function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

انوکھی خواہش

laeq naqvi | 2011 ستمبر

گلی سنسان تھی۔ وہ کھمبے کے نیچے رک گیا۔ اس نے احتیاط سے دونوں طرف نظریں دوڑائیں۔ پھر اپنے بازوئوں میں سوئے بچے کو مضبوطی سے بھینچ کر اس کا معصوم چہرہ غور سے دیکھنے لگا۔ بچے کے بال سنہرے تھے۔ منہ پر اداسی چھائی ہوئی تھی، جیسے وہ روتے روتے سو گیا ہو۔ نوجوان چند لمحے اسی حالت میں کھڑا رہا جیسے وہ کوئی قطعی فیصلہ کرنے سے قاصر ہو۔ اس کا لباس شکن آلود تھا۔ بال سیاہ اور چہرے کی رنگت زرد تھی۔ اور وہ خوف زدہ نظر آ رہا تھا۔

پھر وہ فیصلہ کن انداز میں اچانک مڑا اور تیز تیز قدم اٹھاتا سرخ اینٹوں والی عمارت کی طرف بڑھا۔ اندر داخل ہو کر اس نے عمارت میں رہنے والے کرائے داروں کی تختیوں پر نظر ڈالی۔ اسے ایڈورڈ نامی شخص کی تلاش تھی۔ ایڈورڈ دوسری منزل کے ایک فلیٹ میں مقیم تھا۔  نوجوان بچے کو مضبوطی سے تھامے جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ دوسری منزل کے ایک فلیٹ کے سامنے رک کر اس نے اطلاعی گھنٹی بجائی اور دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔ راہداری میں جلنے والا بلب کم قوت کا تھا۔ نوجوان نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور اندر سے ایک نوجوان نے جھانک کر باہر دیکھا۔ پھر وہ پورا دروازہ کھول کر باہر آ گیا۔ اس کے جسم پر پتلون اور بنیان کے سوا کچھ نہیں تھا۔ چہرہ ستا ہوا اور آنکھیں بے خوابی کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں۔

’’یہ لو اپنا بچہ!‘‘ نوجوان نے پرسکون لہجے میں کہا اور بازوئوں میں سویا بچہ ایڈورڈ کی طرف بڑھایا۔ ’’دیکھ لو، بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
ایڈورڈ نے لپک کر جھکتے ہوئے بچہ اپنی گود میں لے لیا۔ اس کے منہ سے سسکی سی نکلی۔ اس نے اپنے بچے کو سینے سے لگا کے زور سے بھینچا۔ نوجوان ٹکٹکی باندھے باپ کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔ چند لمحوں بعد ایڈورڈ کسی خیال کے زیر اثر زور سے چونکا۔ اس نے دہشت زدہ نظروں سے نوجوان کو دیکھا جو اس کا بچہ لے کر آیا تھا۔ پھر وہ بچے کو سینے سے چمٹائے جلدی سے دوڑ کر فلیٹ میں چلا گیا۔

نوجوان چند لمحے خالی خالی نظروں سے فلیٹ کا کھلا ہوا دروازہ تکتا رہا۔ اس وقت وہ عجیب جذباتی کیفیت محسوس کر رہا تھا۔ پھر ایک جھٹکے سے مڑا اور تیزی سے سیڑھیاں اُترنے لگا۔ عمارت سے باہر نکلتے ہی اچانک تاریکیوں سے سائے ابلنے لگے اور کسی نے اس کے چہرے پر طاقتور ٹارچ سے روشنی ڈالی۔ پھر کچھ ہاتھوں نے بے دردی سے اسے گرفت میں جکڑ لیا۔ ’’پولیس۔‘‘ ایک کھردری سخت آواز نے کہا۔ ’’خود کو قانون کے حوالے کر دو، خاموشی کے ساتھ!‘‘
چند منٹ بعد پولیس کی گاڑی ہیڈکوارٹر کے سامنے رکی۔ اخباری نمائندوں نے گاڑی چاروں طرف سے گھیر لی۔ دروازہ کھلا اور نوجوان سادہ لباس والے دو سپاہیوں کے درمیان گاڑی سے نکلا۔ پیچھے پیچھے چند باوردی پولیس والے نکلے اور یہ چھوٹا سا قافلہ ہیڈکوارٹر میں داخل ہو گیا۔

کچھ دیر بعد نوجوان کو ایک بڑے کمرے میں لے جایا گیا۔ کشادہ میز کے پیچھے ایک پستہ قد گنجا آدمی بیٹھا تھا۔ اس کے دونوں طرف سادہ لباس والے سپاہی موجود تھے۔ ’’میں انسپکٹر ونٹر ہوں۔‘‘ پستہ قد گنجے نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ ’’تمھارے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ تم فوراً اپنے جرم کا اعتراف کر لو۔ اس طرح ہمارا وقت ضائع ہونے سے بچ جائے گا اور عدالت بھی سزا سناتے وقت تمھارا یہ تعاون پیش نظر رکھے گی۔‘‘ نوجوان نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور بولا ’’کیا آپ کا خیال ہے کہ میں نے بچے کو اغوا کیا تھا؟ آپ غلط فہمی کا شکار ہیں۔‘‘

انسپکٹر کا چہرہ سخت ہو گیا۔ اس کے لبوں پر مضحکہ اُڑانے والی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ’’یہ بہت پرانا گھسا پٹا جملہ ہے۔‘‘ اس نے قلم سنبھالتے ہوئے کہا۔ ’’تمھارا نام اور پتا؟‘‘
’’والٹراسنو۔‘‘ نوجوان نے نام بتا کے اپنا پتا لکھوایا۔
’’پیشہ؟‘‘
’’موسیقار ہوں۔ لیکن آج کل کوئی کام نہیں کرتا۔‘‘
’’شادی شدہ ہو؟‘‘
والٹر نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’ہاں لیکن میری بیوی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔‘‘

انسپکٹر نے قلم میز پر رکھ دیا اور آگے جھک کر غور سے والٹر کو دیکھا۔ ’’اب تم یہ بتائو کہ تم نے بچے کو پہلے اغوا کیوں کیا؟ پھر اسے واپس کیوں کر دیا؟ اگر تم بچے کو اغوا کر کے والدین سے رقم حاصل کرنا چاہتے تھے‘ تو اُسے واپس کیوں کر دیا؟ اگر تمھارا اِرادہ شروع ہی سے بچے کو واپس کرنے کا تھا‘ تو تم نے اسے اغوا کیوں کیا؟‘‘
والٹر نے ایک گہری سانس لی‘ بے بسی کے عالم میں سر ہلایا اور کہا’’انسپکٹر میں پہلے ہی کہہ چکا کہ میں نے بچے کو اغوا نہیں کیا۔ صرف اسے اس کے والدین کو واپس کرنے گیا تھا۔‘‘

انسپکٹر نے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو دیکھا جو والٹر کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔ پھر وہ چند لمحے نوجوان ملزم کودیکھتا رہا۔ ’’دیکھو والٹر! میں معموں میں گفتگو کرنے کا قائل نہیں۔ یہ بتائو کہ اگر تم نے بچے کو اغوا نہیں کیا تھا‘ تو یہ تمھیں کہاں سے اور کیسے ملا؟‘‘
’’میں اپنی گاڑی میں آوارہ گردی کر رہا تھا۔‘‘ نوجوان نے سادگی سے کہا۔ ’’مجھے اپنے گھر سے بڑی وحشت ہوتی ہے۔ اس لیے آج کل سارا دن گاڑی میں گھومتا رہتا ہوں۔ آج مجھے کچھ سامان بھی خریدنا تھا۔میں اپنی گاڑی ایک مارکیٹ کے پاس کھڑی کر کے خریداری کرنے اندر چلا گیا۔ جب واپس آیا‘ تو میری گاڑی کی اگلی نشست پر ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کی قمیص پر پن سے ایک پرزہ چپکا ہوا تھا جس پر بچے کے والدین کا پورا نام اور پتا لکھا ہوا تھا۔‘‘
انسپکٹر نے بے یقینی کے انداز میں سر ہلایا۔ ’’وہ پرزہ کہاں ہے؟‘‘

’’میں نے اس کی قمیص سے علیحدہ کر لیا تھا۔‘‘ والٹر نے کہا۔ ’’بچہ بھوک کی وجہ سے رو رہا تھا۔ میں اسے اپنے گھر لے گیا۔ اسے دودھ پلایا اور وہ پرزہ پھاڑ کر پھینک دیا۔‘‘
’’خوب! خوب!‘‘ انسپکٹر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ’’اچھا، اس مارکیٹ کا نام اور پتا کیا ہے؟ اور تم کس وقت وہاں گئے تھے؟‘‘
والٹر نے آہستگی سے اس کے تمام سوالوں کے جواب دیے جنھیں انسپکٹر ایک صفحے پر لکھتا رہا۔ پھر اس نے وہ کاغذ اپنے ایک ماتحت کی طرف بڑھایا اور بولا ’’تمھیں ان تمام باتوں کی تصدیق کرنی ہے۔‘‘ پھر نوجوان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا ’’تمھیں یہ تو معلوم ہو گا کہ وہ اغوا کیا ہوا بچہ تھا اور پولیس اسے اور ملزموں کو تلاش کر رہی تھی؟‘‘

والٹر نے اثبات میں سرہلایا۔’’ہاں میں نے سہ پہر کے وقت گاڑی کے ریڈیو پر اغوا کی خبر سنی تھی۔‘‘
انسپکٹر نے زور سے میز پر گھونسا مارا اور آگے کی طرف جھک کے نوجوان کی آنکھوں میںآنکھیں ڈالتے ہوئے کہا ’’اس کے باوجود تم نے بچے کو فوراً پولیس کے حوالے نہیں کیا بلکہ تم اسے اپنے گھر لے گئے، جہاں تمھارے کہنے کے مطابق وہ کئی گھنٹے تک رہا۔ کیا میں اس احمقانہ کہانی پر یقین کر سکتا ہوں؟‘‘
نوجوان نے بے بسی سے کاندھے اچکائے اور کہا ’’میں نے جو کچھ کہا اس کا ایک ایک لفظ سچ ہے۔‘‘
’’سچ سننا چاہتے ہو‘ تو مجھ سے سنو۔‘‘ انسپکٹر نے تیز لہجے میں کہا ’’پہلے تم نے بچے کو اغوا کیا۔ پھر تم اس جرم کے نتائج سے دہشت زدہ ہو گئے، اس لیے تم نے یہی بہتر سمجھا کہ بچہ والدین کو واپس کر دیا جائے۔‘‘

اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ انسپکٹر نے ہاتھ بڑھا کر چونگا اُٹھا لیا۔ اور کچھ دیر خاموشی کے ساتھ چونگا کان سے لگائے رکھا۔ درمیان میں وہ ہوں ہاں کرتا رہا۔ پھر اس نے چونگا کریڈل پر رکھ دیا اور گہری نظروں سے والٹر کو دیکھنے لگا۔ اب اس کے چہرے کے تاثرات بڑی حد تک تبدیل ہو گئے تھے۔ ’’والٹر!‘‘ ابھی جو ٹیلی فون آیا۔ وہ میرے ایک نائب نے تمھارے فلیٹ سے کیا تھا۔وہ وہاں تمھارے سامان کی تلاشی لینے گیا تھا۔ کیا یہ درست ہے کہ چند ماہ قبل تمھارا چھے سالہ بچہ ایک حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا؟‘‘
والٹر پر اس سوال کا عجیب ردعمل ہوا۔ اس کا زرد چہرہ اور زرد ہو گیا‘ بدن کو جھٹکا سا لگا۔ وہ اپنی نشست پر سیدھا ہو گیا۔ اعصاب تن گئے۔ لیکن اس کا چہرہ اب بھی جذبات سے عاری تھا اور جب وہ بولا تو لہجہ بالکل سپاٹ تھا۔ ’’ہاں، میں شہر سے باہر تھا۔ وہ گلی میں کھیل رہا تھا کہ ایک ٹرک اسے کچلتا ہوا چلا گیا۔‘‘
انسپکٹر کا چہرہ نرم پڑ گیا۔ اس نے نظریں جھکا لیں اورمیز پر رکھی ایک فائل دیکھنے لگا۔ جب وہ بولا‘ تو اس کا لہجہ دھیما تھا۔ ’’میں تمھیں یہ بتانا چاہتا ہوں والٹر کہ میں پولیس میں ملازم ہونے کے باوجود انسان رہنے کی کوشش کرتا ہوں‘ مگر بسااوقات مجھے بہت دشواری ہوتی ہے۔ پھر بھی میں اپنی سی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ میں تمھارے حالات سمجھ سکتا ہوں۔

’’بیوی نے ساتھ چھوڑا‘ تو تم تنہا رہ گئے اور تنہائی کے ساتھ تم پر بچے کی پرورش کا بوجھ بھی پڑ گیا۔ پھر تم سے تمھارا بچہ بھی چھن گیا‘ لیکن یہ صورت حال تمھارے حق میں بہت نقصان دہ ہے۔ تمھارا کیس اور کمزور ہو جائے گا۔ ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ جب شریک حیات چھوٹنے کے بعد دوسری شادی نہیں کرتے اور ان سے بچے بھی چھن جائیں، تو ان میں سے کچھ جرائم کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے اغوا میں عام طورپر عورتیں ملوث پائی گئی ہیں۔ لیکن یہ کوئی کلیہ نہیں‘ مردوں سے بھی اس حرکت کی توقع حیرت انگیز نہیں ہے۔ سمجھ رہے ہو میرا مطلب؟‘‘

والٹر نے نظریں اٹھا کر انسپکٹر کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے کرب و اذیت نمایاں تھی۔ ’’میں بے قصور ہوں جناب! میں نے بچہ اغوا نہیں کیا تھا۔‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں دہرایا۔ ’’اچھا ہم کچھ دیر کے لیے تمھارے بیان درست تسلیم کر لیتے ہیں۔‘‘ انسپکٹر نے تھکے تھکے لہجے میں کہا ’’اب ہمیں یہ معلوم کرنا پڑے گا کہ جس وقت بچہ اغوا کیا گیا، اس وقت تم کہاں تھے؟ اسے آج صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے اغوا کیا گیا تھا؟‘‘

نوجوان کا سر جھک گیا۔ وہ چند لمحے گہری سوچ میں ڈوبا رہا۔ ’’مجھے نہیں معلوم کہ میں اس وقت کہاں تھا؟ بس اتنا معلوم ہے کہ میں اپنی گاڑی میں آوارہ گردی کر رہا تھا۔‘‘
’’یہ کہنے سے جان نہیں چھوٹے گی۔‘‘ اچانک انسپکٹر کا لہجہ پھر پہلے کی طرح سخت ہو گیا۔ ’’بچے کو آج صبح گیارہ بج کر بیس اور پینتیس منٹ کے درمیان اس کے گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا۔ وہ گلی میں کھیل رہا تھا۔ اگر تم یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اس وقت تم جائے واردات کے بجائے کسی دوسری جگہ تھے‘ تو تمھارے بے گناہ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عدالت تمھیں مجرم تسلیم کر لے گی۔ تمھیں معلوم ہے، ہمارے ملک میں بچوں کو اغوا کرنے کی سزا کتنی سخت ہے؟‘‘

نوجوان نے دوبارہ سر اٹھا کے انسپکٹر کو دیکھا۔ ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں جائے واردات سے اپنی غیر موجودگی کس طرح ثابت کر سکوں گا؟‘‘ اس نے کہا ’’جب میں اپنے مکان میں دیر تک رہوں‘ تو مجھ پر وحشت سوار ہو جاتی ہے۔ میں جنونی ہو جاتا ہوں۔ اس وقت میں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر نکلتا ہوں۔ میری کوئی منزل نہیں ہوتی۔ صرف ایک مقصد ہوتا ہے، اپنے گھر سے دور رہنا۔ پھر میں اس وقت تک آوارہ گردی کرتا رہتا ہوں، جب تک میری حالت معمول پر نہیں آ جاتی۔ میری وحشت کا یہی ایک علاج ہے۔ ڈرائیونگ کے دوران مجھے یہ ہوش نہیں رہتا کہ کہاں جا رہا ہوں؟ بس میں ایک سڑک پر چلتا رہا ہوں، چلتا رہتا ہوں، یہاں تک کہ تھک جاتا ہوں۔ پھر واپس گھر آتا ہوں۔‘‘
’’آج تم کس سمت گئے تھے؟‘‘

’’آج میں شمال کی طرف گیا تھا۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ آج میں نے بہت طویل سفر کیا تھا۔ شہر ختم ہو گیا۔ پھر بھی میں چلتا رہا۔ یہاں تک کہ دیہی علاقے شروع ہو گئے اور مجھے دور دور تک کھیت اور باغات پھیلے ہوئے نظر آئے۔ پھر میںواپس آ گیا۔
’’خوب۔‘‘ انسپکٹر نے کہا۔ ’’تم تنہا تھے؟ راستے میں تمھیں کوئی ایسا شخص بھی نظر نہیں آیا جو تمھارا جاننے والا ہو؟ تم کسی ہوٹل میں کافی وغیرہ پینے کے لیے بھی نہیں گئے؟ تم نے کسی پمپ سے اپنی گاڑی میں پٹرول بھی نہیں ڈلوایا؟‘‘

’’میری گاڑی کی ٹینکی پٹرول سے بھری ہوئی تھی۔ بھوک آج کل مجھے بہت کم لگتی ہے۔‘‘ نوجوان نے آزردہ لہجے میں جواب دیا۔
انسپکٹر سوالات کرتا اور نوجوان جواب دیتا رہا۔ اس کے جواب پہلے کی طرح فضول تھے۔ انسپکٹر‘ نوجوان کا بازو پکڑے کمرے سے باہر آیا۔ راہداری میں ایک اور باوردی سپاہی نے نوجوان کا بازو پکڑا اور اسے لے جا کے حوالات میں بند کر دیا۔
٭٭
دوسرے روز صبح دس بجے نوجوان ایک بار پھر انسپکٹر کے دفتر میں موجود تھا۔ انسپکٹر نے کہا ’’والٹر! میں پھر شروع سے آخر تک تمھاری کہانی سننا چاہتا ہوں۔‘‘
نوجوان کے چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا۔ وہ بہت افسردہ اور تھکا نظر آ رہا تھا۔ انسپکٹر کے حکم پر اس نے دھیمے لہجے میں ٹھہر ٹھہر کے ایک بار پھر اپنا بیان دہرایا۔ اس کی کرب میں ڈوبی ہوئی آواز اتنی دھیمی تھی کہ انسپکٹر کو آگے کی طرف جھک اور کان لگا کر اس کا بیان سننا پڑا۔ اس کے باوجود وہ کئی فقرے نہیں سن سکا۔ ’’یہ سب بالکل سچ ہے انسپکٹر‘ اس میں جھوٹ کا شائبہ تک نہیں۔‘‘ نوجوان نے بیان ختم کرتے ہوئے کہا۔
انسپکٹر نے نشست پر سیدھے ہو کے سگریٹ سلگائی اور ایک گہرا کش لیا۔ ’’ممکن ہے والٹر! یہ سب سچ ہو‘ لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ تمھیں اپنی بے گناہی عدالت کے سامنے ثابت کرنا پڑے گی۔‘‘

اسی وقت کسی نے دروازے پر دستک دی۔ ایک پولیس والا اندر داخل ہوا۔ اس کے عقب میں ایک اور آدمی بھی تھا۔ وہ خاکی وردی میں ملبوس تھا۔
’’یہ صاحب آپ کو کچھ بتانا چاہتے ہیں جناب!‘‘ سپاہی نے اپنے ساتھ آنے والے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ادب سے انسپکٹر کو مخاطب کیا۔
’’تم کچھ دیر انتظار نہیں کر سکتے تھے۔‘‘ انسپکٹر نے ناگواری سے کہا۔
خاکی وردی والا آدمی آگے بڑھا اور والٹر کے قریب کھڑا ہو گیا۔ ’’یہ میرا خیال ہے جناب! میں جو کچھ آپ کو بتانا چاہتا ہوں، وہ بہت اہم ہے۔‘‘ اس نے والٹر کی طرف دیکھا۔ ’’یہ نوجوان بے گناہ ہے جناب! مسٹر ایڈورڈ کا بچہ اس نے اغوا نہیں کیا۔‘‘
کمرے میں مکمل سکوت طاری ہو گیا۔

’’میں نے آج صبح کے اخبار میں اغوا کی کہانی پڑھی اور مسٹر والٹر کی تصویر دیکھی۔ میں فوراً پہچان گیا کہ یہ وہی نوجوان ہے جو کل باقی پیسے لیے بغیر چلا گیا تھا۔ میں چنگی میں ملازم ہوں۔ یہ نوجوان کل اپنی گاڑی میں آیا اور اس نے چنگی کے لیے مجھے پانچ ڈالر کا نوٹ دیا۔ میں نے پچاس سینٹ کاٹ کر باقی ساڑھے چار ڈالر واپس کرنے چاہے‘ لیکن یہ رکا ہی نہیں۔ میں نے اسے آوازیں دیں ‘ مگر اس نے میری آواز نہیں سنی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی گہرے صدمے نے اس کے حواس معطل کر دیے ہیں۔ اس وقت دن کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔ میری ڈیوٹی ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوتی ہے۔ میں اپنی جگہ آنے والے دوسرے شخص کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ نوجوان بے گناہ ہے کیوںکہ یہ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب شہر سے چالیس میل دور تھا۔ اس لیے بچے کو اغوا کر ہی نہیں سکتا۔‘‘
’’تم نے پہلے اطلاع کیوں نہیں دی؟‘‘ انسپکٹر نے پوچھا۔
’’میں نے اغوا کی تفصیلات آج صبح کے اخبار میں پڑھیں اور پھر اس نوجوان کی تصویر بھی دیکھی۔ اخبار میں یہ بھی لکھا تھا کہ بچے کو ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اغوا کیا گیا۔‘‘
٭٭
تھوڑی دیر بعد انسپکٹر نوجوان کے ساتھ پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر کھڑا تھا۔ وہ اسے باہر تک رخصت کرنے آیا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر والٹر سے دوستانہ انداز میں گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ ’’میں ایک بات اب تک نہیں سمجھ سکا والٹر۔‘‘ انسپکٹر نے تشویشی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا ’’یہ نکتہ مجھے بہت دیر سے پریشان کیے ہوئے ہے کہ جب تم نے بچے کو اپنی گاڑی میں دیکھا‘ تو اسے فوراً پولیس اسٹیشن کیوں نہیں لائے؟ تم اسے اپنے گھر کیوں لے گئے اور کئی گھنٹے اسے وہاں کیوں رکھا؟ تمھارا یہ طرز عمل میرے لیے غیرمعمولی ہے۔ میں اس کی وجہ سمجھنے سے قاصر ہوں۔‘‘
والٹر جواب دینے سے پہلے ہچکچایا۔ اس نے نظریں پھیر لیں اور سڑک کا ٹریفک دیکھنے لگا۔ ’’اگر میں اس کی وجہ بتا بھی دوں انسپکٹر‘ تو شایدآپ سمجھ نہ سکیں۔‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
’’میں سمجھنے کی کوشش کروں گا۔‘‘ انسپکٹر نے کہا۔
’’بہت اچھا۔‘‘ نوجوان نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ ’’میں اس باپ کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا جس کا بچہ اس سے چھن گیا ہو، مگر پھر اچانک اسے واپس مل جائے۔‘‘