function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

آخری پتا

آی-اے آفتاب | کردار سازی

کے قریب ہی مغرب میں گرین وِچ نامی ایک گائوں ہے۔ پورے گائوں کی گلیاں بے ترتیب سی ہیں۔ ایک گلی بَل کھا کر خود ہی اپنے آپ کو ایک یا دو جگہ سے قطع کرتی ہوئی گزرتی ہے۔ مصوروں کے لیے اس گلی میں زبردست فنکارانہ امکانات موجود تھے۔ چناںچہ فنکار لوگ سستے کرایوں کی تلاش میں اس نرالے گائوں میں آپہنچے۔ آہستہ آہستہ وہ چھڑ شاہراہ سے برتن وغیرہ خرید لائے اور یہیں آباد ہوگئے۔ اس طرح یہ گائوں واشنگٹن ہی کی مضافاتی آبادی بن گیا۔
یہیں ایک چوڑی سی تین منزلہ عمارت کے اوپر سُو اور جانسی نے اپنا تصویر خانہ بنایا۔ جانسی کا اصل نام جو آنا تھا۔ ان میں سے ایک مین ہٹن سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری کا کیلیفورنیا سے۔ وہ آٹھویں شاہراہ کے ایک عام سے ہوٹل کی میز پر ایک دوسرے سے متعارف ہوئی تھیں۔ گفتگو کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ لباس، خوراک اور فن میں دونوں کی پسند یکساں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں نے مل کر ایک مشترکہ تصویر خانہ قائم کرلیا۔
یہ نومبر کا ذکر ہے، جب نمونیا جیسے بدبخت اور خنک مزاج مرض نے اس بستی کو گھیر لیا۔ یہ ظالم مرض اِدھر اُدھر پھرتا رہا اور خوفناک مرض نے درجنوں لوگ شکار کیے، لیکن جب یہ گلیوں میں واقع تنگ اور کائی زدہ مکانات میں پہنچا، تو اس کے قدم کچھ دھیمے پڑگئے۔
اس مہلک مرض نے جانسی جیسی ایک چھوٹی سی کمزور عورت کو بھی شکار کر لیا۔ وہ بے چاری تو پہلے ہی کیلیفورنیا کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث نیم مردہ ہوچکی تھی اور اتنی کمزور ہوچکی تھی کہ ہِل جُل بھی نہیں سکتی تھی۔ اپنے بستر پر پڑی ہوئی وہ چھوٹی سی محراب دار کھڑکی کے شیشوں میں سے سامنے والے مکان کی دیوار کو گھورتی رہتی تھی۔
ایک صبح سفید بالوں والے معروف ڈاکٹر نے سُو کو برآمدے میں بلایا۔
’’میرا خیال ہے کہ اس کے زندہ بچنے کا اِمکان دس فیصد ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے تھرما میٹر جھٹکتے ہوئے بتایا، ’’اور یہ اِمکان بھی تب ہے، اگر وہ خود زندہ رہنے کی کوشش کرے۔ جو لوگ زندہ رہنے کی اُمید ختم کر دیتے ہیں، ان کے لیے تمام ڈاکٹری نسخے بے کار ہیں۔ تمھاری چھوٹی سی سہیلی نے بھی دل میں یہی سوچ لیا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہوگی۔ ہاں، یہ تو بتائو کہ اس کے دل میں کوئی آرزو بھی ہے؟‘‘
’’وہ۔۔۔۔ وہ خلیج نیپلز کی تصویر بنانا چاہتی ہے۔‘‘ سُو نے بتایا۔ تصویر بنانا…! ’’اچھا… اچھا۔۔۔۔۔، ڈاکٹر نے کہا، بہرحال، جہاں تک میرا تعلق ہے، میں آپ کی سہیلی کو بچانے کی پوری کوشش کروں گا۔ لیکن جب میرا مریض جنازے کے بارے میں بہت زیادہ سوچنے لگے، تو میں دوائوں کی تاثیر نصف سمجھنے لگتا ہوں۔ اگر تم کسی طرح اُسے سردیوں کے لیے نئے فیشن کے کوٹ کی آستین کے بارے میں ایک سوال بھی پوچھنے پر رضامند کر سکو، تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اُس کے بچنے کی اُمید دس فیصد کے بجائے بیس فیصد ہو جائے گی۔‘‘
ڈاکٹر کے جانے کے بعد سُو تصویر خانے میں گئی اور کینوس تیار کرنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ ڈرائنگ بورڈ سمیت سیٹی بجاتی ہوئی جانسی کے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ بے حِس و حرکت لیٹی ہوئی کھڑکی کی جانب تک رہی تھی۔ سُو نے سمجھا کہ وہ سو رہی ہے۔ اس لیے اس نے سیٹی بجانی بند کر دی۔
اس نے اپنا بورڈ مناسب جگہ پر جمایا اور ایک رسالے کی کہانی کے لیے روشنائی سے تصویر بنانے لگی۔ ان نوجوان مصوروں کے لیے، جو فن میں اونچا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہ ضروری ہوتا ہے کہ شروع شروع میں وہ اُن کہانیوں کی تصویریں بنا کر اپنا راستہ ہموار کریں، جنھیں نوجوان ادیب اونچا ادبی مقام حاصل کرنے کے لیے لکھتے ہیں۔
سُو،اپنے ہیرو کے جسم پر ریاست ’’اڈاہو‘‘ کے چرواہوں جیسی پتلون اور ایک شیشے کی عینک بنانے میں مصروف تھی۔ اُسے دھیمی سی آواز بار بار سنائی دی۔ وہ فوراً جانسی کے بستر کے پاس پہنچی۔
جانسی کی آنکھیں چوپٹ کھُلی ہوئی تھیں۔ وہ کھڑکی میں سے باہر دیکھ رہی تھی اور گنتی گِن رہی تھی۔ اُلٹی گنتی۔
’’بارہ‘‘ اس نے کہا اور چند لمحوں کے بعد ’’گیارہ‘‘ اور پھر بڑی تیزی سے ’’دس‘‘ اور پھر ’’نو‘‘ اور ’’آٹھ‘‘ اور ’’سات‘‘۔
سُو نے بڑے غور سے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ وہاں ایسی کیا چیز تھی، جسے وہ گِن رہی تھی۔ اُس نے تو کھلے چٹیل صحن اور اس پرلے مکان کی دیوار کے سوا اور کچھ بھی نظر نہ آیا۔ ہاں، البتہ عشقِ پیچاں کی ایک پُرانی بیل اس دیوار سے لِپٹی ہوئی ضرور نظر آ رہی تھی۔ یہ بیل مُرجھا چکی تھی اور اس کی جڑیںبھی مُردہ ہوچکی تھیں۔ خزاں کی تیز اور سرد ہوائوں نے اس کے اکثر پتیّ گرا دیے تھے اور اب خالی شاخیں دیوار پر چمٹی ہوئی تھیں۔
’’کیا بات ہے پیاری جانسی ؟‘‘ سو نے پوچھا۔
’’چھے‘‘ جانسی نے تقریباً کاناپُھوسی کے سے انداز میں کہا، ’’اب یہ جلدی جلدی گر رہے ہیں۔ تین دن پہلے سو کے قریب تھے۔ گنتے گنتے میرا سر چکرا گیا تھا، لیکن اب گننا آسان ہے۔ لو! ایک اور گیا۔ اب صرف پانچ رہ گئے ہیں۔‘‘
’’پانچ کیا، پیاری سہیلی؟ اپنی سُو کو بتا دو نا۔‘‘
’’پتیّ ، عشقِ پیچاں کی بیل پر جب آخری پتّا گر جائے گا، تو میں بھی مر جائوں گی۔ مجھے یہ بات تین دنوں سے معلوم ہے۔ کیا تمھیں ڈاکٹر نے نہیں بتایا؟‘‘
’’افوہ! میں نے تو اپنی زندگی میں کبھی اس سے بڑھ کر فضول بات نہیں سنی!‘‘سُونے پیار سے جھڑکتے ہوئے کہا ’’ بھلا اس پرانی عشقِ پیچاں کی بیل سے تمھاری صحت کا کیا تعلق؟ اور تم تو اس بیل کو پسند کیا کرتی تھیں۔ شریر کہیں کی! بزدل مت بنو۔ بات سنو! صبح ہی ڈاکٹر نے مجھے بتایا ہے کہ تمھارے صحت یاب ہونے کا اِمکان دس فیصد ہے۔ کیوں بھلا؟ بھئی جب ہم نیویارک میں ٹیکسی پر سیر کر رہے ہوتے ہیں یا کسی نئی عمارت کے پاس سے گزرتے ہیں، تب بھی ہمارے زندہ گھر پہنچنے کا اِمکان دس فیصد ہی تو ہوتا ہے۔ سمجھ گئیں نا؟ بس! اب تم تھوڑی سی یخنی پی لو اور اپنی سُو کو کام کرنے دو تاکہ وہ تصویروں کے پیسوں سے تمھارے اور اپنے پیٹ کے لیے دال روٹی کا اِنتظام کر سکے۔‘‘
’’اب تم میری فکر مت کرو۔‘‘ جانسی نے اپنی آنکھیں کھڑکی سے باہر جماتے ہوئے کہا، ’’ لو! ایک پتا اور گِرا۔ نہیں۔ مجھے یخنی نہیں چاہیے۔ اب صرف چار پتے رہ گئے ہیں۔ میں رات کی تاریکی پھیلنے سے پہلے پہلے آخری پتے کو گرتے دیکھنا چاہتی ہوں۔ پھر میں بھی مر جائوں گی۔‘‘
’’جانسی! پیاری جانسی!‘‘ سُو نے اس پر جھکتے ہوئے کہا ’’کیا جب تک میں اپنا کام ختم کر دوں، تم اپنی آنکھیں بند نہیں رکھ سکتیں؟ یہ تصویریں مجھے کل تک دینی ہیں۔ مجھے روشنی کی ضرورت تھی۔ ورنہ میں کھڑکی پر پردہ گرا دیتی۔‘‘
’’کیا تم یہ تصویریں دوسرے کمرے میں نہیں بنا سکتی ہو؟‘‘ جانسی نے سرد مُہری سے پوچھا۔
’’نہیں، میں تمھارے پاس رہنا چاہتی ہوں۔‘‘ سُو نے کہا، ’’اور اس کے علاہ میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ تم خوامخواہ عشقِ پیچاں کے پتوں کو تکتی رہو۔‘‘
’’اچھا تم کام ختم کر چکو تو مجھے بتا دینا۔‘‘ جانسی نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا ’’میں آخری پتے کو گرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں انتظار کرتے کرتے تھک گئی ہوں۔ سوچتے سوچتے اُکتا گئی ہوں۔ میں ہر گرفت سے آزاد ہونا چاہتی ہوں اور ان بیچارے جھڑے ہوئے پتوں کی مانند کسی گہری تہ میں ڈوب جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’سوجائو… سونے کی کوشش کرو۔‘‘ سُو نے کہا، ’’میں بوڑھے فقیر کی تصویر بنانے کے لیے ’’باحرمن‘‘ کو ماڈل بنانا چاہتی ہوں۔ میں اُسے بلانے جا رہی ہوں۔ بس، ایک منٹ میں آئی۔ میرے واپس آنے تک تم ہِلنے کی کوشش نہ کرنا۔‘‘
بوڑھا باحرمن ایک مصور تھا، جو اسی مکان کی سب سے نچلی منزل میں رہتا تھا۔ اس کی عمر ساٹھ سال سے اوپر تھی۔ جسم مائیکل اینجلو کے بنائے ہوئے مجسمے ’’شیطان‘‘ جیسا تھا۔ ڈاڑھی حضرت موسیٰ ؑکے مجسمے جیسی اور کان اساطر جیسے۔ باحرمن ایک ناکام مصور تھا۔ پچھلے چالیس سال سے وہ برش پر رنگ لتھیڑنے میں مصروف تھا، لیکن ابھی تک ایک پتّا بھی نہیں بنا سکا تھا۔ وہ ہمیشہ ایک شاہکار بنانے کا خواب دیکھتا رہتا تھا، لیکن اُس نے ابھی تک اسے بنانا بھی شروع نہیں کیا تھا۔ کئی سالوں سے اُس نے کبھی کبھار کسی اشتہار کی تصویر گھسیٹنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اس بستی کے اُن نوجوان مصوروں کا ماڈل بن کر بھی کچھ کما لیا کرتا تھا، جو معقول ماڈل کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ وہ سگریٹ بہت پیتا تھا اور اکثر اپنے آنے والے شاہ کار کی باتیں کرتا رہتا تھا۔ وہ اوپر کے تصویر خانے والی ان دو نوجوان مصوروں کی حفاظت کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتا تھا۔
جب سُو باحرمن کی کُٹیا میں پہنچی تو وہ جونیپربیری سونگھ رہا تھا۔ ایک کونے میں خالی کینوس ایزل پر رکھا ہوا تھا۔ یہ کینوس پچیس سال سے شاہکار کی پہلی لائن کے لیے منتظر تھا۔سُو نے اُسے جانسی کے وہم کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ سُو ڈر رہی تھی کہ جانسی پتیّ کے مانند کمزور سی تو ہے ہی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا پر سے کمزور سی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی وہ لڑھک جائے۔
بوڑھا باحرمن اس اثنا میں لگاتار سُرخ آنکھوں سے اُسے گھُورتا رہا اور ایسے احمقانہ تصورات پر طنزیہ انداز سے ہنسا۔
’’کتنی حماقت ہے!‘‘ وہ چلایا ’’ ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو فضول بیلوں سے پتیّ گرنے سے مرجاتے ہیں؟ میں نے تو کبھی ایسی بات نہیں سُنی۔ نہیں بھائی نہیں۔ میں تمھارے لیے بوڑھا فقیر نہیں بنوں گا۔ بھلا تم نے اُس کے بھیجے میں ایسی بیکار بات کیوں آنے دی؟ ہائے بے چاری جانسی!‘‘
’’وہ بہت زیادہ بیمار اور کمزور ہے‘‘ سُونے کہا ’’اور بخار نے اُس کے دماغ کو عجیب و غریب مریضانہ تصورات سے بھر دیا ہے۔ اچھا، باحرمن صاحب! اگر آپ میرے لیے پوز نہیں بناتے تو نہ بنائیں، لیکن میں اتنا ضرور کہوں گی کہ آپ ایک فضول سے بوڑھے… بوڑھے بکواسی ہیں۔‘‘
’’تم بھی تو ایک بے کار عورت ہو‘‘ باحرمن نے مُنہ پھاڑ کر کہا۔ ’’ میں نے یہ کب کہا کہ میں پوز نہیں بنائوں گا؟ چلو، میں تمھارے ساتھ چلتا ہوں۔ میں تو آدھے گھنٹے سے بَک رہا ہوں کہ پوز بنانے کو تیار ہوں۔ بے چاری جانسی۔ ان کو تو بیمار نہیں رہنا چاہیے۔ یہ ایسی جگہ نہیں ہے کہ یہاں وہ بیمار پڑ جائے۔ کسی دن میں ایک شاہکار بنائوں گا۔ پھر ہم سب یہاں سے چلے جائیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟‘‘
جب وہ اوپر پہنچے تو جانسی سوئی ہوئی تھی۔سُو نے کھڑکی پر پردہ گرا دیا اور باحرمن کو دوسرے کمرے میں آنے کا اِشارہ کیا۔ وہاں جاتے ہی پہلے انھوں نے کھڑکی میں سے جھانک کر عشقِ پیچاں کی بیل کو خوفزدہ ہو کر دیکھا اور پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایک لمحے تک تو وہ بول بھی نہ سکے۔ باہر لگاتار بارش ہو رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ برف بھی پَڑ رہی تھی۔ باحرمن اپنی پرانی نیلی قمیص میں ملبوس ایک اُلٹی کیتلی کی چٹان پر فقیر بن کر بیٹھ گیا۔
جب سُو کئی گھنٹے تک سونے کے بعد صبح اُٹھی تو اُس نے دیکھا کہ جانسی کھڑکی کے گِرے ہوئے پردے کو بِٹر بِٹر اداس آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
’’پردہ ہٹا دو۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے آہستگی سے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
سُونے کسلمندی کے ساتھ پردہ ہٹا دیا۔
لیکن دیکھیے تو سہی۔ کتنی حیرت کی بات ہے۔ رات بھر موسلا دھار بارش پڑتی رہی اور خوفناک جھکڑ چلتے رہے، لیکن سامنے دیوار کے ساتھ عشقِ پیچاں کی بیل پر ایک پتّا اب بھی لگا ہوا تھا۔ یہ بیل کا آخری پتّا تھا۔ اس کے دندانے دار سِرے مُرجھا کر زرد پڑ گئے تھے، لیکن یہ ٹہنی کے پاس سے ابھی تک سرسبز تھا اور زمین سے تقریباً بیس فِٹ کی اونچائی پر دیوار کے ساتھ شاخ پر لٹکا ہوا تھا۔
’’یہ آخری پتّاہے۔‘‘ جانسی نے کہا، ’’ میرا خیال تھا کہ یہ رات یقینا گِر چکا ہوگا۔ رات تو اتنا زبردست طوفان آ رہا تھا۔ خیر، یہ گِر جائے گا اور میں بھی اسی کے ساتھ مر جائوں گی۔‘‘
’’میری پیاری سہیلی!‘‘ سُو نے اپنا تھکا ماندہ چہرہ تکیے کے پاس جُھکاتے ہوئے کہا، ’’ اگر تمھیں اپنا خیال نہیں تو میرا ہی کچھ خیال کرو۔ بھلا میں تمھارے بنا جی کر کیا کروںگی؟‘‘
لیکن جانسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ روح جو اپنے طویل پُراسرار سفر کی تیاری میں مصروف ہو، دنیا کی سب سے زیادہ تنہا شے ہوتی ہے۔ جُوں جُوں دوستی اور زمین کا رشتہ ڈھیلا پڑتا چلا گیا، جانسی زیادہ سے زیادہ تصورات میں غرق ہوتی چلی گئی۔
دن ختم ہوگیا، لیکن شفق کی روشنی میں عشقِ پیچاں کا اکیلا پتّا اب بھی اُسی طرح دیوار کے ساتھ بیل پر چِمٹا ہوا نظر آرہا تھا۔ رات آتے ہی بادوباراں کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ بادِ شمال جھکڑوں کی صورت میں چلنے لگی اور بارش کی بوندیں کھڑکیوں کے شیشوں اور چھجوں پر ٹپ ٹپ گرنے لگیں۔
اگلے دن جب کافی روشنی ہوگئی تو جانسی نے پھر یہ حکم دیا کہ پردہ ہٹا دیا جائے۔
عشقِ پیچاں کا پتّااب بھی موجودتھا۔
جانسی کافی دیر تک اِسے دیکھتی رہی اور پھر اس نے سُو کو اپنے پاس بُلایا، جو اس کے لیے چکن سُوپ تیار کر رہی تھی۔
’’سُو!میں بہت بُری لڑکی ہوں۔‘‘ جانسی نے کہا، ’’کسی طاقت نے اِس آخری پتیّ کو وہیں روک رکھا ہے تاکہ مجھے یہ پتا چل جائے کہ میں نے بہت بُرا سوچا تھا۔ مرنے کی خواہش کرنا تو گناہ ہے۔ اب تم ایسا کرو کہ میرے اِردگرد چند تکیے لگا دو۔ میں بیٹھ کر تمھیں سُوپ بناتے ہوئے دیکھوں گی۔‘‘
سُوپ پینے کے بعد جانسی نے کہا، ’’سُو! میں کسی دن خلیج نیپلز کی تصویر بنائوں گی۔‘‘
دوپہر کے وقت ڈاکٹر آیا، تو سُو ساتھ ساتھ برآمدے تک اُسے چھوڑنے آئی۔
’’برابر برابر معاملہ ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے سُو کا پتلا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر جُھُلاتے ہوئے کہا، ’’ اگرتم اس کا دھیان رکھو گی تو جیت جائو گی۔ اب میں نیچے ایک اور مریض کو دیکھنے جا رہا ہوں۔ باحرمن ہے اس کا نام، اور وہ مصور ہے۔ اُس بے چارے کو بھی نمونیا ہوگیا ہے۔ وہ بوڑھا اور کمزور آدمی ہے اور نمونیا کا حملہ بھی شدید ہے۔ اُس کے بچنے کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی، لیکن میں آج اسے ہسپتال لے جا رہا ہوں تاکہ اُسے زیادہ آرام مل سکے۔‘‘

اگلے دن ڈاکٹر نے سُو کو بتایا، ’’ تمھاری سہیلی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ تم جیت گئی ہو۔ اب ذرا اچھی خوراک اور احتیاط کی ضرورت ہے۔ بس۔‘‘
اُس دن سہ پہر کے وقت سُو، جانسی کے قریب آئی۔ وہ اطمینان سے بستر پر لیٹی ہوئی نیلے رنگ کا فضول سا گلوبند بُن رہی تھی ۔ سُو نے اُسے اور اُس کے آس پاس رکھے ہوئے تکیوں کو اپنی بانہوں میں جکڑلیا۔ ’’باحرمن صاحب، آج ہسپتال میں نمونیا کے باعث فوت ہوگئے ہیں۔ وہ صرف دو دن بیمار رہے۔ چوکیدار نے انھیں پرسوں صبح اپنے کمرے میں تکلیف سے نڈھال پایا تھا۔ اُن کے جوتے اور کپڑے بُری طرح بھیگے ہوئے تھے اور یخ بستہ تھے۔

لوگ حیران تھے کہ باحرمن اتنی مہیب رات میں کہاں گئے تھے اور پھر لوگوں کو کمرے میں ایک لالٹین نظر آئی، جو جَل رہی تھی اور ایک سیڑھی جو گھسیٹ کر کہیں لے جائی گئی تھی اور کچھ بُرش جو اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے تھے اور ایک تختہ جس پر سبز اور زرد رنگ ملائے گئے تھے اور… میری پیاری سہیلی! ذرا کھڑکی سے باہر دیوار پر عشقِ پیچاں کے آخری پتیّ پر نظر ڈالو۔ کیا تم اِس بات پر حیران نہیں ہوئی تھیں کہ یہ پتا ہوا کے چلنے سے کیوں نہیں ہلتا…؟ کیوں نہیں پھڑپھڑاتا…؟ اری میری جان! یہ باحرمن کا شاہکار ہے ۔جس رات آخری پتّاگرا، اُسی رات انھوں نے پتیّ کی یہ تصویر وہاں بنا دی تھی۔‘‘