function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

چمن خیال

ادارہ | چمن خیال

پانچ ہزار روپے کا نوٹ
اردو ڈائجسٹ کے 262صفحات میں دین و دنیا سے متعلق سب کچھ ہوتا ہے۔ بچے‘ بوڑھے اور مرد و خواتین سب اپنی پسند اور دلچسپی کا مواد اِس میں پاتے اور نہال ہوتے ہیں۔ طیب اعجاز قریشی صاحب کا ابتدائی نوٹ ہمیں پانچ ہزار روپے کے پاکستانی نوٹ جیسا لگا۔ انھوں نے بہت مفید مشورہ دیا کہ وقت ضائع کرنے کے بجائے معیاری کتب و رسائل سے رشتہ جوڑنا چاہیے۔ اگر آپ اردو ڈائجسٹ کے قارئین کو دانا و بینا بنانا چاہتے ہیں اور ان کا تعلق کاغذ اور قلم سے جوڑنا چاہتے ہیں تو ترغیب کے طور پر انعامی خط کا سلسلہ ضرور شروع کریں۔

مئی کے شمارے کے سرورق پر جسونت سنگھ کے بجائے مجیدامجد مرحوم کی تصویر اور گوشۂ مجید کا ذکر ہوتا تو دل باغ باغ ہو جاتا۔ محمد الیاس کی تحریر ’’اندھیر نگری کے جگنو‘‘ اور نیلم احمد بشیر کا افسانہ ’’ماں‘‘ بہترین تحریریں ہیں۔ اگر رسالے کے شروع کے صفحات کے اشتہارات کو اندر جگہ دے دی جائے تو ہزاروں قارئین خوش ہو جائیں گے۔
(خواجہ مظہر صدیقی‘ ملتان)
کردار ساز رسالہ

’’اردو ڈائجسٹ‘‘ ایک مشن کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نسلوں کا پسندیدہ اور کردار ساز رسالہ ہے۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہماری درخواست پر رسالہ کا اجرا ہماری ’’پبلک لائبریری‘‘ کے لیے کیا۔ اب رسالہ کوئی ایک فرد نہیں بلکہ لائبریری میں آنے والا ہر ممبر پڑھتا اور فائدہ اُٹھاتا ہے۔ یہ آپ کی کتاب اور ادب دوستی اور کردار سازی کے جذبہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
(اسٹاف پبلک لائبریری‘ ہری پور)

میرا پسندیدہ اردو ڈائجسٹ
مئی کا خوبصورت تحریروں سے مرصع اردو ڈائجسٹ زیرمطالعہ ہے۔ معلومات سے بھرپور ہے۔ جناب ذوالفقار چیمہ سے مکمل تعارف ہوا۔ یہ حقیقت اٹل ہے کہ اگر ہمارے یہاں جناب ذوالفقار چیمہ جیسے افسر وافر ہوتے تو آج ہمارے ملک اور معاشرے کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ مجید امجد کا کلام اور سوانح حیات پڑھ کر مکمل تعارف حاصل ہواہے۔ ایسے لوگ مرتے نہیں پوشیدہ ہو جاتے ہیں۔ (نقی حسین نقی امروہوی‘ کراچی)
اردو ڈائجسٹ کا اعلیٰ معیار

ہمیں اردو ڈائجسٹ کا بہت انتظار رہتا ہے اور اس مرتبہ یہ تاخیر سے ملا۔ خیر کوئی بات نہیں۔ ماہ اپریل کا اردو ڈائجسٹ بہت ہی اعلیٰ تھااور اس میں پڑھنے کو ہر قسم کی تحریر ملی۔ خاص کر شداد کی جنت‘ اچھی حکمرانی کی مضبوط بنیادیں۔ عالمی دن اور اوریامقبول جان کا مضمون‘ اس کے علاوہ ایک پولیس رپورٹ‘ مگرمچھ کا شکار اور حفاظتی ٹیکے یہ سب کچھ بہت ہی اعلیٰ تھا۔ تاہم بھارت میں انتخابی معرکہ‘ جنگ عظیم دوم سے وابستہ یادیں اور قصے سپاہی لال حسین کے‘ جناب میاں محمد افضل کی تحریر ’’زوال بے سبب نہیں آتا‘‘ اور شاہ افغانستان کی واپسی بڑے ہی پائے کے مضامین تھے۔
تاہم بوجھیں تو جانیں اور چمن خیال شامل کرنا شاید آپ بھول گئے۔ مشورہ حاضر ہے ضرور جاری رکھیں۔
(محمود منور خان‘ بھلوال۔ سرگودھا)

اردو ڈائجسٹ سے دیرینہ تعلق
اس موقر جریدے کے لیے ایک چھوٹی سے آپ بیتی بھیج رہا ہوں‘ اگر معیاری ہو تو شائع کر دیجیے گا۔ ماشااللہ پرچہ بہترین جا رہا ہے‘ میں تو اسے 1962ء سے پڑھ رہا ہوں‘ جب میں لورالائی‘ بلوچستان میں نویں جماعت کاطالب علم تھا۔ تعلیم کے بعد عملی زندگی بریڈفورڈ‘ انگلینڈ میں گزری‘ وہاں بھی اُردو ڈائجسٹ سے رابطہ نہیں ٹوٹا۔ بہت سی نیک خواہشات کے ساتھ پورے عملے کو خلوص بھرا سلام۔ (سلطان مسعود احمد‘ بہاولپور)

ایک تجویز
ایک تجویز حاضر خدمت ہے کہ اردو ڈائجسٹ میں آنے والے صغیرہ بانو شیریں و دیگر کے طبی مشوروں اور ٹوٹکوں پر مشتمل ایک کتاب مرتب کر کے شائع کی جائے تاکہ ہر آدمی اس سے مستفید ہو سکے۔ رسالے میں حکیم عبدالوحید سلیمانی کے ساتھ صغیرہ بانو شیریں کے ٹوٹکوں کاسلسلہ جاری رکھیے۔ (عاطف بن صادق‘ کوٹ اَدّو)

پریشانیوںکا حل ذکر الٰہی
میں اردو ڈائجسٹ کاپرانا قاری اور خریدار ہوں۔ اس میں بڑے اچھے اچھے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ہر ماہ مجھے اردو ڈائجسٹ کا شدت سے انتظار رہتا ہے۔ میری اردو ڈائجسٹ سے وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ جب اس کی قیمت ڈیڑھ روپے تھی میںتب سے اس کا خریدار ہوں۔ بہرحال وقت بدلتا ہے ہر چیز بدل جاتی ہے ۔

جیسا کہ ہم روزانہ اخبارات میں پڑھتے اور ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم ہر لحاظ سے تنزلی کی طرف رواں ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ اور رسولؐ کوبھلا رکھا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ لوگ پریشان ہیں۔ خودکشیاں کرتے ہیں‘ کاروبار میں پریشان ہیں۔ دھوکا‘ فریب‘ غیبت جیسی اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ بیمار پڑ گئے تو ڈاکٹروں کو دکھانے اورادویہ لینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ یعنی جتنی بھی پریشانیاں ہیں ان سے چھٹکارا نہیں ملتا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمیںجس طرح اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا چاہیے ویسے نہیں کرتے۔

ہم مصیبت میں‘ پریشانی میں اللہ تعالیٰ سے رجوع نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اُس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت کریں ہر چیز آ پ کے کنٹرول میں آ جائے گی۔
(آغا صادق حسین خاں‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ)

ناجائز تجاوزات

اردو ڈائجسٹ میرا پسندیدہ جریدہ ہے۔ اِس میں وہ سب کچھ ہے جو وقت کا تقاضا اور عام و خاص آدمی کی ضرورت ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ قریشی برادران کو تادیر اِس ملک و معاشرے کی خدمت کا موقع عنایت فرمائے۔ میں اس موقر جریدے کی وساطت سے ایک اہم مسئلے کے جانب صاحب اقتدار افسران کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ گلی کوچوں میں مکینوں نے ناجائز تجاوزات کی بھرمار کی ہوئی ہے۔ نفسا نفسی کا عجب عالم ہے۔ مجموعی سوچ ناپید ہو چکی اور ہر کوئی اپنا گھر اور اپنی آسائش ہی دیکھتا ہے۔

ہمارے محلے میں ایک بوسیدہ مکان کی بالکونی جو کہ اپنی میعاد پوری کر چکی اور کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہے۔ مکینوں نے اُس کے نیچے ایک موٹی لکڑی کی ٹیک لگا کر بالکونی کو سہارا دے رکھا ہے جو کہ کسی بھی وقت جان لیوا حادثے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ راقم نے ایک دو بار مکینوں کی توجہ اس جانب دلوائی‘ تو انھوں نے ٹال مٹول کردی۔ پھر کچھ دنوں بعد دیکھا‘ تو لکڑی کی جگہ ڈیڑھ دو فٹ چوڑے اینٹوں کے دو ستون کھڑے تھے جو گلی کی چوڑائی میں کمی اور راہ گیروں کے لیے تنگی کا باعث ہیں۔

مالکان سے کہو تو وہ لڑنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ اسی طرح کے بے شمار مناظرہر گلی کوچے میں نظر آتے ہیں جو مکینوں کے لیے فائدہ مند ‘ پڑوسیوں اور راہ گیروں کے لیے تکلیف کا باعث ہیں۔ لوگوں نے اپنی حدود پھلانگ کر ناجائز تھڑے اور سیڑھیاں بنا رکھی ہیں۔

اسی سے ملتا جلتا یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ چھوٹی چھوٹی گلیوں میں لوگوں نے رکشے اور گاڑیاں کھڑی کر رکھی ہیں۔ ایک صاحب تو کسی سرکاری محکمے کی جیپ روزانہ محلے میں لے آتے ہیں۔ وہ ہمہ وقت راہ گیروں کے لیے تنگی کا باعث ہے اور تو اور ایک صاحب مزڈا ٹرک گلی میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ اگر ارباب اختیار اِس جانب توجہ دیں‘ تو راقم نشاندہی کرنے کے لیے حاضر ہے۔

بعض لوگوں نے تھڑوںپر تندور بنا رکھے ہیں اور کوئی باورچی خانہ اور غسل خانہ بنائے بیٹھا ہے۔ بازاروں میں برائلر کا گوشت بیچنے والوں نے مرغیوں کے پنجرے اور سبزی والوں نے چھابڑیاں دکانوں کی حدود سے باہر سجا رکھی ہیں جو اکثر ٹریفک جام ہونے کا سبب بنتی ہیں۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ (ارباب محی الدین‘ لاہور)
٭٭

نوٹ
شمارہ جون میں شائع مضمون ’’کھل گئے جنت کے دروازے‘‘ میں یہ نکتہ بیان کیا گیا کہ بھولے سے صحبت کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اس بات پر بعض اصحاب کو وضاحت درکار ہے۔
اس ضمن میں جامعہ اشرفیہ سے سند یافتہ فاضل درس نظامی‘ جناب مفتی مسعود احمد کا کہنا ہے ’’صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے کہ مسلمانوں کے واسطے بھول چوک پر معافی کی وعید ہے۔ چناںچہ علمائے کرام نے اس سے استفادہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خدانخواستہ انتہائی کم یاب صورت میں کسی جوڑے سے بھول ہو جائے‘ تو روزہ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘‘

اُردو کی شمع

اردو ڈائجسٹ کا شمارہ جون سامنے ہے۔ گرمی کی اس حدت میں پرچے نے دل کو کافی ٹھنڈک اور سکون بخشا ہے۔ ماہوار رسالے کا مزا تب ہی آتا ہے جب وہ پڑھنے والے کو مجبور کرے کہ وہ پورا مہینا اْس سے لطف اندوز ہوتا رہے۔ماشااللہ پرچے میں کئی ایسے دلچسپ اور معلوماتی مضامین ہیں۔

پرچے میںسب سے زیادہ اہم وہ انٹرویو ہے جو ماہرِ ارضیات مرزا عبد الصمد بیگ کا ہے۔یہ پاکستان کا ایک انتہائی اہم پراجیکٹ ہے جو پچھلے کئی سالوں سے ایک سنسنی خیز ڈراما بن گیا ہے،کالا باغ ڈیم کی طرح کہا جاتا ہے کہ یہ پاکستان کی معیشت میں ایک انقلاب لانے کا باعث بنے گا لیکن دوسری طرف کئی بڑی بڑی شخصیات نے اس کو ایک ناممکن منصوبہ قرار دیا ہے۔ خاص طور پر ڈاکٹر قدیر نے تو یہاں تک کہا ہے کہ یہ صرف پیسے کھانے کا ایک تماشا ہے ،اِس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

حبیب اشرف صبوحی کے سینے میں ہزاروں قصے اور داستانیں محفوظ ہیں جو نہ صرف دلچسپ بلکہ انتہائی سبق آموز بھی ہوتی ہیں۔ معاشرتی کہانی ’گٹھڑی ‘ کے سادہ ،خلوص اور محبت سے بھرپور انداز نے بہت متاثر کیا ہے۔ اس طرح کی کہانیاں شائع کرتے رہا کریں کیونکہ ایک مضمون کے مقابلے میں کہانی زیادہ پْراثر ہوتی ہے اور دل پر اس کے اثرات بھی زیادہ گہرے پڑتے ہیں۔

اردو ڈائجسٹ کا یہ اعزاز ہے کہ وہ معاشرے میں موجود بڑی بڑی شخصیات کو ڈھونڈتا اور اْن کی باتیں لوگوں تک پہنچاتا رہا ہے ۔ ڈاکٹر مریم کرم الٰہی کے حالات اور کارنامے پڑھے،پاکستان سے اْن کی محبت اور یہ کہنا کہ میں نے جو زندگی گزاری ، اْس سے پوری طرح مطمئن اور خوش ہوں، میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے بے پناہ عنایات سے نوازا۔یہ الفاظ پڑھ کر قاری کو سبق ملتا ہے کہ آپ بھی اگر سکون ِ قلب کے طالب ہیں تو پھر کس راہ ِعمل کو اختیار کرنا ہو گا۔ ’کپکپی کا معجزہ‘ پڑھتے پڑھتے مجھے ’ ہچکی کا معجزہ‘ یاد آگیا۔وہ بھی بہت دلچسپ اور نصیحت آموز قصہ ہے ،ان شا اللہ جلد ہی ارسال کروں گا۔ اللہ تعالیٰ اس اردو کی شمع ’اردو ڈائجسٹ ‘ کو ترقی کی نئی سے نئی منزلوں سے روشناس کرائے۔
(نوید اسلام صدیقی‘ لاہور)
٭٭

اسناد کی تصدیق اور ہائر ایجوکیشن کمیشن
مکرمی!
میں آپ کے مو قر جریدہ کی وساطت سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اعلی حکام کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ گزشتہ دنوں اپنی انجینئرنگ کی سند کی تصدیق کرانے ایچ ای سی کے دفتر نزد غالب مارکیٹ لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ آج کل چونکہ جعلی ڈگری کے پے در پے واقعات سامنے آرہے ہیں اس لیے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں ملازمت اور بیرون ملک تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں جانے والے افراد کو ایچ ای سی سے اپنی اسناد کی تصدیق کرانا پڑتی ہے۔

اس مقصد کے لیے لاہور،پشاور اور اسلام آباد میں ادارے کا صرف ایک ایک دفتر مختص ہے جہاںہر روز پورے پاکستان سے سیکڑوں افراد آتے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین کی بھی ہوتی ہیں۔لاہور میں واقع دفتر میں صبح 5بجے سے امیدوار لائن بنانا شروع کرتے ہیں جس کے بعد صبح 8 بجے سے 9 بجے تک صرف ایک گھنٹا پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پہ ٹوکن نمبر جاری کیے جاتے ہیں۔

ٹھیک 9 بجے پہلے 50 افرادکو اندر آنے کی اجازت دے کر بیرونی گیٹ بند کر دیا جاتا ہے اور باقی امیدوار باہر دھوپ میں کھڑے رہتے ہیں۔اندر 12 x 12 فٹ کے کمرے میں تین کھڑکیاں ہیں جن کے دوسری جانب صرف ایک پہ متعلقہ فرد بیٹھا ہوتا ہے باقی دونوں بند ہوتی ہیں۔ خواتین امیدواروں کے کاغذات پہلے جمع کیے جاتے ہیں جس کے باعث صبح پانچ بجے پہنچنے والے لڑکے کی باری خدا خدا کر کے11 بجے آتی ہے۔یہاں آنے والے افراد ادارے کی ویب سائٹ سے آن لائن فارم پُر کر کے پرنٹ نکال کے لاتے ہیں

۔متعلقہ فرد اس فارم کے ساتھ اصل اسناد کو دیکھتا ہے ہر امیدوار پہ اوسطاً دس منٹ صرف ہوتے ہیں۔ادارے کی ویب سائٹ پہ نامکمل اور مبہم معلومات دی گئی ہیں جس وجہ سے اگر کسی امیدوار کے کاغذات پورے نہ ہوں تو فوراً اعتراض لگا کر دوبارہ آنے کو کہا جاتا ہے۔تین ا طراف سے بند اس کمرے میں موجود واحد ائیر کنڈیشنر صرف نمائش کے لیے لگایا گیا ہے۔اکلوتا پنکھا بھی لوڈ شیڈنگ کے باعث منہ چڑانے لگتا ہے جس سے اندر موجود 50 افرا د کا حبس اور گرمی سے برا حال ہو جاتا ہے۔امیدوار کو فارم پہ سائن کروانے کے بعد بینک میں فیس جمع کرانے کو کہا جاتا ہے جو کہ ایک سند کے لیے مبلغ آٹھ سور وپے ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف تین سو روپے تھی۔

یہ بینک یہاں سے دس منٹ کے پیدل فاصلے پہ واقع ہے جہاں آنے جانے اور فیس جمع کرانے میں قریباً پینتالیس منٹ مزید صرف ہوتے ہیں۔واپس پہنچنے پہ ایک مرتبہ پھر لائن میں لگ کر کاغذات جمع کروانا پڑتے ہیں جس میں مزید ایک گھنٹا لگتا ہے۔ یوںمسلسل سات ،آ ٹھ گھنٹا کی خواری کے بعد ایک فرد کی اسناد جمع ہوتی ہیں۔اسی پہ بس نہیں! اسناد وصول کرنے کے لیے دو دن بعد آنے کو کہا جاتا ہے جس کاوقت بھی عجیب منطق کے تحت دوپہر 2:30سے 3:30 بجے تک صرف ایک گھنٹا رکھا گیا ہے۔

ؓٓ یہاں بی اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک کی اسناد کی تصدیق کی جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہاں آنے والے افراد میںاساتذہ کرام، ڈاکٹرز،انجینئرز ، سائنس دان اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں۔ان معزز افراد سے ادارے کا ایسا ناروا سلوک انتہائی نامناسب،اخلاقی اقدار کے منافی اور ناقابل برداشت ہے۔

ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے افسران کو باہر گرمی کے ستائے درختوں کے سائے میں پناہ لینے پہ مجبور عوام کی کوئی پروا نہیں۔کروڑوں روپے سے بنی ایچ ای سی کی اس عمارت میںپنجاب کے کونے کونے سے آنے والے افراد کے بیٹھنے کے لیے سایہ دار جگہ ہے اور نہ پینے کو صاف پانی میسر ہے۔ میں انتظامات کی بہتری کے لیے اعلیٰ حکام کی خدمت میں چند تجاویز پیش کرنا چاہوںگا۔

1۔اسناد کی تصدیق کی سہولت صوبے کی ہر بڑی یونیورسٹی میں مہیا کی جانی چاہیے۔
2۔خواتین کے لیے علیحدہ ڈیسک قائم کیے جائیں اور عملہ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
3۔ ایچ ای سی کی ویب سائٹ پہ اسناد کی تصدیق کی تمام معلومات قومی زبان اردو میں مکمل اور واضح طور پہ لکھی جائیں۔

4۔ فیس میں ہر ممکن حد تک کمی کی جائے۔
5۔امیدواروںکے بیٹھنے کے لیے سایہ دار اور ہوادار جگہ فراہم کی جائے اور پینے کا صاف ، ٹھنڈا پانی بھی مہیا کیا جائے۔
ایچ ای سی کے اعلیٰ حکام سے میری التماس ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کو حل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
(انجینئر بشارت علی چودھری‘قصور)