function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

چلو مقبوضہ کشمیر چلتے ہیں

طیب اعجاز قریشی | دلچسپ سفر نامہ

 بچپن سے سنتے آئے تھے کہ اگر روئے زمین پر مثل جنت کوئی مقام دیکھنا ہو‘ تو کشمیر دیکھ لو۔ یہی سوچ دل میں لیے ہم نے امرتسر پہنچ کر سری نگر کی پرواز پکڑی۔ واہگہ، اٹاری پر بھارتی کسٹم حکام نے ہمارے سامان کی اچھی طرح چیکنگ کے بعد ہمیں کلیئر کیا اُن کو معلوم تھا کہ ہم لوگ سری نگر جا رہے ہیں سپائس جیٹ کی پرواز بھارت کے وقت کے مطابق ۱۲بج کر ۲۰ منٹ پر روانہ ہونا تھی۔ بارڈر ہمارے وقت کے مطابق صبح ۳۰:۹ بجے کھلتا ہے ہم چاروں ایک ہی گاڑی میں صبح ۹ بجے ہی واہگہ بارڈر پہنچ

گئے تھے۔ تاکہ کلیئرنس کے بعد ہم بروقت سری گرو رام داس جی انٹرنیشنل ائیرپورٹ امرتسر پہنچ کر فلائیٹ لے لیں وقت کم تھا اور مقابلہ سخت۔۔۔ میں نے اپنی اور اہلیہ کے ساتھ ساتھ شفیق عباسی اور طلعت بھابھی کی نشستیں انٹرنیٹ کے ذریعے بک کروا لیں تھیں تقریباً پچاس منٹ کی اس پرواز کے دوران ہم چار پاکستانیوں کے علاوہ دو میاں بیوی پاکستانی بھی ہماری نشستوں کے قریب بیٹھے تھے۔ تعارف کے بعد پتہ چلا کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری کی بڑی کاروباری شخصیت ہیں اور بھارتی سکھ دوست کے ہمراہ عید کی

تعطیلات کے دوران بھارت کی سیر کو جا رہے ہیں۔ وہ سکھ دوست اپنی اہلیہ کے ہمراہ جالندھر سے سری نگر پہنچیں گے وہ بھی ہماری طرح سارک چیمبر آف کامرس کے ممبر تھے اور اکثر ان کا تجارت اور کانفرنس کی غرض سے بھارت کے مختلف شہروں میں جانا ہوتا۔ سری نگر ائیرپورٹ پہنچ کر تمام غیرملکی مسافروں کو پولیس رپورٹ کروانا لازمی تھا پاکستانی مسافروں کیلئے ایک علیحدہ کائونٹر بنایا گیا تھاجس پر لگے بورڈ پر اُردو میں معلومات درج تھیں جبکہ دوسرے ممالک کے مسافروں کیلئے علیحدہ انتظام تھا۔

کائونٹر پر موجود پولیس کے اہلکار نے تین صفحات پر مشتمل فارم ہمیں تھما دیا۔ جس میں ہمیں سری نگر آنے کا مقصد‘ قیام کا ایڈریس‘ میزبانوں کی معلومات اور پاکستان میں ہمارے کوائف درج کرنا تھے۔ کچھ وقت تو لگا لیکن بھارت کیلئے سری نگر اور کشمیر کی حساس نوعیت کی وجہ سے حیرت نہ ہوئی کہ غیرمعمولی حالات غیرمعمولی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں ہم بھارتی حکومت کا انٹرنل سیکورٹی پر توجہ اور اقدامات کاکشمیر کے دورے میں مشاہدہ کرتے رہے اور جب ان کا مقابلہ پاکستان سے کرتے تو معلوم ہوتا کہ ہماری حکومتوں نے وار ان ٹیررازم میں انٹرنل سیکیورٹی پر بالکل توجہ نہیں دی یہی وجہ ہے کہ عوام اپنے آپ کو غیرمحفوظ سمجھنے لگے ہیں۔

باہر ائیرپورٹ پر ہمیں دو گاڑیاں لینے آئی ہوئی تھیں اور گاڑی کا انتظام وشال ملہوترا نے کیا تھا اور دوسرا ہمارے پٹھان کوٹ کے دوست نریش مہاجن نے کیا تھا میں اور میری اہلیہ ایک جیپ میں بیٹھ گئے اور جیسے ہی سری نگر ہوائی اڈے سے باہر نکلے‘ تو ہماری اُمیدوں کے برعکس جنت نظیر کشمیر دھول اور مٹی میں اٹا دیکھ کر ساری اُمیدوں پر پانی پھر گیا۔ لیکن جب وہاں زیادہ گھومنے پھرنے کا موقع ملا تو سری نگر کے قدرتی حسن نے دل موہ لیا۔

تقریباً ۲۰ سال پہلے میں اپنے دو دوستوں کے ہمراہ آزاد کشمیر کی سیاحت کیلئے گیا تھا مظفر آباد سے کیل تک کا سفر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا اس دورے کے دوران ہماری ملاقات مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آئے مہاجرین جن میں بزرگ بچے خواتین سب شامل تھے سے بھی ہوئی۔ جنہوں نے ہمیں بھارتی افواج کے مظالم اور رستے کی دشواریوں کا ذکر کر کے ہمیں آبدیدہ کر دیا تھا اسی دورے کے دوران ہمیں کشمیر کی تاریخی اہمیت کا اندازہ ہوا اور معلوم ہوا کہ کیوں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ

کہا جاتا ہے۔ اس دورے کے بعد شدید خواہش رہی کہ اگر موقع ملا تو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے وہاں کے حالات جاننے اور اس کی خوبصورتی کا مشاہدہ ضرور کروں گا۔
کشمیر کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ سری نگر دو ہزار سال قبل آباد ہوا۔ بعدازاں اس پر بدھی اور ہندو راجا حکومت کرتے رہے۔ اشوک اعظم کے دور میں یہ شہر خوب پھلاپھولا۔ ۹۶۰ء میں سری نگر جموں و کشمیر کا دارالحکومت قرار پایا۔ اکبر اعظم کے دور میں یہ مغل سلطنت کا حصہ بن گیا۔ ۱۸۴۶ء میں انگریزوں نے یہ شہر گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا۔ اُس نے سری نگر کے علاقے‘ شیرگڑھی میں اپنا محل بنوایا اور وہاں رہائش اختیار کر لی۔

سری نگر دریائے جہلم کے دونوں کناروں پر پھیلا ہوا ہے۔ دریا پر بنے نو پل شہر کے مختلف حصوں کو ملاتے ہیں۔ شہر کے اطراف میں جنگل‘ جھیلیں اور سرسبز میدان واقع ہیں۔ اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث شہر ’’مشرق کا وینس‘‘ کہلاتا ہے۔مغل بادشاہوں کو یہ شہر بہت پسند تھا۔ وہ اکثر موسم گرما یہاں گزارا کرتے۔ چناںچہ انھوں نے سری نگر خصوصاً ڈل جھیل کے کناروں پر دیدہ زیب باغات تعمیر کرائے۔ ان میں چشمہ شاہی‘ پری محل‘ نشاط باغ‘ شالامار باغ اور نسیم باغ نمایاں ہیں۔

سری نگر ۲۹۴ مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ آبادی قریباً پونے تیرہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ وادی کے تمام علاقوں کی طرح سری نگر میں بھی اردو وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ یاد رہے‘ اردو ریاست جموں و کشمیر کی سرکاری زبان بھی ہے۔ماضی کی تاریخ سے ہمارا سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب گاڑی ہوٹل براڈ وے پہنچ کر رکی۔ہوٹل براڈ وے سری نگر کا پرانا اور مشہور ہوٹل ہے اپنی لوکیشن اور خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کیلئے کشش رکھتا ہے یہ سری نگر کا واحد ہوٹل ہے جہاں غیرملکیوں اور غیر مسلموں کوآسانی سے شراب دستیاب ہوتی ہے ورنہ پورے کشمیر میں کھلے عام شراب کی فروخت پر پابندی ہے۔

ہوٹل پہنچنے پرہم نے اپنے میزبان وشال ملہوترا کو منتظر پایا۔ معلوم ہوا انھوں نے ہمارے لیے تین دن کی سیر و تفریح کا ایسا پروگرام ترتیب دیا ہے کہ سری نگر کی کوئی مشہور جگہ ایسی نہ ہو جس کی سیاحت اور مناظرسے ہم لطف اندوز ہوئے بغیر واپس چلے جائیں۔

دوپہر کا کھانا ہم نے ہوٹل ہی میں کھایا اور کشمیری کھانے کو ترجیح دی۔ مشہور کشمیری کھانا ’’گشتابہ ‘‘ کھا کر واقعی مزا آگیا۔ گشتابہ دیکھنے میں تو کوفتے کی طرح کاسالن ہے لیکن اس کو بنانے کی ترکیب بالکل مختلف ہے۔ یہ ٹماٹر کے مسالے کے علاوہ دہی میں بھی بنتا ہے۔ عموماً شادیوں اور اہم تقریبات میں پکایا جاتا ہے۔

کھانے سے فارغ ہوئے تو پروگرام کے مطابق وشال ہمیں اندرون شہر (جسے مِنّی پاکستان بھی کہا جاتا ہے) اور ڈل جھیل کی سیر کروانے لے گیا۔ اندرون شہر کی چھوٹی چھوٹی گلیاں اور پرانی عمارات دیکھ کر سری نگر کی پسماندگی کا اندازہ ہوا۔

ڈل جھیل جو کبھی خوبصورتی کی علامت تھی‘وہاں کوڑا کرکٹ اور غلاظت پھیلی دیکھ کر بہت دُکھ ہوا۔ ہوٹل اور گھر نما رہائشی کشتیوں (ہائوس بوٹ) کی تمام گندگی اور کچرا جھیل میں جاتا ہے جس کے باعث پانی کی سطح پردور دور تک کائی جمی ہوئی تھی۔ ہم بحیثیت مسلمان صفائی نصف ایمان پر یقین رکھتے ہیں‘ لیکن وہاں دگرگوں حالت دیکھ کر افسوس ہوا۔

ڈل جھیل کے سامنے واقع ریاض کبتہ کے گھر ہم کشمیری چائے سے لطف اندوز ہوئے۔ ریاض صاحب وشال کے والد کے دوست تھے اور وشال سے بہت محبت کرتے تھے ان دنوں اُن کا ایک بیٹا لندن سے سری نگر آیا ہوا تھا دوران گفتگو پتہ چلا کہ وہ پاکستان آنے کیلئے بے تاب تھا بلکہ اُس کی شدید خواہش تھی کہ اس کے والد اُس کی شادی کیلئے

دلہن کا انتخاب بھی پاکستان سے کریں ہم چاروں یہ جان کر مسکرائے بغیر نہ رہ سکے اور اُسے اس کی دلہن کے انتخاب میں مدد کرنے کا وعدہ کیا۔کشمیری گھروں کے ڈرائنگ روم یعنی بیٹھک میں زمین پر بیٹھنے کا رواج ہے۔ ہر گھر میں قالین اور گائو تکیوں کی سجاوٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔ صاحب خانہ اپنے گھر کے ساتھ مسجد تعمیر کروا رہے تھے جس کے عطیات وصول کرنے کی خاطر انھوں نے مائیک لگا رکھا تھا۔

گفتگو کے دوران ہی نماز مغرب کی آواز فضا میں گونجنے لگی۔ ہم نے نماز ادا کی۔نماز سے فراغت کے بعد اُن سے اجازت لے کر باہر نکلے تو ڈل جھیل میں چاند کے عکس نے اپنی طرف متوجہ کر لیا اور ہم چند لمحے اسی منظر کے سحر میں کھو گئے۔ عید کی وجہ سے دفاتر اور اسکولوں میں چھٹیاں تھیں جس کے باعث علاقے میں ٹریفک کے ساتھ ساتھ لوگوں کا ہجوم بھی تھا۔ لاہور کی طرح وہاں بھی لڑکے موٹر سائیکلوں پر ہلڑبازی کرتے‘ ون ویلنگ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ پولیس کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہمارے

میزبان بتانے لگے کہ پولیس اگر آ بھی جائے توکچھ نہیں کر سکتی کیونکہ کوئی اُس کی نہیں سنتا۔ اگر کبھی پکڑنے کی کوشش بھی کریں تو لڑکے مل کر پولیس پر پتھرائو کرنے لگتے ہیں۔کشمیری نوجوان حالات سے تنگ آ چکے ہیں آگے بڑھنے اور ترقی کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں بھارتی حکومت کی پالیسی کی وجہ سے سری نگر اور آس پاس

کے علاقوں میں کارخانے یا صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پڑھے لکھے افراد خصوصاً کشمیری مسلمانوں کو بھارت کے دوسرے شہروں میں ملازمتیں نہیں دی جاتیں اور انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لہٰذا زیادہ تر نوجوان غیرتعمیری سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں اور فرسٹریشن کا شکار نظر آتے ہیں آئے روز کسی نہ کسی ایشو کی وجہ سے سری نگر سمیت اہم شہروں میں حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے کرفیو لگا دیا جاتا ہے یا کشمیری رہنمائوں کی کال پر ہڑتال ہو جاتی ہے۔

رات کا کھانا ہم نے ایک ریستوران میں کھایا۔ پھر تاج ہوٹل جا کر قہوہ پیا اور بلندی سے ڈل جھیل کا نظارہ کرتے رہے۔ دن بھر کی سیاحت سے کافی تکان ہو گئی تھی لہٰذا ہوٹل پہنچ کر آرام کرنے کا سوچا کیونکہ اگلے روز گلمرگ کاپروگرام تھا۔
ایشیا کا سوئٹزرلینڈ

صبح ہم جلد بیدار ہو گئے اور گلمرگ جانے کے لیے نکل پڑے۔ گلمرگ کو ایشیا کا سوئٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ دو گھنٹے سفر طے کر کے ہم منزل مقصود پر پہنچ گئے۔ وہاں کا فطری حسن واقعی بہت ہی خوبصورت تھا۔ پہاڑوں پر جمی برف حسین منظر پیش کر رہی تھی۔ وہاں کی خاص چیز کیبل کار‘ گنڈولا (Gondola) سے ۱۴۰۰۰ فٹ بلندپہاڑ پر جانا ہے۔ راستے میں دو اسٹاپ آتے ہیں۔ موسم ناخوشگوار ہو تو دوسری منزل پر نہیںجا سکتے۔ اس قدر بلندی تک یہ کیبل کار فرانسیسی کمپنی کی مدد سے لگائی گئی اور سیاحوں کی بڑی تعداد روزانہ یہاں کے پرلطف مناظر دیکھنے کھنچی چلی آتی ہے۔

بلندی پر جانے کے لیے گھوڑے اور خچر بھی استعمال کیے جاتے ہیں یا پھر اپنی ٹانگوں کا امتحان لیناپڑتا ہے کہ آپ میں اب تک کتنا دم خم ہے۔ وہاں برف پر چلنے کے لیے خاص جوتے اور سردی سے بچائو کی خاطر جیکٹیں بھی کرائے پر دستیاب تھیں۔ خواتین نے تو پیدل ہی جانے کا فیصلہ کیا جبکہ میں اور شفیق عباسی گھوڑوں پر سوارہو گئے۔
پہاڑ پر چڑھنے کا ایک عجیب اور الگ ہی مزا ہے۔ گلمرگ میں برف پر اسکی انگ (Skiing)بھی سکھائی جاتی ہے۔ سردیوں میں بیرون ملک سے بے شمار لوگ وہاں ’’اسکی

انگ‘‘ اور سیر کرنے آتے ہیں اور خوب رونق رہتی ہے۔ وکرم صاحب کی بارہ سالہ بیٹی بھی اس کھیل کی ماہر ہے۔ وہ ہر سال ایک مہینے کے لیے (موسم سرما کی چھٹیوں کے دوران) تنہا وہاں رہتی ہے۔ بچوں کو اسکی انگ سکھانے کا بہترین انتظام ہے۔ کوچ بھی مہیا کیا جاتا ہے۔

کیبل کار سے واپسی کا سفر شروع کیا‘ تو خوبصورت مناظر نظرآئے۔ نیچے پہنچنے کے بعد مشہور ہوٹل خیبر میں کھانے کے لیے شیف کو پہلے ہی سے ہدایات دے دی گئیں تھیں۔ ہمارے میزبانوں نے اس ہوٹل کی بہت تعریف کر رکھی تھی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہمارے معیارِ ذائقہ پر پورا اترا۔ بقول اُن کے اگر وہاں سے کھانا کھائے بغیر واپس گئے تو پچھتائیں گے۔

ضلع بارہ مولا میں واقع پہاڑی مقام (ہل اسٹیشن) گلمرگ‘ سری نگر سے ۵۲ کلو میٹر دور واقع ہے۔ یہ ۸۸۲۵ فٹ کی بلندی پر آباد ہے۔ اس کے اردگرد پیرپنجال سلسلہ ہائے کوہ کے پہاڑ واقع ہیں۔ ان پہ موسم سرما میں خوب برف باری ہوتی ہے۔ پاک بھارت کی عارضی سرحد لائن آف کنٹرول گلمرگ کے نزدیک ہی ہے۔

کشمیری نوجوان گائیڈز کو جب یہ معلوم ہوا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں تو اُن کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔ وہ ہم سے پاکستان کی کوئی نشانی مانگنے لگے۔ میرے پاس بٹوے میں سو روپے کے چند پاکستانی نوٹ تھے جو میں نے اُن میں بانٹ دیے۔ انھوں نے ہمارے ساتھ بڑی محبت اور عقیدت سے تصویریں بھی بنوائیں۔ وہ پاکستان کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے تھے لیکن ہم نے احتیاطاً زیادہ گفتگو سے پرہیز کیا۔

کھانے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔ ماہ اگست میں سری نگر اور اس کے گرد و نواح میں اچھی خاصی گرمی تھی‘ میری اُمید سے بھی زیادہ۔ اسی لیے ہلکے پھلکے کپڑے ہی زیب تن کیے گئے۔
ہوٹل پہنچنے کے بعد ایک گھنٹا آرام کیا اور پھر سوچا کہ کچھ دکانیں دیکھ لی جائیں۔ وشال اپنے دفتر سے کام ختم کر کے سیدھا ہمارے پاس آگئے اور یوں ہم ان کی راہنمائی میں پولو مارکیٹ پہنچے۔ وہاں ملبوسات پہ کشمیری دست کاری کا کام دیکھ کر خواتین دنگ رہ گئیں۔ کام میں اتنی باریکی اور نفاست ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ کوئی شے

خریدنے کے لیے سودے بازی خوب کرنی پڑتی ہے۔ کچھ خریداری کر چکے تو یوشال کے قریبی دوست نریش کے گھر کی جانب روانہ ہوئے جنھوں نے ہمیں کھانے پر مدعو کر رکھا تھا۔ اُن کا اسکول و کالج کی کتابوں اور سٹیشنری کاہول سیل کاروبار تھا۔ اُن کا گھر اندرون شہر میں واقع ہے جہاں دن کو تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ تاہم رات کو بڑے آرام سے ہم گاڑی اُن کے دروازے تک لے گئے۔

امرتسر سے تعلق رکھنے والا یہ ہندو خاندان کئی دہائیوں پہلے یہاں آباد ہوا تھا ہمارا پاکستانی اور لاہوری ہونے کی وجہ سے میزبانوں نے بڑی خوش دلی سے ہمارا استقبال کیا۔ وہ مشترکہ خاندان میںرہتے ہیں۔ اُن کے چھوٹے بھائی کا خاندان اور والدہ بھی ساتھ ہی مقیم تھیں۔ بیٹھک میں وہی زمین پر بیٹھنے کا رواج تھا۔ آج پھر ہم کشمیری کھانوں سے محظوظ ہوئے۔ کشمیر میں چاول بہت زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں لیکن باسمتی نہیں۔ کشمیری خاص چاول پکاتے ہیںجو لمبا تو اتنا نہیں لیکن چوڑا زیادہ ہوتا ہے۔ کھانے کے دوران کشمیر

اور پاکستان کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی اور ہمیں ایک ہندو خاندان کے خیالات جاننے کا موقع ملا اس کے باوجود کہ وہ ہندو تھے خاندان کے تمام لوگ صدیوں پرانی کشمیری شناخت قائم رکھنا چاہتے تھے ان کا رہن سہن کشمیری مسلمانوں کی ہی طرح تھا لباس شلوار قمیض کھانا پینا سب کشمیری مسلمانوں جیسا تھا وہ بتا رہے تھے کہ وہ یعنی ہندو اور مسلمان صدیوں سے یہاں کشمیر میں اکٹھے رہ رہے ہیں اور کبھی ہمارے درمیان تصادم یا فسادات نہیں ہوئے اور اس کی بنیادی وجہ صوفی بزرگ شاہ ہمدان جو ایران

سے کشمیر تشریف لائے تھے کی تعلیمات اور تربیت ہے شاہ ہمدان نے ۲۴ ہزار لوگوں کو مسلمان کیا اور تمام مذاہب کے لوگوں سے رواداری اور بہتر سلوک کی تربیت دی وہ اپنے ساتھ ۷۰۰ سو لوگ لائے تھے جو اپنے اپنے شعبوں کے ماہر تھے جنہوں نے کشمیر کے عوام کو متعدد ہونا سیکھا جس میں قالین بافی‘ پیپر ماشی اور فرنیچر پر کارونگ وغیرہ شامل ہیں یہی وجہ کہ کشمیر میں کوئی کشمیری بیکاری نظر نہیں آتا ہر کوئی ہنر مند ہے اور اپنے گزر بسر کیلئے روزی کما لیتا ہے۔ غریب سے غریب کشمیری کا بھی اپنا گھر ہے ۔ہم آج اتنا تھک چکے تھے کہ کھانا کھاتے ہی وہاں سے نکل پڑے۔

صحت افزا مقام… پہلگام
یہ طے پایا تھا کہ نریش ہمارے ساتھ پہلگام چلیں گے جو سری نگر سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ عباسی صاحب نے اُن کی والدہ سے درخواست کی کہ ہمیں کچھ پراٹھے اور اچار ہمراہ دے دیں۔ صبح ۹ بجے نکلنے کا وقت طے پایا۔ ہم صبح صبح تیار ہو کر ہوٹل کی لابی میں بیٹھ گئے لیکن پراٹھوں نے دیر کروا دی۔ نریش پراٹھوں کے ساتھ ساتھ آلو کی بھجیا‘ پنیر کا سالن‘ اچار اور برتن غرض کھانے کے لیے ضروری ہر شے ساتھ لے کر آئے۔

ضلع اننت ناگ میں واقع صحت افزا پہاڑی مقام‘ پہل گام‘ سری نگر سے ۸۷ کلومیٹر دور ہے۔ یہ دریائے لدر کے کنارے واقع ہے۔ یہ دریائے جہلم کا معاون دریا ہے۔ پہل گام کے اردگرد واقع میدان اور پہاڑ موسم گرمامیں سبزے اور رنگ برنگ پھولوں سے بھر جاتے ہیں۔ تب دنیا بھر سے سیاح قدرتی دلکشیوں کا نظارہ کرنے پہلگام آتے ہیں۔
پہلگام سے ۱۶ کلومیٹر دور چندن واڑی نامی مقام واقع ہے۔ وہیں سے ہندو ’’امرناتھ یاترا‘‘ کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ ۳۰ کلومیٹر طویل یاترا ایک غار میں واقع امرناتھ مندر جا کر ختم ہوتی ہے۔ ہندومت میں یہ مندر بڑا پوتر (مقدس) سمجھا جاتا ہے۔

ہم طویل سفر طے کر کے بخیر و عافیت پہلگام پہنچے۔ راستے میں مشہور مقامات‘ اسلام آباد اور اننت ناگ دیکھے۔ رستے میں جگہ جگہ بھارتی فوج چار چار کی ٹولیوں میں سڑک کے دونوں اطراف موجود تھی جو کشمیر کی کشیدہ صورت حال کا واضح اشارہ تھا گو کہ ان دنوں حالات نسبتاً بہتر تھے لیکن یاترا کے مسئلہ کی وجہ سے حالات بگڑنے کا خدشہ موجود تھا شاید یہی وجہ تھی کہ بھارتی فوج بڑی تعداد میں تعینات تھی۔ نماز جمعہ پہلگام کی مسجد میں پڑھی۔ وضو گاہ تلاش کے باوجود نظر نہ آئی اور بیت الخلاء کا

برا حال تھا مسجد کے ساتھ ہی دریا بہہ رہا تھا دو کشمیری نوجوان مجھے پتھروں پر چلاتے دریا کے کنارے لے گئے میں نے دریا کے بہتے ٹھنڈے پانی سے وضو کیا اور اللہ کا شکر ادا کیا کیا خوبصورت منظر تھا سامنے اونچے سرسبز پہاڑ بہتا دریا اور دور تک دریا کے کنارے پتھر۔۔۔ مسجد نمازیوں سے کچھا کھچ بھر چکی تھی مسجد کے ہال کے باہر برآمدے میں جگہ ملی قالین اور دریوں کی حالت بتا رہی تھی کہ صفائی کا نظام ناقص ہے پتہ نہیں ہم مسلمان جن کے ایمان کا نصف صفائی ہے اس کا خیال کیوں نہیں رکھتے

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صفائی کی بڑی تاکید کرتے اس کے مقابلے میں سکھوں کے گردوارے نہایت صاف ستھرے اور اس کا انتظام بہترین دیکھا گیا۔ نماز کے بعد وہ دونوں کشمیری نوجوان مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے آ ملے وہ پاکستان کے بارے میں جاننا چاہتے تھے اور کوئی پاکستانی نشانی بھی چاہتے تھے ہم نے آپس میں ای میل اور وائٹس اپ کا تبادلہ کیا اور رابطہ رکھنے کا وعدہ کیاان کا تعلق آئی ٹی کے شعبے سے تھے وہ دیر تک پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے رہے کچھ دیر قیام کرنے کے بعد ہم آدھ

گھنٹے کی مسافت پر بیتاب وادی کی طرف رواں دواں تھے۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ وادی کا نام بیتاب اس لیے رکھا گیا کہ وہاں بیتاب نامی فلم کی شوٹنگ ہوئی تھی۔ بیتاب فلم ۵؍اگست ۱۹۸۴ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اسے ہندی سینماکی تاریخ میں رجحان ساز سمجھا جاتا ہے کہ اس نے جدید رومانی فلموں کی داغ بیل ڈالی۔ اس فلم کی کہانی‘ شبانہ اعظمی کے شوہر جاوید اختر نے لکھی۔ یہ امرتاسنگھ کی پہلی فلم تھی جس کی سیف علی خاں سے شادی بھی ہوئی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ دھرمیندر کے بیٹے سنی دیول کی بھی یہ پہلی فلم تھی۔ وادی بیتاب ہی میں ’’راک اسٹار‘‘ فلم کی شوٹنگ بھی ہوئی۔

وہاں ایک جھیل کے کنارے چادر بچھا کر دوپہر کا کھانا کھایا۔ یہ وادی پہلگام سے پندرہ کلومیٹر دور واقع ہے۔ وادی میں ہرے بھرے گھاس کے میدان کثرت سے ہیںجنھیں دیکھ کر آنکھوں کو تقویت ملتی ہے۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا کیونکہ رات کو ہمیں راکیش صاحب کے گھر کھانے پر جانا تھا۔ موسم وہاں بہتر تھا بلکہ دوران سیاحت شال اوڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

راستے میں طے پایا کہ اسی علاقے میں واقع چھے ہزار سال پرانا مندر بھی دیکھ لیں۔ نجانے کیوں وہ نہایت پراسرار محسوس ہوا۔ ہم ٹھیک آٹھ بجے ہوٹل پہنچے اور ساڑھے آٹھ بجے راکیش ہمیں لینے آ گئے۔

وشال کو بھی ہم نے وہاں پہنچنے کا پیغام بھجوا دیا۔ اُن کے چھوٹے بھائی وکرم جو امرتسر سے اسی دن آئے تھے‘ وہ بھی ہمراہ آگئے۔ کھانے میں تمام ڈشیں گوشت سے بنی تھیں۔ ایک حیران کن بات یہ کہ راکیش کی بیگم سبزی خور ہیں لیکن گوشت والے سارے کھانے انھوں نے اپنے ہاتھ سے بنائے۔ عموماً سبزی خور کسی بھی قسم کے گوشت کو ہاتھ تک نہیں لگاتے۔

کھانے پرہماری ملاقات دور درشن (ٹیلی ویژن) کے ایک سابقہ پروڈیوسر‘ قیوم ودیراسے ہوئی۔ انھوں نے اپنی ملازمت کے دوران پیش آنے والے دل خراش واقعات ہم سے بیان کیے۔ کہنے لگے‘ میں بھارت کا شہری ہوں اور مجھے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے لیکن کچھ کشمیریوں کو میرا دور درشن میں کام کرنا پسند نہیں تھا۔ وہ اس حوالے سے مجھے تنگ کرتے رہتے۔ کئی دفعہ رات کے وقت دروازے پر دستک ہوتی اور تین چار مشٹنڈے میرے ڈرائنگ روم میں گھس جاتے اور دھمکیاں دینے لگتے۔پھر ہزار، پانچ سو

روپے لے کر رخصت ہوتے۔ کئی دفعہ انھیں پکڑ کر مارا گیا۔ اُن کے خیال میں کشمیر کے اندر مسلح جدوجہد کرنے والے لوگوں کو باہر خصوصاً عرب ممالک سے مالی مدد ملتی ہے۔ اِن حالات میں انھیں سری نگرچھوڑکر دہلی جانا پڑا۔ وہاں انھوں نے ’’میری بات‘‘ کے نام سے دور درشن پر بچوں کا ایک پروگرام شروع کیا جس کی سات سو کے قریب قسطیں آ چکی ہیں۔ یہ بھارتی قومی ٹیلی ویژن کے مقبول ترین پروگرام کا درجہ رکھتا ہے ۔اس پروگرام میں بچے اپنے مسائل پر کھل کر گفتگو کرتے اور آخر میں میزبان اور مہمان اس مسئلے کا حل بتاتے لیکن شرکاء پر حل تھوپا نہ جاتا بلکہ اُن کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا یوں نوجوان آزادی سے گفتگو کرتے مثلاً فاسٹ فوڈ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کے نقصانات جیسے موضوعات۔

میں نے ان سے کشمیری نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق سوال کیا‘ تو کہنے لگے کہ شروع میں کشمیرکے حالات خراب نہ تھے۔ نہرو نے مسئلہ کشمیر کے حل کا وعدہ کیالیکن اُس نے مسئلے کو لٹکائے رکھا جس سے نوجوانوں کے دلوں میں رنجش پیداہوگئی کہ بھارت اُن سے دھوکا کر رہا ہے۔ پھر لوگوں کے درمیان معاشی خلیج بھی کافی بڑھ چکی تھی۔ غریب نوجوان جب امیروں کے بڑے بڑے گھر اور بنگلے دیکھتے‘ تو ان کے اندر نفرت کے جذبات ابھرنے لگتے۔

جب کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہوئی تو اس میں بھی بہت سے جرائم پیشہ لوگ شامل ہو گئے۔ وہ تحریک کی آڑ میں لوگوں سے بھتہ وغیرہ لینے لگے۔ انھوں نے بتایا کہ آج بھی مودی حکومت جموں اور لداخ کی ترقی کی بات تو کرتی ہے اوروہاں پربڑے بڑے پروجیکٹ لگائے جا رہے ہیں لیکن وادی کے لوگوںکو حالات کے رحم و کرم پر ہی چھوڑا ہوا ہے۔

قیوم ودیرا کے مطابق بھارتی حکومت کی لداخ پرخاص توجہ کے پیچھے وہاں چین کابڑھتا ہوا اثر ہے۔ لداخ کے باشندے بھارت سے زیادہ چین سے قربت محسوس کرتے ہیں۔ وہاں اکثر مصنوعات پر ’’میڈاِن چائنا‘‘کی بھرمارنظر آتی ہے۔اسی خطرے کی بو پا کر مودی فوری طورپرلداخ کی طرف متوجہ ہوا ہے۔
یہ سبھی معلومات ہمیں راکیش کے گھرکھانے کے دوران ملیں۔ بہرحال کھانے بھی خوب مزے کے تھے۔ طعام سے فارغ ہو کر ہم نے رخصت لی۔ اس طرح جمعتہ المبارک کا دن خیر و عافیت سے اختتام کو پہنچا۔

ہفتے کا دن ہم نے سری نگر میں گھومنے اور خریداری کے لیے مختص کر رکھا تھا۔ لیکن اطلاع ملی کہ ہفتے کو ہڑتال کااعلان ہواہے۔ چناںچہ نیا پروگرام دوبارہ سے وشال اور وکرم نے مل کر بنایا۔ وکرم ٹھیک دس بجے ہمیں لینے پہنچ گئے۔ طے پایا تھا کہ جہاں راستے بند ہیں اور پتھرائو ہو رہا ہے‘ وہاں اگلے دن پاکستان روانگی سے قبل جایا جائے۔
درگاہ حضرت بل

ہمارے ہوٹل سے درگاہ حضرت بل کا راستہ ڈل جھیل کے گرد چکر لگاتے ہوئے طے ہوا۔ راستے میں سب سے پہلے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا گھر آیا۔ عمر عبداللہ شیخ عبداللہ کا پوتا ہے جنھیں مقامی کشمیری شیر کشمیر کے لقب سے بھی یاد کرتے ہیں۔ شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس طویل عرصے سے کشمیر میں اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھی ہوئی ہے ۔ شیخ عبداللہ کے بعد فاروق عبداللہ نے اپنے والد کی سیاسی گدی سنبھالی۔ بعدازاں ایک وسیع و عریض جائداد اسی روڈ پر مہاراجا کڑک سنگھ کی تھی جسے اس کی اولاد تیزی سے بیچ رہی ہے۔ باداموں کے پیڑوں سے ڈھکی ایک گرین بیلٹ کے ساتھ ہی للِٹ ہوٹل کی پرشکوہ عمارت تھی۔ تھوڑا سا آگے بڑھے تو پتا چلا کہ ہم گورنر ہائوس کے آگے سے گزر رہے ہیں۔

گورنر ہائوس کو یہاں راج بھون کہا جاتا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر تین خطوں… جموں‘ وادی کشمیر اور لداخ پر مشتمل ہے۔ سری نگر ریاست کا سرمائی دارالحکومت جبکہ جموں گرمیوں کا دارالحکومت ہے۔ آج کل راج بھون میں شری این این ووہرا ریاستی گورنر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ہمارا حضرت بل کی جانب سفر جاری تھا۔ ایک طرف ڈل جھیل اور دوسری جانب اہم سرکاری اور نجی عمارتیں‘ خوبصورت فطری مناظر اور مغلیہ عہد کی نشانیاں جیسے چشمہ شاہی ٗ پری محل اور نشاط باغ ہمیں اپنی طرف متوجہ

کررہے تھے۔ ہمیں حضرت بل کا سفر ہزار داستان محسوس ہوا۔ ایک سے بڑھ کر ایک منظر اپنی طرف متوجہ کررہا تھا۔ ایک جگہ سڑک پر نصب بڑے سے بورڈ پر محبوبہ مفتی کی تصویر اور ان کی جماعت کا نعرہ نظر آیا محبوبہ مفتی کشمیر کی منتخب نمائندہ ہیں ان کے بارے میں زبان زدعام ہے کہ ان کے اپنے شوہر سے تعلقات کشیدہ رہے اور ایک

روز ان کے شوہر نے محبوبہ کا ایک کان ہی اپنے دانتوں سے چبا ڈالا۔ تصویر میں محبوبہ وہ کان اپنی چادر میں چھپاتے نظر آتی ہے ہم چاروں کو یہ واقعہ بڑا عجیب لگا خاتون سے ایسا سلوک آج کے دور میں۔۔۔ محبوبہ مفتی‘ مرحوم مفتی محمد سعید کی صاحبزادی ہیں جو انڈیا کے ہوم منسٹر اور جموں وکشمیر کے چیف منسٹر بھی رہے۔ محبوبہ مفتی جموں وکشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ ہیں۔

نشاط باغ سے آگے گزرے تو ہمیں بتایا گیا کہ باغ کی پچھلی سمت واقع پہاڑ کے پیچھے ڈاچی گام نیشنل سفاری پارک پھیلا ہواہے۔ اس میں خاص طور پر کشمیری بارہ سنگھوں کی قدرتی ماحول میں پرورش کی جاتی ہے۔ اگر صبح سویرے چار بجے ادھر جایا جائے تو ان کے غول کے غول چرتے ملیں گے۔ ڈاچی گام کا مقامی زبان میں مطلب ہے ’’دس گائوں۔‘‘ اصل میں اس پارک کو بنانے کے لیے یہ گائوں یہاں سے منتقل کیے گئے تھے۔ یہ پارک ۱۴۱ مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ ۱۹۱۰ ء میں مہاراجا جموں و کشمیر نے بنوایا اور اس کا مقصد سری نگر شہر کو صاف پانی مہیاکرنا تھا۔ بعد میں ۱۹۸۱ ء میں اسے نیشنل پارک کا درجہ دے دیا گیا۔

راستے میں ایک کشمیری چھلیاں (بھٹے) بیچ رہا تھا جنھیں ہم خریدے بغیر نہ رہ سکے۔ ہمیں بتایا گیا کہ چندر کوٹ کی چھلیاں اپنے منفرد ذائقے اور مٹھاس کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔ ہمارے سامنے ایک بہت بڑی گرین بیلٹ تھی جس میں چنار کے درخت قطار در قطار دعوت نظارہ دے رہے تھے۔ اس جگہ کا اصل نظارہ ستمبرسے اکتوبر کے درمیان موسم خزاںمیں دیکھنے والا ہوتا ہے۔ تب درختوں کے زرد پتے جھڑنے کے بعد زمین پر قالین کی طرح بچھ جاتے ہیں۔ آنجہانی اندرا گاندھی خاص طور پر ان پُرکیف لمحات کا لطف اٹھانے وہاں آتی تھیں۔ چنار کے درختوں سے میرا ذہن شیخ عبداللہ کی سوانح حیات ’’ آتش چنار ‘‘ کی طرف چلا گیا۔

درگاہ حضرت بل سے کچھ پہلے ڈل جھیل کے مغربی کنارے پر ۲۶۳ ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی یونیورسٹی آف کشمیر کا قابل دید کیمپس واقع ہے۔ آخر کار ہم اپنی منزل مراد حضرت بل پہنچ گئے۔پہلے درگاہ میں موجود مزارات پر فاتحہ پڑھی۔درگاہ کے باہر کبوتروں کاجھنڈ غٹرغوں کر رہا تھا‘ اُنھیں دانہ ڈالا۔ اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی۔ یہاں پر صفائی کا نظام بہت عمدہ تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو بھی حضرت بلؒ سے عقیدت و احترام کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم سے پہلے وکرم سر ڈھانپ کر مزار میں داخل ہوئے۔ وہاں میں نے ہندو عورتوں کو بھی عقیدت و احترام کا اظہار کرتے دیکھا ۔

موئے مبارک کی تاریخ
سری نگر کے مرکز سے دس کلو میٹر دور حضرت بل کا تاریخی علاقہ پھیلا ہوا ہے۔ یہیں مغلوں کے تعمیر کردہ عالی شان باغات موجود ہیں۔ لیکن علاقے کو شہرت ۱۷۰۰ء کے بعد ملی جب وہاں درگاہ حضرت بل تعمیر ہوئی۔ ’’بل‘‘ کشمیری زبان میں جگہ کو کہتے ہیں۔ لہٰذا حضرت بل کے لغوی معنی ہیں:محترم و مقدس جگہ۔
روایت ہے کہ ۱۶۳۵ء میں نبی کریم ﷺکی اولاد میں سے سید عبداللہ ہندوستان آئے۔ ان کے پاس آپؐ کا ایک موئے مبارک بھی تھا۔ جسے بعدازاں مرحوم کے فرزند‘ سید حامد نے ایک امیر کشمیری تاجر‘ خواجہ نور الدین ایشائی کو فروخت کر دیا۔

۱۷۰۰ء میں خواجہ صاحب کی دختر‘ عنایت بیگم نے ایک عمارت تعمیر کرائی اور وہاں موئے مبارک محفوظ کر دیا۔ رفتہ رفتہ ان کے اہل خانہ وہاں دفن بھی ہونے لگے۔ چناںچہ عمارت کو درگاہ حضرت بل کہا جانے لگا۔ یہ وادی کشمیر میں سب سے مقدس اسلامی عمارت سمجھی جاتی ہے۔

درگاہ حضرت بل میں ہمارے لیے بھی سب سے بڑی کشش آنحضرت ﷺ کے موئے مبارک کی زیارت تھی۔ درگاہ کے متولی محمد علی نے بتایا کہ موئے مبارک کی زیارت پورے سال میں دس مرتبہ کروائی جاتی ہے۔ پھر اسے حفاظت کے ساتھ پولیس کے سخت پہرے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ ان ایام کے علاوہ اس مبارک تبرک کو کھولا نہیں جاتا۔ اس سال پہلی مرتبہ ۱۸؍فروری کو عیدمیلادالنبی کے موقع پر تین دن موئے مبارک کی زیارت کروائی گئی۔ پھر ۲۷ مئی کو شب معراج پر تین دن کے لیے عامتہ الناس اس کی زیارت سے فیض یاب ہوئے۔تیسری مرتبہ ۲۰جولائی کو اکیس رمضان میں پھر ایک بار موئے مبارک کی زیارت کروائی گئی اور اب آئندہ ستمبر میں ایک دن کے لیے زیارت ہونی تھی۔ درگاہ حضرت بل میں موجود یہ موئے مبارک نبی کریم ﷺ کی ڈاڑھی مبارک کا ہے۔ لہٰذا زیارت کی حسرت دل میں لیے وہاں سے رخصت ہوئے۔

اب ہماری اگلی منزل نگین جھیل تھی جہاں وکرم کے بڑے بھائی ہمارے منتظر تھے۔ نگین جھیل ڈل جھیل ہی کا حصہ ہے‘ دونوں جھیلیں ایک نالے جیسی گزرگاہ سے ملی ہوئی ہیں‘ اسی لیے نگین کو علیحدہ جھیل سمجھا جاتا ہے۔ یہ ڈل کے مقابلے میں کہیں زیادہ صاف ستھری ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اِس کی صفائی رہائشی کشتیوں اور شکارے والوں نے اپنے ذمے لے رکھی ہے۔

رہائشی کشتیاں
ڈل جھیل کے کنارے جا بجا رہائشی کشتیاں لنگرانداز ہوتی ہیں۔ ان کشادہ کشتیوں پر مستقل قیام کرنا بھی ممکن ہے۔ اسی لیے ڈل کی بیشتر رہائشی کشتیاں اب ہوٹل بن چکیں۔ یہ مقامی دیودار کی لکڑی سے بنتی ہیں۔

کشتی کی لمبائی ۷۹ تا ۱۲۵ فٹ اور چوڑائی ۸ئ۹ سے ۷ئ۱۹ فٹ تک ہوتی ہے۔ ہر کشتی میں قیام و طعام کا بہترین انتظام ہوتا ہے۔ کشتی ایک شکارا (یا چھوٹی کشتی) بھی رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے مہمان ساحل پر آتے جاتے ہیں۔

وہاں پہنچے تو وشال کے ساتھ اُن کے چند دوست احباب نے ہمار اپرتپاک استقبال کیا۔ ہم نے کشتی پہ جھیل کی سیر کی اور ایک رہائشی کشتی (House Boat) اندر سے دیکھی۔ اِن رہائشی کشتیوں میں گرمی کے باعث مچھر بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے وشال اور وکرم نے ہمیں وہاں قیام نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اِن میں ائیرکنڈیشن کا بھی کوئی انتظام نہیں ہوتا‘ بمشکل پنکھے ہوتے ہیں۔ وہاں میری توقع سے زیادہ گرمی تھی۔ اگرچہ شام کو موسم نسبتاً بہتر ہو جاتا۔ رہائشی کشتی تین کمروں پر مشتمل تھی۔ کشادہ غسل خانے‘ وسیع

ڈائنگ ہال اور باورچی خانہ جس میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ آپ چاہیں تو پوری رہائشی کشتی بُک کرائیں یا صرف ایک کمرا ۔ کرایہ فی کمرا ۳۵۰۰ روپے ماہانہ تھا۔
سری نگر کے باسیوں کی معاشرتی‘ معاشی اور ثقافتی زندگی میں ڈل جھیل کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ زمانہ قدیم میں یہاں کشتیاں ہی آمد و رفت کا بنیادی ذریعہ تھیں۔ آج بھی شہری جھیل میں مچھلیاں پالتے اور سیاحوں کو کشتیوں کی سیر کرا کے روزی کماتے ہیں۔ جھیل میں ’’تیرتی سبزی منڈی‘‘ سیاحوں کو اُچھوتے مناظر دکھاتی ہے۔

یہ جھیل۲۲ مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ لمبائی ۴۴ئ۷ کلومیٹر جبکہ چوڑائی ۵۰ئ۳ کلو میٹر ہے۔ بیشتر مقامات پر اس کی گہرائی ۷ئ۴ فٹ ہے۔ تاہم وسط میں گہرائی ۲۰ فٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ موسم سرما میں جھیل منجمد رہتی ہے۔ جبکہ گرمیاں شروع ہوتے ہی سائبیریا اور وسطی ایشیا سے ہمہ رنگ پرندے یہاں آ کر قیام کرتے ہیں۔

شادی کی تقریب میں شرکت
جھیل سے واپس آ کر ہم نے کشمیری چائے اور قہوے سے اپنی تکان اُتاری۔ دوپہر کو ایک کشمیری شادی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ شہر کے کچھ علاقوں میں کرفیو نافذ تھا‘ اس لیے شادی والے گھر تک پہنچنے میں کچھ وقت لگ گیا۔ کچھ دور اندیشوں کی رائے تھی کہ ہمیں نہیں جانا چاہیے لیکن ایسی نادر تقریب دیکھنے کا موقع پھر کب ملتا؟ لہٰذا کسی چیز کی پروا کیے بغیر وہاں جانے پر اتفاق ہو گیا۔ وہاں پہنچے تو گاڑیوں کا ہجوم نظر آیا‘ کچھ ہی دیر میں کھانا شروع ہونے والا تھا۔ شادی سری نگر کے ایک بڑے تاجر کے ہاں تھی۔

آج رات مہندی کی رسم تھی۔ دوپہر میں صرف مرد حضرات کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ ایک بڑے تھال میں چاولوں کے اوپر خشک گوشت کی ڈشز ہوتی ہیں۔ باقی سالن بعد میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک اچھی بات یہ دیکھی کہ جب تک سب کو کھانا مل نہ جائے‘ کوئی تناول نہیں کرتا۔ سب اکٹھے کھانا شروع کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو کھانا بعد میں لگتا ہے اور کھانے والے پہلے ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کشمیریوں کی یہ اخلاقی قدر بھی بہت بھائی کہ جو بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہے‘ وہ کھانے میں آپ کے ساتھ زمین پر بیٹھے گا‘ چاہے وہ امیر ہو یا

غریب‘ گورا ہو یا کالا!۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہماری تھالی میں ایک نئی ڈش ڈال دی جاتی ہر ڈش ذائقے میں لاجواب تھی ہم جو لاہور میں شہباز شریف کی مہربانی سے ون ڈش کے عادی ہو چکے ہیں کچھ ہی دیر بعد اپنی شکست کا اعلان کر بیٹھے لیکن میزبان تھے کہ انکار کے باوجود ہماری تھالی کشمیری کھانوں کی مختلف انواع سے بھرتے جا رہے تھے سلاد‘ دہی‘اچار‘ چمچ‘ چھری اور ٹشو پیپر سب ایک علیحدہ پیکٹ میں موجود تھا ہر فرد کیلئے ایک ایک پیکٹ دیا گیا تھا۔ میں نے کھانے بعد میزبان سے کھانے کی

تعریف کی انھوں نے مجھے بتایا کہ شادی بیاہ کے موقع پر کھانا پکانے والے خصوصی لوگ ہوتے ہیں گوشت بنانے سے لے کر مصالحہ کی تیاری گھر سے باہر شامیانوں کے زیرسایہ ہو رہی تھی ایک تھالی جسے چار افراد کھاتے ہیں کی تیاری پر لگ بھگ چار سے پانچ ہزار بھارتی روپے خرچ ہوتے ہیں تقریباً پندرہ ڈشوں پر مشتمل یہ کھانے تمام رات تیار ہوتے ہیں۔ عام طور پر شادی بیاہ کے فنگشن دن ہی میں کئے جاتے ہیں عام سے عام آدمی بھی چھے سے سات کھانے ضرور اپنے مہمانوں کو کھلاتا ہے یہ کشمیری

رسم ورواج کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ جتنا امیر ہو گا اتنی ہی ڈشیں زیادہ ہوگی لیکن کھانے کا انداز اور ترتیب ایک طرح … سب لوگ فرش پر ہی بیٹھتے ہیں چار افراد مل کر ایک تھالی میں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہیں۔

خواتین کو اگلے دن یعنی بارات کی دوپہر کھانا کھلایا جاتا ہے۔ مہندی میں صرف گھر کی چند خواتین شامل ہوتی ہیں۔ جب ہم اندر گئے تو وہاں چند بچیاں ڈھولک بجا کر کشمیری زبان میں گانے گا رہی تھیں۔ اُن کا ڈھولک بھی ہماری ڈھولکی سے مختلف تھا جیسے ستار ہوتا ہے لیکن پچھلا ڈنڈا بہت لمبا نہیں تھا۔ اُسے ایک ہاتھ سے بجاتے ہیں۔ایک عجیب بات یہ دیکھی کہ بارات میں صرف مرد حضرات آتے ہیں اور محض دو یا تین خواتین اُن کے ہمراہ ہوتی ہیں۔
پری محل کی سمت سفر
شادی سے فارغ ہو کر اگلی منزل کے لیے رواں دواں ہوئے۔ وکرم کے بس میں ہوتا تو آج سری نگر کا کوئی کونا ہمیں دکھائے بغیر واپس نہ جانے دیتے۔ شام کو ۵ بجے ہمیں کشمیر چیمبر آف کامرس کی میٹنگ میں پہنچناتھا۔ چار بج چکے تھے اور ایک گھنٹے میں ہمیں پری محل اور چشمہ شاہی کی سیر کر کے واپس آنا تھا۔ یہ اب وکرم کی ڈرائیوری کا بھی امتحان تھا کہ ہمیں اونچائی پر جلد پہنچاتے اور واپس لے آتے۔ راستہ بہت خوبصورت تھا۔ ایک تنگ سی سڑک دائیں بائیں استادہ درختوں میں سے گزر رہی تھی۔ قدرتی مناظر سے مالامال اس سفر سے ہم لطف اندوز ہوئے مگر وقت پر پہنچنے کی فکر بھی تھی۔

خیر ہم بخیر و خوبی پری محل پہنچے۔ ٹکٹ خریدی اور ایک چکر لگایا۔ تصویریں اُتاریں۔ وہاں کشمیری لباس میں ملبوس خواتین اور بچے تصویریں بنوا رہے تھے۔ دل تو میرا بھی چاہا کہ کشمیری لباس پہن کر ایک یادگار تصویر بنوا لی جائے لیکن وقت کی کمی نے ایسا کرنے سے باز رکھا۔

سری نگر زبروان نامی سلسلہ ہائے کوہ کے دامن میں آباد ہے۔ اسی سلسلے کے ایک پہاڑ پہ شاہجہان کے فرزند‘ داراشکوہ نے ۱۶۵۰ء میں ایک خوبصورت باغ بنوایا جو اب پری محل کہلاتا ہے۔ وہاں سے سری نگر اور ڈل جھیل کا بہترین نظارہ کرنا ممکن ہے۔ یہ باغ آٹھ دالان رکھتا ہے۔داراشکوہ یہاں اساتذہ کے ساتھ علم فلکیات سیکھتا تھا۔
واپسی پہ چشمہ شاہی رکے، یہ باغ مغل بادشاہ شاہ جہان کے گورنر علی مردان نے ایک قدرتی چشمے کے گرد ۱۶۳۲ء میں تعمیر کروایا۔ اس کا رقبہ تقریباً ایک ایکڑ کے قریب

ہے۔ چشمے کا پانی بہت ٹھنڈا اور لذیذ تھا۔ پی کر ساری تکان دور ہو گئی۔ ایک روایت کے مطابق چشمہ شاہی شاہ جہان نے اپنے سب سے بڑے بیٹے دارا شکوہ کے لیے تعمیر کروایا تھا۔چشمے کا پانی پیا ٹھنڈا اور میٹھا پانی پی کر ہم سب تازہ دم ہو گئے یقینا پانی میں کوئی خاص بات تھی۔
چشمہ شاہی سے نکل کر ہم چیمبر آف کامرس کی طرف روانہ ہوئے اور خواتین کو ہوٹل بھجوا دیا۔ سری نگر چیمبر آف کامرس پہنچے توسابقہ صدر‘ رئوف احمد پنجابی نے موجودہ صدر کے ہمراہ ہمارا استقبال کیا۔ رسمی سلام دعاکے بعدمیں نے اُن سے سوال کیاکہ آج کل حالات میںکشمیر کی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ سری

نگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو بھی سرمایہ آ رہا ہے‘ وہ صرف جموں تک ہی آتا ہے۔ یہاں کے غیریقینی حالات کے سبب کوئی اِدھر سرمایہ کاری کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔
انھوں نے معاشی ترقی کے حوالے سے کشمیر کو تین ادوار میں تقسیم کیا۔ پہلادور ۱۹۴۷ء سے ۱۹۷۵ء تک کا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب کشمیر کا بھارت سے الحاق ہوا تو یہاں کے مسلمانوں نے اس پر سخت احتجاج کیا اور ایک گوریلا جنگ شروع ہو گئی۔ چناں چہ کشمیر کے کچھ حصے پاکستان کے پاس چلے گئے۔ بھارت نے استصواب رائے کرانے کا وعدہ کیا تویہ جنگ ختم ہوئی۔ کشمیر کو بھارتی آئین میں خصوصی درجہ دے دیا گیا۔ نہرو نے وعدہ کیا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت عمل کیا جائے گا۔ اس دور میں کشمیر کے اندر کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ مالدار لوگ اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں مسئلہ کشمیر کا کیا حل نکلتا ہے۔

دوسرا دور ۱۹۷۵ء سے ۱۹۸۹ء تک کا ہے۔ اس دور میں شیخ عبداللہ کا اندرا گاندھی سے معاہدہ ہو گیا۔ یوں کشمیر کو بھی بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح دیکھا جانے لگا اور وہاں وزیراعظم کی جگہ وزیراعلیٰ نے لے لی۔ اس دور میں بیرونی سرمایہ کاری نے کشمیر کارخ کیا۔ بڑے بڑے ہوٹل بنے اور کارخانے لگے‘ تو لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے کھل گئے۔

تیسرا دور ۱۹۸۹ء سے ۲۰۱۴ء تک محیط ہے۔ اس دوران کشمیر میں آزادی کی مسلح جدوجہد شروع ہوئی۔ اس دور میں پھر سرمایہ کاری کے حوالے سے جمود طاری ہو گیا ہے۔ ۲۰۰۸ء میں من موہن سنگھ اور آصف علی زرداری نے لائن آف کنٹرول پرتجارت اور مظفر آباد سری نگر بس سروس کا معاہدہ کیا۔ اس سے امید کی کرن روشن ہوئی کہ چلو کوئی نئی منڈی تو ملی۔ اب راولپنڈی سے تجارت ہو گی۔

اس سلسلے میں پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل فارن ٹریڈ سے سفارت خانے میںملاقات ہوئی۔ انھیں بتایا کہ ابھی تک صرف اشیا کے تبادلے کی حد تک تجارت ہو رہی ہے اوروہ بھی کافی کم ہے۔ ہم نے انھیں کہا: ’’آپ اشیائے تجارت کی تعداد‘ بھارت کے ساتھ تنازعات ضرور سامنے رکھیں لیکن تجارت کو بھی بڑھائیں۔ اسے واہگہ بارڈر پر ہونے والی بین الاقوامی تجارت کی طرح سے نہ لیں مگر کوئی ایسا میکانزم بنائیں کہ دونوں طرف کے کشمیری تاجر اپنے اپنے ملک کی کرنسیوں میں قیمتوں کا تعین کر کے تجارت بڑھا سکیں۔

انھوں نے ہماری بات بڑی توجہ سے سنی لیکن اپنی مجبوریوں سے بھی آگاہ کیا۔ بہرحال موجودہ تجارت کچھ بھی نہیں بلکہ یہ ٹریڈ کے نام پر دھبا ہے۔ ابھی تک صرف بارٹر (Barter) یا مال کے بدلے مال کی تجارت ہو رہی ہے۔ رئوف صاحب نے بتایا ’’اس میں بھی مسئلہ یہ ہے۔ مثال کے طور پر میں یہاں کشمیری شالوں کا کاروبار کرتا ہوں۔ میری ایک شال کی قیمت دو لاکھ روپے ہے۔ میں اگر پاکستان دس شالیں بھجواتا ہوں تو اس کا بل ۲۰ لاکھ بنتا ہے۔ لیکن میں بدلے میں ۲۰ لاکھ کے پیاز تو نہیں منگوا سکتا۔ یہ قباحت ہے بارٹر تجارت میں۔‘‘

پاکستان اوربھارت کے مابین کشیدہ تعلقات بھی دونوںکشمیری علاقوں کے مابین تجارت بڑھنے نہیں دیتے۔ اگر میں نے پچاس لاکھ کا سامان بھجوا دیا اور کسی وجہ سے حالات خراب ہو جاتے ہیں تو میرے پیسے تو گئے نا!‘‘

میں نے ان سے پوچھا کہ ان کے خیال میں مسائل کا کیا حل ہے؟ وہ کہنے لگے: ’’ہم چاہتے ہیں کہ دونوں اطراف لائن آف کنٹرول پر تجارتی اشیا کی فہرست میں لامحدود اضافہ کیا جائے۔کشمیری لوگوں میں اب جذبات کم ہو رہے ہیں۔ وہ زیادہ پریکٹیکل ہو چکے۔ ہم دونوں خطوں کے درمیان تجارت چاہتے ہیں۔ پاکستانی کشمیر کے لوگ ہمارے بھائی ہیں اور باہمی تجارت کرنا ہمارا حق ہے۔ اس حق سے ہمیں محروم نہ کیا جائے۔

’’ ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ واہگہ بارڈر پر بین الاقوامی تجارت ہوتی ہے اور اس پر کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس ادا ہوتے ہیں۔ ایل او سی کی تجارت پر کوئی ٹیکس یا کسٹمز ڈیوٹی نہیں۔ چناںچہ واہگہ کے راستے تجارت کرنے والے لوگ اس پر تحفظات رکھتے ہیں کہ اگر دونوں کشمیر کے درمیان تجارتی اشیا کی فہرست بڑھ گئی تو ان کے مفادات متاثر ہوں گے۔ ہم نے اس پر تجویز دی کہ اس بات کو یقینی بنائیں‘ کشمیر کی تجارتی اشیا صرف کشمیر کے اندر ہی رہیں۔ اگر کوئی چیز کشمیر کی حدود سے باہر جائے تو آپ اس پر ڈیوٹی لگا دیں۔ اس سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور واہگہ بارڈر کی تجارت متاثر نہیں ہو گی۔ ‘‘

میں نے رئوف احمدکو بتایا کہ پاکستانی صنعت کاروں کے ذہن میں یہ خدشات ہیں کہ اگر بارڈر پر تجارت شروع ہوئی تووہ بھارت کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے اور بھارتی ان کی مارکیٹ پر قبضہ کر لیں گے۔ اگرچہ اب نواز شریف حکومت اس حوالے سے اہم اقدامات کرنا چاہتی ہے تاکہ پاکستانی صنعت کاروں کے خدشات دور یا کم ہو سکیں۔
رئوف صاحب نے بتایا کہ کشمیر کے لوگ اپنی کشمیری شناخت کے حوالے سے بہت حساس ہیں۔ مثال کے طور پر شیخ عبداللہ کا بھائی‘ شیخ نذیر آج تک دہلی نہیں گیا۔ وہ کہتا ہے کہ میں پیدائشی طور پر کشمیری ہوں اور کچھ نہیں۔ اس نے انڈیا کا پاسپورٹ بھی نہیں لیا اور اس وجہ سے حج پر بھی نہیں گیا۔ کیونکہ آپ کو اگر بھارت سے باہر جانا ہے تو دہلی سے ہی پاسپورٹ ملتا ہے۔

میں نے بجلی کے فی یونٹ ریٹ کے حوالے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ یہاں فی یونٹ ۳ روپے ۴۰ پیسے ادا کر رہے ہیں۔ جب میں نے انھیں بتایا کہ پاکستان میں ہم ۱۹ روپے فی یونٹ ادا کررہے ہیں تو وہ بہت حیران ہوئے۔ اگرچہ کشمیر میں بجلی کے لائن لاسز بہت زیادہ ہیں یعنی ۶۷ فیصد! وجہ یہ ہے کہ کشمیر میں بننے والی بجلی پہلے دہلی نیشنل گرڈ میں جاتی پھر واپس کشمیر آتی ہے۔ سری نگر میں کئی لوگ بجلی کے ہیٹر پر ہی کھانا پکاتے ہیں۔ جبکہ ہم پاکستان میںبارہ بارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ بھگت رہے ہیں۔ کشمیر میں پن بجلی کے کئی منصوبے زیرتعمیر ہیں جن کی تعمیر کے بعد وہاں بجلی کے نرخ فی یونٹ ۱ روپیہ ۲۵ پیسے ہو جائیں گے۔

میں نے اپنے میزبانوں کو لاہور آنے کی دعوت دیتے ہوئے ان سے پوچھا کہ کشمیر چیمبر کی تاریخ کتنی پرانی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ کشمیر چیمبر کا کسی بین الاقوامی فیڈریشن سے الحاق نہیں اور وہ اپنی علیحدہ شناخت قائم رکھے ہوئے ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس انگریز دور میں قائم ہوا تھا۔ میں نے مشورہ دیا کہ وہ سارک چیمبر کے رکن بن جائیں تاکہ انھیں بھی سارک ممالک میں سفر کے حوالے سے ویزہ کا استثنا حاصل ہوسکے۔ یوں تجارت کے مزید مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور ہمیں ہوٹل واپس پہنچنا تھا اس لیے اپنے مہمانوں سے اجازت طلب کی اور ہوٹل کی راہ لی ۔

پشمینہ شال کی کڑھائی
لگ بھگ سات بجے ہم ہوٹل واپس پہنچے۔ آج ہمارا رات کا کھانا وشال اور وکرم کے گھر پر تھا۔ ہوٹل سے ذرا تازہ دم ہو کر وکرم کے ہمراہ اُن کے گھر روانہ ہوئے۔ راستے میں چند دکانیں کھلی نظر آئیں۔ ہڑتال کے باعث تمام بازار بندتھے۔ دکانیں کھلی دیکھ کر خواتین کی تو جیسے عید ہو گئی۔ اُن کے پرزور اصرار پر گاڑی مارکیٹ کی طرف موڑ لی۔
وہاں سے ہاتھ کی کڑھائی کے چند ملبوسات خریدے۔ کمال کی ورائٹی اور ڈیزائننگ دیکھنے کو ملی۔ ایک ہی دکان میں ملبوسات کی ہمہ رنگ اقسام موجود تھی۔ اُن کی قیمتیں ہزارروپے سے لے کر دس ہزار اور اس سے بھی زیادہ تھیں۔ پشمینہ شال پر کام دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ گئیں۔ کڑھائی اتنی نفیس اور باریک تھی کہ کپڑا نظرہی نہیں آتا۔ دکان پر ہی وشال کے فون آنے لگے۔ اس باعث ہمارے بٹوے کی شامت کچھ کم ہی آئی۔

دس پندرہ منٹ میں ہم گوگجی باغ میں واقع وشال اور وکرم کے گھر پہنچے۔ بچوں کے اسکول کی چھٹیاں تھیں‘ اس لیے دونوں کے اہل خانہ امرتسر گئے ہوئے تھے۔ صرف اُن کی والدہ موجود تھیں۔ والد صاحب دو سال پہلے آنجہانی ہو گئے تھے۔ ان کے والد کا کیا ذکر کروں‘ ایسی شخصیت صدیوں بعدپیدا ہوتی ہے۔ ملے بغیر ہی ہم اُن کے گرویدہ ہو گئے۔

وکرم نے ہمیں اپنے باغ کی سیر کروائی۔ وہاں پہ متنوع پودوں کے بے شمار خوبصورت پھول کھلے تھے جن کی دیکھ بھال مالی کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی کرتے ہیں۔ ایک طرف اُن کا کچن گارڈن تھا جہاں ہر قسم کی سبزی اور پھل لگے ہوئے تھے۔ دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔

کھانے کی باری آئی تو تمام مشہور کشمیری کھانے انھوں نے تیار کروا رکھے تھے۔ گشتابہ‘ آلو بخارے میں پکا مرغ پلائو‘ مولی چٹنی‘ اخروٹ چٹنی۔ یہ نعمتیں کھا کر پیٹ بھر گیا پر نیت نہیں بھری۔ میٹھے میں خاص کھیر اور رس گلے تھے۔ خوب مزہ آیا۔ قہوے کی باری آئی تو فیصلہ ہوا کہ للِٹ ہوٹل جا کر پیا جائے۔

للِٹ ہوٹل اصل میں مہاراجا کشمیر کی رہائش گاہ اور گلاب بھون کے نام سے مشہور تھی۔یہ محل ۱۹۱۰ء میں مہاراجا پرتاپ سنگھ نے تعمیر کروایا۔ بعدازاں مہاراجا ہری سنگھ نے اس کی مزید تزئین او آرائش کی۔ یہ کئی ایکڑ پر بنا اور خوبصورت باغات سے گھرا ہوا ہوٹل ہے۔ اگر نہ دیکھتے تو افسوس رہ جاتا۔ وہاں ایک رہائشی حصے (سویٹ) کا کرایہ ایک لاکھ بھارتی روپے فی رات ہے۔ اس میں دراصل خواب گاہ کے ساتھ بچوں اور ملازمین کے کمرے ملحق ہیں۔ بھارتی اداکار امیتابھ بچن اکثر وہاں ٹھہرتا ہے۔

وکرم نے ہمیں ہوٹل کے مختلف حصے دکھائے اور وہ جگہ بھی جہاں فلموں کی شوٹنگ ہوتی تھی۔ قہوے کا لطف ہم نے سری نگر کا نظارہ کرتے ہوئے اٹھایا۔ آج سری نگر میں ہماری آخری رات تھی۔ ہم اتنا تھک چکے تھے کہ ہوٹل پہنچتے ہی سونے کو ترجیح دی۔ صبح پھر ہمیں جلد نکلنا تھا تاکہ بارہ بجے ہوائی اڈے پہ پہنچ سکیں۔ اس سے پہلے ہم مزید تین جگہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

وکرم کے ساتھ صبح آٹھ بجے کا وقت طے پایا۔ ہم تیار ہو کر ٹھیک وقت پر لابی میں پہنچے‘ لیکن شفیق عباسی کی سستی کے باعث نکلتے نکلتے نو بج گئے۔ اب دو گھنٹوں میں ہمیں واپس آ کر ہوٹل سے سامان اُٹھانا اور چیک آئوٹ کرنا تھا۔

بھاگم بھاگ جامع مسجدسری نگر پہنچے۔ عجلت میں اندر کا چکر لگایا۔ دو رکعت نماز ادا کی۔ امام مسجد سے ملاقات ہوئی۔ میرواعظ جہاں بیٹھ کر خطبہ دیتے ہیں‘ وہ جگہ دیکھی۔ مسجد کے چار دروازے ہیں جن میں دو کو عام دنوں میں کھولا جاتا ہے۔ جمعہ کے دن تمام چاروں دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ مسجد کے ایک احاطے سے پہاڑ نظر آتے ہیں جس پر ہندوئوں کا مشہور شنکراچاریہ مندر واقع ہے ۔

مسجد کے ساتھ ہی سری نگر کا مشہور نوہاٹا چوک ہے۔ سری نگر میں کوئی بھی احتجاج ہو‘ اس کا آغاز اسی چوک سے ہوتا ہے۔ وہاں آئے دن پولیس پر پتھرائو معمول کی بات ہے۔ ہمیں ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ چاہے کتنا ہی شدید احتجاج ہو‘ پولیس یا فوج کے جوان مسجد کے اندر داخل ہونے کی جرأت نہیں کرتے۔ مسجد کے طرز تعمیر کی خاص بات اس کا مقامی بدھ طرز تعمیر کے مطابق بنایا جانا ہے۔ لکڑی کا خوبصورت کام دل کو موہ لیتا ہے۔ مسجد کے اندر ۳۶۰ لکڑی کے ستون عجب نظارہ پیش کرتے ہیں۔

مسجد سے باہر نکلے تو سامنے سے ایک نوجوان موٹر سائیکل پر تیز رفتاری سے گزرا۔ ہمیں بتایاگیا کہ یہ مشتاق لٹرم کا بھانجا ہے۔ ہمارے لیے یہ عجیب سا نام تھا… لٹرم پٹرم ٹائپ۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ کشمیریوں کی ایک ذات ہے۔ مشتاق احمد لٹرم ہمارے ہاں مشتاق احمد زرگر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جامع مسجد سری نگر کے نواح میں پلا بڑھا اور بھارتی فوج کے ظلم و ستم سے تنگ آکر اس نے ہتھیار اٹھا لیے اور مجاہدین کی صف میں شامل ہوگیا۔ بعد ازاں اس نے اپنی گوریلا تنظیم ’’ العمر‘‘ کے نام سے بنائی۔ ۱۹۹۲ء میں اسے گرفتارکیا اور اس پر درجنوں جھوٹے سچے مقدمات بنا کر لمبے عرصے کے لیے قید میں ڈال دیا۔

جب مجاہدین ۱۹۹۹ء میںبھارتی طیارہ اغوا کرکے قندھار لے گئے تو اس وقت بھارتی حکومت کو اپنے مسافروں کی رہائی کے بدلے انھیں رہا کرنا پڑا۔ اس کے بعد وہ زیرزمین چلے گئے۔ مسجد کی خوبصورتی ہمیں بار بار تصاویر لینے پر مجبور کرتی رہی۔ اس کے بعد ہم ہوٹل روانہ ہوئے اور بمشکل ساڑھے گیارہ بجے پہنچے۔ وہاں نریش اپنے بھائی اور بیگمات کے ساتھ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ عجلت ہمارے چہروں سے عیاں تھی۔ پھر بھی اُن لوگوں کے ساتھ الوداعی لمحات خوش کن ماحول میں بسر ہوئے۔ ہم نے اُن کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے بھی ہمیں مسکراتے چہروں سے رخصت کیا۔

فراغت پائی تو ہم نے فٹافٹ سامان لیا‘ بل بنوایا اور ہوائی اڈے کی طرف نکل پڑے۔ اس کی حدود میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی تھیں۔ پہلا ہی مرحلہ پندرہ منٹ میں طے ہوا۔ اگلے مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے وکرم نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور ہم پہلو سے ہوتے ہوئے دوسری قطار میں چلے گئے۔ لیکن ابھی اذیت ختم نہیں ہوئی تھی‘ وہاں ہمیں سامان سمیت اترنا‘ سامان اسکین کروا کے واپس رکھنا اور پھر آگے جانا تھا۔ تھوڑا آگے گئے تو ایک بار پھر سامان سمیت اتارے گئے اور دوبارہ سامان اسکین ہوا۔ اُسے واپس گاڑی میں رکھا۔اب کہیں جا کرہوائی اڈے کی عمارت نظر آئی۔

وکرم نے ایک قلی ہمارے ہمراہ کر دیا۔ وہ ہمارا سامان لیے قطار میں لگ گیا۔ ہم نے وکرم کو الوداع کہتے ہوئے ان کی شاندار مہمان نوازی پہ شکریہ ادا کیا۔ پھر اُنھیں بھائی وشال سمیت پاکستان آنے کی دعوت دی۔بعدازاں سری نگرکو الوداع کہتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ قلی ہمارا سامان اسکین کروا کے لے آیا اور ہم نے بورڈنگ پاس لیا۔
کشمیر کے باسیوں کا پیار اور مہمان نوازی ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ خاص طور پر پاکستان اور پاکستانیوں سے اُن کا دلی لگائو بے مثال ہے۔ کشمیری بہت ہی کھلے دل کے مالک ہیں۔مہمانوں کے ساتھ محبت سے پیش آتے اور ان کی آئو بھگت کرتے ہیں۔