function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

اور فہرست مکمل ہوگئی…

صبا شفیق | 2013 ستمبر

دوپہرڈھل رہی تھی، جھاڑیوں سے جھینگروں کی آوازیں اس طرح آرہی تھیں جیسے وہ پرندوں کے سُریلے گیتوں کو راگ فراہم کررہی ہوں۔ ایسے لگ رہا تھا کہ پرندے، حشرات الارض، غرض کہ ہرچیز مجھے میری کامیابی پر مبارک دے رہی ہو اور خوشی میرے ساتھ منارہے ہوں…میں نے ایک بار پھر اُس دیوقامت ہاتھی کی طرف دیکھا جو میں نے ابھی چند لمحے پہلے ہی شکار کیا تھا اور اُس کی سونڈ پر ہاتھ پھیر کر ایک بار پھر خود کو یقین دلانے لگی کہ واقعی یہ میرا شکار ہے۔ میں افریقا میں تھی اور یہ لمحہ میری زندگی بھر کے خوابوں کی تعبیر تھا۔ میرے تمام الفاظ، وہ تمام کتابیں، فلمیں جو شکار پر بنی ہیں، میرے احساسات کی ترجمانی نہیں کرسکتیں، جو اُس لمحے میری رگ رگ میں ناچ رہے تھے۔ جوش، خوشی، فتح، تعبیر، اُداسی، خواب، حقیقت نجانے یہ کیا تھا۔

افریقا کے بارے میں تمام تصورات ابھی ہونے والے طلسماتی احساس کے آگے بے معنی تھے۔ میں نے جب سے شکار شروع کیا تھا اس جگہ اس لمحے کی خواہش تب سے میرے اندر انگڑائیاں لے رہی تھی، مگر آج جب یہ واقعی ہوگیا، تو مجھے خود کو یقین دلانے میں وقت لگ رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا یہ سب ایک خواب، ایک طلسم ہے جوکسی بھی لمحے ٹوٹ جائے گا…
چند روز پہلے ہی ہم کینیا کے دارالحکومت نیروبی پہنچے تھے۔ دُنیا بھر میں شکاری سفاریوں خصوصاً افریقا آنے والے شکاریوں کی پہلی ترجیح یہی شہر ہوتا ہے۔ ائیرپورٹ سے ہم یہاں کے مشہور زمانہ ہوٹل سٹینلی آگئے۔ یہاں بہت رَش تھا۔ بھانت بھانت کے لوگ تھے، شکاری، لکھاری، اداکار، فلمیں بنانے والے اور جانے کون کون…یہاں مجھے لال ڈاڑھیوں والے بہت سے اداکار نظر آئے

جنھیں میں نے اکثر انگریزی فلموں میں دیکھا تھا۔ یہاں ایک کرنل صاحب بھی تھے۔ اُن کے پاس ایک موتیوں سے جڑے دستے والا ریوالور تھا جسے تمام لوگ بڑی دلچسپی سے پکڑ پکڑ کر دیکھتے، مگر سب سے بڑی تعداد یہاں شکاریوں کی تھی۔ جن میں بہت سے پرجوش تازہ دم تھے،تو کچھ گرد میں اٹے، تھکن سے چور مگر کامیابی کی چمک چہرے پر لیے واپسی کے لیے رختِ سفر باندھ رہے تھے۔ شام ہوتے ہی پورا شہر روشنیوں میں نہا گیا۔ مسلمان تاجروں کی دکانوں پر رَش بڑھ گیا اور بڑے بڑے الیکٹرانک بل بورڈوں پر اشتہار چمکنے لگے۔
افریقا آنے والے شکاری یہ نہیں جانتے کہ ان کی مہم آرام دہ، پُرسکون اور کامیاب ہوگی یا پھر شدید مشقت طلب اور جان لیوا… یا پھر دونوں کیفیات کی حامل، کیونکہ افریقا کے جنگل حیران کن اور بہت زیادہ تعداد میں طرح طرح کے جانوروں سے بھرے پڑے ہیں اور علاقہ بھی بہت وسیع ہے۔ کینیا کے جنگلوں میں ہم نے سیر، تفریح، شکار سب اس طرح پایاجس کا کبھی ہم نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ تھا۔
میرے شکار کی فہرست میں سب سے پہلے ہاتھی کا نمبر آتا ہے جو میرے تمام تجربات میں ناقابلِ فراموش ہے۔ہاتھی کا شکار صرف اُس کی جسامت اور حجم کی وجہ ہی سے مشکل نہیں ہوتا بلکہ ہاتھی ایک بے حد ذہین جانور ہے اور بہت مشکل سے قابو آتا ہے۔ جب میں نے پہلی بار افریقی ہاتھی دیکھا وہ لمحہ میں کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ وہ درختوں کے جھنڈ سے پتے کھارہا تھااور قریب سے دیکھنے پر وہ فلموں اور کتابوں میں دیکھے ہوئے ہاتھیوں سے کئی گنا بڑا تھا، مگر اُس کے دانت چھوٹے تھے۔ آنے والے دنوں میں ہم نے کافی ہاتھی دیکھے کیونکہ ہمیں ایک ایسے ہاتھی کی تلاش تھی جس کے دانت ہم ٹرافی کے طور پر ساتھ لے جاسکیں، مگر میں جب بھی ہاتھی دیکھتی دل ہی دل میں انھیں سراہتی۔ وہ کسی پہاڑ کے مانند دکھتے تھے عظیم اور شاندار…
آخرکار کافی دنوں بعد جب ہمیں ہاتھیوں کے غول میں ایک شاندار دانتوں والا ہاتھی نظر آیا، تو ہمارے راہنما شکاری عون نے بتایا کہ یہ ایک غیرمعمولی صورت حال ہے۔کیونکہ بڑے ہاتھی بہت کم اکٹھے رہتے ہیں اور بڑے بوڑھے ہاتھی تو اکیلے یا پھر زیادہ سے زیادہ ایک ساتھی کی سنگت میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ خاموشی اور سکون ڈھونڈتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح انسان بڑھاپے میں پُرسکون ماحول چاہتے ہیں۔ ان ہاتھیوں میں سے ایک ہاتھی کے دانت اتنے لمبے تھے کہ لگتا تھا زمین کو چھورہے ہیں۔ ہاتھیوں کے غول پر نظر پڑتے ہی ہم سب جھاڑیوں میں چھپ گئے۔ ہمارے گروہ میں میرا شوہر بوب، ہمارا راہنما عون اور دو قلی مون اور مان شامل تھے۔ ہاتھیوں کا غول آہستگی اور سکون سے درختوں سے پتے کھارہا تھا۔ ہم سب نے دوربین سے باری باری تسلی سے بڑے ہاتھی کا جائزہ لیا۔ وہ ایک شاندار ہاتھی تھا اور اُس کے دانت دیکھنے کے لائق اور حقیقتاً ایک

ٹرافی تھے، مگر اتنے ہاتھیوں کے درمیان اُسے شکار کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ سو ہم نے یہ سوچ کر ہاتھیوں کا تعاقب کرنا شروع کردیا کہ شاید کہیں پر ہاتھی الگ الگ ہوجائیں اور اپنی اپنی راہ چلنے لگیں گے۔ تین گھنٹے ہم نے جھاڑیوں میں چھپتے چھپاتے ان کا تعاقب کیا اس دوران ہم نے ہوا کے رُخ کا بھی خیال رکھا۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہاتھی ہماری بُو پالیں۔ یہ ریتلا علاقہ تھا اور یہاں ہوا کا رُخ معلوم کرنے کا عون کا اپنا طریقہ تھا۔ وہ مٹھی میں ریت بھرتا اور پھر مٹھی کھول کر اُسے انگلیوں سے پھسلنے دیتا۔ اب بھی اُس نے یہی کیا تھا اور پھر ہمیں اشارہ کیا۔ ہم نے جلدی سے اپنی جگہ بدلی کیونکہ ہوا کا رُخ ہماری جانب سے ہاتھیوں کی طرف ہوگیا تھا۔ ہم نے اسی احتیاط کے ساتھ تعاقب جاری رکھا۔ آخر ہمارا مطلوبہ ہاتھی اور اس کے ساتھ ایک

بالکل نوجوان ہاتھی غول سے ہٹ کر ایک طرف چلنے لگے۔ ہمارے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ ہمیں جلد موقع ملنے کا امکان نظر آرہا تھا، مگر صرف 50گز چلنے کے بعد وہ دونوں ہاتھی رک گئے اور ایک درخت سے پتے کھانے لگے۔ باقی غول بھی 50گز کے فاصلے پر بے پروائی سے چررہا تھا۔ یہ علاقہ ایسا تھا کہ یہاں کانٹے دار جھاڑیاں اور اِکا دُکا چھوٹے درخت تھے، مطلب یہاں چھُپنے کے لیے کوئی معقول جگہ نہیں تھی۔ ہمارے قُلی مان اور مون کچھ گھبرارہے تھے۔ یہاں تک کہ عون جیسا پرانا اور تجربہ کار شکاری بھی

پریشان تھا۔ سو ہم نے مزید مناسب موقعے کی تلاش جاری رکھی۔ ہمارا مطلوبہ ہاتھی اپنے نوجوان ساتھی کے ساتھ ایک سمت میں آگے بڑھ رہا تھا۔ہم نے مزیدآدھے گھنٹے تک تعاقب جاری رکھا۔ یکدم ہاتھی ایک جگہ رُک گئے۔ غالباً وہ آرام کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈ رہے تھے۔ ہم بھی اُن سے 50گز کے فاصلے پرچھپ گئے۔ باب اپنے کیمرے سے مووی بنانے لگا۔ میں اور عون رینگتے ہوئے ہاتھی کی طرف بڑھنے لگے۔ عون کی ہدایت کے مطابق ہاتھی کا نشانہ اُس کی آنکھوں اور کانوں کے درمیان لینا چاہیے اور نشانہ پکا ہونا چاہیے کیونکہ نشانہ خطا ہونے کی صورت میں غیض

وغضب سے بھر پور عفریت سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہم جیسے جیسے ہاتھی کے قریب ہورہے تھے مجھے صرف اور صرف اپنے ہی سانس کی آوازآرہی تھی۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اور پھر رینگتے رینگتے عون نے مجھے اشارہ کیا اور ہم گھٹنوں کے بَل بیٹھ گئے۔ ہاتھی اب صرف 20گز دور تھا۔ عون کے اشارے پر میں نے اُس کی پیشانی کا نشانہ باندھا۔ مگر ابھی میں نے رائفل کی لبلبی نہیں دبائی تھی کہ ہوا کا ایک نہایت تیز جھونکا میری رائفل کی نال کو ہلا گیا۔ میں نے دونوں ہاتھ مزید مضبوطی سے رائفل پر جما دیے اور پھر جیسے ہی میں نے لبلبی دبائی ہاتھی ایک دم اپنی اگلی دونوں ٹانگیں اُٹھا کر چنگھاڑا اور پھر نہایت آہستگی سے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اُس کا پہاڑ سا جسم دھڑام سے زمین بوس ہوگیا۔

اُس کے گرتے ہی دوسرا ہاتھی دل دہلا دینے والی چنگھاڑ کے ساتھ سونڈ اُوپر اُٹھائے اندھا دھند ہماری طرف بھاگا۔ عون نے اُس کے پیروں میں فائر کیا اور مجھے بھی چلا کر کہا’’اسے بھگائو، ڈرائو، مارنا مت بہت چھوٹا ہے۔‘‘ عون نے مزید دو گولیاں اُس کے پیروں میں چلائیں۔ مگر وہ ہماری طرف بڑھتا رہا۔میں اور عون اُلٹے قدموں پیچھے بھاگ رہے تھے اورپھر میں نے مان اور مون کی بوکھلائی ہوئی آوازیں سنیں۔ وہ بوب کو کیمرا اُٹھا کر بھاگنے کا کہہ رہے تھے۔ میں نے پھر اُس ہاتھی کے پیروں میں گولی چلائی جو اردگرد کی ریت مٹی اُڑا گئی۔ وہ ایک دم رُکا، پھر مڑا اور

بھاگ گیا۔ چند لمحے تک ہم سب بالکل چُپ تھے۔ کوئی کسی سے کچھ نہیں کہہ پارہا تھا۔ چند لمحوں بعد جب ہمارے اوسان بحال ہوئے، تو ہم ہاتھی کی جانب بڑھے اور جب میں نے ہاتھی کو ہاتھ لگایا تو وہ لمحہ ناقابلِ فراموش اور ناقابلِ فہم تھا۔ اس عظیم الجثہ اور قدرت کی عالی شان تخلیق کو یوں جان سے ماردینے پر میرا دل اچانک اُداس ہوگیا۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اکثر شکاری ہاتھی کے شکار کے بعد انہی احساسات سے دوچار ہوتے ہیں۔ ایک ننھی سی گولی نے اس عظیم تخلیق کو لمحہ بھر میں زمین بوس کردیا تھا۔ عروج اور زوال، شدید جوش اور سب ختم ہو جانے، خالی پن کا احساس… یہ تمام جذبات اُس لمحے میں تھے۔

میں قدرت کی رعنائیوں کی عاشق ہوں۔ مجھے گلابی صبح اور نیند سے بیدار ہوتے پرندوں کی آوازوں سے بھی عشق ہے۔ سورج، ہوا، بادل، پھول، پرندے، اُچھل کود کرتی گلہریاں، چوکڑیاں بھرتے ہرن، ندیاں، پہاڑ سب سے مجھے محبت ہے، یہ چیزیں مجھے خوشی دیتی ہیں۔ مجھے فطرت سے محبت ہے مگر…اس کی ایک تخلیق کو اس طرح سے شکار کرنے کی خواہش نجانے میرے دل میں کیسے بیدار ہوئی تھی…؟ ایک ہاتھی کا شکار کچھ خاص ہوتا ہے …جب میں رینگ کر ہاتھی کی طرف بڑھ رہی تھی، تو مجھے لگتا تھا جیسے میرا دل کسی بھی لمحے سینہ پھاڑ کر باہر آجائے گا یا میں مفلوج ہوجائوں گی…میرے ہاتھ سرد تھے…مگر پھربھی میں کسی ڈور سے بندھی جیسے کسی جادو کے اثر میں، ہاتھی کے قریب ہوتی گئی۔ میرا جوش بڑھتا گیا اور میری حالت اُس وقت

ایسے چھوٹے بچے جیسے تھی جو ماچس کی تیلی جلاتے ہوئے ڈرتا ہے اور پھر بھی یہ جانتے ہوئے کہ اُسے نقصان پہنچ سکتا ہے وہ شعلے کو چھونے کی کوشش کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح میں ڈر اور خوف کے باوجود شوق کی تکمیل میں آگے بڑھتی گئی۔

اُس رات ہمارے کیمپ میں جشن کا سماں تھا۔ ہمارے باورچی نے بارہ سنگھے کی ران کا روسٹ اور کیک بطور خاص تیار کیا۔ ہم سب آگ کے گرد بیٹھ کر خوش گپیاں کرتے رہے اور کوئی بیس سے زائد بار ہم نے اُس دن کے واقعات کو دہرایا ہوگا۔ سب مجھے مبارکباد دے رہے تھے۔ گوگا ایک نوجوان لڑکا تھا جو ہاتھی کی کھال اُتار رہا تھا۔
کچھ دیر وہ میرے لیے ہاتھی کے بالوں سے بنا ایک بریسلٹ لے کر آیا۔افریقا میں اسے خوش قسمتی کی علامت اور کامیاب شکاری کا انعام سمجھا جاتا ہے۔ ایک اور لڑکا جگن بھی تھاجو ہمارے

کیمپ میں آگ پانی کا انتظام بھی کرتا تھا۔ وہ ہمارے کپڑے دھو کر استری کرتا۔ ہم جب بھی کسی نئی جگہ کیمپ لگاتے مقامی لوگ ہمیں دیکھنے چلے آتے۔ بعض تو بہت خوفزدہ ہوجاتے۔ مگر پھر بھی اُن کا تجسس انھیں کھینچ لاتا۔ خصوصاً ہمارے کیمروں کو وہ بہت دلچسپی سے دیکھتے تھے۔
جب ہم نے شمالی جنوب میں نیروبی کے جنگل میں کیمپ لگایا، تو مقامی لڑکیاں شام کے وقت وہاں دودھ دینے آتی تھیں اور بدلے میں ہم سے دلیا لے جاتیں۔ ایک شام جب گوگا موجود نہیں تھا،تو میں نے خود اُن کے برتنوں میں دلیا ڈالا۔ میں نے دیکھا وہ میری نیل پالش کو بہت شوق اور دلچسپی سے دیکھ رہی تھیں۔ میں نے اشاروں میں اُن سے پوچھا کہ کیا اُنھیں نیل پالش اچھی لگتی ہے اور کیا وہ اسے لگانا چاہیں گی؟ انھوں نے فوراً نہایت شوق سے اثبات میں سر ہلاتے اور جھجکتے ہوئے اپنے گرد سے اٹے کالے کالے ہاتھ میرے آگے کردیے اور پھر جب میں نے ان کے ناخن لال

کردیے، تو وہ بے انتہا خوش ہوئیں۔ پھر میں نے اُنھیں بتایا کہ کس طرح پھونکیں مار کر نیل پالش کو جلد سُکھانا ہے۔ اگلے دس منٹ تک وہ پھونک مار مار کر نیل پالش سکھاتی رہیں۔ پتا نہیں قصبے میں واپس جاکر اُنھیں قبیلے والوں کا کیا ردعمل ملا …مگر اُس وقت جو خوشی اور چمک اُن کی آنکھوں میں تھی کہ جیسے اُنھیں کوئی انمول شے مل گئی ہو۔
صومالیہ کی جنوبی سرحدوں پر بھی میں نے لڑکیوں میں نیل پالش، میک اپ اور زیورات میں بے حد دلچسپی دیکھی اور یہ تجسس اور دلچسپی اکثر اُس خوف پر حاوی ہوجاتی تھی جو اُنھیں ہم

جیسے اجنبیوں کے قریب آنے سے روکتی تھی۔ ہم بھی اُن سے مانوس ہونے کی کوشش کرتے اور پھر چند ہی دنوں میں انھوں نے ہمیں دوست مان لیا۔ اس دوستی میں زیادہ ہاتھ ان چیزوں کا تھا جن کی کشش اور تجسس انھیں ہماری طرف کھینچ لایا تھا۔ وہ میری گھڑی اور دوربین کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بے انتہا خوش ہوتیں۔ چند ہی دنوں میں وہ ہم پر اعتبار کرنے لگیں اور پھر ایک دن وہ مجھے اپنے گھاس پھونس سے بنے گھر لے گئیں جو ہمارے کیمپ سے خاصا دور تھا۔ اسے وہ بوما کہتے تھے۔ میرے لیے یہ بھی ایک دلچسپ تجربہ تھا۔
صومالیہ کی جنوبی سرحد گینڈے کے شکار کے لیے بہترین جگہ ہے۔ عون پچھلے سال ایک گینڈے کے حملے کا شکار ہوچکا تھا۔ اس لیے وہ ہمیں بتا رہا تھا کہ گینڈے سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ گینڈے قدرے عجیب طبیعت کے ہوتے ہیں۔
گینڈے نے دوڑ لگا دی
عموماً جانور انسان کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں،مگر گینڈا بھاگنے کے بجائے ڈھیٹ بنا کھڑا رہتا ہے اور پھر اچانک حملہ کردیتا ہے۔ یہ اکثر ہاتھی کے ساتھ بھی چھیڑخانی کرتے ہیں۔ ہم نے دیکھا، ایک گینڈا بار بار ایک ہاتھی کو ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا اور جب ہاتھی کا ضبط جواب دے گیا، تو اُس کی ایک زوردار چنگھاڑ ہی سے گینڈے نے دوڑ لگا دی۔
ایک روز ہم جھاڑیوں سے بھرے صومالیہ کے ایک جنگل میں گینڈا تلاش کررہے تھے۔ ایک جگہ ہمیں گینڈے کے پیروں کے نشان نظر آئے تو عون نے کہا ہمیں ان کا تعاقب کرنا چاہیے۔ کیونکہ نشانات بالکل تازہ تھے۔ بیس منٹ تک پیروں کے نشانات کا تعاقب کرنے کے بعد ہمیں دور گھنی جھاڑیوں میں ایک موٹا تازہ گینڈا نظر آگیا۔ وہ ایک درخت کی اوٹ میں تھا۔ اچانک ہوا کا رُخ بدل گیا۔

درخت پر بہت سے پرندے بیٹھے تھے۔ وہ پھرُ سے اُڑگئے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ گینڈے کو ہماری موجودگی کا احساس ہوگیا ہے۔ ہم ابھی چھپنے کے لیے جھاڑیوں کے پیچھے کی طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ ایک دم گینڈا درخت کی اوٹ سے نکل کر عین ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا اور پھر اُس نے اپنا سر نیچے کیا، اپنے کھروں کوزمین پر رگڑا اور پھنکارتا ہوا اندھا دھند بھاگتا ہم پر چڑھ دوڑا۔ میں چیخی ’’عون گولی چلائو‘‘ اور خود بھی گولی چلادی۔ وہ میری طرف بڑھتا ہوا ایک دم رُکا اور مڑ کر مٹی کے بادل اُڑاتا غائب ہوگیا۔ آج تو میں بال بال بچی تھی جب وہ مڑا،تو مجھ سے صرف بارہ فٹ دور رہ گیا تھا اور اگر وہ نہ مڑتا… یہ سوچ کر مجھے جھُر جھُری آگئی۔ ہم سب نے پرندوں کا اشارہ پالیا تھا،

مگر اس اچانک افتاد کی گھبراہٹ میں مجھے لگا کہ میں گولی نہیں چلا پائو ں گی۔ اس لیے میں نے عون سے گولی چلانے کا کہا تھا۔ پھر بھی بالکل غیر اختیاری طور پر اُسی لمحے میں نے اپنی رائفل کی لبلبی دبا دی اور مجھے جو لگتا تھا کہ خطرہ سر پر ہوا تو میں مفلوج ہوجائوں گی ایسا نہیں تھا…اورا نسان خود کو تب ہی جان پاتا ہے جب وہ ایسی ویسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ گینڈے کو گولی نہیں لگی، مگر جب ہم اُس کا تعاقب کرنے لگے، تو ہمیں خون کی ایک لکیر نظر آئی اور تقریباً بیس گز دور ہمیں وہ نیم مردہ حالت میں مل گیا۔ میں نے مزید ایک

گولی اُس کے سر میں ماری اور اُسے ٹھنڈا کردیا۔ بوب اور عون میرے نشانے کی اور پھُرتی کی داد دینے لگے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ اُس وقت میرا تکّا چلا تھا۔ بے اختیاری اور عجلت میں چلائی گولی بھی نشانے پر جالگی اور میری زندگی بچانے کے ساتھ ساتھ میری شکاری فہرست میں ایک گینڈا بھی لکھ گئی تھی۔ 

اس علاقے میں بے شمار قسم کے پرندے بھی تھے۔ جن کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کا گوشت بے حد لذیذ ہوتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ بڑے جانوروں کے شکار کے بارے میں سوچا تھا، مگر یہاں ہمیں پرندوں کے شکار میں بھی بہت لطف آیا۔ خصوصاً کاسنی رنگ کے بڑے بڑے مرغابی نما پرندے تھے جو ٹولیوں کی صورت میں رہتے ہیں۔ یہ اُڑتے کم ہیں مگر زمین پر شکاری کتوں سے بھی تیز بھاگتے ہیں۔ ہم اکثر جیپ میں بیٹھ کر ہی ان کا شکار کرتے تھے۔ ہمارا لائحہ عمل یہ ہوتا کہ اُنھیں ڈرا کر اُڑائیں ورنہ زمین پر انھیں قابو کرنا خاصا مشکل ہوتا۔ جبکہ اُڑان کے دوران انھیں شکار کرنا

آسان ہوجاتا۔ اس کے علاوہ یہاں بڑی تعداد میں تیتر اور بٹیر تھے۔ اُن کا گوشت بھی بے حد لذیذ ہوتا ہے۔ یہاں ہم نے ہنسوں کا شکار بھی کیا۔ ان کا گوشت ہمیںبے حد پسند آیا۔یہاں ڈھیر ساری بطخیں اور مرغابیاں سب اکٹھی نظر آجاتی تھیں۔ اکثر ہم شام کو پیدل نکل جاتے تھے۔ ہمارے کیمپ سے پندرہ، بیس منٹ کے فاصلے پر اِکا دُکا جوہڑ اور تالاب بھی تھے۔ جہاں ہم بطخوں اور مرغابیوں کے لیے گھات لگاتے۔ ہنسوں کا شکار یہاں مقبول نہیں مگر ہمیں ان کے لذیذ گوشت کی وجہ سے ان کے شکار میں بھی مزہ آیا۔ یہ پرندہ بطخوں اور مرغابیوں کی جھاڑیوں کے اندر چھپ کر بیٹھتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتاکہ ہم چھپ کر دبے قدموں آگے بڑھ رہے ہوتے کہ اچانک وہ ہم سے چند قدموں کے فاصلے پر کسی جھاڑی سے نکل کرایک دم اڑ جاتے اور ہم دیکھتے رہ جاتے۔
شکاری جیپ
جانور جیپوں سے کیوں نہیں ڈرتے
جانوروں کے بارے میں ایک نہایت دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ گاڑیوں اور جیپوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ شاید جیپ کا شور انسانوں کی خوشبو پر فوقیت لے جاتا ہے اور ان کا تجسس خطرے کے احساس پر حاوی ہوجاتا ہے۔ اس لیے اکثر شکاری جیپ ہی پر شکار کے قریب جانے کو فوقیت دیتے ہیں، مگر ہمیں پیدل شکار کرنے میں اور خصوصاً تعاقب کرکے شکار کرنے میں مزہ آتا تھا۔
اس دوران ہمیں بہت سی خوشگوار اور ناخوشگوار یادیں بھی ملیں۔ جس شام ہم پرندوں کا شکار نہیں کرتے تھے اُس شام ہم پیدل بارہ سنگھے کے شکار کے لیے نکل جاتے۔ ہمارے قلی حیران ہوتے

کہ جہاں ہم جیپ پر جاسکتے تھے ہم وہاں پیدل کیوں جاتے ہیں؟ وہ بیزاری سے ہمارا ساتھ دیتے تھے۔ ہمارے قلیوں کی برداشت کا اصل امتحان تب ہوا جب ہم نے اڑیال کے شکار کا ارادہ کیا جو دریائے ٹانا کے کنارے ملتا ہے۔ دو بار ہم نے پیدل کوشش کی اور ناکام ہوئے۔ ہمارے قلی ہمیں دیوانہ سمجھ رہے تھے کہ ہم ایک آسان کام کو مشکل بنا رہے تھے اور اس طرح پے در پے ناکامیوں کے بعد تو ہمیں بھی لگنے لگا تھا کہ ہمارا طریقہ غلط ہے۔ مگر پھر خوش قسمتی سے ہم نے اسی طریقے سے ایک شاندار اڑیال اور نہایت خوبصورت بارہ سنگھے کا شکار کیا۔ مگر پھر بھی ہمارے قلی ہم سے متفق نہیں تھے۔
ہم کھانے کے لیے بھی بارہ سنگھا شکار کرتے تھے اور شیر اور چیتے کے شکار کے لیے چارے کے طور پر بھی…جن کے سر شاندار خوبصورت ہوتے ہم انھیں ڈرائنگ روم میں سجانے کے لیے محفوظ کر لیتے۔ شیر اور چیتے کے لیے چارے والا طریقہ اکثرکارآمد ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ شیر یا چیتا بغیر مشقت ملا ہوا شکار کھاتے وقت اکثر بے خبر ہوجاتے ہیں۔ شیر کے شکار کا شوق تو ہر شکاری کو ہوتا ہے، ہمیں بھی تھا۔ اس کے لیے عون نے مسائی کے علاقہ کا انتخاب کیا۔ بڑی بڑی گھاس کے میدانوں کا یہ علاقہ شیر کے شکار کے لیے مشہور تھا۔ یہاں کے شیر بھی جسامت میں

عام شیروں سے بڑے ہوتے ہیں اور اُن کی گردن کے گرد لمبے کالے بال بہت قیمتی اور نایاب مانے جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے شکار کے لیے خصوصی اجازت نامہ درکار ہوتا ہے اور ہم نے وہ بھی حاصل کرلیا تھا۔ پھر ہم نے تین بارہ سنگھے شکار کیے اور مختلف جگہ درختوں پر اُنھیں لٹکا دیا۔ یہ

درخت ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر تھے۔ ہمیں تین دن انتظار کرنا پڑا۔ تیسرے دن جب رات کا آخری پہر تھا ہمیںایک درخت کے نیچے حرکت محسوس ہوئی۔ ہم اُس وقت درختوں سے ایک میل دور اپنی جیپ میں تھے۔ دوربین کی مدد سے معلوم ہوا ایک بڑا شیر بارہ سنگھے کو دانتوں سے نوچ رہا ہے۔ ہم جیپ سے اُترے۔ میں، بوب اور عون گھاس میں چھپتے چھپاتے آگے بڑھنے لگے۔ ہم شیر سے تقریباً ساٹھ گز دور تھے جب اچانک ہوا کا رُخ تبدیل ہوگیا۔شیر نے فوراً خطرے کی بُو پائی، وہ بارہ سنگھے کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ ہم اپنی جگہوں پر ساکت ہوگئے۔ وہ ہلکا سا

غُرایا۔ عون نے کہا کہ وہ خبردار ہوچکا ہے اور کسی بھی لمحے بھاگ جائے گا اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ آج خالی ہاتھ نہ جائیں،تو یہیں سے نشانہ لینا ہوگا۔ میں بہت احتیاط سے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور نشانہ لینے لگی۔ میرے اور شیر کے درمیان ایک بڑی گھنی جھاڑی حائل تھی جو میرے نشانے میں رکاوٹ تھی۔ شیر مڑنے لگا، وہ واپس جارہا تھا۔ عون نے مجھے اشارہ کیا۔ میں نے شیر کے کندھے کا نشانہ لیا اور جھاڑی کے ایک طرف ہو کر گولی چلادی۔ رائفل کے زبردست جھٹکے نے مجھے پیچھے دھکیل دیا، مگر گرتے گرتے میں نے شیر کو ہوا میں قلا بازی کھا کر چنگھاڑتے ہوئے بھاگتے دیکھا۔
ہم اُس کا تعاقب کرنے لگے۔ خون کی ایک موٹی لکیر اس بات کی غماز تھی کہ میری گولی بالکل نشانے پر لگی تھی۔ تقریباً پچاس گز تک تعاقب کے بعد ہمیں شیر نظر آگیا۔ وہ زمین پر ساکت پڑا تھا۔ گولی اُس کے کندھے کو چیرتی ہوئی دل تک چلی گئی تھی۔
وہ شیر میری سوچ سے زیادہ بڑا تھا
قریب سے دیکھنے پر احساس ہوا کہ وہ میری سوچ سے زیادہ بڑا تھا۔ عون نے اندازہ لگایا کہ اس کا وزن پانچ سو پونڈ سے بھی زیادہ ہوگا اور اُس کی گردن پر گھنے لمبے بال اُسے انمول بنا رہے تھے۔ اُس رات بھی کیمپ میں جشن کا سماں تھا۔ ہم دیر تک ناچتے گاتے رہے۔
افریقا میں تیندوے کا شکار بھی زیادہ تر چارہ استعمال کرکے کیا جاتاہے، مگر عون نے بتایا کہ اکثر شکاری کئی دن کی کوششوں کے بعد بھی ناکام لوٹ جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت پھُرتیلا درندہ ہے اور خطرے کی بُو پاکر ایک دم غائب ہوجاتا ہے۔ اس لیے اکثر شکاری اسے ایک نایاب اور قیمتی شکار سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اپنی مکاری اور پھرُتی کے باعث یہ بہت مشکل سے ہاتھ آتا ہے۔ تیندوے اکثر اپناشکار درختوں پر لے جاکر کھاتے ہیں اور دوسرے جانوروں سے اُسے بچانے کے لیے وہیں پتوں میں چھپا آتے ہیں اور کئی دن اپنی بھوک اسی سے مٹاتے ہیں۔ تیندوے کے شکار کے لیے

ہم نے ندی کے قریب پچاس گز کے فاصلے پر تین درختوں پر بارہ سنگھے کا گوشت لٹکایا۔ اس علاقے میں بڑی بڑی جھاڑیاں تھیں۔ ہم نے اُن درختوں سے تقریباً سو گز دور جھاڑیوں میں چھپنے کی جگہ بنائی جسے ہم نے اوپر سے بھی پتوں سے ڈھانپ دیا۔ اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ بھی رکھے تاکہ ہم دوربین سے گردوپیش کا جائزہ لیتے رہیں۔ عون نے گزشتہ نو سالوں میں درختوں پر تیندوے شکار کیے تھے۔ اُس کے بقول تیندوا اس قدر خاموشی اور پھرتی سے درخت پر چڑھتا ہے کہ قریب بیٹھا شکاری دیکھ ہی نہیں پاتا کہ وہ کدھر سے آیا تھا۔ عون کے اپنے تجربے بھی کچھ

ایسے ہی تھے۔ ایک لمحے گوشت والا درخت خالی ہوتا اور دوسرے ہی لمحے جیسے جادو سے تیندوا درخت پر موجود ہوتا۔ خطرہ محسوس کرتے ہی یا گولی چلنے اور نشانہ خطا ہونے کی صورت میں وہ کسی چھلاوے کی طرح غائب ہوجاتا ہے۔ اس لیے عون نے کہا کہ نشانہ خطا نہیں ہونا چاہیے۔

شام ہی سے ہم جھاڑیوں میں چھپے تیندوے کے منتظر تھے۔ مچھر ہمیں بری طرح کاٹ رہے تھے۔ آدھی رات کو اچانک ہمیں ایک درخت پر حرکت محسوس ہوئی۔ غور سے دیکھنے پر نظر آیا کہ تیندوا درخت پر دعوت اڑا رہا ہے۔ ہم میں سے کسی نے تیندوے کو درخت پر چڑھتے نہیں دیکھا تھا، مگر وہ وہاں تھا۔ لمحہ بھر کو تو میں سمجھی کہ یہ محض میرا خیال ہے، مگر جب عون نے دھیمے لہجے میں کہا ’’وقت ضائع مت کرو نشانہ لو وہ کسی بھی لمحے بھاگ سکتا ہے۔‘‘ تو تب مجھے ادراک ہوا کہ واقعی درخت پرتیندوا ہے…میں نے ایک گہری سانس لی اور نشانہ لے کر لبلبی

دبا دی۔ ہم نے تیندوے کو شاخ سے گرتے دیکھا ۔ ہم بھاگم بھاگ درخت کے پاس پہنچے مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ تیندوا، نہ خون کا کوئی دھبہ اور نہ ہی پنجوں کے نشان… ہم تو بس یہی سوچتے رہ گئے کہ وہ تیندوا تھا یا کوئی چھلاوا۔ اندھیرا بہت گہرا ہوگیا تھا۔ ایسے میں ایک تیندوے کی ممکنہ موجودگی کسی جان لیوا حادثے کا باعث بھی بن سکتی تھی۔ سو ہم ایک دوسرے کے کندھوں سے کندھے ملائے اور رائفلیں تھامے اپنے کیمپ کی طرف چل دیے۔ مجھے یقین تھا کہ میرا نشانہ خطا نہیں گیا اور تیندوا زخمی ہے، مگر

عون کا کہنا تھا کہ اس اندھیرے میں وہ ہم پر کسی بھی وقت حملہ کرسکتا تھا۔ ہمارا باورچی جمعہ چند سال پہلے اسی طرح اندھیرے میں تیندوے کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ قسمت اچھی تھی جو بچ گیا، مگر اس کا کندھا تیندوے نے بری طرح چباڈالا تھا جس کے باعث اُس کا بایاں ہاتھ بہت کم حرکت کرتا تھا۔ ہم واپس جارہے تھے کہ ہمیں ایک دم قریبی جھاڑیوں سے تیندوے کے غرانے کی آواز سنائی دی۔ اس کا مطلب تھا کہ یقینا وہ بُری طرح زخمی ہے ورنہ اب تک وہ ہم سے میلوں دور جاچکا ہوتا، مگر اس جگہ پر بڑی بڑی اور گھنی جھاڑیاں تھیں اور اس اندھیرے میں تیندوے کے قریب جانا خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔ سو ہم پوری طرح چوکنے ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ پُشت لگائے اور رائفلیں تھامے چاروں طرف دھیان رکھتے ہوئے کیمپ واپس آگئے۔
عموماً ہم کیمپ میں واپسی پر خوب ہنسی مذاق کرتے تھے، مگر اس دن سب خاموش اور اپنی اپنی سوچوں میں غلطاں تھے۔ پھر مشورہ ہوا کہ ہمیں جیپ پر ہی تیندوے کا تعاقب کرنا چاہیے۔ مجھے یقین تھا کہ وہ مرچکا ہے اور یہ ڈر بھی تھا کہ رات میں گیدڑ اور لگڑ بھگے ہی اُس کی دعوت نہ اڑالیں، عون خطرے کے پیشِ نظر ہمیں جانے سے منع کر رہا تھا، مگر ہم نے اُسے اس بات پر منالیا کہ ہم درخت سے چارے والا گوشت کاٹ لائیں۔ تاکہ پھر استعمال ہوسکے۔ سو ہم جیپ پر روانہ ہوگئے۔ درخت کے قریب پہنچ کر ہمیں ایک ہیولا سا نظر آیا۔ جیپ کی روشنیاں جلانے پر ہمیں پتا چلا کہ یہ ایک نوجوان شیرنی تھی۔ ہم نے بار بار ہارن بجایا، مگر اس نے ہماری جانب توجہ ہی نہ دی اور مزے سے گوشت کھاتی رہی۔ پھر عون جیپ سے اتر کر درخت کی جانب بڑھا اور چلا چلا کر

اسے بھگانے کی کوشش کی۔ شیرنی نے نہایت بیزاری سے عون کو دیکھا جو اُس کے طعام میں مخل ہو رہا تھا۔ آخر اس نے گوشت کا بڑا ٹکڑا منہ میں لیا اور درخت سے اتر کر اندھیرے میں غائب ہو گئی۔ جیپ کی روشنی میں وہ سونے کی طرح چمک رہی تھی اور آنکھیں ہیروں کے مانند دمک رہی تھیں۔ عون نے

درخت سے لٹکا گوشت کاٹ کر زمین پر پھینک دیا کیونکہ شیرنی آدھے سے زیادہ کھا چکی تھی اور واپس لے جانے کا فائدہ بھی نہیں تھا۔ ویسے بھی ہم جانتے تھے کہ شیرنی دوبارہ اسی جگہ آئے گی۔
اگلے روز ہم سورج نکلتے ہی اس جگہ پہنچ گئے جہاں گزشتہ رات تیندوے کیغراہٹسنی تھی۔ یہاں جابجا قدآور جھاڑیاں تھیں سو ہم اپنے ساتھ درانتیاں بھی لائے تھے۔ ہمارے قلی، باورچی سب ہمارے ساتھ تھے۔ میں، عون اور بوب رائفلیں تھامے کھڑے تھے۔ باقی لوگ جھاڑیاں کاٹنے لگے پانچ منٹ بعد ہی ہمیں تیندوا مردہ حالت میں مل گیا۔ وہ بے حد شاندار لگ رہا تھا۔ یعنی میرا یہ وار بھی کاری رہا تھا۔
ہم نے اپنی مہم کے دوران کئی جانوروں کا شکار کیا۔ اب صرف افریقا کا مشہور جنگلی بھینسا رہ گیا تھا۔ شکار کے متعلق کتب اور دوسرے شکاریوں سے ہمیں پتا چلا کہ یہ بہت ذہین، مکار، اور عیار ہوتا ہے۔ اس میں زبردست قوتِ برداشت ہوتی ہے اور زخمی ہونے پر غیض و غضب سے پاگل ہوکر اکثر شکاری کو شکار بنا ڈالتا ہے۔ گورے شکاریوں کا اس بارے میں اپنا ایک دلچسپ نظریہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو جانور پہلی گولی سے نہ مرے اُس کو مارنے کے لیے بیس اور مارنی پڑتی ہیں کیونکہ پہلی گولی سے اس کے جسم میں ایڈرنالین ہارمون کی ایک کثیر مقدار خارج ہوتی

ہے۔ جس کی وجہ سے درد کو فراموش کردتیا ہے اور اُسے بے انتہا ماورائی طاقت عطا ہوجاتی ہے۔ ہماری مہم ختم ہونے میں صرف تین روز باقی تھے۔ مگر ابھی تک ہم نے ایسا شاندار بھینسا نہیں دیکھا تھا جیسا شکار کرنے کی ہماری خواہش تھی اور پھر ایک دن جب ہم جیپ میں گھوم رہے تھے، تو

کیمپ سے دور میدانوں میں بھینسوں کا ریوڑ نظر آیا۔ مگر شام سر پر تھی۔ ہم نے سوچا کہ ابھی واپس چلتے ہیں اور صبح پوپھٹتے ہی ان میدانوں میں آجائیں گے اور اس ریوڑ کا تعاقب کریں گے۔ مگر ابھی اس کا وقت دور تھا۔ہم نے میدان کی طرف جاتے ہوئے دو خیمے دیکھے جو کیلیفورنیا سے آئے ہوئے شکاری باپ بیٹے جوہن اور رچرڈ نے لگائے ہوئے تھے۔ اُن سے بات چیت اتنی طویل ہو گئی کہ وقت کا احساس ہی نہ ہوا۔ اُنھوں نے ہمیں رات اپنے پاس گزارنے کی دعوت دی جو ہم نے بخوشی قبول کرلی۔ رات کو کیمپ میں الائو کے گرد بیٹھے جب ہم خوش گپیوں میں

مصروف تھے ،تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ تین عدد بھینسوں کا شکار کرچکے ہیں اور آج کل شیر کے شکارکی تگ و دو میں ہیں۔ اگلی صبح پوپھٹتے ہی ہم جاگ گئے اور ان کے بتائے ہوئے علاقے کی طرف روانہ ہوگئے جہاں بھینسوں کے بڑے ریوڑ مل سکتے تھے۔ وہ دونوں خود چارہ دیکھنے چلے گئے جو انھوں نے گزشتہ رات شیر کے لیے لگایا تھا اور وعدہ کیا کہ فارغ ہوتے ہی ہم سے آملیں گے۔ ہم گھاس کے بڑے بڑے میدان میں ابھی داخل ہی ہوئے تھے کہ ہمیں دور ایک پہاڑی پر ڈھیر سارے کالے دھبّے نظر آئے۔ یہ بھینسوں کا بہت بڑا ریوڑ تھا جس میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد بھینسیں تھیں۔ وہ گھاس چر رہی تھیں۔ ہم نے جیپ کئی میل دور ہی روک دی اور پیدل بھینسوں کی طرف بڑھے۔ جب ہم اُن سے کوئی 100گز دور تھے، تو ہمیںرینگتے ہوئے آگے بڑھنا پڑا کیونکہ آگے جھاڑیاں تھیں نہ درخت اور گھاس بھی زیادہ اونچی نہیں تھی۔ہم کسی بھی لمحے بھینسوں کی نظروں میں آسکتے تھے۔ وقفے وقفے سے ہم کہنیوں کے بل اونچے ہو کر ریوڑ کو دیکھتے۔ ہمیں

محسوس ہوا کہ وہ ہماری جانب ہی دیکھ رہی ہیں اور اُنھیں ہماری موجودگی کا علم ہوگیا ہے۔ تب ایک لمحے کو مجھے خیال آیا کہ اگر یہ ریوڑ ہم پر چڑھ دوڑا توشاید ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچے۔ میدان کے ایک کونے میں ایک بڑی جھاڑی تھی جو ہمیں چھپانے میں معاون ثابت ہو سکتی تھی۔ سو ہم رینگتے ہوئے اُس کی جانب بڑھنے لگے۔ یہ تعاقب اب تک کی مہم میں سب سے مشکل ثابت ہوا۔ کیونکہ اس دوران مجھے رائفل کی نال کو بھی رگڑ، مٹی اور گھاس پھونس سے بچانا پڑرہا تھا۔ آخری جھاڑی تک پہنچنے میں، میں تھکن سے بالکل چور ہوگئی اور وہاں لیٹ کر گہرے

سانس لینے لگی۔ اچانک عون نے مجھے اشارہ کیا۔ میں نے جھاڑی سے باہر جھانکا، تو صرف تیس گز دور ایک شاندار بھینسا کھڑا تھا۔ میرے ہاتھ کانپنے لگے اور رائفل تھامنے میں دشواری ہورہی تھی۔ بھینسوں کا غول اچانک مڑا اور ہم سے مخالف سمت میں چلنے لگا۔ ڈیڑھ سو گز چلنے کے بعد وہ پھر رُک گئے۔ عون نے بتایا کہ ’’بھینسوں میں تجسس بہت زیادہ ہوتا ہے اگر وہ کسی خطرے کی بُو پاکر کوئی جگہ چھوڑیں تو اکثر تجسس کے مارے مڑ کر دیکھنے آجاتی ہیں کہ وہاں کیا تھا؟ اس لیے ہمیں انتظارکرنا چاہیے۔ سو ہم اُن کے پیچھے نہیں گئے۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ بھینسیں ہماری جانب واپس آنے لگیں اور تقریباً سو گز دور وہ رُک گئیں۔
میری چھٹی حس مجھے خبر دار کر رہی تھی
وہی بڑا بھینسا اب بھی ان کی راہنمائی کررہا تھا۔ ہم بالکل ساکت تھے جب عون نے سرگوشی کی کہ نشانہ لگائو۔ میں نے کہا وہ دور ہے۔ اتنی دور سے میں ٹھیک نشانہ نہیں لگاسکتی۔ عون نے کہا’’تم مار سکتی ہو…سوچ لو اب یا کبھی نہیں ویسے بھی کل مہم کا آخری دن ہے… تمھاری فہرست میں بھینسے کی کمی رہ جائے گی۔‘‘ میری چھٹی حِس مسلسل مجھے خبردار کررہی تھی کہ اتنی دورسے نشانہ خطا ہوجائے گا۔ مگر پھر میری افریقا میں شکار کی فہرست مکمل کرنے کی خواہش غالب آگئی اور میں نے نشانہ لیا اور لبلبی دبا دی جس کے لیے مجھے بعد میں شرمندہ ہونا پڑا۔
بھینسا جہاں کھڑا تھا وہیں گرگیا
بھینسا جہاں کھڑا تھا وہیں گرگیا۔ باقی ریوڑ جھاڑیوں کی طرف بھاگ اُٹھا۔ تب اچانک بھینسا بھی اُٹھ کھڑا ہوا اُس نے ایک جھُر جھری لی اور میدان سے آگے گھنی قدآور جھاڑیوں کی جانب بھاگا۔ میں نے اور عون نے اُس کے پیچھے دو فائر اور کیے۔ مگر ہمارے نشانے درست نہ تھے۔ ہم نے مہم سے پہلے ہی یہ بات طے کرلی تھی کہ عون تب تک گولی نہیں چلائے گا جب تک ہماری جان کو خطرہ نہ ہو۔ میں اور بوب اپنے شکار کو مکمل طور پر اپنی کارکردگی سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے عون کو اب گولی چلانی پڑی کیونکہ بھینسا ہم پر بھی حملہ آور ہوسکتا تھا۔ وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہوچکا تھا۔ ہم اُس کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچے، توخون کے بڑے بڑے دھبے نظر آئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بھینسا خاصا زخمی تھا۔ ہم رک گئے کہ انتظار کریں کہ بھینسا

خون بہ جانے سے مر جائے، مگر اس دوران بھی ہم پوری طرح چوکنے تھے اور ہماری نظریں اُنھی جھاڑیوں پر جمی تھیں جن کے پیچھے وہ غائب ہوا تھا۔ کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ رچرڈ اور جوہن وہاں گئے۔ اُنھوں نے گولی کی آواز سنی تھی اور ہماری مدد کو آئے تھے۔ اب ہم سات لوگ جھاڑیوں میں آگے بڑھنے لگے۔ بھینسے کو

گولی لگے تقریباً دو گھنٹے ہوچکے تھے، مگر وہ ہمیں ابھی تک نظر نہیں آیا تھا۔ ہم خون کے دھبوں کا پیچھا کرتے اب ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں جھاڑیاں ایک تنگ سا دائرہ بنا رہی تھیں۔ یہاں آکر ایک دم دھبے بالکل معدوم ہوگئے۔ مان اور مون کا تو جیسے رنگ اُڑ گیاہو۔ وہ دونوں ایک ساتھ چلائے ’’بھینسے نے ہمیں پھنسا لیا ہے اور اب ہم خود اُس کا شکار بن جائیں گے‘‘ اور وہ سچ ہی کہہ رہے تھے۔ اچانک ہم سے صرف بیس گز دور جھاڑیوں سے بھینسا نکلا اور بھاگتا ہوا ہماری طرف بڑھا۔ اُس نے اپنے سینگ نیچے جھکائے اور بوب پر حملہ آور ہوا۔ بوب ایک جھاڑی کے پیچھے چھپ گیا۔ پھر بھینسا میری طرف بڑھا میں اُچھل کر ایک طرف ہوگئی۔ بھینسا اب مجھ سے تین فٹ دور کھڑے عون پر دوبارہ حملہ آور ہوا۔ عون نے اس کے سینے پر فائر کیے، مگر بھینسے

میں جیسے کوئی ماورائی طاقت آگئی تھی اُس نے تقریباً نیچے جھکتے ہوئے اپنا دو سو پونڈ وزنی سر عون کے پہلو میں دے مارا۔ عون کی چیخ ہم سب کو ہلاگئی۔ سینگ اس کے پہلو میں کھُب گیا۔ مگر چونکہ عون کانٹوں بھری جھاڑیوں میں کھڑا تھا۔ بھینسے کا دوسرا سینگ کانٹوں میں اُلجھ گیا وہ خود کو چھُڑانے کی کوشش کرنے لگا، وہ اپنے کھر زور زور سے زمین پر ماررہا تھا۔ اس دوران عون کو موقع مل گیا۔ عون نے اپنے پہلو میں کھبا سینگ نکال لیا جو ذرا سا ہی اندر گیا تھا اور خود کو مزید جھاڑیوں کے اندر کر لیا۔ اس حرکت نے عون

کو بچالیا ورنہ بھینسا اُس کا پیٹ پھاڑ ڈالتا۔ اس دوران میں نے، عون اور رچرڈ نے بھینسے پر لا تعداد فائر کیے اور پھر اس نے اپنا سر کانٹوں سے نکال ہی لیا اور رچرڈ کی طرف بڑھا مگر رچرڈ نے کمال مہارت سے اُسی لمحے بھینسے کے سر میں گولی ماری اور وہ رچرڈ کے قدموں میں ڈھے گیا۔ اُسے تقریباً بیس گولیاں لگیں تھیں جن میں سے چھ اس کے دل میں لگی۔ عون کو زخم آیا تھا، مگر خطرناک نہیں تھا۔ خوش قسمتی سے اور کوئی زخمی نہیں ہوا تھا، مگر مجھے بے حد افسوس ہورہا تھا کہ میں نے محض خود غرضی کی وجہ سے اپنی فہرست مکمل کرنے کی خاطر سات لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی تھیں۔
بھینسے کے شکار کے ساتھ ہی ہماری مہم ختم ہوئی۔ اس مہم میں خطرہ، جوش، خوشی، اُداسی، شکار سبھی کچھ تھا اور مجھے وہ بات تسلیم کرنی پڑی جس سے میںنے ہمیشہ انکار کیا تھا کہ انسان اپنی تمام تر ذہانت اور ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود کبھی کبھی جانوروں کی ذہانت کے آگے ہار جاتا ہے اور جانور انسان کے گمان سے بھی زیادہ سخت جان ثابت ہوتے ہیں۔