function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

ایک متوازن کُل کی تشکیل

ڈاکٹر محمد حمید اللہ | 2011 ستمبر

609عیسوی میں رمضان کی ایک شب حضرت محمدﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم مکے سے متصل جبلِ نور کے غارِ حرا میں استراحت فرما رہے تھے کہ آپ نے کسی کو اپنی طرف آتے دیکھا جو یہ کہہ رہا تھا ’’میں جبرائیل ہوں، اللہ کا فرشتہ، مجھے اس غرض سے بھیجا گیا ہے کہ آپ ﷺکو بتا دوں کہ آپ ﷺ کو اللہ نے اپنا پیغامبر چُنا ہے تاکہ آپ اللہ کا پیغام اور اس کی وحی کو لوگوں تک پہنچادیں۔‘‘

پہلی وحی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی تھی:
’’پڑھ اللہ کے نام سے جو تیرا رب ہے اور جس نے پیدا کیا انسان کو خون کے لوتھڑے سے۔ پڑھ کہ تیرا رب بزرگی والا ہے۔ وہ جس نے تعلیم دی قلم کے واسطے سے۔ انسان کو علم دیا ان باتوں کا جنھیں وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید کی سورت 96کی یہ ابتدائی پانچ آیتیں ہیں۔ یہ ابتدائی وحی اور اس کے بعد 632ء میں رسولﷺ کی وفات تک کے عرصے میں نازل ہونے والے تمام وحی قرآن مجید میں محفوظ ہے۔
اسلام کا مبدا یعنی مکہ ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں ایک خوش حال تجارتی مرکز تھا جس کی آبادی دس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ مکہ جزیرہ نما عرب سے گزرنے والے متعدد اہم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع تھا جب کہ خود جزیرہ نمائے عرب کی سرحدوں پر اس زمانے کی دو سب سے زیادہ طاقتور حکومتیں یعنی ایران کی ساسانی سلطنت مشرق میں اور بازنطینی سلطنت شمال اور مغرب شام اور مصر میں واقع تھیں۔
تجارتی قافلے اس زمانے کا سب سے قیمتی سازوسامان لے کر مکے سے گزرتے تھے۔ چین سے ریشم، ہندوستان سے مسالے اور یمن سے خوشبوئیں اسی راستے سے ہو کر بیزنطین اور یورپ جاتی تھیں۔ یہ ایک باقاعدہ شہری ریاست تھی جس کی قیادت دس موروثی سرداروں کے ہاتھ میں تھی اور جس کا نظم و نسق چلانے کے لیے مختلف شعبوں کے وزرا مقرر تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے ذمے بالترتیب فصلِ مقدمات، دفاع، مذہبی رسوم، خارجہ تعلقات اور شہری معاملات اور دیگر مسائل میں عام شہریوں کی رائے معلوم

کرنے سے متعلق شعبے ہوا کرتے تھے۔ ان شعبوں کے تمام سربراہ قبیلہ قریش کے اہم بطون سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت محمدﷺ بھی قبیلہ قریش سے تھے۔
اہل مکہ اپنی دریا دلی اور دیانت کی وجہ سے بڑی شہرت کے مالک تھے۔ جب قحط پڑتا تو وہ غریبوں کے کھانے کا انتظام کرتے۔ اگر کسی اجنبی کے ساتھ مکے میں کوئی ناروا سلوک ہوتا تو وہ اس کے مفادات کے تحفظ پر پوری جرأت کے ساتھ کمربستہ ہو جاتے۔ وہ اگرچہ ایک خدا کے وجود پر یقین رکھتے تھے، لیکن بیشتر خانہ بدوش اور

سکونت پذیر لوگوں کی طرح جو اس زمانے میں جزیرہ نمائے عرب میں آباد تھے، بتوں کو اس خیال سے پوجتے تھے کہ وہ ان کی جانب سے شفاعت کریں گے۔ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے یا حیاتِ اُخروی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
مکے کو اس بنا پر اہمیت حاصل تھی کہ یہاں کعبے کے نام سے ایک بت خانہ تھا جو زیارت کا ایک بڑا مرکز بن چکا تھا۔ اس کے تقدس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اسے بنایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تعمیر نو کی۔ کعبہ ایک مکعب نما عمارت تھی جس کے چاروں طرف 360بت نصب تھے اور جس کی اندرونی دیواروں پر حضرت مریمؑ اور شیر خوار حضرت مسیحؑ کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔
کعبے کے کونے میں ایک سیاہ پتھر تھا جسے خاص طور پر مقدس خیال کیا جاتا تھا۔ یہ پتھر اس مقام کی نشان دہی کرتا تھا جہاں سے بُت خانے کا طواف کیا جاتا تھا اور اس جگہ قسم کھائی جاتی تھی۔ کعبے کے سالانہ حج کے لیے سارے عرب سے زائرین جوق در جوق آیا کرتے تھے۔
اہل مکہ کی غالب اکثریت اور خود محمدﷺ اَن پڑھ تھے، لیکن ان کی خطابت اور شعرفہمی کی شہرت تھی۔ سارے ملک عرب سے شعرا حج کے موقع پر جمع ہوتے، اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے اور اہل مکہ سے داد پاتے۔
یہ تھے وہ حالات جن میں محمدﷺ اسلام کا پیغام لے کر آئے۔
جب آپ ﷺپر پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ کی عمر اس وقت 40برس تھی۔ آپ ﷺکی ولادت مکے میں ایک تاجر عرب خاندان میں ہوئی، لہٰذا آپﷺ بھی اپنے والد اور دادا کی طرح متعدد تجارتی قافلوں کے قائد رہ چکے تھے۔ آپﷺ کی شریک حیات حضرت خدیجہؓ بھی ایک عرب تاجر کی بیوہ تھیں جن کے نمایندے کی حیثیت سے آپﷺ نے شام، یمن، مشرقی عرب (بحرین، عمان) اور غالباً حبش جیسے مقام تک جو اس زمانے میں مکے سے مضبوط تجارتی روابط رکھتے تھے، سفر کیے۔ جوانی کی عمر میں آپﷺ کی بعض

ایسی نمایاں اور غیر معمولی خصوصیات ظاہر ہوئیں جن کی وجہ سے آپﷺ اپنے ہم عمروں اور ساتھیوں میں ممتاز سمجھے جاتے تھے۔ خاص طور پر لین دین میں راست بازی کی وجہ سے آپ ﷺ کو الامین (قابل اعتماد) کا لقب دیا گیا۔
مورخین کے مطابق آپ نے ایک نوجوان غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو خریدا اور ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ زیدرضی اللہ عنہ دراصل ایک جنگ میں گرفتار ہوئے تھے۔ ان کے والد کو جو ایک بڑے قبیلے کے سردار تھے آخر بڑی جستجو کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ان کا لڑکا مکے میں ہے، تو انھوں نے آپﷺسے درخواست کی کہ کچھ رقم لے کر ان کے لڑکے کو آزاد فرما دیں۔یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب آپ ﷺکی نبوت کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں انھیں آزاد کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں لوں

گا بشرطیکہ لڑکا اپنی مرضی سے اپنے باپ کے ساتھ جانا پسند کرے۔ یہ سننا تھا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے بلا توقف جواب دیاکہ وہ رسولﷺ کے ساتھ ہی رہیں گے۔ رسول ﷺ زید رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے سے بے حدمتاثر ہوئے اور آپﷺ نے ان کو اسی وقت آزاد کر دیا اور پھر خانہ کعبہ جا کر اعلان کیا کہ آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام کو متبنّیٰ بنا لیا ہے۔
ایک اور واقعہ بھی جو اوّلین نزول وحی سے کوئی پانچ برس قبل پیش آیا۔ آپ ﷺکے کردار کو روشن کرتا ہے۔ کعبے کی عمارت کو آگ اور پھر سیلاب سے نقصان پہنچا تھا، چنانچہ اہل مکہ نے اسے دوبارہ تعمیر کرنا چاہا۔ اس دوران جب حجرِ اسود کو نصب کرنے کا وقت آیا تو مختلف خاندانوں میں نزاع پیدا ہو گیا۔ ان میں سے ہر ایک حجراسود کو اٹھا کر اس کی مقررہ جگہ پر نصب کرنے کا اعزاز حاصل کرنا چاہتا تھا اور قریب تھا کہ تلواریں نکل آتیں۔ اس وقت ایک ضعیف العمر شخص نے یہ رائے دی کہ معاملہ اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے اور یہ اس طرح کہ اب جو بھی شخص سب سے پہلے یہاں آئے وہی معاملے کا فیصلہ کرے۔
جو شخص سب سے پہلے وہاں آیا وہ تھے حضرت محمدﷺ ۔ آپﷺ نے معاملے کو اس طرح نمٹایا کہ حجرِ اسود کو اٹھا کر ایک چادر پر رکھ دیا اور ہرخاندان کے ایک ایک نمائندے کو اس چادر کو کناروں سے پکڑ کر اٹھانے کے لیے کہا۔ اس طرح حجرِ اسود کی تنصیب پر ہر قبیلہ حصہ دار ہو گیا۔ پھر آپ نے پتھر کو چادر سے اٹھا کر اس کی جگہ نصب کر دیا اور سب مطمئن ہو گئے۔
یہ زمانہ تقریباً وہ تھا جس میں آپ اپنے ماحول و اطراف کے حالات سے غیر مطمئن ہونے کی وجہ سے اپنا زیادہ تر وقت تنہائی اور غوروفکر میں گزارتے تھے۔ ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر جبلِ نور پر واقع غارِ حرا میں رہتے۔ تقریباً پانچ سال تک آپ ﷺ نے رمضان کا پورا مہینا جو اس زمانے میں جاڑوں کے وسط میں پڑتا تھا، اعتکاف میں گزارا۔ پانچویں سال آپ ﷺ وہاں سے لوٹنے ہی والے تھے کہ آپ ﷺنے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کو پہلی باردیکھا۔
اس واقعے کے بعد آپ ﷺ گھر واپس آئے، تو آپ ﷺبہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے سارا قصہ اپنی شریکِ حیات حضرت خدیجہؓ کو سنایا۔ آپﷺ سخت پریشان تھے اور آپ ﷺ کو خیال آتا تھا کہ کہیں یہ ابلیس نہ ہو۔ حضرت خدیجہؓ نے آپﷺ کو ہر ممکن طریقے سے تسلی دی اور دوسرے دن آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو ایک ضعیف العمر نابینا تھے اور جنھوں نے نصرانی مذہب اختیار کر لیا تھا اور دینی معلومات سے واقف تھے۔
جیسے ہی آپﷺ نے اپنا واقعہ ان کو سنایا، ورقہ بول اٹھا ’’جو آپﷺ نے کہا اگر یہی کچھ پیش آیا ہے، تو یقین ہے کہ یہ وہی ناموس (بقول تورات) ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا۔ اگر اللہ نے زندگی دی، تو میں آپﷺ کی جانب سے آنے والے مشکل وقت میں آپﷺ کا دفاع کروں گا۔‘‘
آپ ﷺنے حیرت کے ساتھ دریافت کیا ’’کیا مجھے اللہ اور اس کی رحمت کے بارے میں کچھ کہنے پر ایذا دی جائے گی۔‘‘ ورقہ نے جواب دیا ’’ہاں! اس مشکل وقت سے اللہ کا کوئی نبی محفوظ نہیں رہا۔‘‘
رسول اللہﷺ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا وہ جلد ہی سارے شہر میں پھیل گیا۔ جو لوگ آپﷺ پر ایمان لائے ان میں حضرت خدیجہؓ، آپ کے مخلص غلام زیدؓ، آپ کے دوست حضرت ابو بکر صدیقؓ اور چچا زاد بھائی حضرت علیؓ جن کی تربیت آپ نے بیٹے کی طرح کی تھی، شامل تھے، دوسرے لوگ اگر کھلے دشمن نہیں، تو متذبذب ضرور تھے۔
اس کے بعد تین سال ایسے گزرے کہ جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپﷺ کے پاس نہیں آئے۔ قریب تھا کہ آپ ﷺمایوسی کا شکار ہو جاتے۔ اس حال میں آپ ﷺکی چچی امّ لہب نے آپ ﷺکو طعنہ دیتے ہوئے کہا: ’’میرا خیال ہے کہ تمھارے شیطان (مُراد تھی حضرت جبرئیل سے) نے تمھیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے بیزار ہو گیا ہے۔‘‘
اس توہین آمیز سلوک نے آپﷺ کو دل برداشتہ کر دیا۔ اپنے آپ کو آپ ﷺ نے پہاڑ کی چوٹی سے گرا کر ہلاک کرنا چاہا کہ اچانک حضرت جبرئیل علیہ السلام نمودار ہوئے۔ انھوں نے آپ ﷺ کو تسکین دی اور اللہ کا کلام سنایا ’’قسم ہے دن چڑھتے وقت کی اور رات کی جب وہ چھا جائے، نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا… پس یتیم کے ساتھ درشتی سے پیش نہ آ اور نہ سوال کرنے والے کو جھڑک اور تیرے رب نے تجھ پر جو فضل کیا ہے اسے بیان کرتا رہ۔‘‘ (قرآن، الضحیٰ 93: 1تا 3اور 9تا 11)
آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کے مقصد کو فوراً سمجھ لیا کہ آدمی کو اللہ پر یقین رکھنا اور لوگوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا چاہیے۔
رسول اللہﷺ اپنے اہل خانہ کو جس پیغام کی تبلیغ فرما رہے تھے اس کے دو بنیادی عقائد تھے۔ اللہ کی وحدانیت اور موت کے بعد کی زندگی اور آخرت۔ چنانچہ خدائے وحدہُ لاشریک کے تصور نے جو ہر بات جانتا ہے اور ہر جگہ موجود ہے اور جس کے آگے ایک دن ہر ایک کو جواب دہی کرنی ہے، مشرکانہ عقائد اور اہل مکہ کی روایات کو متزلزل کر دیا۔ پہلے تو انھوں نے رسولﷺ کی تعلیمات کا مذاق اُڑایا پھر تحقیر پر اُتر آئے۔ آگے چل کر آپ اور آپ کی مختصر جماعت کے خلاف جس نے نیا دین اختیار کر لیا

تھا، ظلم و زیادتی کا طوفان برپا کر دیا۔ جب یہ زیادتیاں ناقابل برداشت ہو گئیں تو رسولﷺ نے اپنے ان اصحاب کو حبش میں پناہ لینے کا مشورہ دیا۔ جہاں کے نصرانی بادشاہ نے انھیں پناہ دی اور اپنی حفاظت میں لے لیا۔ جب اہل مکہ نے غضب ناک ہو کر اپنا ایک وفد اس مطالبے کے ساتھ بھیجا کہ ان مسلمان پناہ گزینوں کو واپس کر دیا جائے، تو حبش کے بادشاہ نے ان کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا۔
مکے والوں کا وفد ناکام لوٹ آیا اور اس ناکامی کے نتیجے میں انھوں نے یہ طے کیا کہ مکے میں جو مسلمان رہ گئے ہیں انہی کو مشقِ ستم بنایا جائے۔
آخر کار مشرکین مکہ نے رسولﷺ اور آپ کے خاندان کے خلاف مقاطعے کا اعلان کر دیا اور اس کے ساتھ تجارت اور ان پر خوراک کی فروخت پر پابندی لگا دی۔ اس مقاطعے کے دوران متعدد مسلمان وفات پا گئے۔
اگرچہ تین سال کے طویل عرصے کے بعد یہ پابندی اٹھا لی گئی، مگر اس سے بھی رسولﷺ کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ آپﷺ کے چچا حضرت ابوطالب کا انتقال ہوگیا جو سربراہ خاندان تھے اور آپﷺ کی پشت پناہی کرتے تھے۔ خاندان کی سرداری دوسرے چچا یعنی ابو لہب کو ملی جس نے رسولﷺ کے قتل کو ہر ایک کے لیے جائز قرار دے دیا۔ ایسی حالت میں کوئی چارہ کار اس کے سوا نہیں تھا کہ آپؐ مکہ چھوڑ دیں۔ چنانچہ آپؐ قریبی شہر طائف میں پناہ کے لیے گئے، مگر طائف والوںنے اہل مکہ سے بھی زیادہ

ظالمانہ سلوک کیا اور آپؐ اپنے ایک غیر مسلم دوست کی حفاظت میں جلد ہی وطن لوٹ آئے۔ اس ہمدردی کے نتیجے میں اس غیر مسلم کو بھی خاندان بدر کر دیا گیا۔
اب رسول اللہﷺ نے یہ طے کیا کہ ہر سال باہر سے جو لوگ کعبے کے لیے مکہ آتے ہیں ان سے ربط پیدا کیا جائے۔ مختلف جگہوں سے آنے والے قبائل سے مایوس ہونے کے بعد یثرب جو بعد میں مدینۃُ النبی ’’رسولؐ کا شہر‘‘ یا صرف مدینہ کہلایا، کے لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروہ آپؐ کا ساتھ دینے اور آپؐ کے پیغام کی اپنے شہر میں تبلیغ کرنے پر رضا مند ہو گیا۔
اگلے برس مدینے سے بارہ افراد حج کے دنوںمیں مکے آئے اور انھوں نے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ جب یہ لوگ اپنے وطن لوٹے، تو ان کے ساتھ مکہ سے ایک مبلّغ بھیجا گیا جسے رسول اللہﷺ نے مدینے میں تبلیغ اسلام کے بارے میں ہدایات دیں تھیں۔
یہ تبلیغی کوشش اس حد تک کامیاب ثابت ہوئی کہ اگلے برس مدینے سے بہتّر (72) افراد مکے آئے اور انھوں نے رسول اللہﷺ اور آپﷺ کے مظلوم ساتھیوں کو اپنے شہر ہجرت کی دعوت دی جسے رسول اللہﷺ نے قبول فرما لیا۔ مگر پہلے آپﷺ نے مکے کے مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ بنا کر مدینے ہجرت کرنے کو کہا۔ یہ اس لیے کہ اگر اہل مکہ کو مسلمانوں کی اجتماعی ہجرت کا علم ہو گیا، تو وہ انھیں پریشان کریں گے، چنانچہ خفیہ طور پر چھوٹے چھوٹے گروہ روانہ ہوئے۔

اس طرح جب بڑی تعداد میں مسلمانوں نے مکہ چھوڑ دیا، تو اہل مکہ کو خوف ہوا کہ اگر رسول اللہﷺ نے بھی کسی جگہ پناہ حاصل کر لی، تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ آخر کار اپنے وطن پر حملہ کریں گے۔ اس خیال سے انھوں نے آپﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ جب آپؐ کو اس بات کا علم ہوا، تو آپؐ اپنے دوست حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے اور ان دونوں نے طے کیا کہ رات کی تاریکی میں مدینہ چلے جائیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ایک آدمی کا انتظام کیا جو ان کے چھپنے کے مقام پر دو اونٹ لے کر آئے اور

وہاں سے ایسے راستوں سے ہو کر جن پر آمدورفت نہیں ہوتی انھیں مدینے تک لے جائے۔ آخرکار آنحضرتﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ جان جوکھوں میں ڈال کر بہ حفاظت مدینے پہنچ گئے اور اس طرح ان مسلمانوں کے لیے خوشی کا موقع آیا جو پہلے سے یہاں موجود تھے۔
ہجرت کا یہ واقعہ اسلامی تقویم کا جس کے آج چودہ سو سال پورے ہو چکے ہیں، نقطہ آغاز تھا۔ ہجرت سے قبل اسلام کو دشواریوں کا سامنا رہا جب کہ اس کے بعد سے مدینے آ کر نسبتاً محفوظ ماحول اور ترقی کا موقع ملا۔ چنانچہ اسلامی تعلیمات سے متعلق تفاصیل تدریجاً مکمل ہوئیں اور اس طرح ایک اسلامی ریاست کی بنیاد پڑی۔
رسولﷺ سراپا عمل تھے۔ اپنے عمل کے ذریعے سے آپؐ نے یہ بات ذہن نشین کرا دی کہ مختلف شعبہ ہائے حیات میں ایک مسلمان کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ زندگی کے ان شعبوں میں فرد کے روحانی اور انفرادی پہلو بھی شامل ہیں اور معاشرے کے ایک رکن کی حیثیت سے فرد کی زندگی کا سیاسی پہلو بھی اس دائرہ کار میں آتا ہے۔ آپؐ نے یہ عظیم کام مدینے میں انجام دیا۔
آپؐ کو جو اوّلین مسئلہ درپیش ہوا وہ مہاجرین کا تھا۔ اس سلسلے میں آپؐ نے تجویز کیا کہ مدینے کے ہر خوش حال گھرانے کو چاہیے کہ وہ ایک مہاجر گھرانے کو بردارانہ تعلقات کی بنا پر اپنے ساتھ رکھے، دونوں اکٹھا کھائیں اور ایک خاندان کی طرح زندگی گزاریں۔ مدینے کے مسلمانوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا اور اس طرح مہاجرین کا مسئلہ جلد حل ہو گیا۔
دوسرا اہم مسئلہ دفاع سے متعلق تھا۔جب رسول ﷺ تشریف لائے، تو مدینے میں سیاسی خلا موجود تھا۔ اس زمانے میں مدینے کی حالت یہ تھی کہ وہاں چند متحارب خاندان تھے جو نہ کسی کی قیادت تسلیم کرتے تھے، نہ کسی طرز حکمرانی سے واقف تھے۔ آپؐ نے آبادی کے ہر طبقے یعنی مسلمان، مشرکین عرب، یہودیوں اور نصرانیوں کے نمایندوں کو جمع کر کے ایک شہری ریاست کے قیام کی تجویز پیش فرمائی جس کی طاقت ہرحملہ آور کا مقابلہ کر سکے۔ یہ تجویز مان لی گئی اور آپ بہ نفسِ نفیس اس نئی ریاست کے سربراہ منتخب کیے گئے۔
ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے آپؐ کو سب سے پہلے دستور منضبط کرنا تھا۔ اس دستور کا متن آج بھی موجود ہے جو دنیا میں تحریری دستور کی اوّلین معلوم مثال ہے۔ یہ دستور سربراہ ریاست کے حقوق و فرائض اور اس کی ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے، نیز دفاع، انصاف، سماجی تحفظ اور دیگر ضروری امور کے متعلق تفاصیل مہیا کرتا ہے۔ اس دستور کی سب سے ممتاز خصوصیت انتہائی وسیع مفہوم میں رواداری ہے۔ یہ دستور مسلم اور غیر مسلم دونوں کو اس اعتبار سے یکساں حیثیت دیتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے، قانون سے استفادہ اور حصولِ انصاف کے معاملے میں برابر ہیں۔ اس کے مطابق اسلام کے تعزیری اور دیوانی قوانین کا اطلاق غیر مسلموں پر نہیں تھا۔
رسولﷺ نے اس کے بعد اسلامی ریاست کے دفاع کو منظم کیا۔ اس سلسلے میں مدینے کے اطراف میں آباد قبائل کے ساتھ دفاعی اغراض سے اتحاد کیا گیا اور اس اتحاد کی بدولت اہل مکہ کے شام، مصر اور عراق جانے والے قافلوں کو اسلامی ریاست میں سے ہو کر سفر کرنے سے روک دیا گیا۔ جب اس پابندی کے خلاف مکے والوں نے بہ زور ان علاقوں سے ہو کر گزرنا چاہا، تو ان قافلوں کو روکنے کے لیے مسلمان دستے موجود تھے جو تعداد میں ان کا بعض اوقات تہائی اور کبھی دسواں حصہ ہوتے تھے۔ مثلاً جنگ

بدر (سنہ 2ہجری) میں حاصل ہونے والی عظیم فتح کم و بیش تین سو مسلمانوں نے حاصل کی تھی جن کے مقابلے میں دشمن کی تعداد نو سو پچاس کے قریب تھی۔
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مکے میں اقتصادی بدحالی کی علامات اُبھرنے لگیں۔ رسول اللہﷺ نے اہل مکہ سے مصالحت کی فیاضانہ پیش کش کی لیکن جب انھوں نے اس کی خلاف ورزی کی، تو مکے کو کسی خون خرابے کے بغیر فتح کر لیا گیا۔ آپؐ نے فتح مکہ کے بعد سب سے پہلا فیصلہ عام معافی کا فرمایا۔ اہل مکہ اس سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ایک ہی رات میں ان کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔
فتح مکہ کے بعد آپؐ کو یہ موقع مل گیا کہ اس بازنطینی حکومت سے معاملہ صاف کر لیا جائے جس نے مسلمان سفیر کے قتل اور اپنی حدودِ سلطنت میں مسلمانوں کو موت کی سزا دینے سے بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی آپؐ نے جزیرہ نمائے عرب کے بقیہ علاقوں کی طرف بھی توجہ فرمائی جس کے نتیجے میں ان کے کئی وفود اپنے اسلام لانے کا اعلان کرنے مدینہ آئے۔
رسول اللہﷺ فتح مکہ کے دو سال بعد بیت اللہ شریف کے حج کی غرض سے مکہ تشریف لے گئے۔ بیت اللہ اسلام کا سب سے زیادہ محترم اور رفیع المقام شہر ہے۔ اب اس مقصد کی تکمیل ہو چکی تھی جس کے لیے آپ مبعوث ہوئے تھے۔ چنانچہ تین ماہ بعد آپؐ کا وصال ہو گیا۔
رسولﷺ کی وفات کے وقت (11ہجری۔ 632ئ) میں سارا جزیرہ نمائے عرب اور فلسطین کے جنوبی علاقے اور عراق تک حلقہ بہ گوش اسلام ہو چکا تھا۔ شہر مدینہ کے ایک حصے میں ہجرت کے پہلے سال میں تشکیل پانے والی اسلامی ریاست کی وسعت اب تیس لاکھ مربع کلومیٹر تک پہنچ چکی تھی اور اس میں اقتصادی، عسکری، تعلیمی، انتظامی، عدالتی اور تمام دیگر شعبے جو اس ریاست کی بقا اور ترقی کے لیے ضروری تھے قائم ہو چکے تھے۔
آپؐ نے اپنی وفات سے قبل اساسی دینی فرائض یعنی ایمان (لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ) نماز، زکوٰۃ کی ادائی، حج بیت اللہ اور رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے کے بارے میں تاکید فرما دی تھی۔ اسلام کے یہ پانچ ارکان ایسے معنوی اور ظاہری مظاہر کی حیثیت رکھتے ہیں جو آپس میں مل کر ایک متوازن ’’کُل‘‘ کی تشکیل کرتے ہیں اور یہی آج تک اسلام کی بنیاد ہیں۔ (انتخاب: مظہر سلیم مجوکہ)