function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

ایک پاکستانی ماں انگلستان میں

راشدہ علوی | آپ بیتی

حوصلے بلند تھے۔ باغ کی شکل و صورت نکھر رہی تھی۔ کمروں میں صوفوں اور کرسیوں پر شیشوں والی گدیاں سجائیں۔ یہاں وہاں گلدان رکھ کر ان میں پھول پتے اٹکائے۔ یوں مکان گھر میں تبدیل ہو رہا تھا۔ اب سجاوٹ کے نئے نئے خیالات جنم لینے لگے۔

ایک دن سیل سے بلور کا فانوس خرید لائی۔ فانوس لگانے کے لیے مقامی اخبار سے چھانٹ کر ایک الیکٹریشن کو فون کیا۔ اس نے دس دن بعد کی تاریخ دی۔ انتظار کے علاوہ کچھ نہ کر سکتے تھے۔ ہمیں پتا چل چکا تھا کہ یہاں لوگ آج اور کل کے سہارے نہیں جیتے، بات ہفتے دو ہفتے کی ہوتی ہے۔ ڈائری اگلے سال تک کی بھری ہو گی چاہے ماں کے ساتھ کھانا یا بھائی کے ساتھ بازار کا چکر لگانا ہی ہو۔ الیکٹریشن تو ویسے بھی مصروف لوگ تھے، وہ کل کی بات کیسے کر سکتے تھے؟

حسب وعدہ الیکٹریشن صاحب تشریف لائے۔ ڈبا کھول کر فانوس نکالا، تو معلوم ہوا وہ ٹوٹا پڑا ہے۔ صدمے سے جان نکل گئی۔ بندہ دمڑی دمڑی جوڑ رہا تھا اور رام کُپے لنڈھانے پر کمربستہ تھے۔ الیکٹریشن بولا: ’’جا کر بدلوا لیجیے۔‘‘ بات کچھ سمجھ میں نہ آئی۔ اب اُس نے مکمل جملہ بولا: ’’فانوس دکان پر واپس لے جائیے اور ان سے کہیں یہ ٹوٹا ہوا ہے، اسے بدل دیں۔‘‘ منہ سے تو کچھ نہ نکلا‘ لیکن دل میں ضرور آئی کہ لو اور سن لو، کہیں ٹوٹا ہوا مال بھی کسی نے واپس لیا ہے؟ دکاندار چیز بیچ چکا، پیسے وصول کر لیے، اب اس کی ذمے داری ختم، اب یہ چیزہماری تھی۔ ہم توڑیں یا سنبھال کررکھیں ہماری مرضی یا ہمارے نصیب‘ اس کا کیا تعلق؟ پھر بھی اوپرے دل سے پوچھا ’’وہ واپس کر لے گا؟‘‘

اس نے بڑے زعم سے کہا ’’وہ یقینا بدلے گا،آپ لے کر تو جائیں۔‘‘ پرانے تجربات کی روشنی میں ادھر اب بھی تردّد تھا۔ اگر اس نے کہہ دیا ’’بی بی اس وقت آنکھیں کھول کر لینا تھا، ہمیں کیاپتا خود ہی پھینک پھانک کر توڑ ڈالا ہو۔ ہم کیوں واپس لیں۔‘‘ تو بڑی ناموسی ہو گی۔ الیکٹریشن اب بھی بضد تھا۔ بولا ’’فانوس بدل کر مجھے فون کر دیں، میں آ کر لگا دوں گا۔‘‘ وہ چلا گیا، تو کاپنتے ہاتھوں سے دکاندار کو فون کیا۔ اُس نے جھٹ سے کہہ دیا۔ ’’ہاں بدل دیں گے۔‘‘ پھر بھی یقین نہ آیا۔ لیکن حالت تذبذب میں بوجھل دل سے بھاری ڈبا اٹھا گھر سے نکلی۔ خیال یہی تھا کہ وقت ضائع کر رہی ہوں۔کبھی ٹوٹی ہوئی چیز واپس ہوئی ہے؟ کس طرح یقین دلائوں گی کہ فانوس میں نے نہیں توڑا۔
راستے بھر فانوس کے پہلے سے ٹوٹا ہونے کے ثبوت ڈھونڈتی اور اپنی معصومیت کے افسانے گھڑتی رہی۔ کبھی ذہن میں تاریخ کے وہ درخشندہ قاضی آ جاتے جو شکل دیکھتے ہی پہچان لیا کرتے تھے کہ آدمی بے گناہ ہے۔ تمنا ہوئی کاش یہ دکاندار ویسا ہی صاحب بصیرت نکلے۔

کبھی اپنے رزق حلال کے زیاں پر دل کڑھتا۔ غرض بے قصور ہونے کے باوجود سارا راستہ احساس جرم طاری رہا۔ دکان میں داخل ہوئی‘ تو دل حلق میں اٹکا ہوا تھا۔ سامنے ہی ایک سیلز مین کھڑا تھا، دیکھتے ہی بولا ’’مسز علوی؟‘‘ ’’ہاں‘‘ کہتے ہی اس نے ڈبا میرے ہاتھ سے لیا اور پوچھا ’’دوسرا فانوس چاہیے یا پیسے واپس لیںگی؟‘‘ حق تو یہ تھا کہ سوال سن کر میں تعجب اور حیرانی سے بے ہوش ہو جاتی… انہونی ہو رہی تھی۔ لیکن خود کو سنبھالا، حلق تر کیا اور دوسرا فانوس مانگا۔ وہ ہنس کر بولا ’’اس دفعہ ٹھوک بجا کر سو فیصدی ثابت فانوس دوں گا۔ پہلی دفعہ ٹوٹا ہوا دینے پر معافی چاہتا ہوں۔ آپ کو دوبارہ آنے کی زحمت ہوئی، اس کے لیے شرمندہ ہوں۔‘‘
اب بتائیے کوئی بولے‘ تو کیا بولے! تجربات کی بھٹی انگلستان میں بچوں کواسکول لے جانا اورواپس لانا کار مسلسل ہے۔ اور کسی ماں کو اس مشقت سے مفر نہیں۔ یہ سفر آپ کو بزور گھر سے باہر نکالنے کا ذریعہ ہے۔ آمدورفت کی یہ ورزش تجربوں کی بھٹی ہے جو آپ کو کندن بنانے کے لیے دہکتی ہے۔ اب آپ کی قسمت کہ سونا بن کر نکلتے ہیں یا راکھ کا ڈھیر۔

بچوں کو چھوڑتے ہوئے کار سے اترے بغیر بھی کام چل جاتا‘ لیکن واپسی پر اکثر و بیشتر اسکول کے سامنے کھڑے ہو کر چھٹی ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ وقت دوسری مائوں سے میل جول بڑھانے اور گپ شپ کا ہوتا ہے۔ اس دن بھی یہی ہوا۔ جونہی میں اسکول پہنچی، ایک کے بعد دوسری ماں نے پوچھا، مسز علوی ہو نا؟ اقرار پر بتایا کہ ڈاکیا تمھیں پوچھ رہا تھا۔ چھٹی ہوتے ہی بچوں کی استانی باہر نکلی اور بولی ’’مسز علوی آپ کا کوئی خط آیا ہے۔ جا کر ڈاک خانے سے لے لیجیے۔‘‘

یا اللہ خیر، یہ کیسا خط آیا ہے کہ پورے شہر میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اگلے روز بچوں کو اسکول چھوڑتے ہی ڈاک خانے پہنچی۔ وہاں کافی ہجوم تھا۔ اپنی باری پر کائونٹر پر کھڑے آدمی کواپنا نام ہی بتا پائی تھی کہ وہ بولا ’’ایک منٹ مسز علوی‘‘ اور غائب ہو گیا۔ پھر اندر سے ایک لفافہ لا میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا ’’مسز علوی پہلے تو میں پوسٹ آفس کی طرف سے معافی کا طلب گار ہوں کہ خط پہنچانے میں تین دن کی تاخیر ہوئی۔ امید ہے اس وجہ سے آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہو گا۔ آپ کے خط پر پتا مکمل نہیں تھا اور غالباً آپ اس علاقے میں نئی ہیں اور زیادہ لوگ آپ کو جانتے بھی نہیں۔ ہمیںکئی اسکولوں میں جا کر پتا کرنا پڑا کہ علوی نام کا کوئی بچہ وہاں پڑھتا ہے، اسی باعث اسکول میں آپ کے لیے پیغام چھوڑا۔ یہ لیجیے اپنا خط۔‘‘

سرسری نگاہ ڈالتے ہی مجھے پتا چل گیا کہ میری دوست گھر کا نمبر لکھنا بھول گئی ہیں۔ خط ہاتھ میں لیے چپ چاپ اس کی باتیں سنتی رہی۔ بڑی مشکل سے شکریے کے الفاظ منہ سے نکلے۔ اس بے چارے کو کیا پتا کہ ہم لوگ ایسے سلوک کے ہرگزعادی نہیں۔ ہمیں تو ڈانٹ پلا کر بھی خط دیا جاتا، تو اُف نہ کرتے۔ ہمارے حساب سے اوّل تو اس خط کو منزل تک پہنچنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ بلکہ اس کی اطلاع بھی نہ ملتی۔ بس دوست شکوہ کرتی کہ خط لکھا تھا، جواب نہیں دیا۔ میں شک کرتی کہ جانے لکھا بھی تھا یا نہیں اور بات ختم ہو جاتی۔

اگر کہیں ڈاکیا خط لے ہی آتا، تو پہلے ایک ڈانٹ پلاتا کہ آپ کے دوست عجیب گھامڑ لوگ ہیں، پتا بھی ڈھنگ سے نہیں لکھ سکتے۔ ساتھ طعنے الگ سننے پڑتے کہ آپ کے خط کی وجہ سے تین دن ضائع ہو گئے۔ ہمیں صرف ایک ہی خط تو نہیں پہنچانا ہوتا اور بھی کام ہوتے ہیں۔ طعنوں کے بعد یہ توقع ہوتی کہ یہ احسان کم از کم ہماری سات پشتیں مانیں۔ چونکہ وہ ممکن نہیں اس لیے انھیں انعام و کرام سے نوازا اور اپنی جائداد کا حصے دار بنایا جائے۔ آخر وہ اپنا فرض پورا کر رہے ہیں۔ عجیب تماشا ہے، یہاں گنگا الٹی بہ رہی ہے!

ہوا کا خوشگوار جھونکا

میں بچوں کو اسکول سے لینے بس میں جاتی۔ اس دن جہاں مجھے جگہ ملی، وہاں نشست پر ایک دبلی پتلی سفید بالوں والی میم بیٹھی تھی۔ میرے بیٹھتے ہی اس نے پوچھا ’’اس علاقے میں نئی ہو؟‘‘ میرے اقرار پر اس نے بتایا، وہ کئی دنوں سے مجھے دیکھ رہی ہے، لیکن بات کرنے کا موقع نہیں ملا۔ پھر وطن کا پوچھا، اس نے پاکستان کا نام بھی نہ سنا تھا۔ ’’کتنا عرصہ ہوا انگلینڈآئے؟ انگریزی کہاں سیکھی؟‘‘ مختصر یہ کہ سوال پہ سوال کرتی چلی گئی یہاں تک کہ میرا اسٹاپ آ گیا۔ اس کے بعد اکثر ملاقات ہونے لگی۔ آخر میں نے اسے گھرآنے کی دعوت دی۔ وہ آ تو گئی لیکن آتے ہی سب سے پہلے پوچھا ’’اتنی جلدی کسی پر اعتبار کیسے کر لیتی ہو کہ گھر آنے کی دعوت دے ڈالی۔ انگریز تو کبھی اتنی سرسری ملاقاتوں پر دعوت نہ دے۔‘‘

فرانسس ساٹھ سے اوپر کی چست و توانا خاتون تھی۔ کسی فیکٹری میں جزوقتی کام کرتی۔ اس کا گھر بچوں کے اسکول کے قریب تھا جہاںوہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ بچاری بے اولاد تھی۔ فرانسس میں انگریزوں والی کوئی بات نہ تھی۔ پہلے تو یہی کہ بڑی باتونی تھی، سوال کرنے کی شوقین، دوسروں کے معمولات میں دخل اندازی کی حد تک دلچسپی لینے والی۔ سچی بات ہے،مجھے اس کی یہی عادتیں اچھی لگیں ورنہ گھر کے دونوں جانب ’’خالص‘‘ انگریز ہمسائے رہ رہے تھے۔

ایک نے تو پہلے دن ہی ہیلو کے جواب میں دھمکی دے دی ’’اگر ہماری سامان لانے والی وین ان کے کسی پتھر سے چھوئی تووہ ہم پر مقدمہ دائر کر دیں گے۔‘‘ ان کا باغیچہ ہمارے باغیچے سے چھے انچ اونچا تھا۔ اس اونچائی کو پتھروں نے سہارا دے رکھا تھاجنھیں بچانے کے لیے وہ دھمکیوں پر اتر آیا۔  دوسری جانب اتنی خشکی تو نہ تھی لیکن اس نے بھی صاف لفظوں میں بتا دیا ’’آج تک میں نے نہ کوئی غیر ملکی دیکھا ہے نہ ان سے پالا پڑا۔ اس لیے مجھے کچھ پتا نہیں کہ میرے ساتھ کیا سلوک کرے۔‘‘

اُن کے مقابلے میں فرانسس کی ذات ہوا کا خوشگوار جھونکا تھا، بے تکلف ہونے میں ذرا وقت نہ لگا۔ وہ ہر طرح کا سوال کرتی… ذاتی، سیاسی، سماجی، کھانے پینے، رہن سہن اور لباس، پاک و ہند کی تاریخ اور مذہب پر۔ پھر باہمی اختلافات پر خوب حیران ہوتی۔ اس نے پہلی بار جب ہمارے گھر سے فون کیا اور پیسے دینے کی کوشش کی، تو میں نے لینے سے انکار کر دیا۔ وہ حیران ہو کر اس دریا دلی پر مرعوب ہو گئی۔  دس پینی کے اس تحفے پر اس نے مجھے امیر الامرا کا خطاب دیا۔ پہلی بار چائے کے ساتھ کیک پیش کیا، تو کچھ ہچکچائی پھر بولی ’’میں اس طرح کی خاطر تواضع ’’افورڈ‘‘ نہیں کر سکتی، اس لیے کیک نہیں کھائوں گی۔‘‘ میں نے ہنس کر یقین دلایا کہ میں بدلے میں ایسی چائے نہیںمانگوں گی۔ پھر وہی حیرانی… اتنا بڑا دل؟

کچھ باتوں پر حیرانی جائز تھی۔ برصغیر کے متعلق اس کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ بس یہ علم تھا کہ انگریزوں کی وہاں کافی عرصہ حکومت رہی۔ اپنا مادروطن بتانے کے لیے اسے کچھ تاریخ بتانی پڑی۔جب اسے پاک و ہند کے رقیبانہ تعلقات کا یقین ہو گیا‘ تو اس نے بڑی راز داری سے پوچھا ’’کیا بھارت میں سچ مچ راجے، مہاراجے ہوتے ہیں؟ اور ان کے محل سچ مچ انگریزی محلوں جتنے بڑے ہیں؟‘‘ میری ہاں کے باوجود اس کی حیرانی میں یقین کی کمی رہی۔

اس کی معلومات کا منبع فیکٹری میں کام کرنے والی گجراتی عورتیں تھیں۔ مزدور طبقے کی معمولی پڑھی لکھی عورتوں پر وہ ہرگز اعتبار کرنے کو تیار نہ تھی۔ ان پر باقی اعتراضات کے ساتھ اسے یہ شکایت بھی تھی کہ وہ سردیوں میں ململ کی ساڑھیوں کے ساتھ چپل پہن کر کام پر آتی اور تنخواہ ملنے پر گرم کپڑے خریدنے کے بجائے سونے کی چوڑیاں لینے دوڑتی ہیں۔ اس کے نزدیک انگریز صرف نیک دل اور انصاف پسند تھے۔ بہادر شاہ ظفر کے سامنے بیٹوں کے سر رکھنے کا سن کر اسے سکتہ ہو گیا۔ یقین ہی نہ آئے کہ انگریز ایسی ظالمانہ حرکت کر سکتا ہے۔ مدتوں لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پھرولتی رہی کہ شاید یہ ثبوت مل جائے‘ کرنل ڈائر کے خون میں غیر کے خون کی شمولیت تھی۔ عہد رفتہ کی عظمتیں زندہ قومیں سینوں سے لگا کر رکھتی ہیں لیکن کمزوریوں کو قبولنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔

عیسائیوں کا عجب فرقہ

ایک دن ایک خاتون ہاتھ میں بائبل لیے دروازے پر آن کھڑی ہوئی۔ اس نے بتایا کہ وہ عیسائیوں کے ’’شہود یہودہ‘‘ (Jehovah`s Witnesses) نامی فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ نام میں نے پہلی بار سنا تھا۔ تجسس جاگ اٹھا۔ ویسے بھی خاموشی و زباں بندی سے بیزار اور تنہائی سے عاجز آئی ہوئی تھی۔ بات چیت کا سنہرا موقع خود سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کو ضائع نہیں کر سکتی تھی، فوراً اندر آنے کی دعوت دی۔  چائے پیش کی، پھر پوچھا، اب بتائو یہ گواہان کون تھے اور کس بات کی گواہی دیتے تھے؟ خاتون کھل اٹھی۔ اس نے میرے اخلاق کی تعریف کی ورنہ بقول اس کے کئی لوگ تو اس کی شکل دیکھتے ہی دروازہ بند کر دیتے ہیں۔یہاں نہ صرف دروازہ کھلا بلکہ چائے بھی پیش کی گئی۔ ایک گھنٹے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اگلے ہفتے آنے کی اجازت چاہی، جو اسے مل گئی۔ اب میری یہ ملاقاتی ہر ہفتے پابندی سے آتی۔ میری چائے پیتی‘ میرے سموسے کھا کر اپنے عقیدے کی تبلیغ کرتی اور جاتے ہوئے کچھ کتابیں اور رسالے پڑھنے کو دے جاتی۔

یہ مذہب عیسائیت اور یہودیت کے بین بین ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کو نہ خدا، نہ اس کا بیٹا مانتے ہیں۔ جنت اور دوزخ، دونوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق اگر ہر شخص حضرت عیسیٰؑ پر ایمان لے آئے، تو یہی دنیا جنت بن جائے گی۔ حضرت عیسیٰؑ کی واپسی کا انتظار بھی کرتے ہیں۔ جرمنی میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے ساتھ شہودہ یہوہ کے کئی پیروکار بھی مارے گئے تھے۔ پاکستان میں گھرگھر گھوم کر تبلیغ کرنے والے لوگ بھی اکثر یہی ہوتے ہیں۔ ’’اے ٹو زیڈ‘‘ ایک دن بچوں کو اسکول سے لیا۔ راستے میں ڈبل روٹی خریدی۔ پھر یاد آیا ڈاک کے کچھ لفافے لیتی چلوں، کئی خط لکھنے تھے۔ اسٹیشنری کی دکان والی گلی میں تھی، وہاں سے ساڑھیوں کی دکان پر نظر پڑ گئی۔ اُدھر سے نکلتے ہوئے بچوں کو آئس کریم کی فرمائش کر دی۔ حافظے پر تکیہ کرتے ہوئے واپسی کی ٹھانی‘ تو پتا چلا راستہ بھول چکی۔ کبھی اس گلی میں کبھی اس میں، کوئی چیز پہچان ہی میں نہ آئے۔ سب گلیاں ایک جیسی سب گھر یکساں، پہچانیں تو کیسے؟ چلتے ہوئے کسی گلی کا نام بھی نہیں پڑھا تھا۔ خوب چکرکھا کھا کر گھر پہنچے۔

میاں کو ہماری مشقت کا جوں ہی علم ہوا‘ انھوں نے ڈھائی تین سو صفحات کی موٹی سی کتاب ’’لندن اے ٹو۔زیڈ‘‘ ہاتھ میں تھما دی اور ہدایت کی کہ اس کے بغیر کبھی گھر سے مت نکلنا۔ پیدل جائو یا ریل سے، بس سے جائو یا ٹیکسی سے، کتاب ساتھ رہے۔ کتاب دیکھ کر سخت وحشت ہوئی۔ نقشوں کے بعد نقشے، لکیروں پر لکیریں، الٹے سیدھے حروف۔ لیکن ایک دفعہ جب سمجھ کر دیکھنا شروع کیا تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ کیا غضب کی کتاب تھی۔
کفر کا فتویٰ لگنے کا ڈر نہ ہو‘ تو اسے حضرت خضرؑ کا نعم البدل کہا جا سکتا ہے۔ سیدھی راہ یہ دکھائے، گم ہونے سے بچائے، بھٹکائے بغیر منزل پر پہنچائے۔ روایت کے مطابق یہی کام حضرت خضرؑ کرتے ہیں۔ ہم نے اسے سینے سے لگا لیا۔ کچھ دن بعد تو یوں لگا جیسے اس کے بغیر زندگی لولی لنگڑی تھی۔ یہ کتاب تھی کہ سہارے کی لاٹھی‘ اب کہیں آنے جانے کے لیے کسی سے راستہ پوچھنے کی ضرورت نہ رہی۔

اپنے وطن کی بات دوسری تھی۔ وہاںلولی لنگڑی، بے سہارا زندگی آسانی سے گزر جاتی ہے۔ لاٹھیوں اور سہاروں کی کمی بھی نہیں ہوتی۔ کوئی نہ کوئی بوڑھی خالہ، ریٹائرڈ ماموں یا بے کار عم زاد آس پاس منڈلایا ہی کرتے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد لوگوں کو یہاں سے وہاں جانے کا راستہ بتانا ہوتا۔ بلکہ وہ آپ کو گاڑی میں بنفس نفیس لا اور لے جا سکتے تھے۔ یہ عیاشی تھی اپنے وطن کی!  دو دفعہ راستہ پوچھ کر خود جانے کی جرأت کی تھی، نتیجے میں خواری کے سوا کچھ نہ ملا۔ کراچی میں لمبا قیام تھا۔ ایک دوست نے چائے پر مدعوکر لیا۔ جانے کے لیے ان کے گھر کا پتا پوچھا۔ جواب آیا، خیام سینما کے سامنے ہے۔ خیام سینما کا پتا پوچھنے پر بتایا کہ بلوبینڈبیکری کے سامنے ہے۔ ہم اس سے بھی لاعلم تھے۔ جرأت کر کے پوچھ ہی لیا، یہ دونوں کہاں ہیں؟ ادھر سے آواز میں گرمی آ گئی۔ جواب ملا ’’نرسری میں اور کہاں۔‘‘

ہم اور بوکھلا گئے اور بے اختیار پوچھ بیٹھے ’’کون سی نرسری؟‘‘  یہ کم علمی کی انتہا تھی۔ ’’آپ کراچی میں ہوں اور آپ کو نرسری کا پتا نہ ہو؟‘‘ پارہ درجہ ابال سے اوپر چلا گیا۔ بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا۔ دوسری مرتبہ زیب النسا اسٹریٹ پر کھڑے ہو کر بند روڈ کا پوچھ لیا، بس جناب غضب ہو گیا۔ وہ صاحب تو گلے کا ہار ہو گئے۔ کہاں رہتی ہیں، کیوں رہتی ہیں، کب سے رہتی ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ابھی تک بند روڈ کا پتا نہیں؟ تین پشتوں کی تاریخ بتانے کے بعد گلوخلاصی ہوئی۔ اس کے بعد توبہ کر لی اور سہاروں کا سہارا لینے لگے۔ لیکن اب ہم سہاروں اور لاٹھیوں سے آزاد تھے۔ ’’لندن اے ٹو زیڈ‘‘ ہاتھ میں تھی اور لندن مٹھی میں۔ ایک دعوت نامے کو بڑے زعم اورحوصلے سے قبول کیا۔ ہم لندن کے شمال میں تھے اور منزل مقصود کرائڈن جنوب میں۔ اب یہ کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔

اللہ کا نام لے کر کتاب کھولی، راستہ دیکھا، موڑوں پر نشان لگائے اور موٹر میں جا بیٹھے۔ لیکن قسمت یا تربیت کی کمی کہ تیسرے ہی موڑ پر دائیں یا بائیں لکھنا بھول گئے۔ ابھی ہم میاں بیوی کی بحث میں گرمی نہ آئی تھی کہ پیچھے سے آتی گاڑیوں نے ہارن بجانے شروع کر دیے اور میاں نے جلدی سے گاڑی موڑ دی۔ جب تک اے ٹو زیڈ کھول کر گم شدہ موڑ دیکھتے، کار کسی نامعلوم منزل کی طرف میلوں آگے نکل چکی تھی۔  دو چار چکر کاٹنے اور موڑ توڑ کے بعد ہم مغرب و مشرق کی سمتیں کھو بے راہ رو ہو گئے۔ بحث البتہ گرم ہو کر دہکنے لگی۔ جتنے القاب ایک دوسرے کو دیے جا سکتے تھے، دیے گئے۔ قصور وار ٹھہرانے میں بھی کنجوسی نہ برتی گئی، لیکن منزل گم گشتہ ہاتھ نہیں آئی۔ کئی لوگوں سے راستہ پوچھا۔ کسی نے دائیں گھما دیا کسی نے بائیں! گلی گلی، کوچہ کوچہ ڈھائی گھنٹے گھومنے کے بعد معجزانہ طور پر ہم مطلوبہ گلی میں تھے۔

اب گھر کا نمبر دیکھنے کی کوشش ہوئی۔ معلوم ہوا، کاغذ کا وہ پرزہ جس پر پتا لکھا تھا، گھر ہی رہ گیا۔ حلق خشک اور منہ بند تھا، سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ سر پیٹنے کی ہمت بھوک نے ختم کر دی تھی۔ بے ہوش ہونے کی ادا سے ہم عاری تھے، بچے تھک کر سو چکے تھے۔ کار میں مکمل خاموشی تھی۔ بات چیت کی طاقت تھی نہ ضرورت۔ الزامات کی فہرست پہلے ہی کئی بار دھرائی جا چکی تھی۔میاں بولے ’’سامنے فون بوتھ ہے۔‘‘ سمجھ میں آیا، نہ سمجھنے کی کوشش کی کہ فون بوتھ کا کیا کریں گے۔ گھر کا نمبر اور فون‘ دونوں اسی پرزے پر تھے جو گھر رہ گیا۔ منہ نہ کھولنا ہی مناسب لگا۔ کار سے اتر کر فون بوتھ تک گئے اور مسکراتے ہوئے واپس آئے اور کہا ’’مل گیا۔‘‘ میری حیرانی پر بتایا، فون بوتھ کی ڈائریکٹری میں گھر کے پتے اور فون نمبر، دونوں ہوتے ہیں۔ بوتھ کے بالکل سامنے والا گھر ان کا تھا۔ انگریز کے لیے دل سے ڈھیر ساری پرخلوص دعائیں نکلیں۔

ریل کا زیرزمین سفر

لندن میں ایک طریقہِ سفر زمین کے نیچے بھی ہے، بڑا آسان اور مقبول! کئی قسم کے سر درد سے نجات کا ذریعہ ہے۔ راستہ بھولنے اور گم ہونے کے امکانات گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہو جاتے ہیں۔ اے ٹو زیڈ کا بوجھ کندھے سے اتر جاتا ہے۔ زیر زمین یا انڈر گرائونڈ ریل کا نقشہ چھوٹے سے کاغذ کے ٹکڑے پر ہوتا ہے جو تہ کر کے جیب میں رکھ لیجیے۔ لمبا ترین سفر کم وقت میں طے ہوتا ہے۔ کار کھڑی کرنے کے مسئلے سے واسطہ نہیں پڑتا۔

زن و شوہر کے تعلقات میں کشیدگی نہیں آتی، بلکہ محبت سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھتے ہیں۔ اخبار رسالے پڑھنے کا سنہرا موقع ہاتھ آتا ہے۔ امیر و غریب اس کے استعمال پر آمادہ ہیں۔ جیب پر بوجھ قابل برداشت ہے اور کیا چاہیے آپ کو؟ دس لاکھ افراد روزانہ زیرزمین ریلوے اور ٹیوب سے لندن کے ایک سے دوسرے سرے جاتے ہیں۔ صبح کام پر جانے والوں اور طلبہ کا رش ہوتا ہے۔ دس بجے کے بعد بزرگ و بوڑھے سج دھج کر نکلتے ہیں۔ دوپہر تک اس میں خریدوفروخت کے لیے آنے جانے والی خواتین شامل ہو جاتی ہیں۔ تین بجے اسکول کے بچوں کی واپسی شروع ہوتی ہے۔ پھر دفتروں سے واپس آنے والوں کا تانتا بندھتا ہے۔ شام کو سینما تھیٹر اور کھیل تماشوں کے شوقین اس کا سہارا لیتے ہیں۔

ریل صرف آدھی رات سے صبح پانچ بجے تک بند ہوتی ہے۔ پتا نہیں یہ لندن کے ساتھ سوتی ہے یا شہر اس کے ساتھ سوتا ہے۔ لندن کے دن رات ٹیوب و ٹرین کی معیت میں گزرتے ہیں۔ جب پیٹ کے بل رینگتی گاڑی پلیٹ فارم میں داخل ہو، تو لگتا ہے جیسے ہانپتا کانپتا، پھنکارتا، چنگھاڑتا اژدہا چلا آ رہا ہے۔ ایک لمبا سانس پھونکا اور سیکڑوں انسان نکال باہر کیے۔ سانس اندر کھینچا اور پلیٹ فارم خالی ہو گیا۔ ہر تین منٹ بعد یہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ دن بھر اسٹیشن بھرتے اور خالی ہوتے رہتے ہیں۔

پاکستانیوں کی انگلستانی بستیاں

شوہر نامدار کو بسلسلہ کام انگلینڈ کے شمالی علاقوں میں جانا تھا جن میں گلاسکو، بریڈفورڈ اور مانچسٹر شامل ہیں۔ بچوں کی چھٹیاں تھیں، موقع غنیمت جان کر ہم بھی ساتھ ہو لیے۔ ایک تو ان علاقوں کو دیکھنے کا شوق تھا، دوسرے وہاں بے شمار پاکستانی آباد ہیں۔ کچھ سے ہماری پرانی صاحب سلامت تھی۔ ان سے ملاقات کا اچھا موقع تھا۔ گلاسکو لندن سے کہیں زیادہ ٹھنڈا لگا۔ اوپر سے جھیلیں اور بارش سردی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی تھیں۔ ساری ہریالی بارش میں شرابور تھی۔ اس ڈبڈباتے موسم نے سیرو تفریح کی خواہشات کو گیلے کپڑے کی طرح نچوڑ کر رکھ دیا۔ کھڑکی سے جھانک کر نظارے لینے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا، شہر پورے جوش و خروش سے اِدھر اُدھر بھاگ رہا ہے۔ مجال ہے کسی کو ٹھنڈ نے پژمردہ کیا یا بارش نے پچھاڑا ہو۔

ابرباراں اور یخ بستہ ہوائوں سے بے نیاز شہری اپنے روزمرہ کاموںکی تکمیل میں مگن دوڑ رہے تھے۔ ہم اپنے آپ پر تف تف کرتے، اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے، پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے کا نعرہ مار کر کھڑے ہوگئے۔ جھیلیں اور پارک نہ سہی آرٹ گیلریز اور میوزیم بھی تو منتظر نگاہ ہیں۔ ان کی سدا بہار میزبانی کا مزہ بھی چکھنا چاہیے۔ گلاسکو دریائے کلائیڈ کے کنارے آباد ہے۔ دو ہزار سال پہلے یہاں مچھیروں کی بستیوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ ۵۴۳ء میں پہلا چرچ بنا۔ اس کے بعد بڑھتے بڑھتے یہ اسکاٹ لینڈ کا سب سے بڑا اور انگلینڈ کا اہم ترین شہر بن بیٹھا۔ علم و ادب کا گہوارہ ہے اور یہاں کئی آرٹ گیلریاں اور عجائب گھر ہیں۔ پاکستانیوں میں اس کی وجہ مقبولیت بے شمار کارخانوں اور فیکٹریوں کی موجودگی ہے۔ ان سے ہزاروں پاکستانیوں کا روزگار وابستہ ہے۔ دوسری چیزوں کے علاوہ سکاچ وسکی کی پیداوار کے لیے یہ علاقہ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ وسکی نہ سہی اس کے دو چار شکار آپ کو بغیر کسی تگ و دو کے کہیں نہ کہیں کسی دیوار سے لگے، کسی پیادہ راہ پر پڑے نشے میں غرق نظر آ جائیں گے۔

شہر خوبصورت اور قابل دید عمارتوں سے اٹا پڑا ہے۔ حسب معمول ہمارے پاس وقت کی کمی تھی۔ کیتھیڈرل اور قلعہ کار میں بیٹھے بیٹھے دیکھا۔ گلیوں اور سڑکوں کے چکر لگائے۔ میلر اسٹریٹ کی ایک عمارت بڑی مزے کی لگی۔ پہلے یہ تمباکو کے ایک سوداگر کا گھر تھا۔ پھر رائل ایکس چینج کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ اب وہاں ایک ماڈرن آرٹ گیلری ہے۔ بدلتا ہے رنگ مکاں کیسے کیسے! گلاسکو کی نیشنل آرٹ گیلری اور میوزیم کی عمارت عظیم الشان ہے۔ سرسبز و شاداب وسیع میدان کے بیچ استادہ ہے۔ ایک دن میں اسے دیکھنا محال ہے۔ دوسری قسط کا ارمان لیے واپس آئے۔ شام کو لوگوں سے ملاقات کے پروگرام تھے۔

پاکستانی گھروں میں بڑی محبت اور گرمجوشی سے استقبال ہوا۔ چائے پر تواضع کے لیے کیک پیسٹریوں کے ساتھ مرغ مسلم اور گوشت کا پلائو بھی پیش کیا گیا تھا۔ جو ہمارے نصیب کا تھا، چکھا۔ چائے پیتے ہوئے ہاتھ تاپنے کے لیے ہیٹر کی طرف بڑھائے ہی تھے کہ خاتون خانہ نے پوچھا، آپ کو سردی لگ رہی ہے؟ ہاں سنتے ہی انھوں نے ایک طویل لیکچر شروع کر دیا۔ لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کی ترقی نہ کرنے کی وجہ وہاں کے لوگوں کا سردی برداشت نہیں کرنا ہے۔ بڑے زعم سے انھوں نے کہا کہ آپ خود دیکھ لیں، سرد ممالک دولت دنیا سے مالا مال ہیں۔ سڑکیں کھلی اور پیادہ راہوں سے مزین ہیں۔ بجلی پانی کی فراوانی ہے۔ فریج فریزر، واشنگ مشینوں اور ٹیلی ویژنوں سے گھر اٹے پڑے ہیں۔ لوگ ایماندار ہیں۔ دکاندار کم تولتے نہ جھوٹے بولتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب اسی وجہ سے کہ یہ لوگ ٹھنڈے ملک میں رہتے اور خوشی خوشی ٹھنڈ برداشت کرتے ہیں۔

ادھر ہم ہیں کہ ہر وقت ہمیں ٹھنڈ لگا کرتی ہے۔ بہانے بہانے سے آگ کے قریب گھس کر بیٹھتے ہیں۔ دیکھ لیں پھر ہم کہاں ہیں۔ بڑے فلسفیانہ خیالات تھے ان کے اور بڑے اچھوتے، شایدان میں کچھ حقیقت ہو۔ غوروفکر کی ضرورت تھی۔ اس اثنا میں ہم آتش دان سے جتنا دور ہو سکتے تھے، سرک لیے۔ آگ تاپنے کی خواہش سلب کر ہاتھ رانوں کے نیچے دبا لیے تا کہ کپکپاہٹ پر پردہ پڑ جائے۔  لیکچر ڈنڈوں کی طرح تابڑ توڑ سر پر برس رہا تھا۔ منہ بند اور آنکھیں کھلی رکھے سنتے رہے۔ اتنا حوصلہ ہمارے اندر نہیں تھا کہ اپنے پیارے وطن کی ترقی معکوس کی ساری ذمے داری علانیہ اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے۔ اگر ہاتھ ٹھنڈے رکھ کر ملک ترقی کر سکتا ہے‘ تو ہم کیا پوری قوم بے دریغ قربانی دینے کو تیار ہو جاتی۔

مطعم کی قطار میں

گفتگو میں وقفہ آتے ہی بات بدلنے کے لیے ایک اور خاتون کی خیریت دریافت کی جو دور پار سے رشتے دار تھیں۔ بڑی بیزاری سے انھوں نے جواب دیا کہ ہم ان سے نہیں ملتے۔ وجہ کے جواب میں انھوں نے بتایا ’’وہ بدمعاش ہو گئی ہیں۔‘‘ مارے حیرت کے کرسی سے گرتے گرتے بچی۔ اس طرح کا کھلم کھلا الزام ہمارے گناہ گار کانوں نے پہلی بار سنا تھا۔ پوچھنا ہی پڑا کہ کیا ہوا؟ بڑی سنجیدگی سے انھوں نے جواب دیا ’’وہ کوٹ پتلون پہننے لگی ہیں۔‘‘
یہ حیرت کا دوسرا حملہ تھا۔ کھلی کرسی ہمیں گرنے سے بچا گئی لیکن چائے کی پیالی سے چائے اچھل کر قالین پر جا پڑی۔ دل میں شکر کے کلمات ادا کیے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا جس نے اس دن شلوار قمیص پہننے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ شکر منہ ہی منہ میں ادا ہوا۔ ادراک ہو چکا تھا کہ آج کا دن منہ بند رکھنے کا ہے۔

شام کو کھانے پر ایک پاکستانی مطعم میں مدعو تھے۔ ان دنوں اس کی بہت شہرت تھی۔ اس میں جگہ لینے کے لیے لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑتا۔ اس خبر کو ہم نے مبالغہ جانا۔ نہ ہمارے ملک میں قطار لگتی تھی، نہ ہم کبھی کھڑے ہوئے تھے۔ البتہ بعض جگہوں پر ’’لائن‘‘ کے نام پر بھیڑ بھاڑ اور اس کے ساتھ مارکٹائی ضرور ہوا کرتی۔ مطلب یہ تھا کہ وہ جگہ شرفا کے لیے نامناسب اور عورتوں کا وہاں جانا ممنوع ہے۔ ان تصورات کے ساتھ مطعم پہنچے، تو نہ صرف سیدھی اور لمبی قطار نظر آئی بلک معززین و شرفا کے ساتھ بیگمات یعنی میم صاحبان بھی قطار میں کھڑی تھیں۔

جگمگاتے زیورات میں لدی، اونچی ایڑی کے جوتے اور فرکوٹ میں لپٹی خواتین، سوٹ بوٹ اور ہیٹ میں ملبوس مرد ہلکی ہلکی برف باری میں یوںکھڑے تھے جیسے آئے ہی موسم کا مزہ لینے ہوں۔ کسی میں داخلے کی جلدی، بے چینی، بے کلی یا بے قراری نہ تھی۔ کوئی ابے تبے کی آواز نہ تھی۔ کسی ڈانٹ ڈپٹ کی پھنکار، کسی رعب داب کی جھنکار نہ تھی۔ سکون سے اپنی باری کا انتظار ہو رہا تھا۔ بیرے نے انگلیوں سے تین کا اشارہ کیا، تین لوگ اندر چلے گئے۔ باقی پھر اپنی گپ شپ میں مشغول ہوئے۔

ٹھنڈ میں جمنے سے پہلے ہی ہماری باری آ گئی۔ اندر جانے کے بعد کھانے کی میز دستیاب ہونے تک مزید انتظار باقی تھا۔ یہ انتظار گرم کمرے میں آرام دہ کرسیوں پہ متمکن ہو کے ہوا۔ خستہ، گرما گرم اور لذیذ پنیر کے پکوڑے وقت کاٹنے کو سامنے تھے جن کی لذت نے انتظار کی ساری کوفت ختم کر دی۔ ہوٹل کی تزئین شاندار تھی۔ میز پوش مکلف و سفید براق، گلاس شفاف اور چھری کانٹے لشکدار تھے۔ اور کھانا؟ اس کے لیے ہم ہزار بار برف میں قطار بنانے کو تیار ہیں۔

جنھوں نے پردیس میں رنگ جمایا

شہر بہ شہر گھومتے مانچسٹر پہنچے، جہاں قیام چند گھنٹوں کا تھا۔ طائرانہ نظر میں شہر فیکٹریوں، ملوں اور ان کی دھواں دار چمنیوں سے بھرا نظر آیا‘ خاص طور پر کار سے موٹروے پر گزرتے ہوئے۔ دوسری عمارتیں ان ملوں اورکارخانوں کے بیچ شرمندہ شرمندہ سی کھڑی تھیں، جیسے فوٹو کھنچواتے ہوئے امرا کے درمیان غریب رشتے دار کھڑے ہوں۔ شاہراہ سے نیچے اتر کر شہرمیں داخلے کے بعد دنیا دوسری نظر آتی ہے۔ زیادہ تر عمارتیں سرخ اینٹ سے تعمیر ہوئی ہیں۔ بعض بڑی عمارتوں میں چکنا سا سلیٹی پتھر بھی استعمال ہوا ہے، غالباً یہ بعد کی تعمیرات ہیں۔

جنگ عظیم دوم کے بعد پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ان فیکٹریوں میں افرادی کمی دولت مشترکہ کے ممالک سے پوری کی گئی۔ برصغیر اس میں پیش پیش تھا۔ بے شمار پاکستانی اور کشمیری بہتے پانیوں کی رو میں انگلستان پہنچے۔ وہ شیفلڈ، مانچسٹر، برمنگھم اور آس پاس کے علاقوں میں کھپتے چلے گئے۔ کسی کو کپڑے کی ملوںمیں روزگار ملا، تو کسی کو چینی کے برتن بنانے کے کارخانے میں اور کسی کی قسمت اسٹین لیس اسٹیل کی صنعت میں جاگی۔ وہ پڑھے لکھے تھے یا نہیں، ان کی حیثیت مزدور جیسی تھی۔

کئی مزدوروں نے اپنے ہاتھ کی صنعت کاری کا لوہا منوایا اور اس کے بل بوتے پر پورے گائوں کو لندن بلوا لیا۔ دس پندرہ سال ان مزدور پاکستانیوں نے خاموشی سے گدھوں کی طرح کام کیا۔ تین تین شفٹیں کیں۔ دس دس لوگ ایک کمرے میں ٹھہرتے اور شفٹوں میں سوتے۔ بیوی بچوں کے بغیر رہے۔ برسوں اپنے گھر نہ گئے۔ نہ کسی لڑائی جھگڑے میں حصہ لیا نہ مارکٹائی میں پڑے اور نہ کسی سیاست کی علت پالی۔ پاکستانی پیسا کمانے آئے تھے۔ وہی کمایا اور خوب کمایا۔ اللہ نے انھیںنوازا بھی خوب! پہلے لکھ پتی اور کروڑ پتی پاکستانی انہی مزدوروں میں اٹھے۔ یہی وہ مرد مجاہد تھے جنھوں نے کھیرے کے سینڈوچ اور گوبھی کا سوپ پینے سے انکار کرتے ہوئے آٹے کی چپاتی کھانے و پکانے پر اصرار کیا۔ گوشت اور مرغی حلال نہ ہونے کی وجہ سے شجر ممنوعہ تھی۔

انھوں نے دال اور سبزی پر گزارہ کیا۔ بھائی بندوں نے چھوٹی موٹی کریانے کی دکانیں کھولنے کی پہل کی۔ پھر جرأت سے کام لے کر اپنے پچھواڑے باغیچے میں مرغی اور بکری ذبح کرنے لگے۔ اس طرح ولایتی حلال قصابوں کی روایت پڑی۔ خود حلال گوشت کھایا اور دائیں بائیں کے بندگانِ خدا کو بھی کھلایا۔ اس وقت کے کئی قصاب آخر کار لکھ پتی ہوئے۔ خلق خدا کا بھلا کرنے والوں کا بھلا خالق نے کیا۔  آج انگلستان میں مقیم پاکستانی حلال بکرے کی سالم ران کے جو مزے اڑاتے یا باسمتی چاول کی بریانی پر ہاتھ صاف کرتے ہیں، یہ سب انہی مردان آہن کی مرہون منت ہے۔ ورنہ کچھ پتا نہیں، کالے صاحبوں کی طرح روتے دھوتے آلو کے کٹلٹ کھا کر زندگی بتا رہے ہوتے۔

گوری کشمیرن

مانچسٹر جانے کی ایک وجہ تعزیت کرناتھی۔ ایک دوست کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے ہاں جانا ضروری تھا۔ اگرچہ ان کی بیوی پاکستان گئی ہوئی تھیں، لیکن شوہر نے کھانے کا انتظام کر رکھا تھا۔ کئی رشتے دار عورتوں نے مل کر یہ ذمے داری اٹھائی۔ انہی میں ایک نیلی آنکھوں اور سرخ و سفید رنگت والی دبلی پتلی خاتون بھی تھی۔  چہرے مہرے سے انگریز لگتی تھی لیکن انداز اور لباس خالص پاکستانی تھا۔ گہرے سرمئی مخمل کا سوٹ جس کا گلاتنگ اور آستین پوری تھی۔ جارجٹ کے بڑے سے دوپٹے کی بکل سے سر اور کاندھے پوری طرح ڈھانپے بیٹھی تھیں۔ بائیں کان میں سونے کا لمبا سا جھمکا دوپٹے سے جھانک رہا تھا۔ سنہرے بالوں کی چند لٹیں بھی نظر آ رہی تھیں۔ الٹے ہاتھ میں کہنیوں تک سونے کی چوڑیاں چڑھی ہوئی تھیں۔ گلے میں سونے کی تین چار لمبی لمبی زنجیریں جھول رہی تھیں۔

میں ابھی مخمصے میں تھی کہ اردو میں سلام کروں یا انگریزی میں کہ خاتون نے ٹھیٹ کشمیری لہجے میں کہا ’’السلام علیکم!‘‘ جواب دیتے ہوئے میں نے بے اختیار کہا ’’میں سمجھی آپ انگریز ہیں؟ اس نے پھر کشمیری میں کہا ’’جی ہاں میں انگریز ہی ہوں۔‘‘ اگلا سوال ایسی فصیح و بلیغ کشمیری میں تھا جس میں انگریزی لب و لہجے کا میلوں میل نشان نہ ملا۔ ’’تساں نے کتنے جاکت تھئے؟‘‘ (آپ کے کتنے بچے ہیں) اس جملے پر تو میں اچھل پڑی۔ اس کے بعد ہر جملے پر حیرت دوچند ہوتی چلی گئی۔ کیوں اور کیسے پر انھوں نے بتایا، بچپن میں ان کے ہمسائے میرپوری میاں بیوی تھے۔ لاولد تھے۔ ان کی اپنی والدہ ملازمت کرتی تھیں۔ جب یہ اسکول سے واپس آتیں، تو گھر کے سامنے کھڑے ہو کر آتے جاتے بچوں سے لڑائی مول لیا کرتیں۔ میرپوری خاتون نے انھیں اپنے گھر بلاناشروع کر دیا اور کھانے پینے سے تواضع کرنے لگیں۔

رفتہ رفتہ بات منہ دھلوانے سے ہوتی کنگھی چوٹی تک آ گئی۔ پھر اس میں چوڑیوں اور بندوں کے تحفے شامل ہو گئے۔ یہ بھی محبت دیکھ کر سیدھی ان کے گھر جانے لگیں۔ میرپوری خاتون سیدھی سادھی مسلمان عورت تھی۔ جو اپنے لیے اچھا سمجھتی تھی‘ وہی دوسرے کے لیے اچھا جانتی۔ اس نے بچی کو دوسروں کے ساتھ لڑائی بھڑائی سے منع کیا۔ اٹھنے بیٹھنے کے آداب سکھائے۔ بتایا کہ اچھی لڑکیاں ٹانگیں ننگی نہیں رکھتیں۔ سر پر دوپٹہ اوڑھتی، نماز پڑھتی ہیں۔ یوں بغیر جانے بوجھے وہ لڑکی مسلمان ہو گئی۔

گیارہ سال کی عمر تک نہ صرف وہ مسلمان ہوئی بلکہ کشمیری زبان کی ماہر بن بیٹھی۔ زبان میں شگفتگی، حاضر جوابی اور مزاح قدرتی تھا، جس نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ اچانک لڑکی کی والدہ کو خیال آیا کہ وہ تو ان کے ہاتھ سے نکل چکی۔ اس نے میرپوری خاندان پر بیٹی کو ورغلانے اور زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا مقدمہ دائر کر دیا۔ کم عمری کے باوجود لڑکی نے اپنا مقدمہ خود لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جج سے کہا:  ’’میری ماں سے پوچھیے کہ یہ پچھلے چھے برس سے کہا ں تھی؟ اسکول سے آنے کے بعد کون میرے کھانے پینے کا انتظام کرتا، کون مجھے نہلاتا دھلاتا؟ کون میرے کپڑے خریدتا؟ کرسمس پر کون مجھے سونے کے زیورات تحفے میں دیتا؟ میری ماں نے تو کبھی پوچھا تک نہیں، میں صرف رات کو سونے گھر جاتی تھی۔ ویسے بھی اس کو میرے مذہب کا خیال کہاں سے آ گیا؟ ہمارے گھر میں‘ تو آج تک کسی مذہب کا ذکر نہیں ہوا۔ بہرحال اب میں مسلمان ہوں اور اپنی ماں کے بجائے ان لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کروں گی۔‘‘

جج نے لڑکی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ نئے گھر میں پہنچتے ہی اس نے اپنے لیے اسلامی نام چنا اور فرمائش کی کہ اب اس کے لیے مسلمان شوہر تلاش کریں۔ چناںچہ ’’یہ‘‘ اس نے ایک وجیہہ آدمی کی طرف اشارہ کر کے ہنستے ہوئے کہا ’’میرے متھے لگا۔‘‘ ان کے دو بیٹے تھے، ایک سات سال، دوسرا نو سال کا۔ کشمیری روایات کے مطابق ان کے لیے زیورات بننے شروع ہو گئے تھے۔  اس نے اپنی چوڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ’’آدھی ایک کی ہیں اور آدھی دوسرے کی۔‘‘ اس نے پھر ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ پتا پوچھنے پر کہا ’’اس کی ضرورت نہیں۔ شہر میں آپ کسی سے میرا نام لے کر پوچھ لیں، سب میرا گھر جانتے ہیں۔‘‘ کھانے کا وقت ہو چلا تھا، صاحب خانہ نے عورتوں سے کھانا گرم کرنے کی درخواست کی۔ سبھی عورتیں اٹھ کر باورچی خانے میں پہنچ گئیں۔ مردوں سے علیحدہ ہوتے ہی نو مسلم خاتون نے ہمارے کھلے گریبانوں اور چست لباسوں پر کھلے بندوںتنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان عورت کو ایسا لباس پہننا جائز نہیں۔

ہم نے پوچھا، کبھی پاکستان گئی ہو؟‘‘ جواب تھا ’’ہر سال رمضان المبارک پاکستان گزارتی ہوں۔ اس کافر ملک میں روزوں کا کیا مزہ، یہاں سحری کا پتا چلتا ہے نہ افطاری کا! وہاں تو پانچ وقت اذانیں سرور باندھ دیتی ہیں۔‘‘
شادی کے بعد جب یہ پہلی بار اپنے گائوں گئیں جو آزاد کشمیر کے دور دراز علاقے میں تھا۔ ساس ان کی زبان، نماز اور روزوں سے بڑی متاثر ہوئیں۔ یہاں تک جب عزیز و اقارب ملنے آئے اور پوچھا ’’میم بھابی کہاں ہیں، تو وہ بہت ناراض ہوئیں۔ ڈانٹ کر کہا ’’خبردار! کسی نے میری بہو کو میم کہا ہے۔ یہ سدھن (کشمیرن) ہے۔‘‘

٭٭