورڈ کے ارکان لاجواب ہو گئے۔ اس کے باوجود مجھے کچھ عرصہ آزمائش (پروبیشن) پر رکھا اور ایک ٹیسٹ کیس بنا کر مجھے موقع دیا گیا۔ اس طرح میں پہلی خاتون ہوں جس نے پنجاب یونیورسٹی میں پوسٹ گریجوایٹ کلاسز کو پڑھایا۔ میں پاکستان میں جغرافیہ کی پہلی پی ایچ ڈی ہولڈر بھی ہوں۔

لاہور میں میرا اسکول، کالج اور یونیورسٹی کا زمانہ سیاسی لحاظ سے بہت ہنگامہ خیز اور طوفانی تھا۔ میں اسکول میں تھی جب 1940ء میں مسلم لیگ کے اجلاس میں ’’قراردادپاکستان‘‘ منظور کی گئی۔ میں منٹوپارک موجودہ نام (اقبال پارک) میں موجود تھی۔ مسلم لیگ کے کارکن ہمیں اسکول سے ہی لے گئے۔ ایک بڑا اُونچا اسٹیج بنا ہوا تھا۔ ہم کافی دور بیٹھے تھے۔ اس وقت ہر شخص کے اندر بڑا جذبہ تھا۔ حضرت قائداعظمؒ نے انگریزی میں تقریر کی۔ ظاہر ہے ہمیں اس وقت اتنی سوجھ بوجھ تو نہیں تھی لیکن ہر کوئی خاموشی سے سن رہا تھا۔ اتنی خاموشی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ صرف ایک ہی آواز سنائی دیتی اور وہ قائداعظم کی تھی۔

سب کو یقین تھا کہ قائداعظمؒ سچ کہہ رہے ہیں اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔ 1937ء کے صوبائی انتخابات کے بعد مسلم لیگ کو مسلمانوں کی طرف سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں گیارہ میں سے آٹھ صوبوں میں کانگریسی حکومتیں قائم ہو گئیں۔ انھوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی اور ان پر بہت سے ناجائز ٹیکس لگا دیے۔ کانگریسی قیادت کے متعصبانہ اور مسلم دشمن رویے نے مسلمانوں کی آنکھیں کھول دیں اور متحدہ ہندوستان میں انھیں اپنا تاریک مستقبل نظر آ گیا۔ چناںچہ مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت اور قائداعظمؒ ان کے محبوب راہنما بن گئے۔

دو قومی نظریہ جو پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا‘ کوئی نئی چیز نہ تھا۔ یہ شاہ ولی اللہ کے جہاد اور سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک کا نظریاتی جوہر تھا جس کو علامہ اقبال نے تصور پاکستان کی صورت میں پیش کیا۔ مجھے یاد ہے کہ تقسیم ہند سے پہلے ریلوے اسٹیشنوں پر ہندو پانی اور مسلم پانی الگ الگ ہوتا تھا۔ دونوں کے برتن بھی جدا ہوتے۔ ہندو سمجھتے تھے کہ اگر کوئی مسلمان ان کی کسی چیز کو ہاتھ لگا دے، تو وہ بھرشٹ (ناپاک) ہو جاتی ہے۔ اسی مذہبی اور معاشرتی تعصب کے ماحول میں دو قومی نظریہ وجود میں آیا۔
تحریک پاکستان کے دوران طالبات کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں ایک بہت بڑی کانفرنس ہوئی جسے پاکستان کانفرنس بھی کہا گیا۔

اس میں اسلامیہ کالج کوپر روڈ کی طالبات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مجھے اس میں اقبالؒ کا کلام پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ ہمارے کالج میں نواب آف بھوپال بھی آئے۔ ایک بڑا جلسہ ہوا اور انھوں نے تحریک پاکستان کے لیے چندہ بھی دیا۔ میری بہت سی ہم عصر خواتین اور طالبات نے تحریک آزادی میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔ زینب کاکاخیل کا کردار بھی بڑا اہم تھا۔ بہت نیک خاتون تھیں۔ ان دنوں پڑھاتی تھیں۔ ان کے مضامین اخبارات میں چھپتے۔ وہ دن عجیب تھے۔ مال روڈ پر جلوس نکلتے۔

’’بن کے رہے گا پاکستان، لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعرے لگتے۔ یونیورسٹی دس دن کھلتی تھی، پانچ دن بند رہتی تھی۔ پنجاب میں یونینیسٹ خضر حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک میں ہم نے حصہ لیا۔ جب خضر وزارت ٹوٹی تو ہمیں بہت خوشی ہوئی۔ تقسیم ہند کے وقت جو قتل و غارت ہوئی‘ وہ بھی یاد ہے۔

1947ء میں جب مہاجرین آئے، تو ان میں بہت سے افراد زخمی ہوتے۔ چونکہ نرسوں کی بہت کمی تھی‘ اس لیے طالبات سے کہا گیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیں۔ ہم نے میو اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں کام کیا۔ مختلف شہروں سے لوگ آتے۔ دہلی اور مشرقی پنجاب سے آنے والی عورتیں اتنی زخمی تھیں کہ ان کے زخموں میں کیڑے پڑے ہوئے تھے اور کپڑے زخموں سے چپکے ہوتے۔ جب کپڑے اُتارتے تو تکلیف سے اُن کی چیختیں نکلتی تھیں۔ ہم ان کے کپڑے تبدیل کرواتے اور بالوں میں کنگھی کرتے۔ واپس گھر آتے تو کھانا نہیں کھایا جاتا تھا۔ سر میں کنگھی کرتے تو جوئیں جھڑتی تھیں۔ اسپتالوں میں حالت اتنی بری تھی کہ زخمی لوگ زمین پر پڑے ہوتے‘ لیکن ان کے لیے یہ بھی غنیمت تھا کہ وہ وہاں پہنچ جاتے۔ بے گھر ہو کر کیمپوں میں آنے والے افراد مختلف مسائل کا شکار تھے۔ پردہ دار عورتیں بھی ہوتی تھیں۔

ایک واقعہ مجھے کبھی نہیں بھولے گا۔ ایک دن جب میں اسپتال گئی تو ایک زخمی عورت کو دیکھا جسے رضاکار ایک دن پہلے چھوڑ کر گئے تھے۔ اس کی بہن اور چھوٹا بچہ بھی ساتھ تھا۔ وہ عورت زیادہ خون بہ جانے سے مر گئی کیونکہ اسپتال کے بلڈبینک میں خون نہیں تھا۔ بہن رو رہی تھی، بچہ بلک بلک کر ماں کے پاس جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس عورت کی بہن بین کر رہی تھی کہ ’’ہائے میری بہن میں تجھے کندھوں پر اٹھا لائی تھی۔ تُو تو کہتی تھی کہ ایک دفعہ پاکستان پہنچ جائوں، سارے دکھ دور ہو جائیں گے۔ جب تو نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا تھا تو تُو نے الحمد للہ کہا تھا۔ ہائے میری بہن! تیرے دکھ تو دور ہو گئے ہیں، میں کہاں جائوں؟‘‘

پھر وہ اتنا روئی کہ دیکھنے سننے والے بھی رونے لگے۔ ایک دوسرا واقعہ بھی یاد ہے۔ ہم محلہ محلہ آٹا اور چاول جمع کیا کرتے۔ مہاجرین کی جو ٹرینیں آتی تھیں‘ ان کے لیے کھانا بھجوایا جاتا۔ ایک دن لوگ کھانا پکا کر اسٹیشن پر لے گئے۔ لیکن ریل آئی تو روح فرسا منظر سامنے تھا۔ پوری ریل قتل و غارت کا نشانہ بن چکی تھی۔ خون ٹرین کی کھڑکیوں اور دروازوں سے بہ رہا تھا۔ صرف ایک چھے مہینے کا بچہ زندہ تھا جو ریل کے نشست کے نیچے پڑا تھا۔ شاید ظالموں کو وہ کمسن نظر نہیں آیا۔ یہ دیکھ کر لوگوں میں اشتعال پیدا ہو گیا اور انتقامی کارروائی کے طور پر انھوں نے شاہ عالمی دروازے کو آگ لگا دی جہاں ہندو اپنے بیوی بچوں کو بھارت بھیج کر خود قلعہ بند ہو کر بیٹھے تھے۔ (حوالہ کے لیے دیکھیے بیدار ملک کی کتاب ’’حصول پاکستان کی جدوجہد۔ عینی شہادتیں‘‘ شائع شدہ 1992ئ)

میں نے طویل عرصہ پنجاب یونیورسٹی میں پورے خلوص، محنت اور لگن سے پڑھایا۔ میرے بے شمار طلبہ و طالبات حکومت اور دوسرے شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ میں طویل عرصہ اسٹاف ایسوسی ایشن کی سیکرٹری رہی۔ بورڈ آف اسٹڈیز کی رکن اور قومی کمیٹی برائے سلیبس کی مشیر کے طور پر کام کیا۔ پاکستان کے اندر اور باہر سائنس و جغرافیہ کی کئی کانفرنسوںاور سیمیناروں میں شرکت اور صدارت کی۔

ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے متعدد کتابیں لکھیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن لاہور میں بہت سے لیکچر دیے۔ میرے 26تحقیقی مقالے شائع ہو چکے۔ میں نے 1983ء سے 1988ء تک پانچ سال ریاض یونیورسٹی سعودی عرب میں بطور پروفیسر تدریسی خدمات انجام دیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے سلسلے میں اب تک میں سعودی عرب، ملائیشیا، جاپان، بھارت، سری لنکا اور مشرقی پاکستان جاچکی ہوں۔ 1985ء میں بطور پروفیسر صدر شعبہ سبکدوش (ریٹائر) ہو گئی اور اب پنشنر کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔

میرے تعلیم و تدریس کے زمانے میں طلبہ و طالبات میں نظم و ضبط اور استاد کا احترام پایا جاتا۔ کوئی طالب علم استاد کے سامنے سگریٹ پینے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ اساتذہ بھی پوری تیاری کے ساتھ کلاس لیتے۔ کبھی دیر سے نہ آتے۔ نصابی تعلیم کے ساتھ طالب علموں کی اخلاقی تربیت بھی کرتے۔ سمسٹر سسٹم کی آمد سے صورت حال کچھ تبدیل ہو گئی ہے۔ شروع میں تو یہ نظام بھی کامیابی سے چلا کیونکہ اس میں ٹیسٹ، پریذنٹیشن اور پراجیکٹ کے ذریعے طالب علموں کی پڑھنے، لکھنے اوربولنے کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن امتحان اور رزلٹ مکمل طور پر استاد کے ہاتھ میں آ جانے سے کچھ معجزانہ تبدیلیاں در آئی ہیں۔

طلبہ و طالبات ایک دم زیادہ ذہین و فطین ہو گئے اور تقریباً سب ہی نے A+ یا A گریڈ لینا شروع کر دیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد کافی عرصے تک اعلیٰ تعلیم یعنی ایم۔فل، پی ایچ ڈی کی سہولت ملک کے اندر موجود نہیں تھی اور اس طرف خاص توجہ بھی نہیں دی گئی۔ وجہ غالباً یہ تھی کہ اگرچہ یونیورسٹیاں خودمختار ادارے تھے لیکن ان کو حکومت کی طرف سے محدود بجٹ ملتا۔ اب حکومت اور تعلیمی اداروں دونوں نے اس سلسلے میں قابلِ قدر پیش رفت کی ہے۔

1971ء سے پہلے جغرافیہ کانفرنسوں کے سلسلے میں مجھے 1956ئ، 1962ء اور 1968ء میں تین مرتبہ مشرقی پاکستان جانے کا اتفاق ہوا۔ سارا مشرقی پاکستان گھوم پھر کر دیکھا۔ ایک دفعہ میرے بنگالی میزبان مجھے خریداری کے لیے ایک بڑی دکان پر لے گئے۔ وہ دکان ہندو کی تھی۔ میں نے سوال کیا کہ کیا یہاں مسلمانوں کی دکانیں نہیں ہیں؟ اس نے بڑی نفرت سے جواب دیا کہ ہاں کچھ بہاریوں کی دکانیں بھی ہیں۔ غیربنگالیوں کو عرف عام میں بہاری کہا جاتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ کاروبار اور تجارت پر بنگالی ہندوئوں کا غلبہ ہے۔ مسلم بنگالی نچلی سطح پر کہیں موجود تھے۔ عام لوگوں میں غیر بنگالیوں سے نفرت پائی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ بنگالی ہندو کو غیر بنگالی مسلمان سے بہتر سمجھا جاتا تھا۔

وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین کو بھی وہ لوگ بنگالی نہیں مانتے اُن کے بقول وزیراعظم کے آبائواجداد صرف دو سو سال پہلے بنگال میں آباد ہوئے تھے۔ اس نفرت کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں 80فیصد اساتذہ ہندو تھے۔ بنگالی مسلمانوں کے گھروں میں ہندوانہ ثقافت رچ بس گئی تھی اور وہ ناچ گانے کو اپنی ثقافت سمجھتے۔ پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف بھی نفرت عام تھی۔ وہ کہتے تھے کہ پنجابیوں نے یہاں آ کر ملیں لگا لی ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ آدم جی کی ایک مل میں دس ہزار بنگالیوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔

ایک مل کا دورہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ مزدور چادر اور بنیان پہن کر کام کر رہے تھے۔ میں نے اپنے پنجابی میزبان سے پوچھا ’’ان کی یونیفارم کہاں ہے؟‘‘ اس نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ باہر جا کر اس نے مجھے بتایا کہ ہم ان کو یونیفارم دیتے ہیں لیکن کچھ دیر کے بعد یہ کہتے ہیں کہ اور یونیفارم دو، پہلی پھٹ گئی ہے۔ حالانکہ وہ جین کی ڈانگری اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ سال بھر میں مشکل سے پھٹتی ہے۔ اس نے بتایا کہ ایک دفعہ بارش کا پانی چھت پر جمع ہو گیا۔ ہم نے آدمی اوپر بھیجا۔ اُس نے رپورٹ دی کہ نئی ڈانگریاں بلیڈ سے کٹی ہوئی ڈھیر کی صورت میں پڑی تھیں۔ ان کی وجہ سے پرنالہ بند ہو گیا تھا۔ اس نے کہا کہ اگر یہ بنگالی مزدور آپ کی بات سن لیتے تو اگلے دن ہڑتال کر دیتے اور نئی یونیفارم کا مطالبہ کرتے۔

میرا ایک بنگالی شاگرد تھا انیس الرحمن۔ وہ بڑا سچا اور پکا پاکستانی تھا۔ وہ وہاں دریائی ٹرانسپورٹ کا انچارج تھا۔ اس نے پنجابی لڑکی سے شادی کی تھی۔ بنگالی مسلمان اس کا تذکرہ ناک چڑھا کر یوں کرتے ’’وہ… جس کی بیوی پنجابی ہے۔‘‘ مشرقی پاکستان کے میرے دورے میں دونوں میاں بیوی میرا بہت خیال رکھتے۔ شام کو گھر لے جاتے اور کھانا کھلاتے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد انیس الرحمن نے بنگلہ دیش میں رہنا گوارا نہ کیا اور یو این او میں چلا گیا اب اس کا انتقال ہو چکا‘ اللہ اس کی مغفرت کرے۔

اس کی بیوی اب بھی مجھے ملنے آتی ہے۔ مشرقی پاکستان میں جہاں ایسے سچے اور وفادار بنگالی پاکستانی بھی موجود تھے۔ وہاں اکثریت مغربی پاکستان اور خصوصاً پنجاب سے نفرت کرتی تھی۔ بتدریج پنجاب اور پاکستان سے یہ نفرت ایک ناسور کی صورت اختیار کر گئی۔ 1970-71ء کے واقعات نے بس نشتر کاکام کیا اور سقوطِ ڈھاکہ کا سانحہ پیش آیا۔

میری بڑی بہنوں کی شادی جلد ہو گئی کیونکہ والد اس پر یقین رکھتے تھے کہ مناسب تعلیم کے بعد لڑکیوں کی شادی کر دینی چاہیے۔ وہ دونوں مڈل پاس تھیں۔ قدرت کے اکثر فیصلے انسان کی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔ ہوا یہ کہ پہلے ایک بہن بیوہ ہوئی۔ وہ بچوں سمیت ہمارے پاس آ گئی۔ کچھ عرصے بعد دوسری بہن کو بھی بیوگی کے صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ وہ بھی ہمارے پاس آ گئی۔ یوں ہمارا گھر یتیموں سے بھر گیا۔
جب تک والد کی زندگی رہی وہ بیٹیوں کی کفالت کرتے رہے۔ ان کے بعد یہ ذمہ داری میں نے سنبھال لی۔ میرے پیش نظر قرآن کی وہ آیات اور نبی پاکﷺ کی احادیث تھیں جن میں یتیم کی پرورش اور حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ چناںچہ میں نے اپنے بھانجوں اور بھانجیوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر توجہ دی۔ میری تنخواہ آنے سے پہلے ہی خرچ ہوجاتی تھی۔ مجھے بہت خوشی اور اطمینان ہے کہ وہ سب اپنی اپنی جگہ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔

ایک دن میں گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی تو میرے بھانجے نے مجھ سے پوچھا ’’خالہ جان! کیا سوچ رہی ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’سوچ رہی ہوں کہ ہمارے جو حالات ہیں‘ ان میںمیں کبھی حج نہ کر سکوں گی نہ ہی اپنا مکان بنا پائوں گی۔‘‘ قدرت خدا کی دیکھیں کہ چند دن بعد مجھے اوورسیز ایمپلائزمنٹ آفس سے فون آیا کہ سعودی عرب میں ایک جگہ نکلی ہے‘ جس پر آپ بطور استاد جا سکتی ہیں۔ میں نے سوچا کہ میں اکیلی عورت سعودی عرب جا کر کیسے کام کروں گی اور کہاں رہوں گی؟

چناںچہ میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ چند دن بعد ان کا دوبارہ فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ آ کر ہم سے مل لیں پھر جانے یا نہ جانے کا فیصلہ کیجیے گا۔ جب میں وہاں گئی تو انھوں نے مجھے ریاض یونیورسٹی میں بہت اچھی تنخواہ پر پروفیسر کے طور پر تدریس کی پیشکش کی۔ اس کے ساتھ تین ویزے اور رہائش کی سہولت بھی تھی۔ چناںچہ میں اپنے ساتھ اپنی بہن اور اس کے دو بڑے بچوں کو ساتھ لے گئی۔ اس طرح ہم ایک خاندان کے طور پر وہاں رہے۔ وہاں تدریس کے دوران بی اے میں میری عربی زبان کی تعلیم میرے بہت کام آئی۔

ہم 1983-88ء کے دوران پانچ سال سعودی عرب میں رہے۔ وہاں جانے کے ایک ماہ بعد ہی ہم سب نے حج کا فریضہ ادا کیا۔ بعد میں بہت سے عمرے بھی کیے۔ الحمدللہ! اللہ نے میری یہ خواہش بہت جلد پوری کر دی۔ وہاں سے میں نے اپنے بھانجے عبدالصمد بیگ کو مکان کی تعمیر کے لیے رقم بھیجی اور اس نے کینال ویوہائوسنگ کالونی لاہور میں ایک خوبصورت گھر تعمیر کرا دیا۔ میرا بھانجا عبدالصمد بیگ (ستارۂ امتیاز) سینیئر جیالوجسٹ اٹامک انرجی کمیشن سے سبکدوش ہو چکا۔ میرے ساتھ ہی رہتا ہے، میں نے یہ گھر اسی کو دے دیا ہے۔ میں نے اپنی زندگی فلاحی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دی ہے۔

آپا نثار فاطمہ نے ایک فلاحی تنظیم ’’پاک انجمن خواتین‘‘ کے نام سے قائم کی تھی۔ میں 1989ء میں اس کی رکن بنی۔ ہم نے ایک ’’بہبود فنڈ‘‘ قائم کیا ہوا ہے جس میں مخیر حضرات اور عام لوگ اپنی استطاعت اور توفیق کے مطابق عطیات دیتے ہیں۔ اس فنڈ سے مہاجرین، زلزلہ و سیلاب زدگان کے علاوہ بیوگان کی امداد کی جاتی ہے۔ اس تنظیم کے تحت فاطمہ اکیڈیمی بھی چلائی جا رہی ہے جہاں شام کے وقت معمولی فیس کے عوض اسکولوں کی بچیوں کو تدریسی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

میرا تعلق ایک دینی گھرانے سے ہے۔ میرے پڑنانا میاں محمود اردو، عربی کے بہت اچھے کاتب تھے اور ہاتھ سے قرآن لکھا کرتے۔ ہم نے ان کا ایک قلمی نسخہ مسجد نبوی کی لائبریری کو عطیہ کیا۔ میرے دل میں محمدﷺ کی ذات پاک سے محبت تو پہلے ہی موجود تھی۔ سبکدوشی کے بعد فرصت میسر آئی اور میرے مرشد حضرت عبید اللہ درانی پرنسپل انجینئرنگ کالج پشاور نے مجھے توجہ دلائی تو میں نے نعت گوئی شروع کر دی۔ میری نعتوں کی اصلاح ممتاز شاعر مظفر وارثی (مرحوم) نے کی۔

یوں میرا ایک مجموعہ نعت ’’ردائے نور‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے علاوہ میری کچھ تالیفات بھی زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ ان میں ’’تلاش حق کی ڈائری، نعلین مبارک تک، حکمت فروغ کن جلد اوّل و دوم‘‘ شامل ہیں۔ یاایھاالدین آمنو سے شروع ہونے والی 88آیاتِ قرآنی کی تالیفی تفسیر ’’دریائے نور‘‘ کے نام سے زیر طبع ہے۔ میں ہر ہفتے کے دن اپنی رہائش گاہ پر خواتین کو قرآن اور سیرت النبی کی تعلیم دیتی ہوں۔

میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ حق و انصاف کا عَلم بلند رکھا۔ اپنی رائے کا اظہار جرأت اور بے باکی سے کیا اور کسی کی ناراضی کی پروا نہیں کی۔ ایک دفعہ اسلامیہ کالج میں محترمہ خدیجہ فیروزالدین لیکچر دینے آئیں۔ وہ بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ انھوں نے اپنے لیکچر کے دوران جوشِ خطابت میں فرما دیا کہ مجھے یوں لگتا ہے‘ یہاں لاہور میں کوئی مومن ہی نہیں۔ یہ سن کر میرے دل میں کھلبلی مچ گئی۔

جب وہ باہر نکلیں تو میں، کنیزفاطمہ اور مس امتیاز ان کے پیچھے گئے۔ ہم نے کہا کہ کیا آپ دلوں کے حال جانتی ہیں؟ آپ نے یہ کیسے کہہ دیا کہ یہاں کوئی مومن نہیں؟ وہ تھوڑا سا سٹپٹائیں، پھر گول مول جواب دے کر چلی گئیں۔

ایک دفعہ ایک عورت نے میری موجودگی میں پاکستان کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہہ دیے۔ پھر کیا تھا‘ میں تو بپھر گئی۔ میرے اندر اسلامیہ کالج کی روح اور جذبہ بیدار ہو گیا۔ میں نے گرج کر کہا ’’تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟ واپس چلے جائو۔ تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اس لیے کہ تمھارے بچوں کو اچھا روزگار مل گیا ہے۔ تمھارے بچے افسر بن گئے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میری آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ نجانے لوگ آزادی کی نعمت کی قدر کب کریںگے؟

ایک مرتبہ یونیورسٹی میں لیکچرار کی اسامی کے لیے دو امیدوار مقابلہ کر رہے تھے۔ ایک نے کوئی تحقیقی مقالہ نہیں لکھا تھا ‘ دوسرے کے کئی مقالے شائع ہو چکے تھے۔ ایک جسٹس بھی سلیکشن بورڈ کے رکن تھے۔ وہ اس امیدوار کے حق میں دلائل دے رہے تھے جس کا کوئی مقالہ نہ تھا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر خیرات ابنِ رسا بھی موجود تھے۔ میں نے کہا کہ یونیورسٹی کی شرائط کے مطابق منتخب امیدوار کے کم از کم آٹھ مقالے شائع شدہ ہونے چاہئیں۔ ڈاکٹر محمود نے بھی میرے موقف کی تائید کی۔ اس طرح میں نے غیر مستحق سفارشی امیدوار کو منتخب نہیں ہونے دیا۔

میں نے جو زندگی گزاری‘ اس سے پوری طرح مطمئن اور خوش ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے بے پناہ عنایات سے نوازا۔ میں نے زندگی میں تنگی اور فراخی‘ دونوں دیکھی ہیں لیکن اللہ کے سوا کسی کے آگے اپنا ہاتھ نہیں پھیلایا۔ قرض نہیں لیا۔ اپنی پنشن کا بڑا حصہ ہونہار بچوں کی تعلیم اور غریب بچیوں کی شادی پر خرچ کر دیتی ہوں۔

میں سبھی والدین سے کہتی ہوں کہ گھر کی اکائی کو درست کر لیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ جسم کی پرورش کے ساتھ روح کی پاکیزگی اور ترقی بھی ضروری ہے۔ پاکستانی طالب علموں کو چاہیے کہ مادی علوم کے ساتھ عربی زبان اور قرآن کی تعلیم ضرور حاصل کریں۔ اردو سیکھیں اور سکھائیں اور اس پر فخر کریں۔ وہ قوم گونگی ہوتی ہے جو اپنی زبان میں بات نہ کر سکے اور غیر ملکی زبانوں کو ترجیح دے۔

آخر میں اپنی کتاب ’’ردائے نور‘‘ سے حمد و نعت کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔

اولیٰ خدا کی ذات ہے اعلیٰ خدا کی ذات
واحد ہے لاشریک ہے یکتا خدا کی ذات

قاصر ہیں لفظ سارے ہی اس کے بیان سے
ہر سمت، ہر مکاں سے مبّرا خدا کی ذات

موجود ہر جگہ پہ مگر لامکان ہے
ہر نقشِ کائنات میں افشا خدا کی ذات

نعت
نبیﷺ کا آستاں ہے اور میں ہوں
کرم کا سائباں ہے اور میں ہوں

اٹھے جاتے نگاہوں سے ہیں پردے
حجابِ ناتواں ہے اور میں ہوں

کہوں اپنی زبان میں نعت کیسے
یہ قرآں کی زباں ہے اور میں ہوں

سمیٹوں کیسے یہ رحمت کے موتی
یہ ظرفِ ناتواں ہے اور میں ہوں

کہاں جائوں گی اٹھ کے اب یہاں سے
امانِ بے کساں ہے اور میں ہوں