function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

چناروں کی قطار

پروفیسر محمد فاروق قریشی | غیر ملکی ادب

’’میں اس کو جانتا ہوں‘‘ اس نے ہمیشہ کی طرح محتاط لہجے میں کہا۔ ’’وہ ایک چھوٹے سے علاقے لِٹل ڈیلٹا میں رہتی ہے۔‘‘
جیک نے سر ہلاتے ہوئے کہا ’’میں اس علاقے سے گزرا ہوں۔‘‘
’’اُن دیہات میں سب کے سب سیاہ فام ہیں۔ اس کی شادی سائمن لینگ نامی شخص سے ہوئی ہے۔ جو کافی حد تک نکھٹو اور آوارہ ہے، کبھی شراب نوشی کرتا ہے کبھی نہیں۔‘‘
’’میں کبھی لینگ خاندان کے کسی فرد سے نہیں ملا۔‘‘
’’آپ کبھی بھی اِس لینگ سے ملنا پسند نہیں ک

ریں گے۔ جب وہ نشے میں نہیں ہوتا تو میرا خیال ہے وہ ٹرک یا بلڈوزر چلاتا ہے۔ میں جانتا ہوں اس نے ایک دو مرتبہ سمندر میں بھی کام کیا۔ متلون مزاج ہے۔ چار یا پانچ بچے ہیں۔ ایک لڑکا قیدخانے میں ہے۔ میرا خیال ہے ایک لڑکی فوج میں ہے۔ میرا اندازہ ہے لیٹی پینتالیس سال کی ہے۔ اس کا تعلق ٹیبر فیملی سے ہے۔ اس خاندان کے زیادہ لوگ اِدھر نہیں ہیں۔ آدمی لینگ ہے اور بدقسمتی سے جنگلات ان سے بھرے پڑے ہیں۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ سیتھ ہیوبرڈ کو جانتے تھے؟‘‘

’’کیا آپ سیتھ ہیوبرڈ کو جانتے تھے؟‘‘
’’کسی حد تک۔ اس نے مجھے دونوں انتخابی مہمات کے لیے خفیہ طور پر پچیس ہزار ڈالر نقد دیے تھے۔ بدلے میں وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ درحقیقت اس نے میری ٹرم کے پہلے چار سال مجھے ملنے سے اجتناب کیا۔ میں اس سے گزشتہ موسمِ گرما میں ملا جب میں دوبارہ الیکشن لڑ رہا تھا اور اس نے مجھے ایک اور لفافہ دیا تھا۔‘‘
’’آپ نے نقد رقم لے لی؟‘‘

’’مجھے تمھارا لہجہ اچھا نہیں لگا جیک‘‘ اوزی نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’ہاں میں نے نقد رقم لی تھی کیونکہ میں جیتنا چاہتا تھا۔ نیز میرے مخالفین نقد رقوم لے رہے تھے۔ یہاں سیاست ایک مشکل کام ہے۔‘‘
’’میرے لیے یہ سب ٹھیک ہے۔ بوڑھے کے پاس کتنا روپیہ تھا؟‘‘

’’وہ کہتا ہے یہ کافی زیادہ ہے۔ ذاتی طور پر مجھے معلوم نہیں۔ یہ ہمیشہ ایک راز رہا ہے۔ افواہ تھی کہ ایک ناخوشگوار طلاق میں وہ سب کچھ کھو بیٹھا تھا۔ ہیری ایکس نے اس کا مکمل صفایا کر دیا ہے۔ اس وجہ سے اس نے اپنے کاروبار کو مکمل طور پر چھپا کر رکھا۔‘‘
’’ذہین آدمی تھا۔‘‘

’’وہ کچھ زمین کا مالک ہے اور ہمیشہ عمارتی لکڑی کے کاروبار میں مشغول رہا۔ اس سے زیادہ مجھے کچھ معلوم نہیں۔‘‘
’’اس کے دو بالغ بچوں کے بارے میں کیا خبر ہے؟‘‘

’’میں نے ہرشل ہیوبرڈ سے کل پانچ بجے سہ پہر کے قریب بات کی اور اس کو یہ بری خبر سنائی۔ وہ میمفِس میں رہتا ہے لیکن مجھے اس کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات نہیں ملیں۔ اس نے کہا کہ وہ اپنی بہن ریمونا کو فون کرے گا اور وہ دونوں جلد وہاں پہنچ جائیں گے۔ سیتھ نے ایک ورق پر کچھ ہدایات لکھ کر چھوڑی ہیں کہ اس کی تجہیز و تکفین کس طرح کی جائے۔ کل سہ پہر چار بجے چرچ میں دعائیہ تقریب ہوگی اس کے بعد تدفین کی جائے گی۔‘‘ اوزی رکا اور اس نے خط کو دوبارہ پڑھا۔‘‘ ایک طرح کا ظلم لگتا ہے۔ ہے نا جیک؟ سیتھ چاہتا ہے کہ اس کے اہلِ خاندان باقاعدہ تعزیتی رسومات میں شامل ہوں اس سے پہلے کہ انھیں پتا چلے کہ اس نے اپنی وصیت میں ان کو جائداد سے محروم کیا ہے۔‘‘

جیک ہنسا اور کہنے لگا ’’اوہ! میرا خیال ہے یہ بہت عمدہ ترکیب ہے۔ آپ تجہیز و تکفین شرکت کے لیے جانا چاہتے ہیں؟‘‘
’’صرف اس صورت میں اگر آپ جائیں گے۔‘‘
ایک لمحے کے لیے وہ خاموش بیٹھے رہے۔ باہر کی آوازیں اور فون کی گھنٹیاں بجتے ہوئے سنتے رہے اور دونوں جانتے تھے کہ انھوں نے کئی کام کرنے ہیں۔ لیکن اتنے زیادہ

سوالات اور ایک بہت بڑا ڈرامہ اب بالکل قریب تھا۔
’’میں حیران ہوں کہ ان لڑکوں نے کیا دیکھا تھا‘‘ جیک نے کہا۔ ’’سیتھ اور اس کے بھائی نے۔‘‘
اوزی نے سر انکار میں ہلایا۔ کچھ پتا نہیں۔ اس نے وصیت پر نظر ڈالی اور کہا ’’اینسل ایف ہیوبرڈ۔ اگر تم چاہتے ہو تو میں کوشش کرکے اسے تلاش کرسکتا ہوں۔ اس کا نام کمپیوٹر میں

ڈال دون گا اور دیکھوں گا اگر اس کا کہیں کوئی ریکارڈ موجود ہے۔‘‘
’’یہ کام ضرور کیجئے گا۔ شکریہ۔‘‘
ایک وقفے کے بعد اوزی نے کہا ’’جیک۔ آج صبح میں نے بہت سے کام کرنے ہیں۔‘‘
جیک اُچھل کر کھڑا ہوگیا اور بولا ’’مجھے بھی بہت کام ہیں۔ شکریہ۔ میں بعد میں فون کروں گا۔‘‘

میمفِس کے مرکز سے فورڈ کائونٹی تک بذریعہ کار صرف ایک گھنٹے کا سفر تھا لیکن ہرشل ہیوبرڈ کے لیے یہ تنہا سفر ہمیشہ ایک دن لے لیتا تھا۔ یہ اس کا اپنے ماضی کی طرف ایک ناخوشگوار سفر ہوتا تھا اور وہ متعدد وجوہات کی بنا پر یہ سفر صرف ضرورت کے وقت کرتا اور یہ اکثر نہیں ہوتا تھا۔ اس نے اٹھارہ سال کی عمر میں، اپنے جوتوں سے کیچڑ جھاڑتے ہوئے گھر چھوڑ دیا تھا اور قسم کھائی تھی کہ وہ جہاں تک ممکن ہوا یہاں آنے سے گریز کرے گا۔ وہ معصومانہ طور پر اپنے والدین کے اختلافات کی بھینٹ چڑھ گیا تھا اور جب بالآخر ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی تو اس نے اپنی والدہ کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے باپ اور کائونٹی کو چھوڑ دیا۔ اٹھائیس سال بعد اس کو مشکل سے یقین آ رہا تھا کہ اس کا بوڑھا باپ آخرکار مر چکا تھا۔

ہرشل کے اصرار پر مصالحت کی کوششیں ہوئی تھیں اور سیتھ نے کچھ عرصے تک بیٹے اور اس کے بچوں کو برداشت کرنے کی کوشش کی لیکن دوسری بیوی اور دوسری ناخوشگوار شادی نے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا۔ پچھلے ایک عشرے سے سیتھ نے صرف اپنے کام سے غرض رکھی تھی۔ اکثر سالگرہوں پر وہ فون کرتا تھا اور کبھی کبھار کارڈ بھی بھیج دیتا تھا لیکن باپ ہونے کے ناطے اس کی کوششیں یہیں تک محدود تھیں۔ وہ جتنا زیادہ کام کرتا تھا اتنا ہی اپنے بیٹے کے پیشے سے نفرت کرتا تھا اور یہ ان کے درمیان کھِنچائو کا ایک بڑا سبب تھا۔

ہرشل میمفِس کے کیمپس کے قریب ایک مئے خانہ چلاتا تھا۔ اس کا مئے خانہ بہت مقبول اور مصروف تھا۔ وہ اپنے بل ادا کرتا تھا اور کچھ نقدی بچا کر رکھ لیتا تھا۔ باپ کی طرح بیٹا بھی اپنی ناخوشگوار طلاق کے تکلیف دہ اثرات سے باہر نکلنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ طلاق کا مقدمہ اس کی سابق بیوی نے جیتا اور وہ دو بچے اور سارا روپیہ لے گئی۔ اب چار سال سے وہ میمفِس کے مرکزی علاقے میں ایک پرانے خستہ حال گھر میں اپنی والدہ کے ساتھ رہنے پر مجبور تھا۔ ان کے ساتھ کچھ بلیاں بھی رہتی تھیں اور کبھی کبھار کوئی بے گھر فرد بھی جسے اس کی والدہ گھر لے آتی تھی۔ اس کی والدہ بھی سیتھ کے ساتھ ناخوشگوار زندگی سے گھائل اور نیم پاگل ہوچکی تھی۔

اس نے فورڈ کائونٹی کی حد بندی کو عبور کیا اور وہ مزید افسردہ ہوگیا۔ وہ ایک چھوٹی سی پرانی ڈاٹسن اسپورٹس کار چلا رہا تھا جو اس نے اس لیے خریدی تھی کہ اس کا باپ تمام جاپانی کاروں اور تمام جاپانی چیزوں سے نفرت کرتا تھا۔ اس کا ایک چچا زاد بھائی جنگِ عظیم دوئم میں جاپانی فوجیوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس لیے وہ جاپانیوں کے خلاف شدید تعصب کا شکار تھا۔

ہرشل کو کلینٹن سے پہلے ایک دیہاتی گیس اسٹیشن ملا۔ وہ ایک اور دنیا میں داخل ہوچکا تھا جس کو وہ طویل عرصہ پہلے چھوڑ چکا تھا اور اسے ہمیشہ کے لیے بھول جانا چاہتا تھا۔ اس کو ان تمام دوستوں پر ترس آیا جو ابھی تک فورڈکائونٹی میں رہتے تھے اور کبھی اسے چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ کلینٹن ہائی اسکول میں اس کے دو تہائی سینئر ساتھی ابھی تک اسی علاقے میں تھے ار فیکٹریوں میں کام کر رہے تھے، ٹرک چلا رہے تھے اور لکڑیاں کاٹ رہے تھے۔ دس سال کے بعد اپنے دوستوں سے ملاقات نے اس کو اتنا افسردہ کر دیا تھا کہ اس کے بعد بیس سال تک اس نے اِدھر کا رُخ نہیں کیا۔

سیتھ کی پہلی طلاق کے بعد ہرشل کی والدہ فورڈ کائونٹی کو چھوڑ کر میمفِس میں آباد ہوگئی۔ دوسری طلاق کے بعد ہرشل کی سوتیلی والدہ اس جگہ کو چھوڑ کر بھاگی اور جیکسن میں جا بسی۔ سیتھ اپنے گھر اور اس کے اِردگرد اراضی کے ساتھ چمٹا رہا۔ اس وجہ سے اسے مجبوراً بچپن کا ڈرائونا خواب دیکھنا پڑتا تھا جب وہ سیتھ سے ملنے جاتا تھا۔ یہ کام وہ سیتھ کے کینسر میں مبتلا ہونے تک سال میں ایک مرتبہ کرتا تھا۔ گھر سرخ اینٹوں سے بنا ایک منزلہ فارم ہائوس جیسا تھا۔

یہ مین کائونٹی روڈ کے عقب میں بلوط اور دیوار کے گھنے درختوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس کے سامنے ایک لمبا، کھلا لان تھا جہاں ہرشل اپنے بچپن میں کھیلا کرتا تھا لیکن اپنے باپ کے ساتھ کبھی نہیں کھیلا تھا۔ وہ کبھی بھی بیس بال یا فٹ بال کے ساتھ وہاں نہیں کھیلے تھے۔ جب وہ گراج کی طرف مڑا تو اس نے اس نے اس وسیع لان کو دیکھا۔ وہ حیران ہوا کہ اب وہ کتنا چھوٹا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے گاڑی ایک اور کار کے پیچھے کھڑی کر دی۔ وہ اس کار کو نہیں پہچانتا تھا۔ اس پر فورڈ کائونٹی کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اس نے گھر کو بغور دیکھا۔

اس کا ہمیشہ سے یہ خیال تھا کہ اسے اس کے باپ کی موت کی اطلاع نہیں دی جائے گی اگرچہ اس کے دوستوں نے اس کو اس کے برعکس خبردار کیا تھا۔ آپ بڑے ہو کر بالغ فرد بن جاتے ہیں۔ آپ اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھ لیتے ہیں۔ آپ اپنے باپ سے بغلگیر نہیں ہوتے کیونکہ وہ اس مزاج کا آدمی نہیں۔ آپ تحائف یا خطوط نہیں بھیجتے اور وہ مر جاتا ہے تو آپ جانتے ہیں کہ آپ اس کے بغیر آسانی سے زندہ رہ سکتے ہیں۔ تدفین پر تھوڑی سی افسردگی، ایک یا دو آنسو لیکن دنوں کے اندر یہ آزمائش گزر جاتی ہے اور آپ بغیر کسی نقصان کے اپنی زندگی میں واپس آجاتے ہیں۔ اور ان دوستوں کے پاس اپنے باپوں کے بارے میں کہنے کے لیے شفقت بھری باتیں تھیں۔ انھوں نے اپنے باپوں کو بعداز مرگ مسائل پر پریشان ہوئے بغیر اپنے سامنے بوڑھا ہوتے اور مرتے دیکھا تھا اور ان میں سے ہر ایک غم و اندوہ کا شکار ہوا تھا۔

ہرشل کو کچھ بھی محسوس نہ ہوا۔ نہ احساسِ زیاں، نہ زندگی کے خاتمے پر افسردگی نہ ہی اس مصیبت زدہ آدمی کے لیے کوئی رحم جس نے اپنی جان خود لے لی تھی۔ اس نے اپنی کار میں بیٹھے مکان کی طرف دیکھا اور تسلیم کیا کہ وہ اپنے باپ کے لیے کوئی جذبات محسوس نہیں کر رہا تھا۔ شاید تھوڑا سا سکون کا احساس کہ اس کی موت ہرشل کی زندگی کی ایک الجھن کم کر دے گی۔ شاید۔

وہ دروازے تک گیا جو عین اس وقت کھل گیا۔ دروازے میں لیٹی لینگ کھڑی تھی ار ایک ٹِشو سے آنکھوں کو صاف کر رہی تھی۔ ’’ہیلو، مسٹر ہیوبرڈ‘‘ اس نے جذبات سے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔

’’ہیلو لیٹی‘‘ اس نے پورچ کے فرش پر پڑے ربڑ کے ڈورمیٹ پر رکتے ہوئے کہا۔ اگر وہ اس کو بہتر طور پر جانتا ہوتا تو وہ اس سے بغلگیر ہونے یا مشترکہ ہمدردی کے اظہار کے لیے جلدی سے آگے بڑھتا لیکن وہ ایسا نہ کر سکا۔ وہ اس سے صرف تین چار مرتبہ ملا تھا اور وہ بھی اچھے طریقے سے نہیں۔ وہ ایک سیاہ فام گھریلو خادمہ تھی اور توقع کی جاتی تھی کہ جب خاندان کے افراد اکٹھے ہوں تو وہ ذرا فاصلے پر رہے۔
’’مجھے بہت افسوس ہے‘‘ اس نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔

’’مجھے بھی افسوس ہے‘‘ ہرشل نے کہا۔ وہ اس کے پیچھے ٹی وی روم میں سے گزر کر باورچی خانے تک گیا جہاں اس نے کافی کے جگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’یہ میں نے ابھی بنائی ہے۔‘‘
’’کیا وہاں باہر تمھاری کار ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں جناب۔‘‘

’’تم نے کار راستے میں کیوں کھڑی کی؟ میرا خیال تھا کہ تمھاری گاڑی کے لیے اس ڈیڈ کی پک اَپ کے ساتھ جگہ مخصوص ہے۔‘‘
’’مجھے افسوس ہے۔ میں نے بے خیالی میں وہاں کھڑی کر دی۔ میں اس کو ابھی ہٹا دوں گی۔‘‘
’’نہیں، کوئی بات نہیں۔ مجھے کپ میں کچھ کافی ڈال کر دو۔ چینی کے دو ٹکڑے۔
’’ہاں جناب۔‘‘
’’ڈیڈ کی کیڈ بِک کار کہاں ہے؟‘‘

لیٹنی نے احتیاط سے کپ میں کافی ڈالی۔ ’’شیرف اسے لے گیا۔ آج اسے واپس لے آئے گا۔‘‘
’’وہ کار کیوں لے گئے؟‘‘
’’آپ کو ان سے دریافت کرنا پڑے گا۔‘‘

ہرشل نے میز کے نیچے سے کرسی کھینچی، اس پر بیٹھ گیا اور کپ کو ہاتھوں میں لے لیا۔ اس نے ایک گھونٹ لیا، تیوری چڑھائی اور بولا ’’تمھیں ڈیڈ کے بارے میں کیسے پتا چلا؟‘‘
لیٹنی بازو سینے پر باندھے ایک کائونٹر کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی تھی۔ ہرشل نے جلدی سے سر سے پائوں اس پر نگاہ ڈالی۔ وہ ہمیشہ کی طرح سفید سوئی ڈریس پہنے ہوئے تھی، گھنٹوں تک لمبا، کمر پر تھوڑا سا تنگ جہاں وہ کچھ موٹی تھی اور اس کی بھرپور چھاتی پر بہت تنا ہوا۔

اس نے اس کی نگاہ کو اپنی طرف کھینچا۔ وہ نگاہوں کو کھینچتی تھی۔ سینتالیس سال کی عمر میں، پانچ بچوں کی پیدائش کے بعد بھی لیٹی لینگ کچھ نگاہوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی لیکن سفید فام مردوں کی طرف سے کبھی نہیں۔ اس نے کہا ’’کیلوِن نے کل رات مجھے فون کیا، مجھے بتایا کہ کیا سانحہ پیش آچکا ہے، مجھے کہا کہ آج صبح میں گھر کو کھول دوں اور آپ سب کا انتظار کروں۔‘‘
’’کیا تمھارے پاس چابی ہے؟‘‘

’’نہیں جناب۔ میرے پاس کبھی بھی چابی نہیں تھی۔ مکان مقفل نہیں تھا۔‘‘
’’کیلوِن کون ہے؟‘‘
’’سفید فام آدمی جو یہاں فارم پر کام کرتا ہے۔ اس نے بتایا کہ مسٹر سیتھ نے اس کو کل صبح فون کرکے دو بجے پُل پر ملاقات کرنے کے لیے کہا۔ یقینا وہ وہاں تھا۔‘‘ اس نے اپنی آنکھوں کو ٹِشو سے خشک کرنے کے لیے گفتگو روک دی۔

ہرشل نے ایک اور گھونٹ لیا۔ ’’شیرف نے مجھے بتایا کہ ڈیڈ نے ایک تحریر اور کچھ ہدایات چھوڑیں ہیں‘‘ ’’میں نے اِس طرح کی کوئی چیز نہیں دیکھی لیکن کیلوِن نے اسے دیکھا۔ اس نے بتایا کہ مسٹر سیتھ نے لکھا تھا کہ وہ اپنی جان خود لے رہے ہیں۔‘‘ اس نے رونا شروع کر دیا۔

ہرشل نے کچھ دیر سنا اور جب وہ خاموش ہوئی تو اس نے پوچھا: ’’تم نے یہاں کتنا عرصہ کام کیا ہے لیٹی؟‘‘
اس نے گہرا سانس لیا اور اپنے رخساروں کو صاف کیا۔ ’’مجھے معلوم نہیں، تقریباً تین سال۔ میں نے ہفتے میں دو دن سوموار اور بدھ چند گھنٹے صفائی کا کام شروع کیا۔ زیادہ وقت نہیں لگتا تھا کیونکہ مسٹر سیتھ تنہا رہتے تھے۔ آپ جانتے ہیں اور وہ کافی صاف ستھرے آدمی تھے۔ پھر انھوں نے مجھے کھانا پکانے کا کہا اور مجھے یہ کام کرکے خوشی ہوئی۔ کچھ اور گھنٹے کام۔ میں کچھ کھانا پکاتی اور اسے چولھے پر یا فرج میں رکھ دیتی تھی۔ پھر جب وہ بیمار ہوگئے تو انھوں نے مجھے ہر روز صبح آنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا کہا۔ جب کیمو تھراپی بہت تکلیف دہ ہوگئی تو سارے دن رات کا زیادہ حصہ بستر پر ہی رہتے تھے۔‘‘

’’میرا خیال تھا کہ انھوں نے ایک نرس کو ملازم رکھا ہوا تھا۔‘‘
لیٹی جانتی تھی کہ مسٹر ہرشل اور مسز ڈیفو نے اپنے باپ کو اس کی بیماری کے دوران بہت کم دیکھا تھا۔ لیٹی کو سب کچھ معلوم تھا۔ ان کو تقریباً کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ تاہم وہ ہمیشہ کی طرح مؤدب تھی۔

’’ہاں جناب، انھوں نے کچھ دیر کے لیے نرس کو دیکھا تھا۔ پھر ان کی حالت ایسی ہوگئی کہ وہ ان کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ نرس بدل دیتے تھے اور آپ کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کون آئے گی۔‘‘
’’تو تم یہاں سارا وقت کب سے کام کر رہی ہو؟‘‘
’’تقریباً ایک سال سے‘‘
’’ڈیڈ تمھیں کیا معاوضہ ادا کرتے تھے؟‘‘
’’پانچ ڈالر فی گھنٹا۔‘‘

’’پانچ! یہ گھریلو کام کے لیے زیادہ معلوم ہوتا ہے، ہے نا؟ میرا مطلب ہے کہ میں میمفِس میں رہتا ہوں جو ایک بڑا شہر ہے ار میری والدہ اپنی خادمہ کو ساڑھے چار ڈالر فی گھنٹا ادا کرتی ہیں۔‘‘ لیٹنی نے سر ہلا دیا کیونکہ اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ وہ یہ کہہ سکتی تھی کہ مسٹر سیتھ اس کو نقد ادائی کرتے تھے اور اکثر اس میں تھوڑا سا اضافہ کر دیتے تھے اور یہ کہ انھوں نے اس کو پانچ ہزار ڈالر اُدھار بھی دیے تھے جب اس کا بیٹا مصیبت میں پھنس گیا تھا اور جیل چلا گیا تھا۔ وہ قرض صرف چار دن پہلے معاف کر دیا گیا تھا۔ ان چیزوں کی کوئی تحریر موجود نہیں تھی۔

ہرشل بیزاری سے کافی پیتا رہا۔ لیٹی فرش کو گھورتی رہی۔ باہر دو کاروں کے دروازے زور سے بند ہونے کی آواز آئی۔
ریموفا ہیوبرڈ ڈیفو دروازے میں داخل ہونے سے پہلے ہی رو رہی تھی۔ وہ پورچ میں اپنے بڑے بھائی سے بغلگیر ہوگئی اور وہ بھی بندآنکھوں، کھلے ہونٹوں اور شکن آلود پیشانی کے ساتھ جذباتی دکھائی دینے میں کامیاب ہوگیا۔ ریمونہ غم سے مغلوب حقیقتاً آہ و زاری کر رہی تھی جبکہ ہرشل اس کو شک کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔

ریموفا آگے بڑھی اور جلدی سے لیٹی سے لپٹ گئی جیسے وہ دونوں ایک ہی مہربان باپ کے فطری بچے ہوں۔ اس دوران ہرشل ابھی تک پورچ میں ریموفا کے شوہر آیان ڈیفو کا استقبال کر رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو ناپسند کرتے تھے۔ آیان ڈیفو ریاست مِسسی سپی کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر جیکسن میں مقیم ایک بینکار خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اگرچہ ان کے بینک کافی عرصہ پہلے ناکام ہوچکے تھے لیکن آیان ہمیشہ اپنے احساسِ برتری کو قائم رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اگرچہ اس نے شادی ایک کمتر خاندان میں کی تھی اور اگرچہ اب وہ بھی دوسروں کی طرح کچھ دولت حاصل کرنے کے چکر میں تھا۔

جب دونوں نے شائستگی سے ہاتھ ملایا تو ہرشل نے اس کی گاڑی کی طرف نظر دوڑائی۔ کوئی نئی چیز نہیں۔ ایک چمکتی ہوئی بظاہر نئی سفید سیڈان مرسیڈیز۔ بس تازہ ماڈل۔ ریموفا کے مئے نوشی اور بے تکلف گفتگو کے باعث ہرشل جانتا تھا کہ آیان اپنی گاڑیاں چھتیس ماہ کی اقساط پر خریدتا تھا اور ان کو جلدی ہی بیچ دیتا تھا۔ ماہوار ادائی ان کی مالی استطاعت پر بوجھ ہوتا تھا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ مسٹر اور مسز ڈیفو کا شمالی جیکسن میں ایک اچھی گاڑی میں دکھائی دینا کہیں زیادہ اہم تھا۔

آخرکار وہ ٹی وی لائونج میں جمع ہوگئے اور بیٹھ گئے۔ لیٹی نے کافی اور کولا ڈرنکس پیش کیے۔ پھر فرض شناسی کے طور پر دور لیٹ گئی ار ہال کے سرے پر ایک خواب گاہ کے دروازے میں جا کھڑی ہوئی۔ یہاں سے وہ اکثر مسٹر سیتھ کو ٹی وی لائونج میں فون کرتے ہوئے سنتی تھی۔ وہاں سے وہ سب کچھ سن سکتی تھی۔ ریموفا کچھ اور روئی دھوئی اور کہنے لگی کہ یہ سب کچھ کتنا ناقابلِ یقین ہے۔ دونوں آدمی سنتے رہے بس کبھی کبھار ایک آدھ لفظ کہہ دیتے تھے۔

جلد ہی دروازے کی گھنٹی ان کی گفتگو میں مخل ہوئی۔ چرچ سے دو خواتین ایک کیک اور گوشت کی ڈش لے کر آئی تھیں۔ کھانا قبول کرنے سے انکار نہیں کیا گیا۔ لیٹی جلدی سے آگے آئی اور کھانا باورچی خانے میں لے گئی۔ خواتین بغیر دعوت کے ٹی وی لائونج میں آگئیں اور گپ شپ میں شریک ہوگئیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کل سیتھ بھائی سے چرچ میں ملی تھیں اور وہ اتنے اچھے لگ رہے تھے۔ وہ ان کے پھپھڑے کے سرطان کے بارے میں جانتی تھیں لیکن ایسا لگتا تھا کہ انھوں نے اس پر قابو پالیا تھا۔

ہرشل اور ڈیفو نے کوئی جواب نہ دیا۔ لیٹی دور سے سنتی رہی۔ چرچ سے آنے والی خواتین ہر قسم کے سوالات پوچھنے کے لیے بے قرار تھیں: ’’انھوں نے یہ کام کیسے کیا؟‘‘
اور ’’کیا انھوں نے کوئی تھریر چھوڑی؟‘‘ اور’’روپیہکس کو ملے گا؟‘‘ اور ’’کیا کسی دھوکے کا اِمکان ہے؟‘‘ لیکن ان پر یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ اس قسم کی دخل اندازی کو پسند نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے بیس منٹ کی نیم خاموشی کے بعد ان کی دلچسپی ختم ہوگئی ار وہ خدا حافظ کہہ کر چل دیں۔
اُن کی روانگی کے پانچ منٹ بعد گھنٹی دوبارہ بجی۔ اندر آنے والے راستے پر تین کاریں ان کی توجہ حاصل کر رہی تھیں۔

’’لیٹی دروازہ کھولو۔‘‘ ہرشل نے ٹی وی لائونج سے چلا کر کہا۔ ہم باورچی خانے میں چھپنے کے لیے جا رہے ہیں۔
یہ سڑک پار والی ہمسائی تھی جو لیمن کیک ساتھ لائی تھی۔ لیٹی نے اس کا شکریہ ادا کیا اور وضاحت کی کہ مسٹر سیتھ کے بچے واقعی یہاں ہیں لیکن وہ ابھی کسی سے ملنا نہیں چاہتے۔ ہمسائی نے تھوڑی دیر پورچ میں چہل قدمی کی۔ وہ اندر جانے اور فیملی کے مسئلے میں ٹانگ اڑانے کے لیے بے چین تھی لیکن لیٹی نے شائستگی سے اسے اندر آنے سے

روک دیا۔ آخرکار جب وہ چلی گئی تو لیٹی کیک کو باورچی خانے میں لے گئی اور اس کو بغیر چھیڑے کائونٹر پر رکھ دیا۔
باورچی خانے کی میز پر ان کو مطلب کی بات شروع کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ ’’کیا آپ نے وصیت کو دیکھا ہے؟‘‘ ریموفا نے پوچھا، اس کی آنکھیں اب بالکل صاف اور دلچسپی اور شک سے چمک رہی تھیں۔
’’نہیں‘‘ ہرشل نے کہا۔ ’’کیا تم نے دیکھا ہے؟‘‘

’’نہیں۔ میں یہاں کوئی دو ماہ پہلے آئی تھی۔‘‘
’’یہ جولائی کا مہینہ تھا‘‘ آیان نے مداخلت کی۔
’’ٹھیک ہے جولائی تھا۔ اور میں نے ڈیڈی سے ان کی وصیت کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ٹپیلو میں کچھ وُکلا نے اس کو لکھا تھا اور یہ کہ ہمارا

خیال رکھا جائے گا۔ بس بات ہوئی تھی۔ کیا آپ نے کبھی اس سلسلے میں ان سے بات کی؟‘‘

’’نہیں،‘‘ ہرشل نے اعتراف کیا۔ ’’مجھے بس یہ ٹھیک نہیں لگا، تم جانتی ہو۔ بوڑھا کینسر سے مر رہا تھا اور میں اس سے وصیت کے بارے میں پوچھوں؟ میں یہ نہیں کرسکتا تھا۔‘‘
لیٹی ہال کے دروازے کے پیچھے چھپی ہوئی ہر لفظ سن رہی تھی۔

’’اس کے اثاثوں کے بارے میں کیا خبر ہے؟‘‘ آیان نے سرد لہجے میں پوچھا۔ اس کے تجسس کی معقول وجہ تھی کیونکہ اس کے اپنے اثاثے بھاری رقوم کے عوض رہن شُدہ تھے۔ اس کی کمپنی قرض لے کر سستے شاپنگ سینٹر ار دُکانیں تعمیر کرتی تھی۔ وہ قرض خواہوں کے مطالبے سے بچنے کے لیے تیز رفتاری سے کام کرتا تھا لیکن وہ ہمیشہ ادائی کے لیے چلاتے رہتے تھے۔

ہرشل نے اپنے برادرِ نسبتی کو خاموشی سے گھور کر دیکھا جو ایک خون چوسنے والی جونک کی طرح تھا۔ تینوں کو شبہ تھا کہ سیتھ کی اراضی میں کوئی گنجلگ ہوگی اس لیے جلد بازی کا کوئی جواز نہ تھا لیکن جلد ہی وہ لڑ رہے ہوں گے۔

ہرشل نے کندھے سکیڑے اور کہا ’’میں نہیں جانتا۔ تم نے دیکھا ہے وہ اپنے معاملات کو خفیہ رکھتا تھا۔ یہ گھر، اس کے اِردگرد دو سو ایکڑ زمین، سڑک پر لکڑی کا اسٹور روم، لیکن مجھے اس کے قرضوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ہم نے کبھی کاروباری باتیں نہیں کیں۔‘‘

’’آپ نے کبھی کسی چیز کے بارے میں بات نہیں کی؟‘‘ ریموفا نے میز کے دوسری طرف سے چوٹ لگائی، پھر فوراً اپنے الفاظ واپس لے لیے ’’مجھے افسوس ہے ہرشل پلیز۔‘‘
لیکن بہن کی طرف سے اس گھٹیا جملے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہرشل نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا ’’مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ تم اور بوڑھا ایک دوسرے کے اتنا قریب تھے۔‘‘

آیان نے جلدی سے موضوع کو بدلتے ہوئے کہا: ’’کیا یہاں ان کا کوئی دفتر یا ایسی جگہ نہیں جہاں وہ اپنے ذاتی کاغذات رکھتے ہوں۔ آئو ہم یہاں ’’تلاش کیوں نہیں کرسکتے؟ یہاں ضرور بینک سٹیٹمنٹس، زمین کی قانونی دستاویزات اور معاہدات موجود ہوں گے۔ میں شرط لگاتا ہوں یہاں گھر میں وصیت کی کوئی نقل بھی ضرور ہوگی۔‘‘
’’لیٹی کو معلوم ہونا چاہیے‘‘ ریموفا نے کہا۔

’’بہتر ہے ہم اس کو ملوث نہ کریں‘‘ ہرشل نے کہا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ڈیڈ اس کو پورے وقت کے لیے پانچ ڈالر فی گھنٹا ادا کر رہے تھے؟‘‘
’’پانچ ڈالر‘‘ آیان دہرایا۔ ’’ہم برنیس کو کیا ادا کر رہے ہیں؟‘‘
’’تین ڈالر پچاس سینٹ‘‘ ریموفا نے کیا ’’بیس گھنٹوں کے لیے۔‘‘
’’ہم میمفِس میں ساڑے چار ڈالر ادا کر رہے ہیں‘‘ ہرشل نے فخر سے بتایا جیسے کہ اس کی والدہ کے بجائے وہ خود چیک لکھتا ہو۔

’’سیتھ جیسا کنجوس بوڑھا ایک ہائوس کیپر کو اتنا زیادہ کیوں ادا کرتا تھا؟‘‘ ریموفا نے سوچتے ہوئے کہا۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔
’’بہتر ہے وہ اس سے لُطف اُٹھالے‘‘ ہرشل نے کہا ’’اس کے دن گنے جا چکے ہیں۔‘‘
’’تو کیا ہم اس کو کام سے فارغ کر رہے ہیں؟‘‘ ریموفا نے پوچھا۔

’’فوراً۔ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ تم چاہتی ہو کہ ہم اتنا روپیہ خرچ کرتے رہیں؟ دیکھو بہن، ہمارا منصوبہ یہ ہے۔ ہم تجہیز و تکفین سے فارغ ہوں گے۔ لیٹی سے کہیں گے کہ چیزوں کو ترتیب سے اپنی اپنی جگہ رکھ دے۔ پھر ہم اس کو فارغ کر دیں گے اور گھر کو مقفل کر دیں گے۔ اگلے ہفتے اس کو مارکیٹ میں فروکت کے لیے رکھ دیں گے اور اچھے نتائج کی اُمید رکھیں گے۔ اس کا کوئی جواز نہیں کہ وہ پانچ ڈالر گھنٹا پر یہاں گھومتی پھرے۔‘‘
دور فاصلے پر، لیٹی کا سر مایوسی سے لٹک گیا۔

’’اتنی جلدی نہ کی جائے۔‘‘ آیان سے شائستگی سے کیا۔ ’’ہم جلدی ہی وصیت کو دیکھ لیں گے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ جائداد کو فروخت کرنے کے لیے مختارِ خاص کون ہوگا۔ غالباً تم دونوں میں کوئی ایک۔ یہ عموماً زندہ شریکِ حیات یا کوئی ایک بچہ ہوتا ہے۔ مختارِ خاص وصیت کی شرائط کے مطابق جائداد کا بندوبست کرے گا۔‘‘
’’میں یہ سب جانتا ہوں‘‘ ہرشل نے کہا، اگرچہ اس کو حقیقت میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ چونکہ آیان وکلا سے روزانہ معاملات طے کرتا تھا اور اس لیے وہ اکثر خاندان میں قانونی ماہر کا کردار ادا کرتا تھا۔ ہرشل کے اس سے نفرت کرنے کی بہت سی وجوہات میں سے ایک یہ بھی تھی۔

’’مجھے یقین نہیں آتا کہ ڈیڈی مر چکے ہیں۔‘‘ ریموفا نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
ہرشل نے گھور کر اسے دیکھا اور ہاتھ سے اسے تھپتھپایا۔ اس کے علم میں تھا کہ وہ سال میں ایک مرتبہ عموماً اکیلی فورڈ کائونٹی جاتی تھی کیونکہ آیان اس جگہ کو برداشت نہیں کرسکتا تھا اور سیتھ آیان کو۔ وہ صبح نو بجے جیکسن سے روانہ ہوتی ار کلینٹن سے دس میل شامل میں برلبِ ٹرک باربی کیو ریستوران پر سیتھ سے ملاقات پر اصرار کرتی، پھر اس کے ساتھ گھر جاتی جہاں دو بجے تک قیام کرکے وہ بوریت کا شکار ہوجاتی اور چار بجے واپسی کا سفر اختیار کر لیتی تھی۔

اس کے پرائیویٹ مڈل اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے دونوں بچے سالوں سے اپنے نانا کو نہیں ملے تھے۔ یقینی طور پر ہرشل دعویٰ کرسکتا تھا کہ وہ اپنے ڈیڈ کے اتنا قریب ہرگز نہ تھی لیکن کم از کم وہ وہاں بیٹھا بوڑھے کو یاد کرتے ہوئے جھوٹے آنسو بہانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔

باورچی خانے کے دروازے سے کھٹکھٹانے کی آواز سے وہ ہڑبڑا گئے۔ دو وردی پوش پولیس افسر وہاں پہنچ چکے تھے۔ ہرشل نے دروازہ کھول کر انھیں اندر آنے کی دعوت دی۔ ریفریجریٹر کے پاس کھڑے کھڑے ہرشل اور دوسروں نے اپنا تعارف کروایا۔ پولیس افسروں نے اپنے ہیٹ اتارے اور سب کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ مارشل پریتھر نے کہا ’’ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے آپ کی گفتگو میں مداخلت کی لیکن مجھے اور مسٹر پرٹل کو شیرف والس نے یہاں بھیجا ہے۔ انھوں نے آپ کے لیے تعزیت کے جذبات بھیجے ہیں۔ ہم مسٹر ہیوبرڈ کی کار واپس لائے ہیں۔‘‘ اس نے چابیاں ہرشل کے ہاتھ میں دے دیں جس پر اس نے شکریہ ادا کیا۔

پولیس افسر پرٹل نے جیب سے ایک لفافہ نکالا اور کہا ’’یہ وہ تحریر ہے جو مسٹر ہیوبرڈ نے باورچی خانے کی میز پر چھوڑی۔ ہمیں کل مسٹر ہیوبرڈ کو تلاش کرنے کے بعد یہ تحریر ملی۔ شیرف والز نے اس کی نقول بنوا لی ہیں لیکن اس کے خیال میں اصل تحریر کو خاندان کے پاس رہنا چاہیے۔ اس نے لفافہ ریموفا کو پکڑا دیا جو دوبارہ آنسو روکنے کی کوششی کر رہی تھی۔

ہر ایک نے شکریہ کے الفاظ کہے اور سب کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد پولیس افسر چلے گئے۔ ریموفا نے لفافہ کھولا اور دو ورق باہر نکلانے۔ پہلا نوٹ کیلوِن کے لیے تھا جس میں سیتھ نے باقاعدہ خودکشی سے اپنی موت کی تصدیق کی تھی۔
تجہیز و تکفین کی ہدایات
میں چاہتا ہوں کہ منگل 4اکتوبر کو 4بجے سہ پہر محترم پادری ڈان میک ایلوین کی راہنمائی میں آئرش روڈ کرسچین چرچ میں ایک سادہ دعائیہ تقریب منعقد کی جائے۔ میں پسند کروں گا کہ مسز نورا بنیز یہ حمد گائیںThe Old Rugged Cross۔میں نہیں چاہتا کہ میرے لیے توصیفی کلمات کہے جائیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی چاہے گا بھی۔ سوائے اس کے کہ محترم پادری میک ایلوین جو چاہیں کہہ سکتے ہیں۔ تقریب زیادہ سے زیادہ تیس منٹ کی ہو۔

اگر کوئی سیاہ فام افراد میری تجہیز و تکفین میں شرکت کرنا چاہیں تو ان کو شامل کیا جائے۔ اگر اُن کو شامل نہیں کیا جاتا تو پھر تقریب ہرگز منعقد نہ کی جائے اور مجھے بس دفن کر دیا جائے۔
میرے تابوت ک اُٹھانے والے افراد کے نام ہیں: ہاروی ماس، ڈواین تھامس، سیٹو ہالینڈ، بِلّی بولز، مائیک ملز اور واٹر رابنسن۔
ہدایات برائے تدفین:

میں نے آئرش روڈ قبرستان میں چرچ کے عقب میں ایک پلاٹ خریدا ہے۔ میں نے میت خانے کے منتظم مسٹر میگارگل سے طے کر لیا ہے اور ان کو تابوت کی قیمت بھی ادا کر دی گئی ہے۔ قبر کے اوپر چھت کی ضرورت نہیں۔ چرچ میں دعائیہ تقریب کے بعد مجھے پانچ منٹ کے اندر دفن کر دیا جائے۔
خدا حافظ۔ آپ سے دوسری دنیا میں ملاقات ہوگی۔
سیتھ۔ ہیوبرڈ

باورچی خانے کی میز کے گرد بیٹھے سب نے اس کو پڑھا اور ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی۔ پھر انھوں نے مزید کافی اپنے کپوں میں ڈالی۔ ہرشل نے لیمن کیک کا ایک بڑا ٹکڑا کاٹا اور اعلان کیا کہ یہ لذیذ ہے۔ ڈیفو فیملی نے کیک لینے سے انکار کر دیا۔
’’لگتا ہے تمھارے والد نے بہت اچھی منصوبہ بندی کی‘‘ آیان نے تبصرہ کیا جب اس نے ہدایات کو دوبارہ پڑھا۔ ’’سادہ اور تیز رفتار۔‘‘

ریموفا نے جلدی سے کہا ’’ہمیں مجرمانہ کارروائی کے بارے میں بات کرنا چاہیے، ہے نا؟ ابھی تک کسی نے اس کا ذکر ہی نہیں کیا۔ کیا ہم اس پر بحث کرسکتے ہیں؟ اگر یہ خودکشی نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟ ہوسکتا ہے کسی اور نے یہ کام کیا ہوا اور اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہو۔ کیا آپ کو واقعی یقین ہے کہ ڈیڈی اپنے آپ کو ختم کر سکتے ہیں؟‘‘
ہرشل اور آیان نے اس کو گھور کر دیکھا جیسے اس کے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔ وہ دونوں اس کی حماقت پر اس کو طنزیہ لعنت ملامت کرنا چاہتے تھے لیکن ایک طویل وقفے میں کسی نے کچھ نہ کیا۔ ہرشل نے آہستگی سے کیک کا ایک اور ٹکڑا کھایا۔ آیان نے آرام سے دونوں کاغذ اُٹھائے اور کہا ’’ڈئیر! اس کو کوئی جعلی کیسے قرار دے سکتا ہے۔ آپ سیتھ کی لکھائی کو دس گز دور سے پہچان سکتے ہیں۔‘‘

وہ آنسو پونچھتے ہوئے رو رہی تھی۔ ہرشل نے کہا ’’مونا! میں نے شیرف سے اس بارے میں پوچھا تھا اور اس کو یقین تھا کہ یہ ایک خودکشی تھی۔‘‘
’’میں جانتی ہوں، جانتی ہوں‘‘ اس نے سسکیاں لیتے ہوئے بمشکل کہا۔
آیان نے کہا ’’تمھارے والد کینسر کے مریض تھے اور بہت زیادہ درد اور تکلیف میں تھے اور انھوں نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ لگتا ہے وہ سب کچھ اچھی طرح جانتے تھے۔‘‘
’’مجھے یقین نہیں آتا‘‘ اس نے کہا۔ ’’انھوں نے ہمارے ساتھ بات کیوں نہ کی؟‘‘

کیونکہ تم لوگوں نے ایک دوسرے سے کبھی بات کی ہی نہیں، لیٹی نے اپنے آپ سے کہا۔
ایسے معاملات کے ماہر آیان نے کہا ’’خودکشی میں یہ بات خلافِ معمول نہیں۔ لوگ کبھی کسی سے بات نہیں کرتے اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے کسی بھی انتہا تک جاسکتے ہیں۔ میرے انکل نے دو سال پہلے اپنے آپ کو گولی مار کر ختم کر لیا اور …۔‘‘
’’تمھارے انکل شرابی تھے‘‘ ریمونہ نے آنکھیں خشک کرتے ہوئے کہا۔

’’ہاں وہ تھے اور جس وقت انھوں نے اپنے آپ کو گولی ماری وہ نشے میں دھت تھے لیکن پھر بھی انھوں نے اس کی اچھی طرح منصوبہ بندی کی۔‘‘
’’آئو، ہم کوئی اور بات کریں‘‘ ہرشل نے کہا۔ ’’نہیں، مونا! کوئی مجرمانہ کارروائی نہیں ہوئی۔ سیتھ نے یہ کام خود کیا اور اپنی تحریریں پیچھے چھوڑیں۔ میں کہتا ہوں کہ ہم گھر میں ایسے کاغذات، بینک اسٹیٹمنٹ اور وصیت کو تلاش کریں جن کی ہمیں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ہم خاندان کے افراد اور اب ہم وارث ہیں۔ اس لیے اب اس میں کوئی غلط بات نہیں۔ ٹھیک ہے نا۔‘‘
آیان اور ریمانا نے ہاں میں سر ہلایا۔

لیٹی حقیقت میں مسکرا رہی تھی۔ مسٹر سیتھ نے اپنے تمام کاغذات دفتر لے جا کر ایک الماری میںمقفل کر دیے تھے۔ گزشتہ ماہ کے دوران اس نے اپنی میز اور دروازوں کو بالکل صاف کر دیا تھا اور اس سے کہا تھا ’’لیٹی، اگر مجھے کچھ ہوا تو میرے تمام اہم کاغذات میرے دفتر میں اچھی طرح مقفل پڑے ہیں۔ میرے بچوں کے بجائے وکلا ان کو دیکھیں گے۔‘‘
اس نے یہ بھی کہا تھا ’’اور میں تمھارے لیے بھی کچھ چھوڑ کر جا رہا ہوں۔‘‘
…٭…

سوموار کی دو پہر تک فورڈ کاونٹی کی بار ایسوسی ایشن میں خود کشی کی خبر گونج رہی تھی جس میں یہ تجسس بھی شامل تھا کہ وصیت کو قانونی ثابت کرنے کا کام کس فرم کو ملے گا۔ اکثر اموتا ایک جیسا مدو جزر پیدا کرتی ہیں جیسے کہ مہلک کارحادثے۔ تاہم باغ میں کیے جانے والے قتل ان سے مختلف نتائج کا سبب بنتے ہیں۔ بیشتر قاتل کمتر طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور معقول فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

جیک ہمیشہ سڑک کے بار عدالت خانے میں کوئی نہ کوئی کام ڈھونڈ لیتا تھا۔ زمینوں کا ریکارڈ دوسری منزل پر ایک طویل کشادہ کمرے میں تھا جہاں دو سو سال پرانے ریکارڈ والی ضخیم کتابیں ترتیب سے شیلفوں میں رکھی ہوئی تھیں۔ سال میں ایک مرتبہ، دوسرے وکلا کی طرح جیک کو گھنٹا بھر کے لیے کاونٹی ریکارڈ میں گم ہونا پڑتا تھا۔ کمرا وکلا سے بھرا ہوا تھا۔ جو کتابوں کو آگے پیچھے گھسیٹ رہے تھے اور صفحات پر تیوری چڑھا رہے تھے۔ جیک نے وصیتوں کی فہرست پر نظر دوڑائی لیکن گزشتہ بیس سال میں کسی ہیوبرڈ نے سیتھ کو کوئی زمین یا سرمایہ منتقل نہیں کیا تھا۔ وہ ہائی کورٹ ڈویژن بینچ کے دفتر میں گیا تاکہ طلاقوں کی پرانی فائلوں پر نظر ڈال سکے لیکن وہاں بہت سے وکلا گھوم رہے تھے۔ وہ کسی بہتر ذریعے کی تلاش میں عدالت خانے سے نکل آیا۔

یہ کوئی حیران کن بات نہ تھی کہ سیتھ ہیوبرڈ کلینٹن میں وکلا سے نفرت کرتا تھا۔ اکثر مقدمہ باز، طلاق کے یا کوئی اور جنھوں نے وکیل ہیری ریکس وانر کے ساتھ جھگڑا کیا، ان کی ماندہ زندگی برباد ہو گئی اور وہ قانون کے پیشے کی ہر چیز سے نفرت کرنے لگے۔ نتیجتاً خودکشی کرنے والوں میں سیتھ پہلا شخص نہیں تھا۔

ہیری ریکس مؤکل کا روپیہ، زمین اور خون تک نچوڑ لیتا تھا۔ وہ طلاق کے مقدمات کا ماہر تھا۔ اور جتنا کوئی مقدمہ الجھا ہوا اس کے لیے بہتر ہوتا تھا۔ وہ بدنام اسیکنڈلز، گھٹیا بازاری لڑائیوں، دست بدست لڑائیوں، خفیہ فون سننے اور محبوبہ کی گاڑی میں حیران کن تصاویر جیسی چیزوں میں لطف اٹھاتا تھا۔

اس کے مقدمات خندقوں میں جم کر لڑی جانے والی جنگوں کی طرح ہوتے تھے۔ اس کے نان نفقے کے عدالتی تصیفے نئے ریکارڈ بن جاتے تھے۔ وہ یک طرفہ طلاقوں کو بھی کھینچ کر دو سالہ موت کی اذیت میں تبدیل کر دیتا تھا۔ اگر اس کے تیار حربے ناکام ہو جاتے تو وہ کوئی نیا ایجاد کر لیتا تھا۔ طلاق کے مقدمات میں اجارہ داری کی وجہ سے وہ عدالتی کلرکوں کو بھی دھمکی لگا دیتا تھا۔ نوجوان وکلا اس سے دور بھاگتے تھے، پرانے وکلا اس کے ہاتھوں پہلے ہی زخم خوردہ تھے اور مناسب فاصلے پررہتے تھے۔ اس کے دوست بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔

وکلا میں ہیری صرف جیک پر اعتماد کرتا تھا اور یہ اعتماد باہمی تھا۔ ہیلی کے مقدمہ کے دوران جب جیک نیند وزن کی کمی کا شکار تھا۔ گولیوں اور موت کی دھمکیوں سے بچنے کی جدوجہد میں مصروف تھا اور اس کو یقین تھا کہ وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقدمہ جیتنے والا ہے تو ہیری ریکس خاموشی سے اس کے دفتر میں داخل ہوا تھا۔ اس نے پس منظر میں رہتے ہوئے، کسی طمع کے بغیر، گھنٹوں مقدمے پر صرف کیے۔ اس نے جیک کو مفت قیمتی مشورے دیے اور اس کو صحیح سلامت رکھا۔

ہمیشہ کی طرح، سوموار کے دن ہیری ریکس اپنی میز پر بیٹھا ایک برگر سے لنچ کر رہا تھا۔ طلاق کے وکلا کے لیے سوموار کا دن مشکل ترین ہوتا ہے کیونکہ اس دن اختتام ہفتہ پر ٹوٹنے والی شادیوں کے متحارب فریقین قانونی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہیں۔ جیک عقبی دروازے سے عمارت میں داخل ہوا اور تیز طرار سیکرٹریوں اور تمباکو نوشی کیے اور دھوئیں سے بھری ہوئی انتظار گاہ سے بچتے ہوئے ہیری ریکس کے دفتر کے کمرے تک پہنچا۔ درازہ بند تھا۔ کوئی آواز نہ پا کر اس نے دروازے کو دھکا دے کر کھول دیا۔

تم کیا چاہتے ہو؟ ہیری ریکس نوالے کو چپاتے ہوئے غرایا۔ اس کے سامنے برگر اور آلو کے چپس کا ڈھیر پڑا تھا اور وہ ان کو شراب کی بوتل کے ساتھ نیچے اتار رہا تھا۔
’’سہ پہر کا سلام، ہیری ریکس۔ مجھے افسوس ہے کہ میں تمھارے لنچ میں مخل ہوا۔ ‘‘ اس نے اپنے ہاتھ سے منہ کو صاف کر تے ہوئے کہا ’’نہیں کوئی بات نہیں۔ کوئی نئی خبر؟‘‘
’’تم پہلے ہی شراب نوشی کر رہے ہو؟‘‘ جیک نے بڑی سی آرام کرسی میں دھنستے ہوئے کہا۔
’’اگر تمھارے پاس میرے مؤکلین ہوں تو تم ناشتے پر ہی پینا شروع کر دوں گے۔‘‘

’’میرا خیال تھا کہ تم نے ناشتے پر بھی پی۔‘‘
’’سوموار کو کبھی نہیں۔ مس کارلا کیسی ہیں؟‘‘
’’اچھی ہے۔ شکریہ اور مس کیسی ہیں کیا نام ہے ان کا ؟‘‘

’’جین، تیزچھری، جین ایلن والز، اور وہ نہ صرف میرے ساتھ زندگی گزار رہی ہے بلکہ اس سے لطف اٹھا رہی ہے۔ اور اپنی خوش قسمتی پر شکر گزار ہے۔ آخر کار مجھے وہ عورت مل گئی جو مجھے سمجھتی ہے۔‘‘ اس نے سرخ چپس کا ایک بڑا چمچ منہ میں ڈالا۔
’’مبارک ہو! میں اس سے کب مل سکتا ہوں؟‘‘
’’ہماری شادی کو دو سال ہو چکے ہیں۔‘‘

’’میں جانتا ہوں لیکن میں پانچ سال انتظار کو ترجیح دیتا ہوں۔ جلدی کرنے میں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان عورتوں کی کشش اور دلکشی بہت مختصر ہوتی ہے۔‘‘
’’تم یہاں میری بے عزتی کرنے آئے ہو؟‘‘
’’بے شک نہیں۔‘‘ اور جیک دیانتداری سے بات کر رہا تھا۔ ہیری ریکس کے ساتھ توہین آمیز جملوں کا تبادلہ احمقوں کا کام تھا۔ اس کا وزن تین سو پچاس پائونڈ سے زائد تھا اور وہ

قصبے میں بوڑھے ریچھ کی طرح جھومتا پھرتا تھا لیکن اس کی زبان حیرت انگیز طور پر تیز اور معاندانہ تھی۔
جیک نے کہا ’’مجھے سیتھ ہیوبرڈ کے بارے میں بتائو۔‘‘
ہیری ریکس نے قہقہہ لگایا ’’یہ واقعہ اس سے بڑے احمق کے ساتھ پیش نہیں آ سکتا تھا۔تم مجھ سے کیوں پوچھتے ہو؟‘‘
’’اوزی نے کہا کہ تم نے اس کی ایک طلاق کا مقدمہ لڑا تھا۔‘‘

’’میں نے لڑا تھا۔ اس کی دوسری بیوی کا شاید دس سال پہلے، یہ تقریباً وہ وقت تھا جب تم یہاں قصبے میں نمودار ہوئے اور اپنے آپ کو وکیل کہنا شروع کیا تھا۔ سیتھ کے ساتھ تمھارا کیا تعلق؟‘‘
اس نے اپنی جان لینے سے پہلے مجھے ایک خط لکھا اور ایک دو صفحے کی وصیت بھی لکھی۔ دونوں چیزیں آج صبح ڈاک میں آئیں۔
ہیری ریکس نے بیئر کا ایک گھونٹ لیا، اپنی آنکھیں سیکڑیں اور اس کے بارے میں سوچا ’’کیا تم کبھی اس سے ملے تھے؟‘‘
’’کبھی نہیں۔‘‘

’’خوش قسمت ہو۔ تم کسی چیز سے محروم نہیں رہے۔‘‘
’’میرے مؤکل کے بارے میں ایسی باتیں مت کرو۔‘‘
’’وصیت کیا کہتی ہے؟‘‘

’’تمھیں نہیں بتا سکتا اور میں تدفین سے پہلے وصیت کو عدالت میں پیش نہیں کر سکتا۔‘‘
’’ساری جائیداد کس کو ملے گی؟‘‘
’’نہیں بتا سکتا۔ میں تمھیں بدھ کے دن بتائوں گا۔‘‘
’’خودکشی سے ایک دن پہلے دو صفحے کی ہاتھ کی لکھی ہوئی وصیت مجھے تو پانچ سالہ مقدمے کا تحفہ معلوم ہوتی ہے۔‘‘

’’مجھے بھی یہی امید ہے۔‘‘
’’یہ تمھیں کچھ عرصے کے لیے مصروف رکھے گی۔‘‘
’’مجھے کام کی ضرورت ہے۔ بوڑھے کے پاس کتنی دولت ہے؟‘‘

ہیری ریکس نے انکار میں سر ہلایا۔ ’’نہیں جانتا۔‘‘ اس نے کہا کہ پھر اس نے برگر کا ایک لقمہ لیا۔ جیک کے دوستوں اور واقف کاروں کی اکثریت کھانا کھاتے ہوئے بات کرنے سے احتراز کرتی تھی لیکن اس قسم کے معاشرتی آداب نے ہیری ریکس کی گفتار رفتار کو سست نہیں کیا تھا۔ ’’جہاں تک مجھے یاد ہے اور یہ دس سال پہلے کی بات ہے وہ سپمسن روڈ پر ایک گھر اور اس کے اردگرد چند ایکڑ زمین کا مالک تھا۔ اس کا سب سے بڑا سرمایہ ایک آرا مل اور پالمیرا کے قریب ہائے وے 21پر لکڑیوں کا ایک گودام تھا۔ میری مؤکلہ اس کی دوسری بیوی سائبل ہیوبرڈ تھی اور میرا خیال ہے کہ یہ اس کی دوسری یا تیسری شادی تھی۔‘‘

بیس سال بعد اور بے شمار مقدمات بھگتانے کے بعد ہیری ریکس اب بھی لوگوں کو اپنی یادداشت سے حیران کر دیتا تھا۔ تفصیلات جتنی مزیدار ہوتی تھیں اتنا ہی وہ ان کو زیادہ دیر تک یاد رکھتا تھا۔

اس نے جلدی سے بیئر کا ایک بڑا گھونٹ لیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا ’’وہ ایک خوش شکل اور بہت ذہین عورت تھی۔ وہ لکڑی کے گودام میں کام کرتی تھی اور اس کا کاروبار چلاتی تھی۔ یہ کاروبار کافی منافع بخش تھا جب سیتھ نے اس میں توسیع کا فیصلہ کیا۔ وہ الاباما میں ایک لکڑی کا گودام خریدنا چاہتا تھا اور اس نے پنا وقت وہاں صرف کرنا شروع کر دیا۔ پتا چلا کہ وہاں استقبالیہ دفتر میں ایک سیکرٹری تھی جو اس کی توجہ کا مرکز تھی۔

پھر دھماکا ہو گیا سیتھ قابل اعتراض حالت میں پکڑا گیا اور سائبل نے اس کو سزا دلوانے کے لیے مجھے اپنا وکیل مقرر کر لیا۔ سزا میں نے اس کو دلوائی۔ میں نے عدالت کو قائل کر لیا کہ وہ آرامل اور گودام کی فروخت کا حکم جاری کرے۔ اس کی فروخت سے دو لاکھ ڈالر حاصل ہوئے جو سب کے سب میری مؤکلہ کو ملے۔ ڈسٹن کے قریب خلیج پر ان کی ایک کئی منزلہ رہائشی عمارت بھی تھی۔ وہ بھی سائبل کو مل گیا۔ یہ مختصر کہانی ہے لیکن اس کی فائل ایک فٹ موٹی ہے۔ اگر تم چاہو تو اس کو دیکھ سکتے ہو۔‘‘

’’ہو سکتا ہے میں بعد میں دیکھوں۔ کیا آپ کو اس کے موجودہ بینک بیلنس کا کوئی اندازہ ہے؟‘‘
’’نہیں! میرا اس کے ساتھ رابطہ ختم ہو گیا۔ طلاق کے بعد اس نے خااموشی اور پسماندگی اختیار کر لیا۔ آخری مرتبہ میری سائبل سے بات ہوئی تو اس کے بقول وہ ایک اور نسبتاً جوان شوہر کے ساتھ ساحل پر موج مستی کر رہی تھی۔ اس نے کہا کہ افواہیں ہیں کہ سیتھ نے دوبارہ لکڑی کا کاروبار شروع کر دیا ہے لیکن اسے اس بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔‘‘ اس نے برگر کو مشکل سے نگلا اور بیئر کی مدد سے اس کو نیچے اتار لیا۔ اس نے کسی ہچکچاہٹ یا ندامت کے بغیر زور سے ڈکار لی اور بات کو جاری رکھا ’’تم نے اس کے بچوں سے بات کی؟‘‘

’’ابھی نہیں۔ تم انھیں جانتے ہو؟‘‘
’’ایک وقت میں ان کو جانتا تھا۔ وہ تمھاری زندگی کو دلچسپ بنا دیں گے۔ ہرشل واقعی بدھو ہے۔ اس کی بہن کیا نام ہے اس کا؟‘‘
’’ریمونہ ہیوبرڈ ڈیفو۔‘‘

’’وہی ہے۔ وہ ہرشل سے چند سال چھوٹی ہے اور نارتھ جیکسن میں رہتی ہے۔ دونں میں کسی کے بھی سیتھ کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں تھے۔ مجھے ہمیشہ یہ تاثر ملا کہ وہ ایک اچھا باپ نہیں تھا۔ وہ اپنی دوسری والدہ سائبل کو پسند کرتے تھے اور جب یہ واضح ہو گیا کہ سائبل طالق کا مقدمہ جیت جائے گی اور کافی روپیہ بھی حاصل کر لے گی تو وہ اس کے کیمپ میںشامل ہو گئے۔ میرا اندازہ ہے کہ بوڑھے نے ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔‘‘
جیک نے سر ہلایا لیکن کچھ نہ کہا۔

’’پھر تو وہ خبطی ضرور مقدمہ بازی کریں گے۔ جیک ایک اچھا مقدمہ تمھارے ہاتھ لگنے والا ہے۔ مجھے افسوسہے کہ میں اس مقدمے میں شامل ہو کر کچھ فیس حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘
’’اگر تمھیں صرف معلوم ہوتا۔‘‘

اس نے برگر کا آخری لقمہ لیا پھر آخری چپس منہ میں ٹھونسے۔ ہیری نے کاغذ، لفافہ، رومال بیئر کی خالی بوتل سمیت میز کے نیچے کہیں پھینک دیا۔ اس نے ایک درواز کھولا، ایک لمبا سیاہ سگار نکالا اور اسے سلگائے بغیر منہ کے ایک طرف جکڑ لیا۔ اس نے ان کو ترک کر دیا تھا لیکن ابھی تک روزانہ دس پی لیتا تھا۔ ’’میں نے سنا اس نے پھانسی لے لی، کیا یہ سچ ہے؟‘‘
’’سچ ہے۔ اس نے بڑی اچھی منصوبہ بندی کی۔‘‘

’’کیا تم جانتے ہو اس نے کیوں پھانسی لی؟‘‘
’’تم نے افواہیں سنی ہیں۔ وہ کینسر سے مر رہا تھا۔ ہم بس اتنا ہی جانتے ہیں۔ طلاق میں اس کا وکیل کون تھا؟‘‘
’’اس نے سٹینلے ویڈ کو وکیل کیا تھا جو ایک غلطی تھی۔‘‘
’’ویڈ؟ وہ کب سے طلاق کے مقدمات لیتا ہے؟‘‘

’’اب بالکل نہیں۔‘‘ ہیری ریکس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ اس نے ہونٹوں کو بآواز کھولا اور سنجیدہ ہو گیا۔ ’’دیکھو جیک، میں یہ بتانا پسند نہیں کرتا لیکن دس سال پہلے جو کچھ ہوا اس کی اس معاملے میں کوئی اہمیت نہیں۔ میں نے سیتھ ہیوبرڈ کا سارا روپیہ لے لیا، اس کا کافی حصہ اپنے لیے رکھا اور باقی اپنی مؤکلہ کو دے دیا۔ سوموار کے دن بس اتنا ہی۔ اگر تم بعد میں میرے ساتھ کوئی مشروب پینا چاہو گے تو ٹھیک ہے لیکن ابھی اس وقت میں بالکل شرابور ہو چکا ہوں۔‘‘

ہیری ریکس کے ساتھ بعد میں مشروب پینے کا مطلب تھا شام نو بجے کے بعد۔ ’’یقینا مل بیٹھیں گے۔‘‘ جی نے کہا جب وہ فائلوں کو پھلانگتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا۔
’’جیک، بتائو یہ فرض کرنے میں کوئی ہرج تو نہیں کہ سیتھ نے اپنی گزشتہ وصیت کو منسوخ کر دیا تھا؟‘‘
’’ہاں!‘‘
’’اور کیا وہ وصیت تمھاری فرم سے کسی بڑی فرم ن نے تیار کی تھی؟‘‘
’’ہاں!‘‘

’’پھر اگر میں تمھاری جگہ ہوتا تو عدالت کی طرف دوڑ لگا دیتا اور وصیت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے پہلی درخواست دے دیتا۔‘‘
’’میرا مؤکل چاہتا ہے کہ میں اس کی تدفین تک انتظار کروں۔‘‘
’’وہ کب ہے؟‘‘
’’کل چار بجے۔‘‘

’’عدالت پانچ بجے بند ہوتی ہے۔ میں وہاں موجود ہوں گا۔ پہلے کارروائی کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔‘‘
’’شکریہ، ہیری ریکس۔‘‘
’’شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے دوبارہ ڈکار لی اور ایک فائل اٹھا لی۔

سہ پہر کے دوران ہمسائے، چرچ کے ساتھی اور دوسرے دوست بڑی سنجیدگی سے خاندان کی تالیف قلب کے لیے سامان خورونوش کے ساتھ متواتر سیتھ کے گھر جاتے رہے۔ لیکن ان کا بڑا مقصد فورڈ کاونٹی میں گرما گرم موضوع پر گپ شپ کرنا بھی تھا۔ صدردروازے پر موجود لیٹی ان افراد سے اشیا کے خورونوش اور تعزیت کو قبول کر لیتی تھی اور بڑی شائستگی سے یہ کہہ کر انھیں واپس کر دیتی کہ ’’خاندان کے افراد ان کے شکرگزار ہیں لیکن ملاقات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تاہم ان میں سے کچھ اندرداخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جہاں وہ مرحوم کی زندگی کے آخری حصے پر گفتگو کرتے۔ وہ پہلے کبھی وہاں نہیں آئے تھے اور لیٹی نے ان کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا۔ پھر بھی وہ غم کا اظہار کرتے تھے۔ دنیا سے جانے کا نہایت المناک طریقہ۔ کیا اس نے واقعی خود پھانسی لی؟

افراد کنبہ گھر کے عقبی حصے میں چھپے ہوئے تھے جہاں وہ تعزیت کے لیے آنے والوں سے دور ایک میز پر بیٹھے تھے۔ ان کو سیتھ کی میز اور درازوں کی تلاشی سے کوئی مفید چیز حاصل نہیں ہوئی تھی۔ جب لیٹی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ اس کو کچھ معلوم نہیں ان کو اس میں شک تھا۔ اس نے ان کے سوالات کے جوابات سوچ سمجھ کر نرمی اور آہستگی سے دیے جس سے ان کے شک میں اضافہ ہو گیا۔ اس نے دو بجے ان کو لنچ پیش کیا۔

انھوں نے اصرار کیا کہ میز پوش، رومال اور کٹلری بھی مہیا کی جائے اگرچہ سیتھ کے گھر میں سالوں سے ان چیزوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ جذبات کا اظہار کیے بغیر وہ چاہتے تھے کہ پانچ ڈالر فی گھنٹا کے حساب سے معاوضہ لینے والی لیٹی ایک حقیقی خادمہ بن کر کام کرے۔

جب وہ ادھر ادھر گھوم رہی تھی، تو اس نے ان کو بحث کرتے ہوئے سنا کہ کون تجہیزو تکفین میں شامل ہو گا اور کون نہیں۔ مثال کے طور پر آیان ایک بہت بڑا سودا طے کرنے کے درمیان میں تھا جو ممکنہ طور پر پوری ریاست کے مالی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا تھا۔ کل کچھ اہم ملاقاتیں ایجنڈے پر تھیں اور ان میں شرکت نہ کرنے کے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔

ہرشل اور ریمونہ نے بادل نخواستہ اس حقیقت کو قبول کر لیا کہ وہ تجہیزوتکفین کی رسوم کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات لیٹی سوچتی کہ وہ بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریمونہ کی طبیعت ہر لمحے خراب ہوتی جا رہی تھی اور اسے یقین نہیں تھا کہ وہ مزید دبائو برداشت کر پائے گی۔ ہرشل کی دو بیٹیاں تھیں ایک ٹیکساس کے کالج میں اور دوسری میفس کے ہائی اسکول میں پڑھتی تھی۔ وہ اپنی کلاسیں نہیں چھوڑ سکتی تھیں۔ ہرشل کو اعتراف تھا کہ وہ واقعی اپنے دادا کے اتنی قریب نہ تھیں۔

سیتھ کا ایک بھائی تھا، ان کا انکل اینسل جس سے وہ کبھی ملے تھے نہ اس کے بارے میں کچھ جانتے تھے۔ ایک خاندانی کہانی کے مطابق اینسل نے اپنی عمر کے بارے میں جھوٹ بولا اور سولہ یا سترہ سال کی عمر میں بحری فوج میں شامل ہو گیا تھا۔ وہ بحرالکاہل میں زخمی ہوا لیکن زندہ بچ گیا۔ پھر جہازرانی کے کاروبار میں اس نے دنیا گھوم پھر کر دیکھ لی۔ سیتھ کا اپنے بھائی کے ساتھ کئی عشرے قبل رابطہ ختم ہو گیا تھا۔ اور اس نے کبھی اس کا ذکر بھی نہیں کیا۔ اینسل سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا اور ایسا کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی۔ غالباً وہ بھی سیتھ کی طرح مر چکا تھا۔

انھوں نے اپنے کچھ پرانے رشتہ داروں کے بارے میں بات کی۔ ان میں سے کسی کو انھوں نے سالوں سے نہیں دیکھا تھا نہ ہی وہ ان میں کسی کو اب دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ کتنا افسردہ، عجیب خاندان ہے! لیٹی نے سوچا جب اس نے ان کے سامنے منتخب کیک پیش کیا۔ وہ ایک مختصر، جلدی تدفین کی تیاری کر رہے تھے۔
’’آئیے اس کو یہاں سے نکال باہر کریں۔‘‘ہرشل نے کہا جب لیٹی باورچی خانے میں واپس گئی۔ ’’پانچ واٹر گھنٹا کے حساب سے ہم لوٹے جارہے ہیں۔‘‘
’’ہم؟ ہم اس کو کب سے تنخواہ دے رہے ہیں؟‘‘ ریمونہ نے پوچھا۔
’’اوہ! اب تو اس کی تنخواہ ہمارے ذمہ ہے، کسی نہ کسی طرح۔ ہر چیز جائیداد سے نکل رہی ہے۔‘‘

’’میں گھر کی صفائی نہیں کر رہی ہرشل۔ کیا تم کرو گے؟‘‘
’’بے شک نہیں۔‘‘
آیان بولا ’’آرام سے معاملے کو طے کریں۔ تجہیزوتکفین سے فارغ ہو جائیں تو اس کو گھر کی صفائی کرنے کے لیے کہیں۔ پھر بدھ کو جب ہم یہاں سے جائیں گے تو پھر کو مقفل کر دیں گے۔‘‘
’’اس کو کون بتائے گا کہ وہ ملازمت سے فارغ ہے؟‘‘ ریمونہ نے پوچھا۔

’’میں بتائوں گا۔‘‘ ہرشل نے کہا۔
’’یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ وہ صرف ایک ملازمہ ہے۔‘‘

’’اس میں ایک طرح کی اسراریت پائی جاتی ہے۔‘‘ آیان نے کہا۔ ’’کسی چیز کی نشاندہی نہیں کر سکتا لیکن اس کا رویہ ایسا ہے کہ جیسے وہ کچھ جانتی ہے۔ جو ہم نہیں جانتے۔ کوئی اہم بات۔ تمھیں اس کو محسوس کرو گے۔‘‘
’’یقینا کچھ نہ کچھ ظاہر ہونے والا ہے۔‘‘ ہرشل نے خوش ہوتے ہوئے کہا کیونکہ اس کا اپنے نسبتی کے ساتھ کسی بات پر تو اتفاق ہوا۔

لیکن ریمونہ نے اختلاف رائے کیا ’’نہیں! یہ صرف صدمہ اور افسردگی ہے۔ وہ ان بہت ہی کم لوگوں میں سے ہے جن کو سیتھ برداشت کر سکتا تھا۔ یا جو سیتھ کو برداشت کر سکتے تھے۔ اس کو غم ہے کہ وہ دنیا سے جا چکا ہے اور یہ بھی کہ اب اس کی ملازمت ختم ہونے والی ہے۔‘‘
’’تمھارے خیال میں وہ جانتی ہے کہ وہ کام سے فارغ ہونے والی ہے؟‘‘ ہرشل نے پوچھا

’’مجھے یقین ہے کہ وہ پریشان ہے۔‘‘
’’وہ صرف گھر کی دیکھ بھال کرنے والی ملازمہ ہے۔