function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

اندھیر نگری کے جگنو

محمد الیاس | اردو ادب

وقت  انسان کو بدل ڈالتا ہے۔ ماضی کے احمددین نے پچیس برس قبل راولپنڈی میں سکونت اختیار کرتے ہی اخبار میں نام کی تبدیلی کا اشتہار چھپوایا کہ آئندہ سے اُس کو احمد دین کے بجائے آفاق احمد کے نام سے پکارا جائے۔ نام ہی نہیں رفتہ رفتہ اُس کا مزاج بھی بدلتا گیا اور اُس کی سابقہ شناخت قصۂ پارینہ بن گئی۔ اُس نے زمیندارہ کالج گجرات سے بی اے کر رکھا تھا۔ آبائی گھر جس مضافاتی بستی میں تھا، زمانۂ طالب علمی ہی میں عفریت کی طرح پھیلتے گجرات شہر کے نرغے میں آئی اور چند برسوں میں اپنی شناخت کھو بیٹھی۔

اُس کی بیوہ ماں نے گھر ہی میں ایک سادہ سی مشین لگا رکھی تھی جس پر بجلی کے پنکھوں میں استعمال ہونے والا پلاسٹک کا معمولی سا پرزہ بنایا کرتی۔ پڑھائی میں سے وقت نکال کر وہ خود بھی ماں کا ہاتھ بٹایا کرتا۔ دن رات محنت کرنے کے باوجود ماں بیٹے کا گزارہ ذرا مشکل ہی سے ہوا کرتا۔ برادری کے ہم عمر لڑکوں میں سے چند ایک، شیطان کو بھی انگلی کرنے سے باز نہ آتے۔ کم و بیش سارے ہی چھوٹے بڑے لڑکے اُس وقت کے احمد دین پر حاوی تھے۔ وہ دور اُس نے سہمے ہوئے ہی گزارا۔

کسی کھیل کے دوران کھلاڑی کی کمی پڑنے پر شیطان صفت منہ زور کزنز اُس کو گھسیٹ لے جاتے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پڑوپِدا بن جایا کرتا۔ ماں نے اُس کا نام یقینا عقیدت سے رکھا تھا مگر رشتہ داروں میں وہی نام مذاق بن گیا۔ اُس کو دِینا یا دِینو کہہ کر پکارتے۔ زِچ کرنے پر آتے تو اُس کے بارے میں جوڑا ہوا کبِت دُہرایا کرتے: ’’ایک جہلم سے آگے دینہ ہے، یہ اپنی ماں کا دینہ ہے۔‘‘

ماں کو ایک ہی دھن سوار تھی کہ بیٹے کو’’ چوداں جماتاں‘‘ (چودہ جماعتیں) پڑھا کر دم لینا ہے۔ گھر کے کام کاج، انتھک محنت، پنجگانہ نماز، نفلی روزے اور طویل وظائف کرنے سے شریفاں بی بی بڑی تیزی سے گھلتی جا رہی تھی۔ اُس کا پختہ ایمان تھا کہ رزقِ حلال کھانے اور اللہ کی عبادت کرنے سے آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا بھی سنور جاتی ہے۔ وہ اپنی ہر عرضی بذریعہ وظائف اللہ میاں کے حضور پیش کیا کرتی۔ شاید اُس نیک بخت نے نوجوانی میں گجرات شہر کے بی اے پاس افراد کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتے دیکھا تھا۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ وطن آزاد ہو چکا اور زمانہ بدل گیا ہے۔

آزادی کی خوش خصال دیوی، بختاور قوموں پر مہربان ہوتی ہو گی۔ سوختہ بختوں کے آنگن میں اتر کر جون بدل لیتی ہے اور پہلی فرصت میں اپنے آشنا دیرینہ حرص و آز کے دیوتا کو مسندِ اقتدار پر بٹھاتی ہے۔ طاغوتی قوتوں کے مالک دیوتا کے لاتعداد ہاتھ ہیں جونیک نفس مائوں کی دعائیں آسمان تک بلند ہونے سے پہلے ہی کیچ کر لیتا ہے۔ اتفاق ہی سے کوئی دعا سلِپ ہوتی ہو گی۔ ایسی ریاستوں کے بے نوا شہری آسیب کے سائے میں شب و روز گزارتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں ہر صبح نہار منہ عدل و انصاف کا کلیجا کھایا جاتا ہے۔

راولپنڈی اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں، سابقہ احمد دین اور حال کے آفاق احمد نے خوب خوار ہو کر بہت کچھ جان لیا تھا۔ نیک طینت بیٹے اپنی سادہ لوح مائوں کے روبرو سارا سچ نہیں بولا کرتے۔ اُن کو اپنی مائوں سے محبت ہوتی ہے۔ آفاق احمد یہی سمجھا کرتا کہ یہ سرزمین ایسی ہی مائیں پیدا کرتی ہے، جو اپنے وجود سے جنم لینے والی ننھی جان کی خاطر بھری جوانی تیاگ دیتی ہیں۔ اُس نے ایک اور ماں بھی دیکھ رکھی تھی۔ صغریٰ اپنے چھے سات سالہ بیٹے مہدی علی کے ہمراہ ان کے صحن کے کونے میں کوٹھڑی نما بوسیدہ کمرے میں کرائے پر رہنے لگی تھی۔ آفاق احمد نے راولپنڈی اسلام آباد میں بڑی ادنیٰ حیثیت کی ملازمتوں سے عملی زندگی کا آغاز کیا تھا۔

جن کی جیب میں سفارشی خط ہو نہ بھاری مالیت کے کرنسی نوٹ وہ اسی طرح در در کی ٹھوکریں کھایا کرتے ہیں۔ بدعنوان حکمرانوں کے عہد میں سفارش بھی سکہ رائج الوقت کا نعم البدل ہوا کرتی ہے۔ غاصب طبقوں کے افراد کا پسندیدہ اور آزمودہ بارٹر سسٹم… ’’میں نے تیری سفارش پر کام کر دیا ، اسے میرے اکاؤ نٹ میں کریڈٹ کر لے، جب میرا رقعہ یا فون کال موصول ہو تو حساب برابر کر دینا۔‘‘ جن سے کوئی فائدہ پہنچنے کی توقع نہ ہو، اُن کو سفارشی خط نہیں ملا کرتے۔

آفاق احمد ابھی اس قابل نہیں ہوا تھا کہ مناسب مکان کرائے پر لے کر ماں کو پاس لے آتا۔ یوں ’’چوداں جماتاں‘‘ کا پول بھی کھل جاتا۔ بعض بیٹے سمجھتے ہیں کہ خوش گمان مائوں کا دل ٹوٹنے سے عرش کا کنگرہ ٹوٹ جائے گا۔ حالانکہ ایسا ہوتا نہیں۔ ظلم و جبر کے استحصالی نظام میں چھوٹے بڑے حکومتی اہل کاروں نے ابلیس کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہوتی ہے۔ ہر روز لاکھوں مائوں کے دل پیروں تلے کچل جاتے ہیں اور عرش کے تمام کنگرے اپنی ازلی مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔ اندھیر نگری چوپٹ راج میں خدا بھی شاید بے کسوں سے ناراض ہو جاتا ہے۔ ان کی تقدیر کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کرتا۔

ہمتِ مرداں، مددِ خدا کو ترس جاتی ہے۔ تاہم کچھ مرد، دیوتا کے چرن چھو کر آشیر باد حاصل کرتے ہیں۔ ریاستی قانون کو ہیجڑا بنا کر نکیل ڈال لیتے ہیں۔ آفاق خوب جانتا تھا کہ آبائی گھر خالی ہوتے ہی منہ زور کزنز کے قبضہ میں چلا جائے گا۔ وہ آج بھی اُس کو دیکھتے ہی ’’او دِینو، اوئے دِینیا‘‘ کہہ کر بلایا کرتے تھے۔ اپنی نئی شناخت اور نام بتا بھی دیتا تو ٹھٹا اڑایا جاتا۔ مہینے بعد دوسرے گھر جاتا تو یوں، گویا چور اندھیرے میں دبے پائوں آیا ہو۔ ایک آدھ دن اندر ہی گزار کر سحری کو نکل آتا۔

مہدی علی کی ماں صغریٰ بھی شریفاں بی بی کے نقشِ قدم پر چل رہی تھی۔ اندرون شہر سے اس لیے نکل آئی کہ قریبی رشتہ داروں کی اولادیں، اُس کے یتیم اکلوتے بیٹے کو مذاق کا نشانہ بنائے رکھتیں۔ صغریٰ کے مشاغل بھی شریفاں بی بی کے سے تھے۔ عبادت گزار تھی۔ بیٹے کو ذہن نشین کرا دیا کہ چوری کرنے اور جھوٹ بولنے سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ حالانکہ گھر میں کچھ تھا ہی نہیں کہ برکت شامل ہو پاتی۔ برتنوں کی فیکٹری میں پیالوں کی چھانٹی کرتی اور نماز پڑھتی۔ بیٹے کو اچھا انسان بننے کی ہر وقت نصیحتیں کرتی۔ لینڈ لیڈی شریفاں بی بی کی روشن مثال کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتی جس نے نفلی روزے رکھ کر اور وظائف کر کر کے بیٹے کو چودہ جماعتیں پڑھوا دیں۔ اُس نے بھی یہی مقصدِ حیات بنا لیا۔

مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے باپ کی انگلی پکڑے آزادی کی دیوی کی آغوش میں سما گئی۔ انیس بیس برس کی عمر میں شادی ہوئی۔ بیٹا پیدا ہونے کے دو ماہ بعد ہی خاوند ٹریفک حادثے میں مر گیا۔ آزاد اسلامی جمہوریہ کے آئین کی رو سے حاکمِ وقت صرف مسلمان ہی ہوتا ہے۔ خواہ اس سرزمین کا کوئی غیر مسلم بیٹا کتنا اہل کیوں نہ ہو۔ بے نوا شہری کے مر جانے سے حکمرانوں کو اطمینانِ قلب کی وافر نعمت میسر رہتی ہے کہ جو اللہ کی رضا تھی وہی ہوا۔ بیوہ اور اس کے بچے کا پالن ہار وہی نیلی چھت والا ہے۔ لہٰذا وہ حکمتوں والا جانے اور اُس کا کام۔ اہلِ ثروت کے محلوں پر ہُن برستا ہے اور غریب بستیوں پر بھوک اترتی ہے تو یہ اوپر والے کی منشا سے ہوتا ہے۔

ربیّ کاموں میں مداخلت کر کے کافر کیوں ہوا جائے۔ سبحان تیری قدرت۔ رحیم و کریم اپنے بندے سے جتنا پیار کرتا ہے، اتنا ستر مائیں مل کر بھی اپنی اولاد سے نہیں کر سکتیں۔ وہ اپنی نادار مخلوق کو فاقوں مارتا ہے تو لازماً اُس کی کوئی حکمت ہو گی۔ جب کہ ماں اپنی اولاد کے لیے دن میں بار بار قربان ہوتی ہے۔ اپنی خوشیاں امنگیں خواہشیں اور جذبے روند کر اپنے بچے کے لیے جیتی ہے۔ ایک بار مرنا شاید مشکل نہ ہو۔

صغریٰ اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے لاشے اور سب اثاثے مشرقی پنجاب ہی میں چھوڑ آئی مگر بولی اور مخصوص لب و لہجہ بڑی چابکدستی سے بلوائیوں کی نظروں سے بچا لائی۔ خود کو آپاں، بیٹے کو پُت، قمیص کو چَگھا اور گھومنے کو گھموں کہتی۔ لیموں کے خشک چھلکے جیسی رنگت والی اس عورت کی چھب اور نین نقش کبھی بڑے پرکشش رہے ہوں گے۔ بیٹا بھی ماں جیسا ہی تھا۔ پنجابی کی ایک مشہور مثل کا مطلب ہے، رانڈ رنڈا پا کاٹ ہی لے، اگر اُچکے کاٹنے دیں۔ اللہ کے پسندیدہ ترین دین کے ماننے والوں کا معاشرہ، جوانی میں بیوگی کاٹنے والیوں کو جس کڑے امتحان سے گزارتا ہے، اس سے سرخرو ہو کر نکلنے والی ماں کا رتبہ ولی سے کم نہیں ہوتا۔

وقت کا صوفی، اللہ کے بارے میں جو تصور پیش کرتا ہے اس کے مطابق ایسی عورت کے چہرے پر ایک پاکیزہ نظر ڈالنے سے حج کا ثواب جھولی میں آن پڑتا ہے۔ صغریٰ کہا کرتی: ’’گژرات دا بژار (گجرت کا بازار) ایک بار دیکھا یا دس بار، بات ایک ہی ہے۔ آپاں سادی کدی نہ کروُ (میں شادی کبھی نہ کروں گی) آپاں پُت نوں بڑا افسر بنائو پھر حج تے جائو۔مدینے دیاں گلیاں وچ گھمُوں گی تے رَج رَج کے روضے دی جالی نوں چُمّوںگی۔ صغریٰ جیسی نیک روحوں کے خوابوں میں مدینہ خود ہی چل کے آ جایا کرتا ہے۔ چونکہ مدینے والا جانتا ہے کہ اُس کے سچے عاشقوں کی راہ میں ویزے کا بیرئیر اور سفری اخراجات کاہمالیہ حائل ہے۔ روضے پر کڑے پہرے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: ’’لے صغریٰ: تیرا جذبہ صادق ہے۔ روضے کی زیارت کر لو اور جی بھر کے بوسے دے لو۔‘‘

شریفاں بی بی اپنے بیٹے کو ’’شِی شن‘‘ جج (session judge) کی کرسی پر بٹھانے کے لیے وظیفہ کرتے کرتے اتنی بے قرار ہوئی کہ اپنا جسدِ خاکی مصّلے پر چھوڑ کر، دستی عرضی لیے بذاتِ خود اللہ کے حضور حاضر ہو گئی۔ مہدی علی ابھی تیسری جماعت میں تھا، اس لیے صغریٰ نے دربارِ الٰہی میں ذاتی پیشی موخر کیے رکھی۔ چوری نہیں کرنی، جھوٹ نہیں بولنا اور ہر وہ کام، جس سے اللہ رسولؐ نے منع کیا ہے، اس کے نزدیک نہیں جانا۔ یہی راہنما اصول اس کم سن لڑکے کی فطرتِ ثانیہ بن گئے۔ ماں نے ذہن نشین کرا رکھا تھا کہ مجبوری بن جائے تو بندہ چیز مانگ لے یا جن سے کچھ لیا ہو اُن کا کوئی محنت طلب کام کر کے حساب چکا دے۔ کوئی مذاق اڑائے یا برا بولے تو اُس کی زبان میں جواب نہ دے۔ صبر کرنے والے کو اللہ اجر ضرور دیتا ہے۔ ایک دن کا فاقہ ہو جانے سے بندہ مر نہیں جاتا۔

مہدی علی کو کوئی پیچیدہ الجھن درپیش تھی کہ پڑھائی میں لائق ہونے کے باوجود تتلا کر بولتا۔ جن الفاظ کی امِلا صحیح لکھتا، زبان سے ان کی ادائی درست نہ کر پاتا۔ تھوڑی کو کھوڑی بولتا۔ بہت چھوٹے ہوتے ماں کی گود میں پیار کرتے ہوے مچلتا تو ماں اپنے مخصوص سماجی پسِ منظر کے مطابق لاڈ کرتے ہوئے بار بار منہ چومتی اور کہا کرتی: ’’ماں واری، ماں صدقے، ماں جِند گھولی۔‘‘ ایسی مائیں جو بے سروسامانی کے عالم میں اپنی ذات کی نفی کر کے اولاد کے لیے جیتی اور مرتی ہیں، وہ واقعی اپنی جندڑی گھول دیتی ہیں۔ صغریٰ جندڑی کو جِند بولتی۔ بچے کے ننھے دماغ میں ’’ماں جند گھولی‘‘ کے بجائے صرف ’’ماں گھولی‘‘ کے الفاظ نقش ہو کر رہ گئے۔ وہ ماں کو مخاطب بھی اسی طرح کیا کرتا: ’’ماں گھولی، اوہ ماں گھولی۔‘‘

اندرون شہر میں قریبی رشتہ داروں کے ہمراہ رہتے ہوئے صغریٰ کے دل پر چرکے لگتے ہی رہتے تھے۔ اس کی غیر موجودگی میں بیٹے کو کزنز کی تفریح کا سامان بننا پڑتا۔ تین منزلہ بڑے سے گھر کا ایک ہی صحن تھا۔ ماں بیٹے کے حصے میں صرف ایک کمرا آیا تھا۔ صغریٰ پاٹری فیکٹری میں پیالوں کی چھانٹی کر کے دن بھر میں دال روٹی کے پیسے کما لیا کرتی۔ گرمیوں کا موسم ماں بیٹے کے لیے زیادہ سازگار ہوا کرتا۔ ماں کہتی: ’’پُت کاچھا پالَے تے چگھا لاہ دے۔

ایدھاں اِی گھس جائو۔‘‘ (بیٹا! کچھا پہن لو اور قمیص اتار دو۔ ایسے ہی گھِس جائے گی) مہدی کا پیٹ بڑھا ہوا تھا۔ اس کے تایا زاد بڑے بھائی روزانہ ہی چھوٹے لڑکوں کی کشتیاں کروا دیتے۔ بھائی خادم پچیس پیسے کا سکہ سامنے رکھ کر اعلان کرتا: ’’یہ انعامی رقم ہے۔ شرط نہیں۔ شرط لگانا اسلام میں حرام ہے اور انعام حلال۔ اللہ کا حکم ہے کہ مسلمان قوم طاقت ور ہو۔ ورزشیں کرے اور پہلوان بنے۔ آج کا پہلوان مہدی علی ہے۔ کون ہے مائی کا لعل جو اِس کے مقابلے میں آئے۔ جیتنے والے کے لیے انعام تیار ہے۔ مہدی علی ہر روز ایک نئے عزم سے اکھاڑے میں اترتا، مگر ہار جاتا۔ سب لڑکیاں لڑکے نعرے لگانے لگتے۔ مہدی نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ اعلان کرنے لگتا : ’’اوئے سنو، سب میری بات سنو۔ رات کو میں نے دال کھوڑی (تھوڑی) پی تھی۔ آج تین روٹیوں کے ساتھ دو پیالے دال پیوں گا۔ بچوُ جی! کل کشتی جیت کے دکھائوں گا۔‘‘

دن کے وقت ماں فیکٹری گئی ہوتی۔ مہدی اسکول سے واپس آ کر صبح کی پکی ہوئی روٹی، پیاز یا گڑ کے ساتھ کھایا کرتا۔ اس لڑکے کی شخصیت جس طرح سے منفرد انداز میں تشکیل پائی، وہ ایک لحاظ سے قدرت کا کرشمہ ہی تھا۔ ٹھٹا مخول اڑائے جانے پر مشتعل ہونے کے بجائے پندو نصائح کرنے لگتا۔ باقاعدہ کسی مبلغ کی طرح بآوازِ بلند تقریر شروع کر دیتا: ’’میرا مذاق اڑانے سے تم سب کو گناہ ہو رہا ہے اور میرے گناہ معاف ہو رہے ہیں۔ یہ بات ماسٹر نذیر نے بتائی ہے، اور میری اماں نے بھی۔ شاباش بچوُ! خوب میرا مذاق اڑائو۔ میرا فائدہ ہو رہا ہے۔‘‘ مہدی کی چودہ پندرہ سالہ پھوپھی زاد بہن سکینہ اس بھولے بھالے لڑکے کو تختۂ مشق بنا کر کچھ زیادہ ہی حَظ اٹھاتی۔

اپنے ذمے پڑے کاموں میں سے کئی اس ننھے ماموں زاد سے کروانے کے لیے کوئی بچی کھچی چیز کھلا دیا کرتی۔ وہ خود ہی پیشکش کر دیتا: ’’باجی! اب کوئی کام بتائو۔ اماں کہتی ہے، مزدوری کر کے کھانے میں کوئی خرابی نہیں۔‘‘ نیاز کھا کر بھی بخوشی کام کرنے پر آمادہ ہو جایا کرتا۔ کسی روز تائی، چاچی، پھوپھو میں سے کوئی کھانا کھلا دیتی تو خوب سیر ہو کر کھڑا ہو جاتا اور پھولے ہو ئے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر کہتا: ’’اتنا اچھا کھانا کھلایا ہے، اب کوئی بڑا سا کام بتائو۔‘‘

مہدی ایک اور مخمصے کا بھی شکار ہوا رہتا۔ اس کو پتا نہیں چلتا تھا کہ پیٹ بھر گیا ہے، یا نہیں۔ ماں بیٹا اکثر سرِشام ہی کھانا کھا لیا کرتے۔ اصل میں چوبیس گھنٹوں کے دوران دونوں کا یہی ایک پورا کھانا ہوا کرتا تھا۔ ماں روٹی پکا رہی ہوتی اور وہ کھائے چلا جاتا۔ ماں کہتی: ’’پیٹ بھرا یا ابھی نہیں۔‘‘ وہ بھولا سا منہ بنا کر کہتا: ’’مجھے نہیں پتا ماں گھولی! تم بتائو، اگر بھر گیا ہے تو کھانا چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ ماں کا دل نادیدہ گرفت میں آ جاتا۔ روہانسی ہو کر بیٹے کو دیکھتی۔ سوچنے لگتی کہ دو چپاتیوں کے ساتھ پیالہ دال بھی سُڑپ گیا ہے۔ کیا کروں؟ روک دوں یا کھانے دوں؟ کیا پتا، ابھی بھوکا ہو۔

اس خیال کے آتے ہی دل پر گھونسا پڑتا۔ بول اٹھتی: ’’تھوڑی سی اور کھا لو۔‘‘ روٹی کا تیسرا حصہ توڑ کر بیٹے کے آگے رکھتی اور تھوڑی سی دال بھی پیالے میں ڈال دیتی۔ مہدی جلد ہی روٹی ختم کر لیتا اور ماں سے کہتا: ’’ماں گھولی! کھوڑی سی دال بچ گئی ہے، کھوڑی سی روٹی اور دے دو۔‘‘ اگلے مرحلے پر کہتا: ’’ماں گھولی، کھو…ڑ…ی سی روٹی بچ گئی ہے، کھوڑی سی دال اور دے دو۔‘‘ اس حکمتِ عملی کا حاصل یہ ہوتا کہ وہ کم و بیش ایک روٹی اور کھا جاتا۔ دال چونکہ پانی جیسی پتلا شوربہ ہوا کرتی اس لیے روٹی کھانے کا انداز وہی تھا، جس طرح صبح کے ناشتے میں نوالہ منہ میں ڈال کر چائے کا گھونٹ لیا جاتا۔

صغریٰ اندر ہی اندر غم کھانے والی عورت تھی۔ چھوٹے بڑے رشتہ دار بچوں کی جانب سے مہدی کے ساتھ روا رکھی گئی زیادتیوں پر چپ چاپ آنسو بہا کر صبر کر لیا کرتی۔ مگر ایک دن ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ فیصلہ کر لیا کہ جلد سے جلد بیٹے کو لے کر یہاں سے نکل جائے۔ اُس روز حسبِ معمول عصر کے بعد فیکٹری سے واپس گھر پہنچی تو دیکھا کہ بیٹے کا پیٹ قدرے زیادہ پھولا پھولا سا ہے اور نِیل پڑے ہوئے ہیں۔ دل گرفتہ ہو کر وجہ پوچھی تو خدا داد ہمت اور حوصلے کا مظہر ننھا مرد، سینہ پھلا کر حسبِ عادت بلند آواز میں بولا: ماں گھولی! اسکول سے آ کر میں نے باجی سکینہ سے کہا: کھوڑا سا گڑ دے دو یا گنڈھا (پیاز)… روٹی کھانی ہے۔

اماں فیکٹری سے واپسی پرگنڈھے لائے گی تو تم واپس لے لینا، یا ابھی کوئی کام کروا لو۔ باجی کہنے لگی: برتن اور رسوئی کا فرش دھو لیا ہے۔ صحن میں جھاڑو بھی دے چکی ہوں۔ اس وقت کوئی کام نہیں۔ میںگنڈھا دے دیتی ہوں۔ مگر یہ ہیں سب بہت بڑے بڑے۔ تم مفت میں لیتے بھی نہیں۔ ایسا کرو، اپنے پیٹ پر گن کے دس جوتے مارو۔ میرا تیرا حساب برابر ہو جائے گا۔ باجی نے پائوں سے سلیپر اتار کر کہا: بے ایمانی نہ کرنا۔ اگر تم نے جوتے آہستہ مارے تو بڑا سخت گناہ ہو گا۔ گنڈھاکھانا تم پر حرام ہو جائے گا۔ اگلے جہان میرا حساب کیسے برابر کرو گے؟

وہاںگنڈھے ملیں گے ہی نہیں اور پیسے بھی نہیں ہوتے۔ میں نے کہا: بات ہی کوئی نہیں باجی! ماں گھولی نے بتایا ہوا ہے، بے ایمانی بالکل نہیں کرنی۔ تم دیکھتی رہنا… میں نے سات جوتے اپنے پیٹ پر اتنے زور سے مارے کہ سب نے تالیاں بجا کر شاباش دی … تب تک صغریٰ کا دل ڈوبنے لگا تھا۔ وہ پیروں کے بل چولہے کے قریب بیٹھی تھی۔ خود کو سنبھالنا مشکل ہوا تو پیڑھی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ تب تک ہمت جواب دے چکی تھی۔ دھم سے بدن فرش پر ڈال دیا۔

مہدی پر اپنی اعلیٰ کارکردگی اور دیانت داری کا احوال بیان کرنے کی دھن بدستور سوار تھی۔ اپنا دایاں بازو اونچا کر کے بڑے جوش سے بولنے لگا: ’’یہ بازو تھک گیا تو میں نے بائیں ہاتھ سے تین جوتے اور مارے۔ مگر وہ بہت آہستہ لگے۔ میں سمجھ گیا کہ بے ایمانی ہو گئی ہے اور یہ بہت بری بات ہے۔ اللہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے۔ پھر میں نے مرغے کی طرح دونوں بازو زور زور سے پھڑپھڑائے تو طاقت آ گئی۔ یا علی! کا نعرہ مار کر تین جوتے اور مار دیے۔ وہ بڑے ٹھیک ٹھیک لگے۔ کل تیرہ جوتے لگے۔ مگر اصلی والے دس ہی تھے۔ سب بہن بھائیوں نے اور زیادہ شاباش دی۔ باجی کہنے لگی: اب تم پرگنڈھا بالکل حلال ہے۔ جائو کھائو عیش کرو۔ بے کس ماں کی روح فنا ہو گئی اور بیٹے کو بانہوں میں بھر کر زارو قطار روئی۔

کہتے ہیں، مظلوم کی فریاد ساتویں آسمان تک پہنچتی ہے۔ حقیقت ہے یا افسانہ، ایک ایسا معما، جو شاید کبھی نہ کھل پائے۔ رقت بھرے اُن لمحات میں ساتوں آسمان، زمین اور کل کائنات کا نظام اسی طرح مربوط اور قائم و دائم رہا۔ یا پھر ننھا مہدی علی اپنے موقف پر مضبوطی سے ڈٹا ہوا تھا۔ ماں کی گردن کے گرد بازو ڈال کر، گال چومتے ہوئے معمول کے اونچے لہجے اور اعتماد سے بولا: ’’روتی کیوں ہو؟ ماں گھولی! خود ہی کہتی ہو، حرام کا ایک نوالہ بھی منہ میں چلا جائے تو اللہ کو حساب دینا پڑے گا۔‘‘ ماں نے خوب رو لیا تو بیٹے کو الگ کیا۔ ایک نگاہ پھر پیٹ پر ڈالی۔ نیلی رگیں زیادہ نمایاں ہو رہی تھیں۔ ڈوبتی ہوئی آواز میں بولی: ’’پُت! چگھا پالَے‘‘ (بیٹا! قمیص پہن لو)۔

جن ریاستوں میں ظلم ناانصافی اور لوٹ کھسوٹ کا نظام قائم ہوتا ہے، ان کی بیشتر مائیں بھکارنیں یا کسبیاں بن جاتی ہیں اور مرد کم و بیش سارے ہی بے غیرت۔ بھکارن اپنی بھیک اور کسبی اپنی خرچی میں سے جو روٹی بچوں کے لیے خرید کر گھر لاتی ہے، اس پر ریاست پیشگی ٹیکس وصول کر چکی ہوتی ہے۔ اس ٹیکس پر حکومتی اہل کاروں کے علاوہ حاکمِ وقت عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ ایسی ہی پرآسائش زندگی، جس کا تصور جنت کے بارے میں پیش کیا گیا ہے۔ عالی شان محلات، ریشم و کمخواب، ہیرے جواہرات، اعلیٰ ترین پھل میوے ماکولات و مشروبات، شراب اور حوریں۔

جو مائیں جوانی میں بیوہ ہو کر ذلت آمیز کسمپرسی میں آلائشوں سے دامن بچا کر نکل جاتی ہیں، ان کی داد استحصالی معاشروں میں نہیں ملا کرتی۔ صرف جغادری علما کی تقریروں میں ملتی ہے۔ جنھوں نے سروں پر دو دو فٹ اونچی ایسی ٹوپیاں سجا رکھی ہوتی ہیں جو بھیڑ جیسی بھولی ماں کے وجود میں پنپنے والی معصوم جان کی کھال سے بنتی ہیں۔ اسلامی جمہوری معاشروں میں، محترم و مکرم مصلحین، سر پر قراقلی ٹوپی رکھتے ہیں۔ دردمندی اور رحم دلی جیسے افضل ترین انسانی جذبات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے، عزت و وقار کی علامت تصور کی جانے والی یہ ٹوپی، بیشتر مقررین کے سروں کی زینت بنی رہتی ہے۔

قراقل کے حصول کی خاطر جس طرح گابھن بھیڑ کا پیٹ پھاڑا جاتا ہے، اس سے یکسر مختلف انداز میں اپنا آپ بچاتے ہوئے، گلا پھاڑ کر بیوہ اور یتیم کے حقوق پر تقریریں کی جاتی ہیں۔ وی آئی پی فائیو اسٹار دعوتوں میں، سالم روسٹ بکروں کے پیٹ میں بھرے سالم روسٹ تیتر اور بیٹر ڈکار کر۔ ان دعوتوں پر اٹھنے والے اخراجات، کسبی کی خرچی، بھکارن کی بھیک اور پاک باز بیوہ ماں کی مزدوری سے پورے کیے جاتے ہیں۔ اُمرا، رُوسا، علما اور حکمرانوں کو ان دعوتوں میں سب کھایا پیا یوں ہضم ہو جاتا ہے، جیسے شیر مادر۔ مائوں کو داد ملے نہ ملے، ثقہ علما کو ایلیٹ کلاس کی طرف سے خوب داد ملتی ہے۔ جعلی تاریخ پر فخر کرنے والی قومیں جعلی جذباتیت کی اسیر ہوتی ہیں۔ ایسی قوموں میں بڑے ڈاکوئوں کا شمار ایلیٹ کلاس میں کیا جاتا ہے۔ تاہم فتویٰ کے خوف سے علما کو استثنا حاصل ہوتا ہے۔

ماں کی دائمی جدائی کے بعد آفاق احمد نے بڑی رازداری سے مکان بیچ کر اسلام آباد کے مضافات میں پانچ مرلے کا پلاٹ خرید لیااور اس پر تعمیر شروع کر دی۔ دوبارہ کبھی بھول کر بھی گجرات نہیں گیا۔ مہدی علی کی باتیں یاد تھیں۔ اُس کو اپنے کمرے کی کھڑکی سے صحن میں کئی بار دیکھا تھا۔ مہدی نے بھی شاید اس کو سرسری سا دیکھا ہو۔ اولاد کو حلال کا رزق کھلانے والی مائیں مر کر اپنے پیچھے درد بھری یادیں چھوڑ جاتی ہیں۔ آفاق احمد کو ماں بہت یاد آیا کرتی اور اس موقع پر صغریٰ کا چہرہ بھی نظروں کے سامنے آ جاتا۔ کبھی کبھی دل میں خواہش پیدا ہوتی کہ ان ماں بیٹے کے بارے میں پتا لگائے۔ لیکن وہ رشتہ داروں میں اپنا سراغ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔

اس پر چھائی ازلی اداسی اور سنجیدگی ہر طلوع ہونے والے دن کو مزید گمبھیر ہوئی جاتی۔ وہ اب حکمرانوں کے شہر کا مستقل رہائشی تھا۔ جہاں اندازِ حکمرانی روپ بدل بدل کر آیا کرتا۔ لیکن اپنے دامن میں وہی کراہت کے انبار اٹھائے، منافقت سے لتھڑا ہوا۔ آفاق کے پاس رہنے کو شاندار پرآسائش گھر اور مقبولِ عام میک کی گاڑی زیر استعمال تھی۔ پھر بھی دن بھر لبوں پر مسکراہٹ نہ آتی۔ مگر بیٹی کے یونیورسٹی سے لوٹنے پر دل سے حقیقی خوشی پھوٹ کر لبوں پر آ جاتی۔ دونوں باتیں کرتے، خوب ہنستے، گویا سمن ہی اس کی زندگی کا حاصل ہو۔ سلجھی ہوئی پرکشش اور نفیس طبع ایم اے کی طالبہ۔ باپ بیٹی اکٹھے گھومنے نکلتے، تفریحی مقامات اور ریستورانوں میں نظر آیا کرتے۔

کبھی کبھی لمبی ڈرائیو پر نکل جاتے۔ دونوں کے مابین بے تکلفی تھی، مگر ہمیشہ ایک چلمن بھی حائل رہی۔ باپ بیٹی کے باہمی تقدس کی اوٹ۔ دل میں خواہش بیدار ہوتی کہ بیٹی کو زندگی کا اچھا ساتھی ملے۔ مخلص اور وفادار۔ جس کی نظر اس کی دولت پر نہ ہو۔ محض شخصی خوبیاں مدِنظر ہوں۔ سوچنے لگتا کہ بیٹی کے لیے ایسا گوہرِ نایاب کہاں سے ڈھونڈ لائے۔ باتوں باتوں میں پوچھ بھی لیا کہ شاید کوئی یونیورسٹی فیلو دل کو بھایا ہو۔ سمن جھینپ کر مسکرا دی اور بولی: ’’نہیں ابو! اتنے چھچھورے، اوچھے، شوخے اور بونگے لڑکے، کوئی سنجیدہ دکھائی دیا بھی تو سوڈوا نٹلیکچوئیل … جھوٹا اور مکار۔

فیض احمد فیض کے سٹائل میں سموکنگ کرنے اور شعر پڑھنے، یا چی گویرا کا سا حلیہ بنا لینے سے بندہ انقلابی نہیں ہو جاتا۔ میرا کوئی ایسا خاص آئیڈیل بھی نہیں۔ بھلے عام سا ہو، سادہ قبول صورت مگر ظاہر و باطن سے ایک جیسا۔‘‘ ذرا سا توقف کر کے مسکرائی اور مزید کہا: ’’آپ جیسا۔‘‘ با پ نے بیٹی کے سر پر بوسہ دیا۔ آنکھیں نم ہو گئیں۔ کہنے لگا: ’’بیٹا! مجھے کبھی آئیڈیلائز نہ کرنا۔ بہت معمولی انسان ہوں۔ مجھے صرف زندگی میں ماں نے پسند کیا تھا۔ تم میری روح کا حصہ ہو۔ اپنی نگاہ بلند رکھو۔‘‘

آفاق احمد نے سب سے پہلا پلاٹ بیگم طاہرہ خان سے خریدا تھا۔ پانچ مرلہ رقبہ پر سادہ مگر پائیدار دو منزلہ گھر تعمیر کے آخری مراحل میں تھا کہ تقریباً تین لاکھ روپے منافع پر کھڑے کھڑے بک گیا۔ وقت ضائع کیے بغیر، اسی خاتون سے دس مرلہ کا ایک اور پلاٹ خرید کر تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا۔ راولپنڈی کی مقامی عورت طاہرہ خان سے دوسرا پلاٹ خریدتے ہوئے کاروباری تعلقات میں تھوڑی سی بے تکلفی راہ پا گئی۔ اسلام آباد راولپنڈی میں درجنوں رہائشی و کمرشل پلاٹوں کے علاوہ مضافات میں ایکڑوں زمین کی مالک مال دار خاتون اپنے نجی اور کاروباری معاملات میں خودمختار تھی۔ آفاق احمد سے عمر میں آٹھ دس برس بڑی ہو گی۔

پہلے مرحلے پر آفاق کو بھائی بنایا مگر سنجیدہ اور سادہ مزاج بھائی پر بہت جلد منہ بولی بہن کے اصل عزائم کھل گئے۔ تب بھی اخلاص کا دامن نہیں چھوڑا اور نکاح کر لیا۔ سمن کی صورت میں قدرت کی طرف سے اولاد کا تحفہ بھی مل گیا۔ تاہم زچگی کے موقع پر پیچیدہ آپریشن ہوا، جس کے نتیجے میں آئندہ اس نعمت کی توقع نہ رہی۔ آفاق کا ذاتی کاروبار خوب چمکا اور بدستور وسعت پذیر تھا۔ جلد ہی انکشاف ہو گیا کہ بیگم صاحبہ اس کے عقد میں آنے سے قبل دو بار خلع لے چکی تھیں۔ اب بھی گوناگوں دلچسپیوں کا محور ایک ہی تھا۔ جائداد کی دیکھ بھال اور بھاگ دوڑ کے لیے کوئی نوجوان، بطور منیجر رکھ لیتی اور جب جی میں آتا، فارغ کر دیتی۔

عورت ذات کے بارے میں آفاق کا بلند تصور گو مجروح ہوا مگر تہیّہ کر لیا کہ وہ کسی بھی صورت میں ہارے گا نہیں۔ خود کو یاد دلایا کرتا کہ اس نے عورت ذات کو شریفاں بی بی کے روپ میں دیکھ رکھا ہے اور ایک صغریٰ بھی تھی۔ اللہ کرے وہ اور اس کا بیٹا، دونوں حیات ہوں۔ بیٹی سے بے پناہ محبت تھی۔ سینے پر صبر کی بھاری سِل رکھ لی اور دل سے فیصلہ کر لیا کہ عزیزازجان معصوم رُوح کو ٹوٹے ہوئے گھر کے اذیت ناک تجربے سے کبھی نہیں گزارے گا۔ اولاد کی محبت میں بھری جوانی قربان کرتے ہوئے ماں کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آتی تو باپ اتنا بودا کیوں ثابت ہو؟

آبائی گھر کے صحن میں صغریٰ اس کی مرحومہ ماں سے باتیں کرتی ہوئی سنائی دینے لگتی: ’’بازار ایک بار دیکھا یا دس بار، میں اب شادی کبھی نہ کروں گی‘‘… ’’ماں گھولی! کھوڑی روٹی بچ گئی ہے، کھوڑی دال دے دے… پیٹ پر پڑے نیل اور ابھری رگیں دیکھ کر ماں نے بیٹے سے کہا تھا: ’’پُت! چگھا پا لَے‘‘ صغریٰ اپنے سارے درد شریفاں کے سامنے کھول دیا کرتی۔ دونوں عورتوں کی باتیں ہی ختم نہ ہوتیں۔ اپنے بیٹے کی خاطر کمرے کے وراثتی حقوق سے دست بردار ہو گئی۔ وہ قریبی رشتہ داروں کی اصل سازش سمجھ گئی تھی۔ ایک دن یہ پوچھنے پر کہ مہدی کو کتنی بھوک لگتی ہے، کہنے لگی: ’’کیا بتائوں خالہ جی!

اس لڑکے کی ساری باتیں ہی نرالی ہیں۔ جب بھی پوچھوں، پُت! روٹی کب کھائو گے؟ ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا ہے۔ ماں گھولی! ابھی دے دو، شام کو دے دو، جب دو گی، کھا لوں گا۔ میں کہوں، اگر آج نہ ہوئی تو؟ کہتا ہے: پھر کل کھا لوں گا۔ میں پوچھتی ہوں، کتنی بھوک ہے؟ گردن ٹیڑھی کر کے جواب دیتا ہے: پتا نہیں ماں گھولی! کھوڑی ہوئی کھوڑی کھا لوں گا۔ زیادہ ہوئی زیادہ کھا لوں گا… کبھی کسی چیز کی ضد نہیں کی۔ جو کہوں فوراً مان جاتا ہے۔‘‘ آفاق کے لبوں پر افسردہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ خود کلامی کرنے لگا: ’’میں نے کساد بازاری کے اس عہد میں بازار کا چکر لگایا تھا۔ حسنِ اتفاق سے گوہرِ نایاب ہاتھ لگ گیا۔

سینے سے لگا کر رکھوں گا۔ جب تک کوئی قدرشناس نہیں مل جاتا۔ یہ کل جُگ ہے۔ دنیا کے بازار میں سب اندھیر ہی اندھیر۔ انیائے ہی انیائے۔ بیوپار کے نام پر ٹھگی اور لوٹ مار۔ چھینا جھپٹی اور دھوکا دہی۔ صاف ستھرا بیوپار کرنے والے تاجروں سوداگروں نے کس دیس میں جا کر ڈیرے ڈال لیے۔ کھرے دام لے کر کھرا سودا بیچنے والوں کے زمانے لد گئے۔ اب تو ہر طرف اُچکے اور گرہ کٹ دندناتے پھرتے ہیں۔‘‘

طاہرہ خان کسی پیچیدہ نفسیاتی مرض کا شکار تھی۔ کبھی کبھی خود احتسابی کا دورہ بھی پڑتا۔ اپنے آپ کو خوب کوستی، معافیاں مانگتی اور آفاق سے لپٹ کر آٹھ آٹھ آنسو روتی۔ چہرے پر بوسے دیتی اور ہاتھ چومتی۔ وہ بانہوں میں لے کر سینے سے لگا لیتا اور تسلیاں دیتا۔ مگر رات گئی اور بات گئی۔ موقع برابر آتے ہی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتی۔ وہی نخوت عود کر آتی۔ بڑی ڈھٹائی سے خم ٹھونک کر کہتی: ’’کر لو جو کرنا ہے۔‘‘

بیٹی اسکول جانے لگی تو میاں بیوی میں طویل مکالمہ ہوا۔ آخرِ کار وہ زِچ ہو کر بولی: ’’مجھے طلاق لینے کا شوق بھی نہیں۔ لیکن تم میرے معاملات میں دخل نہیں دو گے۔ مجھے خوشی ہے کہ تمہیں بیٹی سے محبت ہے اور اس کے مستقبل کی فکر رکھتے ہو۔ میرا بھی سمن کے سوا کوئی نہیں۔ میں خود چاہتی ہوں کہ تیرے اور میرے ٹوٹے ہوئے تعلق کی حقیقت کسی پر نہ کھلے۔ تمہاری تجویز ٹھیک ہے۔ تم باپ بیٹی اوپر والے پورشن میں شفٹ ہو جائو۔ کاروبار پہلے ہی ہم دونوں کا اپنا اپنا ہے۔

یہ گھر صرف مشترکہ ہے۔ سمن کے سوا اس کا کوئی اور وارث بھی نہیں۔ سٹیئر کیس اور لائونج کی پارٹیشن جس طرح تم نے سوچ رکھی ہے، بے شک کرا لو۔ لیکن ہلکی پھلکی اور نفیس ہونی چاہیے۔ لکڑی اور گرائونڈ گلاس وغیرہ لگوائو۔ میں تجھے دیکھوں نہ تم آتے جاتے مجھے دیکھ پائو۔ باقی گھر کا نظام اسی طرح چلتا رہے گا۔ صفائی ستھرائی اور دوسرے کام کرنے والی عورتیں دوپہر تک فارغ ہو کر چلی جایا کریں گی۔ گھر میں ملازموں کی ہر وقت موجودگی مجھے بری لگتی ہے۔ تم باپ بیٹی کی غیر موجودگی میں اوپر سارے کام ہو جایا کریں گے۔‘‘

چودہ پندرہ برس اسی طرح بیت گئے۔ بہت سوچ بچار کے بعد آفاق نے بیٹی سے کہا کہ امتحانات نزدیک ہیں، بہتر ہو گا کہ وہ دو تین ماہ کے لیے یونیورسٹی ہوسٹل میں شفٹ ہو جائے۔ سمن نے لمحہ بھر باپ کی آنکھوں میں دیکھا، مگر سوال کرنے سے کترا گئی۔ مبادا مناسب جواب دینے میں شفیق باپ کو مشکل پڑے۔ بیٹی کے بولنے سے پہلے ہی وہ دوبارہ بول پڑا: ’’میں روزانہ شام کو آ جایا کروں گا اپنی بیٹی سے ملنے… کھانا ہر روز باہر کھایا کریں گے۔ کبھی فائیو اسٹار اور کبھی فوڈ اسٹریٹ۔‘‘ سمن سب سمجھتی تھی مگر باپ پر یہی ظاہر کرتی، گویا کچھ نہیں جانتی۔ باپ کی تقلید کرتے ہوئے دل میں اترتی اداسی پر بھاری سِل رکھ دی۔

کہنے لگی: ’’ٹھیک ہے ابو۔ میں ہوسٹل چلی جاتی ہوں۔ لیکن آپ ہر روز کیوں آئیں گے؟ … کام کا ہرج ہو گا۔‘‘ باپ کے چہرے سے طمانیت جھلکنے لگی۔ پیار سے پچکار کر بولا: ’’وہ اس لیے کہ اَبَّا اپنی بیٹی کے بغیر اداس ہو جایا کرے گا اور ہرج کیا ہونا ہے؟ چاروں پانچوں کام بڑے سموتھ چل رہے ہیں۔ دن کے وقت ایک چکر ہی لگانا ہوتا ہے۔ شام کو حسبِ معمول میری بھی آئوٹنگ ہو جایا کرے گی۔‘‘ ذرا سوچ کر مسکرایا اور بولا: ’’باپ بیٹی کو عادت بھی ہو گئی ہے ناں شام کو آوارہ گردی کرنے کی۔‘‘ دونوں یک بارگی ہنس پڑے۔ اولاد سے روح کا رشتہ جڑا ہوا ہو تو دو طرفہ نازک احساسات اور ضروری پیغامات لاسلکی واسطے سے ہی ایک دوسرے کو منتقل ہو جاتے ہیں۔

بُرے سے بُرے عہد میں بھی، خوش گمان مائوں میں سے اِکا دُکا کی دعا، بدی کے دیوتا کو جُل دے کر آسمان تک بلند ہو ہی جاتی ہے۔ آفاق احمد، سیشن جج نہ بن سکا مگر کَل جُگ میں ایک بے گناہ کو پھانسی چڑھانے یا قاتل کو باعزت بری کر کے جتنا مال کھینچا جا سکتا ہے، کم و بیش اتنا ہی وہ ہر نو تعمیر شدہ مکان کی فروخت پربآسانی کما لیا کرتا۔ آمدن کے مقابلے میں اخراجات نہ ہونے کے برابر تھے۔ گزشتہ بیس بائیس برسوں سے گھر کے معمولات تقریباً لگے بندھے تھے۔

وہ بہت صبح اٹھ کر اپنا ناشتا خود تیار کیا کرتا اور مستریوں مزدوروں کے آنے سے پہلے کسی نہ کسی تعمیراتی کام پر پہنچ جاتا۔ جہاں جہاں کام ہو رہے ہوتے، دن بھر گھوم پھر کے باری باری سب کی نگرانی کیا کرتا۔ دن کو ہلکا پھلکا کھانا باہر ہی کھا لیتا۔ پچھلے پہر گھر لوٹ کر سردیوں گرمیوں میں آدھے پونے گھنٹے کی نیند ضرور پوری کیا کرتا۔ شام کو باپ بیٹی تیار ہو کر باہر گھومنے نکل جایا کرتے۔ اب بھی وہی معمول رہا۔ فرق صرف اتنا پڑا کہ شام کو ہوسٹل چلا جاتا اور باپ بیٹی دو اڑھائی گھٹنے ایک ساتھ گزار لیا کرتے۔

جڑواں شہروں میں سردیاں ظلم ڈھاتی ہیں۔ بارش ہونے لگے تو برفیلا پانی برستا ہے۔ بیٹی کو ہوسٹل چھوڑ کر آفاق واپس ہونے لگا تو ہلکی بارش برسنے لگی جس طرح کی گھٹا چھائی ہوئی تھی، امکان تھا کہ موسلا دھار برسے گی۔ سوچنے لگا، سیدھا گھر جائوں اور ناشتے کے لیے ڈبل روٹی ساتھ والی مارکیٹ سے لے لوں۔ مگر دل نہیں مانا۔ پسند کی ڈبل روٹی مرکز ہی سے دستیاب تھی۔ لہٰذا ایک آدھ میل کے چکر کو خاطر میں لائے بغیر گاڑی موڑ لی۔ اس اثنا میں بارش بھی کھل کر ہونے لگی۔

بیکری سے ڈبل روٹی کے ساتھ کچھ اور اشیائے خور و نوش لے کر باہر آیا تو آسمان سے پانی آبشار کے مانند گرنے لگا۔ برآمدے میں چلتا ہوا پارکنگ کے نزدیک آ گیا۔ سامنے کھڑے نوجوان پر نظر پڑی۔ اُس نے دونوں ہاتھوں میں شاپنگ بیگ لٹکا رکھے تھے، جن سے تازہ پکے ہوئے گوشت اور دیگر لوازمات کی تیز مہک اٹھ رہی تھی۔ سر پر تنی چھتری کو سنبھالنے میں وہ دقت محسوس کر رہا تھا۔ بارش کی تیز بوچھاڑ آئی تو دونوں پیچھے ہٹ گئے۔ اسی نوجوان نے گزشتہ دو ماہ سے انیکسی آباد کر رکھی تھی۔ اس کے جوگرز اور جِینز گھٹنوں تک بھیگ رہی تھی۔ وہ متلاشی نگاہوں سے پارکنگ کی طرف دیکھ رہا تھا، گویا گھر جانے کی جلدی ہو۔

گھر میںجب بھی دونوں کا سامنا ہوا، آفاق نے نظر انداز کرنے کی کوشش کی مگر نوجوان نے ہر مرتبہ سلام دعا کرنے میں بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ اس دراز قد خوش شکل نوجوان کے پاٹ دار آواز میں بولنے کے مخصوص انداز اور لب و لہجہ سے آفاق کو دماغ میں ہر مرتبہ اتھل پتھل سی ہوتی محسوس ہوئی۔ مگر کچھ سمجھ نہ پایا۔ آفاق نے اس کو اپنی جانب متوجہ کر کے کہا کہ وہ اتنی دور سودا لینے پیدل کیوں آیا ہے۔ اُس نے جھٹ گردن گھمائی اور آفاق پر نظر پڑتے ہی چونک گیا۔ قدرے بلند آواز میں بولا: ’’السلام علیکم۔ سر آپ!!‘‘ اُس کی پرتپاک لائوڈ آواز سن کر آفاق کا ذہن الجھنے لگا۔

وہ اسی گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا: ’’سر! کھانا بنوایا ہے اور انڈے ڈبل روٹی لی ہے‘‘ … چہرے کا رُخ ریستوران کی طرف کرتے ہوئے دوبارہ بولنے لگا: ’’یہاں سے بون لیس ہانڈی بنوائی ہے … اور ڈبل روٹی بھی اس سامنے والی بیکری سے لینی تھی۔‘‘ … آفاق نے کوئی جواب نہیں دیا مگر وہ بولتا گیا: ’’ٹیکسی نہیں ملی، اس لیے پیدل چل پڑا‘‘ … ذرا سا ہنسا اور بات وہاں سے پھر شروع کر دی، جہاں چھوڑی تھی۔

’’آدھا فاصلہ طے ہو گیا تو تین ٹیکسی والوں نے باری باری ہارن دے کے مجھے متوجہ کیا۔ لیکن میں نے سوچا، اب آدھے پونے کلو میٹر کے لیے کیوں ٹیکسی لوں… سر! مجھے پیدل چلنے کی ویسے بھی بہت عادت ہے۔ دن بھر میں بیس تیس کلو میٹر پیدل چلنا میرے لیے کوئی مشکل نہیں۔ ویسے امی جان مجھے گاڑی چلانا سکھا رہی ہیں۔ انھوں نے گاڑی نکالنے کو کہا لیکن میں خود ہی نہیں لایا۔ ابھی پوری مہارت حاصل نہیں ہوئی، اس لیے…‘‘

آفاق کو یوں لگا، جیسے آسمان پر چمکنے والی بجلی کا کوندا اس کے بدن سے چھو گیا ہو۔ وہ کچھ بولے جا رہا تھا، مگر اس نے ٹوک دیا: ’’کون امی جان‘‘؟؟؟ وہ جھٹ بولا: ’’سر! یہی جی … میڈم طاہرہ خان۔ بڑی رحم دل خاتون ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اڑھائی ماہ پہلے میری نظر چھوٹی سی اَیڈ پر پڑ گئی۔ لکھا تھا: ینگ سمارٹ منیجر کی ضرورت ہے جو جائداد کی دیکھ بھال کر سکے۔ تجربہ ضروری نہیں۔ امیدوار کا گریجوایٹ ہونا کافی ہے۔ ڈرتے ڈرتے آ گیا۔ مرحومہ ماں کی دعائیں قبول ہوئی ہیں۔‘‘

سیدھے سادے نوجوان کی بے لاگ سی باتیں سن کر آفاق احمد کے دماغ میں پھر وہی کھد بد ہونے لگی۔ اس کا نام پوچھا تو جواب ملا: ’’سر مہدی علی نام ہے میرا۔‘‘ اب کی بار بجلی کا کوندا آفاق احمد کے بدن سے چابک کے مانند لپٹ گیا۔ جسم گویا شل ہو رہا ہو۔ یہ نام وہ کبھی نہ بھول سکا۔ پہلی بار سنا تو حیرت ہوئی تھی۔ ماسوائے کسی شاعر، راجا مہدی علی خان کے، یہ نام کبھی سنا ہی نہ تھا۔ صرف مہدی یا علی ہوتا تو تعجب کی بات نہ تھی۔ آج تک دوبارہ کوئی ایسا شخص نہ ملا، جس کا نام مہدی علی ہو۔

صغریٰ مرحومہ ہو چکی۔ عجیب سا اطمینانِ قلب محسوس ہونے لگا۔ شریفاں بی بی کو ہم نشین مل گئی۔ ہم خیال و ہم نفس۔ ذہنی ہم آہنگی عمروں کے فاصلے پاٹ دیتی ہے۔ اللہ نے یہ فرمان اپنے کن بندوں کے لیے جاری کیا ہے؟ ’’اے اطمینان والی روح، تُو اپنے ربّ کی طرف لوٹ چل۔ اس طرح کہ تُو اس سے راضی، وہ تجھ سے خوش۔ پس، میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں چلی جا‘‘ … پاک روحیں وہی ہوتی ہیں جو بھلائی کے راستے پر چلی ہوں۔ اس استقامت کے ساتھ کہ کہیں پائوں نہ رِپٹے۔ آفاق احمد نے بلاجھجک مہدی علی کے پیٹ پر نگاہ ڈالی۔ وہ ریڑھ کی ہڈی سے لگا ہوا محسوس ہوا۔ دن میں بیس تیس کلو میٹر پیدل چلنے والے نوجوان کا جسم ایسا ہی ہونا چاہیے۔ نوکِ زبان پر آنے کو یہ الفاظ لپکے۔ ’’پُت! چَگھا پا لَے۔‘‘

دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے تو آفاق نے کہا: ’’گھر کے ساتھ والی مارکیٹ میں جو ہوٹل ہے، بون لیس ہانڈی وہاں بھی بن جاتی اور ساتھ ہی بیکری بھی تھی۔‘‘ مہدی کہنے لگا: ’’سر! امی جان نے منع کر رکھا ہے۔ مارکیٹ اب میں جاتا ہی نہیں۔ بیکری والا راجا بڑا عجیب بندہ ہے۔ شروع میں اس سے ایک دن انڈے لیے۔ سب پر بِیٹ لگی ہوئی تھی۔ میں نے اتنا ہی کہا: آپ نے جس ہاتھ سے انڈے اٹھائے ہیں اسی سے باقی سودا نکال رہے ہیں۔ کہنے لگا: ہر بار نیا ہاتھ کہاں سے لائوں؟ … اور ہر مرتبہ دھونے بیٹھ جائوں تو چھے مہینوں میں میرے ہاتھوں کی چھٹی ہو جائے گی۔ میں نے مزید بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا مگر اُس کو چین نہیں آیا اور پھر بول پڑا: آپ فکر نہ کریں صاحب بہادر!

آج فارم والوں سے کہہ دوں گا کہ مرغیوں کو ہر روز استنجا کروایا کریں۔ ان کے انڈا دینے سے پہلے پہلے، تاکہ صاف ستھرے انڈے دیں۔ بس، آپ ایک وعدہ کریں کہ سودا مجھ سے لیا کریں گے۔‘‘ آفاق کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اس نے گاڑی اسٹارٹ کر کے ہیٹر، ڈی فوگر، وائیپر اور لائٹس آن کیں۔ اگلی پچھلی سکرین صاف ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ مہدی کے بچپن کی باتیں ہجوم کیے ہوئے تھیں۔ اس کی آزمائش کرنے کا خیال آیا تو بول پڑا: ’’تم نے ناحق مشقت اٹھائی۔ پیدل چلے اور بھیگ بھی گئے۔ اتنی تیز بارش اور جھکڑوں میں چھتری اُلٹی مصیبت گلے پڑ جاتی ہے۔ چپ کر کے سودا مارکیٹ سے لے لیا ہوتا۔ تمہاری میڈم کو کیا پتا چلنا تھا۔‘‘

مہد ی کے بدن میں تنائو کی سی کیفیت پیدا ہونے کے آثار نظر آئے۔ اُس نے بے چینی سے بدن کو لایعنی سی حرکت دی اور معمول کی بلند آواز میں بولا: ’’نہیں سر! امی جان کو پتا چلے نہ چلے، میں جھوٹ بول کر اپنا اندر میلا کیوں کر لوں؟ ایک ڈیڑھ کلو میٹر کوئی فاصلہ نہیں۔ بھیگنے سے مجھے کچھ نہیں ہوتا۔ بڑا سخت جان ہوں۔ گھر جا کے کپڑے بدل لوں گا۔ غلط کام کرنے سے بندے کی نیند ہی اڑ جاتی ہے۔‘‘

آفاق احمد کے لبوں پر مسکراہٹ کھل گئی۔ دل میں اطمینان اترنے لگا۔ گاڑی چلاتے ہوئے مہدی سے پوچھا کہ اس کی تعلیم کہاں تک ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا: ’’میں نے ایم اے ہسٹری کا داخلہ بھیجا ہوا ہے۔ اچھی تیاری ہو رہی ہے۔ ایف اے اور بی اے کا امتحان بھی پرائیویٹ امیدوار کے طورپر پاس کیا تھا۔ اللہ امی جان کو جزا دے۔ بہت حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ رات کو بارہ ایک بجے تک بڑے سکون سے سٹڈی کرتا ہوں۔ صبح نو دس بجے کے درمیان امی جان اٹھ جاتی ہیں تو ناشتا بناتا ہوں۔ پھر ہم باہر کام کاج پر نکل جاتے ہیں۔

جہاں رش ہو، وہاں گاڑی خود چلاتی ہیں۔ سڑک کھلی ملے تو مجھے موقع دیتی ہیں۔ میں شلوار قمیص میں آیا تھا۔ نیچے لنڈے کی گرم بنیان پہن رکھی تھی اور پیروں میں ربڑ کے سلیپر تھے۔ چار بہترین گرم لباس دلوائے اور تنخواہ بھی پوری دس ہزار۔ کئی بار گزارش کی ہے کہ مجھ سے کوئی بڑا کام لیا کریں۔ اس طرح روزی حلال نہیں ہوتی۔‘‘ مہدی بولے جا رہا تھا۔ آفاق کا سر چکرانے لگا۔ یوں جیسے موت کے کنویں میں اڑھائی سو کلو میٹر فی گھنٹا کی رفتار سے گاڑی چلارہا ہو۔

رات بارہ بجے کے قریب نیچے لائونج میں چاند ماری شروع ہوئی اور چیخنے چلّانے کی آوازیں سنائی دیں۔ کچھ برتن یکے بعد دیگرے پارٹیشن کے ساتھ ٹکرا کر نیچے گرے اور ٹوٹ گئے۔ ساتھ ہی پارٹیشن کا ایک شیشہ بھی چھناکے سے ٹوٹ کر بکھر گیا۔ آفاق احمد ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور ننگے پائوں سیڑھیوں کی طرف لپکا۔ فوراً ہی واپس پلٹا اور بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ریوالور نکال کرنیچے کی طرف دوڑا۔ وہ یہی سمجھا کہ گھر میں ڈاکو گھس آئے ہیں۔ اوسان خطا ہونے لگے۔ ابھی چند سیڑھیاں ہی اترا تھا کہ بڑی پاٹ دار آواز سنائی دی: ’’امی جان! میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ نے مجھے بیٹا کہا ہے۔‘‘ آفاق انہی قدموں پر رُک گیا۔ جواب میں طاہرہ خان کی چلّاہٹ سنائی دی۔

’’نکل جائو میرے گھر سے۔ ورنہ ابھی پولیس بلا لوں گی۔ پانچ چھے سال جیل میں سڑو گے۔‘‘ آفاق احمد مزید چند سیڑھیاں اترا مگر ہمت جواب دے گئی اور وہ لینڈنگ پر بیٹھ گیا۔ سیڑھیوں پر قالین بچھا ہوا تھا مگر ٹھنڈک بدن میں سرایت کرنے گی۔ مہدی کہہ رہا تھا: ’’باہر بارش ہو رہی ہے۔ میں صبح ناشتا کر کے چلا جائوں گا۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ کلام پاک پڑھیں۔ میں بھی پڑھتا ہوں۔ان شا ا للہ بلا ٹل جائے گی۔‘‘ طاہرہ نجانے کیا کیا ہذیان بک رہی تھی۔ لڑکے کے مرے ہوئے والدین کے بارے میں نازیبا کلمات بولتے ہوئے چلّا کر کہا: ’’ناشتا کیوں، میں تجھے زہر نہ کھلائوں؟ تم ابھی دفع ہو جائو۔ ایک منٹ کے اندر اندر … اور یہ لباس اتارو۔ اپنی شلوار قمیص پہن کر نکلو۔ تمہارے سلیپر آسیہ نے کوڑے میں پھینک دیے تھے۔

ننگے پائوں جائو گے۔‘‘ اس مرتبہ مہدی بولا تو آواز پہلے کی نسبت دھیمی تھی۔ اتنا ہی کہا: ’’میں چلا جاتا ہوں امی جان! آپ آیت الکرسی پڑھیں۔ میں بھی پڑھتا ہوں۔‘‘ آفاق احمد اپنے کمرے میں آیا۔ عجلت میں لباس تبدیل کیا۔ چھوٹے گیٹ کی چابی لی اور سرونٹ کوارٹر کی بالکونی سے لوہے کی سیڑھیاں اتر گیا۔ مین گیٹ کے سامنے پورٹیکو میں طاہرہ کی ذاتی گاڑی کھڑی ہوتی تھی، جب کہ آفاق احمد اپنی گاڑی گھر کے کونے پر چھوٹے گیٹ کے اندر سائیڈ پورچ کے نیچے کھڑی کرتا تھا۔ بغیر کھٹکا کیے گیٹ کھولا تو باہر گلی کا سیکیورٹی گارڈ کھڑا نظر آیا۔ اُس کو ہاتھ کے اشارے سے تسلی دی۔

حسبِ عادت گاڑی کے ہینڈ بریک کھولے تو بغیر اسٹارٹ کیے ریمپ کی ڈھلان اتر گئی اور اسی جھونک میں موڑ تک چلنے دی۔ نکڑ والی کوٹھی کی اوٹ میں روک کر واپس آیا اور گیٹ بند کر دیا۔ گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ نظریں عقبی آئینے پر جما رکھی تھیں۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد مہدی علی کالا شاپنگ بیگ اٹھائے سڑک پر نمودار ہوا۔ اسٹریٹ لائٹ میں نظر آ رہا تھا کہ اُس نے شلوار قمیص پہن رکھی ہے۔ آفاق کی نظریں بے اختیار اُس کے پیروں پر پڑیں۔ وہ ننگے پائوں تھا۔

پیشتر اس کے کہ وہ گاڑی سے آگے نکل جاتا، آفاق نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور اُسے آواز دے کر بیٹھنے کو کہا۔ مہدی نے جھک کر دیکھا اور پہچانتے ہی معمول کی بلند آواز میں بولا: ’’اوہ، یہ آپ ہیں سر!‘‘ سیٹ پر بیٹھتے ہی کہا: ’’میں نے پیر ودھائی لاری اڈے پر جانا ہے یا فیض آباد… آپ اس وقت کہاں جا رہے ہیں؟‘‘ آفاق نے جواب دینے کے بجائے گاڑی اسٹارٹ کی اور اس کا ہیٹر آن کر کے ناب پوری گھما دی۔ گرم ہوا کا رخ پیروں کی طرف ہو گیا۔ چند منٹ کی خاموشی طاری رہنے کے بعد مہدی نے پائوں سمیٹتے ہوئے کہا: ’’سر! بڑی گرم ہوا ہے۔ آپ نے ہیٹر میرے لیے چلایا ہو گا۔ اس کی ضرورت نہیں۔

مجھے سردی نہیں لگتی۔ جوتے اسکول جانے کے لیے پہنا کرتا تھا۔‘‘ آفاق اس مرتبہ بھی نہیں بولا۔ مہدی سے خاموش نہیں رہا گیا اور گردن دائیں جانب گھما کر ایک نگاہ آفاق کے چہرے پر ڈال کر کہنے لگا: ’’سر! ہیٹر اپنی طرف کر لیں۔ میرے پائوں جلنے لگے ہیں۔‘‘ آفاق نے بغیر کوئی لفظ بولے ہیٹر بند کر دیا۔ بارش بدستور لگی ہوئی تھی۔ مہدی سے چپ نہیں رہا گیا۔ پھر بول پڑا۔ ’’سر! آپ گاڑی بہت تیز چلا رہے ہیں۔ بارش بھی ہو رہی ہے… اور آپ بولتے کیوں نہیں؟ شاید ناراض ہیں۔ مجھے کسی اسٹاپ پر اتار دیں۔ میرے پاس پیسے کافی ہیں۔ تنخواہ کی رقم میں سے ایک روپیہ بھی امی جان نے واپس نہیں مانگا۔ وہ بہت اچھی خاتون ہیں۔ دراصل اُن پر کوئی بڑا سخت جِنّ آتا ہے۔

اللہ کرے، کوئی نیک نیت والا سیانا مل جائے۔ جِنّ بھی بڑے لُوزکیریکٹر والا ہے۔ جس طرح انسان، اچھے اور بُرے ہوتے ہیں، سنا ہے جنّات میں بھی نیک و بد ہوتے ہیں۔ مجھے امی جان کی بڑی فکر لگی ہوئی ہے۔‘‘ گاڑی اس وقت اسلام آباد ہائی وے پر تھی۔ طاہرہ کو جِنّ چمٹنے کی بات سنتے ہی آفاق کی ذہنی کیفیت بدل گئی۔ یوں جیسے بند تاریک اجنبی عمارت میں بھٹکتے ہوئے اچانک سوئچ بورڈ پر ہاتھ پڑنے سے روشنی ہو جائے اور راستہ نظر آنے لگے۔ اعصاب پر سکون ہونے لگے۔

گاڑی بھی متوازن رفتار پر چلنے لگی۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے تک وہ سوچ رہا تھا کہ گاڑی سڑک کے کنارے روک کر ڈگی سے وہیل پانہ نکالے اور اس احمق کے سر پر دے مارے۔ مگر اب سوچ کا زاویہ ہی مختلف ہو گیا۔ ذہن میں اچھوتا خیال آیا کہ پیچیدہ نفسیاتی اُڑچن اور جِنّ میں فرق ہی کیا ہے؟ عامل روحانی بابا کوئی سیانا معالج بھی ہو سکتا ہے۔ نظریں سڑک پر جمائے آفاق احمد پُر سکون لہجے میں بولا:
’’ائیر پورٹ کالونی میں اپنا ایک مکان تقریباً فِنش ہو چکا ہے۔ چوکیدار ہے۔ گزارے لائق بستر مل جائے گا۔ گیس بھی لگی ہوئی ہے۔ فی الحال گجرات جانے کی ضرورت نہیں۔ کل بات کریں گے کہ تجھے کیا کام کرنا ہے۔‘‘ اس مرتبہ مہدی کے خاموش رہنے کی باری تھی۔ صرف ایک نظر آفاق پر ڈال کر سامنے سڑک کا منظر دیکھنے لگا۔ آفاق نے اس کی گود میں پڑا کالا شاپنگ بیگ دیکھ کر پوچھا کہ اس میں کیا ہے تو جواب ملا: ’’اس میں کتابیں، ایک تولیہ، پاجامہ، بنیان، ریزر اور کنگھی وغیرہ…‘‘ ذرا سا توقف کر کے مسکرایا اور بولا: ’’سر! صابن اور کریم بھی ہے۔‘‘ آفاق نے گردن گھمائی اور نظر ملا کر پوچھا ’’کیسی کریم۔‘‘ مہدی ہنس پڑا اور جھینپ گیا۔ تاہم لمحہ بھر خاموش رہ کر بول پڑا: ’’سر!

بیوٹی کریم… رنگ گورا کرنے والی۔‘‘ آفاق کی بے ساختہ ہنسی نکل گئی۔ کہنے لگا: ’’تجھے کریم کی کیا ضرورت ہے؟ اچھے خاصے گورے ہو … اور یہ اشتہاری کریمیں ویسے بھی جلد کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔‘‘ مہدی کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے بولا: ’’سر! میری ماں کا حکم تھا کہ اور کوئی پیسا خرچ کروں نہ کروں، کریم ضرور لگایا کروں۔ اس خیال سے حکم عدولی نہیں کرتا کہ اُس کی روح کو صدمہ نہ پہنچے۔‘‘

پھر کھل کے ہنس دیا اور کہنے لگا: ’’میری ماں فکر مند ہو کر کہا کرتی تھی: میرے بیٹے کا چاند چہرہ دھوپ میں پھرنے سے کالا ہو جائے گا… سر! جب میں ہائی اسکول جانے لگا تو وہ دال روٹی میں سے پیسے بچا کر بھی میرے لیے کریم لے آیا کرتی تھی۔‘‘ آفاق نے محسوس کیا کہ مہدی کا گلا پامال ہو گیا ہے۔ اس کی اپنی آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔ شریفاں بی بی اور صغریٰ صحن میں بیٹھی باتیں کرتی سنائی دینے لگیں۔ مہدی کی بھوک کے بارے میں باتیں… اور صبر کی باتیں۔

آفاق احمد نے مہدی سے اس کی بھوک کے بارے میں سوال کرنا چاہا، مگر اس احتیاط سے کہ صغریٰ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ نہ دہرائے جائیں۔ اسکرین کے پار سڑک پر نظریں جمائے بولا: ’’مہدی علی! کھانا اور ناشتا وغیرہ کس وقت کرتے ہو۔ کیا پسند ہے…؟ میرا مطلب ہے، ذرا تمہاری روٹین کا پتا چل جائے۔‘‘ وہ بڑے اعتماد سے بولا: ’’کوئی روٹین اور ٹائم نہیں سر! جو ملے، جب اور جیسا بھی، کھا لیتا ہوں۔ نہ ملے تو پانی کے دوتین گلاس پی کر سو جاتا ہوں۔ ایک آدھ دن کی بھوک مجھے زیادہ تنگ نہیں کرتی۔

نیند آجاتی ہے۔ ویسے اب میرے پاس کافی پیسے ہیں۔ لیکن میں ہوٹل سے کھانا پسند نہیں کرتا۔ جتنے پیسوں میں وہاں ایک وقت کا کھانا ملتا ہے، اتنے میں گھر پر تین گنا بن جاتا ہے۔ بندہ ایک ہی بار کھا لے تو دن بھر فکر نہیں رہتی۔ بلکہ اگلے روز تک نہ ملے تب بھی گزارہ ہو جاتا ہے۔‘‘ آفاق نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس کو صغریٰ کے الفاظ سنائی دیے: ’’خالہ جی! اس لڑکے کی ساری باتیں ہی نرالی ہیں۔ کہتا ہے، روٹی آج نہیں ملتی تو کل کھا لوں گا… ماں گھولی! کل تو مل جائے گی ناں۔‘‘ آفاق کی بصارت دھندلانے لگی۔

سامنے ائیرپورٹ چوک تک ٹریفک روک دی گئی تھی۔ چوکس کھڑی پولیس دیکھ کر آفاق سمجھ گیا کہ روٹ لگا ہوا ہے۔ حکومتِ وقت کی کسی اعلیٰ شخصیت کو گزرنا ہے۔ اس کے راستے پر کوئی معمولی سے معمولی رکاوٹ بھی نظر نہیں آرہی۔ دیگر راستوں پر لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ اتنے میں اس کے دائیں ہاتھ رنگ برنگی روشنیاں چمکیں، ہُوٹر بجا اور درجنوں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ گزرنے لگا۔ گولی کی رفتار سے گزرتی گاڑیوں کو گننا محال ہو گیا۔

لگ بھگ پچاس گاڑیاں گزری ہوں گی۔ اعلیٰ اور ارفع نظریات کی امین قوموں کے رنگ نیارے۔ قائدین اور حکمران بڑی ثابت قدمی سے مزدور ماں کی مزدوری، بھکارن کی بھیک اور کسبی کی خرچی سے حصہ بٹور کر کیا شان کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ائیرپورٹ سے اسلام آباد تک صرف فیول کی مد میں لاکھوں روپے پھونک ڈالے۔ روکی گئی ٹریفک کا وقت اور پیسا ملا کر بات شاید کروڑوں تک پہنچی ہو۔ روٹ کھل گیا اور گاڑیاں رینگنے لگیں۔

مہدی کہہ رہا تھا: ’’سر! اس وقت آپ کو گھر ہونا چاہیے تھا۔ امی جان کو آپ کی زیادہ ضرورت ہے۔ بھوت پریت کا سایہ ہو یا کوئی بڑی بیماری، آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اس میں بندے بے چارے کا قصور نہیں ہوتا۔ کوئی بھی اپنے سر آفت مول لینا پسند نہیں کرتا۔ میری مرحومہ ماں نے بڑی حسرتوں سے مجھے زمیندارہ کالج میں داخلہ دلایا مگر بے چاری بیمار رہنے لگی۔ میں نے کالج چھوڑ دیا اور پاٹری فیکٹری میں مزدوری کرنے لگا۔

ڈیڑھ سال بعد معلوم ہوا کہ ماں کو کینسر ہے۔ اماں رو رو کر خدا سے فریاد کرتی: کِدھاں جان چھٹوُ میرے پُت دی؟ میں اُس کے چہرے پر بوسہ دے کر کہا کرتا: ساٹھ سال بعد، جب میری ماں ایک سو ایک سال کی ہو جائے گی… سر! اپنے پیاروں کا خیال خود رکھنا پڑتا ہے۔ بندے کو وفادار ہونا چاہیے۔‘‘ آفاق شاید اب بھی چپ رہتا، مگر مہدی کی تشفی کے لیے بول پڑا: ’’تم طاہرہ کی فکر نہ کرو۔ وہ بہت جلد سو گئی ہو گی۔ اب وہ کل دس گیارہ بجے سے پہلے نہیں اٹھے گی۔ دورہ پڑنے کے بعد وہ بہت سی دوائیاں لے کر سو جایا کرتی ہے۔‘‘
ائیر پورٹ کالونی سے آفاق واپس گھر پہنچا اور لباس بدل کر نیچے آگیا۔ بیوی بے سدھ پڑی سو رہی تھی۔

بغیر ڈسٹرب کیے بیڈ پر بائیں پہلو لیٹ گیا۔ صبح چھے بجے کے قریب وہ اٹھی اور سوئی جاگی سی حالت میں واش روم چلی گئی۔ چند منٹ بعد واپس آئی تو شوہر پر نگاہ پڑی۔ آنکھیں بھیگ گئیں۔ بہت آ ہستگی سے اپنا بدن بستر پر ڈال دیا۔ آفاق نے بازو بڑھا کر بیوی کو ساتھ لگا لیا۔ دونوں باہم لپٹ گئے مگر کچھ نہیں بولے۔ آفاق کو اپنے گال پر نمی محسوس ہونے لگی۔ آنکھیں کھول کر بیوی کے چہرے پر نظریں ڈالیں۔ اُس کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہ رہے تھے۔ نیم دراز ہو کر ٹیبل سے ٹشو لیے اور اُس کا چہرہ اور آنکھیں اچھی طرح صاف کر دیں۔ چپکے سے دوبارہ ساتھ لگا لیا۔ وہ جلد ہی گہری نیند سو گئی۔

تقریباً ایک ماہ اسی طرح گزر گیا۔ میاں بیوی گو اکٹھے رہے۔ گاہے قربت ہو جاتی، مگر جذبات میں وہ شوریدگی نہ آئی۔ عمومی سی بات چیت ہوا کرتی۔ تعمیراتی منصوبوں یا سمن کے بارے میں۔ اُس کی روم میٹ کون ہے؟ امتحان کی تیار ی کیسی جا رہی ہے؟ آج باپ بیٹی کہاں گھومے اور کھانا کہاں کھایا؟ تمہاری صحت کیسی ہے؟… میںٹھیک ہوں۔ گھر میں دن کیسا گزرا، تم ٹھیک ہو ناں!… ہاں، شکر ہے۔ ایک دن اور گزر گیا۔ کسی اختلافی مسئلے پر بات نہیں ہوئی۔ تم ایسی ہو… تم ویسے ہو۔ جو ہوا سو ہوا، اب گلہ شکوہ کیسا۔ وہ دونوں ایک ایسے ادھیڑ عمر کم گو اور سنجیدہ جو ڑے کی طرح رہ رہے تھے، جنھیں ایک دوسرے سے محبت ہو نہ کوئی شکایت۔

سہ پہر کی چائے کے لیے آفاق احمد کچن کی طرف جانے لگا تو طاہرہ کی آواز کانوں میں پڑی: ’’آفاق! میں نے چائے بنا رکھی ہے۔ اِدھر آجائو۔‘‘ دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ طاہرہ پر سنجیدگی طاری تھی۔ شوہر کے آگے کپ رکھ کر اپنے سے سِپ لیا۔ میز پر اُس کا پاسپورٹ اور ٹریول ایجنسی کا لفافہ بھی پڑا تھا، جس پر دز دیدہ نگاہ ڈال کر آفاق نے کہا: ’’تھینک یو فارٹی۔‘‘ وہ چپ رہی۔ چند لمحے مزید اسی طرح گزر گئے۔ دھیمی آواز میں بول پڑی: ’’میں کچھ عرصہ کے لیے بھائی جان کے پاس جا رہی ہوں… بھابھی کو میرے پر ابلم کاتب سے علم ہے، جب ہم دونوں کالج میں کلاس فیلوز تھیں۔ اُس نے کسی اسپیشلسٹ سے کنسلٹ کر کے ہی مجھے بلایا ہے…‘‘ پھر خاموشی چھا گئی۔

دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں لمحہ بھر کو دیکھا۔ آفاق نے ہاتھ بڑھا کر بیوی کاہاتھ تھام لیا۔ اُس کی آنکھیں بھر آئیں۔ دوبارہ بول پڑی: ’’صبح چار بجے قطرائیر لائنز سے دوہا اور آگے ہیوسٹن۔‘‘ آفاق نے دوسرا ہاتھ بھی بیوی کے ہاتھ پر رکھ دیا اور بڑے آرام سے اُس کا بازو کھینچتے ہوئے گویا عندیہ دیا کہ وہ اٹھ کر ساتھ صوفے پر آن بیٹھے۔ ذرا سا سوچ کر اٹھی مگر جذباتی ہو گئی۔ ساتھ بیٹھتے ہوئے توازن برقرار نہ رہا اور اندازے کی غلطی بھی ہوئی، لہٰذا دھم سے گری اور زیادہ ہی جُڑ کے بیٹھ گئی۔

دونوں کے زانو دب گئے۔ ذرا سنبھل کر سرکنے لگی مگر اِس اثنا میں آفاق نے اُس کو بازوئوں میں بھر کر سینے سے لگا لیا اور گال سے گال ملا کر دھیمی آواز میں بولا: ’’آئی ایم ویری سوری۔‘‘ طاہرہ کی لرزتی ہوئی آواز سنائی دی: ’’فاروھَٹ؟‘‘ آفاق نے اُسی طرح دھیمے سے سرگوشی کی: ’’تم سے لا تعلق ہو گیا اور تمہارا خیال نہیں رکھا۔‘‘ طاہرہ پر رقت طاری ہو گئی۔ اُس نے سمٹے ہوئے بازو پھیلائے اور میاں کو بھینچ لیا۔
تھوڑی دیر بعد طاہرہ ذرا ہٹ کر بیٹھ گئی۔ پاسپورٹ اٹھا کر اس کے نیچے رکھی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی اٹھائی اور شوہر کی طرف بڑھا کر بولی: ’’آفاق! یہ لڑکا تمہارے آبائی شہر کا ہے۔ اس کا پتا لگا کر کسی طرح واپس لے آئو۔ وہ تمہارا ڈپلیکیٹ ہے۔‘‘ آفاق نے کاغذ لے کر میز پر رکھ دیا اور بولا: ’’میں اس لڑکے کے مقابلے میں صفر ہوں۔ اتنا محنتی، ذمہ دار اور قابلِ بھروسا نوجوان میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ تم نے ہیرا تلاش کر لیا۔ میں نے اُس کو کیری ڈبا دے رکھا ہے۔ اتنی جانفشانی سے ہر کام کی نگرانی کرتا ہے، میں تمہیں بتا نہیں سکتا۔ ہر دوسرے تیسرے روز تمھاری زمینوں پلاٹوں پر ایک نظر ڈالنے کے لیے چکر لگاتا ہے۔ تمھارے لیے بہت فکر مند تھا۔ ہر روز پوچھا کرتا: امی جان کا کیا حال ہے؟ مجھے تسلیاں دیتا کہ میں کام کی فکر چھوڑ دوں، صرف تمھارا خیال رکھوں۔‘‘

طاہرہ پُھوٹ پُھوٹ کر روئی اور بولی: ’’آفاق! میں دنیا کی ذلیل ترین عورت ہوں۔‘‘ آفاق نے بیوی کو دوبارہ بانہوں میں لے لیا اور اُس کے ہونٹ چوم کر بولا: تم بہت اچھی عورت ہو۔ نادانستگی میں مجھ سے غفلت ہوئی۔ ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے۔ تمھیں تنہا چھوڑ کر میں نے بہت بڑا ظلم کیا۔ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ سمن کے امتحانات ختم ہوتے ہی ہم باپ بیٹی تمھارے پاس پہنچ جائیں گے۔ تم بالکل ٹھیک ہو جائو گی۔ ہم تینوں اکٹھے واپس آئیں گے۔