function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

بلدیہ کراچی کے بھوت کارندے

گہرا عظمی | آپ بیتی

میں

اپنی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات اللہ کو حاضر ناظر جان کر پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ پہلے اپنا ہلکا سا تعارف اپنی ۱۹۶۰ء کی خودنوشت ڈائری سے کرا دوں جو اتفاق سے میرے پاس ابھی تک محفوظ ہے۔
من آنم کہ من دانم:
ذات کا آئینہ جب دیکھا تو حیرانی ہوئی
میں نہ تھا گویا کوئی مجھ سا تھا میرے روبرو
’’من آنم کہ من دانم ‘‘ایک فارسی ضرب المثل ہے جس کے معنی ہیں ’’میں جیسا ہوں خود ہی جانتا ہوں۔‘‘ میں کیسا ہوں‘ کیا ہوں‘ اس سلسلے میں اپنی ایک پرانی ڈائری سے اقتباس درج ہے۔

’’انصار عجیب آدمی ہے… سوچ رہا ہوں آج ان حضرت کے متعلق بھی کچھ خامہ فرسائی ہو جائے۔ حضرت خود کو احساس برتری کا شکار بتلاتے اور اپنے آپ کو عقلمند ترین اشخاص میں شمار کرتے ہیں۔ حالانکہ حکیم جالینوس یہ کہہ چکے ’’احمق کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ خود کودانا خیال کرتا ہے۔‘‘ میں تو ان کی کمزوریوں سے واقف ہوں۔ لیکن جب کسی کے مقابلے پر آئیں تو ایسا چت گرتے ہیں کہ کپڑے جھاڑنے میں کافی دیر لگتی ہے۔

’’ خود کو بہت معصوم ظاہر کرتے ہیں‘ لیکن ان کی نگاہیں اتنی بے باک ہیں کہ مجھے تنبیہہ کرنی پڑتی ہے۔ سچ پوچھیے تو یہ واقعی عجیب آدمی ہیں۔ یہ میں ہوں یا انور (بھائی) جو اِن کی کمزوریوں سے واقف ہیں۔ ورنہ لوگ تو انہیں فرشتہ سیرت تصور کرتے ہیں۔ کہتے تو ہیں کہ بااصول ہوں‘ لیکن میرے اور انور کے خیال میں اتنا بے اصولآدمی شاید پیدا ہی نہیں ہوا۔ دوسروں کی برائی کرنے سے نہیں چوکتے پھر بھی اُمید یہی رکھتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے۔ انہی جیسے لوگوں کی اصلاح کے لیے بہادر شاہ ظفر بہت پہلے کہہ چکے ؎

نہ تھی حال کی کچھ ہمیں اپنی خبر‘ رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا‘ ہو وہ کیسا ہی صاحبِ فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی‘ جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا

حضرت دوسروں کو تلقین کرنے کے لیے جعفر برمکیؓ کا قول منظوم کر چکے۔ اللہ تعالیٰ انھیں خود بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے:
کسی نے پوچھا جعفر برمکیؓ سے
کہ عیب ہوتے ہیں کتنے آدمی میں
جواب اس کو دیا حضرت نے فوراً
کہ عیب ہوتے ہیں بے حد ہر کسی میں
مگر انساں کی خوبی ہے اک ایسی
اگر موجود ہو وہ آدمی میں
تو چھپ جاتے ہیں سارے عیب اس کے
نہیں ہوتا وہ رسوا زندگی میں
یہ پوچھا اس نے پھر‘ حضرت بتائیں
وہ خوبی کون سی ہے اور کیا ہے
جواب اس کو دیا تب آپ نے یہ
’’زباں پر قابو‘‘ کا رتبہ بڑا ہے
ویسے ایک اچھا انسان بننے کے بارے میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
فرشتہ سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
دردِ شقیقہ (Migraine)کی تشخیص

مجھے بنکاک پہنچے چند ہی روز ہوئے تھے کہ ایک روز سر میں شدید درد ہوا جو کئی گھنٹے رہا۔ پھر قے پر منتج ہو کے دھیرے دھیرے ختم ہوا۔ دماغی اور جسمانی طور پر مجھے کچھ کمزوری محسوس ہوئی چناںچہ ڈاکٹر کے پاس چلا گیا۔ اس نے میری ساری روداد سنی تو پھر سوال کیا کہ کیا کبھی ایسا درد پہلے بھی ہو چکا ہے؟ سوچنے پہ یاد آیا کہ چار سال قبل بھی اسی طرح کا سردرد ہوا تھا۔ آرام مجھے قے ہونے کے بعد ہی ملا تھا‘ حالانکہ اس روز میں خیالوں سے درد بھگانے کے لیے زبردستی رئیس احمدجعفری کا ضخیم ناول نازلی پڑھتا رہا‘ لیکن جوں جوں میں ناول کے صفحات الٹتا‘ درد بڑھتا رہا‘ درد سے نجات کے بعد میں نے آرام کیا اور اسے وقتی بے اعتدالی سمجھ کر کسی سے اس کا اظہار بھی نہیں کیا اور نہ کسی ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔

جب ڈاکٹر کو ہاں میں جواب دیا تو اس نے کہا کہ تم دردِ شقیقہ (Migraine)کا شکار ہو چکے۔ یہ درد اب وقفے وقفے سے تمھیں آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ لیکن گھبرانے یا پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔ یہ وقتی اور ذہنی اور جسمانی طور پر بے ضرر ہے۔ جب کبھی سر میں تکلیف محسوس ہو‘ بلاتاخیر درد کی گولی کھا لو۔ پھر یہ درد رک سکتا ہے۔ تاخیر کی صورت میں اپنے پورے وقت کے بعد ہی ختم ہو گا۔ اس مرض کاابھی کوئی علاج دریافت نہیں ہوا۔

مجھے بنکاک میں دوبارہ مرض نے پریشان نہیں کیا۔ لیکن جب واپس کراچی پہنچ گیا تو پہلے لمبے وقفے اور پھر دو تین مہینوں بعد اس درد نے حملہ شروع کر دیا۔ اس درد کی وجہ سے میں خود تو پریشان رہا ہی ساتھ بیوی اور بچوں کو بھی پریشانی میں مبتلا رکھا۔ درد زیادہ ہونے کی صورت کمرے میں پردے کھینچ کر تنہا لیٹ جاتا۔ کسی قسم کی آواز یا شور انتہائی ناگوارہوتا۔ سر دبانا یا چھونا گراں گزرتا۔ البتہ سر کے گرد چادر یا دوپٹہ لپیٹنے سے کسی قدر آرام محسوس کرتا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات سمجھ میں آئی کہ سر میں ذرا بھی بھاری پن محسوس ہو تو دو گولی پیناڈول کھا لو۔ ورنہ ذرا سی تاخیر پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دردِ شقیقہ کے حملے کا وقفہ بھی بڑھتا گیا۔ شدت میں بھی کمی آتی گئی۔ اب اللہ کے فضل و کرم سے اس مرض سے میری جان چھوٹ چکی۔
بنکاک کی قیامت خیز شب

تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں موسم برسات کا اپنا عجیب لطف ہے۔ کبھی ہلکی ہلکی‘ وقفے وقفے سے بارش ہوتی ہے اور کبھی موسلادھار! لیکن کراچی کی طرح سڑکیں زیرِ آب آنے یا ٹریفک معطل ہونے کی صورت کبھی نظر نہیں آئی۔ ایک شب ہاسٹل میں سارے لڑکے سو چکے تھے۔ اچانک گرج‘ چمک اور لگاتار بجلی گرنے کی تیز آوازوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ یوں محسوس ہوا کہ شاید صور پھونک دیا گیا ہے۔ ہر پاکستانی لڑکا مبہوت اپنے اپنے بستر پر بیٹھ گیا۔ اگر کوئی غسل خانے میں تھا تو اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ کمرے میں بستر پر جا کر لیٹ جائے۔ وہ خوفناک آوازوں اور بجلی و بادلوں کی تیز گَڑگَڑاہٹ سے ششدر ہو کر رہ گیا۔

میں تو یہی سمجھا کہ قیامت آ گئی۔ دل ہی دل میں دعائیں پڑھنے لگا۔ ہم دونوں ساتھیوں پر ایسا خوف طاری ہوا کہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔خیر اللہ اللہ کر کے یہ سلسلہ پندرہ منٹ بعد ٹوٹا اور پھر دھیرے دھیرے اختتام پذیر ہوا۔ میرا خیال تھا کہ آج بنکاک میں یقینا تباہی آئی ہو گی‘ خوش قسمتی سے ہم دونوں بچ گئے۔
اب سب لڑکے ہمت کر کے باہر نکلے۔ ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ باہر معمول کا ہنگامہ جاری تھا۔ اگلے دن جب تھائی ساتھیوں سے رات والے واقعے کا ذکر کیا تو انھوں نے بتایا ’’ہمارے لیے یہ کوئی خاص بات نہیں۔ اس طرح کی گرج چمک اور تیز بارش کا سامنا تو ہم اکثر کرتے ہیں اور اس کے عادی ہو چکے۔‘‘ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ہمارے لیے وہ شب قیامت صغریٰ سے کم نہ تھی۔

پاک بھارت جنگ
جنگ ۱۹۷۱ء میں کراچی دشمن کے خاص نشانے پر تھا۔ وہاں پاک بحریہ کا ہیڈکوارٹر واقع تھا تیل کے ذخائر بھی تھے۔ دوران جنگ آئے بھارتی طیارے کراچی پر حملہ کرتے۔ بحریہ والے ’’اِک اِک گن‘‘ چلاتے تاکہ انھیں بھگا سکیں۔ اسی وقت سائرن بجتے اور شہر تاریکی میں ڈوب جاتا۔ کوئنس روڈ پر واقع ہمارا گھر کیماڑی کی بندرگاہ سے قریب تھا۔ اس لیے ہم لوگ حفظ ماتقدم کے طور پر خالہ کے پاس نارتھ ناظم آباد منتقل ہو گئے۔

تین چار روز جب سائرن نہیں بجا اور خاموشی رہی تو ایک روز ہم لوگوں نے سوچا کہ چل کر گھر کی خبر لیں اور بچوں کے اوراپنے کپڑے وغیرہ لے آئیں۔ ہمیں شام کو واپس آنا تھا۔ شام پڑی تو سوچا کہ چلو آج رات گھر پر ہی گزار لیتے ہیں۔ اسی رات ہماری شامت آ گئی۔ رات ایک بجے کے قریب خطرے کا سائرن بجنے لگا۔ ہم لوگوں نے الماری کے درمیانے راستہ میں حفاظت گاہ بنا رکھی تھی۔ اس میں تینوں بچوں کو لیے بیٹھ گئے۔

کچھ دیر میں تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بم گرنے کی آوازیں آنے لگیں۔ یہ بم قریب ہی ڈیفنس‘ سلطان آباد‘ حبیب پبلک اسکول‘ حاجی کیمپ اور آئل ٹرمینل پر گرائے گئے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گھر بری طرح ہل رہا ہے۔ دروازے‘ کھڑکیاں جن کے شیشوں پر کالے کاغذ لگے تھے‘ خوفناک آواز میں بج رہے تھے۔ چند کھڑکیاں زمینی جھٹکوں سے کھل گئیں۔ ہم نے دیکھاکہ بھارتی جہاز بہت کم اونچائی پر اڑتے جا رہے ہیں۔ ایک جہاز نے فاسفورس بم پھینکا تو چاروں طرف روشنی پھیل گئی۔اس نے اطمینان سے آئل ٹرمینل پر بم گرایا اور واپس لوٹ گیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ یہ جہازہماری اِک اِک گنوں کی حد سے نیچی پرواز کر رہے تھے‘ اس لیے نشانے پر نہ آ سکے۔ جب تک بمباری جاری رہی ہم لوگ بچوں کو سینوں سے لگائے خوفزدہ بیٹھے رہے۔ ان کے کانوں میں ہم نے پہلے ہی روئی ٹھونس دی تھی۔ مجھے یہی خدشہ ستاتا رہا کہ ہمارا آخری وقت آ پہنچا۔ جس طرح سے یہ گھر ہل رہا ہے‘ ہم کسی بھی لمحے اس کے ملبے تلے دب کا جام شہادت نوش کر جائیں گے۔ آخر خطرہ ختم ہونے کا سائرن بجا۔ میں نے پناہ گاہ سے نکل کر بتی جلائی۔ یہ دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ ہر چیز صحیح سالم تھی۔ البتہ قریب سے چیخ پکار اور ایمبولینس و فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی مستقل آوازیں آ رہی تھیں۔

سلطان آباد‘ حبیب پبلک اسکول کے علاوہ ہمارے گھر سے قریباً ایک فرلانگ دور بم گرا تھا۔ اس نے پھٹتے ہی زمین میں کنوئیں جیسا بڑا گڑھا بنا دیا۔ یہ ایک کچی آبادی پر گرا تھا اس لیے بہت لوگ شہید ہوئے۔ پھر خالہ کا فون آیا‘ وہ بہت ناراض تھیں۔بولیں‘ تم لوگوں کو وہاں رات رکنے کی کیاضرورت تھی؟ دن کا اُجالا پھیلتے ہی ہم نے فوراً گاڑی نکالی اور خالہ کے پاس چلے گئے۔ پھر جب تک جنگ کا خاتمہ نہیں ہو گیا‘ ہم نے کوئنس روڈ کا رخ نہیں کیا۔

مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کو شکست ہوئی۔ جنرل نیازی نے بھارتی جنرل اروڑا سنگھ کے سامنے پلٹن میدان میں اپنی بیلٹ اُتار کر میز پر رکھی‘ اپنا پستول اس کے ہاتھوں میں دیا پھر پچانوے ہزار قیدی بھارتی فوج کے حوالے کر دیے۔

یوں مشرقی پاکستان علیحدہ ملک بنگلہ دیش بن گیا۔ شکست میں ہمارے فوجی حکمرانوں کا بڑا ہاتھ تھا‘ کچھ سیاسی طالع آزمائوں نے ملک کے دو ٹکڑے ہونے میں اپنی کامیابی سمجھی اور اقتدار پا لیا۔ انہی دنوں بھارت کی وزیراعظم نے کہا’’آج دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق ہو گیا اور ہم نے اپنے پرکھوں کا ہزار سال پرانا بدلہ لے لیا۔‘‘ اس وقت تمام مغربی پاکستانی انتہائی صدمے سے دوچار تھے۔ خود مجھ سے اس دن کھانا نہیں کھایا گیا۔ کچھ دن طبیعت بہت بے چین اور پریشان رہی۔ پھر دھیرے دھیرے وقت نے دل پر صبر کا مرہم رکھ دیا۔

اس ڈرامے کے تین بڑے کرداروں کی جس طرح موت واقع ہوئی‘ وہ قدرت کا ایسا بھیانک انتقام ہے جس سے زندہ رہنے والوں کو سبق لینا چاہیے۔ بھٹو کو پھانسی کی سزا ہوئی اور اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی غیرفطری موت سے ہمکنار ہوئے۔ مجیب الرحمن اپنے پورے خاندان سمیت اپنے ہی فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہوا‘ اس کی صرف دو بیٹیاں زندہ بچ سکیں جو ملک سے باہر تھیں۔اندرا گاندھی اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھوں ماری گئی۔ جبکہ اس کے بھی دو بیٹے غیرفطری طبعی موت کا شکار ہوئے۔

یہ سب کچھ ہوا لیکن ہمارا اور ہمارے حکمرانوں کا حال اب پہلے سے بھی زیادہ بُرا ہے۔ ہم من حیث القوم ہر قدم پستی کی طرف بڑھا رہے ہیں۔ ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے

؎
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
(مولانا ظفر علی خاں)
بھوت کارندے (Ghost Workers)

۱۹۷۳ء میں بلدیہ کراچی کے محکمہ انجینئرنگ میں گریڈ ۱۸ سے گریڈ ۱۹ میں ترقی کا معاملہ بورڈ میں پیش ہوا۔ بورڈ کی صدارت ایم اے مجید‘ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کر رہے تھے۔ پانچ آدمی انٹرویو کے لیے بلائے گئے۔ دو اپنی سینیارٹی کی وجہ سے چن لیے گئے۔ باقی تین میں مجھے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک صاحب سے سینئر ہونے کے باوجود سب سے آخر یعنی پانچویں نمبر پررکھا گیا۔ وجہ یہ بیان کی گئی کہ مجھے عملی کام (Construction)کا تجربہ نہیں۔

اس بات کو ایڈمنسٹریٹر نے نوٹ کیا کہ یوں تو ہمیشہ ڈیزائن آفس میں کام کرنے کے باعث میرے ساتھ زیادتی ہوتی رہے گی۔ لہٰذا انھوں نے ازخود میرا تبادلہ ایگزیکٹو انجینئر ڈویژن نمبر۲ کی حیثیت سے کر دیا۔ تب اسی ڈویژن میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ہوتے تھے۔ یہ ڈویژن جنوب میں لائنزایریا‘ شمال میں گلشن اقبال‘ مشرق میں محمود آباد اور مغرب میں لیاری ندی تک کے درمیان میں آنے والے تمام علاقوں پر مشتمل تھا۔

جب میں نے اپنے ڈویژن کی کارکردگی پر غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ چھوٹے چھوٹے کام میرے کہنے کے باوجود وقت پر نہیں ہوتے۔ مزید تحقیقات کی تو پتا چلا کہ عملہ ناکافی ہے۔ دوسرے مرمت کا سامان رقم خرچ ہونے کے باوجود اسٹور میں وقت پر موجود نہیں ہوتا۔ یہ جان کر میں چوکنا ہو گیا۔ سب سے پہلے میں نے کارکنوں (جمعدار‘ مالی وغیرہ) کی حاضری چیک کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک دن بغیر بتائے حاضری کے وقت آٹھ بجے اسٹور پہنچ گیا جہاں ان کی حاضری لگتی تھی۔

وہاں سب انجینئر جنھیں حاضری لینی تھی‘ خود موجود نہیں تھے۔ رجسٹر ان کی دراز میں بند تھا۔ وہ ساڑھے آٹھ بجے تشریف لائے۔ میرے اچانک آنے اور حاضری رجسٹر مانگنے پر سٹپٹائے۔ بہرحال رجسٹر دیا۔ جسے کھولتے ہی میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اُس روز مہینے کی دس تاریخ تھی‘ لیکن حاضری ایک دن کی بھی نہیں لگی تھی۔ پتا چلا کہ سب انجینئر مہینے کی آخری تاریخ پراپنی مرضی سے سب کی حاضری لگاتے اور اس کا ’’محنتانہ‘‘ وصول کرتے ہیں۔

میں نے پونے نو بجے اپنے سامنے حاضری لگوائی تو پتا چلا کہ ۹۵ ملازمین میں سے جن میں سپروائزری عملہ (۵ عدد) بھی شامل تھا‘ صرف چالیس کارکن موجود ہیں۔ بقایا پچاس کارکن غیرحاضرتھے۔ سب انجینئر نے مختلف توجیہات پیش کیں اور کہا کہ ان میں سے بیشترافسروں کے گھر کام کرتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ سب کو بلا لیں‘ میں اگلے ہفتہ پھر حاضری چیک کروں گا۔ تاریخ کا تعین یوں نہیں کیا کہ وہ جعلی کارکنوں سے تعداد پوری نہ کر دیں۔ میرا یہ اعلان موصوف نے فوراً ورکر یونین تک پہنچا دیا جو اِن دنوں خاصی فعال تھی۔

یونین کے لیڈر میرے پاس آئے اور مجھے سمجھانے لگے کہ میں ایگزیکٹو انجینئر ہوں‘ میرے ماتحت اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر‘ اسسٹنٹ انجینئر صاحبان آتے ہیں اور پھر ان کے ماتحت سب انجینئر صاحبان ہیں۔ یہ میرے فرائض منصبی کے خلاف ہے کہ اتنے بڑے عہدے پر ہوتے ہوئے میں سب سے کم گریڈ (کارکنوں کا گریڈ ایک تھا) والوں کی حاضری چیک کروں۔

میں نے ان سے کہا کہ مجھے کہاں روز روز اتنی فرصت ہے کہ صبح صبح کارکنوں کی حاضریاں چیک کرتا پھروں۔ لیکن مجھے اپنے علاقے میں فوری کام چاہیے۔ میرے پاس شکایت آئی کہ کارکن کم ہیں۔ میں مزید پچاس نئے کارکنان کی حکام بالا سے منظوری لے لوں تو میرے احکام کی فوری تعمیل ہو سکے گی۔ میرے علم میں ہے کہ ہمارے پاس چار ٹرک ہیں۔ ان پر اگر بیس مزدور فی ٹرک بھیجے جائیں تو ۸۰ مزدور کافی ہوں گے۔ جبکہ مجھے مزدورکہیں کام کرتے کسی سڑک پہ نظر آئے تو ان کی تعداد آٹھ‘ دس سے زیادہ نہیں تھی۔ اب میں مزید بغیر بتائے حاضری چیک کروں گا۔ سب انجینئر رجسٹر پر جتنے کارکن ہیں‘ ان کی تعداد پوری دکھائیں اور انھیں صحیح طرح کام پر لگا دیں تاکہ سڑکوں کے ٹوٹے حصے کم وقت میں درست ہو جائیں۔ تب مجھے حاضری لینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

جب میں نے بغیر اطلاع کے دو دفعہ حاضری لی تو کارکنوں کی تعداد ۴۰ سے بڑھ کر ۶۵ ہو گئی۔ ان میں ۱۵ کارکن وہ بھی شامل تھے جو افسروں کے گھر کام کر رہے تھے۔ تیس کارکن سرے سے غائب پائے گئے۔ ان میں سے چند وفات پا چکے تھے۔ چند نوکری چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ بقایا جعلی کارکن؍بھوت کارندے (Ghost Workers)تھے۔ مزے کی بات یہ سبھی سالہاسال سے اوورٹائم بھی لے رہے تھے۔

میں نے اس اسکینڈل کی جامع رپورٹ بنا کر حکام بالا کو بھجوا دی۔ سب انجینئر کو توفوراً معطل کروا دیا۔ حکام بالا نے معاملہ اینٹی کرپشن والوں کو دے دیا۔ یہ خبر عام بھی نہیں ہوئی تھی کہ سب سے پہلے ’’ڈان‘‘ اخبار نے تفصیلی خبر شائع کی۔ ’’بھوت کارندے‘‘ (Ghost Workers) کے عنوان سے ایڈیٹوریل لکھا اور دوسرے محکموں میں بھی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا۔

لیکن اس ساری محنت اور دوڑ دھوپ کا صلہ مجھے کیا ملا؟ یہ کیس اینٹی کرپشن کورٹ میں چلا گیا‘ جہاں مجھے ہر پیشی بھگتنا پڑتی۔ بلدیہ کے وکیل مجھے کورٹ میں بٹھا کر دوسرے مقدمات بھگتانے چلے جاتے۔ سب انجینئر نے کرمنل کیسز کرنے والے مشہور وکیل‘ مظفرحسین شاہ کو اپنا وکیل مقرر کر لیا جو بعد میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر بھی بنے۔ وہ کورٹ میں پیش ہو کر لمبی تاریخ لے لیا کرتے۔ پھر اس نے اتنی لمبی تاریخ لی کہ کچھ پتا ہی نہیں چلا‘ کیس کا کیا بنا۔ حالانکہ میں کیس داخل ہونے کے بیس سال بعد ریٹائر ہوا۔ درمیان میں یہ ضرور معلوم ہوا کہ متعلقہ سب انجینئر کی حکومت سندھ کے ایک بڑے آفیسر سے رشتہ داری ہے۔ اس نے معاملہ دبایا اور موصوف کو پاکستان سے باہر بھجوا دیا۔ انھوں نے وہاں جا کر کیا گل کھلائے‘ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہاں تو وہ لاکھوں روپے ہڑپ کر گئے اور ان کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکا۔
بددماغ وزیر

۱۹۸۹ء میں پیار علی الانہ ایک سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ احساس برتری کا شکار (اُن کی گردن ہمیشہ اکڑی رہتی)‘ بدماغ اور کانوں کے کچے آدمی تھے۔ سندھ اسمبلی میں اپنی جماعت کی طرف سے کراچی کی نمائندگی کرتے اور پڑھے لکھے آدمی تھے‘ اس لیے صوبائی وزیرتعلیم بنا دیے گئے۔ ان کے والد‘ غلام علی الانہ (جی الانہ) انتہائی شریف‘ بااخلاق‘ عظیم دانشور اور کراچی کے میئر رہ چکے تھے۔

ان دنوں بلدیاتی نظام قائم نہیں تھا اور شہر کا انتظام ایڈمنسٹریٹر کے ہاتھوں میں تھا۔ میری خوش قسمتی کہ بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر‘ ایم اے مجید(محمد عبدالمجید) بنائے گئے۔ وہ انتہائی سمجھدار‘ مردم شناس اور خاص طور پر مجھ پر مہربان تھے۔ کچھ سال بعد وہ جب پچاس سال کے ہوں گے‘ اچانک دل کا شدیددورہ پڑنے پر انتقال کر گئے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی قبر کو تاحدِ نگاہ روشن رکھے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔

میں وزیرتعلیم کے حلقہ انتخاب میں ایگزیکٹو انجینئر تھا۔ ویسے تو بلدیہ والوں کا وزرا سے واسطہ نہیں پڑتا۔ لیکن وزیر صاحبان ان دنوں اپنے علاقوں کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کونسلروں کے فرائض بھی انجام دے رہے تھے۔ اس لیے ان کے نمائندے آئے دن افسروں کے پاس اپنا کام کرانے چلے آتے۔ خوامخواہ کادبائو ڈالتے اور غلط کام نہ ہونے کی صورت میں وزیروں سے جا کر افسروں کے خلاف الٹی سیدھی باتیں کیا کرتے۔

وزیر تعلیم کو مجھ سے بغض للہیٰ ہو گیا۔کچھ لوگوں نے یہ کہہ کر وزیر تعلیم کے کان بھرے کہ میں جماعت اسلامی کا آدمی ہونے کی وجہ سے ان کے کام کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتا ہوں۔ ایک دفعہ انھوں نے وزیر بلدیات‘ جام صادق علی سے کہا کہ مجھے گھربٹھا دیا جائے۔ لیکن وزیر بلدیات نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سے بات کرنے کے بعد ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اب ان کی ناراضی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔

ایک دن انھوں نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کے پاس میٹنگ رکھوائی۔ وزیرتعلیم کے آدمیوں نے مجھے اطلاع دی کہ اب منسٹر صاحب تمھاری اچھی طرح خبر لیں گے۔ آج وہ اپنے علاقے سے تمہارا تبادلہ کرا کر چھوڑیں گے۔ میں نے جواب میں یہی کہا کہ اللہ مالک ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کے دفتر میں میٹنگ شروع ہوئی۔

جب میرے ڈویژن؍علاقے کی بات آئی تو منسٹر صاحب نے تلخ لہجے میں کہا ’’یہ افسر میراکوئی کام نہیں کرتا۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ میری مزیدبے عزتی کرتے‘ میں فوراً اُٹھ کھڑا ہوا۔ میرے دائیں بائیں بیٹھے دوسرے افسران میری قمیص پکڑ کر کھینچنے لگے تاکہ میں بیٹھ جائوں۔ لیکن میں نے کھڑے ہوتے ہی کہا ’’آپ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔‘‘ پھر ان کے سامنے ان کاموں کی فہرست پیش کی جو میرا محکمہ مختص کردہ رقوم کے مطابق انجام دے چکا تھا۔ ہاں ان سڑکوں پر کام نہیں ہوا جن پر موصوف کے کارندے غیرقانونی طور پر کرانا چاہتے تھے۔ وزیر صاحب کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

فرشتہ رحمت کی مدد
ستمبر ۱۹۷۴ء کی بات ہے۔ میری خالہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی۔ (چند دن بعد اُن کا انتقال ہو گیا) انھیں لیاقت نیشنل اسپتال داخل کرایا گیا۔ ہم لوگ چنددن کے لیے اپنے نارتھ ناظم آباد والے مکان میں رک گئے۔ میں روز صبح اسپتال چلا جاتا۔ خالہ کے پاس کچھ دیر رکنے کے بعد اپنے دفتر چلا جایا کرتا۔ ایک دن صبح جونہی بس کے قریب سے گزرا تو گیارہ بارہ سالہ لڑکی بھاگتی ہوئی اچانک سامنے آ گئی۔ میں نے فوراً بریک لگائی مگر وہ بونٹ سے ٹکرا ہی گئی۔

میں گھبرایا ہوا گاڑی سے نیچے اترا۔ لڑکی گاڑی کے پیچھے سڑک پر گری پڑی تھی۔ بس اسٹاپ پر آٹھ‘ دس آدمی کھڑے تھے۔ کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ سوچا‘ اب تو میں بڑی پریشانی میں پھنسنے والا ہوں۔ بہرحال پہلے لڑکی کو اسپتال لے جائوں‘ پھر پولیس کو اطلاع دوں گا۔ میں ابھی لڑکی کو اٹھانے بڑھا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کو مجھ پر رحم آ گیا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس حادثے میں میری ذرا برابر غلطی نہیں تھی۔ لڑکی اچانک گاڑی کے سامنے آ گئی تھی۔

ہوا یہ کہ اللہ نے ایک رحمت کا فرشتہ بھیج دیا۔ وہ بھاگ کر آیا اور لڑکی کو اٹھایا تو اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی۔ وہ بس چوٹ لگنے کے صدمے سے رو رہی تھی۔ آدمی نے اسے سہارا دے کر چلایا‘ ہاتھوں کو اوپر نیچے کر کے دیکھا‘ وہ صحیح سالم تھے۔ البتہ چہرے پر بونٹ سے ٹکرانے کے باعث نیل پڑ گیا تھا۔ میری خوش قسمتی کہ وہ سنگین نوعیت کے حادثے سے بچ گئی۔ دراصل ٹکر لگنے کے بعد جب گری تو اس کا جسم گاڑی کے نیچے لمبائی میں پہیوںکے متوازی رہا۔ اس لیے گرنے کے بعد وہ ٹائروں کے نیچے نہیں آئی۔میں نے اس فرشتہ صفت آدمی سے کہا کہ اسے اسپتال لے چلتے ہیں۔

وہ بولا‘ پہلے اس کے گھر چلتے ہیں تاکہ وہاں سے کسی کو لے لیں۔ لڑکی کے ساتھ اس کا چھوٹا بھائی بھی تھا‘ جسے ہم نے نہیں دیکھا۔ وہ سڑک کی دوسری جانب کھڑا تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ بہن گاڑی کے نیچے آ گئی ہے‘ تو روتا اور بھاگتا ہوا گھر والوں کو اطلاع دینے پہنچا۔ وہ کریم آباد والے پل کے نیچے جھونپڑوں میں رہتے تھے۔ جب انھوں نے حادثے کی بابت سنا تو ڈنڈے لیے گاڑی والے کو مارنے نکلے۔ میں گاڑی چلا رہا تھا۔ وہ آدمی پیچھے لڑکی کے ساتھ بیٹھا۔ لڑکی ہمیں اپنے گھر کا پتا بتاتی رہی۔

جب ہم جھونپڑوں کے قریب پہنچنے والے تھے کہ دیکھا‘ دس پندرہ آدمی لٹھ لیے چلے آ رہے ہیں۔ لڑکی نے بتایا کہ وہ اس کے اعزہ ہیں۔ تب آدمی نے مجھ سے کہا‘ آپ گاڑی روک دیں‘ میں اِن سے بات کرتا ہوں۔ اتنے میں وہ سب گاڑی کے قریب پہنچ گئے۔ انھوں نے لڑکی کو گاڑی میں بیٹھے دیکھا‘ تو اسے گھیرے میں لے لیا۔ وہ سب مشتعل ہو کر شور مچا رہے تھے۔ اس آدمی نے انھیں کہا ’’پہلے میری بات سنو!لڑکی کو کوئی گاڑی والا ٹکر مار کر بھاگ گیا ہے۔ میں کھڑا یہ ماجرا دیکھ رہا تھا۔ یہ صاحب وہاں سے گزر رہے تھے‘ ان کی مہربانی کہ انھوں نے گاڑی روکی۔ ہم اسے گاڑی میں ڈال کر تمہارے پاس لائے ہیں تاکہ اسپتال لے جائیں۔‘‘

یہ سن کر وہ لوگ خاموش ہو گئے۔ انھوں نے لڑکی کو گاڑی سے اتارا‘ اسے چلا پھرا کر دیکھا‘ بات چیت کی کہ تمہیں تکلیف تو نہیں؟ لڑکی اسپتال جانے سے گھبرا رہی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے اور اسپتال نہیں جائے گی۔ پھر اس کے گھر والوں نے ہمارا شکریہ ادا کیا کہ اسے ان کے پاس پہنچا دیا۔ اب وہ رخصت چاہتے تھے۔ میرے ساتھی نے مجھے کہا ’’جہاں آپ نے اتنی ہمدردی کی ہے‘ ان غریب لوگوں کو کچھ رقم دے دیجیے تاکہ وہ بچی کو دودھ وغیرہ پلا سکیں۔‘‘ میں نے انھیں چند سو روپے دیے۔ یوں اس آدمی کی حاضردماغی سے میں ایک بڑی مصیبت میں گرفتار ہونے سے بچ گیا۔

ابھی میںلڑکی کے گھر والوں کو رقم دے ہی رہا تھا کہ اس فرشتہ صفت انسان نے مجھے سلام کیا اور رخصت چاہی۔ میں نے بہت کہا کہ گاڑی میں بیٹھیے‘ میں آپ کو منزل تک پہنچا دوں‘ لیکن وہ ہاتھ ہلاتا پیدل ہی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

غلام ابن غلام ابن غلام
میں ان دنوں بلدیہ عظمیٰ کے ڈویژن نمبر ۲ میں منتظم انجینئر (Executive Engineer) تھا۔ میرے ماتحت ایک نائب قاصد‘ نبی یار خان مجھ سے عمر میں بڑے‘ نہایت ایماندار اور نستعلیق آدمی تھے۔ میرا ہر طرح سے خیال رکھتے۔ میں ان کی بڑی عزت کرتا تھا۔ ہمیشہ صاف ستھری وردی میں ملبوس رہتے اور گفتگو بہت ہی مہذب طریقے سے کرتے۔ پاکستان آنے سے قبل کسی راجواڑے کے کارندے رہ چکے تھے۔ اس معاشرے کا اثر ابھی زائل نہیں ہوا تھا۔ ایک دن مٹھائی کا ڈبا لے کر آئے۔ دعا سلام کے بعد میرے استفسار پر کہ مٹھائی کس خوشی میں لائے ہیں؟ فرمانے لگے ’’حضور! غلام کے غلام کے یہاں گزشتہ رات ایک اور غلام کا اضافہ ہوا ہے۔‘‘

یہ سن کر پہلے مجھے حیرت ہوئی‘ پھر سمجھ گیا کہ خاں صاحب کے ہاں پوتا ہوا ہے۔ میں نے انھیں مبارکباد دی‘ تو بہت خوش ہوئے۔ یہ چھوٹا غلام ۱۹۷۵ء میں آیا تھا۔ اب تو غلام ابن غلام ابن غلام کے ہاں بھی غلام آ گیا ہو گا۔
امام کعبہ کی پاکستان آمد

۷۶۔۱۹۷۵ء کی بات ہے۔ ایک دن حکومت سندھ کا یہ نادرشاہی حکم بہ توسط ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ ملا کہ آغا خان اسپتال کے قریب کھلے میدان میں امام کعبہ نماز پڑھائیں گے‘ چناںچہ وہاں نماز کا بندوبست ۲۴ گھنٹوں میں کر دیا جائے۔ سب سے مشکل کام میدان ہموار کرا کے اس پر صف بندی کے لیے چونے سے نشان لگوانا تھا۔پھر وضو کی جگہ کا بھی انتظام کرنا تھا۔ نیز امام صاحب کے لیے قدرے اونچا چھوٹا سا سایہ دار پلیٹ فارم (مصلّٰی) بنانا پڑا تاکہ وہ نمازیوں کو دور سے نظر آ سکیں۔

ساری رات جاگ کر عملے اور ٹھیکیدار کے آدمیوں نے کام کیا۔ اللہ کے فضل سے سارا کام بروقت مکمل ہو گیا۔ مقررہ دن نماز پڑھنے کے لیے خلقت اُمڈ آئی۔لوگ غالباً یہی سمجھ رہے تھے کہ امام کعبہ کے پیچھے نماز پڑھنے سے زیادہ ثواب ملے گا۔ نماز ختم ہوئی۔ جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا‘ مجمع ہڑبونگ کا شکار ہو گیا۔ ہر شخص امام صاحب کو قریب سے دیکھنے کا متمنی تھا۔ بڑی مشکل سے امام صاحب کو سیکیورٹی والوں نے اپنے حلقے میں لے کر گاڑی تک پہنچایا۔ لوگ پھر امام کعبہ کے مصلّٰی پر لگی جھنڈیوں اور آرائش کی دیگر اشیا کو تبرک سمجھ کرلوٹنے لگے۔ انھوں نے سوائے تخت کے کوئی چیز نہ چھوڑی۔

ہم لوگ سعودی عرب کے فرمانروا حضرات اور وہاں کا آئمہ کرام کا کس قدر احترام کرتے ہیں‘ یہ ایک اور واقعے سے بھی عیاں ہے۔ ۱۹۵۵ء میں سعودی عرب کے شاہ سعود پاکستان تشریف لائے۔ اعلان ہوا کہ وہ نماز جمعہ پولو گرائونڈ(موجودہ باغ قائداعظم) میں پڑھائیں گے۔ اس کا انتظام بلدیہ عظمیٰ کراچی نے کیا تھا۔ شاہ سعود کو دیکھنے کے اشتیاق میں ہم لوگوں نے بھی باغ قائداعظم میں نماز پڑھنے کا ارادہ کیا۔ اتفاق سے اسی روز ہمارے دھوبی جو کافی بزرگ تھے‘ اپنی گدھا گاڑی پر کپڑے لیے آ گئے۔ وہ یہ پروگرام بنا کر آئے تھے کہ شاہ سعود کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے۔ ہم انھیں ساتھ ہی نماز پڑھنے لے گئے۔

لیکن شاہ سعود کے اصرار پر مولانا احتشام الحق تھانوی نے نماز جمعہ کی امامت کرائی۔ مولانا کوشاہ سعود نے پہلے ہی ایک خلعت عطا کر دی تھی جسے پہن کر وہ آئے۔ عربی لباس میں عرب ہی معلوم ہوتے تھے۔ ماشااللہ ان کی قرأت بہت عمدہ تھی۔ نماز احسن طریقے سے پوری ہوئی۔ لوگوں نے نماز کے تقدس کوبرقرار رکھا۔ ہم لوگ واپس آ رہے تھے تو بزرگ دھوبی فرمانے لگے ’’ بابو! نماز پڑھنے کا مزا آ گیا۔ مکہ کے بادشاہ کی قرأت کتنی اچھی تھی۔‘‘

ہم لوگوں نے ان کی سرشاری دیکھ کر مناسب نہیں سمجھا کہ انھیں بتائیں بابا‘ نماز مولانا احتشام الحق تھانوی نے پڑھائی ہے۔ مکہ کے بادشاہ نے نہیں۔ شاہ سعود کی آمد کے موقع پر ہی کراچی میں سعود آباد کی مشہور آبادی وجود میں آئی۔
کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا قیام

علاقہ لیاری میں ۱۹۷۶ء میں ایک چھے منزلہ عمارت (بسم اللہ بلڈنگ) اچانک سحری کے وقت زمیں بوس ہو گئی۔ اس حادثے میں ڈیڑھ سو کے قریب لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تب بلدیہ کے محکمہ بلڈنگ کنٹرول کے سربراہ اتنے خوفزدہ ہوئے کہ چھٹی لے کر گھر بیٹھ گئے اور پھر مستعفی ہوئے۔ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ نے بلڈنگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کا اضافی چارج مجھے دے دیا۔ میں اس وقت ڈائریکٹر انجینئرنگ ڈیزائن کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ میں فروری ۱۹۷۹ء تک اس محکمے کا سربراہ رہا۔

اس زمانے میں کے ڈی اے (کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی) الگ ادارہ تھا۔ اب دونوں کو ملا کر نیا ادارہ بنایا گیا۔ جسے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (K.B.C.A) کا نام ملا۔ اس کا سربراہ چیف کنٹرولر بلڈنگز کو بنایا گیا۔ یہ ڈپارٹمنٹ بنانے کی ابتدائی وجہ انتہائی مضحکہ خیز تھی۔ ہوا یہ کہ بلدیہ عظمیٰ کے بلڈنگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کا ایک انسپکٹر گورنر صاحب کی بہن کے گھر پہنچا جو زیرتعمیر تھا۔ وہاں اس نے کچھ غلط کام ہوتے دیکھے جنھیں نظر انداز کرنے کی خاطر اس نے رشوت طلب کر لی۔

اس امر کی شکایت بہن نے بھائی سے کر دی۔ گورنر کے حکم پر بڑوں نے سر جوڑا اور حل یہ نکالا کہ ایک نیا ادارہ بنایا جائے۔ اس میں اختیار کے مجاز ۱۸ گریڈ کے افسر ہوں۔ ان کا سربراہ ۱۹ گریڈ کا افسر بنے اور نچلے عملے کے اختیارات کم سے کم کر کے انھیں غیرفعال بنا دیا جائے۔ یوں کرپشن میں کمی ہو جائے گی۔ جب بڑوں کا یہ فیصلہ آخری مرحلے میں تھا تو مجھے بھی طلب کر لیا گیا۔ گورنر صاحب کی زیرصدارت آخری فیصلے سے قبل طے ہو گیا تھا کہ میں نئے ادارے کا چارج سنبھال لوں گا۔

مجھ سے پوچھا گیا کہ نئے ادارے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ بے شک آپ یہ ادارہ قائم کر لیں‘ لیکن اگر افسروں کی تنخواہ نہیں بڑھی تو کرپشن چھوٹی سے بڑی سطح پر چلی جائے گی۔ میری بات سے گورنر صاحب کے مشیروں نے اتفاق نہیں کیا۔ چناںچہ میری رائے کے برخلاف نیا ادارہ قائم کر دیا گیا۔ تب میں خاموشی سے لمبی رخصت پر چلا گیا۔ تقریباً دو سال بعد میئر عبدالستار افغانی کے اصرار پہ بلدیہ عظمیٰ اس وقت واپس آیا جب میری تقرری بحیثیت سپرنٹنڈنگ انجینئر کی گئی۔

کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بے شمار افسر بھر لیے گئے۔ پہلے بلدیہ میں کل دو افسر (آرکیٹکٹ کنٹرول اور اسسٹنٹ کنٹرولر) اور کے ڈی اے میں بھی دو ہی افسر پورے کراچی کو کنٹرول کرتے تھے۔ اب چند دن بعد ہی اتھارٹی کے افسر اپنے ہاتھ دکھانے لگے جس کا مجھے پہلے ہی خدشہ تھا۔ یہ ڈپارٹمنٹ رشوت کھانے کے معاملے میں کے ڈی اے کے دوسرے محکموں سے بازی لے گیا۔ خاص طور پر بلڈرز نے غلط کام کروانے کے لیے اوچھے حربے استعمال کیے۔ یہ محکمہ بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی روکنے میں بری طرح سے ناکام رہا۔ بلکہ کہتے ہیں کہ بائی لاز کی خلاف ورزی ان کی ناک کے نیچے خود انہی کے مشورے سے ہوتی رہی۔ دن بدن اس محکمے کے حالات خراب تر ہوتے گئے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں‘ جو ایک بلڈنگ انسپکٹر کے چند روپے رشوت طلب کرنے کی وجہ سے وجود میں آیا۔
(اس دلچسپ آپ بیتی کی آخری قسط اگلے شمارے میں ملاحظہ فرمائیے)

 (یہاں سے غلطیاں لگنے والے ہیں۔ خالد محی الدین)

برائے شمارنومبر ۲۰۱۴ء
وزیر کی سفارش

یہ مئی ۱۹۷۷ء کی بات ہے۔ جام صادق علی کا شمار پی پی پی حکومت کے دبنگ وزرا میں ہوتا تھا۔ ایک بڑا بلڈر ایم اے جناح روڈ پر ماسٹر پلان کے خلاف نقشہ منظور کرانا چاہتا تھا۔ اس نے جام صاحب سے مدد چاہی۔ انھوں نے ایڈمنسٹر بلدیہ عظمیٰ جناب مجید کو فون کر کے کہا کہ یہ نقشہ پاس کروا دو۔ مجیدصاحب نے معذرت کی کہ نقشہ پاس

کرنے والے محکمہ کا افسر گو ان کا ماتحت ہے‘ لیکن وہ کبھی غلط کام نہیں کرتا۔ لہٰذا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ خود اس سے بات کر لیں۔ مجید صاحب نے پھر فون کرکے مجھے جام صاحب سے ہوئی بات بتائی اور کہا کہ تم ہرگز ان سے یہ مت کہنا کہ تمہاری مجھ سے بات ہو چکی۔ کچھ وقفے کے بعد جام صاحب کے پی اے کا فون آیا کہ منسٹر صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ فوراً جام صاحب کی آواز سنائی دی ’’میں جام صادق علی بول رہا ہوں۔ میں نے کہا‘ سائیں سلام علیکم۔ انھوں نے سلام کا جواب دیا‘ پھر میری خیر و

عافیت دریافت کرتے رہے۔ پھر میرے پروموشن کی بات کی۔ میں نے بھی جواباً کہا کہ ان کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی فکر نہیں۔ ان شااللہ میرا پروموشن جلد ہو جائے گا۔ جب انھوں نے پانچ منٹ تک اِدھر اُدھر کی بات کر لی تو مطلب پر آئے‘ کہنے لگے ’’ایم اے جناح روڈ پر فلاں جگہ کا نقشہ پاس کرنا ہے‘ کام ہو جائے گا؟
میں نے کہا سر! بالکل ہو جائے گا۔ لیکن میری ایک گزارش ہے۔ اگر وہ پوری ہو جائے تو۔

بولے ’’بولو کیا کہنا چاہتے ہو۔‘‘
میں نے کہا ’’سر! مجھے آپ لوگوں نے اس لیے یہاں بٹھایا ہے کہ میں عوام کی خدمت قوانین کے اندر رہتے ہوئے کروں۔ یہ قوانین آپ ارکان اسمبلی بناتے ہیں۔ ان کی اگر خلاف ورزی کروں گا تو آپ اگلے دن میری چھٹی کر دیں گے۔ ایسا ہی قانونی نکتہ آپ کے نقشہ پاس کرنے میں بھی حائل ہے۔ ایم اے جناح روڈپر آپ کے منظور کردہ ماسٹر پلان کے تحت ہر نئی بلڈنگ کو ۲۰فٹ پیچھے ہٹ کر بننا ہے۔ آپ جس نقشے کی بات کر رہے ہیں اس میں قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ اسمبلی سے ۲۰ فٹ کٹ لائن والی شرط ختم کرا دیں‘ پھر نقشہ اسی دن پاس کرنے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔ جام صاحب زور سے ہنسے‘ کہنے لگے’’مجید صحیح کہہ رہا ہے۔ میں پتھر سے سر پھوڑ رہا ہوں‘ ارے جب میں اسمبلی سے قانون پاس کرا دوں گا تو تم سے سفارش کی کیا ضرورت؟‘‘

میں نے کہا‘ سر! میں آپ لوگوں کابنایا قانون توڑ کر آپ کی حکم عدولی نہیں کرنا چاہتا۔ میری معذرت قبول فرمائیں۔ جام صاحب نے فون رکھ دیا۔ اس واقعے سے چند ماہ پہلے بلدیہ عظمیٰ کے ایک افسر نے جام صاحب کے کسی حکم کو بجا لانے میں تساہلی سے کام لیا تھا۔ اسے فوری طور پر معطل کر کے گھر بھیج دیا گیا۔ جس ملک میں جنگل کا قانون ہو‘ وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن میرے معاملے میں جام صاحب خاموش رہے‘ بلکہ انھوں نے بڑے کھلے دل کا مظاہرہ کیا۔ کئی سال بعد وہ سندھ کے وزیراعلیٰ بنے‘ تو ۱۹۹۲ء میں ان کی چھوٹی صاحبزادی کی شادی جام گوٹھ میں ہونا قرار پائی۔ میں ان معدودے چند سرکاری افسروںمیں شامل تھا جنھیں شادی میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔
جام صاحب کا بیٹی کی شادی میں مجھے بلانا میرے لیے ایک معمہ ہے کہ کام نہ کرنے کے باوجود انھوں نے میرا نام اپنے ذہن میں محفوظ رکھا۔
’’جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو‘‘

۴؍جولائی ۱۹۷۷ء کی شب میں جنرل ضیاء الحق نے جمہوری حکومت پر شب خون مار کر ملک پر تیسرے مارشل لا کا نفاذ کر دیا۔ کلیدی عہدوں پر فوجیوں کی تقرری شروع ہو گئی۔ سویلین حکومت کی چھان بین کرنے کے لیے مارشل لا انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ایسی ہی ایک ٹیم حکومت سندھ کے ’’کارناموں‘‘ کی چھان بین کرنے سندھ اسمبلی میں بیٹھی۔ اس کے سربراہ ایک بریگیڈئیر تھے۔ ان کے دفتر والوں نے ماہ نومبر میں ایڈمنسٹریٹر مجید صاحب کو فون کر کے بلڈنگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ بلدیہ عظمیٰ سے زیرتعمیر بھٹو

ٹرسٹ بلڈنگ بیومنٹ روڈ اور حیات ریجنسی ہوٹل کی فائلیں منگوا لیں۔ ان دونوں تعمیرات میں درپردہ بھٹو صاحب کا نام آتا تھا۔ یہ بھی اطلاع تھی کہ عمارتیں غیرقانونی طور پر بن رہی ہیں۔ ان عمارات کے نقشے آرکیٹکٹ کنٹرول بلدیہ نے پاس کیے تھے۔ مجید صاحب نے مجھے بلا کر کہا ‘ چونکہ یہ نقشے سابقہ آرکیٹکٹ کنٹرول نے پاس کیے تھے جو اب موجود نہیں۔ لہٰذا یہ فائلیں لے کر تم خود جائو۔ ان کا مطالعہ کر لینا تاکہ ٹیم کو کوئی اعتراض ہو تو صحیح جواب دے کر مطمئن کر سکو۔ مجھے یہ فائلیں مقررہ تاریخ اور وقت پر ایک ایک میجر کے حوالے کرنی تھیں۔ میں جب اسمبلی بلڈنگ میں میجر کے کمرے میں پہنچا اور آمد کی اطلاع ایک چٹ کے ذریعے دی تو انھوں نے فوراً ہی اندر بلا لیا۔

مجھے دیکھتے ہی تمسخرانہ انداز میں فرمانے لگے ’’آہا! کے ایم سی سے آئے ہیں۔ کے ایم سی والوں کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہتا ہے۔ ابھی دیکھتا ہوں آپ نے کیا کیا گل کھلائے ہیں۔‘‘

ان کی یہ طنزیہ باتیں سن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میں نے غصہ میں کہا ’’میجر صاحب! بس اب کچھ مت کہیے گا۔ آپ نے گھوڑے اور گدھے کو ایک ساتھ ہانکنا شروع کر دیا۔ آپ کے خیال میں سارے سویلین بُرے ہوتے ہیں۔ حالانکہ جس دبائو میں سویلین کام کرتے ہیں‘ آپ لوگ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اچھے برے آدمی ہر جگہ ہوتے ہیں۔ خراب لوگ بے شک پیسے لے کر کام کرتے ہیں۔ لیکن بعض دفعہ مجبوراً بھی انہیں کام کرنا پڑتا ہے جو بے شک وہ اپنی ذاتی کمزوری کی وجہ سے کرتے ہیں۔ آپ کو تو

شاید پتا نہیں کہ اب لوگ ملٹری والوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔یہ خبر زیرگردش ہے کہ ملٹری والے بھی سویلین کی طرح زیادہ پیسے لے کر کام نمٹانے لگے ہیں۔ میری باتیں‘ میجر ہکابکا ہو کر چپ چاپ سنتا رہا۔ پھر دھیمے لہجے میں کہا ’’قریشی صاحب تشریف رکھیں‘ آپ ناحق ناراض ہو گئے۔ آپ کی دل آزاری کرنا میرا ہرگزمقصد نہیں تھا۔ پھراس نے فائلیں مجھ سے لیں۔ میں نے اُن کی رسید لی۔ پھر وہ فائلوں کی ورق گردانی کرتا رہا۔ پہلے سے تیارشدہ سوالات کے جوابات مجھ سے پوچھ کر نوٹ کیے۔ اس

دوران فوجی کروفر اور اہتمام سے مجھے چائے پلائی۔ پھر دروازے تک مجھے رخصت کرنے آیا۔ بعدازاں ان فائلوں کے سلسلے میں مارشل لا انسپکشن ٹیم والوں نے پھر مجھے کبھی نہیں بلایا۔ حیات ریجنسی کا کام مارشل لا لگتے ہی روک دیا گیا۔ مختلف قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس کا ڈھانچا اسی حالت میں کھڑا ہے۔
قریشی صاحب فائل پر وزن رکھ دیں

سول لائنز ایریا میں انگریزوں کے زمانے کا تعمیر کردہ دو ہزار گز رقبے پہ بنا ایک پرانا بنگلہ واقع تھا۔ وہ شہر کے متمول شخص کو متروکہ املاک کے عوض الاٹ ہو گیا۔ اس میں ایک بوڑھا پارسی نوکروں کے ساتھ رہتا تھا۔ بنگلہ کی دونوں چھتیں مرمت نہ ہونے کی وجہ سے مخدوش حالت میں تھیں۔ بنگلے کے ساتھ ہی نوکروں کے لیے چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔ ان کی چھتیں گرنے کے بعد پتھر کی دیواروں پر ٹین کی چادریں ڈال دی گئی تھیں۔ اب ان کے گرنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اس مالدار شخص کی کوشش

تھی کہ یہ مکان کسی طرح مکینوں سے خالی کرا لیا جائے۔ اس نے اپریل ۱۹۷۸ء میں بلڈنگ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دی کہ وہ بنگلہ اور سرونٹ کوارٹروں کو خطرناک قرار دے کر گروا دے کہ مکینوں کی جان کو خطرہ ہے۔ نچلے عملہ نے الاٹی سے مل کر فائل اس کے حق میں بنائی اور مجھے بھجوا دی۔ میں نے متعلقہ عملہ اور الاٹی کے کارندے کے ساتھ جا کرجگہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ملازموں کے کمرے کو تو کوئی خطرہ نہیں۔نیز بنگلے کی چھتیں مرمت کے عمل سے گزریں‘ تو وہ

بھی درست ہو جائیں گی۔لہٰذا میں نے بھاری مرمت کے آرڈر پاس کر دیے۔ یہ بات مالدار مالک کے حق میں نہیں تھی۔ اس نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کے پاس میرے فیصلے کے خلاف اپیل داخل کر دی۔اب فائل دوبارہ میرے پاس آئی۔ اگلے دن صبح کو گھر کی گھنٹی بجی۔ دیکھا کہ الاٹی کا کارندہ دروازے پر کھڑا ہے۔ میں نے اسے اندر آنے کو کہا اور آنے کا سبب دریافت کیا۔ اس نے کہا ’’صاحب! میں اپنے اسی کیس کے سلسلے میں آیا ہوں۔ فائل دوبارہ آپ کے پاس ہے۔ سیٹھ صاحب نے بھیجا ہے‘ کچھ مہربانی کریں۔‘‘

میں نے کہا ’’میری طرف سے سیٹھ صاحب کو مشورہ دو کہ مکینوں کوکہیں متبادل جگہ دلا دیں۔ کرایہ دار اور اس کے دونوں نوکر جانے کو تیار ہیں۔ پھر ان کا گھرخود ہی خالی ہو جائے گا۔‘‘

اس نے کہا ’’صاحب!وہ لوگ بہت پیسے مانگ رہے ہیں جس پر سیٹھ صاحب راضی نہیں۔ اب آپ اس فائل پروزن رکھ دیں تو میرا کام ہو جائے گا۔‘‘
میں اس کی بات سمجھ نہیں پایا۔ جب یہی بات اس سے کہی‘ تو وہ کہنے لگا صاحب ’’دس بیس ہزار کا وزن۔‘‘ اب میں سمجھا کہ اچھا‘ یہ مجھے رشوت کی پیش کش کر رہا ہے۔ میں غصے سے کھڑا ہو گیا اور اس سے کہا ’’آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔ آپ کو بزرگ سمجھ کر اندربلا لیا۔ آپ نے یہ پیش کش کرنے کی جرأت کیسے کی؟ براہ کرم فوراً یہاں سے تشریف لے جائیں اور آئندہ آنے کی جرأت نہ کریں۔‘‘ میں نے انھیں گھر سے باہر کرکے دروازہ بند کر لیا۔ دفتر جا کر اپنے سابقہ فیصلہ کو حتمی قرار دیا‘ فائل ایڈمنسٹریٹر کو واپس کی اور سیٹھ صاہب فائل پر وزن نہ رکھوا سکے۔

چچا مولوی پھڈا
انھیں میری زندگی میں پہلے چچا بننے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ چار نمبر ناظم آباد میں والد صاحب کے گھر کے قریب ہی رہتے اور مولوی پھڈا کے نام سے مشہور تھے۔ ایک روز چھٹی کے دن صبح صبح گھر پر آئے اور انھوں نے اپنا تعارف کرایا ’’میں تمہارا چچا ہوں۔ تمہارے والد ناظم آباد میں میرے پڑوسی تھے۔ میں ان کی ناگہانی موت پر تعزیت کے لیے آیا ہوں۔‘‘ انھوں نے پھر دعائے مغفرت کر کے مجھے صبر جمیل کی تلقین کی۔ مجھ سے معانقہ کیا۔ میں نے انھیں چائے پلائی اور وہ دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔

دو ہفتوں بعد چچا مٹھائی کے دو ڈبے لیے وارد ہوئے۔ بقول ان کے بھتیجے کی محبت کھینچ لائی حالانکہ والد صاحب کے مکان میں ان کا چھوٹا بھتیجا (انوار) رہ رہا تھا‘ لیکن اس کے پاس نہ تعزیت کرنے گئے اور نہ محبت جتائی۔ اب مٹھائی لانے کا یہ جواز پیش کیا ’’ایک سیٹھ دوست عمرہ کر کے آئے ہیں۔ انھوں نے مٹھائی کے دس ڈبے عمرے کی خوشی میں بھیجے تھے۔ میں نے سوچا کہ بھتیجے کو بھی اس خوشی میں شریک کر لوں۔‘‘ مجھے ان کے اس بیان پر حیرت تو ہوئی لیکن اصرار کی وجہ سے مٹھائی کے ڈبے

واپس نہ کر سکا۔ اب میں نے بھتیجے جمال کو فون کر کے موصوف کا نام اور جغرافیہ بتایا۔ اس نے مجھے ان کے بارے میں سب کچھ بتا دیا‘ کہ بہت تیز آدمی ہیں‘ سارا محلہ اُن سے نالاں ہے۔ چہرے پر بڑی ڈاڑھی کی وجہ سے مولوی پھڈا کہلاتے ہیں۔ اس نے کہا ’’چچا جان! آپ ان سے محتاط رہیے گا۔‘‘

اگلے ہفتہ چچا پھر آ گئے۔ اس دفعہ ان کے ساتھ شیروانی اور جناح کیپ میں ملبوس ایک بزرگ بھی تھے۔ ان کا تعارف چچا نے کرایا کہ یہ سیٹھ فلاں (ملک کے بہت کپڑوں کی ملوں کے مالک ہیں۔ ان کا نام میں نے سن رکھا تھا لیکن ملنے یا دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ سیٹھ صاحب نے فوراً سرے سے ٹوپی اتاری اور میرے قدموں میں رکھنے لگے۔ میں نے بیچ میں ہی انھیں پکڑ لیا۔ ان کی اس حرکت پر میری حالت غیر ہونے لگی۔ میں نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا کہ آپ کیوں مجھے شرمندہ کر رہے ہیں‘ آپ میرے بزرگ ہیں‘ بتائیں بات کیا ہے؟ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟

کہنے لگے‘ بیٹے! میری عزت تمہارے ہاتھ میں ہے۔‘‘ میرے استفسارپر انھوں نے بتایا میں صدر میں شاپنگ سنٹر میں رد و بدل کر رہا ہوں۔ مگر آپ کے محکمہ نے نقشہ کے بغیر کام کرنے پر مجھے نوٹس دے ڈالا۔ اس وجہ سے میرا کام رک گیا ہے۔ اب مارکیٹ میں بے عزتی ہو رہی ہے کہ اتنے بڑے سیٹھ کا کام رک گیا۔

میں نے کہا ’’آپ بائی لاز کے مطابق دکانوں کا نقشہ داخل کرا دیں۔ پاس کرانے کی ذمہ داری میری ہے‘ پھر شوق سے آپ اپنا پروجیکٹ مکمل کیجیے۔ میں نے دونوں کو چائے پلا کر رخصت کر دیا۔ اگلے دن دفتر میں جا کر متعلقہ عملہ سے کہا کہ ایسی تمام بلڈنگیں جن میں بائی لاز کی خلاف ورزی کے کام ہو رہے ہیں اور جو منظور شدہ نقشے کے برخلاف بن رہی ہیں‘ سب پر فوری کارروائی کریں۔ مجھے ان کی رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کریں۔ جب بلڈرز کو نوٹس ملے توانھوں نے سیٹھ صاحب پر لعن طعن کی کہ ان کی

وجہ سے بلڈنگ کنٹرول کا عملہ زیادہ فعال ہو گیا۔ اب بھلائی اسی میں ہے کہ آرکیٹکٹ کنٹرولر کو یہاں سے ہٹوایا جائے۔ لہٰذا انھوں نے سیٹھ صاحب کو تیار کیا کہ وہ صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کومیرے خلاف بھڑکا کے میرا فوری تبادلہ یہاں سے کروائیں۔ سیٹھ صاحب نے ایک لیٹر ہیڈ چھپوایا جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ انھوں نے دو صفحوں پر مشتمل عرضداشت میرے خلاف صدرپاکستان کو بھیج دی۔ صدر صاحب نے انکوائری کا حکم دیا۔ یہ حکم چیئرمین گورنر انسپکشن ٹیم بریگیڈئیر سجاد حسین کے پاس پہنچا‘

جو اتفاق سے ذاکر علی خان کے دوستوں میں تھے۔ بریگیڈئیر صاحب نے ذاکر صاحب سے میرے متعلق معلومات حاصل کیں۔ پھر مجھے بلوا لیا۔ وہ سندھ سیکرٹریٹ میں بیٹھتے تھے۔ یہ اس ٹیم سے علیحدہ تھی جو اسمبلی بلڈنگ میں بیٹھتی تھی۔ بریگیڈئیر صاحب کو میں نے سارا کیس سمجھایا اور ان سے کہا‘ اس ڈپارٹمنٹ کا میرے پاس اضافی چارج ہے۔ اگر مجھے وہاںسے ہٹوا دیں تو میں ان کا شکرگزارہوں گا۔ میں ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سے کئی بار گزارش کر چکا لیکن وہ مجھے ہٹانے پر راضی نہیں ہوتے۔ بریگیڈئیر صاحب

نے فائل مجھ سے لے لی اور کہا کہ آپ دو دن بعد واپس لے جائیں۔ میں اس دوران تحقیقات کرا کے اپنے فیصلے سے صدر صاحب کو آگاہ کر دوں گا۔ میں دو دن بعد بریگیڈئیر صاحب کے پاس گیا۔انھوں نے فائل واپس دی اور کہا کہ آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے رہیں۔ صدر صاحب کو میں نے جواب بھجوا دیا ہے۔ اب میرا جب گزر صدر میں زیب النسا اسٹریٹ سے ہوتا تو دیکھتا کہ سیٹھ صاحب کا کام بند پڑا ہے۔ جنوری۱۹۷۹ء میں ایک روز دیکھا تو وہی یاجوج ماجوج پھر چلے آ رہے ہیں۔ میں نے انھیں اندر بلا کر بٹھایا۔

اب چچا دہائی دے رہے تھے کہ تم نے بریگیڈئیر صاحب کو اپنے ’’انکل‘‘ کے پیچھے کیوں لگا دیا۔ روزانہ فوجی جوان بلڈنگ پر آ کر انکل سے کہتے ہیں بریگیڈئیر صاحب نے یاد کیا ہے۔ پھر بریگیڈئیر صاحب انکل کو دفتر کے باہر بٹھا کر کہتے ہیں کہ کل آنا۔ گزشتہ ایک ہفتہ میں انکل چار چکر لگا چکے۔ بیٹا! تم اُن سے انکل کی جان چھڑوا دو‘ انھیں اب مارے خوف کے رات بھر نیند نہیں آتی۔میں نے کہا‘ ایک شرط پر انکل کی جان چھوٹ سکتی ہے۔ جس لیٹر ہیڈ پر پہلے انھوں نے صدر صاحب کو میری شکایت لکھ کر بھیجی

تھی‘ اسی پر لکھ کر اپنی غلطی تسلیم کریں اور لکھیں کہ میں اپنی درخواست واپس لیتا ہوں۔ انکل ذہنی طور پر بہت پریشان تھے‘ وہ اس بات پر راضی ہو گئے۔ انھوں نے اگلی پیشی پر یہ درخواست بریگیڈئیر صاحب کو بھجوا دی۔ بریگیڈئیر صاحب نے انھیں اندر بلا کر اچھی طرح سرزنش کی اور معاملہ داخل دفتر ہو گیا۔ اس کے بعد جب تک میں کے ایم سی میں رہا‘ اپنے چچا اور انکل کی شکل نہیں دیکھی۔ چچا ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ ویسے بھی اسی سال ماہ فروری میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈی اے کے پاس چلی گئی اور بلدیہ عظمیٰ سے اس کا تعلق ختم ہوا۔ چند ماہ تو انکل کا کام بند رہا پھر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے زیرسایہ ان کی مرضی کے مطابق بائی لاز کی خلاف ورزی میں چھوٹی چھوٹی دکانیں بن گئیں اور فوراً ہی ان میں کاروبار شروع ہو گیا۔ یہ غرقانونی کام بریگیڈئیر سجاد صاحب چلے گئے تب انجام پایا۔
بریف کیس کی گمشدگی اور واپسی

یہ ۱۹۸۰ء کی بات ہے۔ ایک روز دفتر سے واپسی کے بعد میں گاڑی میں گھر آیا۔ تو دیکھا‘ میرا بریف کیس گاڑی میں نہیں ہے۔ مجھے خیال ہوا کہ شاید دفتر بھول آیا ہوں۔ یہ سینسو نائٹ کا عمدہ بریف کیس مجھے صلّو نے پانچ سال پہلے لا کر دیا تھا۔ دفتر گیا تو بریف کیس وہاں بھی نہیں تھا۔ مجھے تھوڑی سی پریشانی ہوئی کہ اس میں میرے چند ضروری کاغذات تھے ‘ جنھیں دوبارہ بنوانے کے لیے مجھے تگ و دو کرنی پڑتی۔ سب سے پہلے پولیس اسٹیشن جا کر اس کی چوری؍گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ انچارج

نے مشورہ دیا کہ اگر آپ چوری کی رپورٹ درج کرائیں گے تو آپ کوزیادہ زحمت اٹھانی پڑے گی۔ اس لیے کہ جب بھی کسی چور اُچکے کو پولیس نے بریف کیس کے ساتھ پکڑا‘ تو شناخت کے لیے آپ کے پاس بھی فون جائے گا اور آپ ناحق پریشان ہوں گے۔ لہٰذا آپ رپورٹ میں لکھوائیں کہ راستے میں کہیں گر گیا ہے۔ اس صورت میں اگر کسی نے آپ کا بریف کیس تھانے میں جمع کروا دیا تو شناخت کے لیے آپ کو ایک ہی بار آنا پڑے گا۔ ویسے اس بریف کیس کو بھول ہی جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ مجھے ایف آئی آر کی نقل سے مطلب تھا‘ وہ میں نے حاصل کر لی۔ اتنا تو میں بھی سمجھتا تھا کہ اتنا اچھا بریف کیس مجھے کوئی کیوں واپس کرے گا۔

بریف کیس گم ہوئے دو سال ہو چکے۔ ایک روز ایک اجنبی ملاقاتی نے نائب قاصد سے اپنا کارڈ میرے پاس بھیجا۔ میں نے انھیں اندر بلایا تو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں بالکل ویسا ہی بریف کیس ہے جو دو سال پہلے گم ہوا تھا۔ اسے اب میں بالکل بھول چکا تھا۔ اجنبی نے وہ بریف کیس میرے سامنے میز پر رکھا اور کہنے لگا ’’قریشی صاحب! کیا آپ اس بریف کیس کو پہنچانتے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا‘ جی ہاں! ایسا ہی ایک بریف کیس میں دو سال قبل گم کر چکا۔

وہ بولا‘ جی ہاں! یہ دو سال سے میرے پاس ہے۔ یہ مجھے اسی عمارت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پیچھے سڑک پر پڑا ملا تھا۔ میں نے لوگوں کی نظریں بچاتے ہوئے اسے اٹھا لیا تھا کہ استعمال میں لائوں گا۔ چونکہ اس میں خفیہ نمبروں والا تالا ہے‘ چناںچہ کوشش کے باوجود اسے نہ کھول سکا۔ پھر یہ سوچ کر گھر میں الماری کے اوپر رکھ دیا کہ تالا کھولنے والے سے جا کر کھلوا لوں گا۔ لیکن یہ کام آج کل پر ٹلتا رہا‘ لیکن اس کے کھلوانے کی نوبت نہیں آئی۔ اس دوران کچھ ایسے واقعات پیش آئے جن کی وجہ سے مجھ کو

خوامخواہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک روز بیٹھ کر بہت سوچا کہ آخر مجھ سے ایسے کون سی غلطی ہوئی جس کا خمیازہ میں بھگت رہا ہوں؟ معاً مجھے الماری پر رکھے بریف کیس کا خیال آیا۔اسے لیے میں ماہر تالا کھولنے والے کے پاس گیا۔ اس نے بریف کیس کے نمبر آگے پیچھے کر کے مجھے کھول دیا۔ اس میں کچھ کاغذات اور ملاقاتی کارڈ ملا‘ جس سے مالک کا پتا چل گیا۔ میں اللہ رب العزت سے اپنی لغزش کی معافی مانگنے اور اب آپ کی امانت آپ واپس کرنے آیا ہوں۔ آپ سے گزارش ہے میری وجہ سے آپ کو جو تکلیف پہنچی ہے اس کے لیے آپ صدق دل سے مجھے معاف کر دیں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے مزید پریشانیوں سے دور رکھے۔ میں نے اجنبی کا شکریہ ادا کیا۔ اسے دل سے

معاف کرنے کی نوید سنائی اور یہ بھی کہا کہ یہ بریف کیس آپ کو پسند ہے تو میری طرف سے تحفہ سمجھ کر لے لیجیے۔ لیکن وہ تیار نہیں ہوااتنی دیر میں ہم دونوں چائے ختم کر چکے تھے۔ میں نے اسے ہنسی خوشیدروازہ کھول کر رخصت کیا۔
اگر پاس کر دے تو کیا بات ہے

میں نے ۱۹۶۶ء میں بلدیہ عظمیٰ میں عامل انجینئر ڈیزائن (Executive Engineer Design)کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی۔ اگلے سال ہی این ای ڈی انجینئرنگ کالج میں بی ای (سول) کے آخری سال کا بیرونی ممتحن (External Examiner)چن لیا گیا۔ میرے فرائض منصبی میں کورس کے مطابق پرچے کی تیاری اور ان کی جانچ پڑتال (Checking)شامل تھی۔ مجھے اپنے پرچے کے تھیوری اور پریکٹیکل‘ دونوں کا ممتحن مقرر کیا گیا۔ بعض دفعہ تو میں دو پرچوں کا بھی ممتحن ہوتا۔یہ سلسلہ پندرہ سال تک اس وقت تک چلتا رہا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے‘ آر سی سی ڈیزائن (Receiforced Cement Concrete Design)کی کاپیاں میرے پاس آئیں۔ ایک امیدوار کی کاپی چیک کر رہا تھا

کہ ایک سوال کے ٖجواب میں یہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا کہ لڑکے نے جواب کی نقل جو اسے کسی طرح باہر سے دستیاب ہوئی تھی‘ اسی طرح کاپی میں پن کے ذریعہ نتھی کر دی۔ نیچے یہ نوٹ لکھ دیا ’’سر! امتحان ہال کا نگراں بہت سخت ہے۔ سوال کا جواب لکھنے سے معذور ہوں۔ لہٰذا نقل کے اس کاغذ کو اصل سمجھ کر اس پر نمبر دیں اور مجھے پاس کر دیں۔ ساری عمر آپ کو دعائیں دوں گا۔ پھر یہ شعر درج تھا

مقدر کی کنجی ترے ہاتھ ہے
اگر پاس کر دے تو کیا بات ہے
میں نے باقی سوالات چیک کیے‘ جوابات درست نہیں تھے۔ اصولی طور پر مجھے اس امیدوار کی کاپی کو چیک نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اسی دیدہ دلیری پر اس کے خلاف سخت اقدام کی سفارش کرنی چاہیے تھی۔ لیکن اس کے مستقبل کا خیال کرتے ہوئے اسے صرف فیل کرنے پر اکتفا کیا‘ اس امید کے ساتھ کہ شاید اگلے سال محنت کر کے وہ پرچے میں کامیاب ہو جائے۔

جئے بھٹو
پیپلز پارٹی کا ابتدائی دور حکومت چل رہا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو ملکی حالات میں تبدیلیاں لانے کے لیے آئے دن نئے نئے گل کھلا رہے تھے۔ ان کے ہونہار کزن‘ ممتاز علی بھٹو وزیراعلیٰ سندھ تھے۔ وہ بھی تعصب کی چادراوڑھے صوبے میں منافرت کے بیج بونے میں لگے ہوئے تھے۔ صوبے میں ہر سطح پر اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی کے خواہاں تھے۔ انہی دنوں اردو سندھی تنازعہ بھی کھڑا کیا گیا۔ اس پر رئیس امروہوی نے جنگ اخبار میں اپنے مرثیہ میں یہ مصرعہ بھی لکھا
’’اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘

اس زمانے میں بلدیہ عظمیٰ کی ملازمت کو جو صرف کراچی کے شہریوں کے لیے مختص تھی سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت ختم کر دیا گیا۔ نئی ملازمتوں کے لیے جو فارم بنے‘ ان میں امیدواروں سے یہ خانے بھی پر کرائے گئے۔

آپ کہاں پیدا ہوئے؟… آپ کے والد کہاں پیدا ہوئے؟… آپ کے دادا کہاں پیدا ہوئے؟
نوکریوں کے لیے فرزند سرزمین (Son of the Soil)کو امتیازی درجہ اسی زمانے میں ملا اور جس کا شکار میں خود بھی ہوا۔ سول ایوی ایشن میں ڈائریکٹر انجینئرنگ کی پوسٹ نکلی۔ تجربے اور تعلیم کے مطابق یہ عہدہ مجھے ملنا چاہیے تھا۔ لیکن چونکہ میں اور میرے باپ دادا کی پیدائش اس سرزمین پر نہیں ہوئی تھی‘ لہٰذا پوسٹ خالی رکھی گئی۔

ملازمت کے لیے ہر لحاظ سے موزوں ہوتے ہوئے بھی میرا انتخاب عمل میں نہیں آیا۔ آئین خی مطابق میرا پاکستانی ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ اندرون خانہ سے یہ اطلاع ملی کہ انہیں ’’فرزندِ سرزمین‘‘ کی ضرورت ہے اور میں اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔
ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہیے

یہ حاکم وقت اک بلا ہے
۱۵؍ ستمبر کی صبح جب اپنے دفتر پہنچا تو مجھے اس وقت کے وزیراعلیٰ سید عبداللہ شاہ کا ایک مراسلہ ملا۔ ان دنوں میں بحیثیت ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کام کر رہا تھا۔ مراسلے کے ذریعے مجھے حکومت سندھ سے رجوع کرنے کو کہا گیا تھا۔ مراسلے میں میرے فوری تبادلے کی کوئی وجہ درج نہیں تھی‘ نہ ہی اس ضمن میں حکومت سندھ کا کوئی اعلیٰ و بالا افسر اپنی زبان کھولنے کو تیار تھا۔ سیکرٹری بلدیات نے البتہ اتنی عنایت ضرور کی کہ میری قبل از ریٹائرمنٹ (جس کی درخواست میں نے پہلے سے دے

رکھی تھی) مختصر مدت میں منظور کر دی۔ یوں میں پندرہ اکتوبر ۱۹۹۷ء کو حکومت سندھ کی ملازمت کرنے کے تیس سال بعد خوش بختی سے ریٹائر ہو گیا۔ وزیراعلیٰ کی ناراضی کے لیے بس اتنا ہی لکھنا کافی ہے کہ یہ غلط کام انجام نہ دینے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے حرام کھانے سے بچائے رکھا۔ وہ بڑا کارساز ہے۔ مجھے اس نے ایک دلدل سے نکال کر سکون کی زندگی عطا کی۔ وزیراعلیٰ سے جب سیکرٹری بلدیات نے میری ایمانداری اور لیاقت کی تعریف کی اور یہ بتایا کہ

میں سیدھا سادہ مسلمان آدمی ہوں تو انھوں نے جواب دیا ’’ایسے افسر کا ہماری حکومت میں کیا کام ہے؟ اسے کسی مسجد کا مولوی لگا دو۔‘‘ یوں مجھے ایک ماہ کے لیے افسر برائے کار خاص (Officer On Special Duty)لگا دیا گیا۔ چند ماہ بعد ہی وزیراعلیٰ کی حکومت جاتی رہی۔ وہ بچارے غیرملک بے کسی کے عالم میں دربدر مارے مارے پھرے اور بمشکل آخری وقت دفن ہونے کے لیے وطن واپس آ سکے۔اس ذاتی واقعہ سے متاثر ہو کر میں نے دو روز بعد ایک قطعہ کہا تھا‘ وہ پیش خدمت ہے
انجام سے بے خبر ہے اپنے

یہ حاکم وقت اِک بلا ہے
بس صبر سے کام لو گہر تم
لکھا ہوا بھی کبھی ٹلا ہے

اسی مختصر عرضداشت سے اپنی بڑائی یا تعریف ہرگز مقصود نہیں بلکہ اس واقعے کا ذکر یوں کیا گیا کہ موصوف کے غیرضروری انتقامی فعل سے میرے لیے خیر کے کئی پہلو نکل آئے۔ ایک تو یہی کہ میں خوامخواہ مصروف آدمی بن بیٹھا تھا۔ سبکدوش ہو کر اس قابل ہو گیا کہ قدرت کی عطا کردہ بقایا زندگی کو احسن طریقے سے استعمال کر سکوں اور وہ بھی ذہنی خلفشار‘ دفتری اور حکومتی ذمہ داریوں سے مبرا ہو کر۔ زندگی کے ان لمحات اور اوقات میں میرے دل اور دماغ سے کتنا بوجھ اتر گیا‘ اس کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں۔ میں ایک پرسکون آدمی بن گیا۔ یہ سب اللہ رب العزت اور نبی پاک ﷺ کی رحمتوں کا صلہ ہے۔ اسی وجہ سے میں حمد باری تعالیٰ اورنعت ہائے رسول پاک ﷺ دلجمعی سے لکھنے کے قابل ہوا اور میرے خزاں رسیدہ چمن میں بہار آ گئی۔

جان ہے تو جہان ہے
مارچ ۲۰۰۵ء کے ایک اتوار رات کو میں بے خبر سو رہا تھا کہ اچانک مجھے زور سے دروازے پر دھکے لگنے کی آواز آئی۔ پھردر ازہ کا پلا تالا ٹوٹنے کے بعد دیوار سے زورسی ٹکرایا۔ پھر میں نے ملگجی آنکھوں سے تین لمبے ڈھاٹا باندھے آدمیوں کو آتے دیکھا۔ ایک نے مجھے خاموشرہنے کو کہا‘ دوسرے نے گن سے میرے سامنے فائر کیا جس کی میں نے روشنی دیکھی‘ آواز سنی۔ پھر ایک نے کمرے کے پردے اچھی طرح بند کیے اور کمرے میں بتی جلا کر روشنی کر دی۔ پھر جو چادر میں نے اوڑھی ہوئی تھی‘

اس سے میرے ہاتھ پیچھے کرکے باندھ دیے۔ ایک آدمی میری کنپٹی کے پاس بندوق لیے کھڑا ہو گیا اور مجھے وقفے وقفے سے دھمکی دیتا رہا کہ بولنے کی صورت میں گولی چلا دے گا۔ دوسرا ایک بڑی سی چھری لے کر سامنے ڈرانے لگا۔ پھر ان کے تین اور ساتھی کمرے میں داخل ہوئے۔وہ الگ الگ ہر الماری کی تلاشی لینے لگے۔ جب انھوں نے میرے کمرے سے اپنی مرضی کی اشیا اور پیسے جو الماریوں میں رکھے ہوئے تھے‘ اٹھا لیے تو مجھے ساتھ والے دوسرے کمرے میں چلنے کو کہا جہاں بیگم سو رہی تھیں۔ اس

سے پہلے کہ میں دروازہ کھلواتا‘ دو ڈاکو پہلے ہی دروازہ پر دستک دے چکے تھے۔ انھوں نے یہ سمجھ کرشاید مجھے کوئی کام پڑ گیا ہے‘ گھبرا کر دروازہ جیسے ہی کھولا تو سامنے دو اسلحہ بردار ڈھاٹا باندھے نظر آئے۔ ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا ’’اچھا تم لوگ آ گئے؟‘‘ ان کے پیچھے میں‘ تین ڈاکوئوں کی معیت میں کھڑا تھا۔ ہاتھ چادر سے بندھے تھے۔ اس وقت رات کے چار بجے رہے تھے۔ ایک ڈاکوچھرا لے کر بیگم کے پاس اور دوسرا میرے سر پر گن لیے کھڑاہو گیا۔ باقی چار کمرے کی الماریوں کی تلاشی

لیتے‘ بیچ میں وہ جان سے مارنے کی دھمکی بھی دیتے رہے۔ بیگم سے انھوں نے زیورات مانگے جو کپڑے میں چھپا کر رکھے تھے۔ کچھ انھوں نے خود دیے کچھ انھوں نے دراز میں سے ڈھونڈ لیے۔ بیگم نے بڑی ہمت سے کام لیا‘ وہ مستقل دعائیں پڑھتی رہیں۔ جب وہ میرے چہرے کوچادر سے ڈھک دیتے تو کہتیں کہ اسے ہٹائو ان کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ یہ چھے ڈاکو مجھے افغانی لگے کہ آپس میں پشتو سی ملتی جلتی فارسی میں بات چیت کر رہے تھے۔

بیگم نے جب انھیں اللہ رسولﷺ کے حوالے سے کچھ سمجھانا چاہا تو انھوں نے کہا کہ وہ یہ کام خوشی سے تھوڑی کرتے ہیں‘ ان کی بھی کچھ مجبوری ہے۔ بہرحال! ہم نے یہ سوچ کر کہ ’’جان ہے تو جہان ہے‘‘ اپنی ہر قیمتی چیز بشمول گھڑی‘ موبائل دو عدد انھیں دے دیے۔ گھر میں دو عدد لیپ ٹاپ تھے۔ انھوں نے ایک ایک کو گرا کراس پر پیر رکھ دیا اور وہ ٹوٹ کرخراب ہو گیا۔ دوسرا انھوں نے لینا مناسب نہیں سمجھا۔ جب انھیں یقین ہو گیا کہ ہمارے پاس اب کچھ پیسے نہیں تو پھر دو ڈاکو تو نیچے ہی رکے رہے‘ چار اوپر

کرایہ داروں (میاں بیوی‘ دو چھوٹی بچیوں) کے پاس دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔ ان کے پاس جو ملا‘ اسے لوٹ کر انھیں بھی نیچے لے آئے اور ہمارے ساتھ ہی کمرے میں بند کر کے چلے گئے۔ دونوںچھوٹی بچیاں مارے خوف کے اپنے ماں باپ سے چمٹی ہوئی تھیں۔ ڈاکو گئے‘ تو علی (کرایہ دار)نے میرے بندھے ہاتھ کھولے اور ہم نے اللہ کاشکر ادا کیا کہ جان محفوظ رہی‘ مال تو ویسے بھی آنی جانی چیز ہے۔ تب تک سورج نکل آیا تھا۔ دس منٹ بعد باہر نکل کر دیکھا تو شہریوں کے جان اور مال کی حفاظت کے لیے

خیابان تنظیم اورٹینتھ اسٹریٹ کے کونے پر پولیس والوں کی موبائل کھڑی نظر آئی۔ چونکہ ہمارے گھر ڈکیتی ان کی سرپرستی میں ہوئی تھی‘ لہٰذا میں نے دوستوں سے مشورے کے بعد تھانے میں رپورٹ درج کرانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ دو ہفتوں بعد علی الصبح اسی وقت بروز اتوار اسی حلیے‘ قد کاٹھ کے آٹھ افغانی ڈاکو‘ ڈیفنس فیز Vمیں ہی ایک بنگلے کی دیوار پھلانگ رہے تھے کہ پولیس آ پہنچی۔ مقابلے میں سے پانچ مارے گئے اور تین جان بچا نے میں کامیاب رہے۔ سچ ہے برے کام کا برا نتیجہ۔ اس

واقعہ کا کچھ عرصہ میرے ذہن پر اثر رہا۔ اب بھی اگر دروازہ زور سے بند ہو تو اس کی آواز سے میں چونک جاتا ہوں۔ چند ثانیہ کے لیے دل گھبرا سا جاتا ہے۔
امریکی صدر کے پاکستانی دوست کا دیدار
۱۵؍دسمبر ۱۹۹۱ء کوسہ پہر تین بجے امریکی قونصل خان واقع عبداللہ ہارون روڈ ویزالگنے کے بعد پاسپورٹلینے پہنچا۔ دیکھا کہ قونصل خانہ میں بڑی چہل پہل ہے۔ معلوم کرنے پرپتا چلا کہ سابق صدر لنڈن بی جانسن کے پاکستانی دوست آنے والے ہیں۔ سارے عملہ والے ان کے لیے چشم براہ تھے۔ تھوڑی دیر بعد موصوف سیاہ شیروانی اور چوڑی دار سفید پاجامے میں ملبوس سر پر جناح کیپ لگائے آ موجود ہوئے۔ سب عملہ سے ان کا تعارف کرایا گیا۔ میں تیس سال قبل بڑی بڑی سیاہ مونچھوں اور کرتا اور لنگی میں امریکی

نائب صدرلنڈن بی جانسن کے ساتھ ان کی تصویریں اخبارات میں دیکھ چکا تھا۔ ان پر قدرت چھپڑ پھاڑکر مہربان ہوئی تھی۔ یہ بھائی بشیر ساربان تھے۔ ۱۹۶۱ء میں اپنی اونٹ گاڑی لیے ملیر کے قریب کہیں کھڑے تھے تاکہ دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب صدر کی گاڑی گزرجائے تو اپنا راستہ ناپیں۔ نائب صدر کی گاڑی جب اونٹ گاڑی کے قریب پہنچی تو انھیں یہ سواری کچھ عجیب سی لگی۔ انھوں نے اپنا قافلہ رکوایا‘ گاڑی سے اتر کر بھائی بشیر کے پاس چل کر آئے اور ان سے ہاتھ ملایا۔ سیکیورٹی کا عملہ سخت

پریشان ہوا‘ لیکن لنڈن جانسن نے ترجمہ نگار کے ساتھ بھائی بشیر سے بات چیت شروع کر دی اور اِن کواپنا دوست کہا۔ بھائی بشیر سر ہلاتے رہے۔ پھر انھوں نے بھائی بشیر کو امریکا آنے کی دعوت دی جس کی انھوں نے گردن ہلا کر ہامی بھر لی۔ نائب صدر کا قافلہ منزل پرروانہ ہو گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بات یہیں ختم ہوجاتی‘ لیکن جب جان کینڈی قتلہوگئے اور جانسن صدر امریکا بنے‘ تو انھوں نے بشیرساربان کو امریکا بلوا لیا۔

وہ وہائٹ ہائوس صدر سے ملنے کے لیے گئے۔ تب مختلف دوسرے تحائف کے علاوہ انھیںایک چھوٹا ٹرک بھی دیا گیا‘ شاید اس خیال سے کہ صدر کا دوست اونٹ گاڑی چلانے کی مشقت سے بچ جائے اور اس کی آمدنی کا ذریعہ بہتر ہو سکے۔ یہی بشیر بھائی آج میری نظروں کے سامنے تھے۔ اپنے کسی کام یا کسی کی سفارش لے کر آئے ہوئے تھے۔ قونصل خانہ والوں نے پوری عزتو تکریم اور خلوص دل سے امریکی صدر کے دوست کا استقبال کیا اور بشیر بھائی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں آمد کا مقصد بتاتے رہے جس میں تھینک یو (Thank You)کے الفاظ زیاد سننے کو ملے۔
٭٭