function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

کومے میں گئے رشتے

اختر عباس

’’بابا کتنے اطمینان سے سوئے ہوئے ہیں۔‘‘ یہ میری بڑی بیٹی انشراح کی آواز تھی جو رات کے آخری پہر مجھے اپنے کمرے میں سنائی دی۔ میں نے اُٹھنے کی کوشش کی تو احساس ہوا چھوٹی بیٹی انورے بھی چمٹ کر ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ اہلیہ نے مسکراتے ہوئے کہا باہر شدید تھنڈرنگ ہو رہی تھی۔ بچیاں اُٹھ کر آگئی ہیں کہ بابا کے کمرے میں جانا ہے۔ باہر بجلی کی گرج چمک جاری تھی اور تیز ہوا کے ساتھ بارش شروع ہوچکی تھی۔ تینوں بیڈ پر اپنی اپنی جگہ بنا کر اب مطمئن تھیں۔ میں نے دھیرے سے پائوں زمین پر رکھے، جوتا پہنا اور موبائل اُٹھا کر باہر لان کی طرف چل پڑا۔

یوپی ایس نے کمرا بے شک روشن کر رکھا تھا مگر باہر لان میں تو گھپ اندھیرا تھا۔ میرے قدم لان کے آخر میں واقع دیوار کے ساتھ بنے دڑبے کی طرف تیزی سے اُٹھ رہے تھے، میں نے اِس دوران اپنے موبائل فون پہ ڈائون لوڈ کی ہوئی فلیش ٹارچ آن کر لی تھی۔ بارش کے موٹے موٹے قطرے سر، کندھوں اور چہرے کے علاوہ بھی جہاں جہاں جگہ مل رہی تھی، مجھے بھگونے کے مزے لوٹ رہے تھے ۔

گھر میں اپنے کمرے کے علاوہ یہی لان میری پسندیدہ جگہ ہے جہاں صبح سویرے ناشتے کے بعد میں ایک گھنٹا ضرور گزارتا ہوں۔ یہاں لگی گھاس کے علاوہ اکثر پھلدار پودے میرے اپنے ہاتھوں کے لگائے ہوئے ہیں۔ انار، امرود، کنو ، لیموں کے بعد پھل دار پودوں میں ایک اور اضافہ دو سال قبل پپیتے کا ہوا تھا جس نے اس سال پھل بھی دیے ہیں۔ پپیتے کے چاروں بوٹے کہ اِنھیں درخت تو کہا نہیں جا سکتا، اپنے ہاتھوں بیج بو کر اُگائے اور مختلف جگہوںپر لگائے تھے۔ سوائے ایک پودے کے باقی سبھی نے صرف پھولوں پر اکتفا کیا اور پھلدار ہونے کی لذت سے محروم رہے۔ ان پودوں کی تراش خراش اور انھیں پانی دینے کی خوشی میں روزانہ پوری ذمہ داری سے کشید کرتا ہوں۔

مالی غلام یٰسین آ کر گھاس کاٹتا ہے۔ پتے اکٹھے کر کے لان چمکاتا ہے، ایک جانب کیاریاں بنا کر سبزیوں کے بیج بوتا ہے۔ پھر ان کی گوڈی کرتا ہے۔ گزشتہ سال جب ماہرِ غذائیت صا حبہ نے بتایا کہ طویل تحقیق کے بعد معلوم کیا گیا ہے کہ برائلر مرغیاں بچیوں کے لیے سخت نقصان دہ ہیں اور خاص طور پر ان کے لیگ پیِس ہارمونز کے پرابلمز پیدا کر رہے ہیں تو گھر میں مرغی کے گوشت میں صرف سینہ آنے لگا اور لیگ پیِس ممنوعہ آئٹم قرار پائے، انڈوں کا مسئلہ برقرار تھا۔ اس کا حل جناب زاہد عرفان نے نکالا اور شرق پور سے 7 عدد دیسی ’’مصری‘‘ مرغیاں منگوا کر دیں۔ میں نے اِن کے لیے دس فٹ لمبا‘تین فٹ اونچا اور چار فٹ چوڑا دڑبا بنوایا۔

جہاں وہ ایک عدد خوب صورت مرغے کے ساتھ رہتی ہیں۔ سُرخی مائل برائون مرغا ’’بٹ صاحب‘‘ پکارنے پہ لپک کر میرے پاس آتا ہے۔ ان کے دڑبے کے ساتھ ایک چھوٹا دڑبا اور ہے جس میں چار عدد فاختائیں رہتی ہیں۔ ان میں سے دو کو اب ایک اور پنجرے میں منتقل کر دیا ہے۔ باقی دو کے انڈوں سے چند روز قبل دو معصوم صورت بچے نکل آئے ہیں اور میرے لیے ان کو دانا پانی ڈالتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ کر اُن کا مشاہدہ ایک پُرلطف مصروفیت ہوتی ہے۔ دونوں بچے تھوڑے ہی دنوں کے بعد اپنے گھونسلے سے اُڑ کر تین فٹ اونچی لگائی ٹہنی پہ بیٹھنے لگے ہیں۔

ان کا تیزی سے بڑا ہونا، بالوں کا رنگ بدلنا اور موٹی بھدی سی چونچ کا دھیرے دھیرے شیپ میں آنا زندگی کا ایک بے حد مختلف مشاہدہ بن رہا ہے۔ الگ کی گئی فاختائوں کے جوڑے نے دوسری بار انڈے دے کر توڑ لیے ہیں۔ کیوں توڑے ہیں، باہم لڑتے تو نہیں دیکھا۔ آپس کی ناراضی یا ’’مردانہ شائونرم‘‘ بھی وجہ نہیں لگ رہی۔ ممکن ہے آہستہ آہستہ اندر کی بات پتا چل جائے یا کبھی کوئی فاختائوں کا ماہر اس کی وجہ بتا سکے اور حل سمجھا سکے، فی الحال علیحدہ کیے گئے اُس جوڑے کے پنجرے کی چھت نہیں ہے اور یہ مووایبل ہے اور یہ لوبرڈز (نیلے اور پیلے 3چھوٹے سائز کے شرارتی طوطوں) کے پنجرے کے ساتھ پڑا ہوا ہے۔

رات کے اس پہر برستی بارش اور کڑکتی بجلی میں، میں اپنے موبائل کی ٹارچ جلائے فاختائوں اور طوطوں کے پنجرے کو ایک فلیکس سے ڈھانپتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ یہ کیا جذبہ ہے جو رب انسانوں کے اندر پیدا کرتا ہے۔ اسے مامتا، باپتا یا کسی نئے نام سے یاد کیا جانا چاہیے۔ کس قدر طاقتور ہے کہ اپنی نیند‘آرام چھوڑ کر آپ لمحے بھر میں ان کو ڈھانپنے پہنچ جاتے ہو، کمرے میں واپس آیا تو دونوں بچیاں ہنس رہی تھیں۔ ’’بابا اپنے نئے بچوں کو دیکھ کر آئے ہیں۔‘‘ پھر وہ بتانے لگیں کیسے فاختہ باپ باجرہ اور پانی اپنے پوٹے میں لے جا کر مکس کرتا ہے اور پھر باری باری اپنے بچوں کی چونچ میں چونچ ڈال کر نرم سا لقمہ منتقل کر دیتا ہے۔

میں آفس پہنچا‘ تو دل اندر سے مطمئن تھا کہ دن بھر مصروف رہنے اور کئی کئی روز گھر سے دور رہنے کے باوجود میری بیٹیاں میرے ساتھ اس قدر جڑی ہوئی ہیں۔ ساتھ رہنے میں تحفظ اور خوشی کا احساس پاتی ہیں۔ کالم لکھنے بیٹھا تو خیال تھا کہ راول پنڈی کے اس شادی ہال کا ذکر کروں گا جہاں والدین کی ایک بہت بڑی تعداد سے کچھ عرصہ قبل خطاب کرنے کا موقع ملا، ’’خاندان میں کیسے بڑھے اطمینان‘‘ نور کالج والے رضوان صاحب نے موضوع خوب رکھا تھا جس محنت سے انھوں نے خواتین و حضرات کو جمع کیا تھا وہ بھی حیران کیے دیتا تھا۔

مگر سب سے زیادہ حیران کن وہ لمحات تھے جب پروگرام ختم کرکے میں اسٹیج سے اُترا تو سفید ڈاڑھیوں والے بزرگوں کی ایک کثیر تعداد ہاتھ ملانے اور گلے ملنے کے لیے موجود تھی۔ اسے اعزاز جانوں یا اکرام، بہرحال سچ یہ ہے کہ زندگی میں اتنے بزرگوں سے یک مشت کبھی گلے نہیں ملا۔ انوکھی بات یہ تھی کہ عمر کا بیشتر حصہ نوجوانوں سے ملنے، بات کرنے، سمجھانے اور انہی کے لیے لکھتے گزرا۔ خالص بزرگوں سے انہی کے موضوع پہ بات کرنے کا یہ پہلا موقع تھا جس محبت اور توجہ کا انھوں نے والہانہ اِظہار کیا وہ خوشگوار ہی نہیں حیران کرنے والا بھی تھا۔ ان کے لبوں سے ادا ہونے والی دعائوں کی نعمت اس سے سَوا تھی۔

میرا کہنا صرف اتنا تھا کہ خاندان کا سکون جنھیں چاہیے ہو، انہی کو ملتا ہے۔ کیونکہ یہ سکون دیواروں اور چھتوں سے نہیں رشتوں سے ملتا ہے اور رشتے بھی وہ جو آپ سے جُڑے ہوں۔ جڑنے کا تعلق خون سے یا ایک جگہ رہنے سے نہیں ہوتا، آپ کی ترجیہات اور ویلیوز کے مشترک ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ مثلاً میرے سامنے 69بزرگ ایسے بھی بیٹھے تھے جو اپنی عملی زندگی کے بعد ریٹائرمنٹ کی اننگز شروع کر چکے تھے۔

پروگرام میں وہ اکیلے بیٹھے تھے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ ان کا کوئی بیٹا یا پوتا، یا نواسا بھی ساتھ ہوتا یوں محبت اور اقدار کی یک جانی کے سفر کا نقطہ آغاز بنتا، ہمارے بچے دیکھتے ہی دیکھتے بڑے ہوجاتے ہیں کبھی ان سے پوچھا جائے کہ ان کی یادوں کے خزانے میں آپ سے جُڑا ہوا کیا ہے۔ کتنے واقعات، کتنے تحائف اور سب سے اہم یہ نہیں کہ کتنی بار ڈانٹ پڑی اور کس کس کے سامنے بے عزتی ہوئی؟ کتنی بار بڑوں نے ہاتھ اُٹھایا۔ کہاں کہاں نیل پڑے۔ ڈر اور خوف کے بادل کتنی بار گھِر کے آئے اور کتنا برسے۔ یاد رہے کہ یہ ظالم بادل آتے جاتے محبت کی ساری زرخیزی بہا کر لے جاتے ہیں، اور بار بار آنے سے توایسی خالی اور بنجر زمین باقی بچتی ہے جس پر محبت کاشت ہی نہیں ہوسکتی۔

میں نے انھیں بتایا کہ میری بیٹیاں میرے موبائل فون بار بار چھیڑتی ہیں۔ کتنی ہی قیمتی چیزیں گرا دیتی ہیں، جو کھانے ان کی والدہ مشقت کرکے ان کے لیے بناتی ہے اور انھیں ان کے لیے مفید پاتی ہے وہی ان کو ناپسند ہوتے ہیں تو کیا کھانے کے وقت ایک غدر برپا ہونا چاہیے اور اللہ معاف کرے یہ منفی رول میں کیوں اپنے ذمے لوں۔ میٹرک میں بے شک میں ضلع بہاولنگر میں اوّل آیا تھا ‘مگر ابو کے لحاظ سے نمبر بے حد کم تھے۔ تو اُن کے ایک دوست نے ہمارے گھر آ کر تب ایک ایسا مشورہ دیا کہ جسے سُن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ ان کا فرماناتھاچودھری صاحب! اگر یہ نہیں پڑھتا تو اُسے کھَل بنولے کی دُکان کھول دیتے ہیں۔

والدہ نے مہمان کے جانے کے فوراً بعد ابو سے پوری شدت سے مطالبہ کر دیا تھاکہ ’’میرے گھر آ کر میرے ہی بچے کی بے عزتی کرنے والا آپ کا مہمان دوبارہ میرے گھر نہیں آئے گا۔ اپنے بچے کو تو وہ ڈاکٹر بنوا رہا ہے۔ اُسے کہیے کھل بنولے کی دُکان کا شوق اپنے ہی گھر میں پورا کرلے…‘‘میں اپنی ماں کی شیرنی جیسی اس اسپورٹ کو کبھی بھول نہیں پایا۔ بطور والد یا والدہ ہم کتنی بار اپنے بچوں کی عزت کی حفاظت کے لیے سینہ تان کر ان کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ماں باپ کے ایمان اور اسلام سے محبت بچے کی زندگی میں اس کی اپنی شخصی عزت اور حفاظت کے احساس کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔

وقت اور تجربے نے یہ سکھا دیا ہے کہ صرف خون کا رشتہ ہونا گھر کی خوشی، اطمینان اور بائنڈنگ کے لیے بالکل کافی نہیں ہے اور ہمیں اس کو مان لینا چاہیے۔ یونہی نیا رشتہ درمیان میں آتا ہے چاہے سسرالی بیٹے کی صورت ہو یا بہو بیٹی کی شکل میں، ایک دم سے رشتے کی ترتیب اور ترکیب بدل جاتی ہے۔ وہی ماں باپ وہی بہن بھائی پرائے ہی نہیں ہوجاتے وِلن بھی لگنے لگتے ہیں تب شکوے شکایتیں اور واسطے کچھ کام نہیں آتے رشتے ’’تڑک کرکے‘‘ ٹوٹ جاتے ہیں کہ انھیں شکایات سے بچانے والا کوئی نہیں۔

میں اس دُکھ سے بچنا چاہتا ہوں اس لیے اپنی بیوی کی مدد لیتا ہوں۔ ابھی دونوں بیٹیوں کی تھوڑے تھوڑے وقفے سے سالگرہ تھی۔ اسکول جاتے ہوئے کیک کے ساتھ ساتھ ان کی ساری کلاس کے لیے ٹافیوں کے پیکٹ دیے۔ آفس آنے سے پہلے اس کی اکیڈمی ٹیچر کے پاس شام کی کلاس کے بچوں کے لیے کیک چھوڑ کر آیا۔ خوشی بظاہر معمولی سی ہے مگر بچے بھول نہیں پاتے کہ اس طرزِ عمل سے دوسرے بچوں کے سامنے ان کی عزت بڑھی۔ والدین کی محبت اور توجہ کی مٹھاس ملی۔

جن دنوں میں شادمان میں اے پلس انسٹی ٹیوٹ آف گرومنگ میں کونسلنگ کی کلاسز اور سیشن لیتا تھا، ایف سی کالج لاہور کے ایک طالب علم سے ایسے تعلق کا آغاز ہوا کہ جو کبھی دوستی، کبھی شاگردی، کبھی بھیا جی تو کبھی Mentorکا رُخ اختیار کرتا گیا۔ صابر سوچتا تھا، سنتا تھا اور جا کر آزماتا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی سے بہت تنگ تھا کہ وہ روز اس کی موٹرسائیکل بغیر اجازت لے جاتا تھا اور سیٹ کے پیچھے بیٹھ کر لمبے ہاتھ کرکے دوستوں کو چلا کر دکھاتا، ان پر رُعب ڈالنا اُس کا مقصود ہوتا تھا۔ اس نے دو چار بار اُسے ڈانٹا مگر بات نہیں بنی۔ مجھ سے ذکر کیا، تو میں نے صرف اتنا کہا کہ ڈانٹ سے رشتے جڑتے نہیں ٹوٹ جاتے ہیں۔ دل بڑا کرو۔

اس نے سوچا اور جو مطلب نکالا‘ اس نے اُس کی زندگی محبت اور خوشی سے بھر دی۔ آج وہی بھائی دبئی میں اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اچھا کھاتا کماتا ہے اور اعتبار کا معاملہ یہ ہے کہ ساری تنخواہ لا کر بھائی کے تکیے کے نیچے رکھ دیتا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس نے کیا کیا ہوگا۔ موٹر سائیکل لے جا کر ایک پینٹر کے پاس کھڑی کر دی اور پچھلے مڈگارڈ پر نمبر پلیٹ سے نیچے بھائی کا نام لکھوایا۔ اگلے روز بھائی بائیک لے کر گیا تو جو دوست اس کے رُعب میں نہیں بھی آتے تھے انھوں نے نام دیکھا اور اس کی وقعت اور فوقیت مان لی۔ یہ ایک بہت بڑی بات تھی کہ جو بائیک آپ بھائی کی نیند کے دوران چُرا کر لائے ہوں۔ اس پر آپ کا نام بن کہے، آپو آپ جگمگا رہا ہو۔

اگلے روز صبح چھوٹا بھائی، بھائی کے سامنے کھڑا تھا منہ سے کچھ نہیں بولا۔ ہاں اس کی نم آنکھیں دل کی پوری کہانی سنا رہی تھیں۔ وہ آگے بڑھا بھائی کے ہاتھ کو اُٹھا کر چوما اور خاموشی سے واپس چلا گیا۔ اس کے بعد بائیک کو اس نے شاید ہی کبھی چھوا ہو۔ جو وہ چاہتا تھا اسے بن کہے زیادہ بہتر انداز میں مل گیا تھا… یہ خوشی اس نے اعزاز کے طور پر لی اور اسے ہمیشہ یاد رکھا۔

یہ ایک نہیں بہت سے گھروں کا مسئلہ ہے کہ بیٹیاں بیٹے ماں باپ سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ آگے سے جواب دیتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معاملات سے شادی بیاہ کے مسائل تک بڑوں کی رائے نہیں ماننے، ایسے میںمیَں بڑی شدت سے سوچتا ہوں کہ رشتوں کی خلیج بڑھ سکتی ہے تو پاٹی بھی جاسکتی ہے۔ ہمارے ایک قریبی دوست نے شکایت کی سگا بھائی ایک مکان کی وراثت کو بانٹنے کے بجائے کہتا ہے کہ جب اولاد جوان ہوگی تو وہ فیصلہ کرے گی۔ قانون، شریعت جو مرضی کہتی پھرے میرے جیتے جی تو یہ نہیں بٹ سکتا۔ دوسرے نے بتایا گھر لیا تھا، رقم ادا کر دی قبضہ لینے گئے تو پتا چلا کہ دو تین اور لوگوں کو بھی یہی گھر بیچا جا چکا ہے۔

ابھی اس صدمے میں تھے کہ ایک قریبی عزیز جس سے کچھ پیسے لے کر ادائی کی گئی تھی نے سختی سے صبح شام تقاضا شروع کر دیا۔ بالآخر اسے ادا کرنے کے لیے کسی اور سے اُدھار اُٹھایا۔ مشکل میں رشتہ دار نہیں کوئی دوست کام آیا، میں نے دونوں کو مشورہ دیا جو ہوگیا سو ہو گیا۔ اب خاموشی بہتر ہے۔ دل پہ آئے بوجھ کو اُٹھا کر کسی اسٹور میں رکھ دو… اللہ مالک ہے شکوے کرو گے تو شکایات کے کئی دفتر کھلیں گے اور نتیجے میں کچھ بھی نہیں ملے گا۔ دوسری صورت میں ممکن ہے برسوں بعد ہی سہی کسی روز اچانک کسی کا ’’سوری‘‘کا فون آجائے۔

ویسے تو اللہ کے رسولﷺ کا حکم عالی اور فرمان ہے کہ جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی بدلہ نہ لیا اور خاموشی اختیار کر لی بے شک رات کے آخری پہر فاختہ کے بچوں اور انڈوں کے خیال سے اُٹھ کر جانے والے قدموں کو، اپنے اپنے گھروں کے لان میں پھلدار پودے لگانے اور پھول دار بوٹے اُگانے کی خوش بڑی طاقتور ہوتی ہے، ہر کھلتے پھول کے ساتھ روح تک آسودہ ہوتی ہے اور الحمدللہ اس آسودگی سے میں سرشار اور شکر گزار ہوں مگر کیا کروں اپنے آس پاس دھوپ میں جھلستے لوگوں اور دوستوں کا کیا کروں، جو برسوں پہلے رشتوں کو سایہ دار بنانے میں کہیں کوتاہی کر بیٹھے۔

لاہور کے ایک سرکاری اسپتال کے Intensive Care Unitمیں پڑی بچی کے جھولے پہ ہاتھ رکھے کھڑے میرے دوست نے جن نگاہوں سے مجھے دیکھا ہے میری روح تک اس درد سے کانپ گئی ہے۔ چند یوم کی بچی کو دیکھنے آئیجس نے ابھی اپنی ماں کو دیکھا اور چھُوا بھی نہ تھا اس کی ساس راول پنڈی جاتے ہوئے یہ کہہ کر اپنی بیٹی کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر اس لیے لے گئی کہ ’’تم نے میری بیٹی کا سرکاری اسپتال میں کیوں علاج کروایا۔ اس کی بلیڈنگ نہیں رُک رہی۔ اس کے ذمے دار تم ہو۔‘‘ اپنی ہی ماں کے ہاتھوں محبت کی شادی کا یہ انجام درد سے تڑپتی بیٹی نے کبھی نہیں سوچا تھا اسی لیے وہ گھرپہنچتے پہنچتے زیادہ خون بہہ جانے کے باعث کومے میں چلی گئی ہے۔

رشتے اپنے آپ کبھی کومے میں نہیں جاتے۔ انھیں یہ دن یا تو ضرورت سے زیادہ محبت کے دعوے داروں کے ہاتھوں دیکھنا پڑتا ہے یا محبت کی کمی کا شکار لوگوں کے ہاتھوں، جو کبھی نہیں جان پاتے کہ موت صرف انسانوں کو نہیں آتی، پہلے ’’کومے‘‘ میں گئے رشتوں کو آتی ہے۔