function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

بندوق جو جانور نے چلائی

حامد مشہود | شکاریات

میں  اس الگ تھلک واقع جنگل میں سیٹھ گوپی چند کے ساتھ گُل داروں کے ایک جوان جوڑے کا خاتمہ کرنے گیا تھا۔ گوپی چند ایک قصبے کے بہت بڑے تاجر، سیٹھ ارمان چند کا بڑا بیٹا تھا۔ پنجاب کے اس جنگل میں گُل داروں کا جوڑا آدم خور ہوگیا تھا۔ میری اطلاع کے مطابق یہ جوڑا دور سے آیا تھا اور کچھ عرصہ پر اُمن رہنے کے بعد انسانوں کا شکار کرنے لگا۔

اسے ایک انگریز لڑکی نے آدم خوری پر اُکسایا۔ جولی کوپر نامی اناڑی لڑکی نے جنگل میں گھومتے گُل داروںپر گولیاں چلائیں‘ تو وہ زخمی ہو کر غائب ہوگئے۔بعد ازاں دوران تلاشی جولی کا ماتحت ’’اٹھے‘‘ مارا گیا ۔ اٹھے یوپی کا ایک شاعر تھا۔ وہ جولی کے دفتر میں اس کا ماتحت تھا اور جولی سے پیسے لے کر شکار میں ساتھ دیتا۔ اٹھے کو چیرپھاڑ کھانے کے بعد وہ جوڑا آدم خور ہوگیا۔ پھر دو ماہ میں اس جوڑے نے مزید تین افراد مار ڈالے۔

گُل دار چھوٹا شیر ہے۔ یہ نسل دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود ہے۔ تاہم امریکا میں گُل دار کو جیگوار کہتے ہیں۔ اسی درندے سے متاثر ہو کر ایک قیمتی کار کا نام بھی ’’جیگوار‘‘ رکھا گیا جو دنیا بھرمیں مشہور ہے۔برصغیر چونکہ بہت بڑا ہے، اسی لیے اس کے مختلف علاقوں میں گُل دار کے مقامی نام ملتے ہیں۔ تاہم لفظ جیگوار کا اُردو ترجمہ گُل دار ہی ہے۔
سیٹھ ارمان چند قصبے کاتاجر تھا۔ اس نے قریبی گائوں میں ایک بڑے زمیندار کے ہاں اپنا بیٹا گوپی چند بیاہ دیا۔ شادی کے بعد سیٹھ کو تجارت کی غرض سے کسی اور شہر جانا پڑا۔ وہ چند دن بعد واپس آیا‘ تو اس کے گھر میں تین شکاری کُتے، ایک بُوگیر کُتا اور ایک گھوڑی بندھی ہوئی تھی۔ سیٹھ حیران رہ گیا۔ ’’پڑوسی کا کوئی مہمان آیا ہو گا۔‘‘ اس نے سوچا۔ ’’انھوں نے یہ ادھر باندھ دیے ہوں گے۔‘‘

سیٹھ کو فوری طور پر پتا چلا کہ یہ گوپی صاحب خرید لائے ہیں‘ تو وہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔ سیٹھ نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا ’’ہم کاروباری لوگ ہیں۔ ہم فائدے کے بغیر کوئی روگ بھی نہیں پالتے۔ تم یہ کیا خرید لائے…؟آج ہی سب کچھ واپس کر آئو۔‘‘
گوپی چند نے کہا ’’لالہ جی! آپ مجھے معاف کر دیں… میں یہ واپس نہیں کرسکتا۔‘‘

’’تو ان جانوروں کا تم کیا کرو گے؟‘‘
’’میں شکار کھیلا کروں گا۔‘‘
’’ہم پیسے سے پیسا کمانے والے لوگ ہیں۔‘‘ سیٹھ چیخ اُٹھا۔‘‘ شکار کھیلو گے‘ تو دکان کون سنبھالے گا؟‘‘

گوپی نے بتایا’’میری بیوی تُلسی مجھے نکما اور بُزدل سمجھتی ہے کیونکہ اس کے بھائی، باپ اور چچا سب مردوں کی طرح کبڈی، کُشتی اور شکار کھیلتے ہیں۔ شکار کے لیے کُتے اور گھوڑے پالتے ہیں۔ میں کبڈی اور کُشتی نہیں کھیل سکتا۔ میری ہڈیاں کمزور ہیں۔ اب میں تُلسی کی فرمائش پر یہ جانور لایا ہوں تاکہ شکار کھیل سکوں۔‘‘

’’یہ بات ہے۔‘‘ سیٹھ نے ایک لمبا اور پُر فکر ہُنکارا بھرا۔ ’’تم اپنے جانوروں سمیت دفع ہوجائو۔ شکار کھیلو اور مرد بنو۔‘‘ سیٹھ ارمان چند نے گوپی چند کو اسی وقت گھر سے نکال باہر کیا۔ بیٹا اپنے جانوروں اور تُلسی سمیت کرائے کے گھرچلا گیا۔ اب وہ ظاہری طور پر تو ایک تاجر کا منشی تھا مگر اس کی اماں اسے خفیہ طور پر رقم بھیجتی رہتی۔ یوں گوپی کی زندگی مزے میں گزر رہی تھی۔

جولی محکمہ حسابات میں ملازم تھی۔وہ اپنی روسی سہیلی ٹروشووا کے ساتھ شکار کھیلنے جنگل میں آئی۔ تب وہ گوپی چند کے ہاں ٹھہری جو محکمہ حسابات میں ملازم تھا۔  اگلے دن صبح صبح ہم شکار کرنے نکلے۔ یہ ایک گھنا نشیبی جنگل تھا۔ نشیب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ کبھی دریا نے کروٹ لے لی تھی۔ پھر دریا کے خالی پیندے میں ایک طویل جنگل اُگ آیا ۔ یہ جنگل اب اصل حالت میں موجود نہیں، انسانوں نے اسے کاٹا، چیرا اور بیچ ڈالا۔ یہ سب کچھ وسیع پیمانے پر ہوالیکن اس جنگل کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے جس کے ساتھ دریا بہتا ہے۔ شکار کا پہلا دن عبث گزرا۔ ہم دریا اور کھیتوں کے درمیان موجود اس جنگل میںاِدھر اُدھر گھومتے رہے۔ دوسرے دن بھی کچھ ہاتھ نہ آیا۔ البتہ ہمارا سامنا جنگلی سؤروں سے ہوا۔ تب ہم پانچوں خچروں اور گھوڑوں پر سوار تھے۔

سؤر بڑا سخت جان حیوان ہے۔ یہ ٹکر بڑی زبردست مارتا ہے کہ اس کے تھوتھ میں ہڈی بہت مضبوط ہوتی ہے۔قد بھیڑ سے لے کر گدھے جتنا ہو سکتا ہے اور پیروں کے کھر بالکل بھیڑ جیسے ہوتے ہیں۔
سؤر دو طرح کے ہوتے ہیں: پالتو اور جنگلی۔ پالتو کئی ممالک میں پالے جاتے ہیں۔ جنگلی جنگل، ویرانے اور کھیتوں میں رہتے ہیں۔ فصلیں کھاتے اور سبزہ چرتے ہیں۔ یہ جب کسی جاندار پر حملہ کرتے ہیں‘ تو اپنی ٹکر اور تھوتھنی کے دائیں بائیں نکلے نوکیلے دانتوں سے کام لیتے اور مخالف کا جسم اُدھیڑ ڈالتے ہیں۔

یہ سؤروں کا بہت بڑا گروہ تھاجس سے ہماری مڈ بھیڑ ہوئی۔ ہمارے کُتے ہمیں خبردار کرچکے تھے کہ آگے خطرہ ہے۔ اچانک سؤروں کا گروہ ہم پر ٹوٹ پڑا‘ تو سب سے پہلے ٹروشووا کے گھوڑے نے حد درجہ خوف کھایا۔ وہ زور زور سے ہنہنانے لگا…اورٹروشووا کو زمین پر گرادیا۔اب روسی لڑکی درندوں سے لڑنے لگی۔

اس نے ایک سؤر کے کھلے منہ میں بندوق کی نال کا دہانہ ڈال دیا۔اسی وقت ایک اور سؤر نے ٹروشووا کو ٹکر مارنے کا اِرادہ باندھا‘ تو اس نے مضبوط بوٹ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس کے منہ پر زور دار ٹھوکر مار کر پرے ہٹایا۔ پھر لڑکی نے اپنی بندوق کا گھوڑا دبا دیا۔ گولی نے سؤر کا بھیجا سر سے باہر نکال دیا۔ یہ انسان اور حیوان کی بڑی خوفناک جنگ تھی۔
میں چونکہ سؤروں کو گولیاں مارنے میں مصروف تھا، اس لیے ٹروشووا کی جدو جہد دیکھنے کے باوجود اس تک نہ پہنچ پایا۔ سؤر پاگلوں کی طرح بھاگتے پھر رہے تھے۔ تاہم میں اس دلیر لڑکی سے بہت متاثر ہوا کہ وہ درندوں سے خوب نمٹ رہی تھی۔ اسی دوران ہمارے ساتھیوں‘ انور اور بھگت نے اسے گھوڑے پر بیٹھنے میں مدد دی۔

میں اس وقت ایک تگڑے خچر پر سوار تھا جو سؤروں سے بہت ڈر رہا تھا۔ یہ ایک الگ مصیبت تھی۔ بہرحال ہم سؤر مارتے رہے… آخر وہ پسپا ہونے لگے۔ ہم نے ان کا پیچھا کیا مگر اس تعاقب میں جولی کوپر اور ٹروشووا شامل نہیں تھیں۔ جولی کا خچر سؤر کی ٹکر سے اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھا تھا۔ ادھر ٹروشووا کا گھوڑا اب پھر بدک رہا تھا۔ اس معرکے میں جولی کوپر نے کافی درندے مارے۔ جولی تین ممالک میں شکار کھیل چکی تھی۔ البتہ اسے بڑے درندوں یعنی شیر، چیتے اور آدم خور درندوں… کے شکار کا تجربہ نہیں تھا۔

ہم نے سؤروں کا تعاقب جلد ختم کردیا۔ ہمارے کچھ کُتے بھی زخمی ہوچکے تھے۔ جولی نے مشورہ کرکے اس خچر کو ابدی نیند سلا دیا، جس کی ٹانگ ٹوٹ چکی تھی۔ وہ خچر ناکارہ ہو چکا تھا۔گھوڑا‘ گدھا اور خچر ایسے جانور ہیں جن کی ٹانگ ٹوٹ جائے‘ تو موت ہی ان کا مقدربنتی ہے۔ ہم نے کُتوں کی مرہم پٹی کی اور واپس آگئے۔ جولی نے آبادی میں آتے ہی خچر کے مالک کو اس کی قیمت سے بڑھ کر رقم ادا کردی۔

اس شام جولی پار کر کے دفتر کا ایک ملازم اُسے ایک سُرخ بندوق دے گیا۔ یہ بندوق بڑی قیمتی تھی اور جولی نے یورپ سے منگوائی تھی۔ شام کو میرے علاوہ جولی، ٹروشووا، گوپی چند، بھگت سنگھ اور محمد انور نے اس بندوق سے اپنا اپنا نشانہ آزمایا۔ یہ ’’الرٹ‘‘ کمپنی کی بندوق تھی اور بہت نایاب…

آدم خور گُل دار اگلے دن بھی ہمیں نہ مل سکے۔اگلے روز بارش سے چھٹی ہونے کا شدید امکان پیدا ہوگیا‘ مگر ہم شکار پر نکل کھڑے ہوئے۔ سارا دن سیاہ گھٹا چھائی رہی اور شدید گڑگڑاہٹ کے ساتھ بجلی چمکتی رہی۔ جب بھی بجلی چمکتی…بھگت اپنا کوئی مذہبی نعرہ چیخ کر بلند کرتا اور اپنی کرپان پر ہاتھ مارتا۔ ٹروشووا چونکہ لامذہب تھی، وہ بھگت کی اس عقیدت کو غور سے دیکھتی۔ اس دن ہمیں کچھ خارپُشت ملے۔

اس جانور کو انگریزی میں پورکپائن (Porcupine)، فارسی میں خار پُشت اور ہندی اُردو میں ’’سیہی‘‘ کہتے ہیں۔  سیہہ کے تمام بدن پر لمبے کانٹے ہوتے ہیں۔ اس لیے اسے ڈانگ، گولی یا کلہاڑی اور برچھی سے مارا جاتا ہے۔ سیہہ سبزہ خور اور فصل کی تباہی کا باعث ہے۔ اس کی جسامت چھوٹی بڑی ہوسکتی ہے۔ عموماً یہ خرگوش کی جسامت کا ہوتا ہے اور تھوتھنی بھی خرگوش جیسی ہوتی ہے۔ البتہ بعض ممالک میں یہ گیدڑ جتنے بڑے ملتے ہیں۔ جانور یا انسان اس کے پیچھے بھاگے‘ تو یہ اچانک رُک کر اپنے کانٹے پھیلا دیتا ہے۔ یہ کتوں کو زخمی کر ڈالتا ہے۔ شیر اور چیتا بھی اس پر حملہ نہیں کرپاتے۔

ٹروشووا نے یہ جانور دیکھتے ہی دیوانوں کی طرح نعرہ بلند کیا اورا نھیں ہر قیمت پرحاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے انور اور بھگت کو کُتے اچھی طرح روکے رکھنے کا کہا اور خود گوپی اور دونوں لڑکیوں کے ساتھ آگے بڑھا۔ وہاں گھاس بلند تھی۔ سیہہ اس کے اندر گھس کر چھپ سکتا تھا۔

ایک سیہہ نظر آیا تو میں نے گولی چلائی جو چوک گئی۔ مگر جولی پار کر نے اسے گولی مار دی۔ باقی سیہہ گھاس میں اوجھل ہوگئے۔اب میں نے اپنے کُتے منگوالیے …وہ سونگھ سونگھ کر انھیں ڈھونڈنے لگے۔ بلند گھاس کا یہ قطعہ چار کھیت زمین میں پھیلا ہوا تھا۔ ہم نے گھاس میں کُتے قابو میں رکھے تاکہ انھیںکوئی نقصان نہ ہو۔ ہم نے ہمت کر کے پانچ سیہہ مار ڈالے۔

تب ٹروشووا نے بتایا’’ہم تین بہنیں ہیں اور ہم اپنے چہرے کی جلد کا بہت خیال رکھتی ہیں۔ ہمارے گائوں میں ایک حکیم سیہہ کی چربی بوٹیوں میں ڈال کر چہرے کی شادابی کے لیے ایک دوا تیار کرتا ہے۔ میری بہن اس تحفے پر بہت خوش ہو گی۔‘‘

میں اپنا سر پیٹ کر رہ گیا۔ میں تو سمجھا تھا کہ شاید ٹروشووا کو کسی ضرورت کے تحت خارپُشت چاہئیں… مگر وہاں تو جلد کی زیبائش کا مسئلہ تھا۔ عورتوں کی زیبائش نہ تو کبھی ختم ہوئی ہے اور نہ قیامت تک مکمل ہو گی۔  بہر حال ہم آگے چلے۔ مردہ سیہی بھی ساتھ لے لیے۔ روسی لڑکی نے ان کی چربی نکال کر محفوظ کرلی۔

اب ہم نے شکار کا دائرہ کار بدلنے کا فیصلہ کیا۔اس جنگل کے ساتھ ایک طرف کھیت تھے‘ تو دوسری طرف دریا۔ گُل دار جنگل چھوڑ کر کسی وقت بھی دریا عبور کرسکتے تھے کہ ابھی ساون کا آغاز تھا، دریا پُرجوش نہیں ہوا تھا۔ گُل دار کھیتوں میں بھی چھپ سکتے تھے، وہاں کئی قد آور فصلیں موجود تھیں۔ مگر ہمیں درندوں کا تازہ کھرا کہیں بھی نہیں ملا۔
اس سے اگلے دن ساون کی پہلی تیز بارش ہوئی۔ ہر سو جل تھل ہوگیا۔ سارا دن ٹھنڈی ہوا چلتی رہی۔

ہم نے وہ دن آرام اور باتیں کرتے گزارا۔ اگلے روز شکار کے لیے نکلے۔ ہمارے ساتھ ایک مقامی شکاری’’آچھی‘‘ اس علاقے میں کئی سال شکار کھیل چکا تھا۔ وہ علاقے کے چپے چپے سے واقف تھا اور خوب جانتا تھا کہ کس کس جگہ فصل ہے، باغ ہیں یا ویرانہ۔ گُل دار وہاں چھپ سکتے ہیں یا نہیں۔ گوپی چند بھی اسی علاقے کا تھا مگر ایسی معلومات سے محروم۔ البتہ اب وہ شکاری بننے چلا تھا…اور وہ بھی اپنی نئی نئی دلھن کی تمنا پر۔

اس دن ہم نے گُل داروں کا تازہ کھرا پالیا۔ تب کھرے پر کُتے چھوڑے‘ تو وہ بُو سونگھ کر ایک طرف کو چل پڑے۔ جنگل میں ایک حصہ چھوٹے مگر گھنے پودوں سے اَٹا اَٹ تھا۔ گُل داروہیں چھپے بیٹھے تھے۔ ہماری بو پاتے ہی پوری قوت سے بھاگ اُٹھے۔ ان کے پیچھے کُتے لپکے اور کُتوں کے پیچھے ہم نے گھوڑے اور خچر ڈالے۔ وہاں پودے اتنی کثرت سے تھے کہ ہمیں درندوں پر گولی چلانے کا موقع نہیں مل پایا۔

جولی پارکرنے اپنا گھوڑا سر پٹ بھگا دیا۔ وہ ہم سے بڑھ کر گُل دار مارنا چاہتی تھی۔ مگر افسوس کہ وہ ایک اچھی گھڑ سوار نہیں تھی۔ وہ تیز رفتار گھوڑے پر قابو نہ رکھ سکی۔ ایک درخت کے جھکے ہوئے ٹہنے سے اس کا کندھا ٹکرا گیا۔ وہ چیخی اور اس نے گھوڑے کی لگامیں زیادہ ہی موڑ دیں۔ گھوڑا روکتے ہوئے اس نے ایک بندریا مار ڈالی جو ٹہنی پہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی سرخ بندوق درخت سے ٹکراتے ہی گر چکی تھی۔ میں نے یہ سب کچھ چند لمحوں میں دیکھا۔ میںوہاں رکا اور آچھی اور گوپی چند کو جولی کی مدد کرنے کا کہا اور خود آگے بڑھ گیا جدھر ٹروشووا، بھگت اور انور کُتوں کے پیچھے جارہے تھے جو درندوں کا تعاقب کر رہے تھے۔ یہ تعاقب بہت ضروری تھا۔ درندے ایک سرنگ میں جاچھپے تھے جس کی اونچائی اور چوڑائی زیادہ نہیں تھی۔

ہمارا یہ تعاقب ثمر آور ثابت نہ ہوا۔ شکار اور زندگی میں اسی طرح ہوتا ہے۔ ہم محنت کرتے ہیں مگر حالات کبھی کبھی اچانک ہمارے مخالف بھی جاتے ہیں۔ پھر بھی محنت کرتے رہنا ہی انسان کا شیوہ ہونا چاہیے۔
ہمارے کُتے اب اس سرنگ پر غراتے پھر رہے تھے۔ ہم نے انھیں اجازت نہیں دی ورنہ وہ اس کے اندر گھس جاتے جو اُن کے لیے خطرناک تھا۔ ہم کُتے مروا نہیں سکتے تھے۔ اندر کیا تھا…؟ ہمیں یہ علم نہیں تھا۔ سرنگ کے کئی منہ تھے۔ ہم اس لمبی سرنگ کے دہانے پر کھڑے آپس میں مشورہ کر رہے تھے کہ اچانک عقب سے پے در پے فائر ہوئے۔
ٹروشووا نے گھبرا کر کہا’’جولی! میری دوست ۔‘‘

’’ہاں تم واپس جاکر اس کی مدد کرو…تم ایک بہادر لڑکی ہو۔‘‘ میں نے روسی لڑکی سے کہا‘ تو اس نے اپنا خچر پیچھے بھگا دیا۔اسی دوران میں ایک اور فائر کی آواز آئی۔ اُدھر کوئی گڑبڑ ضرور تھی۔
اچانک ہمارے کُتے خاص اشارے دینے لگے۔ چھان بین سے پتا چلا کہ گُل دار اچانک سرنگ کی ایک دیوار ڈھا کر جھاڑیوں میں روپوش ہو چکے۔ ان جھاڑیوں میں درندے تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر سے سوئی تلاش کرنے والی بات تھی مگر ہم نے ہمت نہ ہاری۔ جلد ہی ہمارے کُتے دریا کی طرف لپکنے لگے۔ ہم بھی بھاگم بھاگ وہاں پہنچے توبازی اُلٹ چکی تھی۔
گُل دار دریا کے کنارے سے خاصے آگے پہنچ چکے تھے۔ دریا اور اس کے اگلے علاقے میں چھاجوں مینہ برس رہا تھا۔ جبکہ جنگل میں ایک قطرہ بھی نہیں گرا۔پنجاب کے ساون بھادوں میں اسی طرح ہوتا ہے۔ دریا میں تب زبردست طغیانی تھی۔ میں ریڈیو پر خبر سن چکا تھا کہ پورے ملک میں بارش یلغار کر رہی تھی۔

ہمارے کُتے دریا میں داخل ہونے کو بے تاب تھے مگر ہم نے انھیں روکے رکھا۔ بپھرے دریا میں ہم اگر کودتے تو کوئی بھی ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا تھا۔ گُل دار بارش اور موجوں کے تھپیڑے کھاتے چلے جارہے تھے۔ بارش نے ہماری نظر محدود کردی۔ موجیں بھی گل داروں کو اتھل پتھل کررہی تھیں۔ وہ کہیں ٹھہر پاتے تو ہمارا نشانہ کارگر ثابت ہوتا۔ پھر بھی ہم نے ان پر گولیاں چلا کر اپنا فرض نبھایا۔

وہ حیوان زور سے گرجے اور پھر …موجوں کو سرخی مائل بناتے انہی کا لقمہ بن گئے۔ آدم خور درندوں کا خاتمہ ہو گیا۔ گل دار مرتے ہی بہ نکلے۔ اس لیے انھیں مارنے کی خوشی ادھوری رہی۔ کھالیں مل جاتیں تو کیا کہنے ۔

ہم واپس ہولیے۔ جاکر دیکھا‘ تو دو افراد زخمی پڑے تھے اور دو بندر بھی مردہ حالت میں ملے۔بقیہ افراد زخمیوں کو سنبھال رہے تھے۔ تفصیل کچھ یوں ہے:
ہماری تیز رفتار آمد پر بندروں کو وقت نہ ملا ورنہ بندر ہمیشہ درخت پر چڑھنا اور گھنے پتوں میں چھپنا پسند کرتے ہیں۔ اسی باعث گھوڑا ٹہنی پر بیٹھی بندریا سے ٹکرایا اور اسے مار ڈالا۔ گھوڑا پھر وہیں کھڑا ہنہنانے لگا۔

میری ہدایت پر آچھی اور گوپی چند نے جولی کی مدد کی تھی۔ انھوں نے اسے گھوڑے سے اتارا اور گھوڑا درخت سے باندھ دیا۔ جولی کے کندھے کی ہڈی چٹخ گئی تھی۔ اسی دوران یہ حیرت انگیز ماجرا پیش آیا کہ ایک بندر نے جنگل میں گری جولی کی سرخ بندوق تھام لی۔ یہ ایک بڑا بندر تھا جو بندوق چلانا جانتا تھا۔ اسے بندوق چلانے کا طریقہ کیسے آیا؟اس کی دو وجوہ ہوسکتی ہیں۔شاید وہ بندوق چلانے والے انسانوں کے ساتھ رہا ہو گا یا وہ جنگل میں شکاریوں کو بندوق چلاتے دیکھتا رہا ہو گا۔

بہرحال بندر نے اپنی بندریا کی موت کا انتقام لینے کے لیے شکاریوں پر فائرنگ کر دی ۔ جوابی فائرنگ پر وہ بندوق سمیت روپوش ہوگیا۔ سرخ بندوق خود کار تھی، اس کی گولیاں خود بخود چڑھتی چلی جاتی تھیں۔ اس لیے بندر کو بندوق چلانے میں رکاوٹ پیش نہیں آئی۔گوپی چند اور آچھی اپنی سواریوں پر اس خطرناک بندر کو کھوجنے لگے۔ اچانک ایک گولی گوپی چند کی گھوڑی کا نصف کان اُڑاتی نکل گئی۔ گھوڑی نے بلبلا کر اسے نیچے گرایا‘ تو گرتے ہوئے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ گھوڑی بھاگ نکلی۔

اس اثنا میںبندر اب اپنی کمین گاہ بدل چکا تھا۔ آچھی ایک وقت میں دو زخمیوں کو بندر سے نہیںبچا سکتا تھا، اس نے فوری طور پر اوٹ میں گھات لگائی۔ پھر ٹرو شووا بھی پہنچ گئی۔ دونوں نے مل کر بندر کو ہلاک کردیا جو بہت تیزی سے اپنے ٹھکانے بدل رہا تھا۔ بعدازاں گوپی چند کی گھوڑی بھی پکڑ لی گئی۔
ہے تو عجب تماشا مگر جنگل میں ایسے تماشے ہو جاتے ہیں۔ ہم زخمیوں کوقصبے میں لے آئے۔ گوپی چند کی بیوی‘ تلسی نے شوہر کو زخمی دیکھا‘ توشور مچا دیا۔’’آج مجھے شک تھا کہ کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا۔ تُلسی کا پودا ہمارے صحن میں بارش کے باوجود سوکھ رہا ہے۔‘‘

ایک ماہر معالج نے گوپی چند کی ٹانگ جوڑ دی اور مکمل شفا کے لیے چھے ماہ کا وقت دیا۔ ہم رات کو گھر کے باہر چارپائیوں پر لیٹے ہوئے تھے کہ اندر شور مچ گیا۔ ہمارے کتے بھی بے تاب ہونے لگے۔ ہم سمجھے کہ شاید کوئی چور گھس آیا ہے۔

اندر جاکر دیکھا تو ایک بوڑھا ڈنڈا ہاتھ میں لیے گوپی چند کی پٹائی کر رہاہے۔ گوپی واویلا مچا رہا تھا۔ پتا چلا کہ یہ سیٹھ ارمان چند تھا۔ وہ بہت غصے میں لگ رہا تھا۔
میںنے گوپی کو اس کے غضب ناک باپ سے بچایا۔ ارمان چند بار بار چیخ رہا’’جب شکار کے قابل نہیں تو کیوں شکار کھیلتا ہے۔؟‘‘
میں نے اسے سمجھایا کہ اس کا بیٹا بستر پر پڑا ہے، وہ صبر سے کام لے۔
’’یہ کب ٹھیک ہوگا؟‘‘
’’چھے ماہ بعد۔‘‘

’’ٹھیک ہے مہاراج! ’’سیٹھ نے مجھ سے کہا’’چھے ماہ بعد میں پھر اس کی ٹانگ توڑڈالوں گا۔‘‘
تُلسی اپنے سُسر کو زہرپاش نظروں سے گھور رہی تھی۔ میں سیٹھ ارمان کو باہر لے آیا اور اسے چارپائی پر بٹھایا۔ اس کے ساتھ اس کے دو ملازم بھی تھے۔ اس نے اپنے ملازموں کو کچھ روپے نکال کر دیے اور کہا:
’’جائو…شمس کے گھر سے اس بے وقوف کے لیے پھل لے کر آئو۔ تُلسی کے لیے بھی کچھ لے آنا۔‘‘
سیٹھ کے ملازم چلے گئے۔

اس نے پھر ڈنڈا پھینک کر کہا’’مہاراج! میں پہلے ہی جانتا تھا کہ میری بیوی چھپ چھپا کر گوپی کو رقم بھیجتی ہے… مگر میں آج تک خاموش رہا۔ یہ شکار کے بالکل قابل نہیں، اس نے شکار میں ٹانگ تڑوائی تو مجھے غصہ آگیا۔ پھر بھی مہاراج…!میں نے اس بے وقوف کی ٹانگ پر ڈنڈا نہیں مارا۔‘‘
سیٹھ ارمان چند نے یہ کہہ کر ٹھنڈا سانس لیا اور کہا:
’’والدین ہمیشہ اپنی اولاد کا بھلا چاہتے ہیں اور اس لیے ان پر سختی بھی کرتے ہیں۔ اولاد کو بھی اپنے والدین کا فرمانبردار ہونا چاہیے۔‘‘
تب میں نے دیکھا…سیٹھ کی بوڑھی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔