function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

سی آئی اے کے وائرس

ابو صارم | انکشافات

5اپریل  2013ء کو وینزویلا کا امریکا مخالف صدر ہیوگو شاویز پراسرار انداز میں سرطان (کینسر) کے باعث چل بسا۔ تب یہ سننے میں آیا کہ امریکی خفیہ ایجنسی، سی آئی اے نے اس کے جسم میں کینسر پیدا کرنے والے حیاتیاتی مادے داخل کیے تھے۔ یوں وہ خطے میں اپنے سب سے بڑے دشمن کو صفحۂ ہستی سے مٹانے میں کامیاب رہی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ وائرسوں اور جراثیم پر مشتمل حیاتیاتی ہتھیاروں کے ذریعے مخالفین کو ختم کرنا امریکی خفیہ اداروں کا قدیم چلن ہے۔ جراثیمی ہتھیار امریکی فوج اور سی آئی اے کے انتہائی خفیہ مشترکہ منصوبے ’’مکنا ٹومی‘‘ (Mkanatomi) کی بدولت وجود میں آئے۔ یہ منصوبہ اتنا خفیہ ہے کہ انٹرنیٹ جیسی لامحدود دنیا میں بھی اس کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

مکناٹومی کا مقصد ایسے وائرس اور جراثیم (بیکٹریا) دریافت کرنا تھا جو انسانوں کو معذور بنائیں یا ہلاک کر ڈالیں۔ نیز ایسے آلات بھی ایجاد کرنا تھا جو ان جراثیمی ہتھیاروں کو باحفاظت اور چوری چھپے ٹارگٹ تک پہنچا سکیں۔ اس انسانیت دشمن منصوبے کے خالقوں میں بدنام زمانہ تعصب پسند امریکی ڈاکٹر، کورنیلئس پی رہوڈز بھی شامل تھا۔

ڈاکٹر کورنیلئس ایک امریکی تحقیقی طبی ادارے، راک فیلر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل انویسٹی گیشنز سے وابستہ تھا۔ 1930ء میں اُسے ایسے وائرس و جراثیم ڈھونڈنے کی ذمے داری سونپی گئی جو انسانوںمیں سرطان (کینسر) پیدا کردیں۔ اس امریکی ڈاکٹر نے تجربات کے لیے پورٹوریکو کے تیرہ باشندوں کو بھی شامل تحقیق کرلیا۔

جب ڈاکٹر کورنیلئس نے ان تیرہ انسانوں میں کینسر پیدا کرنے والے حیاتیاتی ایجنٹ داخل کیے، تو وہ 1931ء میں مرگئے۔ یاد رہے، اس وقت تک پورٹوریکو میںامریکا سے آزادی حاصل کرنے کی خاطر تحریک چل پڑی تھی۔ تحریک آزادی کا قائد پیڈرو البوینر تھا۔ (یاد رہے، پورٹوریکو اب بھی امریکا کی نو آبادی ہے، حالانکہ نومبر 2012ء میں اس مجمع الجزائر کے باشندے آزادی کے حق میں ووٹ دے چکے۔)

1931ء کے وسط میں پیڈروابوینر کے ہاتھ ڈاکٹر کورنیلئس کا چشم کشا خط لگا۔ یہ خط ڈاکٹر نے اپنے ایک دوست کو لکھا تھا۔ اس میں درج تھا:
’’میں پورٹوریکنوں (باشندوں)سے سخت نفرت کرتا ہوں۔ وہ دنیا کے سب سے گندے، سست ترین، نفرت انگیز اور شیطان نما انسان ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ انھیں صفحۂ ہستی سے مٹا دوں۔ اسی لیے میں ان میں سرطان پیدا کرنے والے ’’ایجنٹ‘‘ چھوڑ رہا ہوں۔‘‘

اس خط نے پورٹوریکو میں ہنگامہ برپا کردیا۔ پیڈروالبوینر نے اِسے امریکی استعمار کی بدترین نشانی قرار دیا۔ اس نے خط لیگ آف نیشنز اور انسانی حقوق کے اداروں کو بھجوایا۔ تاہم امریکی حکومت اثرورسوخ کے باعث معاملہ دبانے میں کامیاب رہی۔

ڈاکٹر کورنیلئس نے خط کی بابت دعویٰ کیا کہ یہ محض ایک مذاق تھا۔ تاہم آنے والے وقت نے ثابت کیا کہ ڈاکٹر نے وہی لکھا جو اس کے دل میں تھا۔ 1950ء میں امریکی حکومت نے بغاوت کا الزام لگا کر پیڈرو ابوینر کو گرفتار کیا اور امریکا بھجوا دیا۔

1952ء یا 1953ء میں امریکی محکمہ دفاع اور سی آئی اے کے مالی تعاون سے مکناٹومی منصوبے کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر کورنیلئس اب دیگر امریکی سائنس دانوں کے ساتھ جراثیمی ہتھیار بنانے میں مصروف ہوگیا۔ تجربات میں امریکی جیلوں میں بند قیدی بھی استعمال ہوئے۔ اور ان قیدیوں میں پیڈرو البوینربھی شامل تھا۔

دوران تجربات ڈاکٹر کورنیلئس نے پورٹوریکن تحریک آزادی کے راہنما کو حیاتیاتی مادوں اور شعاع ریزی کا نشانہ بنایا اور یوں خط افشا کرنے پر پیڈرو سے بدلہ لیا۔ ان تجربات نے پیڈرو کی صحت خراب کردی اور جلد جھلسا ڈالی۔ پھر 1956ء میں اس پر فالج کا حملہ ہو گیا اور وہ اذیت ناک حالات برداشت کرتا چل بسا۔ پیڈرو کی داستان یہ عیاں کرتی ہے کہ امریکی حکومت مفادات کی اسیر ہے اور اپنے مفاد کی خاطر آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے اعلیٰ اصولوں کو بھی خیرباد کہہ ڈالتی ہے۔

امریکی شہر فریڈرک میں فورٹ ڈیٹرک نامی امریکی فوج کا ایک بڑا مرکز واقع ہے۔ مکناٹومی اور حیاتیاتی ہتھیار بنانے والے دیگر امریکی منصوبے مثلاً ڈورک (Dork) اور اوفن/چِک وٹ (Often/Chickwit) اسی مرکز میں 1943ء تا 1969ء جاری رہے۔ اس مرکز میں امریکی فوج اور سی آئی اے سے وابستہ چوٹی کے سائنسی ماہرین مصروف کار رہے۔
ان منصوبوں کے ذریعے امریکی ماہرین نے نت نئے جراثیمی، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار ایجاد کیے۔ مثلاً بوٹولینم(Botoulinum)زہر جو انسانی جسم میں پہنچ کر جان لیوا غذائی سمیت(فوڈ پوائزننگ)پیدا کرتے ہیں۔ پھر کینسر پیدا کرنے والے ایسے وائرس پیدا کیے گئے جو بذریعہ ہوا انسان کے منہ میں داخل ہوسکیںا ور ایسے جراثیم جو جانوروں سے ’’چھلانگ‘‘ لگا کر انسانوں سے جاچمٹیں۔

1972ء میں امریکی صدر، رچرڈنکس نے حیاتیاتی ہتھیاروں کی روک تھام والے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر دیے۔ یوں امریکیوں کے لیے علی الاعلان جراثیمی ہتھیار بنانا ناممکن ہوگیا۔ لیکن سی آئی اے نے خفیہ مراکز میں اپنی تحقیق جاری رکھی۔

1975ء میں واٹرگیٹ اسکینڈل کے بعد طاقتور امریکی سینٹ نے ’’چرچ کمیٹی‘‘ کے نام سے ایک تفتیشی ادارہ بنایا۔ اس کے ذمے یہ چھان بین کرنا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ تبھی سی آئی اے افسران نے اپنے خفیہ منصوبوں کے متعلق کچھ اہم تفصیلات بتائیں۔ یہ تفصیل بھی عوام سے پوشیدہ رکھی گئی مگر کچھ باتیں ضرور منظر عام پرآگئیں۔

مثال کے طور پر انکشاف ہوا کہ سی آئی اے ایسا زہر تخلیق کرچکی ہے جو انسان کے اندر پہنچ کر ہارٹ اٹیک (حملہ قلب) کا باعث بنتا ہے۔ امریکی ماہرین کی جدت دیکھیے کہ انھوں نے زہر کو ننھے منے ڈارٹ یا سوئی کی شکل میں منجمد کردیا۔ یہ ڈارٹ پھر پستول سے فائر کیاجاتا ہے اور بڑی تیزی سے انسانی جسم میں جاگھستا ہے۔

جب ڈارٹ انسانی جسم میں داخل ہوتا، تو انسان کو یہی لگتا کہ کسی مچھر نے اُسے کاٹا ہے۔ ڈارٹ گھسنے کی جگہ بس ننھا منا سا سرخ نشان بن جاتا۔ جسم میں پہنچتے ہی زہریلا ڈارٹ پگھل کر خون میں شامل ہوتا اور فی الفور ہارٹ اٹیک کا سبب بنتا۔ اس زہر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنا کوئی نام و نشان نہیں چھوڑتا، چناںچہ جدید مشینوں سے پوسٹ مارٹم بھی اِسے دریافت نہیں کرسکتا۔ یوں کوئی نہیں جان پاتا کہ یہ دراصل قتل ہے۔

خفیہ ہتھیار بنانے والے سی آئی اے کے ماہر ، چارلس سینسینی نے چرچ کمیٹی کو بتایا کہ عموماً یہ زہریلا ڈارٹ چھتری کی نوک میں نصب پستول سے فائر کیا جاتا۔ چونکہ یہ ڈارٹ آواز پیدا کیے بغیر خارج ہوتا لہٰذا کسی کو اس کی بابت پتا نہ چلتا۔ شکار کو نشانہ بنا کر قاتل اطمینان سے چھتری لپیٹتا اور چل دیتا۔

کئی امریکی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ صدر جان کینیڈی کو بتاریخ 22نومبر 1963ء اسی چھتری گن سے قتل کیا گیا۔ اس ضمن میں وہ دو ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اوّل قتل کی وڈیو فلموں سے عیاں ہے کہ گولیاں چلنے سے قبل ہی گاڑی میں بیٹھے صدر کینیڈی اچانک بے ہوش سے ہوگئے۔ ان کی مٹھیاں بھینچ گئیںاور سر‘ کندھے اور بازو سخت ہو گئے۔ دوم بعدازاں مقتول کی گردن میںایک ننھا نشان پایا گیا۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مخالف جان کینیڈی کو پہلے چھتری گن سے نشانہ بنایا اور پھر گولیاں بھی چلوا دیں تاکہ وہ کسی صورت بچ نہ سکے۔

سی آئی اے ماہرین نے انسان میں ہارٹ اٹیک پیدا کرنے کا ایک اور نادر طریق کار دریافت کیا۔ اس کی بنیاد ہمارے عصبی نظام پر ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی ہر دھڑکن دماغ کے ساتھ تال میل رکھتی ہے۔ اگر کسی انسان کے قلب پر مائکرو ویو شعاع ڈالی جائے، تو یہ تال میل بگڑ جاتا ہے اور فوراً ہارٹ اٹیک جنم لیتا ہے۔ یہ طریق کار بھی سی آئی اے نے امریکا کے مخالفین کو مارنے کے لیے اپنایا۔

امریکا کے دشمنوں کو راہ سے ہٹانے کا تیسرا طریقہ ان میں سرطان پیدا کرنے والے وائرس چھوڑنا ہے۔ یاد رہے، لیبارٹری تجربات سے ثابت ہوچکا کہ بذریعہ انجکشن صحت مند جانوروں میں سرطان وائرس داخل کیے جائیں تو وہ اس موذی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ بھی بعینٖہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ جیسے ہی یہ وائرس انسانی جسم میں داخل ہوں، اپنا کام شروع کردیتے ہیں۔ انتہائی تجربہ کار ماہر امراض سرطان ہی یہ دریافت کر پاتا ہے کہ یہ کسی انسان میں مرض ’’درآمد کنندہ‘‘ ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی پچھلے 60برس میں درج بالا طریقوں سے امریکی استعمار اور جنگ جوئی کے مخالفین کو قتل کرچکی ہے۔ سی آئی اے نے سرطان کے وائرس سب سے پہلے جیک روبی کے جسم میں داخل کیے۔ یہ وہی امریکی ہے جس نے صدر کینیڈی کے قاتل، لی ہاروے کو گولی مار کر ہلاک کرڈالا تھا۔

جیک روبی یقینا صدر کینیڈی کے قاتلوں کو جانتا تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ کانگریس (امریکی پارلیمنٹ) میں اہم بیان دے گا۔ لیکن بیان دینے سے قبل ہی سرطان کے باعث چل بسا۔ سرطان نے اچانک اس پر حملہ کیا، بڑی تیزی سے پھیلا اور اُسے قبر کے اندر پہنچا دیا۔

غیر ملکی سربراہوں میں سی آئی اے کے ایجنٹوں نے سب سے پہلے صدر کانگو، اگو سٹینو نیٹو پر ’’وائرس حملہ‘‘ کیا۔ صدر نیٹو امریکی استعمار کا سخت مخالف تھا۔ حتیٰ کہ اس نے امریکی چودھراہٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے سوویت یونین اور کیوبا سے ہاتھ ملالیا تھا۔ 1979ء میں اچانک صدر نیٹو سرطان کا نشانہ بنا اور چند ہی ماہ میں چٹ پٹ ختم ہوگیا۔ اس کی عمر صرف 56سال تھی۔

چلی کے سابق صدر، ایڈورڈ فری کو بھی سرطان کا شکار بنا کر امریکا نے اپنی راہ سے ہٹایا۔ صدر فری سی آئی اے کے متعین کردہ حاکم، جنرل پنوشے کا سخت مخالف تھا۔ امریکیوں نے 1981ء میں اُس کے بدن میں خطرناک وائرس داخل کیے اور اگلے ہی سال وہ دنیاسے رخصت ہوگیا۔

بیماریوں کے وائرس و جراثیم
سی آئی اے نے افراد کو ہی نہیں پورے پورے ملکوں کو نشانہ بنایا۔ 1981ء کے موسم بہار میں اچانک ڈینگی بخار نے کیوبا پر حملہ کردیا۔ چند ماہ میں پچھتر ہزار مریض ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ روزانہ دس ہزار مریض ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے لگے۔ اس سے قبل کیوبا میں 1944ء میں ڈینگی کے کچھ مریض سامنے آئے تھے۔

بعدازاں انکشاف ہوا کہ امریکی فوجی طیاروں نے کیوبا پہ حیاتیاتی حملے کے ذریعے ڈینگی بخار پھیلایا۔ اور اس مہم میں کیوبا میں موجود سی آئی اے کے ایجنٹوں نے بھی حصہ لیا۔ امریکیوں نے بعدازاں کیوبا میں سوائن فلو بھی پھیلانے کی کوششیں کیں تاکہ امریکا دشمن ملک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔

پچھلے سال یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ پاکستان میں سی آئی اے کے ایک تجربے کی بدولت ڈینگی بخار پھیلا۔ ہوا یہ کہ 1979ء میں امریکا نے لاہور میں ایک تحقیقی مرکز باعنوان’’ملیریا اریڈیکیشن سینٹر‘‘کھولا۔ اس کا ناظم مشہور امریکی ڈاکٹر، ڈیوڈ نالین کو بنایا گیا۔

یہ سینٹر دراصل سی آئی اے کا خفیہ مرکز تھا۔ وہاں افغانستان میں تعینات سوویت فوج میں ڈینگی اور زرد بخار پھیلانے والے وائرسوں پر تجربات ہونے تھے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نے بغرض تجربات گرین ٹائون کے چار غریب باشندوں کی خدمات حاصل کرلیں۔ ان میں پھر ڈینگی بخار کے وائرس بذریعہ انجکشن داخل کیے گئے۔

جون 1980ء میں چاروں نوجوان بیمار ہو کر اسپتال جاپہنچے۔ تب پاکستانی صحافیوں کی تحقیق سے افشا ہوا کہ ملیریا سینٹر میں تو پاکستانیوں کو گنی پگ (Guinea Pig) کی حیثیت سے استعمال کیا جارہا ہے اور تبھی یہ بات بھی سامنے آئی کہ سی آئی اے سوویت فوجیوں میں ڈینگی و زرد بخار کے وائرس و جراثیم پھیلانا چاہتی ہے۔ چنانچہ بعدازاں اقوام متحدہ اور سوویت یونین کے شدید دبائو پر پاکستانی حکومت نے ملیریا اریڈیکیشن سینٹر بند کردیا۔ لیکن دوران تجربات نہ صرف ڈینگی بخار کے وائرس پاکستانیوں میں داخل ہوئے بلکہ اُسے پیدا کرنے والا مچھر بھی پاکستان میں متعارف ہوگیا۔ اس پورے واقعے کی تفصیل انگریزی ہفت روزہ ویو پوائنٹ نے اپنی یکم جون 1980ء کی اشاعت میں بیان کی ہے۔

سی آئی اے اپنے ملک میں ’’وسل بلوئروں‘‘ اور حکومت مخالف شخصیات کو بھی ہارٹ اٹیک یا سرطان کے ذریعے قتل کرنے میں ملوث رہی ہے۔ مثلاً منرو کو سرطان کے ذریعے مارا گیاجو صدر کینیڈی کے قتل میں ملوث تھا۔ مارلین منرو بھی قتل ہوئی جو شاید کسی راز سے واقف ہوچکی تھی۔ صحافی مارک پٹ مین ہارٹ اٹیک سے چل بسا۔ یہ صحافی امریکی حکومت پر سخت تنقید کرتا تھا۔

سی آئی اے کے کرتوت
پچھلے دو عشروں میں یکے بعد دیگرے لاطینی امریکا کے بعض ممالک میں امریکا مخالف حکمران برسراقتدارآگئے۔ انھوں نے پھر جنوبی امریکا میں امریکی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے خلاف محاذ بنالیا۔ تب سی آئی اے نے ان امریکا مخالف حکمرانوں کو ہارٹ اٹیک یا سرطان میں مبتلا کرکے راہ سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔
امریکیوں کا پہلا شکار ارجنٹائن کا سابق صدر، نیسٹور کرچز بنا۔ کرچز 2003ء تا 2007ء اپنی مملکت کا سربراہ رہا۔ اسی دوران کرچز نے ارجنٹائن میں غربت کا خاتمہ کیا اور اُسے خوشحال ملک بنا دیا۔ 2007ء میں سی آئی اے نے اس کے جسم میں خطرناک وائرس داخل کردیا، لہٰذا کرچز کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ اسی سال اس کی بیگم، کرسٹینا کرچز ارجنٹائن کی نئی صدر منتخب ہوئی۔ بچارہ کرچز بیماری کی تکالیف اٹھاتا ہوا 2011ء میں چل بسا۔

دسمبر2011ء ارجنٹائنی حکومت نے اعلان کیا کہ صدر کرسٹینا کرچز گلے کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ تاہم بعدازاں حکومت نے تردید کر دی، شاید اس لیے کہ کہیں ملک میں بے چینی اور افراتفری نہ پھیل جائے۔ صدر کرسٹینا بھی شوہر کی طرح امریکی و برطانوی استعمار کی سخت مخالف ہیں۔

اکتوبر میں ایک اور امریکا مخالف راہنما، برازیلی صدر لولاڈاسلوا گلے کے سرطان میں مبتلا پائے گئے۔ صدر لولا 2002ء تا 2011ء صدر رہے۔ نو سال کے دوران انھوں نے برازیل کو دنیا کی نمایاں معاشی طاقت بنادیا۔ خوش قسمتی سے صدر لولا کا علاج کامیاب رہا اور اب وہ 2015ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

2011ء میں صدرلولا کی جگہ دیلما روسیف برازیل کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔ یہ بھی امریکی پالیسیوں کی شدید مخالف ہیں۔ سی آئی اے نے انھیں بھی نہ بخشا اور 2009ء میں اِن کے جسم میں سرطان کا وائرس چھوڑنے میں کامیاب رہی۔ تاہم دیلما روسیف نے بھی بر وقت علاج کرا لیا اور یوں صحت مند ہوگئیں۔ انھیں سینے کا سرطان تھا۔

اکتوبر 2012ء میں کولمبیا کا صدر، جوان سانتوس پروسٹیٹ سرطان میں مبتلا پایاگیا۔ صدر جوآن کولمبین باغیوں سے امن مذکرات کرنا چاہتا تھا، جبکہ امریکی حکومت اِس امر کی مخالف تھی۔ جب صدر جوآن نے امریکا کی کٹھ پتلی بننے سے انکار کیا، تو اس پر بھی وائرس کا حملہ کردیا گیا۔ وہ اب علاج کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

لاطینی امریکا کے حکمرانوں میں ونیزویلا کا صدرہی سب سے بدقسمت رہا۔ جون2011ء میں دنیا والوں پر منکشف ہوا کہ وہ سرطان کا نشانہ بن چکا۔ پھر اس کا کیوبا میں کئی ماہ علاج ہوا مگر وہ جانبر نہیں ہوسکا۔ یوں سی آئی اے دنیا میں شاید اپنے سب سے سخت ناقد کو بذریعہ سرطان ہٹانے میں کامیاب رہی۔

سابق کیوبن صدر، فیدل کاسترو نے ہیوگو شاویز کو امریکیوں سے خبردار رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ موصوف خود بھی سی آئی اے کے کئی حملوں سے بال بال بچا اور اب تک زندہ ہے۔ اسی نے صدر شاویز کو کہا تھا:

’’شاویز ہوشیار اور محتاط رہو۔ یہ (امریکی) جدید ترین ٹیکنالوجی بناچکے۔ تم بہت بے پروا ہو۔ دھیان رکھو کہ تم کیا کھاتے ہو…اور وہ (امریکی) کیا کھلاتے ہیں…بس ایک ننھی سی سوئی درکار ہے، وہ نجانے تمھارے اندر کیا چھوڑ دیں۔‘‘