function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

چمن خیال

ادارہ | چمن خیال

ہیںکہ بڑھاپے میں بیوی نرس اور کچھ کچھ ماںکا روپ دھار جاتی ہے۔ بچوں کی ماں ہونے کے ناتے وہ شوہر کو بھی ممتاکا احساس دلاتی ہے۔ بلکہ جس طرح بچپن میں ماں بچے کا خیال رکھتی ہے، اتنا ہی بڑھاپے میں بیوی اپنے شوہرکو سنبھالتی ہے ۔ کچھ دوست تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بڑھاپے میں میاں اور بیوی کی شکل اس قدر ملنے لگتی ہیں کہ وہ بہن بھائی لگتے ہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں! وہی بیوی جسے شادی کے ابتدائی برسوں میں عموماً شوہر پائوں کی جوتی سمجھتا ہے، بڑھاپے میں سہارا بن جاتی ہے۔ جب انسانی اعضا باری باری ساتھ چھوڑنے لگیں، تو قدم سے قدم ملا کر ساتھ چلنے والی بیوی کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جات ہے ۔میرے گھر میں بھی بیوی کا روپ دھارے ایک نیک سیرت اور سلیقہ شعار خاتون، عابدہ اسلم گزشتہ ۳۶ سال سے آباد ہے۔ اس کی محبتوں کا واحد مرکز میں ہوں اور اس کی آنکھوںمیں میری ہی تصویر ہر لمحے دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ گھر میں پوتے پوتیوں اور نواسوں کی رونق بھی لگ چکی، لہٰذا بیگم کی توجہ کچھ تقسیم ہو تی جارہی ہے۔ اس کا احساس مجھے کبھی کبھار بہت شدت سے ہونے لگتا ہے ۔

میں نے ساٹھ سال کی عمر تک بھرپور طریقے سے دو ٗ دو اور تین تین ملازمتیں کی ہیں تاکہ اپنا گھر بنا سکوں۔ اس لیے میری زندگی کا بیشتر حصہ ایک مشینی روبوٹ کے مانند زندگی کی شاہراہ پر چلتا رہا۔کبھی زندگی میں سکون کے ساتھ بات کرنے کا وقت ہی نہیں ملا ۔ صبح آنکھ کھلتی، تو تیار ہوکر دوڑا دوڑا بنک پہنچ جاتا۔ پھر شام ڈھلے تھکا ماندہ گھر پہنچتا، تو کھانا کھانے اور ادائیگی نماز کے بعد نیند غالب آجاتی۔ جب بنک آف پنجاب سے ریٹائر منٹ کا وقت (۳؍دسمبر۲۰۱۴ئ) آیا، تو سوچا کہ اب شاید بیگم سے دل کی بات کرنے کا وقت مل جائے۔ اگرچہ مالی پریشانیوں میں الجھا ہوا انسان ہوں ۔دنیاوی اور گھریلو مالی ضرورتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ میں کہیں نہ کہیں ملازمت اختیار کرلوں۔ ایک دو ایڈورٹائزئنگ ایجنسیوں سے پیش کش بھی ہوئی، لیکن اب صبح سے رات گئے تک کام کرنے کی نہ تو ہمت ہے اور نہ ہی جسم میں طاقت ۔

ایک بٹوے بنانے والی فیکٹری البتہ نظر میں رہی جس کے منیجنگ ڈائریکٹر، محمد صدیق خان میرے سمدھی ہی ہیں ۔ان کی بیٹی، رضوانہ میری بہو ہے۔ بہو کے روپ میں وہ میرے گھر کی عزت اور شان ہے۔ جب سے آئی ہے اس نے گھر کو اپنی بہترین خدمات اور اچھے حسن اخلاق سے جنت کا روپ دے دیا۔ اس کے پائوں کی ہڈی میں معمولی سا فریکچرہو چکا، لیکن وہ اپنے دکھ اور تکلیف بھول کر صبح سے رات گئے تک ہماری خدمت اور گھر کو جنت بنانے میں اپنا کردار نہایت کامیابی سے انجام دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

میں رضوانہ اور اپنی بڑی بہو ( تحسین شاہد) دونوں کا سپاس گزار ہوں ۔ گھر اینٹوں اور سیمنٹ نہیں انسانی رویوں سے بنتے ہیں ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری دونوں بہوئیں ٗ نیک سیرتی ٗ بہترین اخلاق ٗ گھر گرہستی اور سلیقہ شعاری میں سب سے اوّل ہیں۔ نئے گھر( قادری کالونی) میں منتقل ہونے کے بعد دو مرتبہ آپریشن کے مراحل سے گزرنا پڑا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے صحت عطا فرمائی، تو صبح سیر کی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہم دونوں میاں بیوی لبرٹی پارک ( جام شیریں پارک ) جانے لگے۔ وہاں میں ورزش کرکے کچھ دم لیتا، بیگم صاحبہ لبرٹی پارک کاایک چکر لگا لیتی۔ اس طرح اپنی ڈھلتی عمر اور کھوئی ہوئی جسمانی طاقت کو تقویت دینے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔

ڈاکٹر اصرار کرتے ہیں کہ اگر صحت مند زندگی گزارنی ہے اور وہ بھی بطور خاص ۶۰ سال کے بعد، تو پھر صبح یا شام سیر ضرور کریں ۔ دائیں گھٹنے کا آپریشن کروا لیا تھا، اب بایاں بھی جواب دیتا جارہا ہے۔ صبح بہمشکل مسجد پہنچتا ہوں۔ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد امام مسجد اور خطیب قاری محمد اقبال عارف سے دم کروا کر ایک ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چلنے کے قابل ہوتا ہوں۔ قاری صاحب حافظ قرآن ہیں اور صاحب کرامت بھی ۔ سچے انسان ہیں ٗ انھوں نے اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی سربلندی اور دین اسلام کی ترویج کے لیے وقف کررکھاہے۔ بظاہر تو وہ ہم جیسے انسان ہی ہیں، لیکن ان کی زندگی مضبوط حصار میں بند ہے۔ وہ اپنی گھریلو اور خاندانی ذمے داریوں کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ ہر نماز کی امامت کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے کرتے ہیں۔

انسان ہونے کے باعث مسائل انھیں بھی درپیش ہیں،لیکن اللہ کی ذات پر ان کا کامل ایمان ہے۔ چناںچہ وہ مسائل سے ایسے بچ نکلتے ہیں جیسے مکھن میں سے بال نکال لیا جاتا ہے ۔ بہرکیف رزق حلال کھانے، قرآن پاک کی تلاوت کرنے ٗ اپنی زندگی کو سنت رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنے اور سچ بولنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان میں اتنی تاثیر پیدا کررکھی ہے کہ مجھ جیسا انسان جو بہ مشکل مسجد پہنچتا ہے، وہ نماز کے بعد جب واپس گھرلوٹے، تو دور تک پیدل چلنے کی ہمت اس میں پیدا ہوچکی ہوتی ہے ۔یہ ان کی کرامت ہے اور صاحب کرامت ہونے کی دلیل بھی ۔

وہ اکثر کہتے ہیں کہ میری کامیابیوں کے پیچھے ماں کی دعائوں کا اثر ہے۔ میں جب گھر سے نکلوں، تو ماں ہاتھ اٹھائے بغیر میرے لیے دل سے دعا کرتی ہے۔ یہ دعا مجھے دنیاوی خرافات اور پریشانیوں سے ہر قدم پر محفوظ رکھتی ہے ۔جبکہ بیوی کی خدمات کااعتراف بھی ان کی زبان سے اکثر سننے کو ملتا ہے ۔ بے شک اچھی بیویاں اپنے خوش دلانہ رویوں سے جنت میں حوروں کی سردار بنتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں، وہ مرد دنیا میں کبھی ناکام نہیں ہو سکتے جن کے پیچھے ماں کی دعائیںاور بیوی کی جفائیں ہوں۔ حسن اتفاق سے قاری صاحب کو یہ دونوں نعمتیں میسر ہیں اور وہ مصروف زندگی میں بھی اپنی تمام تر دینی اور دنیاوی ذمے داریاں کماحقہ پورا کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

مجھے یاد ہے، جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں ایک پیر سپاہی بہت مشہور ہوا تھا۔ اس کی پھونک سے جب کچھ لوگوںکو شفا ملی، تو انھوں نے پیر کا چرچا کر ڈالا۔ جب وہ ملتان ( آبائی شہر) سے لاہور آیا کرتا، تو ہوائی اڈے پر ہزاروں مرد و زن دم کروانے جمع ہوجاتے۔ وہ پانی سے بھری کھلے ڈھکن والی بوتلوں پہ اسپیکر سے پھونک مارا کرتا تھا۔ لوگ وہ پانی پی کر بیماریوں سے شفا یاب بھی ہوجایا کرتے۔بظاہر تو وہ پنجاب پولیس میں ایک کانسٹیبل تھا لیکن اپنے دم کی وجہ سے ’’پیر سپاہی‘‘ کے عرف سے مشہورہوا ۔

اس مناسبت سے میں اکثر قاری صاحب کو کہتا ہوں کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا، جب لوگ آپ سے دم کروانے آئیں اور من کی مرادیں پاکر واپس لوٹیں گے ۔ اگر آپ اسپیکر پر پھونک ماریں گے، تو پورے محلے سے بیماریوں اور نحوست کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔میری اس بات پر وہ تبسم فرما کر خاموش ہوجاتے۔ بظاہران کی عمر توزیادہ نہیں، لیکن علم اور بردباری میںوہ ہم سے زیادہ معاملہ فہم دکھائی دیتے ہیں ۔ قاری صاحب سے دم کروامسجد سے نکل کر گھر پہنچتا، تو بیگم میری منتظر ہوتی اور ہم باہر نکل جاتے۔ ابتداً اپنی گلی کا ایک چکر لگا ہم واپس آجاتے، پھر نئے راستوں اور نئی دنیا کی تلاش کا شوق ہمیں ساتھ والی گلی میں بھی لے گیا ۔ ہم اپنی گلی سے نکل کر دوسری سے واپس آنے لگے ۔ بڑھاپے میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کے لیے بیگم ہر صبح کسی بھی دکاندار سے دو انڈے خرید لیا کرتی۔ گھر پہنچ کر ان انڈوںکو ابا ل ایک خود کھاتی اور دوسرا مجھے کھلا دیتی۔

بے شک اس کا یہ عمل میرے لیے خوشی کا باعث تھا کیونکہ سنا کرتے ہیں، ماں بچے کو کھلاتی ہے یا بیوی شوہر کو۔ ماں تو اپنے ہاتھوں سے دیسی گھی میں شکر ڈال چوری بنا کر مجھے کھلایا کرتی تھی۔ انھیں دنیا سے رخصت ہوئے سات سال بیتچکے، لیکن اب مجھے کھلاکر طاقت ور بنانے کی ذمے داری بیگم نے سنبھال رکھی ہے ۔میں اکثر کہتا ہوں کہ جوانی میں جب خوراک انسانی جسم کے لیے لازم تھی، تب ہم نے گھر بنانے کے لیے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے رکھا۔ جسمانی طاقت میں اضافے کے لیے ہم اچھی خوراک یا پھل نہ کھا سکے۔ لیکن اب انڈا مع زردی کھانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، تو جسم میں کیا طاقت آئے گی؟ پھر یہ سوچ کر انڈا کھا لیتا ہوں کہ کچھ تو فائدہ دے گا۔ اب تو انڈا بھی دس روپے کا ہو چکا۔

اسی دوران یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ بیگم کی بائیں ٹانگ میں اچانک شدید درد رہنے لگا۔ میں تو قاری صاحب کی پھونک سے کچھ چلنے پھرنے کے قابل ہوجاتا، لیکن ڈاکٹر سے دوائی دلوانے کے باوجود بیگم کی ٹانگ میں درد کم نہیں ہوا ۔ اس بات کا ذکر قاری صاحب سے کیا، تو انھوں نے مجھے وہ قرآنی آیت بتائی جسے پڑھ کر دم کیا کرتے اور فرمایا ’’اسیپڑھ کر بیگم پر پھونک ماریں، ان کا درد ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ میں نے ایک دو دن یہ کام کیا،لیکن درد میں کوئی افاقہ نہیںہوا۔ قاری صاحب سے کہا ’’جناب آپ کی زبان میں جو اثر ہے، وہ ہماری زبان میں کہاں ہوسکتا ہے۔ آپ ہی میرے گھر کے رخ کا تعین کرکے غائبانہ پھونک مار دیں۔ ہوسکتا ہے یونہی بیگم کا دردکچھ کم ہوجائے۔‘‘ قاری صاحب نے رخ کا تعین کرکے پھونک تو ماری، لیکن وہ میرے گھر تک نہیں پہنچ سکی ۔ ہڈیوں کے اسپیشلسٹ ، ڈاکٹر آفاق کو چیک کروایا۔ اس نے بتایا کہ ہڈیاں کمزور ہوچکیں جس کی وجہ سے ٹانگ میں درد ہو رہاہے ۔

مسجد میں ایک عمررسیدہ شخص اکثر آتا۔ وہ کبھی کبھی قاری صاحب کے کندھے دبانے لگتا یا سر کی مالش کردیتا۔ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھتا ۔ دبلے پتلے اس شخص نے ایک صبح قاری صاحب سے شکایت کی ’’میری بیگم مجھ سے ناراض ہے۔ آپ پانی پر دم کردیں تاکہ میں اسے پلا کر بات کرنے پر آمادہ کرلوں۔‘‘ قاری صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا ’’جائو پانی لے آئو۔‘‘ اس نے کالے شاپر میں مسجد کے نلکے ہی سے پانی ڈالا اور قاری صاحب کے پاس آگیا ۔اسے یہ کام کرتے ہوئے دیکھ کر میں اور میرے پڑوسی، ابوالحسن صاحب مسکرادیے۔ہم اس لیے حیران تھے کہ قاری کی پھونک گھٹنے اور ٹخنے، تو کسی حد ٹھیک کرلیتی ہے۔ لیکن جب کسی کا محبوب ناراض ہوجائے تو قاری صاحب کی پھونک سے کیا وہ بھی صلح پر آمادہ ہو سکتا ہے؟ مجھے یہی تجسس رہا۔

اگلے دن وہ بابا پھر قاری صاحب کے نزدیک بیٹھ گیا۔ تب میں نے پوچھا ’’کل آپ جس مقصد کے لیے پانی دم کروا لے گئے تھے، کیا وہ پورا ہوگیا؟‘‘ میری بات سنتے ہی وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔ اس نے کہا ’’ہاں جی، جیسے ہی وہ دم والا پانی بیگم کے گلے سے نیچے اترا، تو نہ صرف ناراضگی ختم ہوگئی بلکہ وہ پہلے سے زیادہ خوش اخلاق ہوچکی۔‘‘ میں نے سرگوشی کے انداز میں قاری صاحب کو کہا، اخبارات میں تو ہم عاملوںکے یہ اشتہار اکثر پڑھا کرتے تھے کہ ’’محبوب آپ کے قدموں میں‘‘ آج ہم نے اپنی آنکھوں سے محبوب کو بابا جی کے قدموںمیں گرتے دیکھ لیا ۔ جب یہ باتیں ہم کررہے تھے، تو کچھ ہی فاصلے پر ایک بزرگ بیٹھے ہماری باتیں بہت غور سے سنتے مسکرانے لگے۔ ان کا نام خورشید ملک تھا۔ وہ میرے گھر کے بالکل سامنے رہتے ہیں۔ گویا انھیں بھی ان باتوں میں دلچسپی تھی، لیکن کوئی حجاب آڑے آ رہا تھاکہ اپنے دل کی بات قاری صاحب سے نہیں کی ۔ میرے استفسار پرقاری صاحب نے بتایا کہ یہ تو خود پیر صاحب ہیں اور دم بھی کرتے ہیں۔

مجھے یاد آیا کہ ایک دن میری بیگم نے بتایا تھا، سامنے والے بابا جی بچوںکو دم کرتے ہیں۔ میرا پوتا محمد عمر ٗ ان دنوں بطور خاص رات کے وقت بہت روتا تھا، چناںچہ بیگم اسے لے کر بابا جی کے پاس دم کروانے گئی ۔ لیکن بچے کے رونے میں کوئی فرق نہیں پڑا، وہ آج بھی رات کے وقت ضرورت سے زیادہ رو کر ماں کو پریشان کرتا ہے۔ بہرکیف گھر واپسی کے بعد جب میں نے اپنی بیگم سے واقعے کا ذکر کیا، تو اس نے بتایا کہ سامنے والے بابا جی کی تو اپنی بیوی اس سے ناراض ہے اور بات تک نہیں کرتی ۔ یہ سن کر میری ہنسی نکل گئی۔ سوچا کہ جو بابا جی لوگوں کو دم کرتے ہیں، ان کی اپنی بیگم قابوسے باہر ہوچکی اور وہ بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ تبھی ان کا دل کرتا تھا کہ وہ بھی پانی لے کر قاری صاحب سے دم کروا اپنی بیگم کو چوری چھپے پلا دیں۔ لیکن خود پیر کہلوانے والے بابا جی کو اس کی ہمت نہیں ہوئی ۔چناںچہ ندی کے دو کناروںکی طرح وہ ایک ہی کمرے میں الگ الگ زندگی گزار رہے ہیں۔

مجھے یاد ہے، چند سال پہلے میری بیگم بھی ناراض ہوگئی تھی۔ اس پر میں نے ایک مضمون ’’روٹھے پیا کو منائوں کیسے؟‘‘ لکھا جسے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسانی رویوں میں تبدیلی آنا فطری امر ہے۔عرصہ دراز سے ایک ساتھ رہتے ہوئے جہاں والہانہ محبت پیدا ہوتی ہے، وہاں کچھ بیزاری کا عنصر بھی غالب آجاتاہے۔  دراصل انسان نت نئی صورتیں دیکھنا پسند کرتا ہے۔کچھ یہی عالم بیگمات کا بھی ہے ۔ گھر کی تمام پریشانیاں ان کے تعاقب میں ہوتی ہیں۔ انھیں مردوں سے زیادہ بیماریوں اور قدم قدم پر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک گھر کی چار دیواری میں رہتے اور پرانے اور بوڑھے شخص کی شکل دیکھ دیکھ کر وہ بھی تنگ آجاتی ہیں۔ پھر مردوں کا رویہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، وہ غصہ کرنا اور عورت پر رعب جھاڑنا اپنا ازلی حق تصور کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو اول اور عورت کو ثانوی درجہ عطا فرمایا ہے۔ گو دونوں لازم و ملزوم تصور کیے جاتے ہیں اور ان کے بغیر گھر مکمل نہیںہوتا پھر بھی کہیں نہ کہیں ٹکرائو تو ہو ہی جاتا ہے ۔کبھی کسی پہیے میں ہوا کم ہوتی ہے تو کبھی دوسرا پہیہ چلنے سے انکا رکردیتا ہے ۔ زندگی اسی کا نام ہے ۔جہاں اختلاف یا کسی بات پر جھگڑا نہیںہوتا، میری نظر میں وہ گھر نہیں ہے ۔

ایک دفعہ اخبار میں خبر چھپی کہ ایک عورت نے عدالت میں طلاق کا مقدمہ دائر کردیا ۔ جج نے وجہ پوچھی تو عورت نے کہا ’’جناب میں جو کہتی ہوں میرا شوہر وہ مان لیتا ہے۔ زندگی کے جتنے سال بھی ہم نے اکٹھے گزارے، شوہر نے کبھی میری حکم عدولی نہیں کی ۔ لیکن میں اس بدمزہ زندگی سے تنگ آگئی ہوں۔ میں جب لوگوںکے گھروں میں جھگڑے ہوتے سنوں، تو رشک کرتی ہوں کہ زندگی کا حسن ٗاختلاف رائے میں ہے۔ کبھی کبھار تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے گھر میں مرد نہیں ایک روبوٹ رہتا ہے۔ میں اسے جو حکم دوں، وہ سر جھکا کر مان لیتا ہے ۔‘‘

اس مقدمے کا کیا فیصلہ ہوا پتا نہیں چلا، لیکن زندگی میں جب تک ’’اونچ نیچ‘‘ نہ ہو، وہ بے مقصد سی ہوجاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں کسی بہانے اپنی بیگم سے نوک جھوک ضرور کرتا ہوں تاکہ وہ مجھے روبوٹ نہ سمجھ لے۔ ہماری یہ لڑائی چند گھنٹوں بعد دوبارہ شدید محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ نہ وہ میرے بغیر رہ سکتی ہے اور نہ ہی میں اس کے بغیر زندگی کا تصور کرسکتا ہوں۔ مجھے دنیا کی رنگینیاں اور رونقیں بہت اچھی لگتی ہیں… لیکن اسی وقت جب بیگم میرے ساتھ ہو۔ اس کو نفی کرکے دنیا میرے لیے ویرانے کی صورت دھار لیتی ہے۔ اللہ میری بیگم کو سلامت رکھے! لڑائی اس لیے ضرور ہونی چاہیے کہ بعدازاں محبت میں مزید شدت پیدا ہو جائے۔
ایک رات بوندا باندی ہوئی تو ہماری گلی میں کیچڑ ہو گیا۔ اس میں بطور خاص چلنا پھرنا مشکل تھا لیکن قاری صاحب نے مجھے دم کرکے پھر جوان اور تازہ دم کردیا۔ میں نے پہلے مسجد والی گلی ہی میں دو تین چکر لگائے پھر میں سڑک پر دور تک چلتا چلا گیا ۔بیگم نے بھی نئے راستے پر میرے ساتھ چلنے میں خوشی محسوس کی۔ جسمانی طاقت بڑھانے کے لیے انڈے تو وہ ہر صبح خریدتی تھی، لیکن ایک صبح اس نے ایک پیسٹری بھی خرید کر مجھے کھانے کو دی۔

میں بہت حیران ہوا کہ گھر کے اخراجات پورے کرنا محال ہو رہا ہے، یک دم ۲۰ روپے کی پیسٹری بیگم نے دل بڑا کرکے کیسے خرید لی؟ درحقیقت بیگم جانتی تھیکہ پیسٹری اور کریم رول مجھے بے حد پسند ہیں۔ میں جب بھی بازار سے گزروں اور مجھے کہیں پیسٹری فروخت کرنے والا نظر آ جائے، تو دل چاہتا ہے، اس کے پاس بیٹھ کر خوب پیسٹریاں کھائوں۔ لیکن اب پیسٹری ۲۰روپے کی ہو چکی، اسی واسطے اپنی خواہش دبا کر نکل جاتا ہوں۔ بیگم نے جب مجھے ۲۰ روپے کی پیسٹری خرید کر دی، تو نہ صرف اس کے لیے بے حد دعائیں دل سے نکلیں بلکہ میں اپنے تخیل میں بچپن کی جانب لوٹ گیا ۔

وہ بھی کیا دن تھے جب میں واں رادھا رام (حبیب آباد) کے ریلوے پھاٹک پر اسکول سے واپسی کے بعد سگریٹ بیچا کرتا تھا۔ دوپہر سے شام تک روزانہ کا یہ معمول تھا۔ وہاںمیرے بڑے دونوں بھائی بھی مالٹے ٗ جامن اور آم فروخت کیا کرتے۔ پھیری لگانے سے جو تھوڑ ے بہت پیسے بچتے، اس سے تعلیمی اخراجات پورے ہوجاتے ۔ ایک بار بند ریلوے پھاٹک پر ایک کار آ کر رکی۔کار میں ایک پاکستانی میم (امیر زادی ) بیٹھی تھی۔ اس کی نظر مجھ پر پڑی، تو میں اسے اچھا لگا۔ اس نے اشارے سے مجھے بلا یا ۔ اس وقت میری عمر بمشکل آٹھ دس سال ہوگی۔ اتفاق سے ان دنوں بچے اغوا کرنے والے ظالموںکی کہانیاں زبان زدعام تھیں۔اس امیرزادی نے جب اشارے سے مجھے بلایا، تو میں خوفزدہ ہوگیا۔ بھاگ کر اپنے بھائیوں کے پاس پہنچ انھیں بتایا کہ کار میں بیٹھی میم مجھے مسلسل گھور رہی ہے۔ لگتاہے، وہ مجھے اغوا کرنا چاہتی ہے ۔

بھائیوں نے مجھے دلاسا دیا کہ تم پریشان نہ ہو، ہم اسے دیکھ لیتے ہیں ۔اسی اثنا میں عورت نے کسی بڑے چھابڑی فروش کو بلا کر کہا کہ مجھے وہ بچہ اپنے بچوں کی طرح پیارا لگ رہاہے۔ میں اسے اپنے سامنے کریم رول کھلانا چاہتی ہوں۔ چھابڑی فروش نے کہا ’’میم صاحب آپ ہمیں کریم رول دے دیں، ہم اسے کھلا دیں گے۔‘‘ اصرار کے باوجود عورت نے کریم رول کسی کونہ دیے۔ پھاٹک کھلنے کے بعد اس نے اپنی کار ایک جانب کھڑی کی اور میرے پاس چل کر آئی ۔اس لمحے سب چھابڑی فروشوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا تاکہ وہ مجھے لے کر کہیں فرار ہی نہ ہوجائے ۔ بہرکیف اصرار پر میں اس کی کار تک گیا۔ اس نے مجھے کار میں بیٹھنے کو کہا ۔کار کو بھی تماشا دیکھنے والوں نے چاروں اطراف سے گھیر لیا۔ بھائی کے کہنے پر میں کار میں ڈرتا ڈرتا بیٹھ بھی گیا۔

عورت نے پھر ایک بڑا سا لفافہ مجھے دیا جس میں چالیس پچاس کریم رول موجود تھے ۔میں جب وہ لفافہ لیے کار سے اترنے لگا تو اس نے کہا ’’بیٹا ایک کریم رول اگر تم میرے سامنے بیٹھ کر کھا لو تو میرے دل کو سکون مل جائے گا۔‘‘ اس کے اصرار پر میں کریم رول کھانے لگا ۔وہ کریم رول اس قدر مزیدار تھا کہ دوبارہ وہ مزا زندگی بھر نصیب نہیں ہوا۔ غربت کی وجہ سے ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں ہوتے تھے کہ ہم دو آنے کا کریم رول خرید کرکھائیں۔ اس عورت نے میرے ماتھے پر بوسا دیا اور کریم رول سے بھرا ہوا لفافہ میرے سپرد کرکے چلی گئی ۔ وہ لفافہ لے کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے پوری کائنات مل گئی ہو۔ میں نے سگریٹ کا کھوکھا وہیں چھوڑا اور بھاگتا ہوا اپنی ماں کے پاس گیا۔ ماں میرے ہاتھ میں لفافہ دیکھ کر بہت حیران ہوئی۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ کریم رول کسی امیر زادی نے مجھے مفت دیے ہیں، تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ پھر ہم سب نے وہ خوب مزے سے کھائے ۔یہ اس وقت کی بات ہے جب دو آنے کلو آلو فروخت ہواکرتے تھے اور آٹھ آنے کلو گوشت ملا کرتا۔

بیگم نے پچاس سال بعد بیس روپے میں پیسٹری دلوا کر مجھے بچپن والی میم یاد دلا دی جس نے بہت پیار سے مجھے کریم رول کھلائے تھے۔گو اب میں ۲۰روپے کی پیسٹری خرید کر بھی کھا سکتاہوں،لیکن یہ تصور کرکے نہیں کھاتا کہ چلو یہ پیسے کسی اور کام آجائیں گے ۔اب جب صبح ہم دونوں سیر کے لیے نکلیں، تو میں بچہ بن کر اور بیگم ’’سیٹھ عابدہ‘‘ بن کرمیرے ساتھ چلتی ہے۔ واپسی پر وہ المدنیہ جنرل اسٹور پر رکتی،میرے لیے انڈے، پیسٹری اور اپنے لیے چند بسکٹ خرید تی ہے۔ پھر ہم دونوں پیسٹری اور بسکٹ کھاتے گھر لوٹ آتے ہیں۔مجھے ہر وہ شخص اچھا لگتا ہے جو پیسٹری ٗ کیک ( وہ بھی فروٹ کیک) اور کھوئے والا پیڑاکھلادے۔ یہ کام صرف میری بیگم نے سنبھال رکھا ہے… اسی لیے ان کی یہ عادت مجھے بہت اچھی لگتی ہے ۔