function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

اپنی غذا کو کیسے دوا بنائیں؟

ڈاکٹر شائستہ خان | 2011 ستمبر

چند روز قبل میرے پیٹ میں درد تھا۔ بڑے بھائی کو معلوم ہوا تو انھوں نے کہا ارے امرود کی چند پھانکیں کھالو، افاقہ ہوگا۔ خوش قسمتی سے فریج میں امرود موجود تھے۔ میں نے ایک امرود کھا لیا۔ بیس پچیس منٹ بعد پیٹ دردٹھیک ہوگیا۔

اس مثال سے عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ کئی غذائیں دوا کی بھی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے، بعض اوقات کوئی غذا کھالینے سے خلافِ توقع لاحق بیماری جاتی رہتی ہے یا کم از کم افاقہ ضرور ہوتا ہے۔ دراصل غذائوں میں معدنیات اور وٹامن کے علاوہ ایسی غذائیات بھی موجود ہوتی ہیں جو ہمارے نظام ِ مامون کو تقویت پہنچاتی، جسم میں سوزش کم کرتی اور امراض دور بھگاتی ہیں۔ذیل میں ایسی ہی غذائوں کا بیان پیش ہے جو مخصوص بیماریوں میں فائدہ پہنچاتی ہیں۔
خراب گلا اور کھانسی
اس کیفیت میں رسول کریمﷺ کی پسندیدہ غذا، شہد استعمال کیجیے۔ شہد میں موجود جراثیم کش اور ضدتکسیدی خصوصیات اُسے مؤثر غذا بنا ڈالتی ہیں۔ یہ خصوصاً خراب گلا درست کرتا اور کھانسی کو مار بھگاتا ہے۔ ایک پیالی نیم گرم چائے میں دو چھوٹے چمچ شہد ملائیے اور پی جائیے۔ یہ نسخہ ہر دو تین گھنٹے بعد استعمال کیجیے، صحت یاب ہو جائیں گے ۔
شہد کو آپ دہی، سلاد اور مختلف غذائوں یا مشروبات میں بھی ملا کر استعمال کرسکتے ہیں۔
ورزش کی اکڑن
بعض اوقات پہلی دفعہ ورزش کرنے یا وزن اُٹھانے سے جسم درد کرنے لگتا ہے۔ عضلات اکڑ جاتے ہیں اور پھر ورزش کرنے کو جی نہیں چاہتا۔اس تلخ کیفیت کو ادرک کی مدد سے دور کیجیے۔
دراصل ماہرین کا کہنا ہے، ادرک میں شامل ضدتکسیدی مادوں کی ایک قِسم، گینگرول (Gingerols) انسانی جسم میں سوزش کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا اثر مشہور درد کش دوا،آئبوپروفن سے ملتا جلتا ہے۔
ایک تجربے میں سخت ورزش کرنے والوں کو ڈیڑھ ہفتوں تک دو گرام (تقریباً دو چھوٹے چمچ) ادرک روزانہ کھلائی گئی۔ انھوں نے دوران استعمال 25 فیصد تک کم درد محسوس کیا جب کہ ادرک نہ کھانے والوں نے کافی تکلیف محسوس کی۔ لہٰذا آپ ورزش کا آغاز کرنے لگے ہیں، تو اعصابی درد سے بچنے کی خاطر ادرک کھائیے۔ اِسے بھی مختلف طریقوں سے کھانا ممکن ہے۔
دردِ شقیقہ
سر درد کی اس قسم میں کبھی کبھی اتنی شدید تکلیف ہوتی ہے کہ لگتا ہے، دماغ ابھی پھٹ جائے گا۔ المیہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اب تک نہیں جان پائے کہ یہ خلل کیوں جنم لیتا ہے۔ تاہم تجربات و تحقیق سے حال ہی میں یہ ضرور انکشاف ہوا کہ جن مردو زن میں میگنیشم معدن کم ہو، وہ اس بیماری میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی بدن میں میگنیشمکی کمی سے دماغ کے اِردگرد موجود خون کی نالیوں میں اینٹھن اور انقباض جنم لیتا ہے۔ یہ عمل پھر اعصاب شکن درد پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنے کے لیے ایسی غذائیں کھائیے جن میں میگنیشم وافر مقدار میں موجود ہو۔ ان میں السی کے بیج، پستہ، خشک خوبانی اور ثابت گندم نمایاں ہیں۔
ماہواری کی پریشانیاں
کئی خواتین میں ماہواری آنے سے قبل مختلف ذہنی و جسمانی تکلیفیںجنم لیتی ہیں۔ طبی اصطلاح میں یہ کیفیت ’’پری مینو سٹرل‘‘ اجتماع علامات پری مینسٹرویل سینڈروم (Premenstrual Syndrome)کہلاتی ہے۔ ماہرین طب اب تک نہیں جان سکے کہ یہ آفت کیوں جنم لیتی ہے۔
تاہم کچھ عرصہ ماہرین نے بذریعہ تجربات و تحقیق یہ ضرور جانا ہے کہ جن خواتین میں رائبو فلاوین یا وٹامن 2مطلوبہ مقدار میں پایا جائے، وہ درج بالا اجتماع علامات میں کم مبتلا ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ وٹامن ہمارے بدن میں ایسے نیوروٹرانسمیٹر(عصبی خلیوں) کو تقویت پہنچاتا ہے جو پری مینسٹرویل اجتماع علامات کی شدت کم کرتے ہیں۔
لہٰذا درج بالا کیفیت کا شکار خواتین اپنے بدن میں رائبوفلاوین یا وٹامن 2کی کمی نہ ہونے دیں۔ ایک بالغ خاتون کو روزانہ 1.1ملی گرام یہ وٹامن درکار ہوتا ہے۔ یہ حیاتین خمیر،کلیجی، خشک مسالہ جات، سویابین، پنیر، ثابت گندم، تل اور دھوپ میں سکھائے ٹماٹروں میں ملتا ہے۔
نیند کی کمی
وجہ کوئی بھی ہو، نیند نہ آنا مستقل دردِ سر بن جائے، تو انسان کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ نیند ہی کی بدولت انسان کو نئی توانائی اور مشکلاتِ حیات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ ملتا ہے۔
ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ نیند کی کمی کا شکار جن مرد و زن نے کیوی پھل(Kiwi fruit)کھایا، وہ جلد نیند کی وادی میں پہنچ گئے۔ دراصل یہ پھل ہمارے بدن میں نیند لانے والے نیوروٹرانسمیٹر،سیر و ٹونین کی تعداد بڑھا دیتا ہے۔ لہٰذا سیروٹونین بڑھنے سے انسان نہ صرف جلد سوتا ہے، بلکہ نیند کی کوالٹی بھی اچھی ہوتی ہے۔
سینے کی جلن
کھانا کھانے کے بعد ہزارہا مرد و زن اپنے سینے یا معدے میں جلن(Heartburn)محسوس کرتے ہیں۔ یہ طبی کیفیت بھی ان بیماریوں میں شامل ہے جنھیں ڈاکٹر صحیح طرح نہیں سمجھ سکے۔ یہ کیفیت مختلف وجوہ کی بنا پر جنم لیتی ہے۔
اس سے بچنے کا ایک علاج ریشے (Fiber)والی غذائیں زیادہ کھانا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ریشہ غذا کو نظام ہضم سے جلد گذار کر نکال باہر کرتا ہے۔ یوں نظام ہضم میں موجود تیزابوں کو موقع نہیں ملتا کہ وہ غذا سے تعامل کرکے کچھ گڑبڑ کریں جن میں سینے کی جلن بھی شامل ہے۔
ریشے سے بھر پور غذائوں میں ثابت اناج، پھلیاں، بیریاں، مٹر، چنا ، السی کے بیج، ناشپاتی اور امرود شامل ہیں۔ یہ سبھی غذائیں پیٹ کی مختلف بیماریوں میں افاقہ پہنچاتی ہیں۔
نظر کی خرابی
انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی ہے، وہ بینائی کے ایک اہم مرض، ماکولر ڈی جینریشن (Macular degeneration)کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اس مرض میں نظر دھندلا جاتی ہے۔ تاہم انسان گوبھی اور سبزپتوں والی دیگر سبزیاں کھاتا رہے، تو اس مرض سے بچ سکتا ہے۔
وجہ یہ ہے کہ درج بالا سبزیوں میں زانتھوفل (Xanthophyll)مادہ ملتا ہے۔ یہی مادہ نہ صرف سبزیوں کو سبز رنگ عطا کرتا ہے بلکہ انسان کو ماکولر ڈی جینریشن سے نجات بھی دلاتا ہے۔
کمزور اعصاب
اس حالت میں روزانہ ایک سیب کھانا مفید ہے اور یاد رکھیے، اس کا چھلکا مت اتارئیے۔ سیب میں یرسولک (Ursolic) نامی تیزاب بکثرت پایا جاتا ہے۔ یہ تیزاب ہمارے بدن میں دو ہارمون انسولین اور انسولین نما گروتھ فیکٹر1-پیدا کرتا ہے۔ یہ دونوں ہارمون اعصاب کی نشو و نما میں اہم حصہ لیتے ہیں۔
قوت ارتکاز کی کمی
انسان میں کولین (Choline) کی کمی کے باعث قوت ارتکاز کم ہوتی ہے۔ یہ غذائی عنصر دماغ کی اس صلاحیت کو تقویت دیتا ہے کہ وہ اپنے احکامات پورے جسم میں بخوبی بھجوا سکے۔ اسی صلاحیت کے کمزور ہونے سے انسان ارتکاز کی قوت کھو بیٹھتا ہے۔ نیز کولین ہمارے خلیوں کو بھی صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ غذائی عنصر وٹا من بی گروہ کا حصہ ہے۔
کولین انڈے، مرغ اور گائے کے گوشت میں پایا جاتا ہے۔ لہٰذا آپ قوت ارتکاز میں کمی محسوس کریں، تو چند دن روزانہ ایک انڈا کھائیے یا گوشت استعمال کیجیے۔ افاقہ ہوگا۔
جلد پر جھریاں پڑنا
انسانی جسم میں مخصوص پروٹینی مادہ، کولاجن کم پڑجائے، تو جلد اپنی لچک کھو بیٹھتی ہے۔ تب اس میں جھریاں بھی پڑنے لگتی ہیں۔ لہٰذا جلد کو لچکیلا بنانے کی خاطر اس مادے کی جسم میں موجودگی ضروری ہے۔
ہمارے بدن میں وٹامن سی کولاجن پیدا کرتا ہے، لہٰذا روز مرہ کھانے میں ایسی غذائیں مثلاً ہری مرچ، کِنو یا مالٹا، امرود، شکر قندی، لیموں، لیچی وغیرہ شامل رکھیے جن میں وٹامن سی کثیر تعداد میں ملتا ہے۔
ڈپریشن
یہ بیماری انسان کو عموماً اس وقت چمٹتی ہے جب جسم میں ایک خلویاتی مادے، سیروٹونین کی کمی واقع ہوجائے۔ یہی نیوروٹرانسمیٹر ہمارا موڈ کنٹرول کرتا اور گھبراہٹ و بے چینی کو مار بھگاتا ہے۔
سیروٹونین کی مقدار، بڑھانے اور اُسے قابو کرنے کے لیے کاربو ہائیڈریٹ کے اچھے گروپ میں شامل غذائیں کھائیے۔ان غذائوں میں آلو اور گندمی (ثابت) چاول شامل ہیں۔ اگر آپ ڈپریشن کا شکار ہیں، تو چند دن روزانہ ایک پیالی گندمی چاول تناول کیجیے، افاقہ ہوگا۔
پھولی ہوئی آنکھیں
کئی مرد و زن کی آنکھوں کے نیچے جلد پھول جاتی ہے۔ تب سیاہ حلقے بھی جنم لیتے ہیں۔ ایسا دراصل جلد میں مائع بھرنے سے ہوتا ہے۔ اس حالت سے چھٹکارا پانے کا آسان حل یہ ہے کہ چند ماہ سبز چائے پیجئے۔ یہ چائے دراصل پیشاب آور ادویہ جیسے اثرات رکھتی ہے۔ اسی لیے سبز چائے پینے سے پورے جسم میں غیر ضروری پھلاہٹ جاتی رہتی ہے۔
ریفریجریٹرمی میں خراب ہونے والی غذائیں
بہت سے مرد و خواتین فریج میں غذا رکھ کر سوچتے ہیں کہ وہ طویل عرصے کے لیے محفوظ ہوگئی۔ حالانکہ یہ آلہ جادو کی چھڑی نہیں کہ ہمیشہ کے لیے غذا کو محفوظ کردے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اشیائے خورو نوش معین عرصے بعد فریج میں پڑے پڑے بھی خراب ہوجاتی ہیں۔ انہی کی بابت معلومات درج ذیل ہے۔
1۔منجمد گوشت
فریزر میں مرغی یا گائے کا گوشت منجمد رکھنا گھروں میں معمول کی بات ہے۔اس کا طریق کار یہ ہے کہ گوشت پلاسٹک کی تھیلی میں رکھیے تاکہ وہ جلد از جلد منجمد ہوجائے۔ مزید برآں یاد رکھیے، تھیلی میں سے ساری ہوا نکال دیجیے تاکہ فریزر کا کام آسان ہوسکے۔
فریزر میں رکھا گوشت ایک سے دو ماہ میں استعمال کرلیجیے۔ گو تکینکی طور پر یہ گوشت چھ ماہ تک محفوظ رکھنا ممکن ہے۔ لیکن تب تک اس کے ذائقے اور رنگت میں بڑا فرق آجاتا ہے۔ ریفریجریٹر میں کچا گوشت صرف ایک یا دو دن ہی ٹھیک رہتا ہے۔
2۔ پکا سالن
فریج میں پکا سالن رکھنا مقصود ہو، تو اُسے دو سے چار دن رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اس دوران فریج کا درجہ حرارت 36ڈگری سینٹی گریڈ ضروری ہے۔ ورنہ سالن خراب ہو سکتا ہے۔ اگر سالن رکھنا ہے، تو بہتر ہے کہ اُسے جما دیجیے۔
3۔ انڈے
اگر انڈے تازہ ہیں تو فریج میں دو تا تین ہفتے محفوظ رہتے ہیں۔ معیاری انڈے پانچ ہفتوں تک بھی قابلِ استعمال رہتے ہیں۔ مزید برآں انڈوں کو فریج کے سب سے سرد حصے میں محفوظ کیجیے۔ دروازے میں نہ رکھیے، کیونکہ اس کے بار بار کھلنے سے درجہ حرارت تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
4۔ چینی…ایک خاموش قاتل
آگاہی کے اس دور میں ناخواندہ بھی یہ اُڑتی خبر سن چکے کہ چینی صحت دشمن ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی نئی بات نہیں البتہ نئی خبر یہ ہے کہ چینی انسانی صحت کو کتنا نقصان پہنچاتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چینی کے نقصانات کے باوجود دنیا بھر میں اس غذا کی کھپت بڑی ہے۔ مثال کے طور پر ہر امریکی سالانہ 130پونڈ چینی کھا جاتا ہے۔ وہ چینی اس کے علاوہ ہے جو کئی غذائوں میں پائی جاتی ہے۔ اِدھر پاکستانی بھی کئی پونڈ چینی ڈکار جاتے ہیں۔ حالانکہ امریکا کے مشہور ڈاکٹر اور کیلی فورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ امسٹگ کا کہنا ہے:
’’چینی انسانی صحت کے لیے اتنی زیادہ نقصان دہ ہے کہ اُسے زہر کہنا بہتر ہے۔‘‘
ذیل میں چینی کے وہ نقصانات پیش ہیں جو جدید طبی تحقیق سے حال ہی میں سامنے آئے۔
1۔ چینی اور ہائی فرکٹوز کارن سیرپ ہیں برابر
ہائی فرکٹوز کارن سیرپ ایک مقبول مٹھاس (Sweetness)ہے۔ یہ مٹھاس بوتلوں و دیگر میٹھی اشیا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ خون میں پہنچتے ہی چینی سے زیادہ تیزی کے ساتھ شکر میں اضافہ کرتی ہے۔ لیکن ا ب پروفیسر رابرٹ نے دریافت کیا ہے کہ اثر پذیری میں ہائی فرکٹوز کارن سیرپ اور چینی میں کوئی فرق نہیں۔ جسم میں پہنچتے ہی دونوں ایک جیسی ہوجاتی ہیں۔
دراصل عام چینی آدھی فرکٹوز اور آدھی گلوکوز ہوتی ہے۔ جبکہ ہائی فرکٹوز کارن سیرپ55فیصد فرکٹوز اور45فیصد گلوکوز رکھتا ہے۔ گو فرکٹوز اور گلو کوز مختلف طریقے سے ہضم ہوتی ہیں، لیکن آخر کار دونوں خون ہی کا حصہ بنتی ہیں۔
2۔ٹھوس اور مائع چینی میں فرق
ماہرین نے بذریعہ تحقیق جانا ہے کہ بوتلوں اور مشروبات میں شامل چینی انسانی صحت کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مائع حالت میں چینی بہت جلد جگر تک پہنچ جاتی ہے۔ لہٰذا اُسے پروسیس کرنے کے لیے جگر کو تیزی سے کام کرنا پڑتا ہے اور زور لگا کر! نتیجتاً جگر بیشتر چینی کو چربی میں بدل دیتا ہے۔ نیز یہ عمل مسلسل جاری رہے، تو انسان ذیابیطس کا نشانہ بن جاتا ہے۔
3۔چینی امراض قلب پیدا کرتی ہے
عام خیا ل یہی ہے کہ زیادہ چینی کھانے سے ذیابطیس پیدا ہوتا ہے۔ مگر انسانی جسم میں شکر کی زیادتی دل کی بیماریوںکو جنم دیتی ہیں۔ دراصل انسان میٹھی اشیا زیادہ کھائے، تو اس کا بدن بطور ردِ عمل کثیر مقدارمیں انسولین پیدا کرتا ہے۔ انسولین کی غیر فطری زیادتی ہی پھر خرابیاں جنم دیتی ہے۔
دراصل انسولین زیادہ ہو، تو انسان کا بلڈ پریشر بڑھتا ہے، اچھا کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کم ہوجاتا ہے اور خون میں چکنائی کی ایک قسم ٹرائی گلیسرائیڈز بِسکٹ (Triglycerides) بڑی تعداد میں جنم لیتی ہے۔ یہ تمام عوامل ہی مل کی امراض قلب پیدا کرتے ہیں۔
4۔ تھکن پیدا ہونے کا سبب
پاکستان میں لاکھوں مرد و زن سہ پہر کو تازہ دم ہونے کی خاطر چائے پیتے ہیں۔ اسی موقع پر کیک، بِسکٹ وغیرہ بھی تناول کیا جاتا ہے۔ یوں انسان واقعی تازہ دم ہوجاتا ہے، لیکن مختصر وقت کے لیے…بلکہ آدھ پون گھنٹے بعد اس پر خواہ مخواکی تھکن طاری ہوجاتی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ سہ پہر کو انسان جیسے ہی میٹھی شے کھائے، خون میں شکر یا چینی کی سطح بڑھنے سے وہ چاق چوبند ہوجاتا ہے۔ لیکن جب جسم چینی کو پروسیس کرنے کی خاطر زیادہ انسولین پیدا کرے، تو خون میں چینی کی سطح اچانک گر جاتی ہے۔ یہی کیفیت پھر انسان میں تھکن کا احساس پیدا کرتی ہے۔
5۔ گردوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے
خون میں ہر وقت چینی کی موجودگی گردوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ہمارے گردوں کا کام یہ ہے کہ خون سے زہریلے مادے چھان کر نکالتے رہیں۔ جب خون میں چینی کی مقدار بڑھ جائے، تو وہ زہر میں بدل جاتی ہے۔ یوں اُسے نکالنے کے لیے گردوں کو معمول سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
جب گردے طویل عرصہ اسی سرگرمی میںمشغول رہیں، تو آخرکار اپنی قوت کھو بیٹھتے ہیں۔ یوں ان کے بگڑنے کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ماہرین نے تحقیق سے جانا ہے کہ زیادہ میٹھی اشیا کھانے پینے سے گردے اور جگر، دونوں فطری طور پر متاثر ہوتے ہیں۔
5۔ریشے سے ایک بیماری کا علاج
ریشہ(Fiber)بہت سی غذائوں کا اہم جزو ہے اور یہ کئی اعتبار سے ہماری صحت کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ مثال کے طور پر کولیسٹرول کم کرتا، خون میں شکر کی سطح متوازن رکھتا اور وزن کم کرتا ہے۔ ریشے والی غذائیں کھانے سے انسان امراض قلب، ذیابیطس اور کینسر کی چند اقسام سے محفوظ رہتا ہے۔ حتیٰ کہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جو مردو زن ریشے والی غذائیں کھائیں، وہ طویل عرصہ تندرست و توانا رہتے ہیں۔
ریشے کی ایک بڑی خاصیت یہ ہے کہ ہمیں شدید قبض سے محفوظ رکھتا ہے۔ کوئی انسان مسلسل قبض کا شکار رہے، تو وہ ڈائیور ٹیکولوسیس (Diverticulosis)نامی مرض کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اس بیماری سے آنتوں میں چھوٹی بڑی تھیلیاں بن جاتی ہیں۔
درج بالا بیماری اپنی شدت صحیح معنوں میں اس وقت دکھاتی ہے جب تھیلیاں چھوت یا سوزش کا شکار ہوجائیں۔ تب نہ صرف انسان کو شدید تکلیف ہوتی ہے، بلکہ اس کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔
ڈائیورٹیکو لوسیس چمٹنے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انسان ریشے والی غذائیں کم کھاتا ہے۔ عموماً 40سال سے بڑی عمر، موٹاپا، سگریٹ نوشی اور ورزش کی عدم موجودگی یہ ایسے عوامل ہیں جو اِس بیماری کا باعث ہیں۔
دراصل انسان مسلسل قبض آور اشیا کھاتا رہے، تو فاضل غذا کوجسم سے باہر نکالنے کے لیے آنتوں کو معمول سے زیادہ زور لگانا پڑتا ہے اور اِسی باعث رفتہ رفتہ آنتوں کی طاقت اور لچک ختم ہوجاتی ہے۔پھرآنتوں کی جلد ڈھیلی ہوکر تھیلیوں میں ڈھل جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں سمجھاجاتا تھا، مغزیات، مکئی، بیج، پاپ کارن وغیرہ کھانے سے آنتوں میں تھیلیاں بنتی ہیں۔ لیکن تحقیق سے یہ بات غلط ثابت ہوچکی۔ بلکہ انکشاف ہوا کہ یہ غذائیں تو آنتوں کو امراض سے محفوظ رکھتی ہیں۔
یہ واضح رہے کہ ڈائیورٹیکولوسیس مرض علامات نہیں رکھتا۔ جب کوئی تھیلی چھوت کا نشانہ بن کر شدید تکلیف دینے لگے، تبھی انسان پر منکشف ہوتا ہے کہ ایک خوفناک بلا اسے چمٹ چکی ہے۔
بیماری کی پہلی واضح علامت یہ ہے کہ پیٹ میں شدید درد ہوتا ہے۔ یہ ہر روز بڑھتا چلا جاتا ہے۔ دیگر علامات میں بخار، متلی، دست اور قبض شامل ہیں۔ اس مرض کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان ریشے والی غذائیں زیادہ کھائے اورمناسب مقدار میں پانی و رَس نوش کریں۔
یاد رہے، مردوں کو روزانہ 35گرام جبکہ خواتین کو25سے30گرام ریشہ درکار ہوتا ہے۔ یہ غذائی عنصر مٹر، دالوں، پھلیوں، بند گوبھی، ناشپاتی اور سیب میں وافر ملتا ہے۔
پانچ اہم غذائیں
حکیم بقراط نے ہزاروں سال قبل کہا تھا کہ دوا سے پہلے غذا سے علاج کرنا سیکھو۔ انھوں نے کچھ غلط نہ کہا تھا کیونکہ کئی بیماریاں محض غذائوں سے دور کرنا ممکن ہے۔ ہم شروع میں ایسی بعض غذائوں کی بابت بتا چکے، مزید درج ذیل ہیں۔
پتھریاں لیموں سے ختم کیجیے
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بازاری کھانوں کے زیادہ استعمال سے ہر سال ہزارہا پاکستانی مرد و زن گردے کی پتھری کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اگر آپ پتھری سے بچنا چاہتے ہیں، تو روزانہ ایک دو لیموئوں کا رس پینا معمول بنالیجیے۔
دراصل لیموں میں تمام سٹرس پھلوں سے زیادہ سائٹریٹ(Citrate)مادہ پایا جاتا ہے۔ یہ مادہ گردوں میں موجود کیلشیم گھلا دیتا ہے، چنانچہ پتھری جنم نہیں لیتی۔
کافی پیجئے، ڈپریشن بھگائیے
پاکستان میں ہزارہا مرد و خواتین ڈپریشن سے نجات کے لیے قیمتی ادویہ استعمال کرتے ہیں، تب بھی انھیں خاص افاقہ نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے وہ کچھ ماہ کے لیے روزانہ دو تین پیالی کافی پی لیں، تو عموماً انھیں ڈپریشن سے نجات مل جاتی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ کافی ہمارے دماغ کو ان اعصابی زہریلے مادوں سے بچاتی ہے جو ڈپریشن پیدا کرتے ہیں۔
موسم سرما میں دہی کھائیے
دہی میں پروبائیوٹک(Probiotic)نامی اچھے جراثیم ملتے ہیں۔ یہ جراثیم ہمارا نظام مامون طاقتور بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں جو مرد و زن روزانہ ایک پلیٹ دہی ضرور کھائیں،وہ موسم گرما سے مخصوص بیماریوں کا شکار نہیں ہوتے۔ تاہم دہی میں چینی ملانے، اینٹی بائیوٹک ادویہ کے زائد استعمال اور ذہنی دبائو کی وجہ سے درج بالا اچھے جراثیم آنتوں میں چل بستے ہیں۔