function gmod(n,m){ return ((n%m)+m)%m; } function kuwaiticalendar(adjust){ var today = new Date(); if(adjust) { adjustmili = 1000*60*60*24*adjust; todaymili = today.getTime()+adjustmili; today = new Date(todaymili); } day = today.getDate(); month = today.getMonth(); year = today.getFullYear(); m = month+1; y = year; if(m<3) { y -= 1; m += 12; } a = Math.floor(y/100.); b = 2-a+Math.floor(a/4.); if(y<1583) b = 0; if(y==1582) { if(m>10) b = -10; if(m==10) { b = 0; if(day>4) b = -10; } } jd = Math.floor(365.25*(y+4716))+Math.floor(30.6001*(m+1))+day+b-1524; b = 0; if(jd>2299160){ a = Math.floor((jd-1867216.25)/36524.25); b = 1+a-Math.floor(a/4.); } bb = jd+b+1524; cc = Math.floor((bb-122.1)/365.25); dd = Math.floor(365.25*cc); ee = Math.floor((bb-dd)/30.6001); day =(bb-dd)-Math.floor(30.6001*ee); month = ee-1; if(ee>13) { cc += 1; month = ee-13; } year = cc-4716; if(adjust) { wd = gmod(jd+1-adjust,7)+1; } else { wd = gmod(jd+1,7)+1; } iyear = 10631./30.; epochastro = 1948084; epochcivil = 1948085; shift1 = 8.01/60.; z = jd-epochastro; cyc = Math.floor(z/10631.); z = z-10631*cyc; j = Math.floor((z-shift1)/iyear); iy = 30*cyc+j; z = z-Math.floor(j*iyear+shift1); im = Math.floor((z+28.5001)/29.5); if(im==13) im = 12; id = z-Math.floor(29.5001*im-29); var myRes = new Array(8); myRes[0] = day; //calculated day (CE) myRes[1] = month-1; //calculated month (CE) myRes[2] = year; //calculated year (CE) myRes[3] = jd-1; //julian day number myRes[4] = wd-1; //weekday number myRes[5] = id; //islamic date myRes[6] = im-1; //islamic month myRes[7] = iy; //islamic year return myRes; } function writeIslamicDate(adjustment) { var wdNames = new Array("Ahad","Ithnin","Thulatha","Arbaa","Khams","Jumuah","Sabt"); var iMonthNames = new Array("????","???","???? ?????","???? ??????","????? ?????","????? ??????","???","?????","?????","????","???????","???????", "Ramadan","Shawwal","Dhul Qa'ada","Dhul Hijja"); var iDate = kuwaiticalendar(adjustment); var outputIslamicDate = wdNames[iDate[4]] + ", " + iDate[5] + " " + iMonthNames[iDate[6]] + " " + iDate[7] + " AH"; return outputIslamicDate; }
????? ????

ایک دولھے کا انٹرویو

تنویر حسسین | اپریل 2015

جو شادی رچائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ رچائے، وہ بھی پچھتائے۔‘‘ شادی کے بارے میں یہ ایک عام سی کہاوت ہے۔غالب نے شاید اسی لیے کہا تھا : ع شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے آج کل جس شان و شوکت سے شادیاں انجام پا رہی ہیں‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمانۂ مستقبل میں صرف امرا ہی شادیوںسے سبک دوش ہوں گے‘غربا اورتنخواہ دار خاموشی سے اس دنیا سے اکیلے ہی گزر جایا کریں گے۔  یہ حقیقت ہے‘ شادی زندگی میں انقلاب لے آتی ہے۔ پہلے ہمارے کندھوں پر صرف کراماً کاتبین اور ان کے رجسٹر کا بوجھ ہوتا ہے۔ زبان اور معدے پر اپنی ہی اجارہ داری ہوتی ہے۔ اپنی مرضی سے بستر بچھاتے اور سونے سے قبل گنہگار آنکھوں میں سرمہ ڈالتے ہیں۔

ہمیں ہی لیجیے‘ پائوڈر سے متعلق ہماری دلچسپی کا یہ حال تھا کہ نائی کے ہاتھوں زخم کھا آٹا نما سفوف لگوا کر خوش ہو جاتے۔ اگر کبھی پائوڈر خریدنے تک  نوبت آ گئی تو ’’پت پائوڈر‘‘ ہی خریدا۔ جہاں تک کریم کا تعلق تھا تو آئس کریم اور شیونگ کریم سے بات کبھی آگے نہ بڑھی۔ لپ اسٹک کے بارے میں ہمارے خیالات یہ تھے کہ خواتین اسے لگاتی کیوں ہیں، حالانکہ خون کی کمی پورا کرنے کے اور ذرائع بھی ہیں؟ پہلے خاوندوں کو شادی کے بعد آٹے دال کا بھائو معلوم ہوا کرتا تھا‘ اب انھیں پائوڈر کریم کی’’ ریٹ لسٹ‘‘ کاپتا چلتا ہے۔ جب ہماری شادی خانہ آبادی کے مشورے سسرال کی چھتوں پر ہونے لگے‘ تو ہم نے بھی ازدواجی زندگی پر مبنی ادبِ عالیہ کی چیدہ چیدہ کتب چپکے سے پڑھ ڈالیں۔ وہ ان خاندانی مشاہیر قلم کی سالہاسال کی خوش و خرم زندگی کا منہ بولتا ثبوت اور نچوڑ تھیں‘ جو عمر بھر شادی کرنے کے بجائے لٹریچر کے اسٹریچر پر لیٹے رہے۔

ہمارے ہاں جو شخص شادی جیسی تکلیف دہ کیفیت میں مبتلا ہو‘ لوگ اس کے لیے ’’ہمدردانہ‘‘ اور ’’قرشیانہ‘‘سے جذبات رکھتے ہیں۔ یونہی کسی سے اپنی شادی کے بارے میں ذکر کر دیجیے‘ دیکھیں‘ عورت کوکیسے ناقص العقل ‘ فضول خرچ اور پائوں کی جوتی ثابت کیا جاتا ہے؟ یہ بات ابھی تک ہماری سمجھ کی بالائی منزل پر ہے کہ لوگوں کو دوسروں کے نجی معاملات میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ کسی صاحبِ فراش کو تسلی و تشفی دینا یا کوئی دوا وغیرہ تجویز کرنا، تو ہمارا قومی فرض ہے مگر ایک تندرست آدمی کو اسپتال کی راہ دکھانا کہاں کا انصاف ہے؟ ہمارے ہاںمشورہ دینے والے اشخاص اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ ان کا مشورہ کوئی الہامی چیز ہے اورجسے رد کرنا ’’معجونِ فلاسفہ‘‘کو جھٹلانے کے مترادف۔حالانکہ ایسے مشوروں پر اگر حرف بحرف  عمل درآمد شروع ہو جائے‘ تو ہم ڈاکٹروں کے بجائے سیدھے گورکنوں سے رجوع کریں۔

گھروںمیں بھی روزانہ کئی دقیانوسی معاملات پر بحث ہوتی ہے۔مثلاً کسی نے کالاکپڑا پہن لیا‘ تو سب اس کے پیچھے پڑ گئے۔ معلوم ہوا کہ کالے کپڑے سے دائمی سردرد کاامکان ہے۔ صفائی کے دوران جھاڑو کسی کے پائوں کو چھوئی‘ تو اسے کالی کھانسی کاپیش خیمہ سمجھ لیا۔ کتا اپنی کسی مصلحت کے تحت بھونکنے لگے یا بلیاں چوہوں کے ہجرو فراق میںبین کر رہی ہوں‘ تو انھیںمنحوس قرار دیا جاتا ہے۔ ہمارے تایازاد بھائی کو ہمارے ابا جان کی شادی پراچانک تین چھینکیں آ گئیں۔ تایا جان نے اپنے بیٹے کو تین زناٹے دار چانٹے اس لیے رسید کیے کہ یہ چھینکیں حوالۂ متن اور سیاق و سباق کے بغیر تھیں۔ ہماری شادی ہونے لگی‘ تو ہم سے کچھ سوالات اس نوعیت کے پوچھے گئے جیسے کوئی غیرملکی باشندہ ہیں اور ہمیں اپنی سڑکوں پر اڑنے والی خاک سے ذرا پیار نہیں۔ کسی زمانے میں ایسے مواقع پر بزرگ آپس ہی میں سوالات کر لیا کرتے تھے‘ بچوں کو بیچ میں

نہ گھسیٹتے۔ اب تو دور اتنا بدل گیا ہے کہ ایسے سوالات پر یہ گمان ہوتا ہے جیسے کوئی ہومیوپیتھ ڈاکٹر اپنے مریض سے علامات پوچھ رہا ہو۔ آئندہ شاید اخبارات میںکچھ اس طرح کے اشتہارات شائع ہوا کریں: ’’ایک گہرے بھورے رنگ کا رنگین نوجوان جس میں سرخ جسیموں کی تعداد زیادہ اور سفید کی کم ہے۔ معدہ اے ون‘جگر اے ٹو یعنی جسمانی نظام تسلی بخش کے لیے کسی بھی ذات کی انہی خوبیوں کی مالکہ لڑکی درکار ہے۔‘‘ ہمارے لوگوں کو اپنے بیٹوں کے رشتے ’’تہ‘‘ کرتے ہوئے صرف چند پیٹیوں‘ ٹرنکوں اور اس نوعیت کے سوالات پر زور دینا چاہیے: ’’تم ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرتے ہو یا کھول کر‘ہاتھ سینے پر باندھتے ہو یا زیرناف۔ التحیات میں شہادت کی انگلی کھڑی کرتے ہو یا قیام میں ’’چچی‘‘ کے ساتھ ’’چیچی‘‘ ملاتے ہو۔ محرم الحرام کے دوران صرف مجالس وغیرہ ہی سنتے ہو یا تعزیے کا بھی اہتمام کرتے ہو؟‘‘

ہماری شادی سے قبل ہم سے جو سوالات کیے گئے‘ ان کی اجمالی کیفیت کچھ یوں ہے: ’’تم نے خوامخواہ ایم اے کیا‘اس سے بہترتھا کہ بچپن میں ویلڈنگ سیکھ کر دبئی چلے جاتے۔‘‘ سسرالی ٹیم کے ایک سنیاسی رکن نے اپنے ذوقِ سلیم اور ذوقِ طبابت کا اظہار کچھ اس طرح کیا: ’’آپ میٹرک کے بعدتعلیم سے جی چرا کر طبیہ کالج میں داخلہ لے لیتے۔ پھر زبدۃ الحکما کے زمرے میں آ کر روزانہ سیکڑوں مریضوںکے جان و مال سے کھیلتے۔‘‘ سسرالی ارکان میں ایک صاحب کا موضوع ’’شکاریات‘‘ تھا۔ انھوں نے اپنی حکمت و دانش کا دانہ یوں ڈالا۔ ’’برخوردار! اگرتمھیں شکار کاشوق ہوتا‘ توآج تمہارا حلیہ یوںنہ دیکھتے۔‘‘ انھوں نے ہمارے جسمانی ڈیل ڈول سے یہ اندازہ لگایا کہ ہمیں کسی میڈیکل کالج میں بطور ’’انسانی پنجر‘‘ محفوظ ہونا چاہیے تھا۔ ایک رکن جو شاید دفاعی فنڈ میں آئے تھے‘ بولے ’’تمہارا آبائی وطن سیالکوٹ ہے‘ مگر تم نے لاہور آ کرسکونت کیوںرکھی؟

حالانکہ سیالکوٹ سے لاہور تک اور بھی شہر ہیں۔‘‘ اب ہم انھیںکیا بتاتے‘ سیالکوٹ اس لیے چھوڑا کہ وہاں سوائے کھیل کے اور کوئی کام ہی نہیں۔ ہر گھر میں فٹ بال بنتا ہے یا باسکٹ بال۔ جگہ جگہ بلے اور وکٹیں تیار ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں آدمی کھیل تو سکتا ہے‘ پڑھ نہیں پاتا۔اگر ان لوگوں کو علامہ اقبالؒ اور ان کے عقاب کاخوف نہ ہو، تو وہ اپنے بچوں کو اسکول داخل ہی نہیں کرائیں۔ وزیرآباد میں اس لیے رہائش نہ رکھی کہ وہاں بھی چھریاں چاقو بنتے ہیں۔ اور ان کی پسندیدہ غذا مرغ و ماہی نہیں بلکہ چڑے ہیں۔ ان  چڑوں نے پورے شہرکو چڑچڑا بنا دیا ہے کیونکہ یہ لوگ منہ سے جواب دینے کے بجائے ہاتھ سے دیتے ہیں۔لے دے کر ایک لاہور ہے‘ جہاںکالج‘ یونیورسٹیاں اور لائبریریاں واقع ہیں۔ اس لیے لاہور‘ لاہور ہے۔ اب سسرال والوں کی توپوں کے دھانے ہمارے خاندان کی طرف ہوئے: آپ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے یا نقل امتحانی ہی پر گزر اوقات کی

ہے؟ آپ کا شجرہ نسب کہاں سے کہاں نصب ہوتا ہے؟ ہم نے زبانی جواب دینے کے بجائے انھیں وہ خاندانی البم دکھائی‘ جن میں لوگ ہمارے بزرگوں کے پائوں میں بیٹھ کر ان کے ہاتھ چوم رہے تھے۔ بعدازاں سوالات کا کیمرا ہمارے خاندان کو پھلانگتا ہواکھیلوں پر آ گیا۔ ’’آپ کو کون سا کھیل مرغوب رہا ہے؟‘‘ ہم نے سوچا کہ معاملہ اختتام کوپہنچنے والا ہے۔ اب چند سوالات موسم کے بارے میں ہوں گے اور انٹرویو ختم ہو جائے گا۔ ہم نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ ہم ہاکی اور کرکٹ کو بیک وقت پسندکرتے ہیں۔ ہاکی میں ہمیشہ گول کیپر کے فرائض انجام دیے۔ وہ اس لیے کہ ایک تو ہم عریانی کے خلاف ہیں‘ دوسرے ریفری حضرات کو ہماری ٹانگوں پر بھی ہاکیوں ہی کا گمان ہوتا۔ اسی طرح کرکٹ میں وکٹ کیپنگ کاشوق ہے‘ کہ ہم ٹھہرے نمازی آدمی۔ ہمارے ان دونوں اوصافِ حمیدہ سے سسرالی ارکان کے چہرے کھل اٹھے۔ سسرالی بزرگوں میں سے ایک بزرگ نے اپنے مغموم دل کوبہلانے کے لیے یہ ترکیب آزمائی: ’’برخوردار! تمھیں جب پتا چلاکہ کچھ ادھیڑ عمر کے لوگ تمھیںغلام بنانے آ رہے ہیں، تو تم نے علی الصباح کیا کیا؟‘‘

یہ سوال ہماری شخصیت کو ضعف پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس لیے ہم نے بھی اپنی غیرمعمولی لیاقت کی خدمات حاصل کیں۔’’آج ہم نے صبح کی سیر کا پروگرام ملتوی کر دیا۔ سوچا کہ آج ہمارے حواسِ خمسہ کا امتحان ہے‘ اس لیے سب سے پہلے مسواک کی، آنکھوں کو عرق گلاب سے دھویا، سر میں سرسوں کا تیل اور کانوں میں مشینی تیل ڈالا۔‘‘
ابھی ہم جواب دے ہی رہے تھے کہ بزرگ  موصوف نے ہماری صحت پر حملہ کر دیا: ’’آج کل کے نوجوان اپنی صحت کے بجائے لباس کا خیال رکھتے ہیں۔‘‘ ہم نے اپنی صفائی میں کہا ’’صحت کا معیار موٹاپا نہیں۔‘‘ اس جواب پر انھوں نے ہمیں کچھ معجونیں تجویز کرنا شروع کر دیں۔ آخر میںشعبۂ تحقیق کے ارکان نے جو فیصلہ دیا‘ وہ یہ تھا: ’’اے معتدل مزاج لڑکے! تحقیق کی روشنی میں جیوری اس فیصلے پرپہنچی ہے کہ تیری زندگی کو مزید مصروف کر دے۔ تواپنے دل کے چار خانوںمیں ہماری دختر نیک اختر کی رنگین تصویر سجا لے۔ ابھی سے رات کوفرش پر سونا شروع کردے کیونکہ تمھیں جہیز میں ایسا بستر دیا جائے گا جس پر تیری کمر تیر کی طرح سیدھی اور آنکھیںچھت سے لگی رہیں گی۔ تو ابھی سے باورچی خانے میں جانا شروع کر دے تاکہ شادی ہونے تک تمام قسم کے کھانے پکا اور برتن دھو سکے۔ جب تیری شادی ہو جائے‘ اپنی ساری تنخواہ اپنی بیوی

کی ہتھیلی پر لاکر رکھنا۔دن رات اپنی بیوی کی خدمت کرنا۔ اللہ تمھیںاپنی امان میںرکھے! شادی رچائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ رچائے، وہ بھی پچھتائے۔‘‘ شادی کے بارے میں یہ ایک عام سی کہاوت ہے۔غالب نے شاید اسی لیے کہا تھا: ع شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے آج کل جس شان و شوکت سے شادیاں انجام پا رہی ہیں‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمانۂ مستقبل میں صرف امرا ہی شادیوںسے سبک دوش ہوں گے‘غربا اورتنخواہ دار خاموشی سے اس دنیا سے اکیلے ہی گزر جایا کریں گے۔ یہ حقیقت ہے‘ شادی زندگی میں انقلاب لے آتی ہے۔ پہلے ہمارے کندھوں پر صرف کراماً کاتبین اور ان کے رجسٹر کا بوجھ ہوتا ہے۔ زبان اور معدے پر اپنی ہی اجارہ داری ہوتی ہے۔ اپنی مرضی سے بستر بچھاتے اور سونے سے قبل گنہگار آنکھوں میں سرمہ ڈالتے ہیں۔ ہمیں ہی لیجیے‘ پائوڈر سے متعلق ہماری دلچسپی کا یہ حال تھا کہ نائی کے ہاتھوں زخم کھا آٹا نما سفوف لگوا کر خوش ہو جاتے۔ اگر کبھی پائوڈر خریدنے تک  نوبت آ گئی تو ’’پت پائوڈر‘‘ ہی خریدا۔ جہاں تک کریم کا تعلق تھا تو آئس کریم اور شیونگ کریم سے بات کبھی آگے نہ بڑھی۔ لپ اسٹک کے بارے میں ہمارے خیالات یہ تھے کہ خواتین اسے لگاتی کیوں ہیں، حالانکہ خون کی کمی پورا کرنے کے اور ذرائع بھی ہیں؟ پہلے خاوندوں کو شادی کے بعد آٹے دال کا بھائو معلوم ہوا کرتا تھا‘ اب انھیں پائوڈر کریم کی’’ ریٹ لسٹ‘‘ کاپتا چلتا ہے۔ جب ہماری شادی خانہ آبادی کے مشورے سسرال کی چھتوں پر ہونے لگے‘ تو ہم نے بھی ازدواجی زندگی پر مبنی ادبِ عالیہ کی چیدہ چیدہ کتب چپکے سے پڑھ ڈالیں۔ وہ ان خاندانی مشاہیر قلم کی سالہاسال کی خوش و خرم زندگی کا منہ بولتا ثبوت اور نچوڑ تھیں‘ جو عمر بھر شادی کرنے کے بجائے لٹریچر کے اسٹریچر پر لیٹے رہے۔

ہمارے ہاں جو شخص شادی جیسی تکلیف دہ کیفیت میں مبتلا ہو‘ لوگ اس کے لیے ’’ہمدردانہ‘‘ اور ’’قرشیانہ‘‘سے جذبات رکھتے ہیں۔ یونہی کسی سے اپنی شادی کے بارے میں ذکر کر دیجیے‘ دیکھیں‘ عورت کوکیسے ناقص العقل ‘ فضول خرچ اور پائوں کی جوتی ثابت کیا جاتا ہے؟ یہ بات ابھی تک ہماری سمجھ کی بالائی منزل پر ہے کہ لوگوں کو دوسروں کے نجی معاملات میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ کسی صاحبِ فراش کو تسلی و تشفی دینا یا کوئی دوا وغیرہ تجویز کرنا، تو ہمارا قومی فرض ہے مگر ایک تندرست آدمی کو اسپتال کی راہ دکھانا کہاں کا انصاف ہے؟
ہمارے ہاںمشورہ دینے والے اشخاص اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ ان کا مشورہ کوئی الہامی چیز ہے اورجسے رد کرنا ’’معجونِ فلاسفہ‘‘کو جھٹلانے کے مترادف۔حالانکہ ایسے مشوروں پر اگر حرف بحرف  عمل درآمد شروع ہو جائے‘ تو ہم ڈاکٹروں کے بجائے سیدھے گورکنوں سے رجوع کریں۔
گھروںمیں بھی روزانہ کئی دقیانوسی معاملات پر بحث ہوتی ہے۔مثلاً کسی نے کالاکپڑا پہن لیا‘ تو سب اس کے پیچھے پڑ گئے۔ معلوم ہوا کہ کالے کپڑے سے دائمی سردرد کاامکان ہے۔ صفائی کے دوران جھاڑو کسی کے پائوں کو چھوئی‘ تو اسے کالی کھانسی کاپیش خیمہ سمجھ لیا۔ کتا اپنی کسی مصلحت کے تحت بھونکنے لگے یا بلیاں چوہوں کے ہجرو فراق میںبین کر رہی ہوں‘ تو انھیںمنحوس قرار دیا جاتا ہے۔ ہمارے تایازاد بھائی کو ہمارے ابا جان کی شادی پراچانک تین چھینکیں آ گئیں۔ تایا جان نے اپنے بیٹے کو تین زناٹے دار چانٹے اس لیے رسید کیے کہ یہ چھینکیں حوالۂ متن اور سیاق و سباق کے بغیر تھیں۔
ہماری شادی ہونے لگی‘ تو ہم سے کچھ سوالات اس نوعیت کے پوچھے گئے جیسے کوئی غیرملکی باشندہ ہیں اور ہمیں اپنی سڑکوں پر اڑنے والی خاک سے ذرا پیار نہیں۔ کسی زمانے میں ایسے مواقع پر بزرگ آپس ہی میں سوالات کر لیا کرتے تھے‘ بچوں کو بیچ میں نہ گھسیٹتے۔ اب تو دور اتنا بدل گیا ہے کہ ایسے سوالات پر یہ گمان ہوتا ہے جیسے کوئی ہومیوپیتھ ڈاکٹر اپنے مریض سے علامات پوچھ رہا ہو۔ آئندہ شاید اخبارات میںکچھ اس طرح کے اشتہارات شائع ہوا کریں:
’’ایک گہرے بھورے رنگ کا رنگین نوجوان جس میں سرخ جسیموں کی تعداد زیادہ اور سفید کی کم ہے۔ معدہ اے ون‘جگر اے ٹو یعنی جسمانی نظام تسلی بخش کے لیے کسی بھی ذات کی انہی خوبیوں کی مالکہ لڑکی درکار ہے۔‘‘
ہمارے لوگوں کو اپنے بیٹوں کے رشتے ’’تہ‘‘ کرتے ہوئے صرف چند پیٹیوں‘ ٹرنکوں اور اس نوعیت کے سوالات پر زور دینا چاہیے: ’’تم ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرتے ہو یا کھول کر‘ہاتھ سینے پر باندھتے ہو یا زیرناف۔ التحیات میں شہادت کی انگلی کھڑی کرتے ہو یا قیام میں ’’چچی‘‘ کے ساتھ ’’چیچی‘‘ ملاتے ہو۔ محرم الحرام کے دوران صرف مجالس وغیرہ ہی سنتے ہو یا تعزیے کا بھی اہتمام کرتے ہو؟‘‘
ہماری شادی سے قبل ہم سے جو سوالات کیے گئے‘ ان کی اجمالی کیفیت کچھ یوں ہے: ’’تم نے خوامخواہ ایم اے کیا‘اس سے بہترتھا کہ بچپن میں ویلڈنگ سیکھ کر دبئی چلے جاتے۔‘‘
سسرالی ٹیم کے ایک سنیاسی رکن نے اپنے ذوقِ سلیم اور ذوقِ طبابت کا اظہار کچھ اس طرح کیا: ’’آپ میٹرک کے بعدتعلیم سے جی چرا کر طبیہ کالج میں داخلہ لے لیتے۔ پھر زبدۃ الحکما کے زمرے میں آ کر روزانہ سیکڑوں مریضوںکے جان و مال سے کھیلتے۔‘‘
سسرالی ارکان میں ایک صاحب کا موضوع ’’شکاریات‘‘ تھا۔ انھوں نے اپنی حکمت و دانش کا دانہ یوں ڈالا۔ ’’برخوردار! اگرتمھیں شکار کاشوق ہوتا‘ توآج تمہارا حلیہ یوںنہ دیکھتے۔‘‘ انھوں نے ہمارے جسمانی ڈیل ڈول سے یہ اندازہ لگایا کہ ہمیں کسی میڈیکل کالج میں بطور ’’انسانی پنجر‘‘ محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
ایک رکن جو شاید دفاعی فنڈ میں آئے تھے‘ بولے ’’تمہارا آبائی وطن سیالکوٹ ہے‘ مگر تم نے لاہور آ کرسکونت کیوںرکھی؟ حالانکہ سیالکوٹ سے لاہور تک اور بھی شہر ہیں۔‘‘ اب ہم انھیںکیا بتاتے‘ سیالکوٹ اس لیے چھوڑا کہ وہاں سوائے کھیل کے اور کوئی کام ہی نہیں۔ ہر گھر میں فٹ بال بنتا ہے یا باسکٹ بال۔ جگہ جگہ بلے اور وکٹیں تیار ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں آدمی کھیل تو سکتا ہے‘ پڑھ نہیں پاتا۔اگر ان لوگوں کو علامہ اقبالؒ اور ان کے عقاب کاخوف نہ ہو، تو وہ اپنے بچوں کو اسکول داخل ہی نہیں کرائیں۔
وزیرآباد میں اس لیے رہائش نہ رکھی کہ وہاں بھی چھریاں چاقو بنتے ہیں۔ اور ان کی پسندیدہ غذا مرغ و ماہی نہیں بلکہ چڑے ہیں۔ ان چڑوں نے پورے شہرکو چڑچڑا بنا دیا ہے کیونکہ یہ لوگ منہ سے جواب دینے کے بجائے ہاتھ سے دیتے ہیں۔لے دے کر ایک لاہور ہے‘ جہاںکالج‘ یونیورسٹیاں اور لائبریریاں واقع ہیں۔ اس لیے لاہور‘ لاہور ہے۔
اب سسرال والوں کی توپوں کے دھانے ہمارے خاندان کی طرف ہوئے: آپ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے یا نقل امتحانی ہی پر گزر اوقات کی ہے؟ آپ کا شجرہ نسب کہاں سے کہاں نصب ہوتا ہے؟ ہم نے زبانی جواب دینے کے بجائے انھیں وہ خاندانی البم دکھائی‘ جن میں لوگ ہمارے بزرگوں کے پائوں میں بیٹھ کر ان کے ہاتھ چوم رہے تھے۔
بعدازاں سوالات کا کیمرا ہمارے خاندان کو پھلانگتا ہواکھیلوں پر آ گیا۔ ’’آپ کو کون سا کھیل مرغوب رہا ہے؟‘‘
ہم نے سوچا کہ معاملہ اختتام کوپہنچنے والا ہے۔ اب چند سوالات موسم کے بارے میں ہوں گے اور انٹرویو ختم ہو جائے گا۔ ہم نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ ہم ہاکی اور کرکٹ کو بیک وقت پسندکرتے ہیں۔ ہاکی میں ہمیشہ گول کیپر کے فرائض انجام دیے۔ وہ اس لیے کہ ایک تو ہم عریانی کے خلاف ہیں‘ دوسرے ریفری حضرات کو ہماری ٹانگوں پر بھی ہاکیوں ہی کا گمان ہوتا۔ اسی طرح کرکٹ میں وکٹ کیپنگ کاشوق ہے‘ کہ ہم ٹھہرے نمازی آدمی۔ ہمارے ان دونوں اوصافِ حمیدہ سے سسرالی ارکان کے چہرے کھل اٹھے۔ سسرالی بزرگوں میں سے ایک بزرگ نے اپنے مغموم دل کوبہلانے کے لیے یہ ترکیب آزمائی:
’’برخوردار! تمھیں جب پتا چلاکہ کچھ ادھیڑ عمر کے لوگ تمھیںغلام بنانے آ رہے ہیں، تو تم نے علی الصباح کیا کیا؟‘‘
یہ سوال ہماری شخصیت کو ضعف پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس لیے ہم نے بھی اپنی غیرمعمولی لیاقت کی خدمات حاصل کیں۔’’آج ہم نے صبح کی سیر کا پروگرام ملتوی کر دیا۔ سوچا کہ آج ہمارے حواسِ خمسہ کا امتحان ہے‘ اس لیے سب سے پہلے مسواک کی، آنکھوں کو عرق گلاب سے دھویا، سر میں سرسوں کا تیل اور کانوں میں مشینی تیل ڈالا۔‘‘
ابھی ہم جواب دے ہی رہے تھے کہ بزرگ  موصوف نے ہماری صحت پر حملہ کر دیا: ’’آج کل کے نوجوان اپنی صحت کے بجائے لباس کا خیال رکھتے ہیں۔‘‘
ہم نے اپنی صفائی میں کہا ’’صحت کا معیار موٹاپا نہیں۔‘‘
اس جواب پر انھوں نے ہمیں کچھ معجونیں تجویز کرنا شروع کر دیں۔
آخر میںشعبۂ تحقیق کے ارکان نے جو فیصلہ دیا‘ وہ یہ تھا: ’’اے معتدل مزاج لڑکے! تحقیق کی روشنی میں جیوری اس فیصلے پرپہنچی ہے کہ تیری زندگی کو مزید مصروف کر دے۔ تواپنے دل کے چار خانوںمیں ہماری دختر نیک اختر کی رنگین تصویر سجا لے۔ ابھی سے رات کوفرش پر سونا شروع کردے کیونکہ تمھیں جہیز میں ایسا بستر دیا جائے گا جس پر تیری کمر تیر کی طرح سیدھی اور آنکھیںچھت سے لگی رہیں گی۔ تو ابھی سے باورچی خانے میں جانا شروع کر دے تاکہ شادی ہونے تک تمام قسم کے کھانے پکا اور برتن دھو سکے۔ جب تیری شادی ہو جائے‘ اپنی ساری تنخواہ اپنی بیوی کی ہتھیلی پر لاکر رکھنا۔دن رات اپنی بیوی کی خدمت کرنا۔ اللہ تمھیںاپنی امان میںرکھے!

Review Android Smartphone