function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

درندہ بہرحال درندہ ہے

اقبال فیروز | شکاریات

انیسویں  اور بیسویں صدی کا درمیانی عرصہ آدم خور شیروں کی وحشت ناک داستانوں اور ان کے خلاف شکاریوں کی جرأت مندانہ سرگرمیوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جنگلوں میں خونخوار جانوروں کا راج تھا، ذرائع آمدورفت مفقود تھے اور آس پاس میلوں تک انسانی آبادیوں کے نشان نہیں تھے۔ درندے آدم خور بن جاتے تو وہ آبادیوں کا رخ کر لیتے اور پلک جھپکنے میں گھروں میں سوئے ہوئے انسانوں کو اٹھا کر لے جاتے اور اگر جنگل میں کوئی اِکا دُکا انسان ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو آدم خور اسے نشان عبرت بنا ڈالتے۔

ہم آدم خور شیروں کے شکار کے موضوع پہ مختلف رسائل اور کتابوں میں جتنی کہانیاں پڑھتے ہیں ان کا تعلق کم و بیش اسی دور ہی سے ہے۔ ایک امریکن سروے کے مطابق 1800ء سے لے کر 1909ء تک 37,500انسان آدم خور شیروں کا لقمہ بنے جن میں سب سے زیادہ تعداد ہندوستان میں بسنے والے لوگوں کی تھی۔ آج وقت بہت بدل چکا ہے۔ جنگل سیرگاہوں اور پارکوں میں بدل چکے ہیں، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا جال بچھ چکا ہے۔ جنگلی شیروں کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔

ہندوستان، بنگلہ دیش، کینیا اور افریقا کے کئی دوسرے ممالک میں جہاں شیروں کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں وہاں حکومتوں کی طرف سے شیر کے شکار پہ سخت پابندیاں ہیں اور پھر اس دور میں انسانوں اور شیروں کو بھی اتنی عقل آچکی ہے کہ نہ تو انسان ایسی جگہوں پہ جاتے ہیں جہاں کوئی جنگلی درندہ انھیں اپنا لقمہ بنا سکے اور نہ درندوں میں اتنی سکت رہی ہے کہ وہ کسی انسانی بستی کا رخ کریں اور انسانوں پہ خواہ مخواہ حملہ آور ہو کر خود اپنا شکار کروائیں۔

لیکن یہ کہنا کہ اس دور میں انسان آدم خوروں کا نشانہ بننا بالکل بند ہو چکے ہیں، یہ بھی درست نہیں ہے۔ آج بھی کہیں نہ کہیں ایسا واقعہ ہو ہی جاتا ہے جو ہم پہ ایسا تاثر چھوڑ جاتا ہے کہ درندہ بہرحال درندہ ہی ہے اس سے خیر کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ ایک مشہور شکاری اور ناول نگار Peter Capstick Hathaway نے اپنی کتاب ’’Death in the Silent Places‘‘ میں لکھا ہے کہ پچھلے چار سو سالوں میں آدم خور شیروں نے ملین انسانوں کو ہلاک کیا ہے اگر اس کی اوسط نکالی جائے تو یہ 2500افراد فی سال بنتی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ 1980ء میں کم و بیش ساٹھ لکڑہارے گنگا ڈیلٹا میں آدم خور شیروں کا شکار بنے۔ 1989

ء میں نیویارک ٹائم نے ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں ایک حیرت انگیز انکشاف کیا گیا تھا کہ آدم خور اکیلے انسان پہ حملہ کرتا ہے اور ہمیشہ پیچھے سے وار کرتا ہے۔ چناںچہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خاص قسم کا ماسک تیار کیا گیا جس کے پچھلی طرف مصنوعی آنکھیں لگائی گئیں۔ لکڑہارے پیلے ربڑ کا بنا ہوا یہ ماسک پہن کر اپنا کام کرتے تھے اور آدم خور یہ سمجھتا کہ اس کا شکار اسے دیکھ رہا ہے اور وہ حملہ کرنے سے باز آجاتا۔ آگے چل کر اخبار نے لکھا تھا کہ اگلے سال صرف 29افراد آدم خور شیر کا شکار بنے اور یہ سب لوگ وہ تھے جنھوں نے یہ ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش میں سندربن کے جنگل میں آج بھی پچاس سے زیادہ افراد ہر سال آدم خور شیروں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ سندربن دنیا کے خوبصورت ترین جنگلوں میں شمار ہوتا ہے یہاں کارائیل بنگال ٹائیگر خوبصورت خیال کیا جاتا ہے۔ یہاں شیروں کے بارے میں تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سربراہ جناب منیر ایچ خان نے ایک ہندوستانی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سندربن میں شیروں کی تعداد چارسو کے قریب ہے اور ان میں سے کم از کم دس شیر آدم خور ہیں۔ جنگل میں شہد اتارنے اور لکڑیاں کاٹنے والے ان کا نشانہ بنتے ہیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عام لوگوں کو جنگل میں جانے سے روکنے کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے اور شاید ایسا اس لیے نہیں ہو سکتا کہ اتنے بڑے جنگل میں پہرے داروں کا بٹھانا آسان کام نہیں ہے۔

اسی طرح تنزانیہ میں 2002ء سے 2004ء تک اسامہ نامی شیر نے پچاس سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا درندہ جس کی فطرت میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ انسانوں کو اپنی خوراک کے طور پر استعمال کرے آدم خور کیوں بن جاتا ہے؟اس بارے میں جن لوگوں سے بھی پوچھا گیا ان کے جوابات کم و بیش ایک جیسے ہی تھے۔ شیر جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو اس کے قویٰ میں اتنا دم خم نہیں رہتا کہ وہ شکار کو گھیر سکے یا اس پہ قابو پا سکے۔ ایسی حالت میں اسے آسانی سے ملنے والا شکار انسان ہی ہوتے ہیں۔ انسان نہ تو بہت سے جنگلی جانوروں کی طرح تیز دوڑ سکتا ہے اور نہ یہ شیر جیسے درندے سے مقابلہ کر سکتا ہے۔ کبھی کبھار بعض لوگوں نے مقابلہ کرنے کی ہمت دکھائی تھی مگر عام طور پر شیر کے حملے سے پہلے ہی لوگ ذہنی طور پر مرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

آزادی سے پہلے انگلستان سے صاحب بہادروں کی ایک بہت بڑی کھیپ صرف شکار کے مزے لوٹنے کے لیے ہندوستان آتی تھی۔ ان شکاریوں میں اکثر لوگ شکار کے شوقین توہوتے تھے لیکن شکار کے آداب و رموز سے بہت کم واقفیت رکھتے تھے۔ ان کے اناڑی پن کی وجہ سے شیر زخمی ہو کر شکار کے قابل نہ رہتے اور اپنی بھوک مٹانے کے لیے انسانوں پہ حملے کرنا شروع کر دیتے۔

کبھی کبھی کوئی شیر محض تفریح طبع یا کسی نامعلوم وجوہات کی بنا پہ کسی انسان پہ حملہ آور ہو جاتا اور جب اسے انسانی خون کی چاٹ لگ جاتی، تو اسے کسی دوسرے جانور کا گوشت پسند نہ آتا اور وہ صرف انسانوں ہی کو اپنا شکار بنانا شروع کر دیتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ شیر کسی وجہ سے اپنے دانتوں سے محروم ہو جاتا ہے تو ایسی صورت حال بھی اسے آدم خور بنا دیتی ہے۔ ایک ایسے ہی آدم خور شیر کو مارنے کے بعد جب اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، تو اس کے نیچے کے دو دانت ٹوٹے ہوئے تھے جب کہ اوپر کے جبڑے کے سارے دانت بھی اپنی اصل حالت میں نہیں تھے۔

ایک مشہور شکاری کینتھ اینڈرسن(Kenneth Anderson) نے اپنی شکاری زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ جنگل میں دو شیر آپس میں بری طرح سے لڑ رہے تھے اور اس تماشے کو دیکھنے کے لیے ان کے اردگرد دیہاتیوں کی ایک خاصی تعداد موجود تھی۔ ایک گھنٹے کی اس لڑائی میں دونوں شیر اس بری طرح سے زخمی ہوئے کہ ان کے خون سے زمین کے ایک ٹکڑے پہ سرخ رنگ کے قالین کا گماں ہوتا تھا۔ دونوں میں سے جو شیر زیادہ زخمی تھا وہ ہانپتا ہوا ایک طرف بھاگ گیا اور دوسرا کافی دیر تک وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔

دو ماہ کے بعد اس علاقے سے کسی آدم خور کی وارداتوں کی خبریں آنے لگیں اور جب وہ شیر موصوف کی گولی کا نشانہ بنا تو یہ بات سامنے آئی کہ وہی شیر تھا جو شدید زخمی ہونے کے بعد میدان سے بھاگ گیا تھا۔ یہ شیر آدم خور کیوں بنا؟ وجہ صاف ظاہر تھی لڑائی کے دوران اس کے جبڑے اور دانتوں کو نقصان پہنچا تھا اور وہ جانوروں کے شکار کے قابل نہ رہنے کے باعث آدم خور بن گیا تھا۔

قدرت نے ہر جانور کو ایک مخصوص جبلت عطا کر رکھی ہے وہ اپنی ساری عادات کو ماں کے پیٹ سے سیکھ کر آتا ہے۔ ہر شکاری جانور کا شکار کرنے کا الگ انداز ہوتا ہے۔ شیر شکار کے پیچھے میلوں دوڑتا ہے اسے مختلف انداز سے گھیرتا ہے اور پھر اس کی شہ رگ کو اس وقت تک منہ میں دبا کر رکھتا ہے جب تک کہ اُس کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی شیر آدم خور بن جاتا ہے تو اس کی عادت میں تبدیلی آجاتی ہے۔ انسانی شکار کا انداز بدل جاتا ہے وہ نہ تو اسے گھیرنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ کسی انسان کے پیچھے بھاگتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی قوت شامّہ بہت بڑھ جاتی ہے۔ وہ میلوں دور سے انسان کی بو سونگھ لیتا ہے۔

خاموشی سے کسی جھاڑی میں چھپ کر اپنے شکار کا انتظار کرتا ہے اور جوں ہی مناسب موقع دیکھتا ہے پیچھے سے وار کرنے کے بعد اسے گھسیٹ کر جھاڑیوں میں غائب ہوجاتا ہے۔ اس وقت اس کا گلا دبا کر ہلاک کرنے کی جبلت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی طور پر اس کی چھٹی حس بھی بے حد تیز ہو جاتی ہے اور اسے یہ بھی احساس ہو جاتا ہے کہ آنے والا اکیلا ہے یا اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہیں۔ معروف شکاری اور لکھاری کینتھ اینڈرسن نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ’’آدم خور حیرت انگیز حد تک محتاط ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ اکیلے آدمی پہ حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر لوگ گروہ میں ہوں تو اسے حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ یہ سب کچھ اسے تجربہ ہی سکھاتا ہے۔‘‘

ہندوستان کے ضلع رڈراپراگ کے جنگلات میں ایک آدم خور نے اپنی حکومت قائم کر رکھی تھی۔ وہ رات کے وقت جہاں اور جس جگہ چاہتا کسی نہ کسی شخص کو اٹھاکر لے جاتا، دروازوںاور کھڑکیوں کو توڑ کرکمرے میں گھس جاتا اور سوئے ہوئے انسانوں کو پلک جھپکنے ہی میں اٹھا غائب ہو جاتا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس نے 129 انسانوں کو اپنا شکار بنایا۔ خوف کے مارے لوگوںنے رات کے وقت اپنے گھروں سے باہر نکلنا چھوڑ دیا لیکن اس کے باوجود اس کی ہلاکت خیز سرگرمیوں میں ذرہ برابر فرق نہ آیا اور بات انگلستان کی پارلیمنٹ تک جا پہنچی اور وہاں سے مشہور شکاری جِم کاربٹ(JimCorbett)کو اسے ہلاک کرنے کی مہم سونپی گئی اور یوں یہ آدم خور انسانوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاکت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچا۔

1896ء میں کینیا میں ایک ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے ایک برطانوی انجینئر کرنل جان پیٹرسن تعینات کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے انڈین اور مقامی مزدوروں کی ایک ٹیم پل کی تعمیر کے کام میں مصروف تھی کہ اچانک شیر نے ایک مزدور پہ حملہ کر دیا۔ کرنل جان نے اسے فوری طور پہ گولی کا نشانہ بنا کر نہ صرف مزدور کا حوصلہ بڑھایا بلکہ اپنے آپ کو بھی اس فکر سے آزاد کرنے کی کوشش کی کہ اب اس کا کام مقررہ وقت پہ مکمل پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ کام کی رفتار میں اضافہ ہو گیا مگر دو ہفتوں کے بعد کہیں سے شیروں کا ایک جوڑا نمودار ہوا اور انھوں نے مزدوروں کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔ شیر مزدوروں کے کیمپ میں گھس آتے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک یا دو آدمیوں کو اٹھا کر جنگل میں روپوش ہو جاتے۔ کرنل کے لیے یہ صورتحال بے حد تشویش ناک تھی۔ اسے پُل ایک مخصوص وقت میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

مزدوروں کی ہلاکت کا سلسلہ تیز سے تیز تر ہوتا گیا اور شیر تھے کہ کسی بدروح کی طرح رات کی خاموشی میں کیمپوں پہ حملہ آور ہوتے اور سوئے ہوئے مزدوروں کو اس قدر صفائی سے اٹھا کر لے جاتے کہ ان کے ساتھ سوئے دوسرے مزدوروں کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ ہر طرف یہ مشہور ہو گیا کہ شیروں کے بھیس میں یہ کوئی بدرُوحیں ہیں جنھیںمارنا ناممکن ہے۔

مزدوروں نے کام چھوڑ کر وہاں سے بھاگنا شروع کر دیا۔ ہندوستان سے آئے ہوئے مزدور راتیں جاگ جاگ کر گزارتے اور صبح کے وقت کام کرنے سے انکار کر دیتے۔ کرنل جان پیٹرسن ہر وقت شیروں کی گھات میں رہتا مگر اس کی ساری کارروائیاں بے اثر ثابت ہو رہی تھیں اور شیر تھے کہ کسی چھلاوے کی طرح اچانک نمودار ہوتے اور پلک جھپکتے ہی اپنا کام کرنے کے بعد جنگل میں غائب ہو جاتے۔

کرنل نے صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایک ماہر شکاری چارلس ریمنگٹن کی خدمات حاصل کیں اور وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا۔ ریمنگٹن نے شیر کے ہاتھوں زخمی ہونے والے مزدوروں کے لیے ایک ہسپتال بھی قائم کیا۔ ایک رات دونوں نے شیروں کو دیکھتے ہی ان پہ اندھا دھند گولیاں چلائیں مگر وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور اگلے دن جوڑے نے جواباً ہسپتال پر حملہ کرنے کے بعد کئی مزدوروں کو زخمی کر دیا۔ ریمنگٹن اور کرنل جان پیٹرسن نے شیروں کی کچھار کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا اور کافی جستجو کے بعد وہ اپنے مقصد میںکامیاب ہو گئے۔

کچھار کے باہر انسانی کھوپڑیوں اور ہڈیوں کی خاصی بڑی تعداد موجود تھی۔ وہ رات کو ایک بیبون کو درخت کے ساتھ باندھ کر ساری رات شیروں کا انتظار کرتے رہے۔ آدھی رات کے بعد ایک شیر ریمنگٹن کی گولی کا شکار بن گیا مگر دوسرا بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ عجیب اتفاق کہ اگلی رات دوسرے شیر نے ریمنگٹن کے کیمپ پہ حملہ کیا اور اسے ہی اٹھا کر جنگل میں غائب ہو گیا۔ شام کے وقت اس کی آدھ کھائی ہوئی لاش جنگل سے ملی۔ کرنل اس صورت حال سے انتہائی بددل ہوا اور اس نے اس وقت تک پل کی تعمیر کا کام روک دیا جب تک کہ دوسرا شیر بھی اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے۔

کیمپ کے قریب اگی ہوئی لمبی لمبی گھاس کو آگ لگا دی گئی اور کرنل، شیر کو اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے رات دن کیمپ کے باہر گشت کرنے لگا۔ ایک روز شیر نے اس پر ہی حملہ کر دیا وہ زخمی بھی ہوا مگر دھن کا پکا کرنل اپنے انجام سے بے نیاز شیر کی تلاش میں سرگرداں رہا اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ شیر کیمپ کے باہر اس کی گولی کا نشانہ بن گیا اور یوں پل کی تعمیر کا کام زورشور سے دوبارہ شروع ہو گیا۔ اس جوڑے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے 140انسانوں کوموت کے گھاٹ اتارا۔
اس موضوع پہ ہالی وڈ نے The Ghost and Darkness کے نام سے 1995ء میں ایک فلم بھی بنائی تھی جس میں دو مشہور ہندوستانی اداکاروں اوم پوری اوررحیم خان نے بھی اداکاری کی تھی۔

نیپال میں ایک بدنام زمانہ شیرنی جسے چیمپاواٹ شیرنی کا نام دیا گیا تھا۔ اس قدر ہوشیار اور محتاط تھی کہ واردات کے بعد اپنی جگہ بدل لیا کرتی تھی۔ نیپال میں 1911ء میں اس نے 200 انسانوں کو اپنا نشانہ بنایا اور اس کے بعد دوسرے مقامات پہ بھی انتہائی دلیری سے اپنے شغل میں مصروف رہی۔ یہ دن کے اجالے میں بھی بستیوں میں گھس آتی اور اپنے شکارکو اٹھا کر لے جاتی۔ یہ شیرنی بھی مشہور انگریز شکاری جِم کاربٹ کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی۔ اس کا آخری شکار ایک 16سال کی لڑکی تھی اور اس وقت تک وہ تقریباً 436انسانوں کو اپنا شکار بنا چکی تھی۔

شیرنی کی موت کے بعد جب اس کا معائنہ کیا گیا تو اس کے نیچے کا ایک دانت ٹوٹا ہوا تھا جب کہ اوپر کے دو دانت اس کے جبڑے میں آدھے سے زیادہ گھسے ہوئے تھے۔ اس کے آدم خور بننے کی یہی وجہ بیان کی گئی۔ اسی طرح کی ایک اورشیرنی جس کی پرورش انگلستان کے ایک پارک میں ہوئی تھی ایک سرکاری آفیسر ارجن سنگھ کی وساطت سے جنوبی ہندوستان کے ددھوا نیشنل پارک میں لائی گئی۔ اس کا نام تارا رکھا گیا تھا۔ مقصد یہاں کے کسی مقامی شیر سے ملاپ کے بعدایک الگ نسل کا جوڑا پیدا کرنا تھا۔ یہ مارچ 1978ء کی بات ہے۔ پارک کے گردونواح میں کسی شیر کے حملے کے باعث تین انسانی جانیں ضائع ہو گئیں اور اس کے بعد تواتر سے آدم خور کے حملے شروع ہو گئے۔

مقامی لوگوں نے حکومت سے زبردست احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شیر کو تلاش کیا جائے اور اسے زہر دیا جائے یا گولی کا نشانہ بنایا جائے۔ ماہر شکاریوں کی ایک ٹیم، جس میں ارجن سنگھ بھی شامل تھا شیر کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی مگر اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ حاصل ہو سکی۔ آدم خور اکا دُکا وارداتیں کرتا رہا۔ کئی دیہاتیوں نے بتایا کہ یہ کوئی دوسرا شیر نہیں بلکہ تارا ہی ہے جو کسی وجہ سے آدم خور بن چکی ہے۔ مگر ارجن سنگھ اور اس کے ساتھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھے۔

آخر میں جب آدم خور ایک شکاری کی گولی کا نشانہ بنی تو معلوم ہوا یہ تارا ہی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی پرورش انسانی ہاتھوں میں ہوئی تھی اوروہ جنگلی شکار کے آداب و رموز نہ سیکھنے اور جاننے کے باعث آدم خور بن گئی۔ یہ شکار نسبتاً آسان تھا۔ شیرنی کے آدم خور بننے کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں۔ بنگلہ دیش، انڈیا، کینیا، زیمبیا اور سائوتھ افریقا میں بہت سے انسان مادہ شیرنی کا شکار ہوئے لیکن جنگل کے ماحول سے وابستہ شکاریوں کا دعویٰ ہے کہ مادہ کی نسبت نر کے آدم خور بننے کی شرح بہت زیادہ ہے۔

مادہ کے بارے میں یونیورسٹی آف مینیسوٹا ( Minesot) میں شیروں کے معاملات کے ایکسپرٹ کریگ پیکر کا کہنا ہے کہ وہ نر سے زیادہ سفاک ثابت ہوتی ہے۔ کریگ پیکر مگر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک دو انسانوں کے شکار کے بعد اگر اسے انسانی خوراک آسانی سے نہ مل سکے تو وہ اس عادت کو ترک کرنے کے بعد اپنی پرانی روش پہ واپس آجاتی ہے۔ لیکن شیر کو ایک دفعہ انسانی گوشت کی لت پڑ جائے تو وہ زندگی بھر کسی دوسرے جانور کا شکار نہیں کرتا۔ پیکر نے آگے چل کر کہا ہے ’’انتہائی گھمبیر صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نر اور مادہ دونوں آدم خور بن جاتے ہیں۔‘‘

1909ء میں نارتھ رھوڈیشیا (آج کل زیمبیا کہلاتا ہے) میں ایک برطانوی پوسٹ کے قریب ایک دُم کٹے شیر نے علاقے کے لوگوں کی زندگیاں عذاب میں ڈال رکھی تھیں۔ یہ شیر سفید رنگ کا تھا اور اکثر انسانی شکار کے دوران اس کی پوری فیملی اس کے ہمراہ ہوتی تھی۔ ان آدم خوروں نے 90انسانوں کو اپنا لقمہ بنایا اور یہ ہمیشہ شکاریوں کی گولیوں سے بچتے رہے۔ بہت سے لوگ انھیں بھوت سمجھتے تھے اور شکاریوں کو انھیں مارنے سے منع کرتے۔

ایک دفعہ وہ ایک ایسی افریقی عورت پہ حملہ آور ہوا جو گھر میں تندور پہ روٹیاں پکا رہی تھی اس کے ہاتھ میں ایک جلتی ہوئی لکڑی تھی جس سے اس نے اپنادفاع کیااور شیر بھاگ گیا۔ کہا جاتاہے کہ اس حملے میں عورت کو تو کچھ نہ ہوا لیکن شیر کی دونوں آنکھیں ضائع ہو گئیں اور چند دنوں کے بعد شکاریوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ اس کے بعد شکار میں اس کا ساتھ دینے والے دوسرے ساتھی کہیں نظر نہ آئے۔

ویت نام کی جنگ میں سیکڑوں بے گوروکفن لاشیں جنگلوں میں بکھری رہتی تھیں اور جب کوئی بھوکا شیر کسی مردہ لاش سے اپنی بھوک مٹا لیتا تو اسے انسانی گوشت کی چاٹ لگ جاتی اور وہ زندہ انسانوں کی تلاش میں فوجی چھائونیوں اور بستیوں کا رخ کر لیتا۔ جنگ میں ایسے مواقع بھی آئے کہ ایک طرف تو امریکن فوجی ویت نامی گوریلوں سے برسرپیکار ہوتے اور دوسری طرف انھیں آدم خور شیروں کا کھٹکا لگا رہتا۔

جنگ میں کئی امریکن میرینز(فوجی) آدم خور شیروں کا شکار بنے تو اس تشویشناک صورت حال کو دیکھتے ہوئے مختلف اقدام تجویز کیے گئے۔ میرینز کو اگر جنگلوں میں رات بسر کرنا پڑتی تو وہ اپنے اردگرد آگ کا حصار قائم کر لیتے مگر اس کے باوجود اکثر ایسا ہوتا کہ آدم خور آگ کے حصار کو عبور کر کے کسی نہ کسی فوجی پہ ضرور حملہ آور ہو جاتے۔ ایک ایسا ہی واقعہ ایک امریکن فوجی نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا۔

’’ہمارا چھے افراد کا گروپ ایک مخصوص مشن پہ الپائین بیس سے پانچ کلومیٹر دور لوٹیاں بارڈر پہ ہیلی کاپٹر کا انتظار کر رہا تھا۔ ہم چار افراد اپنے اردگرد آگ جلا کر آرام کر رہے تھے جب کہ ہمارے دو ساتھی ہم سے ذرا فاصلے پر وائرلیس پہ پیغام رسانی میں مصروف تھے۔ اچانک شیر شیر کی آواز سے ہم چونک اٹھے اور دوسرے ہی لمحے ہمیں اپنے ساتھیوں کی چیخوں کی آوازیں سنائی دیں۔

ہم بھاگ کر ان کے پاس پہنچے تو ایک شیر ہمارے ساتھی کو منہ میں دبوچ کر آگ کے حصار کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایک ساتھ کئی گولیاں شیر کے جسم میں پیوست ہو گئیں اور وہ ہمارے ساتھی کو چھوڑ کر کچھ دیر کے لیے بھاگا اور پھر ایک درخت سے ٹکرا کر زمین پہ لوٹ پوٹ ہونے کے بعد ٹھنڈا ہو گیا۔ ہم نے اپنے زخمی ساتھی کو طبی امداد دی اور ہیلی کاپٹر کے آنے کے بعد مردہ شیر کو بھی اپنے ساتھ لیا اور واپس کیمپ میں آ گئے۔ زخمی کو تھرڈمیڈیکل بٹالین ہسپتال کورنگ ٹرائی میں بھجوا دیا گیا اور وہ چند ہفتوں کے بعد صحت یاب ہو کر واپس آ گیا۔‘‘

اس سے پہلے کہ ہمارا قلم اپنے عزیز وطن کا رخ کرے یہ بتانا ضروری ہے کہ تقسیم سے قبل سابقہ مشرقی پاکستان کو چھوڑ کر ہمارے ہاں کہیں بھی کوئی ایسا قابل ذکر واقعہ سامنے نہیں آتا کہ کسی شکاری نے شیر یا چیتے کے آدم خور بننے کی اطلاع پہ اس علاقے میں کوئی کارروائی کی ہو۔ دراصل یہاں ہندوستان اور بنگلہ دیش کی طرح ڈیلٹائی علاقے اور گھنے جنگلات نہیں تھے جو شیروں اور چیتوں کی بہتر آماجگاہ بن سکتے ۔

تاہم ایبٹ آباد اور مری کے اردگرد گلیات کے علاقوں میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں آدم خور چیتوں نے وسیع پیمانے پر تو نہیں لیکن اکا دکا انسانوں پہ ضرور حملے کیے۔ The Express Tribune میں 2ستمبر 2012ء کی اشاعت میں اس علاقے کے بارے میں ایک مضمون چھپا تھا جس میں ایک چیتے کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا تھا جس نے گلیات کے علاقے میں کئی عورتوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا تھا۔ 2005ء میں یہ چیتا دن کی روشنی میں صرف اور صرف ان عورتوں پہ حملہ کرتا تھا جو جنگل میں مویشیوں کو چرانے، لکڑیاں اکٹھی کرنے یا شہر میں خریدوفروخت کے لیے جایا کرتی تھیں۔

اس چیتے نے ایک ایک کر کے دس دنوں میں چھے عورتوں کو ہلاک کیا تو علاقے میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔ چیتے کو زندہ پکڑنے کی کئی کوششیں کی گئیں مگر بے سود۔ چیتا جنگل سے نمودار ہوتا اور اپنے شکار کو منہ میں دبا کر غائب ہو جاتا۔ یہ چیتا اس قدر بدنام ہوا کہ علاقے کے لوگوں نے اسے گلیات کے بھوت کا نام دے دیا تھا۔ چند ماہر شکاریوں پر مشتمل ایک ٹیم تیار کی گئی جو ایک ہفتے کی کوششوں کے بعد چیتے کو زندہ پکڑنے میں کامیاب ہو گئی۔ یہ اپنی نسل کا ایک واحد جانور تھا جس کی نسل دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتی تھی۔ یہ نہ تو Tiger اور نہ ہی Lion تھا بلکہ دونوں کی ایک درمیانی قسم تھی جو چیتے سے مشابہ تھی اور قد میںان سے کہیں زیادہ چھوٹی تھی۔

یہ ان کی طرح دھاڑتا نہیں تھا بلکہ اس کی آواز بلی کی میوں میوں سے مشابہ تھی اور یہ اس قدر خوبصورت تھا کہ علاقے کے لوگ اسے آدم خور ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ اگرچہ اس علاقے میں چیتے کے ہاتھوں انسانی اموات ختم ہو گئیں مگر لوگوں کو اب بھی یقین تھا کہ گلیات کا بھوت ابھی زندہ ہے اور وہ ایوبیہ نیشنل پارک کے سرسبز علاقے میں کہیں موجود ہے۔ یہ بات بہرحال طے ہے کہ درندہ کسی بھی سائز کا ہو، درندہ ہی ہوتا ہے۔ اس سے خیر کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ احتیاط انسانوں کو ہی کرنا ہو گی۔